
سن60ہجری
تھا، اہل کوفہ نواسۂ رسول اللہ ، امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہُ عنہ کو کوفہ آکر دین پھیلانے کا فریضہ
انجام دینے کے لئے خط پر خط لکھتے چلے
جارہے تھے ۔ جب اہل کوفہ نے 10 ہزار خطوط آپ کو بھیج دیئے تو آپ نے اہل کوفہ کی
تصدیق کے لئے حضرت امام مسلم بن عقیل رضی اللہُ عنہ کو
کوفہ بھیجا ، کوفہ پہنچتے ہی کوفیوں نے بڑی
تعداد میں حضرت امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ حضرت امام مسلم بن عقیل رضی اللہُ عنہ نے اطمینان صورتِ حال دیکھ کر حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ کو
کوفہ آنے کا خط لکھ دیا۔
حضرت
امام مسلم بن عقیل رضی اللہُ عنہ کا تسلی
بخش خط موصول ہونے پر حق کا پرچار کرنے، باطل
کو مٹانے، دم توڑتی ہوئی انسانیت کو عزت و وقار کے ساتھ جینے مرنے کا سلیقہ سکھانے
کے لئے امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کوفہ
جانے کا فیصلہ کیا۔ کوفہ جانے سے قبل آپ نے اپنے خدام ، اصحاب اور گھر والوں کے
ہمراہ خانہ کعبہ کا الوداعی طواف کیا اور 3 ذو الحجۃ الحرام 60ھ کو کوفہ کے لئے
رختِ سفر باندھ لیا۔ اس سفر میں بعض روایات کے مطابق آپ کے ہمراہ 82 افراد تھے جن
میں اہل بیت کی باپردہ خواتین، دودھ پیتے بچے، آپ کی آل اولاد اور دیگر جوان شامل
تھے۔
اس سفر
کے دوران کئی مشکلات درپیش آئیں مثلاً حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے دو صاحبزادوں رضی اللہُ عنہمم کو
شہید کردیا ہے اور اس کے علاوہ اہل کوفہ نے بھی اپنی سابقہ فطرت پر باقی رہتے ہوئے بد عہدی، بے وفائی اور بزدلی کا مظاہرہ
کردیاہے۔ان خبر وں کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ کی جماعت میں مختلف آراء جمع
ہوگئیں اورواپسی جانے کا مطالبہ کیا گیا
مگر بہت سی گفتگو کے بعد یہی طے پایا کہ آگے سفر جاری رکھا جائے اور واپسی کے خیال
کو ترک کردیا جائے۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شرکائے قافلہ کے ساتھ کوفہ پہنچے والے
ہی تھے کہ حُر نے ابن زیاد کے ایک ہزار ہتھیار بند سواروں کے ہمراہ آپ کا رستہ روک
کر شہر میں داخل ہونے سے منع کردیا، مجبوراً آپ رضی اللہ عنہ کو
کوفہ کی راہ سے ہٹ کر ”کربلا“ میں پڑاؤ ڈالنا پڑا، یہ محرم الحرام 61ھ کی
دوسری تاریخ تھی۔
آہستہ
آہستہ سورج کا طلوع و غروب ہونا اُس وقت کو قریب کررہا تھا جس دن آپ رضی اللہ عنہ اس دنیا
فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی کی جانب کوچ کرنے والے تھے۔ لہذا کربلا میں ابن
سعد نے پانچ ہزار کا لشکر آپ رضی اللہ عنہ کے پڑاؤ کے سامنے لا کھڑا کیا، اس کے
پیچھے ابن زیاد نے ابن سعد کی مدد کے لئے پے در پے شمر ذی الجوشن کو چار ہزار،
یزید کلبی کو دو ہزار، حصین بن نمیر سکونی کو چارہزار، عمرو بن قیس حمصی کو دو
ہزار اور ایک ہزار کا لشکر قیس بن حنظلہ کے کمان میں روانہ کردیا۔ اس طرح یزیدی
بزدلوں کی افواج کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی جبکہ ان کے مقابلے میں امام عالی
امام حسین رضی
اللہ عنہ
کے ساتھ بہت تھوڑے اشخاص تھے۔یزیدی خاندانِ رسول پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈھانے لگے
یہاں تک کہ مالک کوثر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گھرانے پر نہر فرات کا پانی بھی بند کردیاگیا۔ 8 محرم
الحرام 61ھ کو دنیا نے وہ دن بھی دیکھا کہ روئے زمین پر اعلائے کلمۃ الحق کو بلند
کرنے کی خاطر بچّے العطش العطش (ہائے پیاس، ہائے پیاس)پکار رہے ہیں، امام حسین رضی اللہ عنہ اور
ان کے ساتھی پیاس کو اپنا مہمان بنائے بیٹھے ہیں۔ان سب صورت حال کے باجود9 محرام
الحرام61ھ کی شام گروہِ یزیدلشکر پاک پر
حملہ آور ہونے کے لئے روانہ ہوگیا، امام حسین رضی اللہ عنہ کے
حکم پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے
ایک رات کی مہلت طلب کی ، ابن سعد نے اپنے
لشکر کے امراء سے مشورہ کر کے مہلت دے دی۔ عاشوراء کی رات امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے
خیمے اور خواتین کی حفاظت کے لئے خندق کھدوائی اس میں لکڑی بھرکر آگ لگادی تاکہ
دشمن شب خون نہ مار سکیں۔ عاشوراء کی رات امام عالی مقام کی کرامتیں بھی ظاہر
ہوئیں، آپ رضی
اللہ عنہ
کی دعاؤں کی بدولت مالک بن عروہ، ابن اشعث اور جعدہ قرنی مختلف عذابات میں مبتلا
ہوکرحقدار نار ہوئے۔ شب عاشوراء امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے
اپنے عزیز و اقارب کو نصیحتیں کیں اور اس کے بعد بارگاہِ خداوندی میں سجدہ ریز
ہوگئے۔
جب10
محرم الحرام 61ھ کی صبح طلوع ہوئی تو حضرت
امام حسین رضی
اللہ عنہ
نےاپنے رفقاء کے ساتھ نمازفجر باجماعت ادا کی۔ ابھی آپ رضی اللہ عنہ نے
دعا بھی نہ مانگی تھی کہ مخالفین کے لشکر سے جنگ کے نقارے بجنے لگے۔ ابن سعد نے
اپنے لشکر کو ترتیب دینا شروع کردیا، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے
بھی حضرت زہیر بن قین بجلی رضی اللہ عنہ اور حضرت حبیب بن مظاہر اسدی رضی اللہ عنہ کو میمنہ
اور میسرہ پر مقرر کردیا جبکہ پرچم نصرت نشان حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو
عطا کیا، جب دونوں جانب صفیں قائم ہوگئیں تو امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے
صداقت کا آخری خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انہیں خاندانِ نبوت کی توقیر کرنے، انہیں
اپنے ناپاک مقصد سے دستبردار ہونے کی تلقین کی گئی اور کوفیوں کو ان کا وعدہ یاد دلایا لیکن یزیدیت
راہ جہنم کو اختیار کرنے میں بضد تھی ۔ خطبے کے بعد اہل حق کی جانب سے حجت تمام
ہوگئی۔ جنگ کے آغاز سے قبل حضرت حُر رضی اللہ عنہ اور کچھ دیر بعد ان کے بھائی حضرت
مصعب رضی
اللہ عنہ
جہنمی لشکر سے تائب ہوکر جنتی لشکر کے صف میں شامل ہوگئے۔
جنگ
کا آغاز ہونے والا ہے ، زمین و آسمان خاموش تماشائی بن کر تَک رہے ہیں کہ اسلام کے
72 بہادر اور جانباز شہسوار 22 ہزار دشمنِ
دین سے ٹکرانے والے ہیں۔ اب مجاہدین اسلام کا ایک ایک کرکے میدانِ کربلامیں آنے کا
وقت ہوا چاہتا ہے جنہوں نے دشمنوں کے صفوں کو تار تار کردیا ، جنہوں نے دشمنوں کے
صفوں میں گُھس کر اپنے شعلہ ایمانی سے انہیں جلاکر خاک میں ملادیا۔ترتیب وار ہر
ایک کی جنگی مہارت و شجاعت اور شہادت کے مختصر واقعات ملاحظہ کریں:
٭حضرت حر اور ان کے رفقاءرضی اللہ عنہم:
امام
حسین رضی
اللہ عنہ
کی اجازت سے سب سے پہلے میدانِ جنگ میں حضرت حُر رضی اللہ عنہ تشریف
لائے، ان کے مقابلےمیں مخالفین کے لشکر سے صفوان بن حنظلہ سامنے آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے
اس کا سر تن سے جداکردیا، اس کے بعد صفوان
کے تین بھائیوں سے بیک وقت مقابلہ کیا اور
پلک جھپکتے ہی انہیں خاک میں ملادیا، اس کے بعد حضرت حُر دشمنوں کے صفوں کو چیر تے
ہوئے ان کے درمیان چلے گئے اور ابن سعد کے پرچم بردار کے دو ٹکرے کردیئے، شمر کے
حکم پر اس کے لشکر نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا، آپ بہادری سے ان کا مقابلہ
کررہے تھے کہ قسورہ بن کنانہ نے ان کے سینے پر نیزہ مارا جو آپ کے جسم میں گھس
گیا، حضرت حر رضی
اللہ عنہ
قسورہ بن کنانہ کو واصل جہنم کرتے ہوئے اپنے گھوڑے سے گر پڑے اور امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے
آغوش میں ابدی جہان کی طرف کوچ کرگئے۔
اس کے
بعد حضرت حُر کے بھائی مصعب، آپ کے بیٹے علی ، آپ کے غلام غرہ رضی اللہ عنہم بھی
مردانہ وار اور بہادری کےساتھ دشمنوں سے
لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔
٭حضرت زہیر بن حسان رضی اللہ عنہ:
اس کے
بعد حضرت زہیر بن حسان سیدنا امام عالی
مقام رضی
اللہُ عنہ
سے اجازت لیکر میدان کربلا میں اترے، آپ کے مد مقابل سامر ازدی نامی شخص موجود
تھا۔ آ پ نے اُس کے منہ نیزہ مارا جس کی نوک اُس کی گُدی سے پار ہوگئی اور وہ جہنم
رسید ہوا، اس کے بعد آپ نے نصر بن کعب، اس کے بھائی صالح بن کعب اور اس کے بیٹے کعب کے ساتھ بہادری سے لڑے اور انہیں
واصل جہنم کردیا۔ فردًا فردًا لڑکر آپ کو ہرانا ناممکن تھا لہذا حجر بن حجار نے
ابن سعد کے حکم پر تین سو سواروں کے ساتھ تین مقامات پر گھات لگایا اور نہایت
بزدلانہ اور مکاری سے آپ رضی اللہُ عنہ کو شہید کردیا۔
٭حضرت عبد اللہ کلبی رضی اللہ عنہ:
میدان
جنگ میں ابن زیاد بن ابیہ کا غلام ”یسار“ اور ابن زیاد کا مولیٰ ”سالم“ سامنا آیا۔
جنتی لشکر سے حضرت عبد اللہ کلبی اُن گھڑ سواروں سے مقابلہ کرنے کے لئے ایمانی جذبے کے ساتھ پیدل سامنے آئے اور ان دونوں سے بیک وقت بہادری کے
ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے انہیں خاک میں ملادیا۔ ابن زیاد کے غلاموں نے یہ دیکھا اور
یک دم ان پر حملہ کرکے آپ رضی اللہُ عنہ کو رتبہ شہادت سے سیراب کردیا۔
٭حضرت بریر بن حضیر ہمدانیرضی اللہ عنہ:
آپ
ایک عمر رسیدہ اور پاکیزہ روز گار بزرگ تھے چنانچہ میدان میں جو بھی آپ کے سامنے
آتا اپنا سر گنوا بیٹھتا، لہذا جب مخالفین تنگ آگئے تو یزید بن معقل کو حضرت بریر
کے سامنے لاکھڑا کیا، آپ نے اس کا بھی کام تمام کردیا اس کے بعد حضرت بریر رضی اللہُ عنہ امام
عالی مقام رضی
اللہُ عنہ
کی دعاؤں سے حصہ لیکر بجیر بن اوس کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
٭حضرت وہب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:
آپ کی
شادی ہوئے ابھی 17 روز ہوئےتھے، آپ میدان جنگ میں تشریف لائے اور اپنے مد مقابل
حکیم بن طفیل کو نیزہ مار کر ایک ہی حملے میں زمین پر گرادیا اور اس کی ہڈیاں
توڑدیں۔ اس کے بعدآپ نے قلب لشکر پر حملہ کردیا اور دشمن زمین چاٹنے لگے، ابن سعد
کے حکم سے اس کی فوج نے آپ کو گھیرے میں لیکر سر تن سے جدا کردیا۔ اس طرح آپ بارگاہ خدا وندی میں مقبول ہوگئے۔
٭حضرت عمرو بن خالد اور آپ کے بیٹے حضرت خالد رضی اللہ عنہ:
آپ
دونوں ایک کے بعد ایک میدان جنگ میں جلوۂ افروز ہوئے اور فاسقوں فاجروں کو قتل کرنے کےبعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
٭دیگر شہیدانِ کربلا رضی اللہ عنہم:
حضرت
خالد بن عمرو کے بعد میدان کربلا میں شجرِ اسلام کو اپنے خون سے سیراب کرنے کے لئے
حضرت سعد بن حنظلہ تمیمی، حضرت عمرو بن عبد اللہ حجی، حضرت حماد
بن انس، حضرت وقاص بن مالک، حضرت شریح بن عبید، حضرت مسلم بن
عوسجہ اسدی، اس کے بعد آپ کے بیٹے، حضرت ہلال بن نافع بجلی، حضرت عبد
الرحمن بن عبد اللہ یزدی، حضرت یحیٰ بن سلیم، حضرت عبد الرحمن بن
عروہ غفاری، حضرت مالک بن انس، حضرت عمر بن مطاع حجفی، حضرت قیس
بن منبہ، ابن سعد کے چچا زاد بھائی ہاشم بن عتبہ بن وقاص اور آپ کی مدد
کے لئے حضرت فضل بن سیدنا علی المرتضیٰ نو آدمیوں رضی اللہ عنہم کو
لیکر یکے بعد دیگرے میدان کارزار میں آتے رہے اور باغیان
اسلام اور دشمن اہل بیت کے خون سے زمین کو رنگ دیا ۔ اسلام کے ان سپاہیوں نے دشمنانِ
اہل بیت کے ناپاک جسموں سے زمین کا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے ناموس اسلام اور ناموس اہل بیت
کی خاطر اپنی جانیں تک راہِ خدا میں قربان کردیں۔حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ کے
برادران گرامی اور اولادِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہُ عنہمامیں سب سے پہلے شربتِ شہادت پینے والے حضرت فضل بن
علی رضی
اللہُ عنہما
ہی تھے۔
ان سب
کی شہادت کے بعد بھی میدان جنگ سجا ہوا ہے
اور ہزاروں دشمنان اسلام اپنے کندھوں پر
سروں کا بوجھ اٹھائے کھڑے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے جنتی دولہوں نے اپنے سروں پر
شہادت کا سہرا سجایا ہوا ہےاور باراتی فرشتوں کے ہمراہ جنت میں جانے اور اپنے آقا و مولیٰ ، ساقی کوثر، مالک جنت
مصطفٰے کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدار کے
لئے بے تاب ہیں۔
ان
شہیدوں کو دیکھ کر مجاہدین کے دل شوق شہادت سے مچلنے لگے، ہاشم بن عتبہ بن وقاص کی شہادت کے بعد حضرت حبیب
بن مظاہر، حضرت ابو ذر غفاری کے آزاد کردہ غلام حضرت ”حرّہ“ یا ”حریرہ“،
حضرت یزید بن مہاجر جعفی، حضرت انیس بن معقل اصبحی، حضرت عابس بن
شبیب اور ان کاغلام حضرت شوذب، حضرت سیف بن حارث، اِن کے چچازاد
بھائی حضرت مالک بن عبد بن سریع، امام زین العابدین کے تُرکی غلام ،
حضرت حنظلہ بن سعد، حضرت یزید بن زیاد شعبی، حضرت سعد بن عبد
اللہ حنفی، حضرت جنادہ بن انصاری، آپ کے بیٹے عمرو بن جنادہ،
حضرت مرہ بن ابی مرہ، حضرت محمد بن مقداد، حضرت عبد اللہ بن
دجانہ، امیر المؤمنین علی المرتضیٰ کے غلام حضرت سعد، حضرت امام حسین
کے پانچ غلام حضرت قیس بن ربیع، حضرت اشعث بن سعد، حضرت عمر بن
قرط، حضرت حنظلہ اور حضرت حماد رضی اللہُ عنہم ایک ایک کرکے دیوانہ وار میدان میں آتے
گئے اور سمندر شہادت میں غوطہ زن ہوکر جنت
میں موتی سمیٹنے جاتے گئے۔
مذکورہ
حضرات نے ہمت و بہادری، تلوار و نیزہ زنی، تیر اندازی کے ایسے ایسے جوہر دکھائے کہ
مجاہدین نے تاریخ رقم کردی، شہیدوں نے
دشمنوں کے صفوں کو تارتار کردیا ہر طرف خون کی ندیاں بہادیں، یزیدیوں کے پیروں تلے
زمین ہلادی، مجاہدین جس طرف رخ کرتے لشکر کے لشکر پچھاڑ دیتے، البتہ اسلام کے تنہا
شیروں پر منافقین کتوں کے جُھنڈ کی طرح حملہ کرکے انہیں شہید کرتے جارہے
تھے۔
سیدنا امام حسین کے اقربا رضی اللہ عنہ کی شہادتیں:
اب تک
سیدنا امام حسین رضی
اللہُ عنہ
کے دوستوں، غلاموں اور وفاداروں میں سے 53
حضرات جام شہادت نوش کرنے کے بعد اس جہان فانی سے رحلت فرماچکے تھے اور سیدنا امام
حسین اور امام زین العابدین رضی اللہُ عنہما کے
علاوہ19 افراد باقی تھے جن میں امام عالی مقام کے بھائی،بیٹوں اور اقرباء کی تعداد
16 تھی جبکہ دو افراد آپ کے ساتھیوں سے اور ایک شخص آپ کے غلاموں سے باقی بچا تھا۔
حضرت عقیل کی اولادوں رضی
اللہ عنہم کی شہادتیں:
خاندانِ
رسالت کے تحفظ اور اسلام کا پرچم سرخرو کرنے کے لئے سیدنا امام حسین رضی اللہُ عنہ کے
اقربا میں سب سے پہلے حضرت عبد اللہ بن مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہم نے آپ
کی خدمت میں حاضر ہوکر میدان جنگ میں جانے
کی اجازت طلب کی۔ ان کے اصرار پر امام حسین رضی اللہُ عنہنےآپ
کو اجازت دے دی، عبداللہ قدامہ کو شکست دینے کے بعد یزیدی لشکر کے دائیں طرف حملہ
کردیااور میمنہ کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا، دشمنوں کے پیادوں نے آپ کا راستہ روک لیا
اور عمرو بن صبیح صیداوی نے تیر مارکر خاندان عقیل کے فرد کو شہید کردیا۔آپ کی
شہادت کے بعد حضرت عقیل رضی اللہُ عنہ کے
صاحبزادگان حضرت جعفر اور حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہما فرداً
فرداً میدان میں اترے اور دشمنوں کو خون میں نہلانے کے بعد اپنے بھائی بھتیجوں کی
پیروی کرتے ہوئے صراط شہادت پرروانہ ہوگئے۔
حضرت زینب کے بیٹوں رضی اللہ عنہم کی شہادتیں:
جب
حضرت عقیل رضی
اللہُ عنہ
کی اولاد شہید ہوگئی تو امام حسین کے بھانجے اور حضرت زینب کے بیٹوں حضرت محمد بن عبد اللہ ، حضرت عون بن عبد
اللہ رضی
اللہُ عنہم
نے باری باری اجازت حاصل کی اور آرزوئے
شہادت لے کر ایک ایک کر کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے تشریف لے گئے، میدان میں جنگی
جوہر دکھانے کے بعد اپنے رفقاء کے پیچھے پیچھے جنت کی طرف کوچ کرگئے۔
امام حسن کے بیٹوں رضی اللہ عنہم کی شہادتیں:
حضرت
امام حسن کےبیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہُ عنہما امام حسین رضی اللہُ عنہ کی اجازت
سے میدان میں اترے اور مدمقابل طلب کرنے میں وقت ضائع کئے بغیر ابن سعد کے لشکر پر
حملہ کردیا، ابن سعد جان بچاکر اپنے سواروں کے درمیان بھاگ گیا۔ابن سعد کے بھاگنے
کے کچھ دیر بعد ہی بختری بن عمرو شامی پانچ سو سواروں کو لے کر آپ کے سامنے
