محترم اسلامی بھائیو!اللہ ربُّ العزّت نےاپنے بندوں کو قرآن پاک میں اخلاقِ حسنہ اپنانے کی ترغیب دی، اور غرور و تکبر سے بچنے کا حکم فرمایا ۔  تواضع یعنی عاجزی و انکساری ایک ایسی خوبی ہے جو مومن کے دل کو نرم، زبان کو شیریں اور معاشرے کو حسین بنا دیتی ہے ۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل ان سے کلام کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

سبحان اللہ!یہ ہے اللہ کے خاص بندوں کی شان ، نہ تکبر، نہ غرور، نہ سختی ،بلکہ نرمی، حلم اور عاجزی ۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان:زمین میں اتراتا نہ چل، بے شک تو زمین کو نہ پھاڑ سکے گا اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)

اے عاشقانِ رسول!قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل عزت عاجزی میں ہے ۔ جتنا بندہ جھکتا ہے، اللہ اُسے اتنا ہی بلند کرتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا:جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے ۔ (مسلم شریف)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے غرور و بڑائی کو مٹا دیں، عاجزی و انکساری کو اپنا شعار بنائیں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خاص بندوں میں شامل فرما دے ۔

دعوتِ عمل:آئیے آج نیت کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ عزوجل ہم ہمیشہ نرم مزاج رہیں گے، بڑوں کا ادب اور

چھوٹوں پر شفقت کریں گے، اور اپنے اخلاق سے دینِ اسلام کی خوشبو پھیلائیں گے ۔ 


انکساری خود داری کے ساتھ ہو وہ بہت اچھی ہے لیکن جس اِنکساری میں بے عزتی ہے وہ انکساری نہیں بلکہ احساسِ کمتری ہے ۔ حرص، انتقام کی چاہت اور تکبر شیطان کی صفات ہیں اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سخاوت، عفو و درگُزر اور تواضع اختیار کرنا چاہیے ۔  جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے تواضع اختیار کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسےدنیا و آخرت میں بلندی عطا فرمائے گا ۔

( 1 ) انکسار ی کرنا : وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (بنی اسرائیل،24)

اس آیت میں حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو ۔

( صراط الجنان ، پارہ نمبر : 15 ، سورۃ بنی اسرائیل ، آیت نمبر : 24 جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 444 ،مکتبۃ المدینہ)

( 2 ) اطاعت کرنا : اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان : اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی

ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (النحل،48)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے کیونکہ سایہ دائیں اور بائیں جھکنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور اسی کا اطاعت گزار ہے، اسی کے سامنے عاجز اور اسی کے آگے مسخر ہے اوراس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ظاہر ہے ۔

( صراط الجنان ، پارہ : 14 ، سورۃالنحل ، آیت نمبر : 48 ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 328 ، مکتبۃ المدینہ )

( 3 ) آخرت کی فکر کرنا :وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز العرفان : اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ (النمل،87)

یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔

( صراط الجنان ، پارہ نمبر : 20 ، سورۃالنمل ، آیت نمبر : 87 ، جلد نمبر : 7 ، صفحہ نمبر : 243 ، مکتبۃ المدینہ )

( 4 ) اللہ سے ڈرتے رہنا : اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةًؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا(۴۴)

ترجمۂ کنز العرفان :اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا اور وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی شے اسے عاجز کرسکے ۔ بیشک وہ علم والا، قدرت والا ہے ۔ ( پارہ نمبر : 22 ، سورۃالفاطر ، آیت نمبر : 44 )

( 5 ) نرمی اختیار کرنا : وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پارہ نمبر : 14 ، سورۃ النحل ، آیت نمبر : 87 )


تواضع ایک نہایت ہی عمدہ وصف ہے ۔  جو رب تعالیٰ کے فضل سے ہی نصیب ہوتا ہے ۔ تواضع یعنی عاجزی و انکساری کا حکم قرآن و سنت اور تصوف میں ملتا ہے اور اس کے برعکس تکبر کی وعید بھی ملتی ہے ۔ آج ہم تواضع یعنی عاجزی اور انکساری کے متعلق جاننے کی کوشش کرے گے ۔

رحمٰن کے بندے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان، پارہ 18 آیت 63 )

