میانہ روی نہایت ہی اَہم اَمر ہے،  میانہ روی کا مطلب ہے "درمیانی راہ"، جب کہ اس راہ پرآ نا ہی نہیں وہ بخل ہے، اور اس راہ سے تجاوز کرنا فضول خرچی( اِسراف) کہلاتا ہے، یقیناً فضول خرچ اسراف ناجائز ہے اور ہم اس کے بارے کافی بار سن چکے ہیں، لیکن فضول خرچی پر اُبھارنے کی ایک وجہ بخل یعنی کنجوسی ہے، جی ہاں! کنجوسی پہ ایک ایسا مرض ہے جو نسلوں کو بے جا خرچ کرنے پر اُبھارتا ہے۔

وہ کیسے؟ جی اس صورت کو ایک مثال سے بیان کرتی ہوں، اگر کوئی آدمی بخل کرے، اپنے بال بچوں کا حق ادا نہ کرے، جہاں خر چ کرنا ضروری ہے وہاں بھی خرچ نہ کرے، تو اس کا یہ رویّہ اس کی اولاد پر دو طرح سے اثر انداز ہوگا۔

(1)یاتو اس کی اولاد اس کے نقشِ قدم پر چل کر بخیل بنے گی۔

(2)یا اس کی اولاد دولت ہاتھ میں پا کر بے جا خرچ میں مبتلا ہوگی، بچپن میں ہونے والی محرومیاں اور جائز خواہش کا پورا نہ ہونا، ضرورت کی اَشیاء بھی اسے نہ ملنا، یہ تمام احساسات وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک ایسا سوچ پیدا کریں گے کہ پیسے آئے تو میں یہ کروں، وہ کروں، اس طرح جب حقیقتاً اس کے پاس دولت آئے گی وہ اپنے آپ کو تسکین دینے کی غرض سے جائز و ناجائز خواہشات کی تکمیل کرے گا، یوں وہ فضول خر چی میں مبتلا ہوکر میانہ روی کے راستے پر نہیں چل سکے گا ۔

میانہ روی اہم ہے اور خرچ کرنے والا اگر کنجوسی کا مظاہرہ نہ کرے، عورتوں کو ان کا پورا حق دے، اولاد کے حقوق کو پورا کرے تو آگے چل کر معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابی، فضول خرچی سے بچا جاسکتا ہے ۔

میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنا، دولت کا صحیح استعمال کرنا، آگے آنے والی نسل کو بھی میانہ روی کی راہ پر چلائے گا۔


اعتدال اور میانہ روی کی تعریف:

اعتدال اور میانہ روی کا مطلب یہ ہےکہ تمام احکام و اُمور میں ایسی درمیانی راہ اختیار کرنا، جس میں نہ افراط ہو نہ تفریط یعنی نہ رشوت ہو نہ ازخود کوتاہی، اعتدال و میانہ روی دینِ اسلام کی ایک ایسی صفت ہے، جو اسکے ہر معاملے اور ہر حکم میں جلوہ گرنظر آتی ہے، جب دینِ اسلام کی یہ نمایاں خصوصیت ہے، جو اسکو تمام ادیان سے ممتاز بناتی ہے، تو لازمی طور پر امت مسلمہ کی خصوصیت بھی یہی ہوگی کہ وہ عدل و اعتدال سے متصف اور افراط و تفریط سے مبّرا رہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہواور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(سورۃ البقرہ ، 143)

اِسلام کی امتیازی خصوصیات میں توازن و اعتدال اور میانہ روی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم کو "الکتاب" کے علاوہ "المیزان" بھی کہاگیا ہےاور مسلمانوں کو اُمّتِ وسط کے خطاب سے بھی نوازا گیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:"مسلمانو! میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جس کام میں میانہ روی ہوتی ہے، وہ کام سنْورجاتا ہےاور جس کام میں میانہ روی نہیں ہوتی وہ بگڑ جاتا ہے۔"(صحیح مسلم )

میانہ روی اختیارکرو اور خاموش ہوجاؤ:

عبد السّلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا:" کہ ہم کو عمر بن علی نے معین بن محمد غفاری سے خبر دی، وہ سعید بن ابو سعید مقبری سے، وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بے شک دین آسان ہےاور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا، تو دین اس پر غالب آجائے گا(اور اسکی سختی نہ چل سکے گی )، پس اپنے عمل میں پختگی اختیار کرواور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہوجاؤ اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (نماز) سے مدد حاصل کرو۔(کتاب الایمان ، دین آسان ہے )

حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:

"سیدھی راہ اختیار کرو، سیدھی راہ پر چلو، میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری دو(اللہ کی رحمت کی ) خوش رہو۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر7122 )

"میانہ روی سب کیلئے ضروری ہے اور ہر کام میں ضروری ہے، صرف دنیاوی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مفید نہیں، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے۔" 


