حرام کمانے
کھانے کی مذمت از بنت عارف محمود، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
باطل طریقے سے مال حاصل کرنا شریعت نے حرام قرار
دیا ہے جیسے سود، چوری اور جوئے کے ذریعے مال حاصل کرنا، جھوٹی وکالت، خیانت اور
غضب کے ذریعے مال حاصل کرنا اور گانے بجانے کی اجرت یہ سب باطل طریقے میں داخل اور
حرام ہے۔ یونہی اپنے مال کو باطل طریقے سے کھانا یعنی گناہ و نا فرمانی میں خرچ
کرنابھی اسی میں داخل ہے۔ رشوت کا لین دین کرنا ،ملاوٹ والا مال فروخت کرنا،قرض
دبا لینا ،ڈاکہ زنی اور ہراساں کر کے مال وصول کرنا بھی سب حرام میں شامل ہے۔ حرام
کمانا اور کھانا اللہ کی بارگاہ میں سخت ناپسندیدہ ہے اور احادیثِ مبارکہ میں بھی
اس کی بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
1۔ حدیث مبارکہ میں ہے: جو بندہ مالِ حرام حاصل
کرتا ہے اگر اس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اُس کے لیے اس میں برکت
نہیں اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے اللہ برائی سے برائی
کو نہیں مٹاتا،ہاں نیکی سے برائی کو مٹا دیتا ہے بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا۔ (مسند
امام احمد، 2/33، حدیث:3672)
2۔ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد
فرمایا: ایک شخص جو لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال پراگندہ اور بدن غبار آلود ہے وہ
اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب! یا رب پکار رہا ہے حالانکہ اس کا کھانا
حرام، پینا حرام ،لباس حرام اور غذا حرام ہو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو گی۔ (مسلم،
ص 506، حدیث: 1015)
3۔ سرورِ کائنات ﷺ نے حرام مال کے متعلق فرمایا:
اللہ پاک نے اس جسم پر جنت حرام فرما دی ہے جو حرام غذا سے پلا بڑھا ہو۔ (کنز
العمال، 2/8، حدیث: 9257)
4۔ تاجدارِ رسالت ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے
ارشاد فرمایا: اے سعد! اپنی غذا پاک کر لو، اس زات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں
محمد ﷺ کی جان ہے، بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے چالیس دن کے
عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہو اس کے لئے آگ زیادہ
بہتر ہے۔ (معجم اوسط، 5/34، حدیث: 6495)
حلال کی کمائی انسان کھاتا ہے جبکہ حرام کمائی
انسان کو کھا جاتی ہے، لقمہ حلال کی بہت برکت ہے حلال کھانے والے نفس کی شر انگیزی
میں کمی آتی ہے اور دل میں روشنی پیدا ہوتی ہے دل نرم رہتا ہے اور غیرت والے انسان
کا دل مطمئن رہتا ہے اس کے برعکس اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جس کے پیٹ میں لقمۂ
حرام ہو حرام کھانے کی وجہ سے اس کا دل بگڑ جاتا ہے جیسے کھال بگڑ جاتی ہے اور پھر
اپنی حالت پر کبھی نہیں آتا، قرآن پاک میں ایمان والوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ
منافقوں کی طرح تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے جو
ایسا کرے گا کہ دنیا میں مشغول ہو کر دین کو فراموش کر دے گا، مال کی محبت میں
اپنے حال کی پرواہ نہ کرے گا، اور اولاد کی خوشی کے لئے آخرت سے غافل رہے گا تو
ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں کیونکہ انہوں نے فانی دنیا کے پیچھے آخرت کے
گھر کی باقی رہنے والی نعمتوں کی پروا نہ کی۔ جو شخص حرام کھاتا ہے وہ چاہے یا نہ
چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو اس کے اعضاء گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جب حلال
کھاتا ہے تو اس کے اعضاء فرمانبردار ہو جاتے ہیں اور اسے اعمالِ خیر کی توفیق دی
جاتی ہے۔
مذکورہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال
کھانے سے نیکی کی توفیق ملتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور
انسان جنت کا مستحق ہو جاتا ہے جبکہ حرام کھانے سے نیکی کی توفیق سلب ہو جاتی ہے،
نیک اعمال قبول نہیں ہوتے اور دوزخ مقدر بن جاتی ہے اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں
نصیحت کے مدنی پھول اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے واضح حدایت موجود ہے اللہ تبارک
و تعالیٰ ہمیں حلال کھانے اور حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور احادیثِ
مبارکہ سے نصیحت حاصل کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین
اکثر افراد کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں ا س بات
کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے مال کہاں کمایا ہے کن ذرائع سے حاصل کیا ہے
بلکہ ان کی اصل خواہش یہ ہوتی ہے کہ کسی سے نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا
کیاجائے چاہے وہ مال چوری کا ہو یا رشوت کا ہو یا کسی کا حق مار کر حاصل کیا گیا
ہو یا سود سے حاصل ہو یا یتیم کا مال ہو یا زکوۃ کی رقم ہویا جھوٹ فریب اور دھوکے
سے حاصل کیا گیا ہو وغیرہ۔ قرآن کریم کی سورۃ النساء آیت نمبر 29 میں رب کریم
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ
بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ5،
النساء:29) ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ
کھاؤ۔حلال کمانے اور حلال کھانے میں مسلمان کے لئے دنیا اور آخرت کی نجات ہے جبکہ
حرام کا لقمہ دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ حرام روزی کے بارے میں پانچ
فرامینِ مصطفیٰ ﷺ پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے:
فرامینِ مصطفیٰ:
1۔️ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جس کے بال بکھرے ہوئے
ہیں اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جو دُعا کرے وہ قبول ہو) وہ
آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یارب! یا رب! کہتا ہے (یعنی دُعا کرتا ہے) مگر حالت یہ
ہے کہ اُس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام پھر اُس کی دُعا
کیونکر مقبول ہو! (یعنی اگر قبول دعا کی خواہش ہو تو کسب حلال اختیار کرو)۔ (مسلم،
ص 506، حدیث: 1015)
2۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے سعد!
