تواضع یعنی عاجزی اور انکساری، اسلام کی وہ عظیم اخلاقی خوبی ہے جسے قرآن مجید نے ایمان اور تقویٰ کا حصہ قرار دیا ہے ۔  متواضع انسان نہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، نہ غرور و تکبر کا شکار ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی، محبت اور حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے ۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ تواضع کی تعلیم دی ہے اور تکبر کو سختی سے منع فرمایا ہے ۔

تواضع کی تعریف:اپنے آپ کو حقیقت کے مطابق سمجھنا، بڑائی کا دعویٰ نہ کرنا، اللہ کے سامنے عاجز رہنا اور انسانوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا ۔ تواضع کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور عظیم اخلاق کی نشانی ہے ۔

قرآن پاک میں تواضع کا بیان:تواضع اہل ایمان کی صفت ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ ( پارہ 19 ، فرقان آیت نمبر 63 )

وضاحت: ارشاد فرمایا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ عاجزانہ زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں ۔ متکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے زمین پر مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے کہ اس سے شریعت نے منع فرمایا ہے ۔

تواضع کی تعلیم: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ- ۔ ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل ۔ ( پارہ 15 ،بنی اسرائیل آیت نمبر 37)

وضاحت: فرمایا کہ زمین میں اتراتے ہوئے یعنی تکبر سے نہ چل بیشک تو ہرگز زمین کو نہ پھاڑ سکے گا اور نہ بلند پہاڑوں کو پہنچ سکے گا یعنی ۔ تکبر خود نمائی کا کچھ فائیدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم آتا ہے لہذا اترانا چھوڑ دے اور عاجزی قبول کر ۔

تواضع کرنے والوں کی جزاء: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پارہ 22 ،احزاب آیت نمبر 35)

وضاحت:یعنی جو عورتیں اسلام ایمان اور اطاعت، قبول و فعل کے سچا ہونے میں، عاجزی و انکساری کرنے میں مردوں کے برابر ہیں تو اللہ عزوجل نے ایسے مردوں اور عورتوں کے لئے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر کے رکھا ہے ۔

آخر میں یہ حقیقت خوب سمجھ لینی چاہیے کہ تواضع صرف ایک اخلاقی صفت نہیں بلکہ مؤمن کے دل کی کیفیت اور اس کے کردار کی پہچان ہے ۔ یہ انسان کو غرور کی تباہ کاریوں سے بچاتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مستحق بناتی ہے ۔ جس دل میں عاجزی ہو، وہاں نفرت، سختی اور تکبر کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ آج کے دور میں جب خود پسندی اور ظاہری نمائش عام ہوچکی ہے، ایسے ماحول میں تواضع کو اختیار کرنا اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنے اندر انکساری پیدا کریں، اپنے معاملات میں نرمی اختیار کریں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کریں ۔ یہی روش ہمیں بہترین مسلمان، اچھا انسان اور اللہ کا سچا بندہ بناتی ہے ۔ 

تواضع کا لغوی معنیٰ: عاجزی، انکسار، اور آپنے آپ کو کمتر سمجھناہے ۔

اصطلاحی معنیٰ :اللہ کے سامنے مکمل بندگی اور ‎‎ دوسروں کے ساتھ احترام و فروتنی سے پیش آنا ہے ۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس میں انسان خود کو حقیر سمجھ کر اللہ کی رضا ‎‎ حاصل کرتا ہے اور مخلوق کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے ۔ قرآن پاک میں کئی مقامات پر اللہ پاک نے انسان کو تواضع اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا جن میں سے چند آیات یہ ہیں ۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بےشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گایہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے ۔

( سورہ بنی اسرائیل، آیت 37، 38 )

صراط الجنان:یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور اِنکساری ہونی چاہیے، گفتگو نرم ہو اور چلنا آہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اَوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔ آیت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہٰذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو ۔

اللہ پاک سے دعا ہم سب کو اپنی رضا کے لیے عاجزی و انکساری کرنے کے توفیق عطا فرمائے آمین ۔


ہمیں چاہئیےکہ ہم اپنے حسن اخلاق کو اچھا کریں ۔  اور اخلاق کو خوبصورت بنانے کیلئے ایک بہت ہی اہم چیز تواضع ہے جو کہ ہمارے اندر کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہے بس ہمیں اُسے بیدار کرنے ( جگانے) کی ضرورت ہے ۔ تواضع ہے کیا ؟ تواضع کو سمجھنے کیلئے اُسکا معنی و مفہوم ملاحظہ ہو:

تواضع کے لغوی معنی : عاجزی و انکساری کے ہیں ۔

اصطلاحی معنی: اپنے آپ کو کمتر سمجھنا، دوسروں کو ان کی حیثیت کے مطابق احترام دینا اور حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ عزوجل نے قرآن مجید فرقان حمید میں تواضع کو اختیار کرنے والوں اور اُسکے ترک کرنے والوں کے انجام کے متعلق ارشاد فرمایا ہے جن میں سے چند آیات درج ذیل ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنز العرفان : اور رحمن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل اُن سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں "بس سلام " ۔ ( پاره: 19 ، سورۃ الفرقان ، آیت نمبر 63)

اس آیت مبارک میں کامل مؤمنین کی صفات کا بیان ہوا ہے ہمیں بھی چاہئیے کہ ہم ان صفات پر (زمین پر آہستہ چلنے اور جاہلوں سے جھگڑا کرنے سے اعراض کرنے ) پر عمل کر کے کامل مؤمنین کی صف میں شام شامل ہو جائیں ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے : اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز العرفان : بے شک وہ (اللہ) مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (پارہ : 14 ، سورۃ النحل، آیت نمبر: 23)

ایک انسان کو بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہونا چاہیئے نہ کہ نا پسندیدہ اور اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شمار ہونے کا ایک راستہ تواضع و حسن اخلاق کو اپنانا ہے ۔

اللہ پاک سے دعاگو ہوں کہ جو کچھ تحریر کیا گیا اللہ تعالیٰ ہمیں اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)


اسلامی تربیت میں (تواضع) یعنی عاجزی، ملنساری، اپنی ذات کو کمتر جاننا اور لوگوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا ایک بہت بلند اخلاقی وصف ہے ۔  جب انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنا غرور چھوڑ دیتا ہے، تو وہ اللہ کی رضا اور قرب کا مستحق بن جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں بے شمار آیات کریمہ اس وصف کی تاکید کرتی ہے اور اسی طرح کئی احادیث مبارکہ بھی تواضع و انکساری کو اختیار کرنے پر دلالت کرتی ہے ،اور بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کے بھی تواضع و انکساری اختیار کرنے پر کئی طرح واقعات ملتے ہیں ۔

تواضع کی تعریف :انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے ۔

1:قال اللہ تبارک و تعالیٰ : وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان:اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (حجر،88)

یعنی ا ے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (سورۃ الحجر ،پارہ 14،تحت الایۃ 88)

2:قال اللہ تبارک و تعالیٰ : وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر ۔ (لقمان،18)

یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیر لینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنا اور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ (سورۃ القلمان ،تحت الایۃ 18)

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے االلہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے ۔ مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے، معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔

(کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:556)

فرمان رسول ﷺ :دوسروں کو معاف کرنے کے سبب اللہ عزوجل بندے کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ عزوجل کے لیے تواضع و عاجزی کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ (احیاء العلوم ،جلد 3،ص1085)

سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی عاجزی :ایک شخص نے حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو دعا دیتے ہوئے کہا: اللہ عزوجل آپ کو آپ کی امید کے مطابق عطا فرمائے ،یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: امید تو معرفت کے بعد ہوتی ہے اور مجھ میں معرفت کہا ؟ ۔ (احیاء العلوم ،جلد 3،ص،1095)

اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچنے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

اللہ رب العالمین کا قرآن کئی طریقوں سے اپنے محبوب کی امت کی رہنمائی فرماتا ہے آئیے چند آیتیں سنتے ہیں کہ جن میں اللہ رب العالمین نے عاجزی اور انکساری کا حکم عطا فرمایا ہے:

(1) وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:‎‎اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پارہ14 سورت نحل آیت 87)

(2) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پارہ 15 سورت بنی اسرائیل آیت24)

(3) وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ (پارہ 20 سورت نمل آیت87)

(4) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ترجمۂ کنز الایمان:‎‎بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پارہ 22 سورت احزاب آیت 35)

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پارہ 17 سورت حج آیت 34 ۔ 35)


