پیارے اسلامی بھائیو! قرض ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا بہت عام معاملہ ہے تقریباً ہر شخص قرض کے لین دین میں مشغول نظر آتا ہے ہر دوسرا شخص قرض لیتا یا دیتا رہتا ہے پھر یہ معاملہ جتنا عام ہے اتنا ہی اہم بھی ہے قرض کی بنیاد پر معاشرے میں فساد لڑائیاں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں کہیں عزتِ نفس کو پامال کیا جاتا ہے تو کہیں قتل تک بات جا پہنچتی ہے لہذا قرض کا معاملہ بہت اہم ہے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔ چونکہ قرض کا معاملہ عام ہے اور حاجت مند آدمی قرض لیتا ہے قرض لینے اور دینے کے آداب قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے ہیں ہم یہاں ایک آیت مبارکہ اور چند وہ احادیث کریمہ پیش کرتے ہیں جن میں مقروض پر نرمی کے تعلق سے بیان ہے کہ مقروض کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے  ۔

پیارے اسلامی بھائیو !قرض دینے کے تعلق سے ایک نیکی یہ بھی ہے کہ قرض لینے والا اگر مجبور ہو بیچارے کے پاس پیسے نہ ہوں تو اسے مہلت دینی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو بعض یا پورا قرض معاف کر دینا چاہیے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ ( پ:3سورہ بقرہ:280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کےچند فضائل درجِ ذیل ہیں

قیامت کی تکالیف سے نجات کا عمل :

(1)عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ترجمہ: حضرت ابوقتادہ سے روآیت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو چاہے اسےاللہ تعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص26 )

تنگدست کو مہلت دینے کے سبب بخشش :

(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللهَ أَن يَتَجَاوَزَ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللّٰهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔

(صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص26 )

(3)عن حذیفۃ قال:قال رسول اللہ ﷺ : تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَقَالُوا : أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ : لَا، قَالُوا : تَذَكَّرْ، قَالَ : كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَجَوَّزُوا عَنْهُ ،

ترجمہ :حضرت حذیفہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتوں نے تم سے پہلے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور فرمایا کہ کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟کہا نہیں!فرمایا:یاد کر ۔ کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا تو اپنے خادموں کو تنگدست کو مہلت دینے کا حکم دیتا تھا اس شخص نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے)فرمایا:اس سے در گذر کرو (صحیح مسلم کتاب البیوع باب فضل انظار المعسر الخ جلد 2 ص25 )

مذکورہ بالا فرامین سے معلوم ہوا کہ تنگدست مقروض کو مہلت دینا بخشش کا سبب ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی ممکنہ صورت میں تنگدست کو مہلت دیں ان شاءاللہ اس کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ 


مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی  سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد (Basic Purpose) یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم ہوجائیں، قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔

آئیے اب ہم مقروض پر نرمی سے متعلق احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1563))

(2) عرش کا سایہ :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(3) اللہ تعالیٰ کا رحم کرنا :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2076 )

(4) درگزر کرنا : حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9 / 97، الحدیث: 23413، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث: 29(1560))

(5) مہلت دینا :صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560))

قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘اے اللہ! مجھے حلال (رزق عطا فرما کر) کفایت کر دے، حرام (رزق) سے بچا اور اپنے فضل سے مجھے اپنے علاوہ سے بے نیاز کر دے (یعنی کسی دوسرے کا محتاج نہ کر) ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، 5 / 329، الحدیث: (3574)

قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے ہمارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دیں اور ہمارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا ہمارا لیے سب سے بہتر اور اس سے آخرت میں عظیم ثواب ملے گا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 


یہ جملہ تو آپ نے کافی بار سنا ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ۔   کیا کبھی اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ اسلام کس طرح مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس لئے کہ اسلام ان تمام چیزوں کا جامع ہے جو، ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے کافی ہیں ۔ ان روشن تعلیمات میں سے، حسن سلوک اور عفو درگزر بھی ہیں ۔