اپنی غذا پاک کر لو! مستجابُ الدعوات ہو جاؤ گے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضہ
قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے
40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ
زیادہ بہتر ہے۔ (معجم الاوسط، 5 / 34، حدیث: 6495)
3۔ جس شخص نے دس درہم کا لباس خریدا لیکن اس میں
ایک درہم حرام کا تھا، تو جب تک یہ لباس اُس کے بدن پر رہے گا، اُس کی نماز قبول
نہیں ہوگی۔ (مسند امام احمد، 2/416، حدیث:
5736)
لقمۂ حرام کی نحوست: مكاشفۃ
القلوب میں ہے: آدمی کے پیٹ میں جب لقمہ حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فرشتہ اُس
پر لعنت کرے گا جب تک اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں (یعنی پیٹ میں
حرام لقمے کی موجودگی میں) موت آگئی توداخل جہنم ہوگا۔ (مکاشفۃ القلوب،ص 10)
یہاں حرام خوری سے متعلق چند سزاؤں کا تذکرہ ہوا
ورنہ اس سے متعلق بے شمار سزائیں ہیں، اس کے لئے تفصیل کی ضرورت ہے، اسلام نے اپنے ماننے والوں کو حلال کمائی کی
ترغیب دی اور حرام کمائی سے منع کیا لہذا حلال طریقے سے ہی روزی کمائی جائے۔ سلف
صالحین حرام کمائی بلکہ مشتبہ امور سے بھی بچتے تھے جس کا اسلام نے حکم دیا ہے مگر
آج کا زمانہ نبی ﷺ کے فرمان کا مصداق ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے جب لوگ حلال و حرام
کی پرواہ نہیں کریں گے۔(بخاری، 2/7، حدیث: 2059)
اللہ کریم ہم سب کو حلال کمانے اور حرام سے کامل
طور پر بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین
حرام کمانے
کھانے کی مذمت از بنت محمد رشید، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اسلام میں تقوی کی بنیاد لقمہ حلال پر ہے اس لیے
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں اسکی بہت اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے اور اس کے
ساتھ ساتھ لقمہ حرام سے بچنے کا بھی سختی سے حکم ارشاد ہوا ہے اور اس کی بہت مذمت
بیان فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوا: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ
كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ
الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) (پ 2، البقرۃ: 168) ترجمہ کنز
الایمان: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ شیطان کے راستوں
پر نہ چلو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
فرامینِ مصطفیٰ:
1۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا
سفر کرتا ہے اس کے بال پراگندہ اور بدن غبار آلود ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی
طرف اٹھا کر یارب! یارب! پکار رہا ہے حالانکہ اسکا کھانا حرام، اسکا پینا حرام ہو
پھر اسکی دعا کیسے قبول ہو گی۔ (مسلم، ص506، حدیث:1015)
2۔ تاجدارِ رسالت ﷺ نے حضرت سعد رضی الله عنہ سے
فرمایا: اے سعد! اپنی غذا پاک کر لو! مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے، اس ذات پاک کی قسم
جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس
کے چالیس دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہو اس کے
لیے آگ زیادہ بہتر ہے۔ (معجم اوسط، 5/34، حدیث:6495)
3۔ جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے اگر اسکو صدقہ
کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ
کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے الله پاک برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا ہاں
نیکی سے برائی کو مٹا دیتا ہے بے شک خبیث جو خبیث نہیں مٹاتا۔ (مسند امام احمد، 2/33،
حدیث: 3672)
4۔ لقمہ حرام کے وبال کے متعلق سرکار عالی وقار ﷺ
نے ارشاد فرمایا: وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو اور
ایسا حرام گوشت دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔ (ترمذی، 2/18، حدیث 614)
5۔ دنیا میٹھی اور سر سبز ہے جس نے اس میں حلال
طریقے سے مال کمایا اور اسے وہاں خرچ کیا جہاں خرچ کرنے کا حق تھا تو الله پاک اسے
آخرت میں ثواب عطا فرمائے گا اور اسے اپنی جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا اور جس نے
دنیا میں حرام طریقے سے مال کمایا اور اسے ناحق جگہ خرچ کیا تو الله پاک اسے ذلت و
حقارت کے گھر یعنی جہنم میں داخل کرے گا۔
الله پاک ہمیں بھی حرام کمانے اور کھانے سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ہمیشہ حلال کمانے اور کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب
العالمین
حرام کمانے
کھانے کی مذمت از بنت ارشد محمود، جامعۃ المدینہ چباں فیصل آباد
بے شک رزق حلال اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں میں سے
ہے اور اس کے برعکس حرام رزق کھانا عذاب الہی کو دعوت دینا ہے۔ نیز حرام کھانے سے
قبولیت کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اس ذات پاک کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی
جان ہے بے شک بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40 دن کے عمل قبول
نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام اور سود سے پلا بڑھا ہو اس کے لیے آگ زیادہ
بہتر ہے۔ (معجم اوسط، 5/ 34، حدیث:6495)
حرام کمانے اور کھانے کے بارے میں حدیث میں بہت سخت
وعیدیں آئیں ہیں۔
فرامینِ مصطفیٰ:
1۔ جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے اگر اس کو صدقہ
کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ
کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے اللہ برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا لیکن نیکی
سے برائی کو مٹا دیتا ہے۔ بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا۔ (مسند امام احمد، 2/ 33، حدیث: 3672)
2۔ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا
سفر کرتا ہے اس کے بال پراگندہ اور بدن غبار آلود ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف
اٹھا کر یا رب! یا رب! پکار رہا ہے حالانکہ اس کا کھانا حرام پینا حرام لباس حرام
اور غذا حرام ہو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ (مسلم، ص 506، حدیث: 1015)
ان احادیث سے حرام مال کمانے اور کھانے کی مذمت
معلوم ہوتی ہے لیکن بہت سے لوگ حرام مال کھانے سے بچتے نہیں ہیں آج کل ہمارے