قرآنِ کریم ا س ربِّ عظیم عَزَّوَجَلَّ کا بے مثل کلام ہے جو اکیلا معبود، تنہا خالق اور ساری کائنات کا حقیقی مالک ہے، وہی تمام جہانوں کو پالنے والا اور پوری کائنات کے نظام کو مربوط ترین انداز میں چلانے والا ہے، دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حقیقی طور پر اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ جسے جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے جس چیز سے چاہے محروم کر دیتا ہے ،وہ جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلت و رسوائی  دیتا ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت دیتا اور جسے چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور اس نے اپنا یہ کلام رسولوں کے سردار، دو عالم کے تاجدار، حبیب ِبے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور دینِ حق کی پیروی کرنے کی طرف بلائیں اور شرک و کفر و نافرمانی کے انجام سے ڈرائیں، لوگوں کو کفرو شرک اور گناہوں کے تاریک راستوں سے نکال کر ایمان اور اسلام کے روشن اور مستقیم راستے کی طرف ہدایت دیں اور ان کے لئے دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہیں آسان فرمائیں ۔ اسی کے ساتھ اللّہ تبارک وتعالٰی نے اپنے کلام پاک میں ہمیں تواضع (عاجزی ) کا علم بھی عطا کیا ۔ تو آئیں آج ہم تواضع ( عاجزی ) کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

1، مشرکین کی نافرمانی اور اس کا صلح : وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (نحل :87)

2، والدین سے رحم دلی :وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان : اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (قصص،24)

وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمُّل نہ کرو ۔ ( پارہ 15 ، سورۂ بنی اسرائیل ، آیت : 24 ، تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )

3، جب صور پھونکا جائے گا :وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان : اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔

(نمل،87)

وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔ ( پارہ 20 ، سورۂ النمل ، آیت : 87 ، تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )

4، عاجزی کرنے والوں کو بخشش کی بشارت : اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان : بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (الاحزاب35)

اس آیت کریمہ کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام ،ایمان اورطاعت میں ،قول اور فعل کے سچا ہونے میں ،صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں ،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں ،توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔

( پارہ 22 ، سورۂ الاحزاب ، آیت : 35 ، تفسیر صراط الجنان ، مطبوعہ : مکتبۃالمدینہ )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !عاجزی بہت ہی اعلی وصف ہے جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر فرمایا،اور ہمارے پیارے آقا  ﷺ جو کے تمام نبیوں کے سردار ہیں آپ کا ہر وصف آپ کی ہر ادا افضل و اعلیٰ ہے ،تواضع اعلیٰ ہے کہ آپ ہر چیز کے مالک ہوکر بھی انکساری فرماتے ۔

اسی ضمن میں پانچ قرآنی آیات ذکر کی گئی ہیں :

(1) اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے:وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پ14،سورۃالنحل، آیت87)

(2)اپنے والدین کے لیے عاجزی کر:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔

(پ15سورۃ بنی اسرائیل،آیت 24)

وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔

( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 24، 3 / 171، ملخصاً)

(3) اللہ کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ہوئے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمہ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ (پ20،سورۃالنمل، آیت 87)

وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔ ( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: 87، ص857، خازن، النمل، تحت الآیۃ: 87، 3 / 421، ملتقطاً)

اللہ پاک ہمیں بھی عاجزی اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔ 


(1) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنز العرفان:اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ ( پارہ 17 ، سورۃ الحج ، آیۃ: 34)

(2) صور پھونکا جائے گا : وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷)ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ ( پارہ 20 ، سورۃ النمل ، آیۃ : 87)

وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے: یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: 87، ص857، خازن، النمل، تحت الآیۃ: 87، 3 / 421، ملتقطاً)

(3) سورج کا جھکنا : اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸)ترجمہ کنز العرفان: اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ ( پارہ 14 ، سورۃ النحل ، آیۃ : 48)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سایہ دار جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کا حال یہ ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت اُس کا سایہ دائیں طرف جھک جاتا ہے اور سورج غروب ہوتے وقت اس کا سایہ بائیں طرف جھک جاتا ہے اور سائے کا ایک سے دوسری طرف منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے ۔ (تفسیرسمرقندی، النحل، تحت الآیۃ: 48٫2/ 237، تاویلات اہل السنہ، النحل، تحت الآیۃ: 48، 3 / 89-90 ، ملتقطاً)

(4) عذاب کے باوجود عاجزی نہ کی : وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا تو وہ نہ تب اپنے رب کے حضور جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ ( پارہ 18 ، سورۃ المؤمنون ، آیۃ : 76 )