اس آیت مقدسہ میں زمین پر آہستہ یعنی عاجزی اور درمیانی رفتار سے زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلو بلکہ عاجزی اختیار کرو ۔

زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلو: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃبنی اسرائیل، پارہ 15، آیت ۳۷)

اس آیت میں بھی ہمیں تکبر سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

اللہ رب العزت ہمیں تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ۔ 


             حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے ۔

مسلمانوں کو قرآن واحاديث میں تواضع، عاجزی و انکساری اختیار کرنے کا فرمایا گیا ہے ۔ اس ضمن میں بہت سے فضائل بھی آئے ہیں ذیل میں تواضع اور عاجزی کا قرآنی بیان ہے ۔

(1) فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنزالایمان:تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پ17،آیت 34)

یعنی عاجزی و انکساری اختیار کرنے والوں کے لیے خوشخبری سنادو کہ انکے لیے انکے رب کے حضور انعام ہیں ۔

(2) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (بنی اسرائیل،24)

اس آیت میں حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ ( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۱۷۱، ملخصاً)

گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمُّل نہ کرو ۔

(3) وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (النحل16،آیت87)

مختصر یہ کہ اسلام میں عاجزی اور تواضع کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ آخرت میں مشرکین عاجزی کرنا چاہیں گے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔ لہذا دنیا میں ہی اس صفت کو اپنایا جائے اور حضور اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کیا جائے ۔

حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے ۔

(مراۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1505)

اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ 

جو  عاجزی اختیار کرتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ”اس کی دو صورتیں ہیں: (1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا میں بلند مقام عطا فرمادے اور (2)عاجزی کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بیٹھ جاتی اوراللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے نزدیک رفعت و بزرگی عطا فرما دیتا ہے ۔ اسی لیے ہمیں لوگوں کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنا چاہیے ۔ آیئے اسی ضمن میں چند قرآنی آیات پڑھتے ہیں:

(1)صرف اللہ پاک کی ہی بارگاہ میں عاجزی کریں: اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (سورۃ النحل آیت نمبر48)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سایہ دار جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کا حال یہ ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت اُس کا سایہ دائیں طرف جھک جاتا ہے اور سورج غروب ہوتے وقت اس کا سایہ بائیں طرف جھک جاتا ہے اور سائے کا ایک سے دوسری طرف منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے کیونکہ سایہ دائیں اور بائیں جھکنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور اسی کا اطاعت گزار ہے، اسی کے سامنے عاجز اور اسی کے آگے مسخر ہے اوراس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ظاہر ہے اور جب کفار سایہ دار چیزوں کا یہ حال اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس میں غورو فکر کر کے عبرت و نصیحت حاصل کریں کہ سایہ و ہ چیز ہے جس میں عقل،فہم اور سماعت کی صلاحیت نہیں رکھی گئی تو جب وہ اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہے اور صرف اسی کو سجدہ کر رہا ہے تو انسان جسے عقل،فہم اور سماعت کی صلاحیت دی گئی ہے اسے زیادہ چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور صرف اسی کے آگے سجدہ ریز ہو ۔ (تفسیرسمرقندی، النحل، تحت الآیۃ48،2 / 237،)

(2)عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو: وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)

ترجمۂ کنز العرفان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (سورۃ الحج آیت نمبر 34)

(3)قیامت کے دن سب اللہ کے حضور عاجزی کرتے ہوں گے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ (سورۃ النمل آیت نمبر 87)

(4)عاجزی کرنے والوں کیلئے بڑا ثواب ہیں: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردارعورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 35)

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو ۔ ( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم ۔ ۔ ۔ الخ، تواضعہ لہم، ص230، الحدیث: 802)

اللہ پاک آپ کو اور مجھے قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ اللہ پاک ہم سب کو عاجزی کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 