معاشرے میں بھی یہ برائی عام ہوتی جا رہی ہے لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا مال
بیچتے ہیں جبکہ اس سے مال تو بک جاتا ہےمگر برکت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح رشوت کا
لین دین کرنا، چوری کرنا، ڈنڈی مار کر سودا بیچنا، ملاوٹ والا مال فروخت کرنا، قرض
دبا لینا اور ڈاکہ زنی کرنا بھی حرام مال کمانے میں شامل ہے۔ آج کے دور میں تو یہ
پرواہ تک نہیں کی جاتی کہ مال حرام ہے یا حلال بس مال جمع کرنے کی دھن سوار ہے۔ ہمارے
سلف و صالحین ان باتوں کا خوب خیال رکھتے تھے، جیسا کہ ایک بار امیر المومنین حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غلام آپ کی خدمت میں دودھ لایا آپ نے اسے پی لیا غلام
نے عرض کی: میں پہلے جب بھی کوئی چیز پیش کرتا تو آپ اس کے بارے میں دریافت فرماتے
تھے لیکن اس دودھ کے بارے میں کچھ دریافت نہیں فرمایا؟ یہ سن کر آپ نے پوچھا یہ
دودھ کیسا ہے؟ غلام نے جواب دیا: میں نے ایک بیمار پر زمانہ جاہلیت میں منتر
پھونکا تھا جس کے معاوضے میں آج اس نے یہ دودھ دیا ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
نے یہ سن کر اپنے حلق میں انگلی ڈالی اور وہ دودھ اگل دیا اس کے بعد نہایت عاجزی
سے دربار الہی میں عرض کیا: یا اللہ! جس پر میں قادر تھا وہ میں نے کر دیا اس دودھ
کا تھوڑا بہت حصہ جو رگوں میں رہ گیا ہے وہ معاف فرما دے۔ (بخاری، 2 / 511، حدیث: 3842)
یا اللہ ہمیں حلال کمانے اور حلال کھانے کی توفیق
عطا فرما حلال رزق میں برکتیں عطا فرما حرام کمانے اور حرام کھانے سے بچنے کی
توفیق عطا فرما۔ آمین!
حرام کمانے
کھانے کی مذمت از بنت محمد اکمل، فیضان عائشہ صدیقہ سرائے عالمگیر گجرات
حرام کی تعریف: حرام کا معنی
حلافِ شرع، حلال کی ضد ہے، جبکہ شرعاً حرام وہ ہے جس کی ممانعت دلیل قطعی سے لزوماً
ثابت ہو۔
حرام مال
اسے کہتے ہیں جو حرام اور غیر شرعی طریقے سے حاصل کیا جائے، آیات اور احادیث کی
روشنی میں جوا، شراب، چوری وغیرہ سے کمایا ہوا پیسہ حرام مال کے حکم میں آتا ہے، حرام
روزی کے بارے میں فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ فرمائیے۔
فرامینِ مصطفیٰ:
1۔ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی پرواہ
نہ کرے گا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیا حلال سے حرام سے۔ (بخاری، 2/7، حدیث: 2059) مشہور مفسر حکیم الامت مفتی احمد یار
خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: آخر زمانہ میں لوگ دین سے بے
پرواہ ہو جائیں گے ہر حلال و حرام لینے پر دلیر ہو جائیں گے جیسا کہ آج کل عام ہے۔
(مراۃ المناجیح، 3/229) حرام کمانے اور کھانے سے دعا قبول نہیں
ہوتی۔
2۔ حرام مال کا کوئی صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
(مسلم، ص 115، حدیث: 224)
3۔ مزید فرمایا: حرام کھانے والے کی عبادت و نماز
قبول نہیں ہوتی۔ (اتحاف السادة المتقین، 6/452)
4۔ حرام یا شراب سے نشونما پانے والا گوشت اور خون
جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسند امام احمد، 5/64، رقم: 14448)
وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جس کی پرورش حرام مال سے
ہوئی اور ایسا حرام گوشت دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔ (ترمذی، 2/118، حدیث: 614)
5۔ حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ (مسلم، ص 393، حدیث: 2346)
اے عاشقانِ رسول حلال کھانے ہی سے اعمال قبول ہوتے
ہیں، بعض اہلِ علم کا قول ہے دنیا کی حلال چیزوں پر حساب ہے اور حرام پر عذاب ہے
اور حرام ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج فقط یہی ہے کہ بندہ حرام کھانے سے اللہ کی
بارگاہ میں پناہ چاہے کیونکہ حرام پر جب ڈٹے ہی رہنا ہو تو لمبی لمبی عبادتوں کا
کیا فائدہ۔ جوحرام کھانے سے اجتناب نہ کرے تو طویل عرصہ بھوکا رہنے کے بعد تھوہڑ
کا کڑوا اور گرم پھل کھائے گا تو یہ کیسا بہترین کھانا ہوگا تو اس کا ضرر کتنا
شدید ہو گا کہ یہ دل کے ٹکڑے کر دے گا جگر کو چیر ڈالے گا بدن کو پھاڑ دے گا جینا
مشکل کر دے گا۔ (آنسوؤں کا دریا، ص 283)
حرام لقمے کی نحوست: آدمی
کے پیٹ میں جب لقمے حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے گا جب تک
اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں موت آ گئی تو جہنم میں داخل ہو گا۔ (مکاشفۃ
القلوب، ص 10)
ایک لقمے کا اثر: حضرت سفیان
ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں ایک آیت مبارکہ پڑھا کرتا تو میرے لیے علم کے
ستر دروازے کھول دیئے جاتے پھر جب میں نے امراء کا مال کھایا اور اس کے بعد جب میں
نے وہ آیت پڑھی تو اس میں میرے لیے علم کا ایک دروازہ بھی نہ کھلا۔
حضرت عبد الرحمن بن علی جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: حرام غذا ایک ایسی آگ ہے جو فکر کی چربی پگھلا دیتی ہے اور حلاوتِ ذکر کی لذت
ختم کر دیتی ہے اور سچی نیتوں کے لباس جلا دیتی ہے اور حرام ہی سے بصیرت کا اندھا
پن پیدا ہوتا ہے۔ (آنسوؤں کا دریا، ص 284)
حرام کمائی کی صورتیں: ناجائز
طریقے سے دوسروں کا مال کھانا جوئے، چوری، سود، رشوت میں سے کسی طریقے سے کمایا ہوا
فلموں، ڈراموں کی اجرت غیر شرعی طور پر بھیک مانگ کر رقم لی ہو یہ سب ممنوع و حرام
اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔
حرام کمائی کے نقصانات: حرام
کھانے میں آخرت کی بربادی ہے، حرام کمائی سے حاصل ہونے والی چیزیں بے سکونی کا سبب
بنتی ہیں، حرام کھانے سے حرص بڑھتی ہے عبادات قبول نہیں ہوتیں، حرام کھانے سے
انسان کا دل سخت اور تاریک ہو جاتا ہے، حرام کھانے سے مال و دولت کی حرص اس قدر
بڑھتی ہے کہ بعض اوقات بندہ قتل و غارت میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے آخر کار وہ انسان
سخت ترین مصیبتوں پریشانیوں کا شکار ہو جاتا ہے، سب سے بڑھ کر حرام کھانے والا
عذاب نار کا حقدار ہے۔
اللہ پاک ہمیں حرام کھانے اور کمانے اور دیگر
گناہوں سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
دس صفات مومن
از بنت بشیر احمد، جامعۃ المدینہ صابری کالونی اوکاڑہ پنجاب
ایمان کا لغوی معنی ہے تصدیق کرنا، سچا مان لینا
جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد سچے دل سے ان تمام باتوں کی تصدیق کرنا ہے جو ضروریاتِ
