تواضع عربی زبان میں عاجزی و انکساری کو کہتے ہیں ۔ تواضع کی تعریف یہ ہے
کہ لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ان کے لئے نرمی کا پہلو
اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی و اِنکساری
کہلاتا ہے ۔ عاجزی کی ضد تکبر (یعنی حق کی
مخالفت کرنا اوردوسروں کو حقیر جاننا) ہے ۔
اپنے آپ
کو تکبر سے بچانا اور عاجزی وانکساری اختیار کرنا ہر مسلمان پر لازم ہےاگر عاجزی ایسی
ہو کہ جس میں میانہ روی ہو یعنی اپنے ہم پلہ اور کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ برابر کی
عاجزی کرے، نہ تو خود کو ذلت وکمینگی والی جگہ پر پیش کرے، نہ ہی بلندی کی طرف میلان
ہو تو ایسی عاجزی شرعاً محمود، باعث اَجروثواب اور جنت میں لے جانے والا کام ہے
۔ یہ ایک ایسی صالحانہ خصلت ہے جس کے ذریعہ اخوت،الفت و محبت اور عدل و مساوات کے پیغام کو عام کیا جا سکتا ہے،یہی وجہ
ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمن کے بندے کہ زمین پر
آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان:63)
اس کے تحت
تفسیر نسفی میں ہے: یعنی وہ لوگ سکون اور
وقار کے ساتھ عاجزانہ انداز میں زمین پر
چلتے ہیں تکبر اور بڑھائی کی وجہ سے پاوں
زور سے مارتے ہوئے آپنے جوتے نہیں چٹخاتے ۔
اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ اسی طرح
رب ذوالجلال نے اپنے حبیب ﷺ کو تواضع کی
رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنزالایمان: اور
مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے
لو ۔ (الحجر: ۸۸)
یعنی ا ے
حبیب! صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت
اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر اس طرح رحم فرمائیں جس
طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صاوی،
الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ /۱۰۵۱ )
نبی
اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ،
إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ یعنی مال
سے صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کا معاف کرانا اور معذرت خواہ ہونے
سے اللہ اس کی عزت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے بندے کی تواضع و
انکساری سے اللہ اسے درجہ فضیلت میں بلند کرتا ہے ۔ (مسلم:باب استحباب العفو و
التواضع،رقم الحدیث۶۵۸۶ )
حدیث پاک
سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقام و مرتبہ پر ہو تواضع اختیار
کرنے سے اس کے مقام میں کمی نہیں آئے گی بلکہ تواضع و انکساری کی
وجہ سے انسان کا درجہ و فضیلت کو اللہ رب العزت نہ صرف اپنے حضور بڑھاتا ہے بلکہ
لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و تکریم میں مزید اضافہ کردیتا ہے اسے عاجزی و انکساری
کی بنا پر وہ فضیلت اور بلندی عطا کرتا ہے جس کا وہ پہلے کبھی تصور بھی نہیں
کرسکتا تھا ۔
تواضع اختیار
کرنا سرکار ﷺ کے اخلاق کریمہ کا حصہ ہے چنانچہ حضرت ابو
امامہ بیان کرتے ہیں: خَرَجَ عَلَيْنَا
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا
فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ:لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا
بَعْضًا ترجمہ : رسول اللہ ﷺ عصا مبارک کا سہارا لیے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے تو
ہم سب آپ کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ آپﷺ نے
فرمایا: عجمیوں کی طرح نہ کھڑے ہوا کرو اس لیے وہ یونہی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں
۔ (سنن ابی
داؤد: ۵/۳۹۸)
منع کرنے کی وجہ یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں تو ایک بندہ ہوں میں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے
کوئی عام آدمی کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی بیٹھتا ہے ۔
آپ نے
اپنی ذات کے لیے قیام کرنے کے عمل سے اپنی صفت تواضع اور اپنے خلق عاجزی و انکساری
کی بنا پر منع کردیا ۔ حضور اقدس ﷺ کے
اس عمل سے امت کو یہ تعلیم ملتی ہےکہ کوئی بھی داعی ہو، مقرر ہو، معلم و قائد ہو،
راہنما و رہبر ہو اس کی ذاتی خواہش نہ ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، اس کا احترام
بجا لائیں ۔ نیز تواضع تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اور اولیاء عظام کی
راہ ہے جبکہ تکبر و غرور شیطان،فرعون اور قارون کا ورثہ ہے جیساکہ سورہ مریم میں
اللہ پاک حضرت یحی علیہ السلام کی اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا(۱۴)اور وه متكبر ،نافرمان نہیں تھا ۔ (مریم،14)
بلکہ آپ علیہ
السلام عاجزی وانکساری کرنے والے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرنے والے تھے
۔
محمد نعمان مصطفیٰ ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اللہ عزوجل
کی ذات نے ہمیں تخلیق فرمایا اور انسان کو
عبادت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور تواضع کا حکم دیا قرآن مجید میں رب العالمین کی
ذات نے ارشاد فرمایا
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان،63)
(2) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے
گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔
(بنی
اسرائیل،37،28)
صراط الجنان :وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود نمائی سے
نہ چل ۔ ( جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (لقمن،18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا
رخسار ٹیڑھا نہ کر ۔
محمد
عامر بن محمد یعقوب (درجۂ سابعہ جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ
زار لاہور ، پاکستان)
تواضع
انسان کی وہ عظیم صفت ہے جو اسے غرور،تکبر اور خود پسندی سے بچاتی ہے یہ اخلاق
وحسن کی بنیاد اور ایمان کی علامت ہے قرآن مجید نے جگہ جگہ عاجزی وانکساری کو پسندیدہ
اور تکبر کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے اللہ
تعالیٰ کے نزدیک وہی بندہ محبوب ہی جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتا اور اپنے
رب کے حضور جھکنے میں فخر محسوس کرتا ہے ۔
تواضع کی
حقیقت:لفظ "تواضع"عربی مادہ "وضع"سے ماخوذ ہے جس کے معنی نیچے
جھکنے کے ہیں اصطلاحاً تواضع سے مراد انسان کا اپنی حقیقت پہچاننا،دوسروں کے حقوق
کا خیال رکھنا،نرم مزاجی اور عاجزی سے پیش آنا ۔ یہ خوبی انسان کے باطن کی پاکیزگی کی علامت ہے،کیونکہ کہ جو دل غرور سے
خالی ہوتا ہے وہی دل حقیقی ایمان کا گھر بن سکتا ہے ۔
قرآن مجید
میں تواضع کی تعلیم:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تواضع کو مومن کی نمایاں صفت قرار دیا ہے اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے
گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل پارہ 15)
وضاحت:یہ
آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کتنا کمزور اور محتاج ہے لہذا تکبر اس کی شایان
شان نہیں ۔
اسی طرح
قرآن مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان، پارہ 19)
انبیاء
کرام کی تواضع:حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے زیادہ علم والے بندے حضرت خضر علیہ السلام
کے پاس علم حاصل کرنے گئے حالانکہ وہ خود اللہ پاک کے برگزیدہ نبی ہے ۔
حضرت سلیمان
علیہ السلام جنہیں بادشاہت اور اقتدار دیا گیا وہ فرماتے ہے: قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ
ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُترجمہ کنزالایمان:کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے
تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ۔ (آیت 40 سورۃ النمل پارہ 19)
اور خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تواضع تو بے مثال ہیں :آپ صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کبھی کسی سے گفتگو میں تکبر نہیں کرتے تھے ،غریبوں کے ساتھ بیٹھتے بچوں کو
سلام کرتے اور غلاموں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے ۔
تواضع وہ
صفت ہے جو انسان کو خالق اور مخلوق دونوں کے قریب کر دیتی ہے ۔ تکبر انسان کو ذلیل
کر دیتا ہے جبکہ عاجزی عزت عطا کرتی ہے قرآن مجید کی تعلیمات بھی ہمیں یہی پیغام دیتی
ہیں کہ حقیقی بلندی جھکنے میں ہی ہے نہ کہ غرور میں ۔ جو شخص آپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کرتا
ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت میں سرخرو کر دیتا ہے ۔
محمد
لقمان (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلام کی
روشن اور جامع تعلیمات میں ایک نہایت حسین اور اہم پہلو تواضع و انکساری کا ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو عاجزی و انکساری
اور نرمی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے ۔ یہ
وہ پاکیزہ صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی، دلوں میں محبت پیدا کرتی اور
معاشرے میں اخوت و احترام کی فضا قائم کرتی ہے ۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بندگانِ خدا کی اس خوبی کو نہایت دلکش پیرائے
میں بیان کیا ہے، آیئے تواضع کے بارے میں
جانتے ہیں کہ وہ کیا ہے ۔
عاجزی
وانکساری کی تعریف :لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا
پہلو اختیار کرنا اور آپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری
کہلاتا ہے ۔
(نجات
دلانےوالے اعمال کی معلومات صفحہ نمبر 81 )
اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں
کئی مقامات پر عاجزی کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ۔
(1) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ
آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور
عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت
کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی
چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے
ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ
:83)
تکبر کرنے
اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا
اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ
جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و
شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی
طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔
(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (سورۃ لقمان آیت نمبر 18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن،
لقمان، تحت الآیۃ: 18، ،3 ۔ 71، ملتقطاً)
قرآن کریم
کی ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تکبر و غرور انسان کو ہلاکت کی طرف
لے جاتے ہیں، جبکہ عاجزی و انکساری بندے کو اللہ تعالیٰ کے قرب اور جنت کی نعمتوں
تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ جو شخص اپنے
رب کے سامنے جھک جائے، مخلوق کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرے، وہی دراصل حقیقی
مومن ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل
و دماغ سے تکبر کے ہر خیال کو مٹا کر تواضع، نرمی اور ادب کو اپنی زندگی کا حصہ
بنائیں تاکہ ہم دنیا میں بھی محبوبِ خدا بنیں اور آخرت میں کامیابی و فلاح پائیں ۔
تواضع ایک
اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی ہے اور اسے لوگوں کے دلوں میں
محبوب بنا دیتی ہے ۔ یہ لفظ عربی ”وضع “
سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں” جھک جانا” یا “اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا“ ۔ اسلامی
تعلیمات میں تواضع کو بہت اہم مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ صفت انسان کو غرور و تکبر
سے بچاتی ہے اور بندگی کے اصل مفہوم تک پہنچاتی ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد
باری تعالی ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( الفرقان:63)
ارشاد باری
تعالیٰ : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (نحل،23)
اگر ہم سیرت
النبی ﷺ اٹھا کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ کس طرح امت کو تواضع کی تعلیم دی ہے ۔ ایک
مرتبہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا، اے مخلوق میں سب سے اعلی وارفع ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درجے میں تو ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ (صحیح مسلم: ۴/۱۸۳۹، رقم الحدیث:
۲۳۶۹)
حضرت لقمان
رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو تواضع کی تعلیم دیتے ارشاد فرمایا ، کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔
( مدارک،
لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب
اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی
ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات
چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح
امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب
تکبر کی علامات ہیں ،ان سے ہر ایک کو بچنا
چاہئے ۔
(2) عاجزی
اختیار کرنا اور مسکین کے ساتھ بیٹھنا: چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے ارشاد فرمایا ’’عاجزی اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ بلند ہو جائے گا اور تکبر سے بھی
بری ہو جاؤ گے ۔
(کنز
العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۴۹، الحدیث: ۵۷۲۲، الجزء الثالث)
امام حسین
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی عاجزی:ایک مرتبہ امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ کا گزر چند مسکینوں کے پاس سے ہوا،
وہ لوگ کچھ کھا رہے تھے ، انہوں نے حضرت امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
کو دیکھ کر کہا ’’اے ابو عبد اللہ ! آپ
بھی یہ غذا کھا لیجئے ۔ امام حسین رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی سواری سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا ’’اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ‘‘ یعنی بیشک
اللہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ پھران کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو ان مسکینوں سے فرمایا ’’میں نے تمہاری دعوت قبول کی ہے اس لئے اب تم میری
دعوت قبول کرو، چنانچہ وہ تمام مسکین امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے
ساتھ ان کے درِ دولت پر گئے ،امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں کھانا کھلایا ، پانی پلایا اور انہیں کچھ عطا فرمایا، فراغت کے بعد وہ سب وہاں سے چلے گئے(صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۱۰۶۱) ۔
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹،
ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت
نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد
باری تعالٰی ہے: وَ لَا
تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ
الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)
عدیل
بن رمضان عطاری (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے، اور اخلاق کی سب سے
خوبصورت صورت تواضع یعنی انکساری ہے ۔
قرآن مجید نے بارہا ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ بڑائی اللہ کے لیے ہے، انسان کے
لیے نہیں ۔ جب بندہ اپنی حیثیت کو پہچان لیتا
ہے اور دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور ادب سے پیش آتا ہے تو یہی اس کی حقیقی بلندی
ہے ۔
فرمانِ
مصطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہُ یعنی جواللہ پاک کیلئے
