اسلام کی روشن تعلیمات کا ایک بہت ہی حسین پہلو عاجزی اختیار کرنا ہے ۔  اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تواضع اور عاجزی کی تعلیم دی ہے، یہ ایسا وصف ہے کہ جو انسان کو انسانوں اور دیگر جانداروں کا خیال رکھنے، ان کے ساتھ مناسب انداز میں پیش آنے اور ان کے دکھ درد میں شامل ہونے پر ابھارتاہے ۔ اس وصف کو قرآن و حدیث میں جس انداز میں بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے ، چنانچہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم

میں اِرشاد فرمایا:

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)

(2) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔

اِن آیاتِ مقدسہ میں اللہ پاک نے اپنے کامل الایمان بندوں کے ایک خاص وَصف ”عاجزی و اِنکساری“ کا بھی ذِکر فرمایا کہ وہ زمین پر اِطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے چلتے ہیں اور پھر ان تواضع کرنے والوں کو خوشی کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا ۔ معلوم ہوا کہ عاجزی و اِنکساری اِختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے،پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ ہے جس سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے چنانچہ اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

(3) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

(4) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔ (الاعراف،36)

اس آیت سے معلوم ہو اکہ تکبر کی بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی جب تکبر کا شکار ہوتا ہے تو نصیحت قبول کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے ۔

(5) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔ یاد رَکھیے! اپنے آپ کو بڑا سمجھنے،غرور و تکبر کرنے اور اِترا کر چلنے سے اِنسان کی شان بلند نہیں ہو جاتی اور نہ ہی مال و اَولاد کی کثرت اور قوم قبیلے کے زیادہ ہونے سے عزت و عظمت اور شان و شوکت میں اِضافہ ہوتا ہے ۔ عزت و عظمت،شان و شوکت اور بلندی اُسے ملتی ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے اور اللہ پاک اُسے عطا فرماتا ہے جو عاجزی و اِنکساری کرتا ہے۔

اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کے ظاہر و باطن،کردارواخلاق اور معاملات کو بھی حسن عطا کرتا ہے ۔

اس دین کامل کی تعلیمات میں سے تواضع یعنی عاجزی و انکساری بھی ہے ۔ سب سے پہلے ہم تواضع کا مطلب سمجھ لیتے ہیں ۔

تواضع کا معنی:تواضع کا معنی ہے اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا ،تکبر سے بچنا ،دوسروں کے ساتھ نرمی اختیار کرنا ۔

تواضع اختیار کرنے کے فوائد:تواضع یعنی عاجزی نہ صرف معاشرتی حسن کو بڑھاتی ہے بلکہ ساتھ رہنے والوں جن سے بندہ نرمی اختیار کرتا ہے ان کے دلوں میں مقام و مرتبہ بڑھتا ہے ۔ دینی و دنیاوی مقام و مرتبہ رکھنے والا شخص اگر اپنے سے کمتر کے ساتھ نرمی کرتا ہے عاجزی اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ پاک کے یہاں مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے ۔ پیارے پیارے اسلامی بھائیو !ہمارے اسلاف کا بھی یہی طریقہ رہا ہے کے وہ اپنے ماتحت افراد کے ساتھ عاجزی و نرمی اختیار کرتے تھے جیسا کے اس دور کے 15 پندرویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت سیدی وسندی شیخ کامل شیخ طریقت امیر اہلسنت محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ ہی کو دیکھ لیں کے آپ اپنے ماتحتوں کے ساتھ کتنی عاجزی و نرمی اختیار فرماتے ہیں ۔

قرآن کریم میں تواضع یعنی عاجزی اختیار کرنے کے بارے میں بیان:اللہ پاک تواضع، عاجزی اختیار کرنے والے بندوں کا قرآن پاک میں تذکرہ فرمایا ہے : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان،63)

صراط الجنان:اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !تواضع یعنی عاجزی میں سے یہ بھی ہے کے جب آپ کسی سے بات کریں یا کوئی اور آپ سے بات کرے تو آپ اس کی طرف پوری توجہ کریں اس کی طرف اپنا چہرہ کریں اس کی پوری بات سنیں ۔ اس کی طرف بھی قرآن کریم نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر ۔ (لقمان،18)

