اسلام نظام
فطرت اور ایسا ضابطہ حیات ہے جس میں معاشرے کے ہر فرد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے
دین اسلام نے تمام معاشرتی امور اور دنیا کے مختلف کاموں کی انجام دہی سے قبل
باہمی مشاورت اور مشورے کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے نہ صرف اس عمل کو سراہا بلکہ
مختلف مواقع پر حکم دیا کہ مشورہ اور مشاورت سے کام لیا جائے مشورے کو مسلمانوں کا
وصف خاص قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ
اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى
بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ(۳۸) (پ 25، الشوریٰ: 38) ترجمہ: اور جو
اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے سارے کام باہمی مشورہ
سے طے پاتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا اس سے خرچ کرتے ہیں۔
مشورے
کی اہمیت: مشورے
کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ نبی کریم ﷺ نے خود صحابہ کرام سے مشورہ
فرمایا اور صحابہ کرام کی رائے کو اہمیت دی اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو
صائب الرائے (یعنی درست رائے والے) کہتے ہیں آپ ایسی درست رائے کے حامل تھے کہ نبی
کریم ﷺ نے آپ سے مشورہ فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ جیسےدور اندیش اور تجربہ کار اپنے دور خلافت میں آپ سے مشورہ
فرماتے تھے۔
مشورہ
امانت ہے: حضرت
ابو مسعود عقبہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جس سے مشورہ
لیا جائے وہ امانت سنبھالنے والا ہے۔ (ترمذی، 4/375، حدیث: 2831)جس طرح امانت میں
خیانت جائز نہیں اسی طرح کسی کو غلط مشورہ دینا جائز نہیں مشورہ لینے والا اپنے
مسلمان بھائی پر اعتماد کر کے اس کے سامنے اپنے حالات رکھتا ہے لہذا یہ جائز نہیں
کہ اس کی راز کی باتیں دوسروں کے سامنے ظاہر کی جائیں۔
مشورہ
کس سے کیا جائے: سب
سے زیادہ غلط فیصلے اس سے ہوتے ہیں جو ہر ہر بندے کو اپنا مسئلہ بتا کر اس سے
مشورے کر رہا ہوتا ہے۔ کسی بزرگ سے پوچھا وہ کون سی چیزیں ہیں جس سے انسان اپنی
عزت اور اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے؟ فرماتے ہیں: وہ جو بہت زیادہ بولتا ہے، وہ جو
دوسروں کے راز سب کے سامنے کھول دیتا ہے اور وہ بندہ جو ہر آدمی پر بغیر تحقیق کے
اندھا دھند اعتبار کر لیتا ہے۔
یاد رکھیے!
ہزار لوگوں کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی اگر وہ اس کام میں ماہر نہیں ہے جس
کام کے بارے میں مشورہ کیا جا رہا ہے اب وہ بندہ جس نے ساری زندگی گھر سے قدم ہی
باہر نہیں نکالا اس سے آپ جا کر پوچھ رہے ہیں مجھے بتاؤ سفرکیسے کرتے ہیں سفر میں
کیا پریشانی آتی ہے وہ آپ کو کیسے بتا سکتا ہے اسی طرح کوئی میڈیکل رائے آپ کسی سے
لے رہے ہیں اور وہ ڈاکٹر نہیں ہے تو وہ کیسے آپ کو مشورہ دے سکتا ہے ماہرانہ رائے
کی اہمیت کو سمجھیں اور بہترین ماہرین کا انتخاب کریں چنانچہ مشورہ ایسے لوگوں سے
کیجئے جو تجربہ کار، عقلمند، تقویٰ والے خیرخواہ اور بےغرض ہوں ان سے مشورہ کرنے
میں بےشمار فوائد حاصل ہوں گے۔
غلط
مشورہ نہ دیجئے: جس
سے مشورہ کیا جائے اسے چاہیے کہ درست مشورہ دے ورنہ خیانت کرنے والا ٹھہرے گا
فرمان مصطفی ﷺ ہے: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا اس نے