دین سے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے
لیے عداوت رکھی اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے اپنا ایمان کامل کر
لیا۔ (ابو داود،4/290، حدیث: 4681)
آئیے مؤمن کامل کے چند اوصاف پڑھتے ہیں:
1۔ ایمان میں پختہ: اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ
یَرْتَابُوْا (پ
26، الحجرات: 15) ترجمہ کنز العرفان: ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس
کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے شک نہ کیا۔
2،3۔ دل خوف خدا سے لبریز اور اللہ پر
یقین کامل: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ
قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ
عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲) (پ9، الانفال: 2) ترجمہ کنز العرفان: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویاد
کیا جائے توان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو
ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
4۔ اللہ کے دین کے مبلغ: اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ
الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ
یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پ10، التوبۃ: 71) ترجمہ کنز العرفان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک
دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
5،6،7۔ راتوں کو قیام کرنا، بارگاہِ
الٰہی میں گڑگرانا اور راہِ خدا میں خرچ کرنا: تَتَجَافٰى
جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ
مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶) (پ21، السجدۃ:16)ترجمہ کنز العرفان: ان کی کروٹیں ان کی خوابگاہوں سے جدا
رہتی ہیں اور وہ ڈرتے اور امید کرتے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے
میں سے خیرات کرتے ہیں۔
8،9۔ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا
اور لغو باتوں سے بچنا: قَدْ اَفْلَحَ
الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) وَ
الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) (پ18، المومنون:
1 تا 3) ترجمہ کنز العرفان: بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ جو اپنی
نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
10۔ شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) (پ18،
المومنون:5) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت
کرنے والے ہیں۔
انعام الٰہی: ان اوصاف کے
حامل لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ(۱۱) (پ18، المومنون: 10 ،11) ترجمہ کنز العرفان: یہی لوگ وارث ہیں یہ فردوس کی میراث
پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
مومن وہ ہے جو اللہ، رسولﷺ،اس کے
رسولوں،کتابوں،فرشتوں،اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، نیز تمام ضروریاتِ دین کا
اقرار کرتا ہو اللہ پاک نے قرآن پاک میں فلاح پانے والے مومنین کی جو صفات بیان کی
ہیں،ان میں سے 10 ملاحظہ فرمائیے:
1۔ قَدْ اَفْلَحَ
الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) (پ18، المومنون: 1) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک ایمان والے کامیاب
ہوگئے۔ یہ ارشاد مومنین کے لیے ہوا کہ مراد کو پہنچنے والے یعنی کامیابی پانے والے
ہیں اور اصل کامیابی تو جنت کا حاصل کرنا ہے۔
2۔ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ
صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ18،
المومنون: 2) ترجمہ کنز العرفان: جو اپنی
نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔یعنی ان کے دلوں میں خوف ہوتا ہے اور ان کے
اعضا ساکن ہوتے ہیں جب وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں تو توجہ دنیا سے ہٹی ہوتی ہےاور
دل اللہ کی جانب جھکا ہوتا ہے۔
3۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ
اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)
(پ18، المومنون: 3) ترجمہ کنز العرفان:
اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ یعنی وہ ہر لہو و باطل سے بچتے ہیں۔
4۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ
لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴) (پ 18، المومنون: 4) ترجمہ کنز
الایمان: اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔ یعنی اس کے پابند ہیں اور مداومت
کرتے ہیں۔اللہ کی راہ میں غریبوں، مسکینوں، یعنی حقداروں کو دے کر اپنا مال پاک
کرتے ہیں۔
5۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ
لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵)
(پ18، المومنون:5) ترجمہ کنز العرفان:
اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
6،7۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
(پ 18، المومنون: 8) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی
رعایت کرتے ہیں۔ امانتوں کی رعایت کرنے سے مراد ہے کہ خیانت نہیں خواہ وہ اللہ کی
ہوں یا خلق کی اور عہد کی رعایت سے مراد ہے کہ اپنے وعدے پورے کرتے ہیں عہد خواہ
خالق کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ سب کی وفا کرتے ہیں۔
8۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) (پ
18، المومنون: 9) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ یعنی
نمازیں مقررہ اوقات میں انکے شرائط وآداب کے
ساتھ ادا کرتے ہیں اور فرائض و واجبات و
سنن و نوافل سب کی نگہبانی کرتے ہیں۔
9۔ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ
یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۱۱) (پ18،
المومنون: 10 ،11) ترجمہ کنز العرفان:
یہی لوگ وارث ہیں یہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔وہ مذکورہ
تمام صفات سے موصوف ہونے کی بنا پر جزا میں جنت الفردوس اور اسکی نعمتوں کے حقدار
ٹھہریں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے پھر اس سے نکلنا نہ ہوگا۔
10۔ پرہیزگار مومنین کے بارے میں یہ بھی ارشاد ہوا
ہے کہ وہ آخری پہروں میں بخشش مانگتے ہیں یعنی وہ راتوں کی نیند قربان کر کے اپنے
رب سے بخشش کا سوال کرتے ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں مومنین جیسی صفات اپنانےکی