حسن سلوک: لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاق اور اچھے برتاؤ کا عملی مظاہرہ حسن سلوک کہلاتا ہے ۔

عفو و درگذر : خطا کو معاف کرنا اور جواب دینے کی قدرت کے باوجود چشم پوشی کرنا عفو و درگزر ہے ۔

مقروض کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی کے فضائل نبی کریم ﷺ کے اقوال میں موجود ۔ اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ ہوں ۔ ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ ہماری دنیا و آخرت آسان ہو جائے ۔ لیکن یہ کس طرح ہوگا ۔ آئیے حدیث پاک میں دیکھتے ہیں ۔

حضور ﷺ کا فرمان رحمت ہے: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

قیامت کا دن بہت ہولناک ہوگا اس دن عرش کا سایہ نصیب ہو جائے تو اور کیا چاہیے لیکن اس کے لئے کچھ کرنا ہوگا ۔ آئیے حدیث سے پوچھتے ہیں ہمیں کیا کرنا ہوگا تاکہ عرش کا سایہ نصیب ہو جائے ۔

فرمان مبارک ہے :جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

قیامت کا دن تکلیفوں کا دن ہے ۔ خود آدمی کے اپنے اعضاء گواہی دے رہے ہوں گے ۔ سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا ۔ اس دن دیگر اعمال کے ساتھ ساتھ ایک ایسا عمل بھی ہے جو تکلیفوں سے نجات دے گا : چناچہ

حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

اللہ اس شخص پر رحم کرے گا :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

اے فرشتوں میرے اس بندے سے درگزر کرو: صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)

تجارت کرنے والے کو چاہیے کہ اگر کوئی تنگدست ہے تو اس پر تھوڑی نرمی کریں اگر ہوسکے تو اس کو معاف کر دیں ۔ اس کی بھی فضیلت ہے حکایت ملاحظہ ہو ۔

نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

ہم نے مقروض پر نرمی و حسن سلوک کے حوالے سے نبوی تعلیمات کے چند پھولوں کا جائزہ لیا ۔ ہمیں چاہیے کہ مقروض پر نرمی کریں ، اس کے ساتھ حسن سلوک کریں ، اگر کوئی تنگدست ہو تو ہوسکے تو اس کو قرضہ معاف کردیں ۔ ان شاءاللہ اس کی برکت سے ہماری دنیا و آخرت آسان ہوگی ۔ 


اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)ترجمہ کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو ‏مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ یقیناً اسلام وہ دین ہے جس نے انسانیت کو محبت، اخوت، حسنِ سلوک، درگزر اور ‏ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تعلیم دی ۔ قرآن کریم نے بارہا فرمایا کہ مسلمان کا دل ‏نرم ہو، ہاتھ کھلا ہو اور رویہ ایسا ہو کہ دوسروں کو سہولت پہنچے ۔ اسی سلسلے میں رسولِ ‏اکرم ﷺ نے معاشی معاملات خصوصاً قرض کے باب میں نہایت حکیمانہ اور رحمت ‏بھری ہدایات عطا فرمائیں ۔ قرض وہ معاملہ ہے جس سے کسی کی حاجت پوری ہوتی ‏ہے، مگر وقتِ ادائیگی تنگی یا پریشانی پیدا ہو سکتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے مقروض کے ‏ساتھ نرمی، مہلت اور معافی کو عظیم نیکی قرار دیا ۔ آئیے نبوی تعلیمات سے چند ‏مثالیں سنتیں ہیں ۔

قرض آسان کرنے والے کے لیے دعائے مصطفی ﷺ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا، إِذَا بَاعَ، ‏وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَىترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے ‏اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔

(بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی ‏الشراء والبیع، الحدیث: ‏2076 )‏