آگیا،امام حسین رضی
اللہُ عنہ
کی صفوں سے امام حسین رضی اللہُ عنہ کے غلام پیروزان اور جناب محمد بن انس
اور حضرت اسد ابی دجانہ رضی اللہُ عنہم شہزادۂ امام حسن کے دفاع کے لئے
راوانہ ہوئے۔ان چاروں نے دشمنوں کو دن میں تارے دکھادیئے اور اُس کے لشکر کو زیر و
زبر کرتے گئے آخر ان چاروں کو بھی شہید کردیا گیا۔ ان چاروں میں سب سے پہلے ارزق
بن ہاشم کے ہاتھوں حضرت اسد اور اس کے بعد پیروزان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید
ہوئے۔
حضرت
عبد اللہ بن حسن رضی
اللہُ عنہما یزیدیوں
کے لشکر کو درہم برہم کرنے اور کئی دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد اپنے چچا جان
حضرت امام حسین رضی
اللہُ عنہ
کے پاس تشریف لائے اور پیاس کی شکایت کرنے لگے، امام حسین رضی اللہُ عنہ نے
انہیں تسلی دیتے ہوئے خوشخبری سنائی کہ عنقریب تیرے دادا جان اور ابا جان تجھے
پانی پلائیں گے۔ اس بشارت کے بعد حضرت عبد اللہ دوبارہ میدان میں تشریف لائے تو
اُن پر پانچ ہزار افراد نے یک بارگی تیر و تلوار، نیزہ و سنان اور خنجروں سے حملہ
کردیا ، امام حسین رضی اللہُ عنہ کے لشکر سے علمدار حضرت عباس بن علی رضی اللہُ عنہما نے
پرچم حضرت علی اکبر رضی اللہُ عنہ کو دیا اور اپنے بھائی حضرت عون بن
علی رضی
اللہُ عنہما
کو ساتھ لے کر حضرت عبد اللہ رضی اللہُ عنہ کی مدد کو آئے لیکن آپ رضی اللہُ عنہ پہلے
ہی بہت زخمی ہوچکے تھے، اچانک نبہان بن زہیر نے تلوار سے آپ رضی اللہُ عنہ کے
کندھوں کے درمیان وار کیا تو آپ رضی اللہُ عنہگھوڑے
سے زمین پر تشریف لے آئے اور دنیا فانی کو خیر باد کہہ کر اپنے خالق حقیقی سے
جاملے۔
حضرت
امام حسن کے دوسرے بیٹے حضرت قاسم رضی اللہُ عنہما میدان جنگ میں
جانے کے خواہش مند ہوئے لیکن امام حسین رضی اللہُ عنہ نے
اجازت نہیں دی لیکن حضرت قاسم رضی اللہُ عنہ نے اپنے ابا جان رضی اللہُ عنہ کی
وصیت جو تعویذ کے ذریعے انہیں کی گئی تھی
اُسے دکھاکر اجازت طلب کی، امام حسین رضی اللہُ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، حضرت قاسم رضی اللہُ عنہ میدان آئے اور مدمقابل طلب کیا، لڑائی
کے دوران آپ رضی اللہُ عنہ نے
بہت سے سر تن سے جدا کردیئے اور بڑے بڑے بہادروں کو ہلاک کردیا جن میں ارزق اور اس
کے چار بیٹے بھی شامل تھے۔ ارزق کو ایک ہزار سوار کے برابر گنا جاتا تھا۔آپ رضی اللہُ عنہ نے
لشکر پر حملہ کرکے ان پر ہیبت طاری کردی، آپ رضی اللہُ عنہ
دشمنوں پر قیامت برپا کررہے تھے یزیدیوں نے آپ رضی اللہُ عنہ کے
گھوڑے پر تیروں کی بارش شروع کردی اور آپ رضی اللہُ عنہ کا گھوڑا گِرپڑا،
شیش بن سعد بد بخت نے آپ رضی اللہُ عنہ پر نیزے کا وار کیا جو آپ رضی اللہُ عنہ کی
پشت سے پار ہوگیا، جناب قاسم بن حسن رضی اللہُ عنہما کو اس جنگ میں ستائیس (27) زخم آچکے تھے۔آپ رضی اللہُ عنہ جب
گھوڑے سے زمین پر تشریف لائے تو امام حسین رضی اللہُ عنہ کو پکارا،
امام عالی مقام رضی
اللہُ عنہ
نے آکر انہیں اٹھایا اور دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوئے خیمہ کے دروازے تک لے آئے،
حضرت قاسم رضی
اللہُ عنہ
نے خیمے میں مسکراتےہوئے اپنی جان راہِ خدا میں قربان کردی۔
صاحبزادگان علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہم کی شہادتیں:
سیدنا
امام حسین رضی
اللہُ عنہکے
بھانجے اور بھتیجوں کی شہادت کے بعد آپ کے برادران یعنی امیر المؤمنین سیدنا علی
المرتضیٰ رضی
اللہُ عنہ
کے صاحبزادگان حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت عون،
حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ رضی اللہُ عنہم اپنے
دل میں شہادت کا جذبہ لئے میدان جنگ میں تشریف لاتے گئے اور دشمنوں سے زمین کو پاک
کرتے چلے گئے، اسد اللہ رضی اللہُ عنہ کے جانباز شیروں نے لومڑیوں کے لشکروں
کا نہایت بہادری سے مقابلہ کیا اور دین
اسلام کی خاطر اپنی جانیں قربان کردیں۔
لشکر حسینیت کے علمدار حضرت عباس رضی
اللہ عنہ کی شہادت:
میدان
جنگ میں جانے کی اجازت لینے کے لئے حضرت عباس بن علی رضی اللہُ عنہما امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
کی بارگاہ میں پہنچے، امام حسین رضی اللہُ عنہ نے آنکھیں نم کئے انہیں اجازت دے دی۔امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
نے کہا کہ میدان جنگ میں جائیں تو پہلے ان لوگوں پر حجت قائم کریں اور جو کچھ میں
آپ کو بتاؤں وہ کہہ دیں اور اگر وہ نہ سُنیں تو پھر اُن سے جنگ شروع کردیں۔ حضرت
عباس رضی
اللہُ عنہ
جب میدان جنگ میں تشریف لائے تو انہوں نے حجت قائم کرنے کے لئے امام حسین رضی اللہُ عنہ کے
پیغام کو مِن و عَن بیان کردیا۔حضرت عباس رضی اللہُ عنہ کا پیغام سن
کر ابن زیاد کی فوج سے شور اٹھا اور پھر خاموش ہوگئے بعد ازاں کچھ لوگوں نے گالیاں
دینا شروع کردیں اور کچھ لوگ پشیمان ہوگئے اور ایک گروہ زار و قطار رونے لگا۔ لشکر
یزید سے شمر بن جوشن، شیث بن ربعی اور حجر بن الاحجار سامنے آیا اور آپ رضی اللہُ عنہ کی
بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں یزید کی بیعت کرنے کا کہا۔ حضرت عباس رضی اللہُ عنہ نے واپس
آکر امام حسین رضی
اللہُ عنہ
کی خدمت میں جو کچھ سنا تھا عرض کردیا۔ ابھی
بات چل ہی رہی تھی کہ اچانک خیمے سے صدائے العطش اٹھ کر آسمان تک پہنچ گئی، حضرت
عباس رضی
اللہُ عنہ
نے اہل بیت کی چیخوں اور زاری کو سُنا تو نڈھال ہوگئے، پھر آپ رضی اللہُ عنہ نے
ایک مشکیزہ اور دو لوٹے اٹھائے نیزہ تان کر دریائے فرات کی طرف رخ کرلیا۔ نہر فرات
پر چار ہزار افراد کا پہرہ تھا ، دو ہزار لشکریوں نے آپ رضی اللہُ عنہ کا
رستہ روک لیا، آپ رضی
اللہُ عنہ
نے اہل بیت کو پانی پلانے کی تلقین کی، آپ رضی اللہُ عنہ کی بات سنتے
ہی نہر کے پانچ سو سواروں اور پیادوں نے آپ رضی اللہُ عنہ پر
تیر کی بارش شروع کردی، آپ رضی اللہُ عنہ نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اُن پر حملہ
کردیا اور اسّی 80لوگوں کو ڈھیر کرکے اپنے گھوڑے کو پانی میں اتار دیا، آپ رضی اللہُ عنہ نے یزیدیوں
سے مقابلہ کرتے ہوئے فرات کے کنارے پر پہنچ کر مشکیزہ کو پانی سے بھرلیا، آپ رضی اللہُ عنہ پانی
پیئے بغیر گھوڑے پر سوار ہوگئے اور مشکیزہ کندھے پر ڈال لیا، یزیدی پیادوں اور
سواروں نے آپ رضی
اللہُ عنہ
کا رستہ روک کر جنگ شروع کردی، نوفل بن ارزق بد بخت نے حربے کا وار کیا اور آپ رضی اللہُ عنہ کا
دایاں بازوں شہید کردیا، اس کے بعد آپ رضی اللہُ عنہ نے مشکیزہ
دوسرے کاندھے پر ڈالا تو بائیں بازوں کو بھی قلم کردیا گیا، آپ رضی اللہُ عنہ نے
دانتوں کے ساتھ مشکیزے کو کاندھے سے کھینچ لیا ، اچانک مشکیزے پر ایک تیر آکر لگا
اور مشکیزے میں سوراخ ہونے کی وجہ سے تمام پانی بہ گیا۔ حضرت عباس رضی اللہُ عنہ
کاندھوں پر زخم آنے کی وجہ سے گھوڑے کی پُشت سے نیچے گر پڑےاور امام حسین رضی اللہ عنہ کو
امداد کے لئے پکارا، جب آواز امام حسین رضی اللہُ عنہ کے کانوں تک
پہنچی تو آپ نے جان لیا کہ حضرت عباس اپنے والد ِ ماجد رضی اللہُ عنہ کے
حضور پہنچ گئے ہیں۔
حضرت علی اکبر بن امام حسین رضی اللہُ عنہما
کی شہادت:
امام
عالی مقام حضرت حسین رضی اللہُ عنہ نے جب دیکھا کہ دوستوں بھائیوں اور
اقرباء میں سے کوئی شخص پیچھے نہیں بچا تو آپ نے اسلحہ پہن کر میدان کی طرف
جانے کا ارداہ کرلیا، حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بابا کو میدان میں جانے کا
عزم کرتے دیکھا تو آپ کے ساتھ لپٹ گئے اور جنگ میں جانے سے روک لیا اور خود پہلے جنگ
پر جانے کی اجازت طلب کی لیکن امام حسین رضی اللہُ عنہ نے انکار
کردیا، البتہ حضرت علی اکبر رضی اللہُ عنہ نے زارو قطار رو کر اپنے والد مکرم کو
راضی کرلیا، حضرت علی اکبر رضی اللہُ عنہ نے اپنے اہل خانہ کو الوادع کہا اور
میدان کی طرف روانہ ہوگئے، میدان جنگ مبازر طلبی کے باوجود جب کوئی سامنے نہ آیا
تو آپ نے دشمنوں کے لشکر پر حملہ کردیا، آپ رضی اللہُ عنہ نے میمنہ
و میسرہ اور قلب و جناح پر اس تیزی سے حملے کئے کہ دشمنوں کے
لشکر میں شور برپا ہوگیا۔ آپ واپس اپنے بابا جان رضی اللہُ عنہما کے پاس آئے اور پیاس کا عذر پیش کیا
اور آپ رضی
اللہُ عنہ
نےاپنے نانا جان صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی انگشتری مبارک اُن کے منہ میں رکھ دی جسے چوسنے سے اُن کی پیاس بجھ
گئی اور سکون حاصل ہوگیا، آپ رضی اللہُ عنہ دوسری مرتبہ میدان میں تشریف لائے اور
مبازر طلبی کی ، یزیدی لشکر سے طارق بن شیث مقابلے کے لئے آیا ، آپ نے اپنا نیزہ
اس کے سینے میں مارکر ہلاک کردیا، اس کے بعد طارق کا بیٹا عُمر اور طلحہ ان کے
ہاتھوں واصل جہنم ہوا، یزیدی لشکر کے مصراع بن غالب کے ہلاک ہونے کے بعد ابن سعد
کے حکم پر محکم بن طفیل اور ابن نوفل کو ایک ایک ہزار سوار کا لشکر دے کر آپ رضی اللہُ عنہ سے جنگ
کے لئے بھیج دیا، ان لشکروں نے حضرت علی اکبر رضی اللہُ عنہ پر حملہ کردیا لیکن آپ نے ایک ہی حملے میں دو
ہزار سواروں کو پسپا کردیا، آپ رضی اللہُ عنہ پر جنگ کی وجہ سےبہت زخم آچکے تھے بالآخر ابن نمیر کے نیزے کے وار
سے گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے، آپ رضی اللہُ عنہ کی پکار پر امام حسین رضی اللہُ عنہ
میدان میں آکر انہیں اٹھایا اور خیمہ کے دروازے پرلے آئے اور اُن کا سر اپنے آغوش
میں لے لیا، حضرت علی اکبر رضی اللہُ عنہ نے آنکھیں کھولی اور اہل خانہ کو سلام
کہہ کر جنت کی طرف روانہ ہوگئے۔
امام حسین رضی اللہُ عنہ کی اپنے اہل خانہ کو وصیت:
امام حسین رضی اللہُ عنہنے جب
دیکھا کہ ساتھ آنے والے تمام مرد حضرات ایک ایک کرکے راہِ خدا میں جان نچھاور
کرچکے ہیں، خیمے میں صرف ایک ہی شخص حضرت سیدنا امام زین العابدین بیمار حالت میں
موجود ہیں، ان کے علاوہ تمام پردہ نشین خواتین ہیں۔ امام حسین رضی اللہُ عنہ خیمے
میں تشریف لے گئےاور اپنی صاحبزادی حضرت سکینہ رضی اللہُ عنہا کو آغوش میں لے کر اپنی ہمشیرگان کو
فرمایا ! میری شہادت کے بعد سرننگے نہ کرنا، چہروں پر طمانچے نہ مارنا، سینہ کوبی
نہ کرنا اور کپڑے نہ پھاڑناکیونکہ یہ اہل جاہلیت کی عادت ہے۔ اس کے علاوہ امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
نے اہل خانہ کو صبر کر نے کی بھی تلقین
فرمائی ۔
حضرت علی اصغر رضی اللہُ عنہ کی شہادت:
امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
نے ان سب کو تسلی دی اور گھوڑے پر سوار ہوکر میدان کی طرف جانے کا ارادہ کرلیا کہ
اچانک خیمے سے چیخ و پکار کی صدا آنے لگی،
پوچھنے پر پتا چلا کہ ننھا علی اصغر رضی اللہُ عنہ پیاس کی وجہ سے رو رہا ہے، ان کی
والدہ کا دودھ خشک ہوچکا ہے اور شیر خوار بچہ ہلاکت کے قریب ہے۔امام حسین رضی اللہُ عنہ کے
کہنے پر حضرت زینب رضی اللہُ عنہا انہیں اٹھا کر آپ کے پا س لے آئیں،
امام حسین
رضی اللہُ عنہ
انہیں اپنی آغوش میں لے کر مخالفین فوج کے سامنے پہنچے اور انہیں ہاتھوں میں اٹھا کر آواز دی اے لوگو !تمہارے
گمان میں ، میں نے گناہ کیا ہے لیکن اس
بچے کا کوئی قصور نہیں، اِسے ایک گھونٹ پانی دے دو کیونکہ شدت پیاس کی وجہ سے اس
کی والدہ کا دودھ خشک ہوچکا ہے۔
سنگ
دل یزیدیوں نے ابن زیاد کے حکم کے بغیر آپ کے بیٹوں کو ایک قطرہ پانی دینے سے بھی
انکار کردیا، اس کے ساتھ ہی قبیلہ ازد کے ایک بد بخت شخص حرملہ بن کاہل نے تیر
کھینچا اور امام حسین رضی اللہُ عنہ کی طرف چلادیا، وہ تیر حضرت علی اصغر رضی اللہُ عنہ کے
گلے کو چیرتا ہوا حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ کے بازو میں پیوست ہوگیا، پھر آپ رضی اللہُ عنہ خیمہ
کی طرف تشریف لائے حضرت علی اصغر رضی اللہُ عنہ کی والدہ کو بلاکر فرمایا کہ شہید بچے کو لے لیں اِسے حوض کوثر سے
سیراب کیا جائے گا۔
امام حسین رضی اللہُ عنہ کی امام زین العابدین رضی
اللہُ عنہ کو وصیت:
امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
کے ساتھ مردوں میں صرف حضرت امام زین العابدین رضی اللہُ عنہ باقی
بچے تھے اور وہ بھی بیمار تھے، جب انہوں نے اپنے والد گرامی کو اکیلا دیکھا تو
نیزہ اٹھا کر خیمے سے باہر تشریف لے آئے، انتہائی کمزوری کی وجہ سے آپ کا بدن کانپ
رہا تھا، اسی حالت میں آپ نے میدان کا رخ کرلیا، امام حسین رضی اللہُ عنہ تیزی
سے ان کی طرف بڑھے اور انہیں روک کر فرمایا : اے
بیٹے !واپس جا؛کیونکہ میری نسل تجھ سے باقی رہے گی، تو ائمہ اہل بیت کا باپ ہوگا
اور تیری نسل قیامت تک منقطع نہیں ہوگی، اس کے علاوہ خواتین کی نگرانی تیرے ذمے
ہے، میرے نانا جان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور والد گرامی رضی اللہُ عنہ کی
جو امانتیں باقی ہیں وہ تیرے سپرد کرتا ہوں۔
سید الشہداء امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہُ عنہ کی شہادت:
حق و
باطل کے درمیان فرق کرنے، نا اہل اور اسلام دشمن حکمران کے خلاف سیسہ پلائی دیوار
بننے، شریعت مطہرہ کی تعلیمات کو تار تار
کرنے والوں کے خلاف شمشیر بے نیام کرنے، دھوکے باز اور بے وفا کوفیوں کو ان کا صلہ
دینے ،باغِ نبوت کے چمکتے دمکتے پھول، لختِ جگر خاتونِ جنت، اسداللہ حیدر کرار کا
خون، امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہُ عنہ نےمصری
قبہ زیب تن کیا، نانا جان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دستار
مبارک سر پر رکھی، حضرت حمزہ رضی اللہُ عنہ کی ڈھال پشت پر ڈالی، اپنے والد گرامی
رضی اللہُ
عنہ
کی تلوار ذوالفقار ہاتھ میں تھامے ذوالجناح پر سوار ہوئے اور اہل خانہ کو خالق
کائنات کے سپرد کرکے میدان کی طرف تشریف لے گئے۔
امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
جب میدان کے درمیان پہنچے تو آپ نے نیزہ زمین میں گاڑدیا اور آغاز رجز فرمایا :
امام حسین رضی
اللہُ عنہ
نے انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قہر سے ڈرایا، نانا جان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
واسطہ دیتے ہوئے انہیں خود کو شہید کرنے سے روکا اور اہل خانہ کو پانی دینے کی
تلقین فرمائی۔ آپ رضی
اللہُ عنہ
کی باتیں سن کر اہل کوفہ گریۂ و زاری کرنے لگے، بختری بن ربیعہ، شیث بن ربعی اور
شمر بن ذی الجوشن نے اپنے لشکر کی یہ حالت دیکھی تو امام حسین کے پاس آئے اور کہا
کہ اے ابن ابی تراب !اپنی بات لمبی نہ کریں اور اپنے ارادے کو چھوڑ کر یزید کی
بیعت کرلیں، بصورت دیگر ہم آپ کو اسی حال
میں رکھیں گے، دوسری جانب ابن سعد نے جب یہ منظر دیکھا تو اپنے پندرہ ہزار بد
بختوں کو امام حسین رضی اللہُ عنہ کی طرف تیر چلانے کا حکم دے دیا، اللہ
کے حکم سے ان کے تمام تیر خطا کرگئے اور آپ رضی اللہُ عنہ
محفوظ رہے اور واپس اپنے خیمے میں تشریف لے آئے، جب آپ رضی اللہُ عنہ نے
واپس جانے کا ارادہ کیا تو گردو غبار اٹھنے لگا اور ان کے درمیان سے جنّو کا سردار
”زعفر زاہد“ سامنے آیا اور امام حسین رضی اللہُ عنہ کو سلام عرض کیا، زعفر زاہدنے امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
کو اپنا تعارف کروایا اور جنگ میں مدد کرنے کی اجازت طلب کی، امام حسین رضی اللہُ عنہ نے
اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مدد لینے سے انکار کردیا۔
امام
حسین رضی
اللہُ عنہ
نے دوسری مرتبہ میدان کا رخ کیا، آپ رضی اللہُ عنہکے مد مقابل تمیم بن قحطیہ آیا، آپ رضی اللہُ عنہ نے
اس کی گردن پر تلوار ماری جس سے اس کا سر پچاس قدم دور جاگرا، پھر آپ نے یزیدی فوج
پر حملہ کردیا، آپ رضی اللہُ عنہ کی تلوار کی ضرب سے دشمن یک دم بھاگنے
لگے، یزیدابطی نے جب لشکر کو ڈرتے ہوئے دیکھا تو مسلح ہوکر امام حسین رضی اللہُ عنہ کے
سامنے پہنچ گیا اور اپنی شان بیان کرتے ہوئے آپ رضی اللہُ عنہ کی
گستاخی کرنے لگااور تلوارسے وار کردیا، امام حسین رضی اللہُ عنہ نے