تواضع بابِ تَفَاعُلٌ کا مصدر ہے جس کا لغوی معنی ہے انکساری کرنا،عاجزی و نرمی ظاہر کرنا ۔ تواضع کہتے ہیں اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا ہر ایک کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آنا یہ صفات انسان کے اندر آ جائے تو اللہ  تعالیٰ اس کو بلندی عطا فرماتا ہے ایسا شخص لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے ۔ جو عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلندی عطا فرماتا ہے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے اس کی بے شمار مثالیں ہیں ان میں سے ایک مثال آپ شیطان لعین کو دیکھ لے یہ کتنا بڑا عبادت گزار تھا فرشتوں کا استاد تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے تکبر کیا اپنے آپ کو بڑا سمجھا کہ میں حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو ان کو تو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور مجھے آگ سے پیدا کیا گیا تو شیطان نے تکبر کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو پھر اللہ پاک کی بارگاہ سے وہ ملعون ہو گیا ۔ تو شیطان لعین کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت عاجزی اختیار کرتے رہیں نرمی اختیار کریں تکبر سے بچیں اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھیں بلکہ ہمیشہ جھک کے رہیں ۔ اللہ پاک اس کو پسند فرماتا ہےجو جھک کے رہتا ہے، جو درخت جھکا ہوا ہوتا ہے لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں جو درخت اکڑا ہوا ہوتا ہے اس کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔

قرآن پاک میں بھی تواضع یعنی عاجزی کا بیان ہے کثیر آیات ہیں کچھ آیات یہاں ذکر کی جاتی ہیں :

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمۂ کنز العرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ 19 سورہ فرقان کی آیت نمبر 63)

تفسیر صراط الجنان :اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)

کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔

(بنی اسرائیل:۳۷)

سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روآیت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔

( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔

( حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)

(3)حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔

(کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس عشر)

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمۂ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (پارہ 21 سورہ لقمٰن آیت نمبر 18)

تفسیر صراط الجنان :وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)

فخر اور اِختیال میں فرق: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہے جیسے علم ، حسن ، خوش آوازی ، نسب ، وعظ وغیر ہ اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیا ل ہے جیسے مال ، جائیداد ، لشکر ، نو کر چاکر وغیرہ،مراد یہ ہے کہ نہ ذاتی کمال پر فخر کرو اور نہ بیرونی فضائل پر اتراؤ،کیونکہ یہ چیزیں تمہاری اپنی نہیں بلکہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلََّ کی عطا کی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہے وآپس لے لے ۔

کسی شخص کو حقیر نہیں جاننا چاہئے: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں ، ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے ۔

اکڑ کر چلنے کی مذمت: آیت میں اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا گیا ،اس مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روآیت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا ۔

( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، ۲ / ۴۶۱، الحدیث: ۶۰۰۲)

(2) حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روآیت ہے،حضور اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب میری امت اکڑ کر چلنے لگے گی اور ایران و روم کے بادشاہوں کے بیٹے ان کی خدمت کرنے لگیں گے تو اس وقت شریر لوگ اچھے لوگوں پر مُسَلَّط کر دئیے جائیں گے ۔ ( ترمذی، کتاب الفتن، باب-۷۴، ۴ / ۱۱۵، الحدیث: ۲۲۶۸)

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 24)

تفسیر صراط الجنان :وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ ( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۱۷۱، ملخصاً)

گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمل نہ کرو ۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے :

عَنْ عِيَاضِ بنِ حِمَارٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِنَّ اللهَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلٰی اَحَدٍ وَلَا يَبْغِي اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ،ترجمہ حدیث :حضرت سَیِّدُنَاعیاض بن حِمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تَواضُع اختیار کرو،یہاں تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر زیادتی کرے ۔ “

عجز و اِنکساری کے دِینی و دُنیاوی فوائد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنَاحسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کافرمان ہے کہ تواضع یہ ہے کہ جب انسان گھر سے نکلے تو ملنے والے ہر مسلمان کو خود سے افضل جانے ۔ حضرت سَیِّدُنَاابو زید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ”جب تک انسان یہ گُمان رکھے کہ مخلوق میں اس سے کمتر بھی کوئی موجود ہے تو وہ متکبر ہے ۔ “ علامہ قرطبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے کہ انکساری اور عاجزی کا نام تواضُع ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی ایساہو جس کے سامنے وہ تواضع کرے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ہے اور وہ لوگ ہیں جن کے لئے تواضع اختیار کرنے کا حکم خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےدیاہےجیسے،امامُ الانبیاء ،محمد مُصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حاکِم ،عالِم، امام اور والِد وغیرہ ۔ یہی وہ قابلِ تعریف تواضع ہے جو دونوں جہاں میں بلندی وعظمت کا باعث بنتی ہے ۔ رضائے الٰہی کے لئے مسلمانوں کےسامنےعاجزی کرنا مَحمود ومُستحب ہےاور جو اس طرح تواضع کرےگا اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کے دِلوں میں اِس کی قدر ومنزلت پیدا فرما دے گا، اس کا اچھا تذکرہ ہوگا اور آخرت میں اس کا مقام بلندہوگا ۔ خیال رہے کہ کسی دنیا دار اور ظالِم کے سامنے عاجزی کرناذِلَّت و ناکامی ہےجو ایسا کرے گا وہ ہر معاملے میں نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں اس کی رُسوائی ہوگی ۔ منقول ہےکہ ”جس نے کسی مالدار کے لئے اس کی مالداری کی وجہ سے تواضع اختیار کی اس کے دِین کا تہائی حصہ ضائع ہو گیا ۔ “