اعتدال کا مطلب ہے "دو حالتوں میں توسُّط اختیار کرنا۔"(مصباح اللغات)

میانہ روی اعتقادات، عبادات، معاملات و اخلاقیات ہر معاملے میں ضروری ہے، میانہ روی کی تعلیم دیتے ہوئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" دین آسان ہے اور جو دین میں سختی اختیار کرتا ہے، دین اس پر غالب آجاتا ہے، بس سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو، خوش رہو۔"(ریاض الصالحین، باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، ص 51، حدیث 145)

آج ہمارے معاشرے میں بداَمنی بڑھتی جا رہی ہے، گھروں میں ناچاقیوں کی فضا پھیلتی جارہی ہے، اِداروں کا اَمن و سکون تہہ و بالا ہو چکاہے، اس کی ایک وجہ اعتدال ومیانہ روی کا دامن چھوڑ کر افراط و تفریط سے کام لینا بھی ہے، آج ہمارے گھروں میں معمولی معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں، ساس بہو کی لڑائیاں، میاں بیوی کی ناچاقیاں عام ہیں، حتیٰ کے نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ آئے دن طلاق کی خبریں سننے کو ملتی ہیں، اگر شوہر بیوی کے نامناسب رویّے پر فوری جذبات میں آ ئے، بیوی پر ہاتھ اٹھائے، طلاق دے کر اپنا گھر برباد کر نے کی بجائے اعتدال سے کام لے اور شریعتِ اسلامیہ کی تعلیمات کے مطابق بیوی کی سرزنش کے لیے مناسب اقدام اٹھائے تو کئیں گھر تباہ ہونے سے بچ سکتے ہیں، دینِ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں:

ترجمہ کنزالایمان:" اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو، تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو، پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو، بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔(پارہ 5، سورۃ النساء، آیت34)

یوں ہی ہمارے معاشرے کا ایک اَلمیہ بگڑی ہوئی نسل بھی ہے، اس کی ایک وجہ اولاد کی تربیت میں میا نہ روی سے کام نہ لینا ہے، بعض والدین تو اولاد کے معاملے میں اس قدر نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اولاد کی بڑی غلطیوں پر بھی چشم پوشی سے کام لیتے اور درحقیقت اَنجانے میں ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں، اس کے برعکس بعض والدین معمولی معمولی باتوں پر بے جا سختی کا مظاہرہ کر کے اولاد کو باغی اور نافرمان بنا دیتے ہیں، والدین کو چاہیے کہ افراط و تفریط سے کام لینے کے بجائے اپنی اولاد کی صحیح معنوں میں اِسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کریں، ان کو دعوتِ اسلامی کا دینی ماحول فراہم کریں، ان شاء اللہ عزوجل ان کی اولاد ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی۔

یوں ہی اَساتذہ شاگردوں کے، سیٹھ ملازموں کے، اَفسر نوکروں کے بلکہ ہر حاکم اپنے محکوم کے معاملے میں اعتدال و میانہ روی سے کام لے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ہمارا معاشرہ اَمن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمانو! میانہ روی اختیار کرو، کیوں کہ جس کا م میں میانہ روی ہوتی ہے، وہ کام سنْور جاتا ہے اور جس کام میں میانہ روی نہیں ہوتی، وہ بگڑ جاتا ہے۔"

ایک حدیث شریف میں ہے:

"اعتدال یعنی ہر کام کو افراط و تفریط کے بغیر کرنا نبوت کا پچیسواں حصّہ ہے، اسی طرح سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:" لوگو! میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ اللہ تعالی نہیں تھکتا ہے، مگر تم تھک جاتے ہو ، ہمارا دن رات کا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور شدت و اِنتہا پسندی کو اختیار کر لیتے ہیں، ان کی زندگی سے اعتدال کے ساتھ ساتھ اَمن و سکون بھی جاتا رہتا ہے اور ان کے معاملات اتنے اُلجھ جاتے ہیں کہ ان کی ساری قوتیں اور وقت کا بیشتر حصّہ ان کے معاملات کو سُلجھانے میں ہی صرف ہو جاتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ راحت سے محروم ہو جاتے ہیں، اس کے برعکس جو لوگ اپنے معاملے میں میانہ روی کو ملحوظ رکھتے ہیں، وہ مصائب میں مُبتلا نہیں ہوتے اور ان کے متعلقین اور احباب بھی ان سے شاکی نہیں ہوتے، میانہ رو افراد خود بھی پرسکون زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کے بھی کام آتے ہیں۔

"میانہ روی سب کے لیے ضروری ہے، ہر کام میں ضروری ہے، صرف دنیاوی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مفید نہیں ہے، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے۔"( مسلم) 


پیٹ سے اُدھار:

ایک اللہ کا بندہ بازار سے گزر رہا تھا، قصائی نے آواز دے کر کہا، میاں جی! گوشت لے جاؤ؟کہنے لگے، میرے پاس پیسے نہیں،قصائی بولا:" کوئی بات نہیں،اُدھار کر لیں، اُنہوں نے کہا:" تُجھ سے اُدھار کرنے سے بہتر ہے میں اپنے پیٹ سے اُدھار کرلوں۔"

ایک دانا کا قول ہے:" امیر وہ نہیں جس کی آمدنی زیادہ ہو، امیر وہ ہوتا ہے جس کے اخراجات آمدنی سے کم ہوں۔"

بعض افراد نہ پیٹ سے اُدھار کرتے ہیں اور نہ اخراجات کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بس غربت کا رونا روئے جاتے ہیں، دل میں اُٹھنے والی ہر خواہش کو پورا کرنا یا کسی صاحبِ حیثیت شخص کو دیکھ کر اس کے طرزِ زندگی کو اپنانا عقلمندوں کا کام نہیں، ضرورت پوری کرنے پر توجّہ دینی چاہیے، خواہشات پوری کرنے پر نہیں، کیوں کہ خواہشات کی اِنتہا نہیں ہوتی۔

میانہ روی کا معنی:

اسلام دینِ کا مل ہے، اسلام ہمیں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے، "میانہ روی" فارسی زبان کا لفظ ہے، عربی میں اسےا عتدال کہتے ہیں، میانہ روی کا معنی ہے "درمیانہ راستہ"، زندگی کے تمام معاملات میں افراط و تفريط (کمی اور زیادتی) سے بچتے ہوئے درمیانہ راستہ اپنانا چاہیے، پرمسّرت اور کامیاب زندگی کے لیے میانہ روی نہایت ضروری ہے، کوئی بھی معاشرہ میانہ روی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، روز مرہ زندگی کے ذاتی معاملات ہوں یا گھریلو اخراجات، سب میں خرچ کرتے ہوئے نہ اسر اف(جہاں خرچ نہ کرنا ہو وہاں خرچ کرنا یا ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا اسراف ہے) سے کام لیا جائے، نہ بخل (کنجوسی)کی جائے، بلکہ درمیانہ راہ اختیار کرنا چاہیے۔

اللہ تبارک تعالی کامل ایمان والوں کے خرچ کرنے کا حال بیان فرماتا ہے،

ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (پارہ 19، سورةالفرقان ، آیت نمبر 67)

اس آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا کہ کامل ایمان والے اسراف اور تنگی دونوں طرح کے مذموم طریقوں سے بچتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔

مروی ہے کہ " جس نے کسی حق کو منع کیا، اس نے اِقتاریعنی تنگی کی اور جس نے ناحق میں خرچ کیا اس نے اِسراف کیا۔"(صراط الجنان، ج 7، ص 56)

صدقہ و خیرات کرنے میں نہ بخل سے کام لیا جائے، نہ ہی اپنے بال بچوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سارے کا سارا مال خرچ کر دیا جائے، یہاں تک کہ قرض لینے کی نوبت آ جائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے،

ترجمہ کنزالایمان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا "۔(پارہ 15،بنی اسرائیل،29)

خوشحالی کا دارومدار:

مفتی احمد یار خان نعیمیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "کہ خوشحالی کا دارومدار دو چیزوں پر ہے، کمانا، خرچ کرنا، مگر ان دونوں میں خرچ کرنا بہت ہی کمال ہے، کمانا سب جانتے ہیں، خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے، جسے خرچ کرنےکا سلیقہ آ گیا، وہ ان شاءاللہ عزوجل ہمیشہ خوش رہے گا۔

( مراۃ المناجيح، جلد6، ص634)

Social circle بچت کیسے کریں:

اپنے سوشل سرکل سے پرہیز کریں، جہاں ہر وقت مہنگی چیزوں اور فضول خرچی کے بارے میں بات چیت ہوتی ہو،ورنہ یہ صحبت آپ کو ہر وقت پیسے خرچ کرنے پر مجبور کرتی رہے گی۔

خواہشات کیسے کم ہوں:

شُکر گزاری کا مزاج ڈپریشن سے محفوظ رکھتا ہے، لا حاصل (جو پاس نہیں) کے لئے حاصل( جو پاس ہے) نہ چھوڑئیے، بہت سی ایسی چیزیں جو کسی وقت میں ہمارے لئے اس قدر اہم ہوتی ہیں کہ ہم ان کے حصول کے لیے روتے ہیں، چلاتے ہیں اور بہت ضد سے انہیں حاصل کر پاتے ہیں، ایک وقت آتا ہے وہ ہمارے لئے فالتو سامان سے زیادہ کُچھ نہیں ہوتیں، ان میں سے اکثر چیزوں کو ہم ایک عرصہ تک کبھی استعمال بھی نہیں کرتے، ہم لاحاصل کو بہت زیادہ پُرکشش اور عمدہ خیال کرتے ہیں اور حاصل کو ذرا خاطر میں نہیں لاتے، نتیجتاً ہمیں اپنے حاصل پر مطمئن ہونا چاہیے اور لاحاصل کے لئے دل اُداس نہیں کرنا چاہیے۔