اُس کے وار سے پہلے اُس کی کمر پر تلوار
چلادی اور اسے چیر کر دو حصوں میں تقسیم کردیا، پھر آپ رضی اللہُ عنہ نے
فرات کا قصد کیا لیکن یزیدی فوج ان کے درمیان حائل ہوگئی۔امام حسین رضی اللہُ عنہنے
باغیوں کے سروں پر تلوار چلانا شروع کردی اور فرات تک پہنچ گئے لیکن غیبی آواز کی
وجہ سے پانی نوش نہیں فرمایا بلکہ خیمے کی طرف تشریف لے آئے، آپ رضی اللہُ عنہ کے
وار سے دشمنوں کی گردنیں اس طرح گررہی تھیں جیسے خزاں میں درخت کے پتے زمین پر گرتے
ہیں، خیمے میں امام حسین رضی اللہُ عنہ نے
عیال و اطفال کو آخری وصیتیں کیں اور آخری ملاقات کرتے ہوئے الوداع کہا۔
امام عالی مقام سیدنا امام حسین میدان میں تشریف
لائےاور مقابلے کی دعوت دی، ابن سعد نے اپنے لشکر کو اکٹھے ہوکر حملہ کرنے کا حکم
دیا، یزیدی لشکر نے حرکت میں آکر آپ رضی اللہُ عنہ کو گھیرے میں لے لیا، امام حسین
رضی اللہُ
عنہ
نے بجلی کی طرح تلوار چلاتے ہوئے اُن پر حملہ کردیا، آپ رضی اللہُ عنہ کے
واروں سے نعشوں کے انبار لگ گئے، خون کی بارشیں ہونے لگیں، حملہ کرتے ہوئے آپ رضی اللہُ عنہ پھر
فرات تک پہنچ گئے اور پانی پینے کا ارادہ کیا لیکن حصین بن نمیر نے آپ رضی اللہُ عنہکے
چہرۂ اقدس پر تیر چلادیا اور آپ پانی پینے سے قاصر رہے، آپ رضی اللہُ عنہکا
منہ مبارک گھڑی گھڑی خون سے بھرجاتا تو خون باہر بہنے لگتا، بہر حال دشمنوں نے یک
لخت حملہ کرکے آپ کے جسم مبارک کو بہت سے زخموں سے گھائل کردیا، امام عالی مقام رضی اللہُ عنہ نے
جنگ سے ہاتھ روک لیا اور آپ رضی اللہُ عنہ کا گھوڑا بھی کمزور پڑگیا، شمر کے حکم
پر یزیدی پیادوں نے امام حسین رضی اللہُ عنہ کو گھیرے میں لے لیا، آپ رضی اللہُ عنہ نے اُن پر اس طرح شمشیر چلائی کہ وہ
ہزیمت اٹھا کر بھاگ نکلے، جس وقت سواروں اور پیادوں نے حملہ کیا اور آپ کے قریب
پہنچے تو ہیبت کی وجہ سے کوئی بھی ایک قدم آگے بڑھانے کے لئے تیار نہ تھا۔ بالآخر
اُن لوگوں نے آپ رضی
اللہُ عنہ
پر تیروں کی بارش شروع کردی، امام حسین رضی اللہُ عنہ اپنے گھوڑے سے اتر آئے۔ یزیدیوں نے آپ کو پیادہ
دیکھا تو دلیر ہوکر آپ پر حملہ کردیا یہاں تک کہ ایک شخص کا تیر آپ کی نورانی
پیشانی میں پیوست ہوگئی، آپ رضی اللہُ عنہ نے تیر کھینچا اور اپنا ہاتھ مبارک
زخم پر رکھ لیا، جب آپ کا ہاتھ مبارک خون سے لت پت ہوگیا تو آپ نے اُسے چہرے پر مل
کر فرمایا، میں اسی حالت میں اپنے نانا جان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات کروں گااور شہیدوں کی تفصیل بیان کروں
گا۔
اس
دن آپ رضی اللہُ عنہ کے
جسم اطہر پر تیروں، تلواروں اور نیزوں کے 72 بہتر زخم آچکے تھے، اسی حال میں آپ
قبلہ رو ہوکر بیٹھ گئے اور اپنا سر مبارک بحضور کبریا رکھ دیا، آپ رضی اللہُ عنہ کو
شہید کرنے کے ارادے سے ایک ایک دو دو آدمی آتے رہے اور چہرہ مبارک پر نظر ڈالتے
توشرمندہ ہوکر واپس چلے جاتے، جب شمر نے فوجیوں کو آپ رضی اللہُ عنہ کے
قتل سے اعراض کرتے دیکھا تو غضب کرنے لگا، اُ س کی بات سن کر زرعہ بن شریک آگے بڑھ
کر آپ کے ہاتھ مبارک پر زخم لگایا اور دس افراد آپ رضی اللہُ عنہ کو
قتل کرنے کے لئے آگے بڑھے لیکن کسی کی ہمت
نہیں ہوئی، اسی اثنا میں سنان بن انس نے امام حسین رضی اللہُ عنہ کی
پشت پر نیزہ مارا تو آپ رضی اللہُ عنہ زمین پر لیٹ گئے، خولی بن یزید اصبحی
نے اپنے گھوڑے سے اُتر کر آپ کا سر مبارک آپ کے جسم اطہر سے الگ کرنا چاہا تو اس
کا ہاتھ کانپ اٹھا اور اُس کے بھائی شبل بن یزید نے نواسۂ رسول، جگر گوشہ بتول،
نوجوان جنت کے سردار، شیر خدا کے دل کا چین، شہنشاہ اہل بیت ، سید السادات، امام
عالی مقام حضرت سیدناامام حسین رضی اللہُ عنہ کا سر مبارک کو تن سے جدا کردیا، اس
طرح آپ رضی
اللہُ عنہ
محرم الحرام 61ھ کی دسویں تاریخ جمعہ کے روز اپنا وعدہ پورا کر کے خالق حقیقی سے
جاملے۔آپ رضی
اللہُ عنہ
کی شہادت پر زمین پر لرزہ طاری ہوگیا، ملکوت کی عبادت گاہوں میں شور برپا ہوگیا،جبروت
کے باغات سے واویلا کی صدائیں آنے لگی،
آفتاب عالم افروز کی روشنی ختم ہوگئی۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو
واقعہ کربلا کے تفصیلی مطالعے کے لئے مکتبۃ المدینہ
کی کتاب سوانحِ کربلا کا مطالعہ فرمائیں
نوٹ: اس مضمون کو لکھنے میں کتاب ”روضۃ الشہداء“ اور سوانحِ کربلا سے مدد لی گئی ہے۔
از:
مولانا حسین علاؤالدین عطاری مدنی
اسکالر
اسلامک ریسرچ سینٹردعوتِ اسلامی ، المدینۃ العلمیۃ

ملک کے کسی حصے سے چاند نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی، یکم محرم الحرام
اتوار کو ہوگی،ذرائع رویت ہلال کمیٹی
پاکستان
تفصیلات کے مطابق محرم
الحرام کا چاند نظر نہیں آیا، یوم عاشور 9 اگست کو ہوگا،ملک کے کسی حصے سے چاند
نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی، یکم محرم الحرام اتوار کو ہوگی۔ اسلامی
سال 1444 ہجری کے پہلے مہینے محرم الحرام 1444ھ کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت
ہلال کمیٹی کا اجلاس کوئٹہ میں ہواجبکہ زونل ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے متعلقہ
دفاتر میں ہوئے، تاہم ملک کے کسی بھی حصے سے
چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔
اس حوالے سے رؤیتِ ہلال کمیٹی کے رکن مفتی علی اصغر عطاری مدنی صاحب کا اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ”سائنسی اعتبار سے تو آج چاند نظر آنے کے امکانات تھےلیکن ملک کااکثر حصہ ابر آلود ہے، مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کو چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی لہذا بروز اتوار 31 جولائی کو یکم محرم الحرام ہے۔مفتی علی اصغر“

وہ مقدس و بابرکت گھر جس کی تعمیر کا شرف جد
الانبیاء و المرسلین سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کو مرحمت فرمایا
گیا اور جسکی تعمیر کا مقصد حضرت خلیل نے بار گاہ خداوندی میں بایں الفاظ عرض کی :
رَبَّنَاۤ
اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ
بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ -رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ
اَفْىٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ
لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ (ابراہیم،پ13 ،37 )
ترجمہ: کنزالعرفان: اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے
عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ اے
ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور
انہیں پھلوں سے رزق عطا فرماتاکہ وہ شکر گزار ہوجائیں ۔
مگر وہ گھر کئی سالوں سے صنم کدہ بنا رہا جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کے بجائے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے اندھے ،
بہرے ،گونگے بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس
مقدس گھر کو کفر وشرک سے پاک
کرنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نبی آخرالزماں ﷺ کو بھیجا ،اس محسن انسانیت نے صفا کی چوٹی پر جب ایک اللہ
وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کے لئے لوگوں کو کہا تو جنہوں نے آپکی سچائی و امانت
داری پر صادق و امین جیسے القاب دیئے ، جن لوگوں کوآپ اپنی نیک
نیتی و حسن کردار کے ذریعے ان کی آنکھوں کا تارا تھے، ان میں یکایک نفرت و عداوت کے
شعلے بھڑک اٹھے ، وہ آپ کے سخت دشمن بن
گئے،آپ علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے رفقاء کو حرم مکہ میں جانے پر بھی پابندی لگادی اور طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے
حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے جس پر رسولِ خدا ﷺ کو حکم ربانی پر یہ بابرکت شہر چھوڑنا پڑا اور آپ اپنے چند ساتھیوں سمیت رات کے اندھیرے میں مدینہ ہجرت کرگئے ۔روز بعثت سے 8 سن ہجری تک
، یہ عرصہ رسولِ خدا اور دین اسلام کے لئے سخت اور بڑا صبر آزما تھا لیکن آپ اپنی بلند ہمتی اور نیک ارادے کے ساتھ دین کی دعوت و تبلیغ میں لگے رہے اور
اپنی دور اندیشی کے سبب ایسے متعدد فیصلے کئے کہ چند سالوں میں ہی جزیرۃالعرب میں نظریاتی اور عملی انقلاب پیدا ہوا جس سے عرب کے
دور افتادہ خطے بھی نور اسلام سے جگمگا
اٹھا ۔
چنانچہ ایک وہ دن تھا جب نبی کریم ﷺ کو مکہ سے ہجرت
کرنی پڑی اور اب وہ دن بھی آگیا کہ آپ ﷺ
خانہ خدا کو کفر و شرک سے پاک کر کے خالصتاً اللہ ہی کی عبادت کے لئے مختص کردیں تا کہ عرب سے شرک و بت پرستی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے ۔چنانچہ و ہ عظیم دن 8 سن ہجری 17 رمضان
المبارک کا دن تھا جب نبی کریم ﷺ اپنے دس
ہزار جانثاروں کو لیکر مکہ میں داخل ہوئے ۔
مختصراً واقعہ بیان کرتا ہوں کہ صلح حدیبیہ میں دونوں فریقین کے درمیان
کچھ شرائط طے ہوئی تھیں جن میں ایک شرط یہ تھی کہ 10 سال تک دونوں قبائل جنگ نہیں
کرینگے اور عرب کے دیگر قبائل دونوں فریقوں میں سے جس کےساتھ چاہیں اتحاد کرلیں تو
قبیلہ بنو بکر نے قریش کے ساتھ اور بنو خزاعہ نے مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کرلیا اور ان دونوں قبیلوں میں مدت سے لڑائی
تھی ، بنو بکر کی ایک شاخ بنو نفاشہ نے آب وتیر کے مقام پر موقع غنیمت جانتے ہوئے
خزاعہ پر رات کے وقت حملہ کردیا اور اس حملے میں قریش نے خفیہ طور پر مسلمانوں کے
خلاف مدد کی۔ اس واقعہ کی اطلاع جب رسول
اکرم ﷺ کو ملی تو آپ نے قریش کی طرف پیغام
بھیجا کہ تین شرطوں میں سے کوئی ایک شرط قبول کرلیں۔ (01)مقتولین کا خون بہا(02)بنو
نفاشہ کی حمایت سے انکار (03) اعلان کردیں معاہدہ حدیبیہ ٹوٹ گیا ۔
قریش کے نمائندے قرطہ بن عمر نے کہا ہمیں صرف تیسری شرط منظور ہے۔ چنانچہ 10 رمضان المبارک 8 ھ کو آپ ﷺ
اپنے 10 ہزار جانثار صحابہ کو لیکر مکہ کی طرف چلے ، مکہ کے قریب پہنچ کر آپ نے
اعلان کیا جو شخص ہتھیار ڈال دے ، جو اپنے
گھر کا دروازہ بند کرلے، جو حرم مکہ میں داخل ہوجائے ، جو ابو سفیان کے گھر میں
داخل ہوجائے ان سب کے لئے امان ہے پھر آپ
ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے
اور کعبے کو بتوں سے پاک فرماکر دو نفل ادا کئے اور خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد
کفار قریش (مفتوح ) سے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں بتاؤں کہ آج میں تمہارے ساتھ
کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟ کفار مکہ آپ ﷺ کی
طبیعت سے آگاہ تھے تو کہنے لگے ” اخ
کریم و ابن اخ کریم
“ آپ کرم والے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کی رحمت
جوش میں آئی ،فرمایا: ” لا
تثریب علیکم الیوم فاذہبواانتم الطلقاء“ آج کے دن تم پر کوئی الزام نہیں تم سب
آزاد ہو ۔اس غیر متوقع طور پر عام معافی کا اعلان سن کر کفار جوق در جوق مسلمان
ہونے لگے ۔(واقعہ کی تفصیل کے لئے سیرت رسول عربی کا مطالعہ کریں)
اس
مبارک فتح کے نتائج کیا نکلے ؟اور ہمیں اس فتح میں کیا تعلیمات دی گئی ہیں ان کا سرسری
جائزہ :
1 ۔منزل اور کامیابی کی راہ میں اگر ایک راستہ بند ہو جائے تو
ہزار راستے کھولے ہوتے ہیں ،صلح حدیبیہ میں شرائط مسلمانوں کے خلاف تھیں لیکن جب معاہدہ ہوگیا کہ قریش کے ساتھ جنگ نہیں
ہوگی تو نبی ﷺ نے تبلیغ کارخ عرب کے دیگر قبائل کی طرف پھیر
دیا نتیجۃً مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور اسلام پھلتا پھولتا رہا ۔
2 ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاق حسنہ کا درس دیتا ہے چنانچہ مکہ فتح ہونے کے بعد جب
کلید مکہ (کعبہ کے دروازے کی چابی) نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں آئی تو آپ نے عثمان بن ابی طلحہ کو بلایا(کعبے کی چابی ان کے پاس ہوتی تھی، فتح مکہ سے قبل انہوں نے ایک بار رسول
اللہ ﷺ کو کعبے میں جانے سے منع کیا تھااور چابی نہیں دی تھی، اب فتحِ مکہ کے بعد
حضورﷺ نے ان کو بلایا) اور کعبے کی چابی منگوائی، جب انہوں نے لاکردی تو آپ ﷺ نے
دوبارہ ان کو عطافرمائی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے عثمان بن ابی طلحہ سے فرمایا :”یاد
ہے وہ دن جب میں نے کہا تھا کہ ایک وقت آئیگا جب کلید کعبہ میرے قبضہ میں ہو گی
اور جسے چاہوں گا دونگا“توعثمان بن ابی
طلحہ نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق کی ۔ بعض روایات کے مطابق عثمان
بن ابی طلحہ نے ابھی تک اسلام قبول نہیں
کیا تھا، حضور ﷺ کا اخلاق دیکھئے کہ پھر بھی چابی انہیں کو عطا فرمائی۔ چنانچہ بعض روایات کے مطابق عثمان بن ابی طلحہ آ پ ﷺ کے اس اخلاق حسنہ سے متأثر
ہو کر اسلام قبول کرلیا اور آپﷺ کے عقیدت مندوں میں شامل ہوگئے۔
3 ۔اس عظیم فتح اور عظیم فاتح نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ
فتح مندی نشے میں چور ہونے کا نام نہیں جس طرح جدید دور میں فتح کے بعد ناچ گانے
، آتش بازی بےہودہ رسومات کی جاتی ہیں بلکہ رسول اکرم ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد تسبیح واستغفار کی ، دو رکعت نفل ادا کی اور خطبہ دیا ۔ سورۃ
النصر میں ہے کہ جب فتح آگئی اور لوگ فوج
در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو اے نبی! آپ اپنے رب کی حمد کیجیئے اور استغفار
کیجیئے ۔
4۔ طاقت و اقتدار رکھ کر بدلہ لینے کے باوجود عام معافی کا اعلان کرکے نبی کریم ﷺ
نے عالمی امن کے پیغام کی واضح مثال پیش کی ہے کہ کس طرح فتح کے بعد امن وامان کی صورتحال کو باقی رکھا جائے
اور خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر اپنی فتح کو برقرار رکھا جائے ۔
5 ۔فتح مکہ ہمیں اللہ تعالی کے وعدے پر امید دلاتی ہےلیکن اسکے
وعدے کی تکمیل کے لئے خود انسان کو کتنی کوشش ،محنت اور مصائب پر صبر کرنا پڑتا ہے یہ بات آپ فتح مکہ سے
پہلےحضور ﷺ کی سیرت کو دیکھیں کہ کس طرح
آپﷺ نے دین کی خاطر محنت و کوشش کی ۔
6 ۔ حضور نبی کریمﷺ کاعمل ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دشمنوں کو دوست کس طرح بنایا جائے ؟ چنانچہ عفو ودرگزر کر کے عام معافی
کے بعد کئی مخالفین جو آپﷺ کے دشمن تھے کلمہ
پڑھ کر مسلمان ہوتے گئے۔ چند وہ افراد جن کو خاص قتل کرنے کا حکم دیا گیا
تھا لیکن ان میں
بھی صحابہ کرام نے بعض کی سفارش کی تو معاف کردیئے گئے
اور مسلمان ہوگئے اور اس طرح جزیرۃ العرب سے بت پرستی و شرک کا خاتمہ ہوگیا ۔
از۔مولانا محمد مصطفی انیس عطاری مدنی
المدینۃ العلمیہ اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی

ہرصاحبِ ایمان شخص اللہ پاک سےمحبت کا دم بھرتااور اس کی دوستی
و کرم نوازی کا متلاشی رہتا ہے، مگر یہ دوستی اُسی خوش قسمت مسلمان کے حصے میں
آتی ہےجس کو وہ اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اور جنہیں ربِّ کریم اپنادوست بنالےتو ان کا ذکر اس دنیا سے جانے کے بعد بھی باقی رہتا ہے، ایسے لوگوں
کو اولیاء اللہ کہتے ہیں۔اولیائے کرام کے شب و روز اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری والے کاموں میں بسر
ہوتے ہیں اور ان نفوسِ قدسیہ کا دامن گناہوں کی آلودگیوں سے صاف و شفاف رہتا ہے،اسی لئےاللہ پاک انہیں دیگر
فضائل و کما لات و اختیارات عطا فرمانے کے ساتھ
ساتھ نہ صرف انہیں پنا قربِ خاص عطافرماتا ہے بلکہ ان کے سروں پر
اپنی ولایت کا روشن تاج سجا کردنیا میں انہیں ”کرامات“ اور آخرت میں جنت جیسی عظیم الشان نعمت انعام کی صورت میں
عطافرماتا اور اپنی رضا کے تمغۂ امتیاز سے نوازتا ہے۔ انہی خوش نصیب اولیاء کرام کی فہرست میں دوسری
صدی کی عظیم شخصیت حضرت سیدنا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ
علیہ ہیں،
جن کےفیضان سے آج بھی بالخصوص کراچی اور بالعموم پاکستان بھر کے عاشقان رسول فیضیاب ہو رہے