کفار پر فخر کرنا عبادت ہے :مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:” یعنی عجز و اِنکساری اختیارکرو تاکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر تکبر نہ کرے نہ مال میں نہ نسب و خاندان میں نہ عزت یا جتھہ میں اور کوئی مسلمان کسی بندے پر ظلم نہ کرے نہ مؤمن پر نہ کافر پر ظلم سب پر حرام ہے مگر کِبر و فخر مسلمان پر حرام ہے کفار پر فخر کرنا عبادت ہے کہ یہ نعمتِ ایمان کا شکر ہے ۔ “

مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

(1) تواضع یہ ہے کہ جب انسان گھر سے نکلے تو ملنے والے ہر مسلمان کو خود سے افضل سمجھے ۔

(2) جب تک انسان یہ گمان کرے کہ مخلوق میں اس سے کمتر انسان ہیں تو وہ متکبر ہے ۔

(3) تواضع کرنے والے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ پیدا فرما دیتا ہے اور لوگوں میں اس کا اچھا تذکرہ ہوتا ہے اور آخرت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کوبلندمقام عطا فرمائےگا ۔

(4) دنیا دار اور ظالِم کے لئے تواضع اختیار کرنے والا دنیا و آخرت میں ذِلت و خواری اٹھائےگا ۔

(5) کوئی شخص آپنے اچھے اَخلاق اور اچھی خوبیوں کی وجہ سے کسی دوسرے پر فخر نہ کرے کہ اصل کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں ۔

(6) جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عجز و اِنکساری کو اختیار کیا گویا کہ اس نے آپنے اور ظلم و فساد اور عِناد کے درمیان رُکاوٹ کھڑی کردی ۔

(7) کفار پر فخر کرنا عبادت ہے کہ یہ نعمتِ ایمان کا شکر ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ َہمیں عجز واِنکساری اختیار کرنے اور غرور و تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:602)

عَنْ اَبي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زادَ اللهُ عَبْدًا بعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا،وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُترجمہ حدیث :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور درگُزر کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلّ َعزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے اور جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ “

دنیا و آخرت میں بلندی :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا ۔ ‘‘ اس کی دو وجہیں ہیں:ایک معنیٰ یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور نقصان دینے والی چیزوں کو اُس سے دُور فرماتا ہے اور مال میں ہونے والی ظاہری کمی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے ۔

دوسرا معنیٰ یہ کہ صدقہ کرنے سے مال میں جو کمی واقع ہوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بدلے آخرت میں ثواب عطا فرما کر اس کمی کو پورا فرما دے گا ۔ ’’درگزر کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ عزت میں اضافہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ اس کی بھی دو جہتیں ہیں:ایک تو اس کا ظاہری معنیٰ ہے کہ جس شخص کی خطا کو معاف کیا جائے اس کے دل میں معاف کرنے والے کے لئے عزت و اِحترام بڑھ جاتا ہے ۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ معاف کرنے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں اجر وثواب دے گا اور اُس کی عزت آخرت میں بڑھائے گا ۔

انکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے شرمی کی انکساری، انکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے،جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے ۔

مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول:

(1) صدقات وخیرات سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتاہے اور اس میں برکت دے دی جاتی ہے ۔

(2) جو عَفْو ودرگُزر سے کام لے اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھاتا ہے ۔

(3) معاف کرنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے لیکن معافی اپنے حقوق میں ہونی چاہیے نہ کہ شرعی حقوق میں ۔

(4) دینی ،قومی مجرموں کو اُن کے جرم کی شرعی سزا ضرورملنی چاہیے تاکہ جرائم کا خاتمہ ہو ۔