اپنے بھائی کے ساتھ خیانت کی یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ
دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہو جائے تو وہ مشیر (یعنی مشورہ
دینے والا) پکّا خائن ہے خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز، عزت، مشورے تمام میں
ہوتی ہے۔ (مراۃ المناجیح، 1/212)
مشورہ ہمیشہ
ایسے شخص سے کرنا چاہیے جسے متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت ہواور تجربہ حاصل ہو بلا
شبہ مشورہ خیر و برکت عروج و ترقی کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں عقلِ سلیم نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
اسلام میں غلط
مشورہ دینا ایک ناپسندیدہ اور گناہ کا عمل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ دوسروں کو
نقصان پہنچانے یا انہیں گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن و سنت میں اس بات پر زور
دیا گیا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی اور بھلائی کے جذبات رکھیں اور
نیکی و تقویٰ کی ترغیب دیں۔
اللہ تعالیٰ
قرآن میں فرماتاہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى
الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ: اور نیکی اور
پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ
کرو۔
مشورہ دینا
ایک امانت ہے اور قرآن کریم میں امانت داری کی سخت تاکید کی گئی ہے: اِنَّ اللّٰهَ
یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-(پ 5، النساء:
58) ترجمہ: بےشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچاؤ۔
چونکہ مشورہ
ایک امانت ہے لہٰذا اگر کسی کو غلط مشورہ دیا جائے تو یہ خیانت میں شمار ہو گا۔ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے۔ (یعنی اسے چاہیے کہ سچا
اورخیرخواہی پر مبنی مشوره دے)۔ (ترمذی، 4/375، حدیث: 2831)
غلط
مشورے کے اثرات: کسی
کی زندگی یا فیصلے پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔ باہمی اعتماد اور تعلقات کو خراب کرتا
ہے۔ گناه اور نقصان کی صورت میں مشورہ دینے والا بھی شریکِ جرم شمار ہوتا ہے۔
اسلام ہمیں
سچائی، خیرخواہی اور انصاف کے ساتھ مشوره دینے کی تلقین کرتا ہے۔ غلط مشورہ دینا
امانت میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے اور قیامت کے دن اس کا حساب ہوگا۔ مسلمان کا
فرض ہے کہ وہ ہمیشہ بھلائی اور تقویٰ پر مبنی مشورہ دے تاکہ دوسروں کی دنیا اور
آخرت سنور سکے۔
پیاری اسلامی
بہنو!دینی و دنیادی امور میں مشورے کی بڑی اہمیت و ضرورت ہے۔ ایک شخص کی رائے اس
کچے دھاگے کی مثل ہے جس سے کوئی وزنی چیز نہیں اٹھائی جا سکتی۔ چنانچہ واحد شخص کی
رائے کے مقابلے میں مشورے کے ذریعے انتخاب کردہ رائے درستی تک پہنچتی اور نتیجے
میں زیادہ کار گر رہتی ہے اور اگر بالفرض وہ (منتخب رائے) مقصود و مطلوب تک نہ بھی
پہنچے اور نتیجے میں درستی نہ بھی حاصل ہو تو بھی مشورہ کرنے والا شرمندگی و ندامت
اور طعنہ زنی و ملامت سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ معاملہ سب کی رائے سے طے پایا تھا۔
اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ
اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى
بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ(۳۸) (پ 25، الشوریٰ:
38) ترجمہ: اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے
سارے کام باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا اس سے خرچ کرتے
ہیں۔
مشورے
کی تعریف: آپس
میں تبادلہ خیال اور بحث و تکرار کے بعد کوئی رائے قائم کرنے کو مشاورت اور مشورہ
کہتے ہیں۔
مسلمانوں کا
یہ دستور تھا کہ جب بھی کوئی مشکل یا پیچیدہ مسئلہ پیش آتا تو سب اکھٹے ہو کر اس
کے ہر پہلو پر غور کرتے اور آخر کار ایک نتیجے پر پہنچتے۔
حضور ﷺ کا یہ
معمول تھا جب بھی ایسی کوئی مشکل پیش آتی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بلا کر
مجلس مشاورت منعقد فرماتے اور بحث کے بعد فیصلہ فرماتے۔
حضرت فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس شوری مقرر کی ہوئی تھی جو جلیل القدر صحابہ کرام
علیہم الرضوان پر مشتمل تھی اور تمام ملکی، سیاسی، جنگی اور مجلس کے فیصلے کے
مطابق عمل کیا جاتا۔ جب آپ نے قیصر و کسری کے مقابلے کے لیے بنفس نفیس تشریف لے
جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو خلاف مصلحت سمجھا اور
خود جانے سے روکا اور آپ کی رائے کے مطابق عمل کیا گیا۔
دعوت اسلامی
کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ مدنی کاموں کی تقسیم صفحہ 31 میں ہے: اللہ
تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنے کام باہم مشورے سے انجام دینے کی ترغیب ارشاد فرماتے
ہوئے مسلمانوں کے مشورے سے کام کرنے کو پسندیدگی کے طور پر ذکر فرمایا اپنے پیارے
کلام کی جس صورت میں ان کے مشورے کا فعل مذکور ہوا اس کا نام ہی سورۃ الشوریٰ رکھا
گیا ہے۔
مشورہ کرنے کی
مزید اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب کریم ﷺ سے ارشاد
فرمایا: وَ
شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ- ( پ 4، آل عمران:159 ) ترجمہ: اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔
ہمارے پیارے
آقا ﷺ صحابہ کرام کے مشوروں اور آراء کی خوب قدر افزائی فرماتے اور صحابہ کرام
علیہم الرضوان بھی سرکار مدینہ ﷺ کی اس قدر دانی و شفقت، نرمی و رحمت اور مناسب
مشورے قبول فرمانے والی مبارک خصلت کی ڈھارس سے دل کھول کر اپنے پیارے آقا ﷺ کے اس
حسن اخلاق کی برکتیں لوٹتے ہوئے اپنی رائے بار گاہ رسالت میں پیش کر دیتے۔
اے کاش !ہم
بھی اسلاف کے طریقے پر عمل پیرا ہوں اور اپنے ماتحت سے مشورہ لینے کی ترکیب بنایا
کریں۔ مگر افسوس ایک ہم ہیں کہ ہمیں کوئی منصب یا ذمہ داری مل جاتی ہے تو کسی
ماتحت سے مشورہ کرنا تو کجا اگر کوئی ماتحت از خود ہمیں مشورہ دینے کی جسارت کر
بیٹھے تو اس کو بد تہذیب، بے ادب گستاخ اور زبان دراز جانتے اور اپنے عہدے کے غرور
اور بدخلق وحوصلہ شکن رویے کے فتور سے اس کے دل کا شیشہ چکنا چور کر ڈالتے ہیں۔
کاش ہم عاجزی اپنا کر اپنے آقائے خوش خصال ﷺ کی مشورہ کرنے والی سنت پر بھی عمل
پیرا ہوں اور وسعت قلبی سے اپنی ماتحت اسلامی بہنوں کی رائے لینے کا خلق اپنائیں
اور ان کی مناسب رائے قبول بھی کریں۔
مشورہ
کس سے لیا جائے؟ مشورہ
کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس سے مشورہ لیں وہ مشورے کا اہل بھی ہو
بیماری میں پولیس اور عمارت کی تعمیر میں طبیب سے مشورہ نہیں لیا جائےگا