صراط الجنان: جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنا ۔

اسی طرح ہمارے پیارے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے بھی تواضع عاجزی اختیار کرنے کا درس ملتا ہے کے آپ اپنے غلاموں سے کس طرح عاجزی اختیار فرماتے اور عاجزی اختیار کرنے کی رہنمائی فرماتے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کے اللہ پاک ہمیں بھی تواضع اختیار کرنا نصیب فرمائے ۔

اپنا عاجز بندہ بنائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ 

انسان جب دنیا میں کامیابی کی تلاش کرتا ہے تو اکثر ظاہری اسباب اور مادی وسائل کو اہم سمجھتا ہے، لیکن قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی ان صفات میں ہے جو انسان کے دل کو نرم، فکر کو روشن  بناتی ہیں ۔  ان ہی میں سے ایک صفت تواضع ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے ۔

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( فرقان، آیت 63)

‎‎ صراط الجنان:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ زمین پر هَوْنًا یعنی نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ وہ تکبّر سے دُور رہتے ہیں، کسی پر برتری نہیں جتاتے ۔

(2) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمۂ کنزُالایمان: اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ ( لقمان، آیت 18)

‎‎ تواضع کے فوائد:

1، اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: جس نے تواضع اختیار کی، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے ۔

2، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے عاجز شخص محبوب ہوتا ہے ۔

3، علم میں برکت آتی ہے کیونکہ متکبر علم نہیں سیکھتا ۔

4، معاشرتی سکون بڑھتا ہے تواضع والے لوگ اختلاف نہیں پھیلاتے ۔

تکبر سے اجتناب:قرآن میں تکبر کو شیطان کی صفت قرار دیا گیا ہے ۔ ابلیس نے جب آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو کہا: اَنَا خَیْرٌ مِّنْه ۔ ترجمہ کنز الایمان:میں اس سے بہتر ہوں ۔ (الاعراف،12)

‎‎ عملی زندگی میں تواضع:

بڑوں کے سامنے ادب، چھوٹوں پر شفقت ۔

اپنے علم، دولت یا مقام پر فخر نہ کرنا ۔

کسی نادان کے طعن پر صبر و سلام کہنا (جیسا کہ سورۃالفرقان میں حکم ہے) ۔

کامیابی کو اپنی محنت نہیں بلکہ اللہ کی عطا سمجھنا ۔

دوسروں کی رائے سننا اور غلطی مان لینا ۔

قرآن پاک میں "تواضع" یعنی عاجزی، انکساری کو نہایت پسندیدہ وصف کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جبکہ تکبر و غرور کو سختی سے منع فرمایا گیا ہے، کیونکہ تواضع ایسی خوبی ہے کہ جو بندے کو تمام انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے، معاشرے میں انسان کے احترام اور اس کے وقار کا سبب بن کر باہمی اعتماد اور سکون وراحت کا باعث بنتی ہے ۔  یہ صفت انسان کے اخلاق کو زینت بخشتی ہے اور اچھے تعلقات اور مخلصانہ روابط کو مضبوط کرتی ہے، انسانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے اور ہر قسم کی جارحیت اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے روکتی ہےمختصر یہ کہ عاجزی، انکساری اور تواضع بہت سی انفرادی و اجتماعی، معنوی و اخلاقی برکات کا سرچشمہ ہے ۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک ایسی نیکی ہے کہ جو تواضع اختیار کرتا ہے اس سے لوگ حسد نہیں کرتے ۔ خالق کائنات نے کثیر مقامات پر تواضع کا ذکر فرمایا ہے،آئیے چند آیات ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (پ19،الفرقان : 63)

اس آیت میں زمین پر وقار، اطمینان اور عاجزانہ شان سے چلنے کو مومنین کی صفت کراردیا گیا ہے کہ اگرچہ دنیا میں تمام انسان ہی عباد الرحمٰن (اللہ کے بندے) ہیں لیکن یہاں تواضع اختیار کرنے والے بندوں کی رحمٰن کی طرف نسبت کرنا، ان بندوں کے شرف کو بیان کرنے کیلئے ہے ۔

ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ التَّوَاضُع یعنی افضل عبادت تواضع ہے ۔ ( شعب الایمان، 6/ 278، حدیث:8148)

(2) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (پ15،بنی اسرائیل:37)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبرانہ طریقے سے چلنا اللہ جل جلالہ کو کتنا نا پسند ہے نیز یہ کہ تکبر و غرور سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں تو گناہ بھی لازم ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا اترانا چھوڑیے اور تواضع(عاجزی و انکساری) اختیار کیجئے ۔

