یقیناًآزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اللہ پاک نے بھی نعمت ملنے پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے، لہٰذا 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ہجری کے جس مبارک دن ہمارا پیارا وطن پاکستان آزاد ہوا ہمیں اِس دن خوشیاں مناتے ہوئے اس بات کا بھی احساس رہنا چاہئے کہ جس مالکِ حقیقی نے ہمیں اس عظیم الشان نعمت سے نوازا ہے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اس کا شکر بھی بجا لایا جائے۔ مگر افسوس! ہمیں اسلامی تعلیمات یاد ہیں نہ قیامِ پاکستان کے مقاصد۔ حالانکہ یہ ملک مذہب کے نام پر بنا اور ایک آزاد ملک کی فضاؤں میں سانس لینے کی آرزو میں ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے مال و جان وغیرہ کی قربانیاں دیں، مگر افسوس! ہمیں کچھ بھی یاد نہیں۔

بحیثیت قوم ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس دن ہم اپنے محسنوں کو یاد کر کے کم از کم انہیں خراجِ عقیدت ہی پیش کر دیتے مگر افسوس! ہماری حالت یہ ہے کہ 13 اگست کو سرشام ہی یہ انتظار کرنے لگتے ہیں کہ کب رات کے 12 بجیں اور جشنِ آزادی کے نام پر کان پھاڑ دینے والے جدید ترین ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے بے ہنگم موسیقی بجانے، ہوائی فائرنگ و آتش بازی کرنے اور بم پٹاخے پھوڑنے جیسی خرافات کا سلسلہ شروع ہو۔ حالانکہ ان خرافات کے سبب نزدیک رہنے والے مریضوں، بوڑھوں اور گھریلو خواتین کو رات بھر سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چھوٹے بچے خوف سے کانپ جاتے ہیں، شیر خوار بچے ہڑ بڑا کر اُٹھ جاتے اور رو رو کر بُرا حال کر لیتے ہیں۔

پھر اسی پر بس نہیں ہوتی بلکہ سڑکوں پر ہلڑ بازی کی جاتی ہے، موٹر سائیکل یا کار کے سائلنسر نکال دئیے جاتے ہیں جن سے نکلنے والی مکروہ آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، تفریحی مقامات پر رش بڑھ جاتا ہے جہاں مردوں اور عورتوں کے بدن آپس میں ٹکرا رہے ہوتے ہیں، بد نگاہیاں اور بے حیائیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، اجنبی لڑکے لڑکیوں میں میل ملاپ اور تحفے تحائف کا لین دین کا سلسلہ ہوتا ہے، اپنے تئیں جدید تہذیب کی کئی خواتین تنگ اور نیم عریاں لباس پہن کر مردوں کے شانہ بشانہ اس گناہ میں خود بھی شریک ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ سال جشنِ آزادی کے موقع پر مینارِ پاکستان پر ایسا ہی ایک نہایت دلخراش واقعہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل بھی ہوا تھا۔ اس واقعے سے پوری دنیا میں جہاں ہمارے پاک وطن کی جگ ہنسائی ہوئی وہیں ہمارے اسلاف کی ارواح کو بھی تکلیف ہوئی ہو گی کہ جس وطن کی خاطر انہوں نے قربانیاں دی تھیں آج اسی وطن کی بہو بیٹیاں یوں سر عام لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی پھر رہی ہیں۔ ان اشعار میں شاید آج ہی کے معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے:

ہر کوئی مست مئے ذوقِ تنِ آسانی ہے

تم مسلماں ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے

حیدری فقر ہے،نے دولتِ عثمانی ہے

تم کو کیا اسلاف سے نسبت روحانی ہے

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

جشن آزادی کی خوشی میں کیا کرنا چاہئے؟٭اس دن اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز ہوا جائے اور اس کا شکر بجا لایا جائے کہ اس نے ہمیں غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی ٭تحریکِ آزادی میں شامل علمائے اہلِ سنت اور شہدائے کرام کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا جائے ٭ شکرانے کے نفل ادا کئے جائیں ٭صدقہ و خیرات کیا جائے ٭قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائے ٭محارم رشتے داروں، سہیلیوں اور پڑوسنوں کو مبارک باد اور تحائف پیش کئے جائیں ٭قیامِ پاکستان کے مقاصد کو اجاگر کیا جائے ٭اپنے گھر، مدرسے اور جامعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جائے اور دوسرے دن اتار لیا جائے تاکہ اس کا تقدس برقرار رہے ٭ملکِ پاکستان کی بقا و خوش حالی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں Pوطن کی حفاظت کے لئے اپنے تن، من، دھن کی قربانی دینے کے جذبے کا اظہار کیا جائےPصرف ایسی نظمیں پڑھی اور سنی جائیں جو موسیقی اور غیر شرعی الفاظ سے پاک ہوں ٭اس دن ہونے والی خرافات سے خود بھی بچا جائے اور اپنی اولاد کو بھی بچایا جائے٭ٹی وی اور سوشل میڈیا جشنِ آزادی کی خرافات کو پھیلانے کا بھی ذریعہ ہے اور بچنے کا بھی، لہٰذا جشنِ آزادی کی خرافات سے بچنے کیلئے اس دن صرف اور صرف مدنی چینل ہی دیکھئے٭دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net کا وزٹ کیجئے یا سوشل میڈیا پر بنے دعوتِ اسلامی کے مختلف آفیشل یوٹیوب چینلز اور معلوماتی پیجز کا وزٹ کیجئے۔

یاد رکھئے! معاشرتی برائیوں کو روکنا جس طرح مردوں پر لازم ہے اسی طرح خواتین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے منصب و حیثیت کے مطابق معاشرے میں رائج برائیوں کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جس طرح پاکستان بنانے میں خواتین نے بھر پور کردار ادا کیا تھا اسی طرح پاکستان بچانے میں بھی خواتین کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر کے تقریباتِ جشنِ آزادی کی خرافات کی روک تھام کے لئے خواتین اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، لہٰذا خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی اس حسین انداز میں تربیت کریں کہ آگے چل کر وہ دیگر معاشرتی برائیوں سمیت جشنِ آزادی پر ہونے والی خرافات سے دور رہے۔ اس ضمن میں چند معاون گزارشات پیشِ خدمت ہیں:

(1)بچپن سے ہی اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کیجئے تا کہ بڑے ہوں تو یہ اسلام کے شیدائی بن کر معاشرتی برائیوں کا سد ِّباب کر سکیں۔

(2)بچوں کو اپنے اسلاف کی قربانیوں کے بارے میں بتائیے تاکہ ان میں ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ صحیح معنوں میں پیدا ہو سکے۔

(3)گھر میں دینی ماحول بنائیے، کیونکہ جب گھر کا ماحول دینی ہو گا تو ہمارا معاشرہ بہتری کی جانب گامزن ہو سکتا ہے، اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روزانہ گھر میں کم سے کم ایک گھنٹہ 20منٹ مدنی چینل چلائیے تا کہ آپ کے بچوں کا رحجان دین کی طرف بڑھے۔

(4)بچوں کو قیامِ پاکستان کا اصل مقصد بتائیے۔

(5)بچیوں کو پردہ کرنے کی ترغیب دینے سے پہلے خود پر پردہ نافذ کیجئے، کیونکہ بچے اپنے بڑوں کو جو کرتا دیکھتے ہیں وہ بھی ویسا ہی کرتے ہیں۔

(6)اپنے بچوں کو ایسی چیزیں خرید کر ہی نہ دیجئے جن سے جشنِ آزادی میں ہونے والی خرافات جنم لیں مثلاً باجے وغیرہ۔

(7)بچوں کو ایسے کاموں کی بھی ہر گز اجازت مت دیجئے جن سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ جیسے موٹر سائیکل سے سائلنسر نکالنا۔

اللہ پاک ہمارے حالوں پر رحم فرمائے، ہمیں اپنے وطن کی قدر کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارے وطن کو صبحِ قیامت تک سلامت رکھے اور اسے اسلام کا قلعہ بنائے۔

اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)


جب  تک انسان صحت مند رہتا ہے یا اس کے پاس طرح طرح کی نعمتیں ہوتی ہیں تو کیا اپنے اور کیا غیر سبھی اس کے گن گاتے اور اس کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں، لیکن جیسے ہی اس پر کوئی مصیبت و آزمائش آ جاتی ہے یا وہ کسی موذی مرض کا شکار ہوتا ہے تو وہی لوگ اسے بے یار و مدد گار چھوڑ کر کسی بھولی بِسری چیز کی طرح بھلا دیتے ہیں، حتی کہ وہ بیوی جس کی ہر فرمائش اس نے پوری کی تھی اور اس کے ناز نخرے برداشت کئے تھے، وہ بھی اپنا ساز و سامان اُٹھا کر ہمیشہ کے لئے اسے داغِ مفارقت دے جاتی ہے۔ لیکن قربان جائیے! حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ پر! جو تاریخ ِ انسانی کی وہ عظیم ترین خاتون ہیں جنہوں نے وفا شعاری کی اعلیٰ مثال قائم کی، یوں کہ مال و اولاد کی محرومی پر صبر کیا، شوہر پر آنے والی مصیبتوں کو بڑے صبر اور ہمت و حوصلے سے برداشت کیا، مصیبت کی اس گھڑی میں انہیں تنہا چھوڑنے کے بجائے 18 سال کا طویل عرصہ ان کا ساتھ نبھایا اور ہر دکھ درد میں اپنے شوہر کے شانہ بشانہ رہیں، جس کے صلے میں ربِّ کریم نے انہیں اپنی نعمتوں اور خاص رحمت سے سرفراز فرمایا۔

مختصر تعارف: اللہ پاک کے صابر و شاکر پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے نام میں مورخین و مفسرین کا اختلاف ہے، البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ آپ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی تھیں ([1])جو شکل و صورت میں حضرت یوسف علیہ السلام سے بہت زیادہ مشابہ تھیں۔(2)

اِزدواجی زندگی:حضرت ایوب علیہ السلام نے 30 سال کی عمر میں آپ سے شادی فرمائی۔(3)اللہ پاک نے آپ کو 7 بیٹوں اور7 بیٹیوں سے نوازا تھا جو حضرت ایوب علیہ السلام پر آنے والی آزمائش کے دوران وفات پاگئے تھے،جب ان کی آزمائش ختم ہوئی تو اللہ پاک نے انہیں دوبارہ اتنے ہی بیٹے اور بیٹیاں عطا فرمائیں(یعنی آپ کو ٹوٹل 28 بیٹے بیٹیاں عطا ہوئے تھے۔)(4)

اوصاف:آپ حضرت ایوب علیہ السلام کو پہنچنے والی آزمائش میں ان کے ساتھ صبر و شکر کے ساتھ رہیں، ان کے لئے کھانا تیار کرتیں اور ربِّ کریم کی حمد و ثنا بجا لاتی تھیں۔(5)نیز آپ نہایت عبادت گزار خاتون تھیں۔(6)

فضلِ خداوندی: حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: حضرت ایوب علیہ السّلام کی بیماری کے بعد ربِّ کریم نے آپ کی بیوی صاحبہ رحمت کو جوانی و صحت بخشی، اولاد بہت عطا کی، مال اندازے سے بھی زیادہ عطا فرمایا۔(7)