اور صائبِ رائے ہی کی رائے کو فوقیت دی جائے۔ اسی طرح کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل سے
مشورہ نہ کیا جائے: جاہل، دشمن، ریاکار، بزدل، بخیل اور خواہشات کا پیرو۔ کیونکہ
رائے دینے میں جاہل گمراہ کرے گا، دشمن ہلاکت چاہے گا، ریاکار لوگوں کی خوشنودی کو
پیش نظر رکھے گا، بزدل کم ہمتی کا مظاہرہ کریگا، بخیل کی رائے حرص مال سے خالی نہ
ہوگی اور خواہشات کی پیروی کرنے والا اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے سو اس کی رائے
اس کی خواہش کے تابع ہوگی۔
لالچی اور
خوشامدی سے بھی مشورہ نہیں کرنا چاہئے کہ یہ ہمیشہ اپنا فائدہ سوچے گا اور اجتماعی
مفادات سے کچھ غرض نہ رکھے گا۔
مشورہ
دینے والا کیسا ہو؟ لہذا مشورہ دینے والے کو چاہئے کہ مذکورہ بالا صفات
مذمومہ سے خود کو بچائے اور اپنے اندر ایسی اعلیٰ صفات اور ایسی کڑھن اور اخلاص
پیدا کرے کہ اس کے مشورے مدنی کاموں میں زیادہ سے زیادہ بہتری لانے کے لئے مفید و
سود مند ثابت ہو سکیں۔ لہذا ضروری ہے کہ مشورہ دینے والا اپنے آپ کو ان اوصاف سے
متصف کرے جس سے اس کی رائے خام سے تام ہو جائے اور وہ مشورہ دینے میں مفید کردار
ادا کر سکے۔ چنانچہ مشورہ دینے والی معاملے کی نوعیت سے صحیح طور پر آگاہ، آداب
مشورہ سے واقف، تہذیب و شائستگی کی پیکر، خلوص وللہیت کی حامل، غور و خوض کی عادی
سلجھی ہوئی، سنجیدہ فکر اسلامی بہن ہونی چاہیے۔
مشورہ دینے کے
آداب میں منقول ہے مشورہ دینے والی معاملے کی باریکیوں کا صحیح علم رکھنے والی،
مہذب و شائستہ رائے والی ہو کیونکہ بہت سے علم والے درست رائے کی معرفت نہیں رکھتے
اور کئی ایسے ہیں جو معمولی بات میں بحث کرنے میں بھی درستی پر نہیں ہوتے۔
مشیر کے لئے
امانت دار اور صاحب راز ہونا بھی بہت ضروری ہے کہ جس نے ہم سے مشورہ لیا ہم اس کے
راز کی حفاظت کریں کبھی بھی کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں اور اچھا مشورہ دے ہرگز
ایسا مشورہ نہ دیں جس سے سامنے والے کو نقصان نہ ہو۔
امیر
اہلسنت دامت بر کاتہم العالیہ کے مدنی مشورے کا انداز: شیخ طریقت
امیر اہلسنت کے مدنی مشورے میں مدنی آقا ﷺ کے اس فرمان بشارت نشان کی عملی تصویر
نظر آتی ہے کہ: آسانی پیدا کرو اور تنگی نہ دو اور خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔
(بخاری، 1/ 42، حدیث : 69)
چنانچہ دیکھا
گیاہے کہ آپ دامت برکاتہم العالیہ کی مشاورت کی تھپک اور آپ کا مزاج مدنی مشورے کو
اتنا حوصلہ دے دیتا ہے کہ باوجود یہ کہ رعب ولایت کے کوئی بھی اسلامی بھائی اپنے
مشورے کی پیش گزاری میں جھجک محسوس نہیں کرتا کوئی کیساہی خفیف و نامناسب بلکہ
احمقانہ ہی مشورہ دے بیٹھے آپ اس کو انتہائی تحمل و شفقت ظرفی سے سنتے ہیں اور بڑے
پُرشفقت اور حکیمانہ انداز میں اس مدنی مشورے کی کمزوریوں پر روشنی ڈال کر اس کا
مناسب نہ ہونا واضح کر دیتے ہیں کہ مشورے دینے والے کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہوتی
اوروہ اپنے ناقص مشورے سے رجوع بھی کر لیتا ہے۔
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! ہمارے مدنی مشورے کا انداز کیسا ہونا چاہیے؟ مدنی مشوروں میں مذاق، طنز
و تضحیک نہ ہو بلکہ مشورے کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے مشورے کرتے جائیں کسی کا