(3) وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔ (پ 17،الحج:34، 35)

اِن آیاتِ مبارکہ میں بھی صفتِ تواضع کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اسی صفت کو اختیار کرنے پر قرآن مجید انہیں خوشخبری سنا رہا ہے ۔

(5) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان : اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پ 14،الحجر:88)

یعنی اے حبیب خدا ﷺ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر اس طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔

(صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: 88، 3 / 1051)

حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :جو شخص مسلمانوں کے ساتھ جتنا زیادہ عاجزی اور اِنکساری سے پیش آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ مقرب بندوں کے اعلیٰ مَراتب پر فائز ہو گا اور جو جتنا زیادہ تکبر اور ظلم کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ پَست مقام پر ہو گا ۔ (مرقاۃ المفاتیح،8 / 827، تحت الحدیث : 5106)

حضور ﷺ سب سے بڑھ کر تواضع فرمانے والے ہیں ۔ اللہ پاک انکا صدقہ ہمیں بھی تواضع نصیب فرمائے اور احکامات الٰہیہ کو بجالانے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 

دینِ اسلام ایک ایسا کامل و پاکیزہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فرماتا ہے ۔  خواہ معاملہ شریعت کے احکام کا ہو یا عبادات کا یا اخلاقیات کا ۔ دین اسلام ہر پہلو میں ایسا روشن راستہ دکھاتا ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے ۔ اسلام کی انہی پیاری تعلیمات میں سے ایک نہایت خوبصورت وصف تواضع ہے یہ وہ صفت ہے جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچاتی ہے ۔ جوشخص اس وصف کواختیار کرتا ہے وہ اللہ عزوجل کا محبوب اور معاشرے کا بہترین فرد بن جاتا ہے ۔

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنے خاص و محبوب بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان، آیت 63)

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) ترجمۂ کنزُالایمان:اور اے محبوب! خوشی سنا دو ان تواضع کرنے والوں کو۔ (سورۃ الحج، آیت 34 )

ان آیاتِ مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ پاک اپنے ان بندوں سے محبت فرماتا ہے جو تواضع اور انکساری اختیار کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف رب کے محبوب بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں بھی عزت و وقار کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں ۔ تواضع وہ صفت ہے جو انسان کو تکبر سے بچاتی ہے اور رب کا قرب عطا کرتی ہے ۔ جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے، وہ دراصل اپنے رب کے احکام کو بجا لاتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 24)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تواضع اور عاجزی کو لازم پکڑو، خاص طور پر والدین کے ساتھ نرمی و انکساری سے پیش آؤ یہی طرز عمل انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے ۔

اسی طرح ربِّ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ترجمۂ کنزالعرفان:اور لوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رُخسار ٹیڑھا نہ کر ۔ (سورۃ لقمان، آیت 18)

حضرتِ علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطورِ تواضع اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے رکھو، ان سے چہرہ نہ پھیرنا، کیونکہ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خصوصاً فقراء و مساکین کو ۔ بلکہ تمہارے لیے لازم ہے کہ امیر و غریب، دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں برابری ہو ۔

(تفسیر روح البیان، پ 21، سورۃ لقمان، تحت الآیۃ: 84/7/18)

تکبر و غرور شیطان کی خصلت ہے جب کہ عاجزی انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کی صفت ہے یہی صفت انسان کو اللہ عزوجل کے نزدیک بلند مرتبہ عطا کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں عزت عطا کرتی ہے ۔ اسی طرح حدیث پاک میں بھی تواضع کے متعلق پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے :

حضرت عمر رضی الله عنہ سےروایت ہے آپ نے منبر پر فرمایا اے لوگو انکساری اختیار کرو کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتاہےتو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑااور جوغرورکرتا ہے الله تعالٰی اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 حدیث نمبر:5119 )

ان تفاسیر ،آیات اور حدیث پاک سے روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر موقع پر یہ رہنمائی دیتا ہے کہ جب بھی کسی سے ملاقات یا گفتگو کرو تو عاجزانہ انداز میں کرو نہ کہ متکبرانہ رویہ اختیار کرو ۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب فقیر ہو یا مسکین ، سب کے ساتھ تواضع اور نرمی سے پیش آؤ کیونکہ یہی وصف انسان کو رب کا محبوب اور معاشرے کا بہترین فرد بناتا ہے ۔ 


الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہماری ہر اعتبار سے رہنمائی فرماتا ہے چاہے اس کا تعلق ہمارے اعمال ظاہرہ سے ہو یا باطنہ سے ہو اور اعمال باطنہ میں سے ایک عمل تواضع یعنی خاکساری ،عاجزی بھی ہے یہ ہمارے دین میں مطلوب و محمود ہے اور اس کا خلاف یعنی تکبر مذموم ہے اور اس تکبر کو چھوڑ دینا مطلوب ہے ۔

آخرت کا گھر: اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کے لیے قرآن پاک میں کیا ہی پیاری بشارت ارشاد فرمائی:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (پارہ 20 ،قصص،آیت نمبر 83)

اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے:اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں  کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں  امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں  کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ۔

مؤمنین عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جہاں ایمان والے اور والیوں کے  اوصاف  حمیدہ بیان فرمائے تو اس میں ایک یہ بھی وصف بیان فرمایا: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ

ترجمہ کنز الایمان: اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ۔

اور پھر ان کے لیے آگے انعام بھی کیا خوب ارشاد فرمایا:-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)ترجمہ کنز الایمان: ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ ( پارہ 22 ، احزاب آیت نمبر 33)

بلکہ اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کی ادائیں عاجزانہ بھی بیان فرمائی:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ۔ ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔

(پارہ 19 ،فرقان آیت نمبر 63)

اس آیت کے تحت تفسیر مدارک التنزیل میں ہے : اَیْ یَمْشُونَ بِسَکِیْنَۃٍ وَ وَقَارٍ وَ تَوَاضُعٍ دُوْنَ مَرَحٍ وَ اِخْتِیَالٍ وَ تَکَبُّرٍ ۔ ترجمہ: یعنی رحمٰن کے بندہ اطمینان وقار اور تواضع کے ساتھ چلتے ہیں نہ کہ اکڑتے ہوئے اتراتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے چلتے ہیں ۔

کوئی کسی پر فخر نہ کریں:حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں  تم لوگوں  کو حکم دوں ) کہ اِنکساری کرو حتّٰی کہ تم میں  سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے" ۔ (مسلم ،کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ الخ صفحہ 2198 حدیث 2865 دار الاحیاء التراث العربی)

حضور ﷺ کا تواضع: حضور ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ  ہےاور حضور ﷺ کی پیروی کو ہمارے لیے بہترین قرار دیا گیا اس لیے ہمارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے نہ صرف عاجزی کا حکم دیا بلکہ ہمیں عاجزی کرکے بھی دیکھائی ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :حضور ﷺ نے ایک جزام زدہ شخص کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالہ میں داخل کردیا اور فرمایا کھاؤ اللہ ہی پر بھروسہ اور توکل ۔

(سنن ابن ماجہ کتاب المرض باب الجزام  صفحہ1172 حدیث نمبر 3542 دار احیاء الکتب العربیہ)

اسلاف کا طرزِ عمل اور اقوال: اور ہمارے اسلاف بزرگان دین اور وہ انعام یافتہ لوگ جن کے راستہ کو اللہ عزوجل نے صراط مستقیم کا نام دیا اب ان کا طرز عمل اور تواضع کے متعلق اقوال ملاحظہ ہو جس کے ذریعے ہمارے لیے مزید واضح ہو جائے کہ تواضع کیا ہے ۔ حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کیا تم جانتے کہ عاجزی کیا ہے؟ عاجزی یہ کہ تم اپنے گھر سے نکلو تو جس مسلمان کو دیکھو اسے اپنے سے افضل گمان کرو ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ1005مکتبۃ المدینہ)

حضرت مالک بن دینار (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہے اگر کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر اعلان کرے کہ تم میں سے جو  برا ہے وہ باہر نکلے تو اللہ عزوجل کی قسم مجھ سے پہلے کوئی نہیں نکلے گا مگر یہ کہ کوئی اپنی طاقت کے بل بوتے پر یا دوڑ میں مجھ سے سبقت کر جائے ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ1006مکتبۃ المدینہ)

مال داروں کے سامنے عاجزی کرنا : حضرت یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مال کے ذریعے تکبر کرنے والوں پر تکبر کرنا عاجزی ہے ۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ 1008مکتبۃ المدینہ)