عاجِزی کرتا ہے اللہ پاک اُسے بُلندی عطا فرماتا ہے ۔ ( شُعَبُ الْاِیمان ج 4 ص174 حدیث نمبر 814)
(1)قرآن میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔
ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں ( پارہ نمبر 19 سورة الفرقان: 63)
یعنی
"رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ "
یہ آیت ہمیں
بتاتی ہے کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا بھی نام ہے ۔ جس دل میں تواضع آ جائے، وہاں تکبر کی گنجائش
نہیں رہتی ۔ تواضع دراصل ایمان کا حسن ہے،
جو انسان کو خالق سے قریب کرتا ہے ۔
(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے
ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمن،18)
صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی
وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے
بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی
بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ ( صراط الجنان پارہ 21 ،لقمن،آیت نمبر 18)
(3) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے
نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)
صراط
الجنان:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین
میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود
نمائی سے نہ چل ۔ (تفسیر صراط الجنان پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 37)
(4) لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ
وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔
صراط
الجنان:لَا جَرَمَ: حقیقت یہ ہے : یعنی
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے
انکار اور ان کے غرور و تکبر کو جانتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔
(حوالہ تفسیر
صراط الجنان پارہ 14 سورہ النحل آیت نمبر 23)
محمد جمیل عطاری ( درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور ، پاکستان)
تواضع (عاجزی) کی تعریف:تواضع کا مطلب ہے اپنے
آپ کو بڑا نہ سمجھنا، دوسروں کے ساتھ نرمی، انکساری اور ادب سے پیش آنا، خواہ کوئی
مال و علم یا مرتبے میں کم ہو ۔ اسلام میں تواضع ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے، جو
تکبر کے بالکل برعکس ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول ﷺ نے تواضع اختیار کرنے کی تاکید کی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ
جیسا عظیم مرتبہ رکھنے والا، اگر عام عورت کے ساتھ بھی زمین پر بیٹھ کر بات کرتا
ہے تو یہ عاجزی کی بلند ترین مثال ہے ۔ تواضع انسان کو اللہ کے قریب، لوگوں میں
محبوب، اور اخلاقی طور پر بلند مقام پر پہنچاتی ہے ۔ یہ انبیاء، صحابہ، اور اولیاء کی سنت ہے ۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں تکبر چھوڑ کر عاجزی
اختیار کرنی چاہیے ۔
(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ کنز
الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( سورۃ
الفرقان ،آیت 63)
اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین
پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا
کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ
معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر
آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔
( مدارک،
الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)
کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے
منع فرمایا ہے ۔
(2) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) ترجمہ کنز
الایمان: اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو (تابع)مسلمانوں کے لیے ۔ ( سورۃ الشعراء ، آیت 215 )
(3) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (سورۃ لقمان ، آیت 18 )
اکڑ کر
چلنے کی مذمت: آیت میں اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا گیا ،اس مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل حدیث ملاحظہ ہوں
:
(1) حضرت
عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا
سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر
ناراض ہو گا ۔ ( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، 2 / 461، الحدیث: 6002)
(4) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک
تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ الاسراء ،آیت 37 )
یہ آیات
تواضع کی اہمیت اور تکبر کی مذمت کو واضح کرتی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچتے
ہوئے عاجزی اختیار کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
انسان جتنا
ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو جتنا ہی علم کیوں نہ حاصل کر لے جتنا ہی قابل کیوں نہ بن
لے انسان کی قابلیت اس کے علم اور اس کے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ نہ
وہ اپنی پڑھائی پر غرور کرے اور نہ وہ اپنے علم اور فن کے پر غرور کرے ہاں اصل پڑھا لکھا وہ ہے جو کسی سے بات کرے
تو اس کے لہجے سے اس کا علم نظر آئے اور جب وہ چلے تو اس کے چلنے کے انداز سے اس