کیساہی احمقانہ مشورہ ہو تب بھی بہت تحمل کے ساتھ مکمل سنیے غلطی ہونے پر اس کی
تفہیم فرمائیں ہر گز کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
جب ہم مدنی
مشوروں کے ذریعے اسلامی بہنوں کی رائے و مشورے کے قیمتی موتی چننا شروع کر دیں گے
تو ان شاءاللہ ہمیں اسکے فوائد حاصل ہونگے۔
اسلامک
ریسرچ سینٹر (المدینۃ العلمیۃ) کا ایک
ذیلی شعبہ ”شعبہ ہفتہ وار رسالہ“ بھی ہے جو علمی و تحقیقی انداز میں اور خوب محنت
و لگن سے ہفتہ وار رسائل تیار کرتا ہے جسے ہر ہفتے مدنی مذاکرے میں پڑھنے/سننے کی
ترغیب دلائی جاتی ہے۔
اسی
شعبے نے اپنی محنت و کوشش سےقرآن پاک کی تفسیر کی کتاب ”تفسیر نور العرفان“ سے چند
مدنی پھول اخذ کرکے ایک رسالہ بنام ”تفسیر نورُ العرفان سے 105 مدنی
پھول(قسط 05)“ تیار
کیا ہے۔شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ
مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے
اس ہفتے عاشقانِ رسول کو رسالے کو پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے
والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یااللہ
پاک! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”تفسیر نورُ العرفان سے 105 مدنی پھول(قسط 05)“ پڑھ یا
سُن لے اُسےقراٰن کریم کی تلاوت کا شوق
عطا فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین بجاہِ خاتَم النبیّن صلی اللہ علیہ و سلم
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
فی زمانہ
اسلامی تعلیمات پر مجموعی طور پر عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی و معاشرتی
برائیاں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو برا سمجھنے کو بھی تیار
نہیں انہیں میں سے ایک برائی خیانت بھی ہے یہ ایسا بد ترین گناہ ہے کہ اسے منافق
کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
عام طور پر
خیانت کا مفہوم مالی امانت کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے کہ کسی کہ پاس مال امانت
رکھوایا پھر اس نے واپس کرنے سے انکار کر دیا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے خیانت کی
یقینا یہ بھی خیانت ہے لیکن خیانت کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے خیانت صرف مال ہی میں
نہیں ہوتی بلکہ راز، عزت، مشورے، تمام میں ہوتی ہے۔ (مراۃ المناجیح، 1/212)
مشورے کے معنی
ہیں کسی معاملے میں کسی سے رائے دریافت کرنا۔ کام کسی بھی نوعیت کا ہو اسے کرنے کے
لیے کسی سے مشورہ کرنا بہت مفید ہے اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کو صائب الرائے ( یعنی
درست رائے والا ) ہونے کے باوجود صحابہ کرام سے مشورہ لینے کا حکم فرمایا: وَ
شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ- ( پ 4، آل عمران:159 ) ترجمہ: اور
کاموں میں ان سے مشورہ لو۔ یعنی اہم کاموں میں ان سے مشورہ بھی لیتے رہیں کیونکہ
اس میں ان کی دل جوئی بھی ہے عزت افزائی بھی اور یہ فائدہ بھی کہ مشورہ کرنا سنت
ہو جائے گا اور آئندہ امت اس سے فائدہ اٹھاتی رہے گی۔
مشورہ
کس سے کیا جائے؟
ہر کسی سے مشورہ لینا دانشمندی نہیں اور نہ ہر کوئی ہر معاملے میں درست مشورہ دینے
کا اہل ہوتا ہے چنانچہ کوئی بھی شخص گاڑی کے ٹائروں کے بارے میں کسی ڈاکٹر سے