یہ حکم اس لیے کہ وہ اپنے اس قبیح فعل سے باز آئے ۔ بلکہ حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے تو عاجزی کی تعریف ہی یہ کی "مال داروں سے تکبر کرنا اور فقیروں سے انکساری کرنا تواضع ہے" ۔ (رسالہ قشیریہ(مترجم) صفحہ 344 )


تواضع ایک نہایت اعلیٰ خُلق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب اور بندوں کے دلوں میں محبوب بناتا ہے ۔  تواضع کا مطلب ہے عاجزی، انکساری اور اپنے آپ کو کسی سے بہتر نہ سمجھنا ۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو تکبر سے بچنے اور عاجزی اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔

قرآن کریم میں تواضع کا ذکر: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان: 63)

یہ آیت کریمہ بندگانِ خاصِ رحمٰن کی ایک نمایاں صفت بیان کرتی ہے ۔ کہ وہ نرم خُلق، باادب، اور متواضع ہوتے ہیں ۔ ان کا چلنا، بولنا اور برتاؤ سب میں وقار اور انکساری جھلکتی ہے ۔

تکبر کی مذمت:اللہ تعالیٰ نے تکبر کو ناپسند فرمایا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)

یعنی انسان اگر تکبر کرے تو بھی وہ اللہ کی قدرت کے مقابل کچھ نہیں ۔ اس لیے غرور کی کوئی گنجائش نہیں ۔

انبیاءِ کرام کی تواضع:اللہ کے برگزیدہ نبیوں نے ہمیشہ عاجزی اختیار کی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قرآن میں یوں آئی: رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان: عرض کی اے میرے رب میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اُتارے محتاج ہوں ۔ (سورۃ القصص: 24)

یہ انکساری کی بہترین مثال ہے کہ ایک جلیل القدر نبی اپنی محتاجی کا اعتراف اپنے رب کے سامنے کر رہا ہے ۔

آپ ﷺ نہایت سادہ زندگی گزارتے، اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھتے، غریبوں سے محبت فرماتے، اور کبھی کسی پر فخر نہ کرتے ۔ یہی قرآن حکیم کے پیغامِ تواضع کی عملی تفسیر ہے ۔

تواضع ایمان والوں کی زینت ہے اور تکبر ایمان کو زائل کر دیتا ہے ۔ قرآن مجید ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جو بندہ عاجز بنتا ہے، اللہ اسے عزت و رفعت عطا فرماتا ہے ۔ اسی لیے مؤمن کی پہچان انکساری، نرمی اور خُلقِ حسنہ ہے ۔ تواضع ایمان کی نشانی ہے ۔ تکبر شیطان کی عادت ہے ۔ اللہ کے مقرب بندے نرم گفتار اور عاجز ہوتے ہیں ۔ نبی ﷺ کی پوری سیرت تواضع کی روشن مثال ہے ۔ جو اللہ کے لیے جھکتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے ۔ 


تواضع دراصل دل کی کیفیت ہے جس کے اثرات انسان کے گفتار، کردار، اور برتاؤ میں نمایاں ہوتے ہیں ۔  قرآن مجید نے متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنی برتری کے احساس سے پاک رہیں، دوسروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں ۔ اللہ پاك ارشاد فرماتاہے:

(1) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ (بنی اسرائیل،37)

(2) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (فرقان،63)

ان آیت سے معلوم ہوا کہ عاجزی و انکساری اختیار کرنا اور عاجزانہ چال چلنا اللہ پاک کے نیک بندو کا طریقہ ہے جبکہ متکبرانہ طور پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اِتراتے ہوئے چلنا متکبرین کا طریقہ جس سے رب تعالی کی ذات پاک نے منع فرمایا ہے:

(3) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر انسان کے دل میں ایک حجاب بن جاتا ہے جو اسے حق کو دیکھنے، سننے اور قبول کرنے سے روکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نصیحت سے محروم رہ کر مزید گمراہی میں چلا جاتا ہے ۔