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کا معاملہ ہر موقع پر نرم، سہل اور اخلاقی ‏خوبیوں پر مبنی ہونا چاہیے ۔ مزید یہ حدیث قرضدار پر نرمی کی نبوی تعلیمات کا ‏بنیادی اصول ہے:جو شخص دوسروں پر آسانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ‏اس پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے ۔

تنگدست مقروض کو مہلت دینے کا عظیم اجر:‏ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ، فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ، فَقَالَ: آللَّهِ قَالَ: آللَّهِ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ،

ترجمہ:‏عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ ‏نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو وہ ان سے چھپ گیا، پھر (بعد میں) ‏انہوں نے اسے پا لیا تو اس نے کہا: میں تنگ دست ہوں ۔ انہوں نے کہا: اللہ ‏کی قسم؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! انہوں نے کہا: میں نے رسول ‏ﷺ سے سنا: ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت ‏کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا ‏قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ ‏والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر،حدیث: 4000‏‎ ‎‏)‏

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ مقروض کی حالت دیکھ کر اس پر ‏سختی نہ کرنا بلکہ اسے وقت دینا،یہ عمل صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایسا ‏عمل ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود اپنے عرش کے سائے کے ساتھ دیتا ہے ۔

قرض معاف کرنے کا عظیم مقام: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ،‏ترجمہ:‏نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا ‏کرتا تھا جب وہ کسی تنگدست (غیر قادر شخص) کو دیکھتا تو اپنے ملازموں سے ‏کہتا: اسے چھوڑ دو، اس کے بارے میں نرمی اختیار کرو، شاید اللہ ہم پر بھی ‏نرمی فرمائے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو (قیامت کے دن) معاف فرما دیا ۔ (سنن ‏ابن ماجہ،كتاب الزهد،حدیث: 4216)

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قرضدار کے ساتھ نرم رویہ ‏رکھنے کے بےمثال اجر کو واضح فرمایا ہے ۔ وہ تاجر کوئی بہت بڑا عابد نہ تھا، مگر ‏اس کا ایک عمل"تنگدست مقروض کو چھوڑ دینا، اس سے نرمی کرنا"‏

اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا محبوب ثابت ہوا کہ اللہ نے اس کی لغزشیں ‏معاف فرما دیں ۔

وعدہ خلافی نہ کرنا مگر سختی بھی نہ کرنا:‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ،ترجمہ:‏نبی کریم ﷺنے فرمایا: جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے ‏طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا ‏کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کر دے ‏گا ۔

(صحيح ‏البخاری،كتاب الاستقراض،حدیث: 2387)‏

اس حدیث میں قرض لینے والوں کے لیے سب سے مضبوط اخلاقی اصول بیان ہوا ‏ہے"نیت درست ہو تو اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے ۔ اسلام کی تعلیمات روشن بھی ہیں اور رحمت سے بھرپور بھی ۔ قرض دینا ‏نیکی ہے، مگر قرضدار پر نرمی کرنا اس سے بھی بڑی نیکی ہے ۔ رسول اللہ ‏ﷺ نے مہلت دینے، آسانی کرنے اور حتیٰ کہ معاف کر دینے تک کی ‏ترغیب دی ۔ یہی اوصاف ایک مضبوط، رحم دل اور باکردار معاشرہ ‏تشکیل دیتے ہیں ۔ ہم سب کو چاہیے کہ مالی معاملات میں سختی کے بجائے سہولت کا راستہ ‏اختیار کریں کیونکہ جس نے دوسروں پر آسانی کی، اللہ اس کے لیے دنیا ‏اور آخرت دونوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔


عاشقانِ رسول کی عالمگیر مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز  لالہ موسیٰ ، پنجاب میں قوتِ سماعت سے محروم اسلامی بھائیوں کے لئے”کفن دفن کورس“ کا انعقاد کیا گیا۔