مشورہ نہیں کرے گا اور نہ کپڑے کے تاجر سے سونے کے زیورات کے بارے میں مشورہ کرے
گا علی ھذا القیاس۔ چنانچہ مشورہ ایسے لوگوں سے کیجیے جو تجربہ کار، عقلمند، تقوی
والے خیر خواہ ہوں بے غرض ہوں اس کے فوائد آپ خود دیکھیں گے۔
غلط
مشورہ نہ دیجیے: جس
سے مشورہ کیا جائے اسکا حق ہے کہ وہ درست مشورہ دے اگر درست مشورہ دینے کی قدرت
نہیں رکھتا تو خاموش رہے لیکن غلط مشورہ نہ دے ایسا نہ ہو کہ اس کا ایک غلط مشورہ
سامنے والے کے لیے وبال جان بن جائے اور غلط مشورہ دینے والا خائن یعنی خیانت کرنے
والا ہوتا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: جو اپنے بھائی کو جان بوجھ کر غلط مشورہ دے
تو اس نے اپنے بھائی کے ساتھ خیانت کی۔ (ابو داود، 3/449، حدیث: 3657)
اسی طرح ایک
اور مقام پر پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے
اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہو جائے تو وہ مشیر ( مشورہ
دینے والا ) پکا خائن ہے۔ (مراۃ المناجیح، 1/212)
16 جون 2025ء کو فیصل آباد، پنجاب میں مدنی
مشورہ منعقد ہوا جس میں ڈویژن ذمہ دار
محمد عامر عطاری نے اسلامی بھائیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابقہ اہداف کا جائزہ لیا
اور آئندہ کے لئے 12 ماہ، ایک ماہ اور تین دن کے قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیا۔
ڈویژن ذمہ دار نے فیصل آباد میں ہونے والے ”طہارت
کورس“ کے سلسلے میں اسلامی بھائیوں کو تیار کرنے کی ترغیب دلائی اور نمایاں کارکردگی
پر اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے
ہوئے انہیں تحفے دیئے۔
ڈھاکہ: 17 جون 2025ء کو بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں دعوتِ اسلامی کے تحت
منعقدہ اصلاح اعمال کورس کے دوران رکنِ
مرکزی مجلسِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل
عطاری مدنی نے بذریعہ انٹرنیٹ اسلامی بھائیوں
کے درمیان سنتوں بھرا بیان کیا۔
ڈسٹرکٹ ایسٹ کراچی کے علاقے چنیسر ٹاؤن میں قائم
جامع مسجد فیضانِ الیاس میں 15 جون 2025ء کو ”ایصالِ ثواب اجتماع“ کا
انعقاد کیا گیا جس میں اہلِ محلہ، نمازی حضرات اور علاقے کے معززین نے شرکت کی۔
اس اجتماعِ پاک میں ڈویژن 2 کراچی کے نگران
مولانا حاجی رضا عطاری مدنی نے ذوالنورین حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی
سیرت کے حوالے سے بیان کیا اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کےمرحوم والد کے لئے ایصالِ ثواب کرنے کا ذہن دیا۔
اسلام آبادکے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 14 جون
2025ء کو فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز دعوتِ اسلامی کے تحت پاکستان بھر سےآئے ہوئے
شفٹ ناظمین، برانچ ناظمین اور ڈویژن ذمہ
داران کا سالانہ ٹریننگ سیشن منعقد ہوا جوکہ شعبہ کی کارکردگی کو مزید نکھارنے اور ذمہ داران
کی صلاحیتوں میں مزید اضافے کے لئے مختلف نشستوں پر مشتمل تھا۔
اسلام آباد:پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 14 اور 15
جون 2025ء کو شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز دعوتِ اسلامی کے تحت شعبے کی فعالیت
کو مزید مؤثر اور محفوظ بنانے کے لئے پاکستان بھر کے شفٹ ناظمین، برانچ ناظمین اور