ہیں،اسی مناسبت سے آج حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کے حوالے سے کچھ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کررہاہوں ۔
سیرت
و تعارف
٭حضرت
سیدعبد اللہ شاہ غازی الاشتر 98ھ میں اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔٭حضرت سید عبد اللہ
شاہ غازی نے مدینَۂ منورہ میں آنکھ
کھولی۔٭ حضرت عبداللہ شاہ غازی کا تعلق اہل بیت اطہار کے گھرانے سے ہے۔٭ آپ کےوالد صاحب کا نام حضرت سید محمدنفس ذکیہ تھا جوکہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے ۔٭حضرت سیدعبداللہ شاہ غازی حسنی
حسینی سیِّد ہیں آپ کا سلسلہ نسب پانچویں
پشت میں مولاعلی شیر خدا کر م اللہ وجہہ الکرم سے
ملتاہے٭آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد صاحب کے زیرِ سایہ مدینۂ منورہ میں ہی
ہوئی۔ ٭ آپ علمِ حدیث میں ماہر تھے۔ ٭ آپ میں علم کے جو ہر موجو د تھے، آپ نے
اپنے علم کی روشنیوں سے کئی لوگوں کو منوّر کیا۔٭آپ سندھ میں 12 برس تک اسلام کی
تبلیغ میں مشغول رہے اور مقامی آبادی کے
سینکڑوں لوگوں کو اسلام سےمشرف کیا۔ ٭آپ
نہایت عابدو زا ہد ،متقی ،بلند ہمت،دِین کا درد رکھنے والے اور لوگوں پر انتہائی
شفیق اور مہربان تھے۔٭آپ کا شمار تابعین یاتبع تابعین میں ہوتا ہے۔٭آپ کے اخلاقِ
کریمانہ سے بہت سے لوگ متأثر ہوکر دائرہ
اسلام میں دخل ہوئے۔ ٭اندرونِ سندھ پاکستان میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی آمد دوسری ہجری میں ہوئی۔ ٭حضرت سیدعبداللہ شاہ غازی سندھ میں داخل ہونے والے پہلے سادات گھرانے کے بزرگ و مبلغ تھے۔٭20ذُوالحجۃُ
الحرام151 میں آپ شہید ہوئے۔٭کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں آپ کا مزارِ پُر انوار اپنی برکتیں لُٹارہا ہےاور اپنی نورانیت اور برکت
سے اس شہر کو خصوصاً اور پورے پاکستان کو عموماً اپنی رحمت میں لیے ہوئے ہے۔٭آپ کے
مزار پر انوار پر آنے والے زائرین کو دلی سکون حاصل ہوتاہے ا ور مرادیں پوری ہوتی
ہیں ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا اکثر
راہ خدا میں جہاداور دین اسلام کی تبلیغ سر بلندی کے لئے گزرا اسی وجہ سے
آپ کا ایک لقب غازی ہے،آپ رحمۃ
اللہ علیہ 760 عیسوی میں 400
افرا د کے قافلے پر مشتمل لوگوں کے ساتھ سندھ میں تشریف لائےاگر یہ کہا تو بے جا
نہ ہوگا کہ خطہ سندھ کو یہ شرف حاصل ہےکہ
حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہاہل بیت کے وہ پہلے
فرد ہیں جنہوں نے سندھ کی دھرتی کو اپنے قدموں کی برکت سے نوازا ا ور یہاں لوگوں کو کفرو شرک کی ناپاکیوں سے نکال کر اسلام کی روشن تعلیمات سے آگاہ کیا اور رب کریم کی وحدانیت اور اس کے پیارے رسول کی سنتوں کا عاشق بنایا۔
کرامت :
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کی کتابوں میں آپ کی مشہور کرامات میں سے ایک کرامت جو آج بھی آپ کے مزار پر
انوار کے پہلو میں ہے وہ میٹھے پانی کا کنواں ہے ۔جس کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ جب
آپ کو شہید کیا گیاتو آپ کےمریدین آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پرانوار کے پاس رہےکہیں دشمن آپ کے جسم مبارک کو نکال کر نہ لے جائیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار اونچائی پر تھا اس لئے مریدوں کو پانی لینے جانے میں پریشانی تھی تو مریدین نے آپ کے وسیلے سےعاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا کی،توایک مرید کےخواب میں آپ
رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے اور دعا کی قبولیت کی خوشخبری دی کہ اللہ کریم نے تمہاری دعا قبول فرمالی اور آپ کے مزار پرانوار کے پاؤں کی جانب سے ایک میٹھےپانی کا کنواں جاری ہوگیا،آج بھی اس کنواں کے پانی سے ہزاروں لوگ سیراب ہوتے ہیں اور کئی بیماروں کو شفا نصیب ہوتی ہے،کئی غم زدوں کو راحت
نصیب ہوتی ہے ۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی 20 جولائی 2022 بمطابق 20
ذوالحجۃ الحرام سے آپ
رحمۃ اللہ علیہ کا1292واں عرس مبارک شروع ہورہا ہے بالخصوص کراچی،پاکستان کےدیگر شہروں اور بالعموم دنیا بھر
سے کثیر عاشقان اولیاء آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر حاضری دے کر اپنی روحانیت کو مضبوط کرتے ہیں ،اپنے مَن
کی مرادیں پاتے ہیں اور عرس مبارک میں
شریک ہوکر آپ رحمۃ
اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایصال ثواب پیش کرتے ہیں،الحمدللہ
!عالم اسلامی کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے شعبے مزارات اولیاء کے تحت عرس میں شریک ہونے کی والوں کی تربیت اور اصلاح کا خاص اہتمام ہوتا ہے اور آپ کے
مزار پر انوار پر تلاوت قرآن ، نعت خوانی، فاتحہ اور ایصال ثواب کاسلسلہ ہوتاہے ،22 جولائی 2022ء کو بعد نمازِ
مغرب مزارِ مبارک پر عرس کی اختتامی تقریب دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام منعقد
کی جائے گی جس میں ترجمان دعوتِ اسلامی و مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا
حاجی عبدالحبیب عطاری سنتوں بھرابیان فرمائیں گے جبکہ ثناخوان حضرات عقیدت کے پھول
نچھاور کریں گے۔ یہ محفلِ نعت مدنی چینل پر براہِ راست نشر بھی کی جائے گی۔ آپ
بھی حضرت عبداللہ شاہ غازی کے عرس کے سلسلے میں اپنے اپنے گھروں میں فاتحہ اور ایصال ثواب کا اہتمام کیجئے ۔اللہ کریم
ہمیں اولیاء کرام کے فیضان سے مالا مال فرمائے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین متین کی خدمت کرنےکی توفیق عطا
فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
از: مولانا عبدالجبار عطاری مدنی
اسکالر:المدینۃ العلمیہ(اسلامک ریسرچ سینٹر)

امام اہل سنت اعلحضرت کے بیشمار خلفاء تھے جو برصغیر اور حرمین شریفین
اور دیگر بلاد تک پھیلے ہوئے تھے رسالہ اَلإجَازاتُ
المَتِیْنَة لِعُلَمَاءِ بَكَّة وَالْمَدِیْنَة کے سرسری مطالعے سے آپ کے خلفاء کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے آپ کے متعین خلفاء
کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم انہی میں سے ایک محدث مغرب حضرت علامہ عبد
الحی بن عبد الکبیر الکتانی رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی ہیں۔
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث ، فقیہ ، مؤرخ ، مصنف، شاعر ، عظیم مبلغ اور سلسلہ کتانیہ کے پیشواتھے آپ کو تفسیر ،
حدیث ، فقہ ، اصول فقہ، تصوف، تاریخ اور لغت پر مکمل عبور حاصل تھا تاہم خاص شغف
علم حدیث و اسماء الرجال میں تھا آپ کی مشہور و معروف کتب ’’فھرس الفھارس ‘‘ اور ’’التراتیب
الاداریة ‘‘ ہیں۔ آپ کو پانچ سو ( 500 ) سے زائد مشائخ سے اکتساب فیض اور اجازت و خلافت کا شرف
حاصل ہے ۔
آپ اس
لحاظ سے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں کہ عرب میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جس عظیم محدث کو سب سے پہلے شرف خلافت و اجازات سے نوازا وہ آپ
کی ہی ذات گرامی تھی ۔
امام اہل سنت امام
احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ سے محدث
مغرب کی ملاقات مکہ مکرمہ میں 1323ھ بمطابق 1905ء کو ایام حج کے دوران ہوئی اس ملاقات میں امام اہل سنت
نے اجازت عامہ فی السلوک کی اجازت طلب کرنے پر دی ۔
امام اہل سنت آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :محدث المغرب، جلیل المنصب،السید الفاضل العالم الکامل مولانا السید عبدالحی
ابن السید الکبیر الشریف عبد الکبیر الکتانی الفاسی۔(اَلإجَازاتُ المَتِیْنَۃ لِعُلَمَاءِ بَكَّۃَ
وَالْمَدِیْنَۃ، ص: 6 )
مزید دوسری جگہ ارشاد فرمایا:المحدث الفاضل ،العالم
الکامل، السید النسیب، الحسیب الاریب، مجمع الفضائل، مبنع
الفواضل مولانا السید الشیخ محمد عبدالحی ابن الشیخ الکبیر السید عبد الکبیر
الکتانی الحسنی الادریسی الفاسی محدث الغرب بل محدث العجم والعرب انشاء الربث۔( اَلإجَازاتُ المَتِیْنَة لِعُلَمَاءِ
بَكَّة وَالْمَدِیْنَة ،ص: 17 )
امام اہل سنت کا القاب سے ذکر کرنا محدث مغرب کی علمیت و
جلالت کا ظہور ہے ۔
مزید یہ کہ محدث مغرب رحمۃ اللّٰہ علیہ امام اہل سنت کی علمی وجاہت
اور روحانی شخصیت سے اس قدر متأثر ہوئے کہ زندگی بھر ان کا تذکرہ ادب و احترام سے
کرتے رہے یہی جھلک آپ کی تحریروں میں بھی نظر آتی ہے ،آپ نے امام اہل سنت کا تذکرہ
انتہائی عقیدت و احترام اور القاب سے کیا جیسا کہ اپنی کتاب’’الاجوبة
النبعة عن الاسئلة الاربعة‘‘ میں امام اہل سنت کے بارے میں ارشاد فرمایا : صاحب
التألیف العیدیدۃ العلامة الکبیر الشھاب احمد رضا علي خان البریلوي الھندي۔( الاجوبة النبعة عن الاسئلة الاربعة ص 70 )
اسی طرح دوسری جگہ مسلسل بالاولیہ کا ذکر کرتے ہوئے ’’ فھرس
الفھارس‘‘ میں ان القاب سے ذکر خیر کیا : وحدثنا به
الفقیه المسند الصوفی الشھاب احمد رضا علي خان البریلوي الھندي و ھو اول حدیث
سمعته منه بمکة۔( فھرس
الفھارس ، ج: ،1 ص: 86 )
علامہ کتانی نے اپنی کتاب ’’ اداء الحق
الفرض الذین یقطعون ما امر الله به ان یوصل و یفسدون فی الارض ‘‘ میں اپنے بعض مشائخ کا تذکرہ کرتے ہوئے امام اہل سنت کا
بھی ذکر خیر فرمایا ۔ یہ کتاب ابھی طبع تو نہیں ہوئی البتہ مخطوط سے امام اہل سنت
کا تعارف علیحدہ طور پر مکتبہ دار الامام
یوسف النبھانی سے ’’ ترجمہ امام اہل السنہ احمد رضا خان البریلوي‘‘ کے نام سے
کتابی صورت میں طبع ہوچکا ہے ۔
شیخ کتانی نے امام اہل سنت کی خدمات کا ذکر اپنی کتاب ’’ الیواقیت
الثمینة فی الاحادیث القاضیة ‘‘ میں کیا اور’’
المباحث الحسان المرفوعة الی قاضی تلسمان‘‘ میں امام اہل سنت کو بطور شیخ تصوف ذکر کیا ۔( المباحث الحسان المرفوعة الی قاضی تلسمان، ص: 252)
الله پاک ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین
حوالہ جات
خلیفہ امام اہل سنت شیخ سید عبدالحی الکتانی ادریسی حسنی فارسی
رحمۃ اللّٰہ علیہ (مخلصاً )،فھرس الفھارس، المباحث
الحسان المرفوعة الی قاضی تلسمان،الاجوبة النبعة عن الاسئلة الاربعة،الإجازات
المتینة لعلماء بكَّة وَالمدینة
از: قلم
احمدرضا مغل،16 شعبان المعظم 1443
بمطابق 20 مارچ 2022،بروز اتوار

سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کا تعارُف:
حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام اللہ پاک کے
برگزیدہ رسول ہیں۔ آپ کا لقب ’’خطیب الانبیاء‘‘ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کو انتہائی اچھے طریقے سے دین کی دعوت
دیتےتھے۔ نیز اللہ
پاک کے آخری نبی، محمد عربی صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُنا
شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کا
تذکرہ کرتے تو ارشاد فرماتے: ’’وہ خطیب الانبیاء تھے۔‘‘(نوادر الاصول، الاصل الثالث و
الستون والمائتان،۶/ ۲۰۶، تحت الحدیث:۱۴۰۸) حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام جَلیلُ القدر رسول حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کے سسر اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ
السَّلَام کے اوصاف:
اوصاف:(1)…حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم میں انتہائی امانت دار شخص کی حیثیت سے
معروف تھے، اسی لئے توحید ورسالت کی دعوت دیتے وقت آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے قوم
سے فرمایا:اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۷۸) (پ۱۹، الشعراء: ۱۷۸) ترجمۂ کنزالایمان: بےشک میں تمہارے لئے اللہ کا امانت دار رسول ہوں۔ (2)…دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی طرح حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی بےلوث ہو کر اور صرف رضائے الٰہی کے حصول
کے لئے توحید و رسالت کی دعوت دی۔ چنانچہ قوم سے فرمایا:وَ مَاۤ
اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَؕ(۱۸۰)(پ۱۹، الشعراء: ۱۸۰) ترجمۂ کنزالایمان: اور
میں اس (تبلیغ) پر تم
سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد:
قرآنِ کریم میں حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی دو شہزادیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے
ایک حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام جیسے جَلیلُ القدر اور اُولُوا الْعَزم رسول کے نکاح میں آئیں۔ چنانچہ فرمانِ باری
تعالیٰ ہے:
قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ
اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ (پ۲۰، القصص:۲۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: کہا
میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں۔
سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم:
اللہ پاک نے حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کو دو قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا:(1)…اہْلِ مدین اور (2)… اَصْحَابُ الْاَیْکَہ۔(روح المعانی، الاعراف، تحت الایة:۸۵،جزء۸،
۴/ ۵۷۵) مدین: سے
مراد وہ شہر ہےجس میں رہنے والوں کی طرف حضرت شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔(روح المعانی، ھود، تحت الایة:۸۴،جزء۱۲،
۶/ ۴۳۰) اَصْحَابُ الْاَیْکہ: جنگل اور جھاڑی کو ’’ایکہ‘‘ کہتے ہیں، ان لوگوں
کا شہر چونکہ سرسبز جنگلوں اور مرغزاروں کے درمیان تھا اس لئے انہیں قرآن پاک
میں’’اَصْحَابُ الْاَیْکَہ‘‘ یعنی جھاڑی والے فرمایا گیا۔ یہ شہر، مدین کے قریب واقع تھا۔ (خازن، الحجر، تحت الایة:۷۸، ۳/ ۱۰۷۔
جلالین، الشعراء،
تحت الایة:۱۷۶، ص ۳۱۵)
قوم کو نیکی کی
دعوت:
مدین کے رہنے والے لوگ کفر و شرک، بت
پرستی اور ناپ تول میں کمی کرنے جیسے بڑے گناہوں میں مبتلا تھے۔ حضرت سیِّدُنا شعیب
عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں احسن انداز میں توحید و رسالت پر ایمان لانے کی
دعوت دی اور ناپ تول میں کمی کرنے اور دیگر حقوق العباد تلف کرنے سے منع فرمایا۔
عرصہ دراز تک وعظ و نصیحت کے باوجودصرف چند افراد ہی ایمان لائے اور دیگر افراد کو
قوم کے سرداروں نے قوم کو معاشی بدحالی سے ڈرا دھمکا کر ایمان قبول کرنے سے روکے
رکھا۔ (ابو
سعود، الاعراف، تحت الایة:۹۰، ۲/ ۲۷۶۔روح البیان، الاعراف،
تحت الایة:۹۰، ۳/ ۲۰۳
ملخصًاو ملتقطًا)
اہْلِ مدین کے گناہ
اور بُرائیاں:
قرآنِ پاک میں اہْلِ مدین کے درج ذیل گناہوں کا تذکرہ ہے: (1)… اللہ پاک کی وحدانیت کا انکار۔ (2)…بتوں کی پوجا
کرنا۔
(3)…نعمتوں کی ناشکری۔ (4)…ناپ تول میں کمی۔ (5)…لوگوں کو ان کی چیزیں کم
کرکے دینا۔ (6)…زمین میں فساد پھیلانا۔ (7)…لوگوں کو اذیت دینے کے لئے راستوں میں بیٹھنا۔ (8)…لوگوں کو اللہ پاک
پر ایمان لانے سے روکنا۔ (9)…لوگوں کو حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام سے دور کرنے کی کوشش کرنا۔ (10)…حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلانا۔ (11)…نبی کو اپنے جیسا بشر کہنا۔(12 تا 15)…نماز پڑھنے والوں اور اہْلِ علم پر طنز کرنا،
اپنی بڑائی جتانا اور اہْلِ ایمان کو حقیر جاننا۔ (پ ۸، ۹،
الاعراف: ۸۵ تا ۹۳۔ پ ۱۲، ھود: ۸۴ تا ۹۵۔ پ ۱۹، الشعراء: ۱۷۶ تا ۱۹۰ ملخصًا)
ناپ تول میں کمی کرنے پر قرآنی وعید:
اللہ رَبُّ
الْعٰلَمِیْن قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَیْلٌ
لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا
اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲)وَاِذَاكَالُوْهُمْ
اَوْوَّزَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَایَظُنُّ
اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴)لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ
یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ۳۰، المطففین:۱