(4) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر اور فساد (بگاڑ) پھیلانا انتہائی ناپسندیدہ اعمال ہیں، جن کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسان جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو جائے ۔ اس کے برعکس، عاجزی، اِنکساری (نرمی اور سادگی) اور معاشرے میں امن و سکون قائم کرنا ایسے شاندار اعمال ہیں جن کی بدولت انسان جنت جیسی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔ لہٰذا، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتار اور عمل سے کبھی بھی غرور کا اظہار نہ کرے، اور نہ ہی گناہوں، ظلم یا زیادتی کے ذریعے معاشرے میں بے چینی اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ خود کو بڑا سمجھنے، غرور کرنے، یا اِترا کر چلنے سے انسان کی حقیقی شان بڑھتی نہیں ہے ۔ مال و دولت، اولاد کی کثرت، یا بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے سے عزت، عظمت اور شان و شوکت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ حقیقی عزت اور بلندی صرف وہی پاتا ہے جسے اللہ پاک عطا فرماتا ہے ۔ اور اللہ پاک یہ عزت اور بلندی صرف اُسے دیتا ہے جو عاجزی اور اِنکساری اختیار کرتا ہے جیساکہ نبی کریم علیہ السلام کا فرمان ہے "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ" یعنی"وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر (غرور) ہوگا ۔

لہذا غرور اور فساد سے بچیں، عاجزی اور امن کو اپنائیں، کیونکہ حقیقی عزت اور جنت کا راستہ اسی میں ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔ 


اللہ پاک نے انسانوں کو کامیابی اور رہنمائی کے بارے میں قرآن مجید میں بارہا واضح انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔  ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ انسان اپنی زندگی کو کس طرح باوقار اور کامیاب بنا کر گزار سکتا ہے ۔

تواضع کا لغوی و اصطلاحی مفہوم: لغوی معنی: عاجزی اور انکساری اختیار کرنا ۔ اصطلاحی معنی: آپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھنا، عاجزی و انکساری آپنانا اور غرور و تکبر سے بچنا ۔

تواضع اختیار کرنا:تواضع کا تعلق انسان کے ظاہر اور باطن دونوں سے ہے ۔ اس لیے اس کے مفہوم کو جاننا، اس کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کے مخالف رویوں سے بچنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تواضع اختیار کرنے اور تکبرانہ چال و ڈھال سے منع فرمایا:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (لقمان: 18، پ 21)

تواضع کے فضائل:تواضع اختیار کرنے والوں کے فضائل خود قرآن پاک میں بیان کیے گئے ہیں:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (فرقان،63)

کامل ایمان والے اپنے نفس کے ساتھ ایسا معاملہ رکھتے ہیں کہ وہ وقار اور اطمینان کے ساتھ، عاجزانہ انداز میں زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ وہ متکبرانہ انداز میں جوتے کھٹکھٹاتے یا پاؤں زور سے مارتے ہوئے نہیں چلتے ۔

(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: 63، ص 809، ملخصاً)

تواضع کا معاشرتی کردار: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل ۔

(الاسراء، 37)

یاد رکھیں کہ فخر و تکبر کی چال، متکبرین کی نشست و برخاست، اور خودنمائی کے انداز سب ممنوع ہیں ۔ ہمارے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور گفتگو میں تواضع اور انکساری ہونی چاہیے ۔ بات چیت نرم ہو، چال میں وقار ہو، اور انداز متواضع ہو ۔ متکبرانہ اور غیر مہذب چال اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عقائد و عبادات کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت، رہن سہن اور طرزِ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر گوشے سے اسلامی اقدار کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ افسوس ان مسلمانوں پر جو کفار کے طور طریقوں پر عمل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اسلامی طریقے آپنانے میں شرماتے ہیں ۔

(صراط الجنان، پ 15، سورۃ الاسراء، آیت 37-38)

اللہ پاک ہمیں غرور و تکبر سے بچا کر عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

تواضع (عاجزی، انکساری) اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک ہے ۔  قرآن مجید میں تواضع کو ایک مومن کی اہم ترین صفات میں شمار کیا گیا ہے، اور اس کے برخلاف تکبر کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ تواضع دراصل بندگی کی علامت ہے، جو انسان کو خالق کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے ساتھ نرمی و ادب کے ساتھ پیش آنے پر آمادہ کرتی ہے ۔

تواضع کا مفہوم:تواضع کا لغوی مطلب ہے: اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا، عاجزی اختیار کرنا ۔

اصطلاحاً: دوسروں کے مقابلے میں خود کو کم تر سمجھنا، بغیر تکبر و رعونت کے نرمی، اخلاق اور انکساری سے پیش آنا ۔

اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں  بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں  کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں  زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں  چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)  کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں  اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں  پہاڑوں  کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)

سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں  بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں  کوئی نیکی نہیں  ہے ۔ ( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی  ﷺ  بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں  کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)

(3)حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس عشر)

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کواس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔ 


تواضع ایک ایسا وصف ہے جو ہر نبی ہر ولی کی شان رہا ہے اور انسان کو اللہ کے نزدیک محبوب بناتا ہے، لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے، اور انسان کے اخلاق کو نکھارتا ہے ۔  غرور و تکبر انسان کو گرا دیتا ہے، لیکن تواضع اسے بلند کر دیتا ہے ۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ "زمین میں اکڑ کر مت چلو"تواضع صرف لباس یا چال ڈھال کا نام نہیں، بلکہ دل کا جھکاؤ، زبان کی نرمی، دوسروں کی عزت اور اپنی بڑائی کو نہ جتانے کا نام ہے ۔

آج کے اس دورِ تکبر، دکھاوے اور انا پرستی میں تواضع اپنانا نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے ۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)

تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

تکبر کرنے اور فساد پھیلانے سے بچیں : اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔

حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔ ( مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث: ۶۴(۲۸۶۵))

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو: یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔

(صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۱۰۵۱)

اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا آپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔

( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)

کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی اسرائیل:۳۷)

سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔

( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)

(3)حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس عشر)

تُو چھوڑ دے تکبر ہو بھائی میرے عاجز چھائی ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضع

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔

زندگی کا اصل حسن دولت، شہرت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں چھپا ہے جب انسان اپنی بڑائی بھول کر دوسروں کو مقام دیتا ہے ۔  دلوں پر حکومت وہ نہیں کرتا جو تخت پر بیٹھتا ہے، بلکہ وہ کرتا ہے جو جھک کر دوسروں کے دل جیت لیتا ہے ۔ یہی جھکنا، یہی نرم مزاجی، یہی انکساری دراصل تواضع ہے ۔ ایک ایسی صفت جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور بندے کو اپنے رب کے قریب کر دیتی ہے ۔ تواضع وہ آئینہ ہے جس میں بندہ اپنے عیب دیکھتا ہے اور دوسروں کی خوبیوں کو سراہتا ہے ۔ یہ وہ خوشبو ہے جو صرف متکبر دلوں میں نہیں بس سکتی ۔ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مقام کو بلند کر دیتا ہے ۔

"تواضع" کے معنی عاجزی، انکسار، فروتنی ہیں ۔ اس کے دیگر معنوں میں آؤ بھگت، مہمان نوازی، اور دوسروں کا احترام کرنا شامل ہیں ۔ ایک اور معنی میں حق کے آگے سر تسلیم خم کرنا یا خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنا بھی شامل ہے ۔

قرآن کریم سے تواضع کا بیان:قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر اللہ پاک نے تواضع یعنی(عاجزی و انکساری)کے متعلق بیان فرمایا ہے، آئیے اس کو بھی ملاحظہ کرتے ہیں: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

(1)وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃالفرقان،63)

اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔

( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً) کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

(2)وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔

(بنی اسرائیل،37،38)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا:ترجمہ کنز العرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل: یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل ۔ ( جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳)

یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو ۔

حدیث مبارک میں بھی تواضع اختیار کرنے اور تکبر و غرور سے بچنے کا حکم موجود ہے چنانچہ،

(1)حضرت عیاض بن حِمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ رسالت ﷺ َ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو اورتم میں سے کوئی دوسرے پر فخر نہ کرے ۔

( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع، ۴ / ۴۵۹، الحدیث: ۴۱۷۹)

اس مضمون کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے، اور غرور و تکبر سے دُور رہنا چاہیے، کیونکہ اسی میں خداوندِ کریم کی رضا اور دونوں جہانوں میں کامیابی پوشیدہ ہے ۔ ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے، اپنے مسلمان بھائی کو اپنے سے بہتر سمجھنا چاہیے اور خود کو کمتر جاننا چاہیے ۔ یہی طرزِ عمل انسان کو تواضع جیسی لازوال نعمت عطا کرتا ہے اور تکبر جیسی بُری صفت سے نجات دلاتا ہے ۔