شرعی مسئلے کا ثبوت: مفسرینِ کرام فرماتے ہیں:بیماری کے زمانے میں حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ ایک بار کہیں کام سے گئیں تو دیر سے خدمت میں حاضر ہوئیں، چونکہ آپ تکلیف و کمزوری کی وجہ سے بہت سے کام خود نہ کر پاتے تھے اور زوجہ ہی مدد گار تھیں تو زوجہ کی غیر موجودگی میں غالباً سخت آزمائش کا معاملہ آیا جس سے بے قرار ہو کر آپ نے قسم کھائی کہ میں تندرست ہو کر تمہیں سو کوڑے ماروں گا۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام صحت یاب ہوئے تو اللہ پاک نے حکم دیا کہ آپ انہیں جھاڑو مار دیں اور اپنی قسم نہ توڑیں، لہٰذا انہوں نے سو تیلیوں والا ایک جھاڑو لے کر اپنی زوجہ کو ایک ہی بار مار دیا۔(8)اس کا ذکر قرآنِ کریم میں یوں ہوا ہے: وَ خُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ(پ23،صٓ:44)ترجمہ:اور(فرمایا)اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ جبکہ ایک روایت میں حضرت سعید بن مسیّب رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی بیوی کو سو چھڑی مارنے کی قسم کھائی کہ بیوی محنت سے روٹی مہیا کرتی تھیں، ایک روز اس نے زائد روٹی آپ کی خدمت میں پیش کی جس پر آپ کو خطرہ محسوس ہوا کہ ہو سکتا ہے یہ زائد خوراک کسی کے مال میں خیانت کر کے لائی ہیں، تو جب اﷲ پاک کی طرف سے آپ پر خاص رحمت کے ذریعے تکلیف کی شدت ختم ہوئی اور بیوی کے متعلق جو آپ کو شبہ تھا اس کی برأت معلوم ہوئی تو اﷲ پاک نے فرمایا: آپ ایک مُٹّھا(گُچھا) لے کر اپنے ہاتھ سے اس کو مار دیں اور قسم نہ توڑیں۔ (پ23،صٓ:44)تو آپ نے شاخوں کا ایک مُٹّھا (گُچھا)جو سو چھڑیوں کا مجموعہ تھا، لے کر اللہ پاک کے حکم کے مطابق بیوی کو مارا۔ (9)

اس واقعے سے علمائے کرام نے حیلہ شرعی کا جواز ثابت کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ جو حیلہ کسی کا حق مارنے یا اس میں شبہ پیدا کرنے یا باطل سے فریب دینے کے لئے کیا جائے وہ مکروہ ہے اور جو حیلہ اس لئے کیا جائے کہ آدمی حرام سے بچ جائے يا حلال کو حاصل کر لے وہ اچھا ہے۔ اس قسم کے حیلوں کے جائز ہونے کی دلیل مذکورہ واقعہ ہی ہے۔ (10)

حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ پر رحمت اورتخفیف کا سبب: مفسرِ قرآن ابو سعود محمد آفندی رحمۃُ اللہِ علیہ کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ پر اس رحمت اورتخفیف کا سبب یہ ہے کہ بیماری کے زمانے میں انہوں نے اپنے شوہر کی بہت اچھی طرح خدمت کی اور آپ کے شوہر آپ سے راضی ہوئے تو اس کی برکت سے اللہ کریم نے آپ پر یہ آسانی فرمائی۔(11)

وصال: آپ حضرت ایوب علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ میں ہی انتقال کر گئی تھیں، جبکہ ایک قول کے مطابق آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے وصال کے بعد کچھ عرصہ حیات رہیں اور بعدِ وصال ملکِ شام میں آپ کو دفن کیا گیا۔(12)

زوجۂ ایوب کی سیرت سے حاصل ہونے والے نکات:

· اللہ پاک کی نیک بندیاں مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبراتی نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں۔

· اپنے کسی عمل سے بے صبری کا اظہار نہیں کرتیں۔

· لمبا عرصہ آزمائش میں گھرے رہنے کے باوجود بھی ان کی زبانیں شکوہ شکایات کی آلودگی سے آلودہ نہیں ہوتیں۔

· یہ خوش حالی اور آزمائش ہر حال میں اپنے رب کی رضا پر راضی رہتیں اور صبر و شکر کا دامن نہیں چھوڑتیں۔

· ان کے شوہر کیسی ہی سخت ترین بیماری میں مبتلا ہو جائیں، ان کا اللہ پاک کی ذات پر بھروسا کمزور نہیں ہوتا۔

· وہ شوہر کی خدمت گزاری میں کمی بھی نہیں آنے دیتیں بلکہ اپنے اس عظیم محسن کا مضبوط سہارا بن کر آخری دم تک ان کا ساتھ نبھاتی ہیں۔

· اللہ پاک شوہر کی اطاعت و خدمت گزار بیوی سے راضی ہو کر اسے دنیا کے اندر ہی بے پناہ نعمتوں اور خاص فضل و کرم سے نوازتا ہے۔

اللہ کریم تمام عورتوں خصوصاً شادی شدہ خواتین کو ان پاکیزہ ہستیوں کا صدقہ نصیب فرمائے۔

اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)


[1] عجائب القرآن مع غرائب القرآن،ص181 2 نہایۃ الارب،13/135 3 نہایۃ الارب،13/135 4 تفسیر قرطبی،6/188 5 تفسیر کبیر،8/ 173 6 نہایۃ الارب،13/135 7 مراۃ المناجیح،7/575 8 تفسیر بیضاوی،5/49 9 تفسیر در منثور،7/195 0 فتاویٰ ہندیۃ،6/390 A تفسیرابو سعود،4/444ملخصاً B الروضۃ الفیحاء،ص71


راہِ خدا میں خرچ

Thu, 18 Aug , 2022
2 years ago

ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے تو آپ نے اسی دن وہ سب قریبی رشتے داروں اور فقیروں میں تقسیم فرما دئیے۔ یہاں تک کہ شام کے کھانے کے لئے بھی کچھ نہ بچایا حالانکہ اس دن آپ خود روزے سے تھیں۔ جب خادمہ نے عرض کی کہ اگر ایک درہم ہی بچا لیتیں تو اچھا ہوتا! تو اس کی دل جوئی کے لئے ارشاد فرمایا: یاد نہیں رہا، اگر یاد آ جاتا تو بچا لیتی۔([1])

راہِ خدا میں خرچ کرنا چونکہ دنیا و آخرت میں نجات اور برکات کا ذریعہ ہے، لہٰذا ہماری بزرگ خواتین کا معمول تھا کہ راہِ خدا میں خوش دلی سے خرچ کر کے اللہ پاک کی خوب رضا حاصل کرتیں۔ جیسا کہ مذکورہ واقعے سے معلوم ہو رہا ہے کہ ہماری بزرگ خواتین راہِ خدا میں مال خرچ کرتیں تو اپنے ذاتی اخراجات کی بھی فکر نہ کرتیں کیونکہ ان کا اللہ پاک پر یقین کامل تھا، نیز وہ توکل کے اعلیٰ مرتبے پر ہی فائز نہ تھیں بلکہ وہ بخوبی جانتی تھیں کہ راہِ خدا میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے: صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔(2)

اس حوالے سے ہمارا جذبہ اگرچہ بزرگ خواتین جیسا تو نہیں مگر ہم کم از کم اتنا تو کر سکتی ہیں کہ جتنی استطاعت ہو اس کے مطابق ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے کی عادت بنا لیں۔ الحمد للہ! دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں ایسی بہت سی خوش نصیب اسلامی بہنیں ہیں کہ جب ان سے راہِ خدا میں خرچ کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے زیورات تک دے دیئے، بعضوں نے اپنی برسوں کی جمع پونجی راہِ خدا میں دے دی، اللہ پاک انہیں اس کی جزا ضرور عطا فرمائے گا یہ اس کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ0(پ22،السبا:39)ترجمۂ کنز العرفان: تم فرماؤ: اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

ایک روایت میں ہے: روزانہ دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک دعا مانگتا ہے: یا اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما دے۔ جبکہ دوسرا یوں عرض کرتا ہے: بخل کرنے والے کو برباد کر دے۔(3) نیز خرچ کی قدرت ہونے کے باوجود صدقہ و خیرات سے ہاتھ روک لینا ربِ کریم کی طرف سے ملنے والی نعمتوں سے محرومی کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نے مجھ سے فرمایا: خرچ کرنے کے معاملے میں ہاتھ نہ روکو ورنہ تم سے بھی روک لیا جائے گا۔(4) اس لئے ہمیں چاہئے کہ خوش دلی کے ساتھ حسبِ توفیق راہِ خدا میں مال خرچ کرتی رہیں اور اگر زیادہ مقدار میں خرچ کرنے کی استطاعت نہ ہو تب بھی شیطان کے بہکاوے میں آکر تھوڑے مال کو کم سمجھتے ہوئے راہِ خدا میں خرچ کرنے سے محروم نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ پاک ہماری نیتوں کو ملاحظہ فرماتا ہے، اس لئے کہ کسی کی اچھی نیت کی وجہ سے اس کا تھوڑا مال ہی بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو جاتا ہے اور کسی کی بری نیت کی بنا پر اس کے لاکھوں روپے بھی قبول نہیں ہو پاتے۔ جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقع پر ایک صحابی کو دن بھر کی مزدوری میں دو صاع کھجوریں ملیں، انہوں نے نصف گھر والوں کو دیں اور باقی نصف کھجوریں لے کر جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور نے اپنے اس جاں نثار صحابی کے خلوص کو قبول کرتے ہوئے ان کی لائی ہوئی کھجوروں کو تمام مالوں کے ڈھیر کے اوپر رکھ دیا۔(5)مگر اس شخص کا مال حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اللہ پاک کے حکم پر قبول نہ فرمایا کہ جس نے اپنے کثیر مال میں صدقہ و زکوٰۃ کی ادائیگی کو ٹیکس گمان کیا۔ حالانکہ وہ انتہائی مفلس تھا اور اسے یہ سارا مال حضور کی دعا کی برکت سے ہی حاصل ہوا تھا۔ پھر بعد میں وہ شخص خلافتِ صدیقی و فاروقی میں بھی مال لے کر آیا مگر ان دونوں ہستیوں میں سے بھی کسی نے قبول نہ کیا اور آخر کار یہ شخص خلافتِ عثمانی میں ہلاک ہو گیا۔ (6)

یہ بھی یاد رکھئے کہ غریبوں کی مدد کرنا اگرچہ راہِ خدا میں خرچ کرنا ہی ہے تاہم پیشہ ور بھکاریوں پر خرچ کرنا اس میں داخل نہیں، ایسے لوگوں پر اپنا مال خرچ کرنا در حقیقت ان سے ہمدردی نہیں بلکہ بھیک مانگنے کے گناہ پر ان کی مدد ہے، لہٰذا ایسے بھکاریوں کے بجائے ان مستحق سفید پوش افراد پر اپنا مال خرچ کیجئے جو خود داری کے سبب کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور مستحقین کو جھڑکا بھی نہ جائے کہ اس کی اسلام میں سخت ممانعت ہے، اگر آپ کے رشتے داروں میں کوئی ضرورت مند ہیں تو پہلے ان کی معاونت کیجئے کہ حضور صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! اﷲ پاک اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا، جس کے رشتے دار اس کے سلوک کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے، قسم ہے اس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا۔(7) رشتے داروں میں بھی زیادہ افضل اس رشتے دار پر خرچ کرنا ہے جس سے ناراضی ہو کہ عموماً اسے دینے کا دل نہیں کرتا پھر بھی فقط رضائے الٰہی کیلئے دیں تو ان شاء اللہ اس پر زیادہ اجر ملے گا۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کینہ پرور رشتے دار کو دیا جائے کیونکہ اسے صدقہ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔(8)

ہمیں خوب غور کر لینا چاہیے کہ ہمارا مال کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ کہیں فضول اور بے مصرف کاموں میں تو نہیں ضائع ہو رہا؟ کیونکہ ہم میں کئی خواتین ضرورت سے زیادہ کپڑے، برتن اور گھر کے غیر ضروری سامان میں پانی کی طرح پیسہ بہاتی ہیں جو کہ کمائی کرنے والے پر بھی بہت بوجھ بنتا ہے اور مالی حوالے سے بھی تنگی اور پریشانی کا سامنا رہتا ہے اور بسا اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک جا پہنچتی ہے، نیز گھر میں اتنی وسعت بھی نہیں ہوتی کہ اتنا سامان رکھا جائے۔

اسی طرح اگر بعض خواتین میں کبھی صدقہ کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا بھی ہے تو بعض اوقات وہ کسی ایسی خاتون یا فقیر کو دیدیتی ہیں جو مستحق ہی نہیں ہوتا یا پھر ایسے افراد پر خرچ کرتی ہیں جو بعد میں بھی اسی آسرے پر رہتے ہیں کہ کوئی انہیں کچھ دیدے اور یوں ان میں سوال کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے، چنانچہ یاد رکھئے! خرچ کرنے کے بھی آداب ہیں کہ کس پر خرچ کیا جائے اور کس پر نہیں۔ مثلاً قرآنِ کریم میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور محتاجوں پر خرچ کریں۔(پ2، البقرۃ: 215)