اس کورس میں اسپیشل پرسنز کو غسلِ میت اور کفن کاٹنے / پہنانے کا طریقہ نہایت آسان اور عملی انداز میں سکھایا گیا تاکہ وہ اس ثواب کے کام کو صحیح طریقے سے ادا کر سکیں۔

معلومات کے مطابق یہ کورس گجرات ڈویژن ذمہ دار محمد نبیل عطاری نے کروایا جبکہ نگرانِ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ محمد عمیر ہاشمی عطاری نے اشاروں کی زبان (Sign Language) میں اس کی ترجمانی کر کے اسپیشل پرسنز کے لئے سیکھنے کے عمل کو نہایت آسان بنا یا۔

کورس کے اختتام پر تحصیل ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ حبیب عطاری نے اجتماعی دعا کروائی۔اور اسپیشل پرسنز نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:”ہمیں اس کورس سے قبل غسلِ میت اور کفن کاٹنے / پہنانے کے طریقۂ کار کا مکمل علم نہیں تھا، یہ ہمارے لئے نہایت مفید کورس رہا۔ ایسے کورسز کا سلسلہ جاری رہنا چاہیئے“۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


28 اپریل 2026ء کو مومن آباد سیکٹر 4 ایف، یوسی 5 A وارڈ 2، کراچی کی جامع مسجد اسلم میں ”ماہانہ درسِ قرآن بسلسلہ گیارہویں شریف“ کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام کرنا اور مسلمانوں میں دین کی محبت پیدا کرنا تھا۔

تلاوت و نعت کے بعد مبلغِ دعوتِ اسلامی مولانا ابو طلحہٰ عطاری مدنی نے بیان کرتے ہوئے قرآنِ مجید کے پیغامات کو بیان کیا اور وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی دینی معلومات میں اضافہ کیا۔

علاوہ ازیں مولانا ابو طلحہٰ عطاری مدنی نے دعوتِ اسلامی کے 12 اہم دینی کاموں کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کی ذہن سازی کی تاکہ وہ دینی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اس روحانی محفل کا مقصد قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام کرنا اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دینا تھا۔(رپورٹ: محمد نعیم عطاری یوسی نگران 5 A مومن آباد، ڈسٹرکٹ اورنگی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


24 اپریل 2026ء کو اورنگی ڈسٹرکٹ ،  مؤمن آباد ٹاؤن یوسی 2، کراچی کی جامع مسجد فریدہ بانو میں شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے تحت ایک کورس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد غسلِ میت، کفن دفن کے طریقہ ٔکار اور ان کی فضیلت و اہمیت سے حاضرین کو آگاہ کرنا تھا۔

اس موقع پر شعبہ کفن دفن کے مؤمن آباد ٹاؤن ذمہ دار ندیم عطاری نے حاضرین کو غسلِ میت دینے و کفن کاٹنے کے مسائل اور اس کا عملی طریقہ بیان کیا۔

اس کے علاوہ ٹاؤن ذمہ دار نے حاضرین کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔اس موقع پر یوسی 2 کے اسلامی بھائی اور مسجد کمیٹی کے رکن سیّد طہ عطاری نے شرکت کی۔ (رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

24 اپریل 2026ء کو گلبرک ڈسٹرکٹ ،  ناظم آباد ٹاؤن، کراچی کی جامع مسجد مصطفیٰ میں شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے تحت ایک کورس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد غسلِ میت، کفن دفن کے طریقہ ٔکار اور ان کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کرنا تھا۔

اس موقع پر شعبہ کفن دفن کے ڈسٹرکٹ ذمہ دار عزیر عطاری نے حاضرین کو غسلِ میت دینے و کفن کاٹنے کے مسائل اور اس کا عملی طریقہ بیان کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا ذہن دیا۔اس موقع پر یوسی نگران سمیر عطاری اور دیگر ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ (رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت پچھلے دنوں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد سے ایک آن لائن اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں شعبہ روحانی علاج کے ذمہ داران نے شرکت کی جس کا مقصد شعبے کے کاموں کا جائزہ لینا اور بہتری کے لئے آئندہ کے اہداف طے کرنا تھا۔

اس موقع پر نگرانِ شعبہ مولانا انور رضا عطاری نے کینیا (Kenya) اور نیوزی لینڈ (New Zealand) کے شعبہ روحانی علاج ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے بستوں کی کارکردگی اور ان کی تشہیر کے حوالے سے مزید بہتری کے لئے اہداف بتائے۔

اس کے علاوہ نگرانِ شعبہ نے بستے کھولنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات، غیر فعال بستہ ذمہ داران کو فعال کرنے، ہفتہ وار اجتماعات میں شعبہ روحانی علاج کے بستے لگوانے اور دعائے شفاء اجتماعات کے انعقاد پر زور دیا۔

اسی طرح نگرانِ شعبہ نے شعبے کے کاموں میں بہتری لانے اور اسے مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت پچھلے دنوں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد سے ایک آن لائن اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں شعبہ روحانی علاج کے ذمہ داران نے شرکت کی جس کا مقصد شعبے کے کاموں کا جائزہ لینا اور بہتری کے لئے آئندہ کے اہداف طے کرنا تھا۔

اس موقع پر نگرانِ شعبہ مولانا انور رضا عطاری نے بنگلہ دیش (Bangladesh) کے 3 رکنی مجلس ، نیپال (Nepal) ، اسپین (Spain) اور UK (United Kingdom) کے شعبہ روحانی علاج ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے بستوں کی کارکردگی اور ان کی تشہیر کے حوالے سے مزید بہتری کے لئے اہداف بتائے۔

اس کے علاوہ نگرانِ شعبہ نے بستے کھولنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات، غیر فعال بستہ ذمہ داران کو فعال کرنے، ہفتہ وار اجتماعات میں شعبہ روحانی علاج کے بستے لگوانے اور دعائے شفاء اجتماعات کے انعقاد پر زور دیا۔

اسی طرح نگرانِ شعبہ نے شعبے کے کاموں میں بہتری لانے اور اسے مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت پچھلے دنوں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد سے ایک آن لائن اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں شعبہ روحانی علاج کے ذمہ داران نے شرکت کی جس کا مقصد شعبے کے کاموں کا جائزہ لینا اور بہتری کے لئے آئندہ کے اہداف طے کرنا تھا۔

اس موقع پر نگرانِ شعبہ مولانا انور رضا عطاری نے آسٹریلیا (Australia)، گریس (Greece)، ہانگ کانگ (Hong Kong)، اٹلی (Italy)، کویت (Kuwait) اور ترکی (Turkey) کے شعبہ روحانی علاج ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے بستوں کی کارکردگی اور ان کی تشہیر کے حوالے سے مزید بہتری کے لئے اہداف بتائے۔

اس کے علاوہ نگرانِ شعبہ نے بستے کھولنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات، غیر فعال بستہ ذمہ داران کو فعال کرنے، ہفتہ وار اجتماعات میں شعبہ روحانی علاج کے بستے لگوانے اور دعائے شفاء اجتماعات کے انعقاد پر زور دیا۔

اسی طرح نگرانِ شعبہ نے شعبے کے کاموں میں بہتری لانے اور اسے مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

19 اپریل 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے  عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں شعبہ روحانی علاج کے تحت ایک اہم مدنی مشورہ ہوا جس میں شعبے کے کراچی سٹی استخارہ اجازت یافتہ ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس موقع پر سٹی ذمہ دار طارق امان عطاری نے شرکا کے ساتھ شعبے کے کاموں کو بہتر بنانے کے حوالے سے کلام کیا اور 12 دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دلائی نیز انہوں نے دینی خدمات کے فروغ اور شعبے کے کاموں کی بہتری کے لئے آئندہ کے اہداف بھی بتائے۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)