تا ۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: کم
تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ(ناپ) کر لیں پورا لیں اور جب انھیں ماپ یا تول کر
دیں کم کر دیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں
کہ انھیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے
لیے جس دن سب لوگ ربُّ الْعٰلَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔
تفسیر خزائن العرفان:
(سورۂ مُطَفِّـفِیْن کا) شانِ نزول :رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جب مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے تو یہاں کے لوگ
پیمانہ میں خیانت کرتے تھے، بالخصوص ایک شخص ابو جہینہ ایسا تھا کہ وہ دو پیمانے
رکھتا تھا لینے کا اور دینے کا اور ان لوگون کے حق میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور
انہیں پیمانے میں عدل (انصاف)
کرنے کا حکم دیا گیا۔ (خزائن العرفان، سورۂ مُطَفِّـفِیْن)
تفسیر نور العرفان:
مشہور مفسر،
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ’’کم
تولنے والوں کے لیے خرابی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:دنیا میں بھی اور آخرت میں
بھی، دنیا میں لوگوں کی گالیاں کھاتا ہے، اس کا اعتبار اٹھ جاتا ہے کم تولنے سے
تجارت کا فروغ نہیں ہوتا، رزق میں بےبرکتی ہوتی ہے، آخرت میں اس کا یہ گناہ معاف
نہ ہوگا کیونکہ اس نے بندے کا حق مارا۔ نیز حرام رزق سے دل سیاہ، خیالات خراب، نیک
اعمال برباد ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کم تولنے والا تاجر، چور، ڈاکو سے بدتر
ہے کیونکہ یہ ترازو کے ذریعہ سے چوری کرتا ہے حالانکہ ربّ (کریم) نے ترازو
عدل کے لئے اتاری تھی گویا کہ یہ شریف بدمعاش ہے، کھلے مجرم سے چھپا مجرم زیادہ خطرناک ہے۔(نورالعرفان،
پ۳۰، سورۂ مطففین، تحت الآیہ:۱)
ناپ تول میں کمی کرنے پر حدیث میں وعید:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ
عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد
عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ناپ تول کرنے والوں سے ارشاد فرمایا: ’’تم دو
ایسی چیزوں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو جن کی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہو چکی
ہیں (یعنی
ناپ تول میں کمی کی وجہ سے)۔‘‘(ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجآء فی المکیال والمیزان، ۳/ ۹، حدیث:۱۲۲۱)
حضرت سیِّدُنا نافع رَحْمَۃُ اللہِ
عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ
عَنْہُمَاایک
بیچنے والے کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’ اللہ پاک سے ڈر اور ناپ تول
پورا پورا کر! کیونکہ کمی کرنے والوں کو میدانِ محشر میں کھڑا کیا جائے گا یہاں تک
کہ ان پسینہ ان کے کانوں کے نصف تک پہنچ جائے گا۔‘‘(بغوی، المطففین، تحت الآیة:۳، ۴/ ۴۲۸)
نافرمانی پر قوم کا
انجام:
جب ان لوگوں کے ایمان لانے کی کوئی صورت نہ رہی
تو حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا کے بعد اللہ
پاک نے
انہیں ایک ہولناک چیخ اور زلزلے کے عذاب سے تباہ و برباد کر دیا۔(ابو سعود، الاعراف،
تحت الایة:۹۱، ۲/ ۲۷۶)
قرآن مجید میں ان کے عذاب کو
مختلف مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ
(1)……سورۂ اعراف میں ہے:
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْافِیْ دَارِهِمْ
جٰثِمِیْنَۚۖۛ(۹۱)(پ۹، الاعراف:۹۱)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو انھیں زلزلے نے آ لیا تو صبح
اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔
(2)……سورۂ ہود میں ہے:
وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ
ظَلَمُواالصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْافِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ(۹۴) كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَا بُعْدًا
لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠(۹۵) (پ۱۲، ھود:۹۴،
۹۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور
ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا توصبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے گویا
کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود۔
(3)…… سورۂ عنکبوت
میں ہے:
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ
فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ
جٰثِمِیْنَ٘(۳۷) (پ۲۰، العنکبوت:۳۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو
اُنھوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنھیں زلزلے نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں
کے بل پڑے رہ گئے۔
مردوں سے خطاب:
حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام قوم کی ہلاکت کے بعد ان کی نعشوں کے پاس سے گزرے تو ان سے
خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے میری قوم! بےشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات
پہنچا دیئے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم کسی طرح ایمان نہ لائے اور جب
تم خود ہی کفر پر قائم رہ کر اپنے آپ کو تباہ وبرباد کرنے پر تُل گئے تو میں
کافروں کی ہلاکت پر کیوں غم کروں۔(صاوی،
الاعراف، تحت الایة:۹۳، ۲/ ۶۹۴) قرآن پاک میں ہے:
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ
اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ
وَنَصَحْتُ لَكُمْۚ-فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠(۹۳) (پ۹، الاعرف:۹۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو
شعیب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا
چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیوں کر غم کروں کافروں کا۔
تفسیر صراط الجنان:
کفار کی ہلاکت کے بعد حضرت سیِّدُنا شعیب
عَلَیْہِ
السَّلَام نے ان سے جو کلام فرمایا ا س سے معلوم ہو اکہ مردے سنتے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا
قتادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: ’’اللہپاک کے نبی حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کو سنایا، بے شک اللہ پاک کے نبی حضرت سیِّدُنا صالح عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کو سنایا اور اللہ پاک کی قسم! رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنی قوم کو سنایا۔ (تفسیر
ابن ابی حاتم، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۳، ۵ / ۱۵۲۴)
مُردوں کے سننے کی قوت سے متعلق
بخاری شریف میں ہے: جب ابوجہل وغیرہ کفار کو بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا تو اس
وقت رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ان سے خطاب
فرمایا: فَهَلْ وَجَدْتُّـمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَـقًّا یعنی توکیا تم نے اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے
رب نے کیا تھا؟ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ! آپ ایسے جسموں سے
کلام فرما رہے ہیں کہ جن کے اندر روحیں نہیں۔ ارشاد فرمایا:وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ مَا اَنْتُمْ بِاَسْمَعَ لِمَا اَقُوْلُ
مِنْہُمْ یعنی : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں محمد (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ
وَسَلَّمَ)
کی جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ۳ / ۱۱، حدیث: ۳۹۷۶)
سابقہ اُمتوں کے احوال بیان کرنے سے مقصود:
پچھلی امتوں کے احوال اور ان پر آنے والے عذابات کے
بیان سے مقصود صرف ان کی داستانیں سنانا نہیں بلکہ مقصودنبی آخر الزّمان صَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی
امت کو جھنجوڑنا ہے۔ اِن کے سامنے اُن قوموں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ جن سے
عرب کے لوگ واقف تھے ،جن کے کھنڈرات عربوں کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہوں کے ارد
گرد واقع تھے ،جن کی خوشحالی، بالا دستی اور غلبہ و اقتدار کی بڑی شہرت تھی اور
پھر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی نافرمانی کے
باعث ان کی تباہی و بربادی کے دِلخراش واقعات ہوئے جوسب کو معلوم تھے، یہ واقعات
اور حالات بتا کر انہیں آگاہ کیا کہ محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَبھی انہیں تعلیمات
کو کامل اور مکمل صورت میں تمہارے پاس لائے ہیں جو پہلے نبیوں عَلَیْہِمُ السَّلَامنے اپنی اپنی امتوں
کو اپنے زمانے میں دیں ، اگر تم نے بھی انکار کیا اور سرکشی کی رَوِش اختیار کی تو
یاد رکھو تمہارا انجام بھی و ہی ہو گاجو پہلے منکرین کا ہوتا آیا ہے۔ دونوں جہاں
کی سعادت اور سلامتی مطلوب ہے تو رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرو اور ان
کا دامَن رحمت مضبوطی سے تھا م لو ،تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں سربلندی نصیب ہو
جائے گی۔ (صراط
الجنان۳/ ۳۸۳ملخصاً)
اصحاب ایکہ پر عذاب:
پھر حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کو اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ بھی اہْلِ مدین جیسے
ہی گناہوں میں مبتلا تھے، انہوں نے بھی حضرت شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی تبلیغ سے نصیحت حاصل نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر جہنم
کا دروازہ کھولا اور ان پر دوزخ کی شدید گرمی بھیجی جس سے سانس بند ہوگئے، اب نہ
انہیں سایہ کام دیتا تھا نہ پانی اس حالت میں وہ تہ خانہ میں داخل ہوئے تاکہ وہاں
انہیں کچھ امن ملے لیکن وہاں باہر سے زیادہ گرمی تھی وہاں سے نکل کر جنگل کی طرف
بھاگے، اللہ تعالیٰ نے ایک ابر
(بادل) بھیجا جس میں نہایت سرد
اور خوش گوار ہوا تھی، اس کے سایہ میں آئے اور ایک نے دوسرے کو پُکار پُکار کر
جمع کر لیا، مرد، عورتیں، بچے سب مجتمع ہوگئے تو اچانک زلزلہ آیا اور بادل سے آگ
برسنے لگی، سب کے سب ٹڈیوں کی طرح تڑپ تڑپ کر جل گئے۔ چونکہ ان لوگوں نے اپنی سرکشی
سے حضرت سیِّدُنا شعیب سے یہ کہا تھا کہ’’ تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دواگر
تم سچے ہو۔‘‘(پ۱۹، الشعراء:۱۸۷)اس لئے اس سرکش قوم پر وہی عذاب اس
صورت میں آگیا اور سب کے سب راکھ کا ڈھیر بنا دیئے گئے۔(صاوی، الشعراء، تحت الایة:۱۸۹، ۴/ ۱۴۷۴)
قرآن مجید میں ان کے عذاب کو یوں
بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ سورۂ شعراء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ
الظُّلَّةِؕ- اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۸۹) (پ۱۹، الشعراء:۱۸۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تو انھیں اسے جھٹلایا تو اُنھیں شامیانے والے
دن کے عذاب نے آ لیا بےشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔
قرآنی مقامات:
حضرت سیِّدُنا
شعیب عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی قوموں کا اجمالی ذکر قرآنِ پاک کی
متعدد سورتوں میں ہے جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل پانچ سورتوں میں ہے: (1)… سورۂ اعراف، آیت:85 تا 93۔ (2)… سورۂ ہود، آیت:84 تا 95۔ (3)… سورۂ حجر، آیت:78، 79۔
(4)… سورۂ شعراء، آیت:176 تا 190۔ (5)… سورۂ عنکبوت، آیت:36، 37۔
احکامِ الٰہیہ کی
پابندی میں اپنی ناکامی سمجھنے والے غور کریں:
حضرت سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کو قوم کے سرداروں کو احکامِ الٰہیہ کی پابندی میں اپنی
ناکامی، راہِ راست پر چلنے میں اپنی ہلاکت اور دیْنِ حق پر ایمان لانے میں مہیب
خطرات نظر آتے تھے اور انہوں نے دوسروں کو بھی دیْنِ حق سے دور کرنے کی کوشش شروع
کر دی۔ اس طرح کی بیمار ذہنیت کے حامل افراد کی ہمارے معاشرے میں بھی کوئی کمی
نہیں جو اسلامی احکام پر عمل کو اپنی ترقی وخوشحالی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں
بلکہ اسلامی احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ہمارے ہاں کتنے لوگ یہ نعرہ لگانے والے ہیں
کہ ’’اگر سودی نظام کو چھوڑ دیا، اگر عورتوں کو پردہ کروایا تو ہم نقصان میں پڑ
جائیں گے اور ہماری ترقی رک جائے گی۔‘‘ اس جملے میں اور اہْلِ مدین کے جملے ’’اگر
تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے‘‘ میں کتنا فرق ہے اس پر غور
فرمالیں۔(سیرت
الانبیاء، ص۵۲۵ ملخصاً)
(ازقلم : ابو محمد محمد عمران الٰہی عطاری مدنی)

نام و نسب:
عبد الرحمن بن احمد بن عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن ابو
البرکات مسعود سلامی بغدادی دمشقی حنبلی،شہرت ابنِ رجب کےنام سے ہے۔
ابن رجب کی وجہ تسمیہ:
آپ کے دادا عبد الرحمن کو ماہِ رجب میں پیدا ہونے کی
وجہ سے رجب کہا جاتا تھا ۔آپ کو دادا کی اسی نسبت کے باعث ابنِ رجب کہا جانے لگا۔
کنیت ولقب:
کنیت ابو الفرج اور زین الدین لقب ہے۔
ولادت:
امام ابن رجب رحمۃُ
اللہِ علیہ کی ولادت بروز ہفتہ 15 ربیع الاول 736ھ بمطابق 4 نومبر
1335ء کو بغداد میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ ایک علمی گھرانے پیدا ہوئے ،آپ کے والد اور دادا
اپنے وقت کے جید عالم اور محدث تھے۔چھوٹی
سی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اور بچپن ہی میں احادیث سننے میں مشغول ہوگئے۔آپ نے اپنے والد اور بہت سے مشائخ سے علم
حاصل کیا اور اس کے لئے دوردراز کا سفر کیا۔حصول علم کی طرف راغب کرنے میں آپ کے
والد کا بڑا کردار رہا وہ آپ کوعلم حدیث کی مجلسوں میں ساتھ لے کر جاتے اور احادیث
کی اجازتیں آپ کے لئے حاصل کرتے۔آپ نے مکہ میں شیخ عثمان بن یوسف نویری ،بیت
المقدس میں حافظ کبیر صلاح الدین علائی
،مصر میں صدر الدین ابو الفتح میدومی اور
ناصر الدین ابن ملوک اور قاہرہ میں ابو الحرم محمد بن قلانسی حنبلی رحمۃُ
اللہِ علیہمسےاحادیث سنیں۔ عظیم محدث امام زین عراقی رحمۃُ
اللہِ علیہ علما اور مشائخ سے احادیث سننے میں آپ کے ساتھی رہے۔
اساتذہ:
آپ نے جن اساتذہ اور مشائخ سے علم حاصل کیا ان کی
تعداد پچاس سے زائد ہے۔ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:قاضی القضاۃ حضرت احمد بن
حسن المعروف ابنِ قاضی جبل ،حضرت احمد بن سلیمان حنبلی،حضرت احمد
بن عبد الرحمن حریری مقدسی ، حضرت احمد بن عبد الکریم بعلی ،حضرت ابن عبد الہادی
مقدسی ، حضرت شیخ عز الدین امام ابنِ
جماعہ، حضرت عبد المؤمن بن عبدالحق بغدادی
حنبلی، محدث عراق حضرت ابو حفص عمر بن علی،مؤرخ شام حضرت قاسم بن محمد برزالی،
حضرت ابن خباز محمد بن اسماعیل،حضرت فقیہ ابن نباش حنبلی رحمۃُ اللہِ علیہموغیرہ ۔
تلامذہ:
آپ سے کثیر حضرات نے علم حاصل کیا جن میں چند کے نام
یہ ہیں:حضرت ابنِ رسام حموی حنبلی،مفتی دیار مصر شیخ محب الدین احمد بن نصر،حضرت
داود بن سلیمان دمشقی حنبلی،حضرت ابو شعر عبد الرحمن بن سلیمان حنبلی،حضرت امام
عبد الرحمن زرکشی،حضرت شیخ ابن لحام علی بن محمد بعلی،حضرت علاء الدین ابن مغلی،
قاضی مکہ حضرت محمد بن احمد مقدسی حنبلی،قاضی القضاۃ دمشق حضرت شمس الدین محمد بن
محمد انصاری حنبلی رحمۃُ اللہِ علیہوغیرہ۔
تصانیف:
آپ نے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں یادگار چھوڑیں
جن میں سے کچھ کتب کے نام یہ ہیں:(1)…ذیل طبقات الحنابلہ(یہ
کتاب آپ کی وجہ شہرت بھی بنی)(2)…شرح جامع تِرمذی (3)… جامع العلوم والحکم(4)…فتح الباری فی شرح البخاری(یہ
شرح صرف کتاب الجنائز تک ہے) (5)… اختیار الاولیٰ فی شرح حدیث اختصام الملا الاعلیٰ(6)…نور الاقتباس فی مشکاۃ وصیۃ النبی
صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم لابن عباس(7)…الاستخراج لاحکام الخراج (8)…. نزہۃ
الاسماع فی مسئلۃ السماع(9)… وقعۃ بدر(10)… اختیار الاَبرار(11)… اہوال یوم القیامۃ (12)… البشارۃ العظمیٰ فی ان حظ المومن
من النار الحمی(13)… کتاب التوحید (14)…الخشوع فی الصلوٰۃ(15)…ذم الخمر (16)…ذم المال و الجاہ(17)…رسالۃ فی معنی العلم(18)…التخویف من النار (19)…الفرق بین النصیحۃ والتعییر(20)…فضائل الشام(21)… فضل علم السلف علی الخلف(22)…کشف الکربۃ فی وصف حال الغربۃ (23)… الکشف والبیان عن حقیقۃ النذور
وَ الایمان(24)… اللطائف فی الوعظ ۔ عادات
واطوار:آپ زہد وتقویٰ ،خشیت الٰہی اور فضل وکمال میں اپنی
مثال آپ تھے۔لوگوں سے ملنے جلنے کے بجائے گوشہ نشینی پسند کرتے تھے۔نہ عوامی اور
معاشرتی مسائل سےخبردار تھے اور نہ ہی
حکام وقت سے کوئی سروکار تھی۔علم کی اشاعت اور تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے تھے۔قصاعین کے مدرسہ سکریہ میں رہائش
رکھتے تھے۔ آپ کا علمی مقام اتنا بلند تھا کہ لوگ دور دور آپ کی طرف کھنچے چلے آتے
تھے۔آپ بہترین واعظ تھے۔لوگوں پر آپ کا وعظ اثر انداز ہوتا اور اسے سن کر لوگوں کے
دل بیدار ہوتے ۔وعظ میں آپ کا اسلوب اور انداز حضرت امام ابن جوزی رحمۃُ اللہِ علیہ کی طرح تھا ۔آپ کے وعظ میں آیات و احادیث اور
رقت انگیز اشعار ہوتے جسے سن کر لوگوں پر گریہ اور رقت طاری ہوجاتی۔آپ کو اسلاف کا
کلام اور ان کے واقعات خوب یاد تھے۔تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ آپ کو عبادت کا ذوق وشوق بھی بہت تھا،کثرت کے
ساتھ عبادت فرماتے اور تہجدگزار تھے۔
وفات:
آپ کی وفات بروز
اتوار 6 رجب المرجب 795ھ بمطابق 18 مئی 1393ء کو دمشق میں ہوئی۔ کل مدت حیات 59 سال
3 ماہ 21 یوم تھی۔ بابِ صغیر دمشق میں شیخ حنابلہ امام ابو الفرج عبد الواحد بن محمد
شیرازی دمشقی رحمۃُ اللہِ علیہ کے پہلو میں آپ کی تدفین کی گئی ۔
حوالہ جات: الدر رالکامنہ،2/107دار الجیل بیروت، الاعلام زرکلی،3/295 دار العلم
للملایین بیروت،اردو دائرہ معارف اسلامیہ،1/521، انباء الغمر،1/460 احیاء التراث
الاسلامی مصر، اختیار الاولی،ترجمۃ المصنف،1/13 مکتبہ دار الاقصی کویت وغیرہ۔
ازقلم:محمد
گل فراز مدنی(اسلامک ریسرچ
سینٹر دعوتِ اسلامی)

مسلمان پر پہلا فرض نماز ہے،قرآن
وسنت میں اس کی بہت زیادہ تاکید ومطالبہ ہے۔ روز محشر اسی کے متعلق سب سے پہلے پوچھا جائے گا۔جہاں نماز
کے دینی وروحانی فضائل وثمرات ہیں وہیں اس کے بے شمار طبی، سائنسی اور
دنیاوی فوائد وبرکات بھی ہیں۔پیش نظر مضمون ایسے ہی فوائدوبرکات پر مشتمل ہے۔ یاد
رہے کہ ہمیں نماز اللہ پاک کا حکم سمجھ کر پڑھنی ہے، ضمنی طور پریہ فوائد بھی حاصل
ہوجائیں گے۔ان شاء اللہ
طہارت کے فوائد وبرکات:
نماز کی طہارت میں تین چیزیں آتی ہیں(1)جسم کا پاک ہونا(2)لباس
کا پاک ہونا(3)جگہ کا پاک ہونا۔
(1) جسم کا پاک ہونا:جسم کو چھوٹی اور بڑی دونوں طرح کی ناپاکی سے پاک رکھنا ضروری ہے۔احتیاط کے
ساتھ غسل کرنے سے وہ تمام اعضا دھل جاتے ہیں جو بے دھیانی میں دھلنے سے رہ جاتے ہیں۔ یوں انسان اپنے اندر
فرحت بخش احساس اور نئی زندگی محسوس کرتا
ہے۔یہ فرحت اور تازگی خشوع کے زیادہ قریب کرتی ہے اور دل ودماغ کی تقویت کا باعث
بنتی ہے۔
(2) لباس کا پاک ہونا:اگر نمازی کا لباس پاک نہ ہو تو قسم
قسم کے جراثیمی مادے مختلف بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں ، گندے کپڑوں میں نماز پڑھنے میں وہ تازگی وفریش نیس حاصل نہیں ہوتی جو صاف ستھرے لباس سے ہوتی ہے۔ ناپاک کپڑے والا جہاں بیٹھے وہاں امراض پھیلانے کا سبب بنے نیز ایسے شخص کی
سوشل لائف بھی متأثر ہوتی ہے کہ لوگ اس
سے دو بھاگتے ہیں۔ اسلام نے نماز کے ذریعے بندے کو معاشرے میں رہنے اور عزت والی
زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا کیا ہے کہ
وہ پاک صاف رہے اور سب لوگ اس سے محبت
کریں۔
(3) جگہ کا پاک ہونا: نماز کے لیے ایسی جگہ ہونی چاہیے جو پاک صاف ہو ۔ناپاک اور غیرموزوں جگہ انسانی جسم پر خطرناک اثرات
مرتب کرتی ہے اور پیٹھالوجی(حیاتیات) کے مطابق کئی ایسی بیماریاں پیدا کرتی ہے جو جسم ودماغ کی تمام قوتیں ختم
کردیتی ہیں ۔اس کے علاوہ ناپاک زمین سے تشنج،ہیضہ،ٹائی فائیڈ وغیرہ جیسے موذی امراض کا خطرہ ہوتا ہے۔
وضو کے فوائد وبرکات:
نماز کے لیے وضو ضروری ہے اور وضو میں ہاتھ دھلنے سے ہاتھوں کے جراثیم دھل
جاتے ہیں اور منہ کے راستے جسم میں داخل نہیں ہوپاتے ورنہ متعدد امراض کا باعث
ہوں۔اگر ہاتھ باربار نہ دھلیں تو جلدی رنگت کے خراب ہونے،گرمی دانے،ایگزیما،جلدی
سوزش وغیرہ کے امراض ہوسکتے ہیں۔ کھاتے وقت غذائی ذرات دانتوں میں اٹک کر رہ جاتے ہیں ،یہ متعفن ہوکر تھوک کے ساتھ
معدے میں پہنچتے ہیں نیز دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں کلی ومسواک سے ان
خطرات میں کافی کمی آجاتی ہے۔یوں ہی ہوا
کے ساتھ سینکڑوں جراثیم منہ میں جمع
ہوجاتے ہیں اور لعاب کے باعث منہ میں چپک
جاتے ہیں اور منہ کے کناروں کے پھٹنے، ہونٹوں اور منہ کی داد،چھالوں وغیرہ کا سبب بنتے ہیں ۔دن میں پانچ بار ناک
دھونے سے دائمی نزلہ،زکام اور ناک کے
امراض سے بچا جاسکتا ہے۔چہرہ دھونے سے خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے نیز چہرے پر دانوں اور الرجی سے
حفاظت رہتی ہے نیز چہرے کا مساج ہوجانے سے خون کا دوران متوازن رہتا ہے۔کہنیوں
سمیت ہاتھ دھونے سے اُن تین رگوں کو تقویت ملتی ہے جن کا بالواسطہ دل ودماغ اور
جگر سے تعلق ہے۔مسح کرنے سے دماغ اصلی پوزیشن پر رہتا ہے۔پاؤں دھونے اور انگلیوں
کا خلال کرنے سے اُس انفیکشن سے بچاؤ ہوجاتا ہے جو دھول مٹی اور جراثیم لگنے
سے انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ نیز پاؤں دھونے سے ڈپریشن،بے چینی،بے
سکونی،دماغی خشکی اور نیند کی کمی جیسے مسائل
کا خاتمہ ہوتا ہے۔
نیت نماز کے فوائد وبرکات:
جب نماز کی
نیت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر
جسم میں تناؤ پیدا ہوتا ہے ۔ایسی حالت میں انسان کے اوپر سفلی جذبات کا زور ٹوٹ
جاتا ہے۔سیدھے کھڑے ہونے میں ام الدماغ سے
روشنیاں چل کر ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی پورے اعصاب میں پھیل جاتی ہیں۔۔۔ نماز میں
جب ہاتھ اٹھا کرعورت کندھوں کے اور مرد
کانوں کے قریب لے جاتا ہے تو ایک مخصوص
برقی رو نہایت باریک رگ سے دماغ میں جاتی ہے اور دماغ کے خلیوں کو چارج کردیتی
ہے۔ جس کو شعور نے نظر انداز کردیا تھا۔ یہ خلیے چارج ہوتے ہیں تو دماغ میں روشنی کا ایک جھماکہ ہوتا ہے جس سے تمام
اعصاب متاثر ہوکر دماغ کے اس خانے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس میں دماغ کی روحانی صلاحیتیں مخفی ہیں۔
نماز کے دینی ودنیاوی
فوائد وبرکات:
(1)نماز میں تمام فرشتوں کی عبادات کو جمع کردیا گیا ہے۔(2)نماز
میں ساری مخلوقات کی عبادت شامل ہے،درخت قیام،چوپائے رکوع،سانپ بچھو
سجدے،مینڈک وغیرہ قعدہ اورپرندے ہروقت
انتقالات میں اور یہ سب اشرف المخلوقات انسان کی عبادت میں جمع کردیا گیا۔(3)نماز
برائی سے بچاتی اور حالت درست کرتی ہے،آزمائی ہوئی بات ہے کہ بڑے بڑے گناہ گاروں
نے سچے دل سے نماز شروع کی تو گناہوں سے
بچ گئے۔ (4)نماز مصیبتوں سے بچاتی
ہے،قحط میں نماز استسقاء،مشکل میں نماز حاجت اوربیماری میں نفل نماز۔ (5)نماز
سے ذہن صاف ہوتا ہے اور غصے کی آگ بجھ جاتی ہے۔(6)وضو کرنے والا
دماغی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے اور نماز کے لیے بار بار وضو کیا جاتا ہے۔(7)نمازی
آدمی اکثر تلی کی بیماریوں اور جنون
وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔(8)نمازی کے اعضا دھلتے رہتے،کپڑے وگھر پاک رہتے ہیں اور گندگی سے بچا رہتا ہے اور گندگی سے بیماریاں آتی ہیں ۔ (9)نماز
رزق دلاتی ہے۔ (10)نماز درود غم کا
احساس بھلا دیتی یا کم کردیتی ہے۔ (11)نماز
میں بہترین ورزش ہے کہ اس کے قیام ،رکوع اور سجدے وغیرہ سے بدن کے اکثر جوڑ حرکت
کرتے ہیں۔(12)سجدے
سے بند ناک کھلتی ہے۔(13)آنتوں میں جمع
ہونے والے غیر ضروری مواد کو حرکت دے کر
نکالنے میں سجدہ کافی مددگار ثابت ہوتا
ہے۔
(14)نماز
پڑھنے سے بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے کیونکہ نماز سے قبل وضو سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔(15)نماز
پڑھنے سے جوڑوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔(16) گٹھیا
کے مریضوں کے لیے نماز بہترین علاج اور ورزش ہے۔
نماز فجرکے فوائد وبرکات:
جو شخص فجر پڑھتا ہے وہ خوش خوش ،تروتازہ ہوکر صبح کرتا ہے ورنہ
غمگین د ل اور سستی کے ساتھ صبح کرتا ہے اور اُسے بہت ساری فکریں گھیر لیتی ہیں،
وہ اپنے کام پورے کرنے کے تعلق سے حیران وپریشان ہوکر صبح کرتا ہے اور جو کام
بھی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اُس میں
ناکامیاب رہتا ہے کیونکہ وہ اللہ پاک کی
نزدیکی سے دور ہوکر شیطان کے دھوکے کے جال میں پھنس چکا ہوتا ہے۔نیز صبح انسان
خالی پیٹ ہوتا ہے اور اس حالت میں اٹھتے
ہی فورا سخت محنت اور زیادہ ورزش نقصان دہ ہوتی ہے ،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ
اللہ پاک نے صبح کی نماز مختصر رکھی ہے۔ صبح کی نماز کا ایک مقصد انسان کو طہارت
وصفائی کی طرف مائل کرنا بھی ہے کہ اٹھتے
ہی انسان وضو اور مسواک سے منہ کی اچھی طرح صفائی کرلے تاکہ رات بھر منہ میں موجود رہنے والے جراثیم ختم
ہوجائیں،اگر منہ کے بیکٹریاز اندر چلے
جائیں تومعدے کی سوزش،آنتوں کے ورم اور السر کے خطرات ہوجاتے ہیں۔
نماز ظہر کے فوائد وبرکات:
بندہ
صبح سے دوپہر تک مسلسل کام میں مگن رہتا ہے،مرد گھر سے باہر اور خواتین گھر کے
اندر جس کی وجہ سے ذہن وجسم تھک جاتا ہے اور تجربے سے ثابت ہے کہ اس تھکن کے وقت نماز ظہر ادا کرلی جائے تو یہ
جسم ودماغ کو پھر سے ہشاش بشاش ،تروتازہ اور بقیہ دن میں کام کرنے کے قابل کردیتی ہے۔نیز سورج کی تمازت (گرمی)ختم ہونے کے بعد زمین کے اندر سے ایک خاص قسم کی گیس خارج ہوتی ہے۔یہ زہریلی گیس اگر انسان پر اثرانداز ہوجائے تو
اُسے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا
کردیتی ہے۔دماغی نظام اتنا درہم برہم ہوجاتا ہے کہ آدمی پاگل پن کا گمان کرنے
لگتا ہے۔ جب کوئی بندہ ذہنی طور پر عبادت میں مشغول ہوجاتا ہے اُسے نماز کی نورانی
لہریں خطرناک گیس سے محفوظ رکھتی ہیں۔
نماز عصر کے فوائد وبرکات:
ہر ذی شعور یہ بات محسوس کرتا ہے کہ وقت عصر میں اُس پر تھکان وبے چینی جیسی کیفیت طاری ہوتی ہے اور نماز عصر شعور کو اس حد تک تھکان وبے چینی سے روک دیتی ہے جس سے دماغ پر خراب اثرات مرتب
ہوں۔ وضو اور نماز عصر قائم کرنے والے بندے کے شعور میں اتنی طاقت آجاتی ہے کہ وہ لاشعوری نظام کو آسانی سے
قبول کرلیتا ہے اور اپنی روح سے قریب
ہوجاتا ہے نیز نماز عصر کی پابندی سے دماغ
روحانی تحریکات قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
نماز مغرب کے فوائد وبرکات:
بوقت مغرب عموماً سب گھر والے ایک ساتھ ہوتے ہیں،ماں باپ
اپنے بچوں سے بات چیت کرتے ہیں۔اس باہمی
گفتگو کے لیے ذہنی سکون بے حد ضروری ہے اور جب ذہنی سکون کے ساتھ ماں باپ
اپنے بچوں سے بات کرتے ہیں تووالدین کے اندر کی روشنیاں بچوں میں براہ راست منتقل ہوتی ہیں جس سے اولاد
کے دل میں ماں باپ کا احترام اور وقار
قائم ہوتا ہے اور اس میں اعلی ترین ذہنی
سکون ان والدین کو حاصل ہوتا ہے جو پابندی
کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کرتے ہیں اور
ایسا کرنے والوں کی اولاد سعادت مند اور ماں باپ کی خدمت گزار ہوتی ہے۔
نماز عشاکے فوائد وبرکات:
انسان جب کاروبار
اور اپنی جاب سے گھر واپس آتا ہے تو
کھانا کھاتا ہے اور زیادہ تر لذت حرص میں
زیادہ کھا جاتا ہے۔اب اگر وہ اس کھانے کے بعد لیٹ جائے تو مہلک امراض میں
مبتلا ہوسکتا ہے۔نیز سارے دن کا تھکا ماندہ ذہن لے کر اگر نیند کرے گا تو بے سکون
رہے گالہذا عشا کی نماز پڑھنے سے ممکنہ امراض اور بے سکونی سے بچ جائے گا۔ اب تو ماہرین سونے سے قبل ہلکی ورزش پر زور دیتے ہیں اور خود ماہرین کا کہنا ہے کہ نماز سے بڑھ کر اس وقت کوئی
بہترین ورزش نہیں ۔
باجماعت نماز کے فوائد وبرکات:
(1)نماز
باجماعت درس دیتی ہے کہ معاشرے سے انتشارکا خاتمہ کرکے اتفاق واتحاد کا ماحول پیدا کیا جائے۔(2)نماز باجماعت بتاتی ہے کہ جماعت کے لیے ہم زبان،ہم رنگ یا رشتہ دار ہونا ضروری نہیں ۔یوں ہی ہمیں
اجتماعی زندگی میں بھی اسلام کو معیار
بنانا چاہیے نہ کہ قومیت،نسل،رنگ،خون اور قرابت کو۔پتا چلا قوم مذہب سے بنتی ہے نہ کہ وطن سے۔ (3)نماز باجماعت امیرغریب کا فرق بھی مٹاتی ہے کہ اللہ پاک کی
بارگاہ میں سب برابر ہوجاتے ہیں ،لہذا کوئی اپنے بادشاہ ہونے،حاکم ہونے ،سیٹھ
ہونے یا باس ہونے پر نہ اترائے۔باجماعت نماز میں کبھی تو غریب
اور ملازم اگلی صف میں اور امیراور سیٹھ عین اُس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے ۔بقول ڈاکٹر اقبال :
ایک ہی
صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ
وصاحب ومحتاج وغنی ایک ہوئے
تیری
سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
(4)نماز باجماعت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم وقت کی پابندی کریں۔اولا تو نماز بھی وقت میں پڑھنی ہے پھر ایک
خاص وقت میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے وقت کی پابندی کا ذہن ملتا ہے۔(5)نماز
کے اعمال جیسے رکوع،سجدے پھر تشہد میں بیٹھنا یہ تمام اعمال انسانی جوڑوں اور
ہڈیوں کی تقویت کا باعث ہیں ۔(6)سنت کے مطابق رکوع کیا جائے،کمر سیدھی رہے
اور گھٹنے جھکے ہوئے نہ ہوں تو یہ عمل
معدے کو قوت دیتا اور امراض جگر سے نجات دلاتا ہے۔
نماز میں خشوع وخضوع
کے فوائد وبرکات:
(1) خشوع وخضوع یعنی انتہائی
توجہ کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز خود کشی
کے رجحان کو کم کرتی ہے اور یہ رجحان ذہنی سطح سے کم ہوکر دھل جاتے ہیں ۔
(2)حرص
،لالچ،جھوٹ،بخل،کینہ حسد ایسےباطنی امراض
ہیں جن کی وجہ سے انسان نفسیاتی امراض میں
مبتلا ہوجاتا ہے، پورے دھیان اورتوجہ سے
پڑھی جانے والی نمازان امراض ومسائل سے نجات دلاتی ہے۔
(3)ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو خشوع وخضوع کے
فوائد کا علم ہوجائے تو وہ کاروبار
چھوڑ کرتوجہ کے ساتھ نماز میں لگ جائیں۔
تحریر: محمد آصف اقبال مدنی عطاری

اس اُمّت کے بہترین اور افضل و اعلی افراد
صحابۂ کرام ہیں کہ جو حضور نبی کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی قربت
و صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے،شب و روز آپ کے شربتِ دِیدار سے سیراب ہوتے،آپ پر نزول
ِ وحی کے اثرات ملاحظہ کرتے اور آپ کی ذات
سے صادِر ہونے والے بہت سے معجزات کا ظہور بھی اپنی نگاہوں سے دیکھتے۔ چُونکہ
اِن افراد کی تعلیم و تربیّت خُود نبیِّ کریم فرمایا کرتے تھے اِسی وجہ سے اِن کے
ذہنوں میں آپ کی سوچ،آنکھوں میں نبوت کا سراپا،زندگی میں آپ کا کردار رَچا بسا ہوتا
تھا اور حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی معیت سے شرف یاب ہونے کے طفیل آپ پر نازل ہونے والے
انوار و تجلیات سے اُنہیں بھی حِصّہ ملتا رہا ۔اِسی
وجہ سے صحابۂ کرام کا مقام و مرتبہ اُمَّت میں سب سے بلند و بالا ہے۔
یاد رکھئے!جس طرح تمام انبیاء میں سب سے افضل و اعلی ہمارے آقا و مولیٰہیں اِسی طرح دیگر
تمام انبیاء کے صحابہ میں سب سے افضل مقام
اَصحاب رسول کا ہے،
پھر صحابۂ کرام میں سب سے افضل خلفائے
راشدین (یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق، حضرت سیدنا
عثمانِ غنی اور حضرت سیدنا علی المرتضی ) ہیں اور انہی خلفاۓ راشِدین میں سے تیسرے