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے انہیں بھوک کے عذاب میں گرفتار کر دیا تو وہ پھر بھی نہ ا س وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور جھکے ہیں اور نہ ہی وہ آئندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عاجزی کریں گے ۔

( جلالین مع صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ: 76، 4 / 1373)


اسلام تواضع اور عاجزی کا درس دیتا ہے عاجزی وانکساری میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے عقل و فہم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے غریبوں کے ساتھ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے جب انسان ان صفات کا حامل ہو جاتا ہے تو اللہ پاک دنیا و آخرت میں عظمت و بلندی عطاء فرماتا ہے لہذا ہمیں بھی عاجزی و انکساری اپنانی چاہیے اور غرور تکبر سے بچنا چاہیے  ۔

(1) وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز العرفان:اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا تو وہ نہ تب آپنے رب کے حضور جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ (پ 18 سورۃ المؤمنون 76)

(2) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمہ کنز العرفان:اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا ۔ (پ 15 سورۃ بنی اسرائیل 24)

(3) اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمہ کنز العرفان:اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (پ 14 سورۃ النحل 48)

(4)وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنز العرفان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (پ 17 سورۃ الحج 34)

(5) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)ترجمہ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردارعورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (پ 22 سورۃ الاحزاب 35)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ تواضع (عاجزی) اور مومنین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ۔

تواضع کے معنی عاجزی، انکساری، فروتنی، اور دوسروں کے سامنے خود کو کمتر سمجھنا ہے ۔  اس کا مطلب دوسروں کو ان کے مرتبے کے مطابق احترام دینا اور حق کے آگے سر تسلیم خم کرنا بھی ہے ۔ اس کا مطلب حقیر سمجھے جانے والے پیشوں کو اپنانا یا دوسروں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آنا بھی ہے ۔ قرآن میں تواضع کا ذکر اس طرح ہے کہ یہ اللہ کو بہت پسند ہے اور اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ سورہ فرقان میں اللہ کے بندوں کی صفات میں سے ایک یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین پر انکساری سے چلتے ہیں ۔ قرآنی احکامات اور نبی کریم ﷺ کے عمل سے واضح ہوتا ہے کہ تواضع یعنی عاجزی، اپنے آپ کو حقیر سمجھنا اور دوسروں کو احترام دینا ایک بہترین صفت ہے جس سے کبر و غرور سے بچا جا سکتا ہے ۔

حضرت سید نا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر سے باہر کہیں سفر وغیرہ پر جاتے تو راستے میں استراحت (یعنی آرام) کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا کر اس پر کپڑا بچھاتے اور پھر آرام فرماتے ۔ (مصنف ابن شیبہ کتاب الزهد ج 8 ص 150، حدیث : 12)

1 ۔ وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (لقمان،18)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (القصص،83)

تفسیر صراط الجنان:تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر: ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے ۔ ( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷ / ۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

تکبر کرنے اور فساد پھیلانے سے بچیں :اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے ۔

حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتّٰی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔ ( مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث: ۶۴(۲۸۶۵))

3، وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (فرقان:63)

تفسیر صراط الجنان:وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ: اور رحمٰن کے وہ بندے: ا س سے پہلی آیات میں کفار و منافقین کے احوال اور ان کا انجام ذکر ہوا،اب یہاں سے کامل مومنین کے تقریباً 12 اوصاف بیان کئے گئے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے ۔ (1)وہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ (2) جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘(3) وہ آپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں ۔ (4)جہنم کا عذاب پھر جانے کی اللہ تعالٰی سے دعائیں کرتے ہیں ۔ (5) اِعتدا ل سے خرچ کرتے ہیں ،اس میں نہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں ۔ (6) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ۔ (7) جس جان کو ناحق قتل کرنا اللہ تعالٰی نے حرام فرمایا ہے، اسے قتل نہیں کرتے ۔ (8) بدکاری نہیں کرتے ۔ (9) جھوٹی گواہی نہیں دیتے ۔ (10)جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ (11) جب انہیں ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے ۔ (12) وہ یوں دعا کرتے ہیں : اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا ۔

اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔

( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)

کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔ ( حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)

حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔ (کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس عشر)