کی قابلیت کا پتہ چلے اور جب وہ کسی سے گفتگو کرے تب اس کی عادات سے اس کے قابل
ہونے کا اندازہ لگایا جائے ۔
جیسے کہ
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے
جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس
سلام‘‘ ۔ (الفرقان 25 آیت 63)
اس آیت سے
ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کے وہ برگزیدہ انسان ہوتے ہیں جو زمین پر آہستہ
چلتے ہیں نہ کہ تکبر کے ساتھ چلتے ہیں اور
جب کوئی جاہل ان سے بات کرتا ہے تو وہ اس کو آگے سے جواب نہیں بلکہ صرف یہ کہہ دیتے
ہیں کہ سلامتی ہو تجھ پر ۔
اور ایک
جگہ پر اللہ تعالی نے زمین پر اترا کر چلنے غرور سے چلنے سے منع فرمایا ہے :جیسا
کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی
اسرائیل :37)
اس آیت سے
ہمیں معلوم ہوا کہ جو شخص زمین پر اکڑ کر چلے گا زمین پر غرور و تکبر کے ساتھ چلے
گا تو وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور جو اللہ کے نیک بندے ہوتے ہیں وہ زمین پر آہستہ
اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے امین ۔
آصف
شوکت علی (درجہ: خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
(1) وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ
فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ
اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن صور میں پھونکا جائے
گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله
چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ (سورةالنمل آیت نمبر 87)
(2) وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا
اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶) ترجمۂ کنز العرفان:اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں
گرفتار کردیا تو وہ نہ تب اپنے رب کے حضور جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ (سورةالمومنون
آیت نمبر 76)
(3) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ
اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا
ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا ۔ )سورةبنی اسرائیل آیت
نمبر 24(
(4) اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ
مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا
لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا
فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے
ہیں ۔ )سورة النحل آیت نمبر
48(
(5) وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا
اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)
عبدالحنان ( درجۂ سابعہ جامعۃ
المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالی
نے بنی آدم کو جن اعلی صفات کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ان صفات میں سے ایک وصف
تواضع ہے ۔ تواضع ایک ایسی خوبی ہے جو
انسان کے اخلاق و کردار کو نکھارتی ہے دل میں نرمی محبت و الفت پیدا کرتی ہے اور
باطن کو ستھرا کرتی ہے متواضع انسان مخلوق کے ساتھ ہمیشہ نرمی ادب اور محبت سے پیش
آتا ہے ۔
تواضع(عاجزی)کسے
کہتے ہیں؟لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا
پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری
کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،ص81)
قارئینِ
کرام! اللہ پاک نے اپنی پیاری کتاب قرآن مجید میں اس اعلی صفت کو مختلف مقامات میں
بیان فرمایا چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے ۔
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمہ
کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات
کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ 19، سورۃ الفرقان63)
اس آیت کریمہ
میں اللہ پاک مومنین کے اعلی اوصاف کا تذکرہ فرما رہا ہے ان اوصاف میں سے ایک وصف
تواضع عاجزی و انکساری ہے کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا
ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں
مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے
۔ (صراط الجنان، ج7، ص49)
اسی طرح ایک
اور مقام پر ارشاد فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ
مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز
الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا
رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا
فخر کرتا ۔ (پارہ21، سورۃ القمان 18)
اس آیت کریمہ
میں حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو
انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے
حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ
مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے
ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو
پسند نہیں ۔ (صراط الجنان، ج7، ص496)
مزید برآں
ایک مقام پر اللہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کو مومنین کے ساتھ شفقت نرمی اور تواضع کے ساتھ پیش آنے کا ارشاد فرمایا ۔
وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان: اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پارہ14، سورۃ الحجر88)
یعنی اے حبیب!