خلیفۂ ،جامع القرآن ، کامل الحیاء و الایمان حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی
اللہُ عنہ کا 18 ذی الحجہ کو یوم
شہادت ہے۔ اسی مناسبت سے آپ کی ذات والا صفات کے بارے میں کچھ تحریر کرنے کی
سعادت حاصل کررہا ہوں ،آپ کے حالات و
واقعات کی طرف جانے سے پہلے آپ کا تعارف ملاحظہ
کیجیئے : چنانچہ
حضرت عثمان غنی کا تعارف
آپ کا نام نامی،اسم
گرامی”عثمان“اور کنیت ’’ ابوعَمرو‘‘ہے۔’’ امیر المؤ منین، ذُوالنورین(یعنی دو نور والا) ،کامل الحیاء و الایمان، (حیا اور ایمان میں کامل) ،جامع القرآن
(قرآن
جمع کرنے والے) ،سید الاسخیاء (سخیوں کے سردار) ،عثمان
باحیا وغیرہ
آپ کے مشہور القابات ہیں ۔ مگرآپ کے تمام اَلقابات میں
سے ’’ ذُو النُّورَین‘‘ (یعنی دو نور والا) زياده مشہور ہے۔اس لقب کی زیادہ مشہور وجہ
یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں یکے بعد دیگرے حُضُور پُر نُور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دو
شہزادیاں حضرت سیدتنا رقیہ اور حضرت سیدتنا اُمِّ
کلثوم رضی اللہ تعالی عنھما آئیں،اسی وجہ سے آپ کو ’’ ذُو النّورَیْن‘‘ (یعنی
دو نور وا لا)کہا جاتا ہے۔ (تہذیب
الاسماء، 1/297)آپ خلفائے راشِدین میں تیسرے خلیفہ ہیں۔ (جنتی زیور، ص182 ملخصا) آپ امیر المؤمنین ابوبکر صدیق کی کوششوں سے
اسلام لائے اور اسلام قبول کرنے والوں میں
آپ کا شمار چوتھے نمبر پر ہوتا ہے،جیسا کہ آپ رضی ا للہُ
عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں:ا ِنِّيْ لَرَابِعُ اَرْبَعَةٍ فِي
الْاِسْلَامِ یعنی میں اِسلام قبول کرنے والے 4 اشخاص میں سے چوتھا ہوں۔ (معجم کبیر،1/85،حدیث:124 ) حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہُ عنہ کو بروز جمعہ35ہجری
ماہِ ذی الحجہ میں شہید کیا گیا ۔ حضرت
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہُ عنہ
نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ جنَّتُ البقیع میں سُپردِ
خاک کئے گئے۔ (اسد الغابۃ ،3/ 614-616ملخصا)
حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رضی
اللہُ عنہ کا شمار ان صحابۂ کرام میں ہوتاہے،جن پر اسلام
قبول کرنے کے بعد ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، طرح طرح سے ستایا گیا اور بہت
ہی درد ناک سُلوک کیا
گیا،مگر قربان جائیے!حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہُ عنہ کے عزم و استقلال پر!جو اس قدر ظلم سہہ کر بھی باطل کےآگے ڈَٹے رہے ا ور دینِ اسلام سے ایک انچ
بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہ ہوئے:چنانچہ
جب حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی
اللہُ عنہ
اِسلام لاۓ تو آپ کو نہ صِرف اپنے گھر
والوں بلکہ پُورے خاندان کی طرف سے شدید مخالفت کے ساتھ
ساتھ سخت سزا ؤں کا سامنا کرنا پڑا،یہاں تک کہ آپ کا چچا حکم
بن ابی العاص اِس قَدر ناراض اور برہم ہوا کہ آپ کو پکڑ کر
ایک رَسّی سے باندھ دیا اور کہا: تم نے اپنے باپ دادا کا دِین چھوڑ کر ایک دُوسرا
نیا مذہب اِختیار کرلیا ہے،جب تک کہ تُم اُس نئے مَذہب کو نہیں چھوڑوگے ہم تمہیں
نہیں چھوڑیں گے اِسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔یہ سُن کر آپ نےفرمایا: خُدائے ذُوالجلال
کی قسم! مذہبِ اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا“ ا ور نہ
کبھی اس دولت سے دَسْتْ بَردارہوسکتا ہوں،میرےجسم کےٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو یہ ہوسکتا
ہے مگر دل سےدین ِاسلام نکل جائے یہ ہرگز نہیں ہو
سکتا،حکم بن ا بی العاص نے جب اِس طرح آپ کا ا ستقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کردیا۔ (تاریخ ابن عساکر،39 /26)
ذوق عبادت اور شوق تلاوت
امیر المؤمنین،حضرت سیِّدُنا عثمانِ
غنی رضی اللہُ عنہ کی پاکیزہ سیرت کا ایک
روشن پہلو یہ بھی تھا کہ آپ ساری ساری رات ربِّ
کائنات کی بارگاہ میں سجدہ و قیام کی حالت میں گزار دیا
کرتے ،قبر و آخرت کی فکر میں ڈوبے رہتے اور اپنے ربِّ کریم سے رحمت کی آس لگائے رکھتے تھے۔دن کے اوقات
سخاوت و روزہ کی حالت میں گزرتے تو راتیں بارگاہ ِخداوندی میں سجدہ و قیام اور
تلاوت قرآن میں کٹ جاتی تھیں۔آپ کے شوق ِعبادت
و ذوقِ تلاوت پر مشتمل4 واقعات ملاحظہ کیجئے : چنانچہ
(1)حضرت سیِّدُنا زبیر بن عبداللہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤ منین حضرت
سیِّدُنا عثمان رضی اللہُ عنہ ہمیشہ
روزہ رکھتے اور ابتدائی رات میں کچھ آرام کر کے پھر ساری رات عبادت میں بسر کرتے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ 2/ 173 ، حدیث :6)
(2)حضرت
سیِّدُنا مسروق ، اَشْتَر
(یعنی جس نے
حضرت سیدنا عثمانِ غنی کو شہید کیا تھا ) سے ملے تو پوچھا : کیا تو نے حضرت
سیِّدُنا عثمان رضی اللہُ عنہ کو شہید کیا ہے؟ اس
نے کہا: ’’ہا ں ‘‘ توآپ
نے فرمایا:اللہ پاک کی قسم!تو نے روزہ دار اور عبادت
گزار شخص کو شہید کیا ہے ۔ (معجم کبیر،1/81، حدیث:114)
(3) جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی
اللہُ عنہ کو شہید کیا گیا تو آپ کی زوجہ نے قاتلوں سے فرمایا: ’’تم نے اس شخص کو شہید کیا،جو ساری
رات عبادت کرتا اور ایک رکعت میں قرآنِ کریم ختم کرتا ہے۔ ( الزھد للامام احمد، ص 1 5 3 ، حدیث : 673)
(4) حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن تیمی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: ” مجھے ایک بار مقامِ ابراہیم پر رات
ہوگئی۔ میں عشاء کی نماز ادا کرکے مقامِ ابراہیم پر پہنچا یہاں تک کہ میں اس میں
کھڑا ہوا تو اتنے میں ایک شخص نے میرے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا۔ میں نے دیکھا
تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رضی اللہُ عنہ تھے۔ کچھ دیر بعد آپ نے سورۂ فاتحہ سے قرآنِ کریم
کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ پورا قرآنِ کریم ختم کرلیا۔ “ (الزھد لابن المبارک، ص452،حدیث:1276ملخصا)
تلاوت قرآن کی عادت بنائیے
اے عاشقانِ صحابہ!ان
واقعات سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی ا للہُ عنہ کو
کس
قدر عبادت اور تلاوت قرآن سے محبت تھی ،دن رات ربِّ کریم کا کلام پڑھتے رہتے
تھے۔ مگر افسوس!آج
مسلمانوں کی اکثریت قرآنِ پاک
کی تعلیم سے ناآشنا ہے،بعض نادانوں
کو قرآنِ پاک دیکھ کر پڑھنا بھی نہیں آتا اور جن کو پڑھنا آتا ہے وہ
بھی سالوں سال تک قرآنِ پاک کھول کر نہیں دیکھتے،کئی کئی مہینے گزر جاتے ہیں مگر مسلمانوں کے گھر تلاوت کی برکت سے محروم رہتے ہیں۔ آئیے!آج حضرت عثمان غنی رضی
اللہُ عنہ کے عرس کے موقع پر ہم
بھی نیت کرتے ہیں کہ آج
سے آپ کی سیرت اور اداؤں کو اپناتے ہوئے ہم دیگر عبادات کے
ساتھ ساتھ قرآنِ پاک پڑھیں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی قرآن ِ پاک پڑھنے کی ترغیب دلائیں گے۔ ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ!
18 ذی الحجہ کو اپنے اپنے گھروں
میں حضرت عثمان غنی رضی
اللہُ عنہ کی بارگاہ میں ایصال ثواب پیش کرنے کے لئے فاتحہ
و نیاز کا اہتمام کریں اور اپنے بچوں کو ان کی سیرت کے بارے میں بتائیں،اس کے لئے شیخ طریقت ، امیر
اہل سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کا رسالہ ”کراماتِ عثمان غنی “ خود بھی پڑھئے اور اپنے بچوں
کو بھی پڑھائیے۔اللہ کریم ہمیں اپنے نیک بندوں کے نقشِ
قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
از:
مولانا عبد الجبار عطاری مدنی
اسکالر:المدینۃ
العلمیہ (اسلامک
ریسرچ سینٹر)دعوت اسلامی

اللہ عَزَّ
وَجَلَّ قرآن
مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: وَاَتِمُّوا
الحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہ ترجمۂ کنزالایمان (اور حج اور عمرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے پورا کرو) ۔(البقرۃ، پ2، 196) آیتِ
مبارکہ کے اس جز کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں لکھاہے :اس سے مراد یہ ہے کہ حج و عمرہ دونوں کو ان کے فرائض و شرائط کے
ساتھ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے بغیر
سستی اور کوتاہی کے مکمل کرو۔(صراط الجنان،1، 354، تحت الآیۃ:196)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اولاً حج کا اصلِ
مقصود رضائے الٰہی ہونا چاہیئے، اسی طرح حاجی کا گناہوں سے
پاک ہو جانا اسی صورت میں ہےجبکہ
و ہ صرف اللہ عزوجل کی رضا کے لئے حج
کرے جیساکہ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے:جو صرف اللہ عزوجل کے لئے
حج کرے اور اس میں کوئی فحش بات یا گناہ نہ کرے تووہ حج سے ایسےلوٹتا ہے جیسا کہ
وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔(بخاری، فضل حج مبرور، 1، 512، حدیث1521)
اراکینِ حج اوراسلاف کی یادیں:
حج کا ایک مقصد ہمیں ہمارے اسلاف کی یادوں کے ساتھ جوڑنا ہے کیوں کہ حج میں
ادا کئے جانےوالے اراکین، واجبات، سنتیں
اور مستحبات الغرض احرام باندھنے سے لیکر طوافِ زیارہ تک ہر کام ہمارے اسلاف و
بزرگانِ دین کی یادوں پر مشتمل ہے جن کے
سبب مسلمانوں کا ایمان تازہ ہو جاتا ہیں اوریہ اُن کی بخشش کا سامان بھی بن جاتا ہے۔
مقصدِ حج:
جس طرح اللہ عزوجل نے باجماعت نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا کہ اس طرح مسلمان ایک ہی صف میں
ایک ہی امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، اس طرح اتفاق و اتحاد پیدا ہوتا ہےنیز ایک
غریب انسان بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے امیر آدمی کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہےکہ آقا
ہو یا غلام، خادم ہو یا مخدوم سب اللہ عزوجل کی
بارگاہ میں برابر ہیں کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں مگر تقوے کے ساتھ۔ارشاد خدا وندی
ہے: ان
اکرمکم عند اللہ اتقکم ۔ترجمۂ کنزالایمان(بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والاوہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے)
۔
اسی طرح اللہ عَزَّ
وَجَلَّ نے مسلمانوں کو یکجا و متحد کرنے اور اُن کے
درمیان اخلاص و محبت پیدا کرنے کے لئےانہیں ایک ایسی جگہ جمع ہونے کا حکم دیا جہاں
وہ لوگ نسل، زبان، رنگت اور شہروں کا امتیاز کئے بغیر خالصتاً اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کی رضا کے لئے ایک ساتھ عبادت کریں کیوں کہ
مسلمان مشرق و مغرب تک پھیل چکے تھے اور اُن میں نسل و زبان کے اعتبار سے بھی فرق
آگیا تھالہٰذا انہیں ایک میدان میں جمع
ہونے کا حکم دیا گیا۔
افعالِ حج کی بزرگانِ دین سے نسبت:
جیساکہ ذکر کیا گیا کہ حج کے اراکین و افعال
دراصل ہمارے اسلاف کی یادیں ہیں جس کے ذریعے مسلمان اپنے قلوب و اذہان کو پاک و صاف کرتے اور اللہ عَزَّ
وَجَلَّ سے مغفرت کے طلب گار ہوتے ہیں،ان میں سے بعض درج
ذیل ہیں:
حجرِ اسود کا استلام:
حجرِ اسود ایک جنتی پتھر ہے جس کا حاجی استلام( اپنے
ہاتھ سے چھونا) کرتے ہیں ، زمانہ
جاہلیت میں لوگوں کو پتھر سے دور کیا جاتا تھا جبکہ اس پتھر کو چومنے اور
چھونے کا حکم دیا گیاکیوں کہ پیارے آقا ﷺ
نے جب حج کیا تو حجرِ اسود کو چوما تھا۔(سنن
ابی داؤو، کتاب المناسک، باب فی رفع الیداذا رأی البیت،2، 255، حدیث 1872)
روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے
پاس تشریف لائے اور اسے چوما پھر فرمایا:
میں جانتاہوں تو ایک پتھر ہے، تو نہ کسی کو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ فائدہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہیں دیکھتاتو
میں بھی تجھے نہیں چومتا ۔(بخاری ، باب ماذکر فی الحجر الاسود، 1، 537، حدیث 1597)
صفا اور مروۃ کی سعی:
یہ وہ دو مقام ہیں جن میں بعض مناسکِ حج ادا کئے
جاتے ہیں جیساکہ صفا و مروۃ کے درمیان سعی کرنا یعنی ان مقامات میں اُس شخص کی طرح
چلنا جو کسی چیز کی جستجو میں ہو یا کسی چیز کی تلاش میں ہو ۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی زوجہ سیدہ ہاجرہ رضی
اللہ عنہا اور ان کے شہزادے حضرت اسماعیل علیہ السّلام ان مقامات میں جلوہ افروز
تھےتو اس وقت سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا مشکیزے میں پانی ختم ہونے کے سبب صفا سے مروۃ کے درمیان
دوڑی تھیں تاکہ وہ اپنی اور اپنے شہزادے کی پیاس بھجا سکیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو سیدہ کا یہ عمل اتنا پسند آیا (کیوں کہ انہوں نے یہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی کے لئے کیا تھا) لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے
اس عمل کو حج کے رکن میں شامل فرما دیا۔(صاوی، ابراہیم، 3/ 1027-1028،تحت الآیۃ:37)
قربانی:
اس میں حضرت
ابراہیم علیہ السّلام کی اقتداء ہے، جب اللہ عَزَّ
وَجَلَّ نے
انہیں حکم دیا کہ اپنے لختِ جگر کو ذبح کردو تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اپنے بیتے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو اس معاملے
سے آگاہ کیا تو انہیں عرض کی اے میرے باپ آپ وہ کریں جس کا آپ کو حکم ہوا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السّلاماس حکم
پر عمل پیرا ہونے کے لئے تیار ہو گئے اور اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لئے لٹا
دیا لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت جبرائیل علیہ السّلام کے ذریعے ایک مینڈھا بھیج کر حضرت اسماعیل علیہ
السّلام کو
بچا لیااور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو
قربانی کرنے کا حکم دیا۔(صاوی، الصافات، 5/ 1746-1748)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب بندوں کے افعال اراکینِ حج
میں شامل:
ان جیسے اور بھی اراکینِ حج ہیں جن کا تعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
محبوب بندوں سے ہےنیز ان نیک بندوں نے یہ ا راکینِ حج اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
عبادت سمجھ کر نہیں بلکہ کسی خاص وجہ کے تحت کیا تھالیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے
اپنے محبوب بندوں کے ان افعال کو اراکینِ حج میں شامل فرما کر مسلمانوں (جو استطاعت
رکھتے ہوں) پر حج کو لازم قرار دے دیا تاکہ دنیا بھر کے مسلمان حج کے لئے جمع ہوکر ان نیک بندوں کی
اطاعت گزاری کو ملاحظہ کریں اور ان نیک
بندوں کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم پر سرِ خم تسلیم کریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں
بھی اپنے بابَرَکت گھر کعبۂ معظمہ کی زیارت سے مشرف فرمائے تاکہ ہم مکہ مکرمہ میں
موجود ان مقدس مقامات کی زیارت کر سکیں جن کا تعلق اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے محبوب بندوں سے ہے۔
از:غیاث الدین عطاری مدنی
اسلامک اسکالر، اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ)
دار التراث العلمی للتحقیق والترجمة والطباعة والنشر کراتشی کی کارکردگی و
اہداف

دار التراث العلمی للتحقیق
والترجمة والطباعة والنشر کراتشی کی کارکردگی و اہداف
علمائے اہلسنت کی عربی کتابوں کو دعوت اسلامی کے مدنی ماحول
سے وابستہ علمائے کرام کی تحقیق وتخریج وغیرہ کے ساتھ دنیائے عرب سے منظم انداز
میں شائع کروانےکی غرض سے مکتبۃ المدینہ العربیہ میں ایک ذیلی شعبہ
’’دار التراث
العلمی ‘‘ کے نام سے جمادی الاولیٰ 1441ھ/ جنوری2020 ء کو قائم کیا گیا ، اس شعبہ کے
ذریعے اب تک جو کتابیں شائع ہوچکی ہیں ، جن پر کام جاری ہے اور آئندہ کے اہداف کی تفصیل درج ذیل ہے:
2020
نمبر شمار |
نام کتاب |
مصنف |
محقق |
شعبہ |
کل صفحات |
مکتبہ |
1 |
انور
المنان |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مولانامحمد