اللہ پاک ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کےاگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)



[1]تفسیر کبیر،8/257 2مسلم، ص 1397، حديث:2588 3 بخاری،1/485،حدیث:1442 4 بخاری،1/483،حدیث:1433 5تفسیر خازن،2/ 265 6تفسیرمدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: 75، ص 446، ملتقطاً 7معجم اوسط، 6/296، حدیث: 8828 8مستدرک، 2/ 27، حدیث: 1515


اچار (قسط اول)

Thu, 18 Aug , 2022
2 years ago

تندرست و توانا رہنے کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھی غذا وہ ہے جو متوازن ہو اور متوازن غذا وہ ہوتی ہے جس میں وہ تمام بنیادی اجزا مناسب مقدار میں موجود ہوں جن سے جسم کو حرارت اور طاقت ملتی ہے۔ کیونکہ یہ غذائی اجزا انسانی جسم کو طاقت و توانائی پہنچانے کے علاوہ جسم کو صحت مند رکھتے اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں۔ کوئی بھی غذا جو انسانی جسم کے لیے مفید اور فعال کردار ادا کرتی ہے بسا اوقات وہ دو یا دو سے زیادہ غذائی اجزا کا مجموعہ یا مرکب ہوتی ہے۔ غذا کے بارے میں ہمارا اصول یہ ہونا چاہیے کہ ہم کھانے کے لیے زندہ نہ رہیں بلکہ زندہ رہنے کے لیے کھائیں اور ایسی غذائیں کھائیں جو غذائیت سے بھر پور ہوں۔ اچار کا شمار بھی انہی غذاؤں میں ہوتا ہے جن کا اہتمام زمانہ قدیم سے دنیا کے مختلف حصوں میں کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں اچار بنانے کا رواج گھروں میں عام تھا، خواتین گھروں میں مختلف مصالحوں اور سبزیوں وغیرہ کا اچار بنایا کرتی تھیں، لیکن جب سے ٹیکنالوجی عام ہوئی ہے، اب مارکیٹ میں وافر مقدار میں مختلف اقسام کے اچار فروخت ہونے کی وجہ سے گھروں میں اچار بنانا کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔

اچار کی مختلف اقسام: پہلے زمانے میں زیادہ تر آم کا اچار بنایا جاتا تھا،لیکن اب کئی قسم کی سبزیوں اور پھلوں کا اچار بھی تیار کیا جاتا ہے۔ مثلاً آم کا اچار، گاجر کا اچار، ہری مرچ کا اچار، لیموں کا اچار، کریلے کا اچار،لسوڑے کا اچار، فالسے کا اچار، لہسن کا اچار، ادرک کا اچار، کدو کا اچار، آملے کا اچار، کیری کا اچار، بند گوبھی کا اچار، زیتون کا اچار اور مختلف سبزیوں اور پھلوں کا مکس اچار وغیرہ، حتی کہ آج کل چکن کا اچار بھی تیار ہو رہا ہے۔

اچار میں استعمال ہونے والے چند اہم اجزا کے فوائد: اچار عموماً سرکہ یا سرسوں کے تیل میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں کئی مصالحہ جات مثلاً کلونجی، لال مرچ، سونف، میتھی دانہ، رائی دانہ، اجوائن، ہلدی اور نمک استعمال کیے جاتے ہیں۔ ذیل میں ان اجزا کے فوائد کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

سرکہ کے فوائد: سرکہ میں پروٹین اور نشاستہ (Starch)کی تھوڑی مقدار پائی جاتی ہے۔100گرام سرکہ میں صرف 16 کیلوریز ہوتی ہیں، اس کے علاوہ اس میں سوڈیم، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، آئرن، زنک اور کلورین بھی پائی جاتی ہے۔ سرکہ کی اہمیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ایک روایت میں حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سرکے کو بہترین سالن قرار دیا۔([1])

٭سرکہ ہاضمہ میں مفید ہے۔ ٭سرکہ ایسیڈک ایسڈ سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم میں ہیمو گلوبن کو بڑھاتا ہے۔٭سرکہ جراثیم کش ہوتا ہے۔٭سرکے کو گرم کر کے اس سے کُلّی کرنے کے نتیجے میں دانتوں کا درد ختم اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔نیز یہ منہ کی صفائی کے علاوہ سانس کی بو کو بھی ختم کرتا ہے۔٭غذائی ماہرین کے مطابق گوشت خور افراد کے لیے سرکے کا استعمال نہایت ضروری ہے، یہ گوشت کھانے کے نتیجے میں خون میں بڑھنے والے کولیسٹرول کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔٭ سرکہ دل کی تمام بیماریوں کیلئے بھی نہایت مفید ہے۔٭غذائی ماہرین کے مطابق سرکہ کینسر کے لیے انسانی مدافعتی نظام میں مزاحمتی خلیات کی افزائش کرتا ہے، تحقیق کے مطابق سرکہ کینسر کے سیلز کو بھی ختم کرتا ہے۔

سرسوں کے تیل کے فوائد: ایک تحقیق کے مطابق سرسوں کا تیل دل کی صحت کے لیے مفید ہے، اس میں موجود مونو سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز جسم میں موجود نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتے ہیں جبکہ خون میں چربی کی سطح مستحکم رکھ کر اس کی گردش میں مدد دیتے ہیں۔ سرسوں کا تیل بیکٹریا کش، فنگل کش اور وائرس کو دور رکھنے کی خصوصیات رکھتا ہے، اس کا استعمال موسمی انفیکشن سمیت نظام ہاضمہ کے انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔

کلونجی کے فوائد: حدیث پاک میں ہے: کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے۔([2]) قدیم اطبا کلونجی اور اس کے بیج معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری اور فالج کے لیے استعمال کرتے تھے۔اس کے علاوہ کلونجی مختلف امراض مثلاً دمہ،کھانسی،الرجی، ذیابیطس (شوگر)وغیرہ میں مفید ہے۔کلونجی کو سرکے کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔

اجوائن کے فوائد: اجوائن مصالحہ نہ صرف بدہضمی، گیس اور ہاضمہ کے مسائل کم کرتا ہے بلکہ خون میں موجود چربی کی مقدار بھی کم کرتا ہے، پیچش اور امراضِ رحم میں مفید ہے، پیٹ کے کیڑوں کو ختم کرتی ہے، رگوں کے سدے کھولتی، ورموں کو تحلیل کرتی اور پیشاب و حیض کو جاری کرتی ہے۔

میتھی دانہ کے فوائد: میتھی دانے کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہے، کیونکہ اس میں بہت سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ میتھی دانہ میں جو غذائی اجزا یا وٹامنز پائے جاتے ہیں ان میں فائبر، پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، آئرن اور میگنیشیم شامل ہے۔ میتھی دانے کا استعمال خواتین کے لئے کئی اعتبار سے مفید ہے، مثلاً میتھی دانہ ماں کے دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرتا اور ہر قسم کے درد بالخصوص ماہواری کے درد سے نجات دلاتا ہے۔ میتھی دانہ میں ورم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں جو مؤثر طریقے سے جسمانی ورم میں کمی لاتی ہیں۔ میتھی دانہ کے استعمال سے آنتوں کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہاضمہ کے مسائل میں کمی آتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ دل کی جلن کو دور کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔

سونف کے فوائد: سونف میں وٹامن اے اور سی بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے جس کے سبب اس کا استعمال بینائی کی حفاظت کرتا ہے، سونف پیٹ کے درد، قولنج (پسلی کے نیچے ہونے والے درد)، سینہ، جگر، گردہ اور تلی کے لئے مفید ہے، دماغ کی کمزوری اور ہاضمہ کی خرابی دور کرنے کیلئے بہترین دوا ہے، نیز یہ پیشاب اور حیض کو بھی جاری کرتی ہے۔

رائی دانہ کے فوائد: رائی کے بیج صحت کیلئے بہت مفید ہیں۔ ان میںglucosinolate پایا جاتا ہے جو رائی کو امتیازی ذائقہ دیتا ہے۔ طبّی تحقیقات کے مطابق رائی دانہ میں موجود مرکبات انسانی جسم بالخصوص قولون (بڑی آنت) میں سرطانی خلیوں کو روک سکتے ہیں۔ رائی کے بیج فیٹی ایسڈز اومیگا-3، مینگنیز، وٹامنB1، کیلشیم، پروٹین، زِنک اور ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی معروف ہے کہ رائی کے بیج کم حرارے رکھتے ہیں۔ رائی کے بیج کا ایک چمچ صرف 32 حراروں اور 1.8 گرام کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔ رائی دانے میں موجود سیلینیوم دمے کے حملوں اور جوڑوں کے درد کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔ رائی دانے کیلشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہونے کے پیشِ نظر عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کو ہڈیوں سے متعلق مسائل سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ آدھے سر کے درد کی شدت میں بھی کمی کرتا ہے۔ (جاری ہے)


(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)



[1] مسلم،ص873،حدیث:5354

[2] بخاری، 4/19، حدیث:5687


رسم بسم اللہ

Thu, 18 Aug , 2022
2 years ago

رسم بسم اللہ یا بسم اللہ خوانی سے مراد یہ ہے کہ جب بچہ یا بچی چار سال چار مہینے چار دن کا ہو جائے تو اس کو کسی اچھے عالم دین یا حافظ قرآن کے پاس لے جا کر یا گھر میں بلا کر سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھائی جائے۔

اس رسم کا اہتمام کئی مسلمان گھرانوں میں کیا جاتا ہے، اعلیٰ حضرت سے پوچھا گیا کہ حضور تقریب بسم اللہ کی کوئی عمر شرعاً مقرر ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا: شرعاً کچھ مقرر نہیں، ہاں مشائخ کرام کے یہاں 4 برس 4 ماہ 4 دن مقرر ہیں۔ پھر آپ نے حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃُ اللہِ علیہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کی تقریب بسم اللہ اسی عمر میں ہوئی، جس میں حضرت خواجہ غریب نواز بھی شریک تھے۔([1]) اسی طرح اَمِیْرِ اَہْلِ سنّت سے بھی ثابت ہے کہ جب آپ کی پوتی بنت حاجی بلال کی عمر 22 جولائی 2016 کو 4سال 4 ماہ اور 4 دن ہوئی تو تقریب بسم اللہ میں آپ نے اسے یہ الفاظ پڑھائے:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، مَا شَاءَ اللہ، سُبْحٰنَ اللہ ۔ پھر یہ دعابھی کی:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن

یا اللہ! پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا واسطہ! تیرے اس اسمِ پاک کا واسطہ! اسم ِ ذات کا واسطہ! ہم سب کی مغفرت فرما۔میری مدنی منّی قرآن کریم سے محبت کرنے والی، علمِ دین سے محبت کرنے والی بنے، دعوت اسلامی کی باعمل مبلغہ بنے، عالمہ بنے، مفتیہ بنے۔(2)