توفیق دے۔ آمین
دس صفات مومن از
بنت عبد الرحمٰن مدنیہ، فیضان آن لائن اکیڈمی بورے والہ
قرآن پاک میں اللہ پاک نے مومنین کی بہت سارے اوصاف
بیان فرمائے ہیں جن میں سے دس اوصاف درج ذیل ہیں:
1۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) (پ18، المومنون: 1 تا 3) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک ایمان والے کامیاب
ہوگئے۔ اس آیت مبارکہ میں ایمان والوں کو بشارت دی گئی ہے کہ بے شک وہ اللہ پاک کے
فضل سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے اور ہمیشہ کے لیے جنت میں جاکر ہر ناپسندیدہ
چیز سے نجات پاجائیں گے۔
2۔ اللہ پاک فرماتا ہے: الَّذِیْنَ
هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ
18، المومنون: 2) ترجمہ کنز العرفان: جو لوگ اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے
والے ہیں۔ اس آیتِ مبارکہ میں مومنین کے مزید اوصاف بیان کیے جارہے ہیں کہ ایمان
والے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اُس وقت ان کے دلوں میں اللہ پاک
کاخوف ہوتا ہے اور ان کے اعضاء ساکن ہوتے ہیں۔
3۔ ربِّ کریم فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) (پ 18، المومنون:
3) ترجمہ کنز العرفان: اوروہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے
ہیں۔ فلاح پانے والوں کا یہ وصف بیان کیاجارہا ہے کہ وہ ہر لہووباطل سے بچے رہتے
ہیں۔ لغو سے مراد ہر وہ بات یاکام ہے جو ناپسندیدہ ہو یا ہر وہ مباح کام جس کا
مسلمان کو دینی یا دنیاوی کوئی فائدہ نہ ہو۔
4۔ اللہ پاک فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴)
(پ 18، المومنون: 4) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔ اس
آیت مبارکہ میں کامیابی پانے والے اہلِ ایمان کایہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ
پابندی کے ساتھ اور ہمیشہ اپنے مالوں پر فرض ہونے والی زکوٰة دیتے ہیں بعض مفسرینِ
کرام نے اس آیت میں زکوة سے مراد نفس کو پاک کرنا بیان فرمایا ہے کہ ایمان والے
اپنے نفس کو دنیا کی محبت وغیرہ مذموم صفات سے پاک کرنے کا کام کرتے ہیں۔
5۔ رب کریم کا ارشاد ہے: وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) (پ18، المومنون:5) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت
کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں کامیابی حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کا یہ وصف بیان
کیاگیا ہے کہ ایمان والے زنا اور زنا کے اسباب و لوازمات وغیرہ حرام کاموں سے اپنی
شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
6،7۔ اللہ فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) (پ 18، المومنون: 8) ترجمہ کنز
الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ اس آیتِ مبارکہ
میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید اوصاف بیان کیے گئے ہیں کہ ان کے پاس
کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے
ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ یاد رہے! امانتیں چاہے رب کی ہوں یا بندوں کی عہد چاہے رب
کے ہوں یا بندوں کے سبھی میں وفالازم ہے۔
8۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) (پ 18، المومنون: 9) ترجمہ کنز
الایمان: اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ یعنی کامیابی پانے والے وہ
مومنین ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انہیں ان کے وقتوں میں شرائط و
آداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ (صراط الجنان، 6/494 تا 506 ملتقطاً)
9،10۔ ربِّ کریم فرماتا ہے: اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ
الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) (پ
3، اٰل عمران: 17) ترجمہ کنز العرفان: صبر کرنے والے اور سچے اور فرمانبردار
اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والے اور رات کے آخری حصے میں مغفرت مانگنے والے ہیں۔ اس
آیت مبارکہ میں مومن متقین کے یہ اوصاف بیان کیے جارہے ہیں کہ وہ عبادت و ریاضت کے
باوجود اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرتے ہیں اطاعتوں مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں
قول،ارادے اور نیتوں میں سچے ہوتے ہیں اللہ تعالی کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں راہِ
خدا میں مال خرچ کرتے ہیں۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ (صراط
الجنان، 1/446،447)
ایمانِ کامل کسے کہتے ہیں؟ ایمان
کامل سے مراد وہ پختہ ایمان ہے جب مسلمان بندے کا ہر عمل اپنے رب و پیارے نبی ﷺ کی
نذر ہو جائے، جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے عداوت رکھی اور اللہ کے
لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا۔ (ابو داود،4/290،
حدیث: 4681)
مومن کی 10 صفات:
1۔ شک و شبہات سے محفوظ: مومن
کی پہلی بنیادی صفت یہی ہے کہ اپنے ایمان کے ہر معاملے میں کسی قسم کے وسوسوں و شک
و شبہات میں نہیں پڑتا۔ ارشادِ ربانی ہے: اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ
یَرْتَابُوْا (پ
26، الحجرات: 15) ترجمہ کنز العرفان:
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے شک نہ
کیا۔
2۔ توبہ و استغفار: مسلمان
مومن بہت توبہ و استغفار کرتا ہے۔ اَلتَّآىٕبُوْنَ
الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ (پ
11،التوبۃ: 112) ترجمہ کنز الایمان: توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے
والے رکوع والے سجدہ والے۔
3۔ عملِ صالح: مومن نیکیوں
میں اضافہ کرنے اور گناہوں سے بچنے والا ہوتا ہیں۔ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز
ادا کرتا ہے، بے حیائی کے کاموں سے دور رہتا، اللہ کی راہ میں جہاد کرتا، سنت نبوی
کی پیروی کرتا اور رب العالمین کے ہر حکم کو ماننے کی کوشش کرتا ہے۔
4۔ نماز: نماز تو مسلمان
مومن کیلئے معراج ہے۔ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ
صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ18،
المومنون: 2) ترجمہ کنز العرفان: جو اپنی
نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔
5۔ ڈر: جب بھی
مسلمان مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں یا صرف رب العالمین کا نام سنتے ہیں تو