(5) رضائے الٰہی کے لئے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے عاجزی اختیار کرنا بلندی درجات کا باعث ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں صدقہ وخیرات کرنے ، اپنے مسلمان بھائیوں کو معاف کرنے اور عاجزی وانکساری اختیارکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:603)

اللہ پاک اپنے آخری نبی  ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک میں جہاں بری صفات سے بچنے کا حکم فرمایا اور جن میں یہ صفات ہیں انکی مذمت اور سزا کو بیان فرمایا وہیں اچھی صفات کو اپنانے کا حکم فرمایا اور جن میں یہ صفات ہیں انکی تعریف اور اجر کو بیان فرمایا ان اچھی صفات میں سے ایک صفت تواضع و عاجزی ہے تواضع کا مطلب ہے کہ اپنے کو دوسرے سے کم تر سمجھنا ،اپنی تعریف کو ناپسند کرنا ،اپنی خوبیوں پر فخر نہ کرنا قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف انداز میں تواضع کا ذکر ہے چند آیات ذکر کی جاتی ہیں ۔

اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کو عاجزی و نرمی حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو ۔ (سورة الحجر الآیۃ: 88)

اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر پروں کو بچھا دیتا ہے اس طرح انکے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر رحم فرمائیں ۔ (صاوی جلد 2 صفحہ 281 تحت الآیۃ )

اور پنے خاص بندوں کی ایک صفت تواضع و نرمی کے ساتھ چلنا بیان فرمائی : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمہ: کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان آیت 63)

یعنی رحمن کے بندے سکون، وقار اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ (تفسیر مدارک التنزیل جلد 2 صفحہ 547 تحت الآیۃ 63 )

اللہ پاک ہمیں عاجزی اور انکساری کا پیکر بنائے اور فخر و تکبر سے محفوظ فرمائے آمین ۔ 

تواضع کا لغوی معنی: اپنے آپ کو جھکانا، یا خود کو بڑا ظاہر نہ کرنا ۔

تواضع کا اصطلاحی معنی: علماء کے نزدیک تواضع کا مطلب ہے: اپنے نفس کو دوسروں پر برتر نہ سمجھنا، لوگوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنا، اور حق کو قبول کرنا خواہ وہ کسی چھوٹے سے ہی کیوں نہ ہو ۔

ہر بندے کو چائیے کہ عاجزی کا دامن تھامے رکھے ۔ کیونکہ تکبر کرنا صرف الله سبحانہ وتعالیٰ کی صفت ہے ۔ آئیے قرآنی آیات سے تواضع و عاجزی کے بارے میں سنتے ہیں ۔ الله تعالیٰ فرماتا:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنزالعرفان :رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (الفرقان 63)

تفسیر صراط الجنان :هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:37)

سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے:

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔

( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، 1/ 558)

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمہ کنزالعرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمن،18)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔

لہذا کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے ۔ 


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی ہر پہلو سے سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے ۔  قرآن کریم میں بارہا ایسے اخلاقِ حسنہ کا ذکر ملتا ہے جن سے ایک مؤمن کی شخصیت نکھرتی ہے ۔ انہی صفاتِ حمیدہ میں سے ایک عظیم صفت "تواضع" یعنی انکساری ہے ۔ تواضع نہ صرف اخلاقی بلندی کی علامت ہے بلکہ یہ انسان کو تکبر، غرور، اور خود پسندی جیسے روحانی امراض سے بچاتی ہے ۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر اہلِ ایمان کو تواضع اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ مبارکہ میں اس صفت کو عملی طور پر نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے ۔ تواضع انسان کے دل کو پاکیزگی، عمل کو اخلاص، اور تعلقات کو محبت عطا کرتی ہے ۔ یہی وہ خُلق ہے جس کے باعث ایک انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند مقام حاصل کرتا ہے، چاہے دنیاوی حیثیت میں وہ عام انسان ہو ۔ یہ تمہید اس بات کا آغاز ہے کہ ہم قرآنی آیات کی روشنی میں تواضع کے مفہوم، اہمیت اور عملی نمونوں کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان آیت نمبر 63)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص آیت نمبر 83)

تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔

(بنی اسرائیل37،38)

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩(۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان:ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ اُنہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔

(السجدہ آیت نمبر 15)