بسم اللہ خوانی کے موقع پر جائز و ناجائز باتیں:جس بچے کی رسمِ بسم اللہ ہوتی ہے اس کے ماں باپ اس دن تقریب کا خاص اہتمام کرتے ہیں٭گھر کو سجاتے ہیں٭طرح طرح کے کھانے پکواتے ہیں٭قاری صاحب کو بلاتے ہیں یا ان کے پاس مدرسے یا مسجد وغیرہ میں بچے کو لے جاتے ہیں ٭قاری صاحب بچے کو بسم اللہ شریف کے علاوہ مختلف دعائیں، سورۂ علق کی ابتدائی 5 آیات اور کلمہ شریف وغیرہ بھی پڑھاتے ہیں ٭بعض جگہ یہ رسم کسی بڑی عمر کے بزرگ سے کروائی جاتی ہے٭پھر بلائے گئے مہمان بچے کو پیسے اور مبارک باد دیتے ہیں ٭مٹھائی تقسیم ہوتی ہے ٭قاری صاحب کو بھی تحائف وغیرہ پیش کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ اہل خانہ اپنی خوشی اور مرضی سے کریں تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن یاد رہے اس طریقہ کار کو لازم نہ سمجھ لیا جائے یعنی جو اتنا بڑا اہتمام نہ کر سکے، اس کو ملامت اور لعن طعن نہ کی جائے، ورنہ ایسا کرنے والا شخص گناہ گار ہو گا۔ نیز یہ رسم صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نہ کی جائے کہ فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے: جو شہرت کے لئے عمل کرے گا اللہ پاک اسے رسوا کرے گا، جو دکھاوے کے لئے عمل کرے گا اللہ پاک اسے عذاب دے گا۔(3) لہٰذا چاہئے کہ یہ کام اللہ پاک کی رضا کیلئے کریں نا کہ نمود و نمائش کیلئے اور اس موقع پر عورتیں شریک ہوں تو پردے کا خاص خیال رکھا جائے اور کسی قسم کی کوئی خرافات بھی نہ کی جائے۔نیز بہتر یہ ہے کہ رسم بسم اللہ کسی باعمل سنی عالم دین یا مفتی صاحب سے کروائیں۔


(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)



[1] ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص 481 2 ماہنامہ فیضان مدینہ، جنوری، ص 481 3 جامع الاحادیث، 7/44، حدیث:20740


سنجیدگی

Thu, 18 Aug , 2022
2 years ago

سنجید گی کیا ہے ؟ وہ تمام کام جو ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں، انہیں وقار اور اچھے طریقے سے ادا کیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں نے یہ کام بڑی سنجیدگی سے کیا ہے۔ سنجیدگی اگرچہ اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتی ہے، مگر ہم نے اسے محض گفتگو کی حد تک محدود کر دیا ہے، یعنی کم گو ہونا، فضول نہ بولنا، قہقہہ نہ لگانا، کسی کا دل نہ دکھانا، بات بات پر مذاق نہ اڑانا وغیرہ امور کو ہی سنجیدگی سمجھتی ہیں۔ چنانچہ اسی حوالے سے اَمِیْرِ اَہْلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ سے ایک مدنی مذاکرے میں جب یہ پوچھا گیا کہ بعض لوگ اپنے چہرے پر ہر وقت اداسی طاری کئے رکھتے ہیں کیا اسی کا نام سنجیدگی ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہر وقت چہرے پر اداسی طاری کئے رکھنے کو سنجیدگی نہیں کہتے بلکہ خشکی کہتے ہیں۔([i]) اسی طرح مذاق مسخری کرنا، گناہوں بھری باتیں کرنا، لوگوں کا تمسخر اڑا نا اور بات بات پر قہقہہ لگا نا بھی سنجیدگی نہیں۔ بلکہ اگر آپ کسی ایسے ماحول کا حصہ ہیں تو یاد رکھئے کہ ایسے ماحول میں رہنے سے کئی گناہوں میں مبتلا ہونے کا شدید خدشہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو خواتین سنجیدگی اختیار نہیں کرتیں ان کی باتوں میں بھی تاثیر نہیں رہتی، خواہ وہ دین کی مبلغہ ہی کیوں نہ ہوں۔ جبکہ سنجیدہ گفتگو کرنے والی اور مذاق مسخری سے بچنے والی خواتین کی باتیں توجہ سے سنی جاتی ہیں اور ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئے کہ حکمت عملی کے ساتھ اپنے معمولات کو پورا کریں اور جہاں سنجیدگی کو اپنانا ضروری ہو وہاں سنجیدہ رہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حصولِ علم کیلئے وقار اور سنجیدگی اختیار کرو۔(2) لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارے روئیے اور انداز میں میانہ روی ہو یعنی ہنسی مذاق والا مزاج ہو نہ غصیلا انداز، بلکہ ہمیں تو اپنی زندگی کے ہر معاملے میں ہی میانہ روی اختیار کرنی چاہیے کہ اس کے بے شمار فوائد ہیں اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیرت کو اپنا لیں کیونکہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خوبصورت زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے بے مثال نمونہ ہے، آپ سنجیدگی اور وقار کا پیکر تھے، موقع کے لحاظ سے مسکراتے بھی تھے اور مزاح بھی فرماتے تھے مگر آپ نے کبھی بھی قہقہہ نہیں لگایا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ آقا کریم صلی الله علیہ والہ وسلم نے سب کے ساتھ ہنسی مذاق کیا ہو، آپ عام لوگوں کی طرح دوسروں سے نا شائستہ ہنسی مذاق نہیں فرماتے تھے۔ آپ کے صحابہ کرام بھی زور سے نہیں ہنستے تھے بلکہ آپ کی طرح مسکراتے تھے، وہ آپ کی مجلس میں ایسی سنجیدگی اور وقار سے بیٹھتے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔(3) اسی طرح حضرت اُمِّ درداء رضی اللہُ عنہا اپنے شوہر حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ کے متعلق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مسکرا کر کیا کرتے تھے، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا: میں نے حضور کو دیکھا ہے کہ آپ دورانِ گفتگو مسکرا تے رہتے تھے۔(4)نیز حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے اس طرح کے مضامین بھی ملتے ہیں کہ آپ تمام لوگوں سے زیادہ تبسم فرمانے والے اور سب سے زیادہ خوش رہنے والے تھے، البتہ! جس وقت آپ پر وحی نازل ہو رہی ہوتی(5) یا قیامت کا تذکرہ ہو رہا ہوتا (6) یا وعظ و نصیحت سے بھرپور خطبہ ہو رہا ہوتا تو یہ کیفیت نہ ہوتی۔(7)

ہمیں چاہیے کہ ان احادیثِ کریمہ کی روشنی میں اپنے معمولات کاجائزہ لیں اور اپنی زندگی کو سنجیدگی کے زیور سے آراستہ کریں، ہر کام موقع کی مناسبت سے کریں اور مسکرانے کے وقت مسکرائیں، مگر ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہوں نہ روکھے پن کا مظاہرہ کریں، ورنہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے رشتے دار اور سہیلیاں بھی ہماری مسکراہٹ دیکھنے کو ترس جائیں۔ یاد رکھئے! غیر ضروری سنجیدگی ہمارے گھر کے افراد کو ہی اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرے گی بلکہ ہم سے ملنے جلنے والی خواتین بھی ہمارے قریب آنا پسند نہ کریں گی، بالخصوص شادی شدہ خواتین ایسا رویہ نہ اپنائیں کہ اس سے بد مزاجی پیدا ہو گی اور ان سے یہ باتیں بھی صادر ہو سکتی ہیں: بات بات پر چیخ و پکار سے کام لینا، چھوٹی سی غلطی پر بلا وجہ غصے اور جذباتی پن کا مظاہرہ کرنا، شوہر سے روکھے پن سے پیش آنا، ہر وقت چہرہ سپاٹ و سنجیدہ رکھنا، سیدھے منہ بات نہ کرنا، خوشی یا رنْج کے موقع پر بھی چہرہ بے تأثّر رکھنا کہ خوشی یا غم کا اظہار ہی نہ ہو، یونہی گھر کے دیگر معاملات سے لاتعلقی برتنا یا بچوں سے بے رخی سے پیش آنا۔ یاد رکھئے! ان میں سے کوئی بھی بات درست نہیں، اس سے گھر کے ماحول بھی خراب ہوتا، میاں بیوی کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا اور بچّوں سے ہم آہنگی ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا خشک مزاجی سے جہاں تک ممکن ہو ہمیں بچنا چاہئے اور مسکراہٹ، ملنساری اور خندہ پیشانی کی عادات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہو سکے تو کبھی کبھار موقع کی مناسبت سے خوش طبعی سے بھی کام لینا چاہئے۔ اگر ہم ان اوصافِ کریمہ کو اپنا لیں گی تو ان شاء اللہ ہماری زندگی سے بھی مشکلات کم ہوں گی اور آسانیاں پیدا ہوں گی۔

سنجیدگی کے فوائد و برکات:٭ سنجیدگی اللہ پاک کی رضا کا باعث ہے۔٭سنجیدگی سے بزرگی و دنیا کی بے شمار برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔٭وقار اور عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٭ گھر میں دینی ماحول بنانے اور نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لیے سنجیدگی بھرا رویہ بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ٭سنجیدگی اختیار کرنے سے آخرت بھی اچھی ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو یعقوب بن حسین رازی رحمۃُ اللہِ علیہ کوکسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا: الله پاک نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہنے لگے: اللہ پاک نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا گیا: کس وجہ سے؟ فرمایا: میں سنجیدہ بات میں مذاق شامل نہ کرتا تھا۔(8)

٭ منقول ہے: سنجیدگی اور وقار سے اچھا کوئی ہار نہیں، اللہ پاک جس کے فہم و فراست میں اضافہ فرماتا ہے اس کی ہدایت میں بھی اضافہ فرما دیتاہے۔(9)

سنجیدگی نہ اپنانےکے نقصانات: ٭غیر سنجیدہ خواتین کو پسند نہیں کیا جاتا٭ان کے متعلق رائے بھی اچھی نہیں رکھی جاتی ٭ ان سے مدد لی جاتی ہے نہ کی جاتی ہے ٭ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھی جاتی ہے ٭ بسا اوقات ذلت و رسوائی کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہِ علیہ کا فرمان ہے کہ آپس میں ٹھٹھا مذاق مت کیا کرو کیونکہ اس طرح ہنسی ہنسی میں دلوں میں نفرت بیٹھ جاتی ہے اور برے افعال کی بنیاد دلوں میں اُستوار ہو جاتی ہے۔(10)

اللہ پاک ہمیں سنجیدگی اور وقار کو اپنا کر اپنی زندگی اچھے انداز میں گزارنے کی توفیق عطافرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)



[i]مدنی مذاکرہ قسط 28: حافظہ کمزور ہونے کی وجوہات، ص 31 2جامع بیان العلم وفضلہ، ص187، حدیث:599 3وسائل الوصول کتاب جمال مصطفیٰ، ص157 4مکارم الاخلاق للطبرانی، ص319، حدیث: 21 5مکارم الاخلاق للطبرانی، ص319، حدیث: 22 6نسائی،ص 274تا275، حدیث: 1575 7مسلم، ص 430، حدیث 867 8احیاء العلوم مترجم، 5 / 654 9حلیہ، 5/ 160، الرقم: 6625 0کیمیائے سعادت، 2/563


مذاق اڑانا 

Thu, 18 Aug , 2022
2 years ago

دینِ اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کا ہی حکم نہیں دیا بلکہ ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کا بھی حکم دیا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ عمل جس کی وجہ سے کسی کی عزت پر حرف آتا ہو یا معاشرے میں فساد و بگاڑ پیدا ہو اس سے بچنے کی بھی خوب تاکید کی ہے۔ مثلاً ایک طرف راستوں سے گندگی ہٹا دینے کو صدقہ قرار دیا تو دوسری طرف مذاق کے ذریعے کسی مسلمان کی عزت کو پامال کرنے کو حرام و ناجائز اور گناہ قرار دیا۔ لہٰذا یاد رکھئے! تضحیک یعنی مذاق اڑانا چاہے اسلام کا ہو، دینی شعائر کا ہو یا معاذ اللہ انبیائے کرام و اولیا و صلحا کا ہو یا عام بندوں کا، اللہ پاک کو سخت ناراض کرنے والا کام ہے، اس لئے اس کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے اور قرآن کریم میں ایسے واقعات کثرت سے موجود ہیں جن میں یہ بتایا گیا کہ مذاق اڑانےوالی قومیں تباہ کردی گئیں۔

مذاق اڑانے کا مطلب: مذاق اڑانے سے مراد یہ ہے کہ کسی کو حقیر جان کر اس کا حقیقی یا فرضی عیب اس طرح بیان کرنا کہ سننے والے کو ہنسی آئے۔([1]) مذاق اڑانا بلا شبہ بیوقوفوں اور جاہلوں کا شیوہ ہے، کوئی بھی با شعور و عقل مند اس عمل کو پسند کرتا ہے نہ ہمارے دین میں اس کی اجازت ہے۔ جیسا کہ پارہ 26، سورۃ الحجرات کی 11 ویں آیت میں ہے: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ١ۚترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں۔

اس آیت کریمہ کے شانِ نزول کے متعلق دو قول ہیں:

(1)حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضور نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہُ عنہن کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہُ عنہا کو چھوٹے قد کی وجہ سے شرمندہ کیا تھا۔(2)

(2)حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں: آیت کا یہ حصہ اُمُّ المومنین حضرت صفیہ بنتِ حیی رضی اللہُ عنہا کے حق میں اس وقت نازل ہوا جب انہیں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے یہودی کی بیٹی کہا۔(3)

مذاق اڑانے کے مختلف طریقے: کسی کا مذاق اڑانے کے مختلف طریقے ہیں: مثلاً کسی کی رنگت کا مذاق اڑایا جائے۔٭کسی کے وزن کے انتہائی کم یا زیادہ ہونے کا مذاق اڑایا جائے ٭کسی کی غربت و مفلسی کا مذاق اڑایا جائے ٭کسی کی کامیابی یا ناکامی کا مذاق اڑایا جائے٭کسی کو حاصل ہونے والے نفع و نقصان کا مذاق اڑایا جائے ٭کسی میں پائے جانے والے جسمانی عیب کا مذاق اڑایا جائے ٭کسی کی دینداری کا مذاق اڑایا جائے ٭کسی کے تقویٰ کا مذاق اڑایا جائے ٭کسی کے عمدہ اخلاق والا ہونے پر اس کا مذاق اڑایا جائے۔

مذاق کی آفات: ٭فی زمانہ جگت بازی کے نام پر کثیر خواتین بے سوچے سمجھے جو منہ میں آیا کہہ دیتی ہیں اور یہ بھی پروا نہیں کرتیں کہ اس سے کسی کی دل آزاری ہو رہی ہے٭نیز یہ بھی بھول جاتی ہیں کہ ان کا یہ عمل کسی بہت بڑے گناہ کا بھی سبب بن سکتا ہے، یعنی زبان کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے معاذ اللہ کلمات کفر بھی منہ سے نکل سکتے ہیں۔ ٭آج یہ کسی کو اپنے مذاق کا ہدف بنائے ہوئے ہیں تو کل کوئی اور انہیں بھی مذاق کا تختہ مشق بنا سکتا ہے۔

مشہور کہاوت ہے: جو آج کسی پر ہنس رہا ہے کل اس پر بھی ہنسا جا سکتا ہے۔ ٭جنہیں اپنے ایمان کی فکر نہیں ہوتی وہ اپنا وقت مذاق میں صرف کر کے برباد کرتی ہیں ٭جھوٹ کی آمیزش بھی مذاق میں اہم کردار ادا کرتی ہے، یاد رکھئے! جھوٹ بولنے والیاں بھی اللہ پاک کے غضب کو دعوت دیتی ہیں۔٭مذاق کرنے والیاں بعض اوقات اتنے سخت الفاظ استعمال کرتی ہیں کہ جس کا مذاق اڑایا جائے وہ بہت عرصے تک اس صدمے سے نہیں نکل پاتی اور وہ الفاظ اسے رنج پہنچاتے رہتے ہیں اور ادھر دل آزاری کرنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو بس مذاق کیا تھا، افسوس! ہمارے دین نے جس عمل کو نا پسند کیا ہے لوگ اسی سے لطف اٹھاتے ہیں۔

مذاق کے نتائج: یاد رکھئے! بے تکے مذاق والے روئیے کے دنیا و آخرت دونوں میں منفی نتائج نکلتے ہیں۔ مثلاً اس سے جہاں باہمی کدورتیں، رنجشیں، لڑائی جھگڑا، انتقامی سوچ، بدگمانی، حسد اور سازشیں جنم لیتی ہیں، جس سے دنیاوی زندگی بھی بسا اوقات جہنم محسوس ہوتی ہے تو دوسری جانب ایسے روئیے والی خواتین خدا کی رحمت سے محروم ہو کر ظلم کرنے والیوں میں شمار ہوتیں، اپنی نیکیاں گنوا بیٹھتیں اور آخرت کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ اس بری عادت کے نتائج کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے: جس نے کسی مسلمان کو(ناحق)ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔(4) اسی طرح ایک روایت میں ہے: قیامت کے روز لوگوں کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ!آؤ! وہ جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچے گا دروازہ بند ہو جائے گا۔ پھر جنت کا ایک دوسرا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گا کہ ادھر آ جاؤ! وہ رنج و غم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ بھی بند ہو جائے گا۔ اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ جب دروازہ کھلے گا اور اسے بلایا جائے گا تو وہ نہیں جائے گا۔(5)

یہ عادت کس طرح ختم کی جائے؟ اگر کسی اسلامی بہن میں ایسی عادتِ بد موجود ہے تو اسے چاہئے کہ ٭پہلی فرصت میں اللہ پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے اور آئندہ اس مذموم فعل سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے ٭ایسی سہیلیوں سے جان چھڑائے جو اس طرح کی حرکات میں مبتلا ہیں ٭مسلمانوں کا مذاق اڑانے کی اسلام میں جو وعیدیں بیان کی گئی ہیں ان کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے ٭نیک صحبتوں اور اجتماعات میں اپنا زیادہ وقت گزارے٭سنجیدہ اسلامی بہنوں کی زندگی کا بغور جائزہ لے اور ان جیسا بننے کی کوشش کرے، اللہ پاک نے چاہا تو جلد اس مرض سے چھٹکارا مل جائے گا۔

اسلام میں کسی بھی انسان کو حقیر سمجھنے کی اجازت نہیں بلکہ بہترین مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔لیکن اگر کسی کو ایسی آزمائش کا سامنا ہو بھی تو صبر کرے اور جوابی کاروائی کر کے خود بھی اسی گناہ میں شامل نہ ہو جائے۔ البتہ! یاد رہے کہ ایسا مذاق جو کسی کو خوش کرنے کے لئے ہو اور اس میں کوئی غیر مناسب بات بھی نہ ہو، جسے خوش طبعی اور خوش مزاجی کہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ خوش طبعی کرنا سنتِ مستحبہ ہے۔(6) جیساکہ ایک مرتبہ حضور نے حضرت انس کو یا ذَا الاُذْنَیْن یعنی اے دو کانوں والے فرمايا۔ (7)

اللہ پاک ہمیں ہر اس عمل سے بچائے جو دوسروں کی تکلیف کا باعث بنے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


(یہ مضمون ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)



[1] احیا ء العلوم، 3/207 2 تفسیر خازن، 4 / 169 3تفسیر خازن، 4/ 169 4 معجم اوسط، 2 /386، حدیث: 3607 5 موسوعہ ابن ابی دنیا،7/183، حدیث: 287 6 مراٰۃ المناجیح،6 /493 ماخوذاً 7 ترمذی، 3/399، حدیث:1998


حدثنا عمرو بن سواد المصري قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن زيد بن أيمن، عن عبادة بن نسي، عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة؛ فإنه مشهود، تشهده الملائكة، وإن أحدا لن يصلي علي، إلا عرضت علي صلاته، حتى يفرغ منهاقال: قلت: وبعد الموت؟ قال: وبعد الموت، إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء، فنبي الله حي يرزق

سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے:’’اَکْثِرُوا الصَّلَاۃَ عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِنَّہٗ مَشْہُوْدٌ تَشْہَدُہُ الْمَلَائِکَۃُ وَاِنَّ اَحَدًا لَنْ یُّصَلِّیَ عَلَیَّ اِلَّا عُرِضَتْ عَلَیَّ صَلَا تُہُ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْہَا“ ”یعنی جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے دُرُود بھیجا کرو کیونکہ یہ یومِ مشہود (یعنی میری بارگاہ میں فِرِشتوں کی خُصُوصی حاضِری کا دن)ہے، اس دن فِرِشتے (خُصُوصی طور پر کثرت سے میری بارگاہ میں ) حاضِر ہوتے ہیں، جب کوئی شخص مجھ پر دُرُود بھیجتا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک اس کا دُرُود میرے سامنے پیش کردیا جاتا ہے ۔“ حضرتِ سَیِّدُنا ابُو دَرْداء رضی اللّٰہ عَنْہ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی: ’’(یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!) اور آپ کے وصال کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ارشاد فرمایا:’’ہاں (میری ظاہری) وَفات کے بعد بھی (میرے سامنے اسی طرح پیش کیا جائے گا)“۔ ”اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ،یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین کے لئے اَنبیائے کرام علیھم الصَّلوۃ والسَّلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے۔“ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُرْزَقُ،”پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نبی زِندہ ہوتا ہے اور اسے رِزْق بھی عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجه،کتاب الجنائز،باب ذكر وفاته ودفنه صلى الله عليه وسلم، جلد 1،صفحہ 519،حدیث:1637(

ہمیں کوشش کرکے بالخُصُوص جمعۃالمبارک کے دن دُرُود شریف کی کثرت کرنی چاہئے کہ اَحادیثِ مُبارَکہ میں اِس روز کثرتِ دُرُود کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے اور زَمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کے مُبارک جسموں کو کیوں نہیں کھاتی ، اس کی اِیمان اَفروز تَوجِیہ بیان کرتے ہوئے حضرتِ علَّامہ عبدالرؤف مَنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوی ارشاد فرماتے ہیں: ’’لِاَنَّہَا تَتَشَرَّفُ بِوَقْعِ اَقْدَامِہِمْ عَلَیْہَا وَتَفْتَخِرُ بِضَمِّہِمْ اِلَیْہَا فَکَیْفَ تَأْکُلُ مِنْہم،اس لئے کہ زمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کے مُبارک قَدموں کے بوسے سے مُشرَّف ہوتی ہے اور اسے یہ سَعادت ملتی ہے کہ َانبیائے کرام کے مُبارک اَجسام زمین سے مَس ہوتے ہیں تو یہ اِن کے جسموں کو کیسے کھا سکتی ہے ۔ (فیض القدیر،حرف الھمزۃ،جلد 2،صفحہ 535،تحت الحدیث 2480)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کے مقدس اجسام ان کی مبارک قبروں میں سلامت رہتے ہیں اور زمین پر حضرت حق جل جلالہ نے حرام فرما دیا ہے کہ ان کے مقدس جسموں پر کسی قسم کا تغیر و تبدل پیدا کرے۔ جب تمام انبیا عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کی یہ شان ہے تو پھر بھلا حضور سید الانبیاء و سید المرسلین اور امام الانبیاء و خاتم النبییّن صلى الله عليه وسلم کے مقدس جسم انور کو زمین کیونکر کھا سکتی ہے؟ اس لئے تمام علماء امت و اولیاء امت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضورِ اقدس صلى الله عليه وسلم اپنی قبر اطہر میں زندہ ہیں اور خداعزوجل کے حکم سے بڑے بڑے تصرفات فرماتے رہتے ہیں اور اپنی خداداد پیغمبرانہ قوتوں اور معجزانہ طاقتوں سے اپنی امت کی مشکل کشائی اور ان کی فریاد رسی فرماتے رہتے ہیں۔

خوب یاد رکھئے !کہ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ یقینا بارگاہِ اقدس کا گستاخ بد عقیدہ، گمراہ اور اہل سنت کے مذہب سے خارج ہے۔ (سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم،صفحہ 645)

حضراتِ انبیاء عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام بالخصوص حضرت سیدالانبیاء صلى الله عليه وسلم اپنی اپنی قبر میں لوازمِ حیات جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور ہر گز ہرگز ان کے جسموں کو مِٹی نہیں کھاسکتی کیوں کہ اللہ پاک نے زمین پر حرام ٹھہرادیا ہے کہ وہ انبیاء کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کے جسموں کو کھاسکے۔

اس حدیث کا آخری فقرہ کہ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُیعنی اللہ عزوجل کے نبی زندہ ہیں اور انہیں روزی دی جاتی ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس بارے میں صاحبِ مرقاۃ کا بیان ہے کہ ("يرزق"):رزقا معنويا فإن الله تعالى قال في حق الشهداء من أمته (بل أحياء عندربهم يرزقون) [آل عمران: 169] فكيف سيدهم بل رئيسهم۔۔۔۔ ولا ينافيه أن يكون هناك رزق حسي أيضا، وهو الظاهر المتبادر۔

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،جلد 3،صفحہ 1020،تحت الحدیث 1366)

یعنی انہیں رزقِ معنوی دیا جاتا ہے اس لیے کہ اللہ پاک نے آپ کی امت کے شہیدوں کے بارے میں فرمایا کہ ”بلکہ وہ زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں۔“ تو پھر کیا حال ہوگا ان شہیدوں کے سردارکابلکہ رئیس کا اور یہ جو ہم نے لکھ دیا ہے کہ رزق معنوی دیاجاتا ہے تو یہ اسکے منافی نہیں ہے کہ اللہ پاک انہیں رزق حسی بھی عطا فرمائے اور یہاں یہی رزق حسی مراد لینا ظاہر ہے جو جلد ذہنوں میں آجاتا ہے۔ (یعنی ظاہری طور پر کھانا پینا)۔ (بہشت کی کنجیاں،صفحہ 149)

از: مولانا سید کامران عطاری مدنی

توجہ فرمائیں:

مضمون کے تمام مندرجات (حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح،پروف ریڈنگ، فارمیشن ودیگر کا م) مؤلف کے ذمے ہیں، ادارہ اس کاذمہ دار نہیں، الغرض شرعی تفتیش ادارے کی جانب سے کروائی جاچکی ہے۔راقم کی جانب سےمضمون کو ہر طرح کی اغلاط سے پاک کرنے کی مقدوربھرکوشش کی گئی ہے تاہم پھر بھی مضمون میں اگر کہیں غلطی پائیں تو مذکورہ میل آئی ڈی پر رابطہ فرمائیں:

shaboroz@dawateislami.net


تفصیلات کے مطابق آج 15 اگست 2022ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں نعت خوان اسلامی بھائیوں کا  مدنی مذاکرہ ہوگا جس میں امیرِ اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ مدنی پھول ارشاد فرمائیں گے۔ مدنی مذاکرے کا آغاز رات ساڑھے نو بجے ہوگا۔ اس موقع پر مدنی چینل پر براہِ راست سوالات و جوابا ت کا سلسلہ بھی ہوگا جبکہ نعت خوان اسلامی بھائی آف ایئر مدنی مذاکرے میں امیر اہل سنت سے سوالات بھی کرسکیں گے۔ 


یومِ آزادی ) 14اگست) قریب ہے اور اس دن اللہ کریم کی نعمتوں میں سےایک نعمت ”ملکِ پاکستان“ کی صورت میں ہمیں نصیب ہوئی، 14اگست 1947ءکو ا للہ کریم نےمسلما نوں کو غیر مسلموں کی غلامی سے ہمیشہ کے لئےآزا دی نصیب فرمائی،اگر تاریخ پاکستان کامطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہےکہ اس آزا دی کو حاصل کرنے کے لئے 1857ءسے1947ء تک تقریبا 90سال کی جدو جہدشامل ہے،ملکِ پاکستان کی آزا دی کے لئےکئی علماوصلحا کےساتھ ساتھ عام مسلمانوں نےبھی اپنی جانوں کی قربانی پیش کی، ایک اندازے کےمطابق ملک پاکستان کی بنیاد کے لئے لاکھوں لوگوں نےاپنی جانوں کی قُربانی دی جن میں بچے،بوڑھے،مردا ور عورتیں شامل تھیں،اِس وطنِ عزیز کی آ زا دی کے لیے لوگوں نے ا پنی جائیدادیں چھوڑ یں، گھربارچھوڑا ،تقریبا18 لاکھ لوگوں کا خون ، کئی نوجوان لڑکیوں کی عزت ا ور کئی بہنوں کےسہاگ شامل ہیں۔راقم الحروف کو ایک نمازی نےواقعہ سنایا، جب بھی وہ واقعہ یادآتا ہے تودل خون کےآنسو روتاہےاور روح کانپ جاتی ہے،آپ بھی اس واقعہ کو ملاحظہ کیجئے : چنانچہ

ایک مرتبہ عصرکی نماز کے بعد ایک نمازی نے چائےکی دعوت دی تو میں ا ن کے ساتھ ان کے گھر چلاگیاا ن کی عمر تقریبا 100سال کےقریب ہے اور نمازوں سےمحبت ا یسی کہ پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرنے آتے ہیں،خیران کے گھر پہنچ کر ان کے ساتھ بات چیت شروع ہوئی تو میں نے ان سے عرض کی :آپ نے تو ا پنی آنکھوں سےپاکستان کو بنتےدیکھا اور حالات و واقعات کو دیکھا اور ہجرت کرکے پاکستان آئے ہیں تو کوئی واقعہ ہی سنا دیجئے؟ میری یہ بات ختم ہوئی تو انہوں نے ایک لمبا سانس لیا اور بات شروع کرنے سے پہلے ہی ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئےاور پھر انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ جب ملک پاکستان اور مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست بننےکی خبر ملی تو جوجہاں تھا اس نے وہیں سے پاکستان کی طرف ہجرت کرلی، نہ وا لدین کی کوئی خیر خبر اور نہ گھر وا لوں کی فکر،بس سب کی زبان پر ایک نعرہ تھا کہ پاکستان کامطلب کیا؟ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ “ لوگوں کاایساشوق اور ایسا جذبہ کہ بیان سےباہر ا ور دوسری طرف دشمن پیچھابھی کررہے تھےاس لئے ہم چھپتے چھپاتے آرہے تھے ایک جگہ گنے( کماد ) کی فصل تھی تو ہم لوگ اس میں چھپ گئے ، ہمارے ساتھ ایک عورت بھی تھی جس کےپاس ایک دودھ پیتا بچہ تھا ،جیسے ہی بچے کوگرمی کی وجہ سےگھٹن محسوس ہوئی تو اس نے رونا شروع کردیا ا ور ا ب وہا ں موجود لوگوں نے اس کی ما ں کی طرف تِرچھی نظروں سےدیکھنا شروع کردیا کہ اس بچےکی آوا ز سن کر دشمن آجائیں گےا ور سب کی جان جائے گی، بچےکی ما ں نے لوگوں کی طرف دیکھا اور اس کے بعد جو عورت نے کیا وہ آج بھی جب یادکرتے ہیں تود ل خون کےآنسو روتاہے، وہ یہ کہ اس ماں نےاپنےاس دودھ پیتے بچے کا اپنے ہاتھوں سے گلہ دبا دیا۔

اور دوسرا واقعہ کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ قیامِ پاکستان کے کچھ ماہ بعد لاہور کی ایک مسجد کے باہر ایک بابا جی اکثرنظر آتے، ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، لوگ ترس کھا کر کوئی کھانے کی چیز رکھ جاتے، بہت کمزور تھے،کبھی کوئی لقمہ لے لیا تو سہی وگرنہ اکثر کھانا خراب ہو جاتا، زیادہ تر گُم سُم بیٹھے رہتےکبھی ا پنے آپ سے باتیں کرتے پھر دن میں ایک دو دفعہ چیخ مارتے اور زور زور سے رونے لگتے ایک دن ا ن کے پاس ایک بزرگ بیٹھے تھےمیں نے پوچھا :آپ کون؟ بولے: یہ میرے رشتہ دار ہیں ، پوچھا: یہ دن میں ایک دو دفعہ اونچی آواز سےایک لڑکی کا نام لیتے ہیں اور زور سے چیخ مار کر رونے لگتے ہیں ، رشتہ دارکی آوا ز بھرآئی، بولے بیٹا! یہ بہت بڑے بیوپاری تھےپاکستان ہجرت کے وقت یہ ہندو اکثریتی علاقےمیں تھے ہندو گروہ کی شکل میں آتے جو گھرمسلمانوں کے ہوتےمردوں، بوڑھی خواتین کو مار دیتے اور نوجوان لڑکیوں کو اٹھا کر ساتھ لے جاتےایک دن ایسا ہی حملہ ان کےگھر پر ہوا، ا ن کے گھر کےساتھ ایک کنواں تھا، ایک ہی لاڈلی اکلوتی بیٹی تھی سترہ اٹھارہ /سال کی،اسےکنویں کےکنارے کھڑا کیا اس ڈر سےکہ بلوائی، اس کی عزت خرا ب نہ کریں اسے دھکا دے دیا،گرتے ہوے بیٹی نے ایک چیخ ماری تھی جب ان کو اپنی اس لاڈلی کی وہ چیخ یاد آتی ہے تویہ خود چیخ مار کر رونے لگتے ہیں ،اس دکھ میں ان کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں رہا۔

اےمیرےعزیزہم وطنو! اُس منظرکوذرا تصورمیں لائیےاورسوچئےیہی لوگ پاکستان کے اصل وارث ہیں، کتنے دلیر اور غیرت مند تھے کہ کسی نے بچے کو تو کسی نے بیٹی کو پاکستان کے لئے قربان کر دیا۔ یہ لوگ اتنی قربانیاں دینے کےباوجودبھی ایک الگ ملک و ریاست چاہتے تھے تاکہ ا ن کےبعدآنے والےسکون سے زندگی گزارسکیں، بغیرکسی خوف وغم کے رب کریم کی عبادت کریں، دین اسلام کی تبلیغ کریں،ذرا سوچئے!اگر ان شہیدانِ ملک پاکستان نےکل قیامت کے دن ہم سے رب کی بارگاہ میں یہ سوال کر لیا کہ: کیا ہم نے اس لئےجانیں قربان کی تھیں کہ تم اس ملک میں اللہ کریم کی نافرمانی کرو،جشنِ آزادی کےنام پر گانے باجےاور رَقص وسُرُودکی محفلیں سجاؤ۔ بندوں کےحُقُوق پامال کرو، لوگوں کو جانی و مالی نقصان پہنچاؤ، شراب نوشی کرو، جُوا کھیلو، بائکوں کےسلینسرز نکال کر یا وَن ویلنگ کرکے ا پنی جانوں کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر برائیوں کو عام کرو تو پھر کیا جواب دیں گے؟

اس لئےآج اللہ پاک کی نعمت جوہمیں وطنِ عزیز پاکستان کی صورت میں حاصل ہوئی ہے، اس کی قدر کریں، یوم آزادی کےموقع پر خوشی کا اظہار ضرور کریں لیکن ا یسے طریقے سے کریں،جس میں ا للہ پاک کی رِضا اور ہمارے ملک پاکستان کی بقا شامل ہو،کیو نکہ اچھے لوگ ہی اپنے ملک سے محبت کرتے ا ور اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں:امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”محاضرات الادباء “ میں لکھتے ہیں :

حب الوطن من طین المولد یعنی عمدہ اور نیک طبیعت کےلوگ ہی اپنےوطن سےمحبت کرتے ہیں۔ (محاضرات الادباء،2/652 مفہوماً)

لہٰذا اپنے وطن عزیز سےمحبت کا اظہارضرور کیجئے لیکن اس طرح کیجئے کہ جشن آزادی ا للہ پاک کی رِضا ا ور اس نعمت (یعنی وطنِ عزیز کے ملنے) کا شکر ادا کرنےکی نیت سےنوافل پڑھئےا ور تلاوت قرآن کیجئے نیز اپنےوہ مسلمان بھائی جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ملک پاکستان حاصل کیا انہیں ایصالِ ثواب کریں اور پھر اپنے پیارے وطن عزیز کے لئے یوں دُعابھی کیجئےکہ یا ربّ کریم ! تونےہمیں آزاد ملک کی صورت میں جو نعمت عطافرمائی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما، اس میں تیرے ہی احکامات ا ور تیری رِضا والے کام کرنےکی توفیق عطا فرمااور ہراس کام سے بچنےکی توفیق عطا فرما،جس سےتواور تیرے پیارےحبیب ناراض ہوتے ہوں۔

بانی دعوت اسلامی ،ا میرِ اہلسنّت،حضرت علّامہ مولانا محمدا لیاس عطارقادری دا مت بَرَکاتُہمُ العا لیہ کی سوچ ا ور آپ کی ”وطنِ عزیز ملکِ پاکستان“سےسچی محبت کہ آپ نے مختلف مدنی مذاکروں میں”یومِ آزادی“ کی نعمت پرجو مفید ارشادات عطا فرمائےوہ بھی ملاحظہ کیجئے: چنانچہ

آپ دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ ارشاد فرماتے ہیں:ایک بہت بڑی تعدادہے جو جشنِ آزادی غلط طریقے سے مناتی ہے، خُوب ہلہ گلہ اورہلڑ بازیاں کرتی،ہوائی فائرنگ ا ور نہ جانے کیا کچھ کرتی ہے،ا للہ کرےکہ مُسلمان ان خُرافات (برائیوں)سےبچ کرمسجد میں آکر ہمارے ساتھ جشنِ آزا دی منائیں،اگر دُور ہوں تو مدنی چینل دیکھ کرجشنِ آزا دی منائیں تو اِنْ شَاءَ اللہ وہ وقت بھی آئے گا کہ ہم جہنّم سے آزا دی کا جشن منائیں گے ہاں!یہ جہنّم سےآزادی کا جشن جیتے جی نہیں ہوسکے گا۔ (پھر امیراہلسنت دامت بَرَکاتُہمُ العا لیہ جشنِ آزا دی پرخُرافات (برائیوں)میں پڑنےوا لوں کو بچنےکا ذہن دیتے ہوئے ارشا د فرماتے ہیں :) کیاعجب جنہوں نےگنا ہوں کا بھر پور پروگرام بنارکھاہے،وہ گناہوں کا وقت شروع ہونے سے پہلے پیکِ اجل(یعنی موت) کو لبیک کہہ دیں اور اُنہیں موت آجائے،کیاعجب! اِس را ت ہونے وا لی فائرنگ میں کسی گو لی پر کسی کا نام لکھا ہوکہ میں اُس کی کھوپڑی میں جاؤں گی، اُس کے سینے کوچھلنی کروں گی اورقبر کاگڑھا اُس کےلیے تیار ہو،کفن اُس کے لیےمتعین ہوکہ یہ کفن آج اُس نےپہننا ہے،یا ہسپتال کاکوئی بیڈ اُس کا منتظر ہو۔یاد رکھئے!گناہ کرتےکرتےمرنا یا گُناہ کا پکا ارا دہ ہو،اس حالت میں موت سے ہمکنار ہونا اچھا نہیں ہے،کاش گناہ کرتے ہوئےہمیں یہ احساس ہوکہ میرا ربّ کریم مجھےدیکھ رہا ہے،میرا ربّ کریم ناراض ہوگیاتو کہیں میں ا پنی آخرت خراب نہ کربیٹھو،اے میرے ہم وطنو! اگر گناہ کےسلسلے آپ نے سوچ رکھے ہیں تو مہربانی کرکے باز آجائیے ، توبہ کر لیجیےا ور اس مرتبہ آپ نیت کر لیجئےکہ جشنِ آزا دی دعوت اسلامی کےساتھ منائیں گے ان شاء اللہ ۔ ا للہ کریم تما م مسلمانوں کوعقل سلیم عطا فرمائے۔آمین

آخرمیں شیخ طریقت،بانی دعوت اسلامی مولانا محمدالیاس عطارقادری دامت بَرَکاتُہمُ العا لیہ کا ملک پاکستان کے لئے لکھا ہوا دعائیہ کلام بھی ملاحظہ فرمائیے :

یا خُدا پاک وطن کی تو حفاظت فرما

فضل کر اس پہ سدا سایۂ رحمت فرما

مرحبا پاک وطن پاک وطن پاکستان

دے ترقی تو عنایت اسے برکت فرما

اس کو تو قلعۂ اسلام بنا دے یاربّ!

میرے پیارے وطن پہ رحمت فرما

شکر صد شکر غلامی سے ملی آزادی

پھر عنایت ہمیں کھوئی ہوئی شوکت فرما

آج ہے امن وطن کا میرے پارہ پارہ

پھر مہیا میرے مولا اسے راحت فرما

چور ڈاکو سے مِرے پاک وطن کو کر پاک

ملک سے دُور تو رشوت کی نحوست فرما

بچہ بچہ ہو نمازی میرے پاکستان کا

اور عطا جذبۂ پابندیِ سُنّت فرما

واسِطہ شاہِ مدینہ کا اے پیارے اللہ

دُور عطار سے دنیا کی محبّت فرما

از: مولانا عبدالجبار عطاری مدنی

ا سکالر:المدینۃ العلمیہ(اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی )


٭ عربی میں عاشور اء اسم عدد10 کو کہتے ہے ،10محرم الحرام کو عاشورہ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس دن اللہ پاک نے 10 انبیائے کرام کو اعزاز و اکرام سے نوازا۔([1]) جس طرح مہینوں کے اعتبار سے رمضان المبارک بڑا با برکت مہینا ہے ، دنوں کے اعتبار سے جمعۃ المبارک بڑا بابرکت دن ہے۔

اسی طرح رمضان المبارک کے بعد محرم الحرام بڑا بابرکت مہینہ ہے۔ اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام یہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے جب ہی اس کے ساتھ ’’حرام‘‘ لگتا ہے اور یہاں ’’حَرام‘‘ حلال کے مقابل نہیں ہے بلکہ اس لفظ ’’حَرام‘‘ سے مراد’’ عزت و حرمت ہے‘‘ چونکہ محرم کا مہینا عزت و حرمت والا ہوتا ہے، اس لئے اس کے ساتھ حرام بولا جاتا ہےجس طرح کعبۃ اللہ جس مسجد میں ہے اس کا نام مسجد حرام ہے جس کا مطلب ہے:عزت وحرمت والی مسجد۔

اللہ پاک قراٰن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰىمِ اللہِ ؕ۱۳،ابراھیم :۵)ترجَمۂ کنزالایمان:اور انھیں اﷲ کے دن یاددلا۔ تفسیر خزائن العرفان میں ایّام اللہ کے تحت دسویں محرم الحرام کو واقع ہونے والا واقعہ ہائلہ ( ہولناک واقعہ ) بھی ہے۔

٭یوم عاشورہ کو بہت سے تاریخی واقعات رونما ہوئے ہیں جن کا ذکر احادیث طیبہ اور تاریخ کی مستند کتابوں میں کثرت کے ساتھ ملتے ہیں۔ یوم عاشورہ کے چند تاریخی واقعات پیش خدمت ہیں :

1)ماہ محرم الحرام جب بھی تشریف لاتا ہے تو اپنے ساتھ کربلا والوں کی یاد کو ساتھ لیکر آتا ہے اسیرانِ کربلا و شہدائے کربلا بالخصوص نواسۂ رسول ﷺ ، جنتی نوجوانوں کے سردار،سید الشہداء، امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد دلوں کو تڑپاتی اور آنکھوں کو اشک بار کرتی ہے، میدان کربلا میں اہلبیت اطہار کو وہ مصائب وآلام پیش آئے جن کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے۔ سیِّدُنا امامِ حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو مع شہزادگان و رُفقا تین دن بھوکا پیا سارکھنے کے بعد ’’عاشورا‘‘ کے روزمیدانِ کربلا میں نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ امام عالی مقام نے میدان کربلا میں ایک ایک کرکے اپنے خاندان سمیت 72 جانثار ساتھیوں کو راہ خدا میں لٹادیا لیکن یزید پلید کے ہاتھ پر بیعت نہ کی۔

نظامِ اِسلام کا تَحَفُّظ:اگرآپ یزید کی بیعت کرلیتے تو یزید آپ کی بہت قدرومنزلت کرتا، خوب مال ودولت نچھاور کرتالیکن اِسلام کا نظام درہم برہم ہوجاتا اور ایسا فساد برپا ہوتا جسے بعد میں دور کرنا دُشوار ترین ہوتا۔

٭امام حسین رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی خبر حضور علیہ السلام کے دور مبارکہ سے ہی مشہور ہوگئی تھی۔امام احمد نے روایات کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا:میرے پاس وہ فرشتہ آیا جو اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا۔اُس نے عرض کیا کہ آپ کا فرزند (حسین رضی اللہ عنہ) شہید کیا جائے گا۔اگر آپ کہیں تو میں اُن کے مقتل گاہ کی مٹی پیش کردوں ۔ پھر اس نے تھوڑی سی سرخ مٹی پیش کی ۔(احمد)

عمر مبارک

٭بوقتِ شہادت سیِّدُ الشُّہَدا ، امامِ عالی مقام حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی عمر مبارک 56 سال پانچ ماہ پانچ دن تھى ۔ (سوانح کربلا،ص:170 ، کراچی)

کس شقی کی ہے حکومت ہائے کیا اندھیر ہے

دن دہاڑے لُٹ رہا ہے کاروانِ اہلِ بیت

٭امام عالی مقام کی شہادت کے علاوہ عاشورہ کے دن اور بھی بہت سے اہم واقعات وقوع پذیر ہوچکے ہیں جن کو تاریخی اہمیت حاصل ہے ان کا ذکر ذیل میں موجود ہے ۔

عاشورا کو پیش ہونے والے اہم واقعات

{ ۱ } عاشورا (یعنی 10 مُحَرَّمُ الْحرام ) کے دن سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی لغزش کی توبہ قبول ہوئی { ۲ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری { ۳ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا یونس عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی قوم کی توبہ قَبول ہوئی { ۴ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پیدا ہوئے { ۵ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پیدا کئے گئے([2]) { ۶ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور اُن کی قوم کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت (دریائے نیل میں ) غرق ہوا([3]) { ۷ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا یوسُف عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو قید خانے (Jail ) سے رہائی ملی { ۸ } اِسی دن حضرتِ سیِّدُنا یونس عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے([4]) { ۹ } آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش اسی دن نازل ہوئی۔{10} اسی دن کا روزہ اُمّتوں میں مشہور تھا یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ اس دن کا روزہ ماہِ رمضان المبارک سے پہلے فرض تھا پھر منسوخ کردیا گیا۔(مکاشفۃ القلوب،ص:311) { 11} اسی دن حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ملک عظیم عطا کیا گیا۔

٭محرم کی دسویں تاریخ عاشورا کے دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ چنانچہ اس تاریخ کو کشتی کی تمام مخلوق یعنی انسان اور وحوش و طیور وغیرہ سبھی نے شکرانہ کا روزہ رکھا نیز حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی سے اُتر کر سب سے پہلی جو بستی بسائی اس کا نام ’’ثمانین‘‘رکھا۔ عربی زبان میں ثمانین کے معنی ’’اَسی‘‘ ہوتے ہیں ،چونکہ کشتی میں ۸۰ آدمی تھے اس لئے اس گاؤں کا نام ’’ثمانین‘‘رکھ دیا گیا۔ (تفسیر صاوی، ج۳، ص ۹۱۵۔۹۱۴،پ۱۲، ھود :۴۴)

٭عاشورہ میں کئے جانے والے اعمال٭

٭عاشورا بڑا ہی بابرکت دن ہے اور اس مبارک دن میں احادیث مبارکہ اور بزگان دین کی کتابوں میں نیک اعمال کرنے کی ترغیبات موجود ہیں۔ قارئین کے ذوق کے لئے ذیل میں عاشورا کے روز کئے جانے والے اعمال کا ذکر کیا جارہا ہے۔ عاشوراء کے دن صدقہ وخیرات ،نیکی ،ایثار ،رشتے داروں پر احسان،صلہ رحمی اور فقراء و مساکین پر نرمی و شفقت کرنا دُگنے اجرکا باعث ہے۔

٭امام بیھقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے: عَنْ اَبِیْ ہرُیرۃ اَنَّ رسولَ اللہِ مَنْ وَسَّعَ علیٰ عِیَالَہ وَ أَھْلَہ فِیْ یومِ عاشورَاء وَسَّعَ اللہُ عَلَیْہَ فِیْ سَائِرِ سَنَتِہ۔ یعنی جو عاشورہ کے روز اپنے اہل و عیال کے رزق میں کشادگی کرے گا اللہ پاک سارا سال اس کے رزق میں کشادگی فرمادئے۔(شعب الایمان،ج:3،ص:366،ح:3795)

٭مُفَسّرِشہیر حکیم الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:’’مُحرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بَہُت ثواب پائے گا۔ بال بچّوں کیلئے دسویں محرم کو خوب اچّھے اچّھے کھانے پکائے تواِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سال بھر تک گھر میں بَرکت رہے گی۔ بہتر ہے کہ کِھچڑا پکا کر حضرِت شہید کربلا سیِّدُناامامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرے بَہُت مُجرّب (یعنی مؤثر وآزمودہ)ہے۔ اسی تاریخ یعنی 10مُحرم الحرام کو غسل کرے تو تمام سال اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آبِ زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔ ( تفسیر روح البیان،ج۴،ص: 142،کوئٹہ۔اسلامی زندگی،ص۹۳)

٭شب عاشورہ کو عاشورہ کا وسیلہ دیکر اس طرح دعائیں مانگیں: ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تجھے اس رات کی حرمت کا واسطہ اوران لوگوں کا واسطہ جنہوں نے ساری رات تیرا ذکر کرتے ہوئے جاگ کر گزاری ہے! مجھے عافیت عطا فرما دے، میری تکلیف دور کر دے اور میرے دل کی شکستگی دور فرما دے۔

عاشُوراء کا روزہ

٭ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:’’میں نے سلطانِ دوجہان، شَہَنشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان ﷺ کو کسی دن کے روز ہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستُجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشوراء کا دن اور یہ کہ رَمَضان کا مہینہ۔‘‘(صحیح البخاری،ج۱،ص۶۵۷،حدیث۲۰۰۶)

٭حضرتِ سیِّدُنا ابوقَتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے، رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ وﷺفرماتے ہیں: ’’ مجھے اللہ پر گُمان ہے کہ عاشورا ء کا روزہ ا یک سال قبل کے گُناہ مِٹادیتاہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم،ص۵۹۰،حدیث۱۱۶۲)

یہودیّوں کی مُخالَفَت کرو

٭ نبیِّ رَحمت ،شفیعِ امّت،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھو اور اِس میں یہودیوں کی مخالَفَت کرو، اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔‘‘ (مسند امام احمد،ج۱،ص۵۱۸، حدیث۲۱۵۴)

٭ عاشوراء کا روزہ جب بھی رکھیں تو ساتھ ہی نویں یا گیارہویں محرم الحرام کا روزہ بھی رکھ لینا بہتر ہے۔

سارا سال آنکھیں دُکھیں نہ بیمار ہو

٭سرورِکائنات،شاہ موجودات ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یومِ عاشوراء اثمد سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دکھیں گی۔ (شعب الایمان،الحدیث:3797،ج:3،ص: 367)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد

ابو معاویہ رمضان رضا عطاری مدنی



[1] ۔۔۔فیض القدیر، حرف العین ،4/394،تحت الحدیث:5365

[2] ) مسند الفردوس ج۱ ص:223 حدیث :856

[3] ) بُخارِی ج:2ص:438 حدیث :3397

[4] ) فیض القدیر ج:5ص: 288تحت الحدیث7075:


راکبِ دوشِ مصطفیٰﷺ، شہزادۂ علی المرتضیٰ،برادرِ سیّدُالسادات، سیّدہ فاطمۃالزہرہ کےمہکتے پھول رضی اللہ عنہم، جنّتی نوجوانوں کےسردار، میدانِ کربلا کے شاہ سوار، سلطانِ کربلا، امامِ عالی مقام حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات وہ پاک ہستی ہیں جنہوں نےمیدانِ کربلا میں دینِ اسلام کی بقاء کے لئے اپنے گھربار، مال و دولت اوراولادسب کچھ قربان کر دیا۔

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں:

حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات پر کثیر احادیثِ مبارکہ موجود ہیں چنانچہ پیارے آقا ﷺ نے ارشادفرمایا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے:حسین مجھ سے ہےاور میں حسین سے ہوں، اللہ عزوجل اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے ، حسین میری اولاد کی اولاد ہے۔ (سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقبِ ابی محمد حسن بن علی بن ابی طالب الخ، 5/429، الحدیث 3800)

ایک اور مقام پر پیارے آقا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:بے شک حسن اور حسین اہلِ جنت نوجوانوں کےسردار ہیں۔ (ایضاً431، الحدیث 3806)

پیدائش کے ساتھ ہی شہادت کی خبر :

حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے بعد سے ہی حضرت علی، بی بی فاطمہ اور دیگر اصحاب سمیت اہلِ بیت رضی اللہ عنہم یہ بات جان گئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو سرزمینِ کربلا میں ظلم و ستم کے ساتھ شہید کیا جائے گااور نہایت بےدردی کے ساتھ آپ کا خون کا بہایا جائے گا جیساکہ اُن احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے جن میں حضور ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں خبر دی جیساکہ حاکم نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ ہمیں کوئی شک نہیں تھا اور اہلِ بیت بالاتفاق یہ بات جانتے تھے کہ حسین ابنِ علی رضی اللہ عنہما کو مقامِ طف میں شہید کیا جائے گا۔(المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃالصحابۃ، استشھد الحسین، 4/175، الحدیث 4879)

میدانِ کربلا میں کرامات کا ظہور

اللہ پاک نےجس طرح اپنے پیارے حبیب ﷺ کو کثیر معجزات سے نوازا بلکہ معجزہ بنا کر بھیجا اسی طرح آپ ﷺ کے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی بے شمار کرامات سے نوازا تھا جن کا ظہور میدانِ کربلا میں بھی ہوا ۔جہاں آپ رضی اللہ عنہ 50 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود شجاعت و بہادری کے ساتھ میدانِ کربلا میں دشمنانِ اہلِ بیت سے جنگ کرتے رہے وہیں آپ رضی اللہ عنہ سے مختلف کرامات ظاہر ہوئیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

بدزبان یزیدی کو گھوڑے نے آگ میں ڈال دیا

جب امامِ عالی مقام حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے درمیان خطبہ ارشاد فرما رہےتھے تو خیموں کی حفاظت کے لئے خندق میں لگائی گئی آگ کو دیکھ کر ایک بدزبان یزیدی مالک بن عروہ کہنے لگا:اے حسین! آپ نے دوزخ کی آگ سے پہلے یہیں آگ لگا لی ۔امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس بدبخت کو جواب دیتے ہوئےفرمایا:کذبت یا عدواللہ (اے خدا کے دشمن تو جھوٹا ہے) تجھے یہ گمان ہے کہ میں دوزخ میں جاؤں گااور تو جنت میں جائے گا۔

مسلمانوں کی صف میں سے حضرتِ مسلم بن عو سجہ رضی اللہ عنہ کو مالک بن عروہ کے یہ کلمات بہت ناپسند لگے تو انہوں نے امامِ عالی مقام حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے اس بد زبان کے منہ پر تیر مارنے کی اجازت طلب کی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ کہہ کر خاموش کروادیا کہ میری طرف سے جنگ کی ابتداء نہیں کی جائے گی۔

یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ الٰہی میں اپنے دستِ مبارک (ہاتھ) پھیلائے اور عرض کیا کہ یا رب عزوجل عذابِ نار سے قبل اسے دنیا میں آتشِ عذاب میں مبتلا فرما۔آپ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اُس بدبخت کے گھوڑے کا پاؤں ایک سوراخ میں گیاجس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گر گیااور اس کا پاؤں رکاب میں اُلجھ گیا پھر گھوڑا اسے لیکر بھاگا اور آگ کے خندق میں ڈال دیا۔اس پر امام حسین رضی اللہ عنہ نے سجدۂ شکر ادا کیا اور اللہ عزوجل کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے بلند آواز سے (جسے دونوں لشکر سن سکیں) دعا فرمائی: یا اللہ عزوجل ہم تیرے حبیب ﷺ کے گھر والے اور ذریّت (یعنی اولاد) ہیں ، ہم پر ظلم کرنےوالوں کے ساتھ انصاف فرما۔

آلِ رسول کے نسب پر جرح کرنے والے کا انجام

اسی دوران دشمنوں کی صف سے ابنِ اشعث نامی شخص نے کہا کہ آپ کو حضور سرورِ کائنات ﷺ سے کیا نسبت ہے؟ اس کی اس بے ادبی کی وجہ سے امام حسین رضی اللہ عنہ کو کافی تکلیف پہنچی اور وہ بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوئے:یا اللہ عزوجل ابنِ اشعث نے میرے نسب پر جرح کی ہے اور یہ مجھے تیرے پیارے حبیب ﷺ کا بیٹا تسلیم نہیں کرتا ،یا اللہ عزوجل اس بدزبان کو فوری عذاب میں گرفتار فرما جس کے بعد اُس بے ادب کو قضائے حاجت کی ضرورت پیش آئی۔وہ گھوڑے سے اتر کر ایک طرف بھاگا اور کسی جگہ قضائے حاجت کے لئے برہنہ ہوا تو ایک سیاہ بچھو نے اس کی شرم گاہ میں ڈَنگ مارا تو وہ اسی حالت میں نجاست آلود زمین پر گر اور اس کی جان نکل گئی۔

مغرور شخص پیاسا واصلِ جہنم ہوا

امام حسین رضی اللہ عنہ کی کرامات اور آپ کا مستجاب الدعوات(جس کی دعائیں قبول ہوتی ہوں) ہونے کو دیکھ کر بھی اُن بے باک اور سخت دلوں کو غیرت نہ آئی اور ایک مغرور شخص نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کہنے لگاکہ:اے حسین! دیکھو تو دریائے فرات کیسے موجیں مار رہا ہے مگرخدا کی قسم تم اس کا ایک قطرہ بھی نہ پی سکو گے حتیٰ کہ تم پیاسے ہلاک ہو جاؤ گے۔

امام حسین رضی اللہ عنہ اُس مغرور شخص کی باتیں سن کر رونے لگے اور اپنے پاک پروردگار سے عرض کرنے لگے :اللّٰہُمَّ اَمِتْہ عَطْشَانًا یا رب عزوجل اس کو پیاسا مار۔امام حسین رضی اللہ عنہ کا دعا مانگنا تھا کہ اُس مغرور شخص کا گھوڑا اسے گرا کر بھاگنے لگا جس کو پکڑنے کے لئے اُس شخص نے دوڑ لگائی جس کے سبب اس پر پیاس کا غلبہ ہوا اور وہ العطش العطش کہنے لگا ، اُس کے ساتھیوں نے اسے پانی پلانا چاہا لیکن ایک قطرہ بھی اُس کے حلق سے نیچے نہیں اترا اور وہ مغرور شخص اسی شدتِ پیاس میں واصلِ جہنم ہو گیا۔(روضۃ الشہداء، باب نہم، ج 2، ص 186 تا 188)

امام حسین رضی اللہ عنہ کی کرامات آپ کی شان و عظمت پر گواہ ہیں

امام حسین رضی اللہ عنہ سے کرامات کا ظاہر ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی کرامات آپ کی شان و عظمت پر گواہ ہیں نیز دشمنانِ اہلِ بیت کو یہ بتانا تھا کہ دیکھ لو کہ جو ایسامستجاب الدعوات ہو اس کے مقابلے میں آنا اللہ پاک سے جنگ کرنا ہے لہٰذا اس معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرومگر اُن بے باک لوگوں نے دنیاوی منصب پانے کے لئے حسین ابنِ علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر ڈالا جس کی سزا انہیں دنیا میں بھی ملی۔ ان واقعات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آلِ رسول کی اللہ پاک کی بارگاہ میں کیسی قدر و منزلت ہے ، صرف دعا مانگنے کی دیر تھی اور دشمنانِ آلِ رسول چند ہی لمحوں میں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اللہ پاک ہمیں بھی آلِ رسول کا ادب و احترام کرنےاور اُن کی طرح دینِ اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ عطا فرمائے۔

از:غیاث الدین عطاری مدنی

اسکالر، اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ)دعوتِ اسلامی