ان کا دل خوف و ڈر سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ (پ9،
الانفال: 2) ترجمہ کنز العرفان: ایمان
والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویاد کیا جائے توان کے دل ڈر جاتے ہیں۔
6۔ راہِ خدا میں خرچ:
مومن رب تعالیٰ کے عطا کردہ مال کو اس کی راہ میں خوب خرچ کرتا ہے۔ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ
یُنْفِقُوْنَۙ(۳) (پ1،البقرۃ:3) ترجمہ کنز الایمان: اور ہماری دی ہوئی روزی
میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔
7۔ تعظیم و توقیر:
مومن پیارے نبی ﷺ کی تعظیم و توقیر کا خیال رکھتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا
انْظُرْنَا (پ2،البقرۃ:
104) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں
عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں۔
8۔ پیروی رسول: اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ
وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ- (پ
18، النور: 51) ترجمہ کنز الایمان: مسلمانوں
کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول اُن میں فیصلہ
فرمائے تو عرض کریں ہم نے سُنا اور حکم مانا۔
9۔ اصلاح کرنے والا: وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ
بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(پ10، التوبۃ: 71) ترجمہ کنز العرفان:
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں
اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
10۔ حج: مسلمان مومن
جیسے ہی استطاعت پاتا ہے تو وہ ادائیگی حج کرتا ہے۔ وَ
لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ
مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ- (پ4،اٰل عمران:97)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کے لیے
لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مومن کی صفات پر عمل کرنے والا
بنائے۔ آمین
مومنین اللہ پاک کے وہ خوش قسمت بندے ہیں جو
ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہیں شریعت کے ہرہراحکام پر سر تسلیم خم کرتے ہیں ان
بندوں کے ساتھ اللہ پاک نے بھلائی کاارادہ فرمایاہے یہ آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں
جنت میں مومنین کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں انکی صفات
ذکر فرمائی ہیں:
1۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ
مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) (پ 2، البقرۃ: 3) ترجمہ کنز
الایمان: وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی
میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔ یہاں سے لے کر اَلْمُفْلِحُوْنَ تک
کی 3 آیات مخلص مومنین کے بارے میں ہیں جو ظاہری او رباطنی دونوں طرح سے ایمان
والے ہیں۔
2۔ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ- (پ
3، اٰل عمران: 7) ترجمہ کنز الایمان: پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان
لائے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رَاسِخْ فِی
الْعِلْم
وہ عالمِ باعمل ہے جو اپنے علم کی پیروی کرنے والا ہو۔ (خازن، 1/232)
3۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ
وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
(پ 18، المومنون: 8) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی
رعایت کرتے ہیں۔ اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان
کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے
اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ (روح البیان، 6/69)
4۔ وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸) (پ 7، الاعراف: 8) ترجمہ: اور
اس دن وزن کرنا ضرور برحق ہے تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ فلاح پانے
والے ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نیکیوں اور برائیوں
کا میزان میں وزن کیا جائے گا، اس میزان کی ایک ڈنڈی اور دو پلڑے ہیں۔ مومن کا عمل
حسین صورت میں آئے گا اور ا س کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس کی
نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے کے مقابلے میں بھاری ہوگا۔ (شعب الایمان، 1/ 260، حدیث: 281)
5۔ اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خوشی سے سجدہ
کرتے ہیں۔ آسمانوں میں جتنے فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے اہلِ ایمان ہیں سب خوشی سے
اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (مدارک، ص 553)
6۔ وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ
عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اﰳلْحُسْنٰىۚ- (پ 18،
الکہف: 88) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ
بھلائی ہے۔ جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس
کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام
کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر سہل ہوں دشوار نہ ہوں۔ ( ابو
سعود، 3/ 403)
7۔ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ
صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ18،
المومنون: 2) ترجمہ کنز العرفان: جو اپنی
نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔ارشاد فرمایا کہ ایمان والے خشوع و خضوع کے
ساتھ نماز ادا کرتے ہیں، اس وقت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اور ان
کے اَعضا ساکن ہوتے ہیں۔ (مدارک، ص 751)
8۔ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ
الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(۳) (پ
19، النمل: 3) ترجمہ: وہ جو نمازقائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر
یقین رکھتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے جو ا س پر ایمان لاتے ہیں، فرض نمازیں ہمیشہ پڑھتے
ہیں اور نمازکی شرائط و آداب اور جملہ حقوق کی حفاظت کرتے ہیں اور جب ان کے مال پر
زکوٰۃ فرض ہو جائے تو خوش دلی سے زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیرطبری،
9 / 494)
9۔ وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ
هَوْنًا
(پ 19، الفرقان: 63) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پرآہستہ