طرزِ زندگی سادہ بنائیں:

زندگی آسان ہے، بس یہ بوجھ تو خواہشوں اور خوابوں کا ہے، ہر وقت کھاتے رہنے اور اور نِت نئے چسکے لگانے سے بندہ صحت مند نہیں ہوتا، وقت پر کھائیں، سادہ اور مناسب غذا استعمال کریں، ملبوسات میں(کپڑے، جوتے، رو مال وغیرہ قیمتی خریدنے کے بجائے آرام دہ اور کم قیمت خرید یں)۔

حدیث مبارکہ ہے:"مَا عَالَ مَنِ اقْتَصِدَ"جس شخص نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہ ہوگا۔"

تیز گفتگو کرتے ہوئے اونچے اور سخت لہجے میں یا بالکل دھیمی آواز میں بات کرنے کے بجائے معتدل انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :ترجمہ کنز الایمان: "اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر۔" ٍ( لقمان، آیت19)

عبادت میں بھی میانہ روی:

اسلام میں عبادت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور قرآن مجید میں ہے" کہ انسان اور جنوں کی پیدائش کا بنیادی مقصد ہی عبادت ہے"۔ عبادت کی اتنی اہمیت کے باوجود بھی عبادت میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا:" کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم رات رات بھر نماز پڑھتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو، انہوں نے کہا: بے شک ایسا ہی ہے، آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا نہ کرو، نماز بھی پڑھو اور سؤو بھی، روزہ بھی رکھو اور چھوڑو بھی کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا حق ہے، تمہاری آنکھ کا حق ہے، تمہارے مہمانوں کا حق ہے اور تمہارے بیوی بچوں کا حق ہے۔( صحیح بخاری، حدیث نمبر1975، صفحہ:39)

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے ، " اتنا ہی عمل لازم کرو، جتنا تم آسانی سے کر سکو۔"

اللہ پاک سے دعا ہے، رب کریم ہمارے دلوں سے دنیوی خواہشات نکال کر فکرِ آخرت کا جذبہ دائمی ڈال دے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :خَیْرُالْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا۔

"یعنی بہترین کام وہ ہیں جو میانہ روی کےساتھ کئے جائیں"۔

میانہ روی اور اعتدال کا مطلب:تمام افعال میں ایسی درميانی راہ اختیار کرنا کہ جس میں نہ تو افراط(زيادتی، حد سے بڑھنا) ہو اور نہ ہی تفریط(کمی کرنا) ہو۔

میانہ روی اور اعتدال کی اہمیت:

میانہ روی کی اہمیت کا اندازہ اس حدیثِ مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے، چنانچہ سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو مکّہ مکرمہ میں ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، واپسی پر بھی اُسے اسی حالت میں پایا تو ارشاد فرمایا:" اے لوگو! تم پر میانہ روی لازم ہے، اے لوگو! تم پر میانہ روی لازم ہے، اے لوگو! تم پر میانہ روی لازم ہے، بیشک اللہ عزوجل اجر عطا فرمانے سے نہیں اُكتاتا، بلکہ تم(عبادت سے)اُكتا جاتے ہو۔"

حدیثِ مذکورہ میں عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور تنگی میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے ، یہ حدیث نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام نیک اعمال کو بھی شامل ہے۔

میانہ روی اختیار کرنا بھی” عبادالرحمن “کی صفات میں شامل ہے :

چنانچہ اللہ تعالی عبادالرحمن کی صفات بیان کرتے ہوئے سورة الفرقان کی آیت نمبر 67 میں ارشاد فرماتا ہے، وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷)

ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (پارہ 19، سورةالفرقان ، آیت نمبر 67)

میانہ روی منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے:

علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کہ میانہ روی اختیار کرو یعنی تم نفلی عبادات میں اتنی سختی نہ کرو کہ اُكتاہٹ کا شکار ہو کر نیک اعمال سے دور ہو جاؤ اور حد سے بڑھنے والوں میں شامل ہو جاؤ ، خبردار! حد سے نہ بڑھو، درميانی راہ اختیار کرو، تم منزلِ مقصود تک پہنچ جاؤ گے، اپنے تمام اوقات، عمل میں نہ گزارو بلکہ نِشاط کہ اوقات کو غنیمت جانو اور وہ دن کا پہلا اور آخری حصّہ ہے اور رات کا کُچھ حصّہ ہے اور اپنی جانوں پر رحم کرو تا کہ ہمیشگی سے عبادت کر سکو ۔