کاشف سلیم عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
87 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
2 |
الفتاوی
المختارۃ |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مولانامحمد
گل فراز عطاری مدنی / مولانامحمد کاشف سلیم عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
127 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
3 |
اجلی
الاعلام |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مولانامحمد
کاشف سلیم عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
141 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
4 |
مجموع
رسائل الشیخ الیاس العطار (ج1) |
امیر
اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری |
عرب
شیوخ ومدنی علمائے کرام |
عربی
ڈپارٹمنٹ |
301 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
5 |
دروس
البلاغۃ |
(۱)حنفی ناصف(۲)محمد دباب(۳) سلطان محمد (۴)مصطفی طموم |
مولانامحمد
شہزاد سلیم عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
202 |
دار
الفجر سوریا |
6 |
المقدمۃ
فی علم الحدیث |
شیخ محقق
عبد الحق محدث دہلوی |
مولانااحمد
رضا شامی عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
212 |
دار
الریاحین اردن |
2021
7 |
التعلیقات الرضویہ علی تقریب التہذیب |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مفتی
حسان عطاری مدنی / مولانامحمد کاشف سلیم مدنی عطاری |
کتب
اعلیٰ حضرت |
326 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
8 |
التعلیقات
الرضویہ علی الھدایۃ و شروحہا |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مولانامحمد
کاشف سلیم مدنی عطاری |
کتب
اعلیٰ حضرت |
744 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
9 |
نفحات
الصلاۃ |
امیر
اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری |
عرب
شیوخ ومدنی علمائے کرام |
عربی
ڈپارٹمنٹ |
608 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
10 |
شجرۃ
الطریقۃ القادریۃ |
امیر
اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری |
عرب
شیوخ ومدنی علمائے کرام |
عربی
ڈپارٹمنٹ |
152 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
11 |
مسند
الامام الاعظم |
علامہ
عابد سندھی |
مولاناکامران
احمد عطاری مدنی/ مولاناعدیل صدیقی عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
656 |
دار
الصالح مصر |
12 |
الفوز
الکبیر |
شاہ ولی
اللہ دہلوی |
مولانااحمد
رضا شامی عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
165 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
13 |
نور
الایضاح |
علامہ
حسن بن عمار شرنبلالی حنفی |
مولاناافتخار
احمد عطاری مدنی/ مولانااسماعیل نقشبندی مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
592 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
2022
14 |
جد
الممتار (7 جلدیں) |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مولانا
یونس عطاری مدنی/ مولاناکاشف سلیم عطاری
مدنی/ سید عقیل احمد عطاری مدنی |
کتب اعلیٰ
حضرت |
4,105 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
15 |
فوز
الکرام |
شیخ محمد
قائم بن صالح سندھی |
مفتی
حسان عطاری مدنی / مولانامحمد کاشف سلیم
عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
121 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
2022
میں جو کتب شائع ہونگی
1 |
زبدۃ
الاتقان (جاچکی ہے) |
امام جلال
الدین سیوطی شافعی |
مولاناکامران
احمد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
266 |
دار
الفجر سوریا |
2 |
آثار
السنن (جاچکی ہے) |
محمد
علی بن نیموی |
مولانااحمد
رضا شامی عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
580 |
دار
المعراج سوریا |
3 |
شرح
تہذیب (کام جاری ہے) |
عبد
اللہ یزدی |
مولاناکامران
احمد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
306 |
دار نور
المبین اردن |
4 |
فتح
المنان (کام جاری ہے) |
شیخ محقق
عبد الحق محدث دہلوی |
مفتی
حسان صاحب/مولانا اکرم ، مولانا عاصم، مولانا منصور، مولانا احمد رضا عطاری مدنی |
شعبہ فقہ حنفی |
1200 |
دار
الریاحین اردن |
5 |
الکافیۃ
( جاچکی ہے) |
علامہ ابن حاجب |
مولاناعبد
الواحد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
252 |
دار نور
المبین اردن |
6 |
تلخیص
المفتاح (جاچکی ہے) |
محمد
قزوینی |
مولاناعبد
الواحد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
209 |
دار نور
المبین اردن |
7 |
عنایۃ
النحو( جاچکی ہے) |
|
مولاناعبد
الواحد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
279 |
دار نور
المبین اردن |
8 |
الرشیدیۃ
(جاچکی ہے) |
علامہ
عضد الدین |
مولانا
ازہار عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
127 |
دار نور
المبین اردن |
9 |
الدعوۃ
الی الخیر (کام جاری ہے) |
امیر
اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری |
عرب
شیوخ ومدنی علمائے کرام |
عربی ڈپارٹمنٹ |
500 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
10 |
التعلیقات
الرضویۃ علی میزان الاعتدال (کام جاری
ہے) |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مفتی
حسان عطاری مدنی / مولانامحمد کاشف سلیم
عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
350 |
دار
الکتب العلمیہ بیروت |
2023 اور اس کے بعد جو کتب شائع ہونگی
11 |
مالی
الجیب بعلوم الغیب |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
مولاناکاشف
سلیم عطاری مدنی/مولانا شعیب رئیس عطاری مدنی/مولانا ندیم عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
12 |
التعلیق
المجلی لما فی منیۃ المصلی |
علامہ
وصی احمد محدث سورتی |
مفتی
حسان عطاری مدنی |
شعبہ فقہ حنفی |
13 |
خلاصۃ
الدلائل |
امام علی
بن احمد رازی |
مولاناافتخار
احمد عطاری مدنی/مولانا شہزاد سلیم عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
14 |
نور
الانوار |
شیخ احمد
بن ابو سعید (المعروف ملاجیون ) |
مولاناعبد
الواحد عطاری مدنی |
شعبہ درسی
کتب |
15 |
شرح
المنتخب الحسامی |
علامہ حسام
الدین محمد بن محمد |
مولانا
عدیل صدیقی عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
16 |
السراجیہ |
علامہ محمد
بن عبد الرشید سراجی |
مولاناعبد
الواحد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
17 |
شرح
العقائد |
علامہ
سعد الدین تفتازانی |
مولاناکامران
احمد عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
18 |
مجموعۃ
الازھار |
|
مولانااحمد
رضا شامی عطاری مدنی |
شعبہ
درسی کتب |
19 |
مجموع
رسائل الشیخ الیاس العطار (ج2) |
امیر
اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری |
عرب
شیوخ ومدنی علمائے کرام |
عربی
ڈپارٹمنٹ |
20 |
تفسیراتِ
احمدیہ |
شیخ احمد
بن ابو سعید (المعروف ملاجیون ) |
ماہرِ
امورِ تجارت مفتی
علی اصغر عطاری مدنی |
شعبہ فقہ حنفی |
21 |
مجموع
رسائل الامام
احمد رضا |
امام
اہلسنّت مولانا احمد رضا خان حنفی ماتریدی |
تعریب: مفتی
حسان عطاری مدنی |
کتب
اعلیٰ حضرت |
22 |
حاشیۃ
افہام القرآن(عربی) |
شیخ
الحدیث والتفسیر مفتی قاسم صاحب |
عرب
شیوخ ومدنی علمائے کرام |
عربی
ڈپارٹمنٹ |
تاریخ: 06.07.2022

از: بنت طارق عطاریہ
مدنیہ ناظمہ جامعہ فیضانِ ام عطار شفیع کا
بھٹہ سیالکوٹ
لڑکیاں
بھی اللہ پاک کی نعمت ہیں اور لڑکے بھی، پھر کسی کو اللہ نے صرف بیٹیاں عطا فرمائیں،
کسی کو صرف بیٹے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں اور کسی کو بیٹے عطا فرمائے نہ بیٹیاں۔
یہ تقسیم اللہ پاک کی حکمت او رمصلحت پر مبنی ہے جیسا کہ اس کا فرمان ہے:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ يَهَبُ
لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ0 اَوْ يُزَوِّجُهُمْ
ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ يَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ0 (پ25،الشوریٰ:50-49)ترجمہ:آسمانوں
اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو چاہے پیدا کرے ۔ جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا انہیں بیٹے
اور بیٹیاں دونوں ملا دے اور جسے چاہے بانجھ کر دے، بیشک وہ علم والا، قدرت والا
ہے۔
يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا:
یعنی
اللہ پاک جسے چاہے صرف بیٹیاں دے اور بیٹا نہ دے، جسے چاہے بیٹے دے اور بیٹیاں نہ
دے، جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دے اور جسے چاہے بانجھ کر دے کہ اس کے ہاں
اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے اپنی نعمت کو جس
طرح چاہے تقسیم کرے۔ تفسیر قرطبی میں ہے: اس آیت کا حکم اگرچہ
عام ہے مگر یہ انبیائے کرام کے متعلق نازل
ہوئی، چنانچہ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا سے مراد حضرت لوط علیہ السّلام ہیں، جنہیں اللہ پاک نے دو بیٹیاں دیں اور بیٹے نہ
دیئے، يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الذُّكُوْرَسے مراد حضرت ابراہیم علیہ السّلام ہیں کہ جن کو 8 بیٹے دیئے، بیٹیاں نہ دیں، يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں کہ جن کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں
دیں، جبکہ يَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا سے مراد حضرت یحییٰ علیہ السّلام ہیں کہ جن کی کوئی اولاد نہ تھی۔([1])
معلوم ہوا! اولاد ہونے یا نہ ہونے یا بیٹے یا بیٹیاں ہونے
میں ہمارے لیے کسی نہ کسی نبی کی زندگی میں نمونہ ہے۔ نیز یہ جاننا بھی فائدے سے خالی نہیں کہ اس آیت میں بیٹیاں دینے
کو بیٹے دینے سے پہلے ذکر فرمانے کی چند وجوہ یہ ہیں:
1-بیٹے کا پیدا ہونا خوشی کا اور بیٹی کا پیدا ہونا چونکہ غم کا باعث ہے، لہٰذا اگر پہلے بیٹے کا ذکر ہوتا
پھر بیٹی کا تو ذہن خوشی سے غم کی طرف منتقل ہوتا۔ مگر جب پہلے بیٹی دینے کا ذکر
فرمایا اور پھر بیٹا دینے کا تو انسان کا ذہن غم سے خوشی کی طرف منتقل ہو گا اور
یہ کریم کی عطا کے زیادہ لائق ہے۔
2-پہلے بیٹی ہو تو بندہ اس پر صبر و شکر کرے گا
کیونکہ اللہ پاک پر اعتراض ممکن نہیں، مگر جب اسکے بعد بیٹا ہو گا تو بندہ جان لے
گا کہ یہ اللہ پاک کا فضل و احسان ہے، لہٰذا
اس کا زیادہ شکر بجا لائے گا۔
3-عورت کمزور، ناقص العقل اور ناقص الدین ہوتی ہے، اس
لیے عورت کے ذکر کے بعد مرد کے ذکر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ جب عجز اور حاجت زیادہ
ہو تو اللہ کی عنایت اور اس کا فضل زیادہ ہوتا ہے۔
4-بعض افراد کے
نزدیک بیٹی کا وجود حقیر اور ناگوار ہوتا ہے، زمانہ جاہلیت میں عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، چنانچہ
یہاں بیٹیوں کا ذکر بیٹوں سے پہلے کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ لوگ اگرچہ بیٹی کو
حقیر جانتے ہیں مگر اللہ پاک کو بیٹی پسند ہے، اس لیے اس نے بیٹی کے ذکر کو بیٹے
کے ذکر پر مقدم فرمایا۔ (2)
بیٹے اور بیٹیاں دینے یا نہ دینے کا اختیار اللہ پاک کے پاس ہے:
اولاد
دینے کا اختیار اور قدرت چونکہ صرف اللہ پاک کے پاس ہے، لہٰذا اگر بانجھ
افراد چاہیں کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں کسی بھی مصنوعی طریقے سے ان کے ہاں
اولاد ہو جائے یعنی ٹیسٹ ٹیوب و کلوننگ
وغیرہ کے ذریعے، تو انہیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اولاد کا حصول اللہ پاک کے
فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح عورت کے بس میں نہیں کہ وہ جو چاہے پیدا کرے۔
بیٹے کی خواہش رکھنے والوں کا بیٹی پیدا ہونے
پر عورت کو مشقِ ستم بنانا، اسے طرح طرح کی اذیتیں دینا، بات بات پر طعنوں
کے نشتر چبھونا، آئے دن ذلیل کرتے رہنا، صرف بیٹیاں پیدا ہونے پر اسے منحوس سمجھنا
اور طلاق دے دینا، قتل کی دھمکیاں دینا بلکہ بعض اوقات قتل ہی کر ڈالنا قطعاً درست
نہیں۔ افسوس! آج مسلمانوں نے اسی طرزِ عمل کو
اپنا لیا ہے جو کفار کا تھا۔ جس کا تذکرہ پارہ 14، سورۃ النحل کی آیت نمبر
58 اور 59 میں یوں کیا گیا ہے: ترجمہ:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری
دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت
کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے ۔
کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا؟خبردار! یہ کتنا بُرا فیصلہ کررہے ہیں ۔
یعنی
اسلام نے تو عورت کو ذلت و رسوائی کی چکی سے
نکال کر معاشرے میں عزت و مقام عطا کیا مگر آج کے مسلمان اسے دوبارہ اسی چکی میں
پسنے کے لئے دھکیل رہے ہیں۔ خدارا! ہوش کے ناخن لیجئے اور بیٹیوں کی قدر کیجئے! کیونکہ
اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے: عورت کی برکت ہی
یہ ہے کہ اس کے ہاں سب سے پہلے بیٹی پیدا ہو۔(3) ایک روایت
میں ہے: بیٹیوں کو بُرا مت کہو! بیشک وہ محبت کرنے والیاں ہیں۔(4) اسی طرح ایک روایت میں ہے: جس پر بیٹیوں کی پرورش کا بوجھ آ پڑے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو یہ بیٹیاں
اس کیلئے جہنم سے روک بن جائیں گی۔(5)
بلکہ
حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بیٹیوں سے محبت فرما کر سب کے لئے عملی نمونہ بھی
پیش کیا۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: جب بی بی فاطمہ رضی
اللہُ عنہا تشریف لاتیں تو حضور کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ لیتے اور
اپنی جگہ پر بٹھاتے، یونہی جب آپ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہو کر حضور کا
ہاتھ پکڑ کر بوسہ لیتیں اور اپنی جگہ بٹھا
دیتیں۔(6)
ایک
طرف حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا اسوۂ حسنہ اور قرآن و سنت کے احکام اور
دوسری طرف مسلمانوں کا اس کے برعکس عمل نظر آتا ہے۔ آج کے مسلمان دورِ جاہلیت کی
روایات کو زندہ کرتے نظر آتے ہیں اور اسلامی تعلیمات بھلا دینے کے باعث بیٹی کی
ولادت کو برا سمجھنے اور بے رحمی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن یہ
خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں عورت کو بیٹی پیدا ہونے پر قتل کر دیا گیا۔ ابھی 2022
حال ہی میں پہلی بیٹی کی پیدائش پر 7 دن کی بیٹی کو7 گولیاں مار کر ہلاک کر دیا
گیا۔ الامان والحفیظ
آج
کے دور میں علمِ دین سے بہرہ ور ہونا بہت ضروری ہے تاکہ زمانہ جاہلیت کی ان رسومات
کا خاتمہ کیا جا سکے۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور شخص بیٹی ہونے یا اولاد نہ
ہونے کو عورت کا قصور سمجھنے کے بجائے رب
کریم کی رضا و مشیت سمجھتا ہے جبکہ جاہل آدمی سفاکی پر اتر آتا اور عورت کو قصور
وار ٹھہرا کر اس پر ظلم ڈھاتا ہے۔ معاشرتی پستی کا تو یہ عالم ہے کہ عورتیں ہی
عورتوں کو قصور وار ٹھہراتی ہیں، ساس بہو
پر ظلم ڈھاتی، طعنوں کی بھرمار کرتی اور بعض اوقات بیٹے کو طلاق دینے پر مجبور کر
دیتی ہے۔ لہٰذا علم حاصل کیجئے تا کہ حضور
کے اسوۂ حسنہ پر عمل کر سکیں اور یوں دنیا و آخرت کی کامیابی اور معاشرے میں امن و
امان کا قیام ممکن ہو۔
اللہ
کریم تمام مسلمانوں کو بیٹیوں کی قدر اور
حضور کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم
(یہ مضمون ماہنامہ
خواتین ویب ایڈیشن کے جولائی 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)
[1] تفسیر قرطبی،الجزء : 16، 8/36 2 تفسیر
رازی،9/610 3 مکارم
الاخلاق للخرائطی، 9/610 4مسند امام احمد،6/134، حدیث:17378 5 مسلم، ص1085، حدیث:6693ملتقطاً
6 ابوداود،4/454،حدیث:5217