چلتے ہیں۔ اوراتنا تیز چلنا جو بھاگنے کے مشابہ ہواس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیز چلنا مومن کا وقار
کھودیتا ہے۔ (مسند الفردوس، 2/ 334،
حدیث: 3508)
10۔ تَتَجَافٰى
جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ
مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)
(پ21، السجدۃ:16)ترجمہ کنز العرفان: ان
کی کروٹیں ان کی خوابگاہوں سے جدا رہتی ہیں اور وہ ڈرتے اور امید کرتے اپنے رب کو
پکارتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خیرات کرتے ہیں۔اس آیت میں ایمان والوں کے
اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ رات کے وقت نوافل پڑھنے کے لئے نرم و
گُداز بستروں کی راحت کو چھوڑ کر اُٹھتے ہیں اور ذکرو عبادت الٰہی میں مشغول
ہوجاتے ہیں نیز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہوئے اسے
پکارتے ہیں۔
آئیے! غور کرتے ہیں کہ ہم میں ان میں سے کن صفات کی
کمی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔
اللہ پاک ہمیں بھی ان اوصاف حمیدہ کا جامع بنائے اور کثرت سے اپنی عبادت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مومن کی تعریف: فرمانِ
مصطفیٰ ﷺ: مومن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فخش بکنے والا،
نہ بےہودہ ہوتا ہے۔ (ترمذی، 3/393حدیث: 1984) آئیے قرآن کی روشنی میں صفاتِ مومن
ملاحظہ کیجیے:
1۔ قَدْ اَفْلَحَ
الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) (پ18، المومنون: 1) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک ایمان والے کامیاب
ہوگئے۔ اس آیت میں ایمان والوں کو بشارت دی گئی ہے کہ بے شک وہ اللہ تعالیٰ کے
فضل سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو کر ہر
ناپسندیدہ چیز سے نجات پاجائیں گے۔ (تفسیر کبیر، 8/ 258)
2۔ وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ
الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پ 19،
الفرقان: 63) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پرآہستہ چلتے ہیں۔ اس
آیت میں مومنین کے تقریباً 12اوصاف بیان ہوئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: وہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں، جب جاہل ان سے بات کرتے تو کہتے ہیں بس سلام، جہنم کا عذاب پھر
جانے کی اللہ پاک سے دعائیں کرتے ہیں، اعتدال سے خرچ کرتے ہیں وغیرہ۔
3۔ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ
الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(۳)
(پ 19، النمل: 3) ترجمہ: وہ جو نمازقائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت
پر یقین رکھتے ہیں۔ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے جو اس پر ایمان
لاتے ہیں فرض نمازیں ہمیشہ پڑھتے ہیں اور نماز کی شرائط و آداب اور جملہ حقوق کی
حفاظت کرتے ہیں اور جب ان کے مال پر زکوٰۃ فرض ہو جائے تو خوش دلی سے زکوٰۃ دیتے
ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
4۔ اِنَّ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ(۸) خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۹) (پ
21، لقمٰن: 8،9) ترجمہ: بے شک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے ان کے لیے
نعمتوں کے باغات ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ الله کا سچا وعدہ ہے اور وہی عزت
والا حکمت والا ہے۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا بے شک وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان
لاتے ہیں اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ان کے لیے نعمتوں اور چین کے
ایسے باغات ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ ان سے الله کا سچا وعدہ ہے۔
5۔ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا
كَبِیْرًا(۴۷)
(پ 21، الاحزاب: 47) ترجمہ: اور ایمان والوں کو خوشخبری دیدو کہ ان کے لیے اللہ کا
بڑا فضل ہے۔ یعنی اے حبیب! جب آپ میں ایسے عظیم اوصاف پائے جاتے ہیں تو آپ ایمان
والوں کو یہ خوشخبری دیدو کہ ان کے لیے الله کا بڑا فضل ہے۔
6۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ(۷۰) (پ
22، الاحزاب: 70) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کیا کرو۔ اس
آیت میں ایمان والوں کو تقوی اختیار کرنے سچی اور حق بات کہنے کا حکم دیتے ہوئے
ارشاد فرمایا گیا کہ تم الله کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کی رعایت کرنے میں
الله سے ڈرتے رہو۔
7۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا
رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(۱۷۲) (پ
2، البقرۃ: 172) ترجمہ: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ اور الله
کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ الله پاک نے ہمیں کھانے سے منع نہیں
فرمایا بلکہ کئی مقامات پر رزقِ الٰہی کھانے کا بیان ہے یعنی کھا پی کر الله پاک
کا شکر ادا کرو۔
8۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ
بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) (پ 2، البقرۃ: 3) ترجمہ کنز
الایمان: وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی
میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔ اس آیتِ مبارکہ میں ان مومنین کی صفات بیان ہوئی
ہیں جو ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے ایمان والے ہیں۔ آیت کے اس حصے کہ وہ جو بغیر
دیکھے ایمان لاتے ہیں اس میں متقی لوگوں کا وصف بیان کیا گیا ہے۔
9۔ وَ الَّذِیْنَ
یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ
بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴) (پ 1، البقرۃ: 4) ترجمہ کنز
الایمان: اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے
پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں۔ اس آیت میں اہل کتاب کے وہ مومنین مراد ہیں جو
اپنی کتاب پر اور پچھلی آسمانی کتابوں پر اور انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل
ہونے والی وحیوں پر ایمان لائے اور قرآن پاک پر بھی ایمان لائے۔
10۔ اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ(۵) (پ 1، البقرۃ: 5) ترجمہ: یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے
ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں میں بیان کی
گئی صفات پائی جاتی ہیں وہ اپنے رب کی طرف سے عطا کی گئی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ
جہنم سے نجات پا کر اور جنت میں داخل ہو کر کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
رب تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی کامل مومن بننے اور
ان صفات کا حامل بنائے۔
خدائے پاک کی بارگاہ میں سب سے محبوب یہ ہے کہ بندے
کا ایمان، ایمانِ کامل ہو۔
ایمان کامل کیا ہوتا ہے؟
اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں جس کے دل میں الله و رسول
کا علاقہ (تعلق) تمام علاقوں (تعلقات) پر غالب ہو۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے
الله کے لیے محبت کی اور الله کے لیے بغض رکھا اور الله کے لیے دیا الله کے لیے
روکا تو اس نے ایمان کامل کر لیا۔(ابو داود،4/290، حدیث: 4681)
قرآن پاک میں بھی ایمان والوں کی بہت سی صفات بیان
کی گئیں ہیں:
1کامل ایمان والے اپنے ایمان میں بہت مستحکم اور
پختہ ہوتے ہیں اور شک و شبہ میں نہیں پڑھتے الله پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ
رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا (پ
26، الحجرات: 15) ترجمہ کنز العرفان:
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے شک نہ
کیا۔
2۔ کامل ایمان والوں کو قرآن سے گہری محبت ہوتی ہے قرآن
سے علمی و شعوری تعلق ہوتا ہے اور عمل کے ذریعے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں چنانچہ
جب قرآنی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو عاجزی و خشوع سے سجدے میں گر جاتے اور
تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اِنَّمَا
یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ
سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩(۱۵) (پ21،
السجدۃ: 15) ترجمہ: ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان آیتوں کے
ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف
کرتے ہوئے اسکی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
3۔ کامل ایمان والے اللہ کی خاطر محبت کرنے والے
اور پیغامِ خداوندی کے مبلغ ہوتے ہیں چنانچہ ان میں ایمانی قوت اور ایک دوسرے کی
آخرت کی فکرو نصیحت کا جذبہ ہوتا ہے نماز و زکوۃ کی ادائیگی اور خدا و رسول کی
اطاعت کا شیوہ ہے۔ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ
بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ
الْمُنْكَرِ
(پ10، التوبۃ: 71) ترجمہ کنز العرفان:
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں
اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
4۔ کامل
ایمان والے جب آخرت کے لیے عمل کرتے ہوئے کوشش کرتے ہیں ان کی کوشش کی قدر کی جاتی
ہے۔ وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ
مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹) (پ15،
بنی اسرائیل: 19) ترجمہ: اور جو آخرت چاہتا ہے اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی
کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے
گی۔
5۔ کامل ایمان والے رات کے آخری پہر بارگاہِ الٰہی
میں سجدہ ریز ہوتے ہیں خوف و امید کے ساتھ اپنے رب سے التجائیں کرتے ہیں اور راہِ
خدا میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ
عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا
رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)
(پ21،
السجدۃ:16)ترجمہ کنز العرفان: ان کی
کروٹیں ان کی خوابگاہوں سے جدا رہتی ہیں اور وہ ڈرتے اور امید کرتے اپنے رب کو
پکارتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خیرات کرتے ہیں۔
6۔ کامل
ایمان والے جب تلاوت قرآن سنتے ہیں تو ان کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ اپنے رب پر
کامل بھروسہ رکھتے ہیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا
تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲)
(پ9، الانفال: 2) ترجمہ کنز العرفان:
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویاد کیا جائے توان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان
پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ
اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
7۔ کامل ایمان والے عمل صالحہ میں مضبوط ہوتے ہیں
اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ قَدْ
اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) (پ18، المومنون: 1،2) ترجمہ کنز العرفان: بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ جو
اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔
8۔ کامل ایمان والے وہ ہیں جو دنیا میں اخلاص کے
ساتھ نیک عمل کریں۔ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ
هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖۚ-وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ(۹۴) (پ7،
الانبیاء:94) ترجمہ: تو جو نیک اعمال کرے اور وہ ایمان والا ہو تو اس کی کوشش کی
بے قدری نہیں ہو گی اور ہم اسے لکھنے والے ہیں۔
9۔ کامل ایمان والے فضول باتوں سے منہ پھیرتے اور
اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں۔ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ
اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴) (پ18، المومنون: 3،4) ترجمہ: اور وہ
جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔
10۔ کامل ایمان والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے
والے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى
صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ
الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۱۱) (پ
18، المومنون: 9 تا 11) ترجمہ: اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ یہی
لوگ وارث ہیں یہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اخلاص کی دولت عطا
فرمائے کامل مومن کے اوصاف سے مالا مال فرمائے اپنا اور اپنے پیارے حبیب کا حقیقی
عشق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
Dawateislami