ڈویژن ذمہ داران کا سالانہ سنتوں بھرا
اجتماع منعقد ہوا۔
اس دوران آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ یونس عطاری نے ”آئی
ٹی انوویشن“ کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے جدید ٹولز کے استعمال کے طریقے اور
شعبے میں استعمال ہونے والے ٹولز کی سیکورٹی کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس اجتماع میں
شرکا کو آئی ٹی کے جدید ٹولز کے استعمال کے طریقے، فوائد اور سائبر کرائم سے بچاؤ
کے اقدامات پر بھی رہنمائی دی گئی۔
ایکرنگٹن
UK، ماپوتو موزمبیق اور نیپال گنج میں دعائے شفا اجتماعات کا
انعقاد
دعوت اسلامی کے شعبہ روحانی علاج للبنات کے تحت
اسلامی بہنوں کےلئے UK کے شہر ایکرنگٹن، موزمبیق کے شہر ماپوتو اور
نیپال گنج میں دعائے شفا اجتماعات منعقد ہوئےجس میں اسلامی بہنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
معلومات کے مطابق مذکورہ مقامات پر ہونے والے دعائے شفا اجتماعات میں تلاوتِ قراٰنِ پاک و نعت
شریف کے بعد مصیبت و بیماری پر صبر کی فضیلت جیسے موضوعات پر سنتوں بھرے بیانات ہوئےنیز اسلامی
بہنوں نے نماز حاجات ادا کی اور اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کی ۔
سرگودھا
ڈویژن میں مدنی مشورے کا انعقاد، ڈسٹرکٹ و تحصیل اور ڈویژن ذمہ داران شریک
شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے
تحت ہونے والے مختلف دینی کاموں کے سلسلے میں 16 جون 2025ء کو سرگودھا ڈویژن میں
مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈسٹرکٹ و تحصیل اور ڈویژن ذمہ داران نے شرکت
کی۔
شعبے کے دینی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے نگرانِ شعبہ غلام الیاس عطاری اور صوبائی
ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے ہفتہ وار اجتماع کی کارکردگی پر کلام کیا نیز گلی گلی
مدرسۃالمدینہ، مدرسۃالمدینہ بالغات اور فیضانِ صحابیات کے حوالے سے مشاورت کی۔
فیصل آباد، پنجاب میں قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ میں شعبہ ہفتہ وار اجتماع کے ذمہ داران کااہم مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں رکنِ شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، نگرانِ شعبہ
ہفتہ وار اجتماع اور صوبائی و ڈویژن ذمہ
داران شریک ہوئے۔
مدنی مشورے کے اہم نکات:
٭ڈویژن وائز تقرریوں کا جائزہ بشمول شعبہ ہفتہ وار اجتماع٭ کارکردگی ہفتہ وار
انٹری کے نظام کا جائزہ اور آئندہ کی حکمت عملی٭موجودہ ہفتہ وار اجتماع کی کارکردگی
ڈویژن وائز٭گاڑیاں چلانے کی کارکردگی اور اہداف، گاڑی نگران تقرری، بجٹ، اور
کارکردگی کا جائزہ٭ان تحصیلوں میں اجتماعات کا جائزہ جن میں ابھی تک اجتماع نہیں
ہوا، اور ان میں اجتماعات شروع کرنے کا ہدف٭علاقائی، ماہانہ اور آیندہ اجتماعات کی
منصوبہ بندی٭یوم عاشورہ اور محرم شریف کے یوسی سطحی اجتماعات کی تیاری، مقامات،
مبلغین، اور اوقات کار، حاجی امین عطاری کی طرف سے ڈویژن وائز جدول٭نئے اجتماعات
شروع کرنے کے ہدف۔
اس اہم مدنی مشورے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان
مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے ذمہ داران کی تربیت کرتے ہوئے انہیں قیمتی مدنی
پھولوں سے نوازا۔
Dawateislami