میانہ روی اور اعتدال کا بہت زیادہ فائدہ ہے، کیوں کہ بسا اوقات انسان کسی کام میں شدّت اختیار کرتا ہے، تو وہ جلد ہی اُس کام سے اُکتا جاتا ہے اور اگر تفریط(كمی) سے کام لیتا ہے، تو اس کام کو اچھی طرح سے سرانجام نہیں دے سکتا، برخلاف اس کے کہ اگر وہ اسی کام کو میانہ روی و اعتدال کے ساتھ کرے، تو وہ ہمیشہ اس کام کو کر سکتا ہے اور بہترین عمل بھی وہی ہے، جس میں ہمیشگی اختیار کی جائے اور میانہ روی استقامت کی کنجی ہے ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ دینِ اسلام سب مذاہب سے آسان ہے ، اس میں افراط اور تفریط بالکل نہیں ہے ، اسلام ہمیں قول و فعل و ہر عمل میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔

اللہ عزوجل ہمیں ہر کام میانہ روی سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اعتدال و میانہ روی دینِ اسلام کی ایسی عظیم صفت ہے جو اس کے ہر معاملہ اور ہر حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہے،اعتدال اور میانہ روی کا مطلب "تمام احکام و امور میں ایسی درمیان راہ اختیار کرنا، جس میں نہ  افراط ہو نہ تفریط"

اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے:

ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہواور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(سورۃ البقرہ ، 143)

اور فرمایا: یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان:اے کتاب والو اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگرسچ ۔ (النساء : 171)

اسلام نے نہ صرف یہ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی ہے ،بلکہ غلوو تقصیر میں سے کسی ایک جانب جھک جانے سےڈرایا بھی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ کنزالایمان:" ہم کو سیدھا راستہ چلا، راستہ اُن کا جن پر تُو نے احسان کیا، نہ اُن کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔( الفاتحہ، 5۔7)

خرچ کرنے کے سلسلے میں میانہ روی اس فرمانِ الہی سے واضح ہے:

ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (پارہ 19، سورةالفرقان ، آیت نمبر 67)

مسئلہ: ایمان کے سلسلے میں اہلِ سنت والجماعت کا مؤقف افراط وتفریط سے پاک ہے، وہ عمل کو ایمان کا ایک جُز قرار دیتے ہیں اور معصیّت کے مُرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔

نبوت و ولایت اور صحابیت: ان درجات میں بھی اعتدال ہے، ان لوگوں کی طرح غلو نہیں، جنہوں نے نبیوں اور ولیوں کو ربّ اور نہ یہو دیوں کی طرح ، جنہوں نے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی اور انہیں قتل کیا۔

اہلِ اسلام درمیانی راہ اپناتے ہوئے اللہ تعالی کے تمام رسولوں اورپیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کتابوں پر بھی، اس کے ولیوں سے بھی محبت کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بھی۔۔۔

ہمارے دین اسلام نےاگرچہ آخرت کومطمعِ نظر اور مقصد حیات بنانے پرسعاد ت وکامرانی کا دارومدا رکھا ہے، لیکن اس طرف بھی توجّہ دلائی ہے کہ دنیاوی زندگی کی اُستواری کے لئے جائز طریقوں سے مال و اسباب کا حصول اور مُباحات میں اس کا خرچ تمہارا فطری حق ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ کنزالایمان:اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیؤ اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔ ( اعراف، 31)

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:" کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو، جب تک اس میں اسراف اور تکبر کی آمیزش نہ ہو۔"( سنن ابن ماجہ )

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دین آسانی کا نام ہے اور جو شخص دین کے بارے میں سختی کرنے کی کوشش کرے گا، خدا کی قسم! یہ دین اس پر غالب آجائے گا،تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو۔"(اخرجہ البخاری،39،والنسائی،5049)

عبادات میں میانہ روی:

عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کے بارے میں چندفرا مین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم:

اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے، جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو"

( صحیح بخاری و صحیح مسلم، مشکوٰۃ شریف، جلد اول، حدیث1217)

اللہ کی قسم! میں تم سب کے مقابلے میں اللہ سے زیادہ ڈرتا اور اس کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نوافل پڑھتا بھی ہوں اور سو بھی جاتا ہوں،اور میں نے خواتین کے ساتھ شادی بھی کی ہوئی ہے اور جوشخص میری سنت سے منہ موڑے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"(اخرجہ البخاری،5063)

" بال کی کھال اُتارنے والے ہلاکت کاشکار ہو جائیں"(اخرجہ مسلم،2670)

"تمہارے اوپر تمہارے نفس کا حق ہے، تمہارے گھر والوں کا بھی تم پرحق ہے اور تمہارے ربّ کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حقدار کا حق ادا کرو۔"(احمد و مسلم)

اللہ پاک ہم سب کو اپنے ہرعمل میں میانہ روی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



میانہ روی اور اعتدال(درمیانی راہ)اختیار کرنے میں فائدے ہی فائدے ہیں بھلے  وہ دُنیا کا معاملہ ہو یا دین کا، میانہ روی سے کی جانے والی عبادات میں دِل جمعی اور اِستقامت نصیب ہوتی ہے، اپنے اور متعلقین کے حقوق کی ادائیگی میں سہولت رہتی ہے اور بندہ آسانی سے کامیابی کی منزلوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ، کیونکہ عبادات میں میانہ روی اللہ عزوجل کے نیک بندوں کا طریقہ اور ان کی سُنّت ہے، اس کی پیروی میں عا فیت اور آسانی ہے، اسلام میں میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ اِرشادِ باری تعالی ہے: طٰهٰۚ(۱)مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ(۲)

ترجمہ کنز الایمان: "اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اُتارا کہ تم مشقت میں پڑو"(سورت طہٰ، آیت 2 )

علامہ علاءُالدین علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " جب مشرکین نے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت میں بہت زیادہ کوشش کرتے دیکھا تو کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم پر قرآن( پاک) اس لیے اُتارا گیا ہے کہ تم مشقت میں پڑو ۔"اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 2 ، ص421۔422)

حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وَعَن ا بْنِ مَسْعُوْدِِ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: ھَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ قَالَھَا ثَلَاثَا۔

ترجمہ:"حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا: "غُلُوّ و تکلُّف کرنے والے ہلاک ہو گئے"۔

امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اَلْمُتَنَطِّعُوْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاملے کی گہرائی میں پڑتے ہیں اور جہاں شدت کی حاجت نہ ہو وہاں شدّت کرتے ہیں۔

(فیضان ریاض الصالحین، جلد 2، ص438)

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ جَابِرْ بِنْ سَمْرَۃَ السُّوَانیِ رضی اللہ عنہما قَالَ: کُنْتُ اُصَلِّی مَعَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّلَوٰاتِ فَکَانَتْ صَلَاتُہٗ قَصْدََا وَ خُطْبَتُہٗ قَصْدََا۔

حضرت سیدنا عبد اللہ بن جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:"میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔"(فیضان ریاض الصالحین، ج2، ص450۔451)

اس سے معلوم ہوا کہ میانہ روی کامیابی کیلئے ضروری ہے، دین و دنیا دونوں معاملات میں میانہ روی اختیار کی جائے، عبادت میں اس قدر شدّت نہ کی جائے کہ حقوق العباد (بندوں کے حقوق ) تلف (ضائع ) ہو جائیں اور نہ بہت کمی کی جائے، اعتدال و استقامت کے ساتھ چلا جائے، جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تو اس میں بھی میانہ روی ضروری ہے، زیادہ دنیا میں مگن ہو جانا ، دولت زیادہ کرنے کی ہوس (خواہش ) ہونا ، دین سے دور کرتا ہے اور خدا نخواستہ ایمان ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اور دنیا کو بالکل چھوڑنا بھی نہ چاہیے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ضروری ہیں، دنیا کا استعمال جتنا بھی کرے اُس سے اپنی آخرت سنْوارے، مُباح کاموں پر اچھی نیت کرلے تا کہ اچھی نیت پر ثواب ملے ۔

اللہ کریم ہمیں دین و دُنیا کے معاملے میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم 


اعتدال و میانہ روی دینِ اسلام کی ایسی عظیم صفت ہے،  جو اس کے ہر معاملے اور ہر حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہے، اعتدال و میانہ روی کا مطلب یہ ہے کہ تمام احکام و امور میں ایسی درمیانی راہ اختیار کرنا جس میں نہ افراط ہو، نہ تفریط ہو، یعنی نہ شدت ہواور نہ کوتا ہی ہو، جب دینِ اسلام کی یہ نمایاں خصوصیت ہے، جو اس کو تمام اَدیان سے ممتاز بناتی ہے، لازمی طور پر اُمّتِ مسلمہ کی بھی یہی خصوصیات ہوں گی، وہ عدل و اعتدال سے مُتصف اور افراط و تفریط سے مُبراء رہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(سورۃ البقرہ ، 143)

اللہ پاک نے اس امت کو اُمتِ وسط کا خطاب اس لئے دیا کہ وہ اپنے دین کے ہر معاملے میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بے شمار پہلوؤں میں ایک پہلو اعتدال و میانہ روی بھی ہے، اعتدال و میانہ روی دینِ اسلام کا طُرّہ امتیاز اور محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، گفتگو کرنا، تجارت ومعاملات کرنا الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا، اعتدال و میانہ روی کی نمایاں عکاسی کرتی ہے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتدال و میانہ روی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا:" کھاؤ، پیو ، پہنو اور صدقہ کرو، جب تک اس میں اِسراف وتکبّر کی آمیزش نہ ہو۔"

(سنن ابن ماجہ)

خلاصہ یہ ہے کہ دینِ اسلام کی تمام تر تعلیمات اعتدال و میانہ روی پر مبنی ہیں، چاہے ان کا تعلق قول و عمل سے ہو یا اخلاق و معاملات یا دوسرے اُمور سے ہو۔

اللہ پاک ہم سب کو اپنے ہر عمل میں میانہ روی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


افراط و تفریط،  انتہا پسندی، شدت اور بے اعتدالی اُن خصوصیات میں شامل ہیں، جن کو کبھی مفید اور پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا ہے، اس کے برعکس میانہ روی اور اعتدال کو ہمیشہ قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے اور ہمیشہ دیا جاتا رہے گا، افراط و تفریط چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہو اور کسی بھی کام میں اس کا مظاہرہ کیا جائے، نتائج و اثرات کے لحاظ سے نقصان رساں اور مایوس کُن ہوتی ہے، بُرے اعمال تو ایک طرف رہے، اچھے اعمال اور نیک افعال میں انتہا پسندی اچھی اور مستحسن نہیں ہے۔

اسلام دین فطرت ہے اور اسی لئے اس کا دیا ہوا نظامِ حیات نہایت مکمل، متوازن اور معتدل نظام ہے، افراط وتفریط کی اس نے کسی شعبہ زندگی میں بھی اجازت نہیں دی ہے۔

قرآن مجید میں مسلمانوں کو اُمتِ وسط کے خطاب سے نوازا گیا ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

یعنی: ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل۔

(سورۃ البقرہ، ، 143)

مسلمانوں کو امتِ وسط کہہ کر واضح کردیا گیا ہے کہ درمیان کا راستہ اور اعتدال کا طریقہ ان کے نمایاں اوصاف میں شامل ہونا ہے، چنانچہ غلو سے پر ہیز، انتہا پسندی سے گریز اور میانہ روی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے، مسلمانوں کو صاف بتادیا گیا ہے کہ

ترجمہ کنز الایمان: "اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا"(بنی اسرائیل، 29)

بخل کی عادت انسان کو اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں سے لُطف اندوز نہیں ہونے دیتی اور فضول خرچی سے بالآخر انسان تنگ دست ہو کر دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے، اسی لئے اعتدال اور میانہ روی کی تاکید فرمائی گئی ہے، سورۃ الفرقان میں ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ کنز الایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔

(الفرقان، 67)

میانہ روی مؤمن کی صفت ہے، مؤمن نہ ضرورت سے زیادہ خرچ کرتا ہے اور نہ ضروری خرچ کے موقع پر ہاتھ روکتا ہے، بلکہ معتدل رہتا ہے اور میانہ روی کو اپنا کر زندگی کو حُسنِ خوبی سے گزارتا ہے۔" ( شہید حکیم محمد سعید)



میانہ روی اور اعتدال کو ہمیشہ قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے، اس کے برعکس انتہا پسند ی ، شدت پسندی اور بے اعتدالی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، شدت و انتہا پسندی دین و دنیا کے کسی بھی شعبے میں ہو، اس کے نتائج و اثرات نقصان رساں اور مایوس کُن نکلتے ہیں، اسی لئے میانہ روی اور اعتدال کی اِسلام میں بہت اہمیت ہے، اسلام دینِ فطرت ہے اور اس کا دیا ہوا نظامِ حیات نہایت مکمل، متوازن اور معتدل نظام ہے۔

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم جب منصبِ نبوت پر فائز ہوئےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوتِ حق کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تعمیل میں لوگوں کو دینِ حق کی جانب بلانا شروع کیا، لیکن اس وقت عرب کے لوگ اس قدر بے راہ اور کفر و شرک کی اتنی تاریکی میں تھے کہ حق کی روشنی میں ان کے لئے کشش نہ تھی، ان کی بے حسی نے ان کو اعلان حق پر بھی کان دھرنے نہ دیا، اپنی قوم کی نفرت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملال ہوتا اور دل دکھتا، اللہ پاک نے جب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینِ اسلام کے لئے اس قدر پریشان دیکھا تو فرمایا: مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ(۲)

ترجمہ کنز الایمان: "اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اُتارا کہ تم مشقت میں پڑو"(سورت طہٰ، آیت 2 )

اس ارشادِ ربّانی پر غور فرمائیے، حق کا معاملہ ہے، اس کی دعوتِ عام کا مرحلہ درپیش ہے، اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی حالت پر غمگین ہیں، لیکن اس میں بھی شدت سے منع کیا جا رہا ہےتو توازن و اعتدال کی اہمیت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ قیامِ حق میں بھی اس کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی، میانہ روی کی تاکید صرف اسی مسئلے تک محدود نہیں، بلکہ اِسلام کی امتیازی خصوصیات میں میانہ روی اور اعتدال شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم کو "الکتاب " کے علاوہ "المیزان" اور مسلمانوں کو اُمتِ وَسط کے خطاب سے نوازا گیا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا

ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل۔

(سورۃ البقرہ ، 143)

اسی طرح خرچ کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:ترجمہ کنز الایمان: "اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا"

(بنی اسرائیل، 29)

اس آیت کا منشا بھی یہی ہے کہ انسان نہ کنجوسی اختیار کرے اور نہ اِسراف کرے، یہ دونوں طریقے غلط ہیں اور میانہ روی کے خلاف ہیں، بلکہ میانہ روی کو اللہ عزوجل نے مومن کی صفت کہا ہے۔

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔(الفرقان 67)

بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان عبادت میں غلو برتنے لگے اور پیروی حق کے جوش میں اعتدال کو نظر انداز فرمانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ٹوکا اور میانہ روی کی تلقین کی،فرمایا:" اعتدال یعنی ہر کام کو افراط وتفریط کے بغیر کرنا نبوت کا پچیسواں حصہ ہے"۔

میانہ روی سب کے لئے ضروری ہے اور ہر کام میں ضروری ہے، صرف دنیا وی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مُفید نہیں، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے، اللہ پاک ہمیں دینِ اسلام اور قرآن و حدیث کے مطابق اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


میانہ روی کا معنی و مفہوم:میانہ روی فارسی زبان کا لفظ ہے، عربی میں اس کو "اعتدال" بھی کہتے ہیں۔

مفہوم:میانہ روی کے لفظی معانی "درمیانہ روش یا چال" کے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں افراط و تفریط سے بچ کر درمیانی راہ اختیار کی جائے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا ، ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل۔(سورۃ البقرہ، 143)

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلی اقوام زندگی کے مختلف شعبوں میں افراط وتفریط کا شکار ہو گئیں تھیں، اسی طرح وہ اپنے عقائد ، عبادات، معاشرتی اور معاشی زندگی میں افراط وتفریط کی روِش اپنا کر وہ فطرت کی راہ سے دور ہو گئیں، اسلام کے تمام عقائد میں میانہ روی کی روح شامل ہے، تو جس سے پتہ چلا کہ اللہ تعالی نے تو اس امت مسلمہ کا نام ہی وسط و اعتدال والی امت بتایا ہے۔

معاشرت میں میانہ روی:

معاشرت میں میانہ روی کا مطلب یہ ہے کہ اُٹھنے بیٹھنے اور زندگی گزارنے کے مختلف پہلوؤں میں اعتدال کی راہ اختیار کرلی جائے، نیز گفتگو کرتے ہوئے نہ ہی اتنی بلند آواز سے گفتگو کی جائے اور نہ ہی اتنی دھیمی آواز سے گفتگو کرنی چاہیے بلکہ ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، اسی طرح کھانے پینے وغیرہ میں نہ اتنا کم کھانا چاہیے کہ آدمی کمزور ہوجائے اور نہ ہی اتنا زیادہ، اسی طرح پیدل چلتے وقت بھی میانہ روی سے کام لیا جائے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ ۔ ترجمہ کنز الایمان: " اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر۔" ( لقمان، آیت19)

میانہ روی کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: مَاعَالَ مَنِ ا قْتَصِد:ترجمہ:"جو میانہ روی اختیار کرے گا وہ محتاج نہ ہو گا۔"

معیشت میں میانہ روی:

روز مرہ زندگی میں ذاتی اخراجات ہوں یا گھریلو اخراجات، سب میں خرچ کرتے ہوئے نہ اسراف سے کام لیا جائے اور نہ ہی بخل سے، بلکہ درمیانی راہ اپنائی جائے، مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد ہوا:"اور جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ ، نہ ضرورت سے زیادہ ، نہ کم۔"

میانہ روی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال:

(*) جب تمہیں اپنے نفس کی اصلاح منظور ہو، تو میانہ روی اختیار کرو۔

(*) اللہ تعالی جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے میانہ روی، راست روی اور حسن تدبیر کی نعمت عطا فرماتا ہے۔

(*) میانہ روی کو لازم پکڑو، یہ فراغت کا بہت اچھا معاون (مددگار) ہے۔

(*) تین عادتیں ایسی ہیں، اگر وہ کسی میں پائی جائیں تو وہ کامل ایمان والا کہلائے گا، (1) حالتِ غصہ اور خوشی میں انصاف کرنے والا۔(2) حالت فقر اور غنا میں میانہ روی اختیار کرنے والا۔(3) اللہ تعالی کا عذاب اور اس کی رحمت کی امید رکھنے والا۔

(*) اے بندے! خرچ میں میانہ روی اختیار کر اور اسراف کو ترک کردے۔