ص ﷺ ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے
ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر
ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے
بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔
(صراط الجنان،ج5، ص266)
ان آیات میں
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ تواضع اختیار کرنا چاہیے کسی کو
حقیر اور ذلت بھری نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہے وہ امیر ہو یا غریب ۔ کیونکہ حقیقی
بلندی عاجزی اختیار کرنے میں ہے نہ کہ غرور و تکبر میں جو اللہ کے سامنے جھک جاتا
ہے اللہ اسے آپنا پسندیدہ بندہ بنا لیتا ہے ۔
محمد نواز (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
سرکار مدینہ کی سیرت طیبہ
اخلاق حسنہ اور عاجزی کا مجموعہ ہے جس کی ہمیں پیروی کرنی چاہیے اور اس سے سیکھنا
چاہیے ۔ دیگر اخلاق کی طرح عاجزی کے بھی تین درجے ہیں:ایک
دَرَجہ زیادتی کی طرف مائل ہوتا ہے اسے تکبر کہتے ہیں،ایک درجہ کمی کی طرف مائل
ہوتا ہے اسے کمینگی اور ذِلَّت کہتے ہیں اور ایک درمیانی درجہ ہے جسے عاجزی سے
موسوم کرتے ہیں ۔ یہی درجہ محمود وپسندیدہ
ہے کہ انسان بغیر ذِلَّت کے عاجزی کرے باقی دونوں درجے قابِل مَذمَّت ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو تمام امور میں مِیانہ روی پسند ہے ۔
(احیاء
العلوم جلد تین صفحہ نمبر1089)
اللہ پاک
نے قرآن مجید میں بھی کئی مقامات پر عاجزی کے بارے میں ارشاد فرمایا آئیے چند آیت
مبارکہ دیکھتے ہیں جن میں عاجزی کا ذکر ہے:
(1) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو
بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں
نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پارہ 15 سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 24)
صراط الجنان:وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ
اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت
سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار
ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔
(2) وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ
فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ
اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا
صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا
چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ (پارہ 20 سورۃ النمل آیت نمبر 87)
صراط الجنان:وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ
کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر
ہوں گے ۔
(3) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ
وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ
وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ
الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا
وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور
سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے
والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں
اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے
والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
۔ (پارہ22 سورۃ الاحزاب آیت نمبر 35)
(4) وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا
اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک
قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو
تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان
تواضع والوں کو ۔ (پارہ 17 سورۃ الحج آیت نمبر 34)
محمد ارسلان سلیم (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
تواضع یہ
ہے کہ انسان اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری کرے اور مخلوق کے ساتھ نرم مزاج، شفیق،
اور خاکسار ہو، چاہے وہ کسی بھی عہدے، دولت یا علم میں بلند کیوں نہ ہواوراسلام نے
تواضع کو مومن کی پہچان اور کامیاب زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(1) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
ترجمۂ
کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور
زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (لقمن :
31 آیت نمبر 18)
یہ آیت
تکبر کی سخت مذمت اور تواضع کی واضح تعلیم دیتی ہے ۔ انسان کو ہمیشہ شائستہ اور متوازن رویہ اختیار
کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
(2) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین
پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان:25
آیت نمبر 63)
اس آیت میں
اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی نشانی یہ بتائی کہ وہ متواضع ہوتے ہیں، غرور و
تکبر سے دور رہتے ہیں، اور اپنی چال میں بھی انکساری ظاہر کرتے ہیں ۔
(3) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ
لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے
کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے
۔ (الْقَصَص:28 آیت نمبر 83)
اللہ تعالیٰ
نے جنت ان لوگوں کے لیے مخصوص کی جو عاجزی اختیار کرتے ہیں اور تکبر سے بچتے ہیں ۔
(4) لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ
وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)
ترجمۂ
کنز الایمان:فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ
مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (النحل:16، آیت 23)
Dawateislami