تواضع ایک ایسا عظیم وصف ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور بندوں میں محبوب بناتا ہے ۔ قرآن کریم نے تواضع اختیار کرنے والوں کے لیے بشارتیں سنائی ہیں اور انہیں بلند درجات کا وعدہ دیا ہے ۔ یہی صفت انبیاءِ کرام، صحابہ کرام اور اولیائے صالحین کی زندگیوں کا خاصہ رہی ہے ۔ تواضع انسان کے اخلاق کو نرمی، عاجزی اور محبت سے بھر دیتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل سے تکبر نکال کر عاجزی کو اپنائیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی شخصیت سنواریں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی تواضع اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔ 


قرآن مجید میں انسان کو جن اعلی اخلاقی و اوصاف سے مزین ہونے کی تعلیم دی گئی ہے ان میں سے ایک نمایاں وصف تواضع یعنی عاجزی و انکساری بھی ہے ۔ 

تواضع کے لغوی: معنی ہیں جھک جانا وغیرہ تواضع سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھا جائے اور تکبر سے بچا جائے ۔ عاجزی و انکساری انسان کی ایک بڑی اخلاقی خوبی ہے ۔ قرآن پاک میں جابجا تواضع کی تعلیم دی گئی ہے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے کلام قرآن مجید میں تکبر کی مذمت فرمائی اور تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔

مومنین کی نمایاں خوبی تواضع : اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں جہاں کامل مومنین کے اوصاف گنوائے تو وہاں ایک وصف تواضع کو بھی ذکر فرمایا چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (۶۳)ترجمۂ کنز العرفان : اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان:63)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: کہ اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان وقار کے ساتھ عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ان افعال کے ساتھ نہیں چلتے کیونکہ یہ متکبرین کی شان نہیں ۔ (صراط الجنان:تحت الآیت 63)

اسی طرح اور بھی کئی مقامات پر وقتا فوقتا ایمان والوں کو تواضع اختیار کرنے کا کہا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تواضع یعنی عاجزی و انکساری ایک کامل مومن کے ایمان کا بنیادی جزو ہے ۔ ان تمام آیات سے تواضع کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ 

قرآن کریم اللہ پاک کا کلام اور رشد و ہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے جو ہر شے کا واضح بیان ہے قرآن پاک نے جس طرح حلال و حرام کے احکام گزشتوں امتوں کے واقعات کو بیان فرمایا اسی طرح نیک لوگوں کے وہ عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال و عادات بھی بیان فرمائی جن کے ذریعے وہ بندہ اپنے رب کا قرب اور دنیاوی و اُخروی  ترقی پر گامزن ہو جاتا ہے انہی میں سے ایک نیک عمل تواضع (عاجزی) بھی ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیوں ایک مسلمان کے لیے نیک اعمال کی بجا آوری بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ نیک اعمال رضا الٰہی حاصل کرنے ،رحمت الہی پانے نجات دلانے اور جنت میں لے جانے کا بڑا سبب ہیں آئیے ہم بھی تواضع و انکساری کا قرآنی بیان پڑھتے اور علم و عمل کے نیت کرتے ہیں ۔

تواضع کی تعریف: لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا تواضع یعنی عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (لباب الاحیاء صفحہ238)قرآن پاک کے متعدد مقامات پر تواضع و عاجزی کا بیان ملتا ہے آئیے ہم بھی پڑھتے ہیں :

1: انبیاء کرام کی سنت : اللہ پاک کو رغبت و ڈر سے پکارنا اور تواضع و عاجزی اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت مبارکہ ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰)ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔ (پ 17 الانبیاء 90)

2:کامل مومن: کامل ایمان والے لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہیں : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔

ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ 19 الفرقان 63)

3: بشارت الٰہی: رضائے الہی کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کی طرف سے خاص بشارت ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز العرفان: اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ 17الحج 34)

4: بخشش کا ذریعہ : عاجزی و انکساری ایسے عظیم اوصاف ہیں جو بخشش اور بڑے ثواب کے حصول کا ذریعہ ہیں جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمہ کنز العرفان: اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 احزاب 35)

5: جنت میں داخلہ : تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز العرفان : یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (پ 20 القصص 83)

پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے! تواضع انبیاء کرام علیہم السلام کی مبارک سنت ہی نہیں صحابہ کرام علیہم الرضوان اور دیگر بزرگان دین رحمہم اللہ کا مبارک طریقہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے انہیں عظمتوں اور رفعتوں سے سرفراز فرمایا مگر انہوں نے کبھی اس پر فخر نہ کیا بلکہ ہمیشہ تواضع و انکساری کا مظاہرہ فرمایا کیونکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ جو اللہ پاک کے لیے عاجزی اختیار کرے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا اور عزتوں سے نوازتا ہے اور جو تکبر کرے اسے رسوا کر دیتا ہے لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ تکبر سے بچتے ہوئے اللہ پاک کی رضا کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کریں ۔ اللہ پاک ہمیں عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

بادشاہ اپنی رعایہ سے عاجزی و انکساری پسند کرتا ہے ،مگر حقیقی مالک،مالِکِ حقیقی "اللہ جلّ شانُہ" ہے،وہ تمام مخلوق کا خالق ہے اور اللہ پاک عاجزی کرنے والوں کوپسند فرماتا ہے اور زبان حق،محبوب رب  ﷺ کے ذریعے عاجزی کرنے والوں کے لیے بِشارت عظمیٰ کا اعلان فرماتا ہے،جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کیا ہے:

اور اے حبیب! ص ﷺ ،آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ۔ ( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۳۰۹، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۷۳۹، ملتقطاً)

(2) الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: ترجمہ کنز العرفان:جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)

اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)

کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)

عاجزی کے دینی فوائد:

(1)اللہ عزوجل نے عاجزی کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر وثواب رکھا ہے چنانچہ اللہ پاک سورۃ الاحزاب کی آیت 35 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ترجمۂ قرآن کنزالایمان (اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (الاحزاب،35)

(2)عاجزی کرنے والوں کے لیے بشارت و خوشخبری ہے اللہ پاک سورۃ الحج کی آیت 34 میں ارشاد فرماتا ہے: -وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان :اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنا دو ۔

(3) عاجزی کرنا گویا نفس امارہ کے خلاف کھڑے ہونا،مجاہدے کے لیے تیاری کرنا اور اس کو پچھاڑنے کی کوشش کرنا ہے ۔ کیونکہ نفس امارہ برائی کا حکم دیتا ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءترجمہ کنز الایمان :نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ۔ (سورۂ یوسف آیت 53)

عاجزی کے دنیاوی فوائد:

(1) متواضِع یعنی عاجزی کرنے والا شخص لوگوں کے دل میں جلد گھر کرلیتا ہے کیونکہ لوگ متکبر اور اپنی بڑائی چاہنے والے شخص کو نہیں پسند کرتے ہیں ۔

(2)عاجزی کرنے والوں سے لوگ بات کرنا ،اُس سے ملنا اور اس کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ۔

(3)عاجزی کرنے سے کئی دینی اور دنیاوی کاموں میں مدد و معاونت ملتی ہے ۔ لوگ اس کی مدد خوشی سے کرتے ہیں ۔

عاجزی اختیار نہ کرنے کے نقصانات:

(1)جواللہ کے حضور عاجزی اختیار نہیں کریگا تو وہ عذاب میں گرفتار کرلیا جاۓ گا ۔ اللہ پاک سورۃ المؤمنون کی آیت 76 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز الایمان : اور بےشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گِڑگِڑاتے ہیں ۔

(2)آج جو اللہ کے حضور عاجزی اختیار کرنے سے بھاگے گا کل قیامت کے دن وہ خود اللہ کے حضور عاجزی سے گرا ہوگا لیکن اس وقت اس کی یہ عاجزی قبول نہ کی جائے گی جیسا کہ قرآن پاک میں مشرکین کے حوالے سے آیا ہے: وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)

ترجمہ کنزالایمان: اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (نحل،87)

(3)اگر کوئی بندہ عاجزی نہیں کرتا تو وہ کبر یعنی تکبر کی دلدل میں جا گرتا ہے، تکبر کے اختیار کرنے کو پسند کرتا ہے اور حدیث میں ارشاد فرمایا :جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ قرآن کریم میں عاجزی کو مومن کی پہچان قرار دیا گیا ہے ۔ جو بندہ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ تکبر انسان کو ہلاک کر دیتا ہے جبکہ تواضع انسان کو اللہ کا محبوب بناتی ہے ۔