تواضع ( عاجزی)قرآن پاک کا ایک نہایت اہم اخلاقی وصف ہے ،اللہ پاک نے متعدد مقامات ‏پر اپنے بندوں کو تکبر سے روکا اور عاجزی اور انکساری کی تاکید کی ہے ،عاجری ایک ایسی خصلت ہے ،جو ‏انسان کے اخلاق ،روحانیت،تعلقات کو نکھار دیتی ہے ،قرآن و سنت کے مطابق عاجزی ناصرف اللہ پاک ‏کے ہاں محبوب عمل ہے، بلکہ دنیا و آخرت دونوں میں اللہ پاک نے انسان کے لئے عاجزی اپنانے میں بیشمار ‏فوائد رکھے ہیں ۔

اسی ضمن میں قرآ ن پاک سے عاجزی اختیار کرنے والوں کا وصف ملاحظہ کیجئے ،اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :‏ وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ‏ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘‏ ۔ ‏(آیت نمبر63، فرقان ،پارہ19)‏

اللہ پاک نے قرآن پاک میں اس آیت کریمہ سے مومنین کے تقریبا بارہ اوصاف بیان فرمائے ‏ہیں ان میں سرفہرست جو اللہ پاک نے وصف بیان کیا ہے وہ عاجزی ہے ،اس آیت کریمہ میں بیان ہوا کہ ‏کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ عاجزانہ ‏شان سے زمین پر آہستہ چال چلتے ہیں ، متکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے ،پاوں زور سے مارت اور اتراتے ‏ہوئے نہیں چلتے ہیں ،کہ یہ متکبرین کی چال ہے ،اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ ‏(تفسیر صراط الجنان،تحت الآیۃ 77)‏

جیساکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے ‏:وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ ان تمام کاموں میں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ

ہیں ۔ (بنی اسرائیل،37،38)

اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ متکبرانہ چال اللہ پاک کو بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔

حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کو عاجزی اختیار کرنے کا اور میانہ چال چلنے کا حکم کی ‏تاکید کی جوکہ قرآن پاک میں کچھ یوں مذکور ہے:اللہ پاک بیان فرماتا ہے :وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنزالعرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ ‏چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (آیت نمبر 18،پارہ21سورۃ لقمان)‏

اس آیت کریمہ میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ،کہ اے میرے ‏بیٹے جب تم چلنے لگو تو نہ بہت تیز چلو اور نہ بہت سست ،کیوں کہ یہ دونون باتیں مذموم ہیں ،ایک میں تکبر ‏کی جھلک ہے اور ایک میں چھچھورا پن ہے ، بلکہ تم درمیانی چال سے چلو ۔

عاجزی اختیار کرنے کے چند فوائد:‏

‏(1)اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے ،چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) ترجمہ کنز العرفان:بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (سورت نحل،23)

معلوم ہوا جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے وہ ‏اللہ کی محبت کا مستحق بنتا ہے کیوں کہ عاجزی اختیار کرنے والے اللہ کو پسند ہیں ‏ ۔

‏(2)درجات میں بلندی :عاجزی انسان کو ذلیل نہیں کرتی بلکہ اللہ کے نزدیک اس کے درجات کو بلند کرتی ‏ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جو کوئی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلند مقام عطافرماتا ‏ہے ‏ ۔

(صحیح ،مسلم حدیث نمبر2588‏)

‏(3)عبادات میں اخلاص پیدا ہوتا ہے :عاجز انسان اپنی عبادات کو ریاکاری سے پاک رکھتا ہے ،کیون کہ وہ جانتا ہے کہ سب کچھ اللہ پاک کی ‏توفیق سے ہوتا ہے ،اپنی طاقت یا قابلیت سے نہیں ہوتا ،جیساکہ قرآن پاک میں ہے ۔


تواضع کی تعریف:تواضع سے مراد نرمی انکساری اور عاجزی ہے یہ ایک ایسی خصلت ہے جس میں انسان تکبر غرور اور برتری کہ احساس کو چھوڑ کر دوسروں کے ساتھ حسن اخلاق احترام اور ملنساری کے ساتھ پیش آتا ہے ۔

(1)قیامت کے دن سب عاجزی کرے گے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے ۔ ( پارہ20 ، النمل آیت نمبر 87)

تفسیر صراط الجنان:یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔

(2)والدین کے لیے عاجری کا اجر:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ ( پارہ15 ، بنی اسرائیل آیت نمبر 24)

تفسیر صراط الجنان: والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔

(3)تواضع والا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے :وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پارہ 17سورحج آیت نمبر 34)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین