27 مئی 2022
ء کو مرکزی مجلس شوری کے رکن حاجی محمد عقیل عطاری مدنی نےکراچی سٹی مدنی قافلہ کے
ذمہ دار ساجد عطاری سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی ۔
دوران تعزیت مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ
خوانی اور دعائے مغفرت کرتے ہوئے لواحقین کو صبر کی تلقین کی ۔اس دوران تعزیت
کےلئے رکن شوری کے ساتھ کراچی سٹی شعبہ ائمہ مساجد کے ذمہ دار مولانا محمد وقار عطاری مدنی اور دیگر
ذمہ دارن بھی موجود تھے۔(کانٹینٹ:
محمد مصطفی انیس انصاری )
”اپنے مسلمان
بھائی کی عیادت کرنا سنت رسول بھی ہے اور دینی و اخلاقی فریضہ بھی “اسی ضمن میں 27
مئی 2022 ء بروز جمعہ کورنگی 1 نمبر ناصر کالونی جامع مسجد فیضان شیرِ خدا کے امام
و خطیب مولانا وسیم عطاری سے مرکزی مجلس شوری کے رکن حاجی محمد عقیل عطاری نے ملاقات کی ۔
دوران ملاقات رکن شوری نے مولاناوسیم عطاری سے
عیادت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت یابی کے لئے دعائے خیر کی ۔(کانٹینٹ: محمد مصطفی انیس انصاری )
علمِ دین پڑھنے پڑھانے
کی فضیلت اور اس کے اجر و ثواب کے کیا کہنے! اس علم سے آدمی کی دنیا اور آخرت دونوں
سنور جاتی ہیں اور یہی علم ذریعۂ نجات ہے۔اللہ پاک قرآنِ کریم،فرقانِ حمید میں ارشاد
فرماتا ہے:ترجمہ:اللہ ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم دیا گیا بہت درجات
بلند فرمائے گا۔(پ28،المجادلۃ:11)ہمارے پیارے،
مکی مدنی مصطفٰے صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے بہت سی احادیث میں علما کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور علمِ
دین پڑھنے پڑھانے والوں کی بزرگیوں اور ان کے مراتب و درجات کی عظمتوں کو بیان فرمایا
چنانچہ ایک حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا:عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسی میری
فضیلت تمہارے ادنیٰ پر۔ پھر فرمایا:اللہ پاک اور اس کے فرشتے اور تمام آسمان و زمین
والے یہاں تک کہ چونٹی اپنے سوراخ میں اور یہاں تک کہ سب اس کی بھلائی چاہنے والے ہیں
جو عالم لوگوں کو اچھی بات کی تعلیم دیتا ہے۔(ترمذی،4/313،حدیث:2694)حدیثِ پاک میں فرمایا:عالموں
کی دواتوں کی روشنائی کل بروزِ قیامت شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر سبقت
لے جائے گی۔(کنزالعمال،10/61،حدیث:28711)ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا:علما کی مثال یہ ہے کہ جیسے آسمان میں ستارے
جن میں سے خشکی اور سمندر میں راستہ کا پتہ چلتا ہے۔ اگر ستارے مٹ جائیں تو چلنے والے
بھٹک جائیں۔(مسند امام احمد،4/314،حدیث:12600)حدیثِ پاک:ایک عالم ایک ہزار عابد سے زیادہ شیطان پر سخت ہے۔(ابن ماجہ،1/61،حدیث:222)حدیثِ مبارکہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہُ عنہما سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں:ایک گھڑی رات میں پڑھنا ساری رات
عبادت کرنے سے افضل ہے۔(مشکوۃ
المصابیح،1/117،حدیث:256)
27 مئی
2022 ء بروز جمعہ کورنگی ڈھائی نمبر جامعہ مسجد کریمیہ قادریہ میں دعوت اسلامی کی
مرکزی مجلس شوری کے رکن حاجی محمد عقیل عطاری مدنی نے نماز
جمعہ میں سنتوں بھرا بیان کیا ۔
نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد امیر اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی
ترغیب پردعائے استسقاء کا اہتمام کیاگیا جس میں کثیر عاشقان رسول نے شرکت کی اور
اپنے گناہوں سے توبہ کرنے و بارانِ رحمت کے لئے دعا میں شامل ہوئے ۔(کانٹینٹ: محمد مصطفی انیس انصاری )
علم
بہت بڑی دولت ہے۔دولت مندوں کو ہر وقت اپنی دولت کے چوری ہونے کا خطرہ رہتا ہےلیکن
علم ایک ایسی دولت ہے اسے کوئی چرا نہیں سکتا۔دولت خرچ کرنے سے گھٹتی ہے اور علم
کو جوں جوں خرچ کیا جائے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ترجمہ:اللہ تمہارے ایمان والوں کے
اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(احیاء
العلوم،1/42)
علما کی فضیلت:ترجمہ:اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے
اور عالموں نے ۔اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے اس بات کی گواہی دینے کے بعد کہ اس
کے سوا کوئی معبود نہیں اپنی گواہی کے ساتھ ساتھ فرشتوں اور اہلِ علم کی گواہی کو
ملا یا۔یقیناً اس میں اہلِ علم کی خصوصیتِ عظیمہ کو بیان کیا گیا ہے۔(علم
و علما کی شان،ص27)علما کی فضیلت پر 5فرامینِ مصطفٰے:(1)نبیِ اکرم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب قیامت کے دن اللہ
پاک عابدوں اور مجاہدوں سے فرمائے گا:جنت میں داخل ہو جاؤ تو علما عرض کریں گے:ہمارے
علم کے طفیل وہ عابد اور مجاہد بنے یعنی وہ جنت میں گئے اور ہم رہ گئے۔اللہ پاک
ارشاد فرمائے گا:تم میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کی طرح ہو۔تم شفاعت کرو تمہاری
شفاعت قبول ہو گی چنانچہ وہ شفاعت کریں گے پھر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔(احیاء
العلوم،1/ 60)(2)نبیِ
اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نے فرمایا: اچھوں میں سب سے اچھے علمائے حق ہیں۔(مشکوۃ
المصابیح،ص37)(3)قیامت
کے دن اللہ پاک عبادت گزاروں سے فرمائے گا:اے علما کے گروہ!میں تمہیں جانتا ہوں،
اسی لیے تمہیں اپنی طرف سے علم عطا کیا تھا اور تمہیں اس لیے علم نہیں دیا تھا کہ
تمہیں عذاب مبتلا کروں! (جاؤ !میں نے تمہیں بخش دیا۔)(احیاء
العلوم،1/49)(4)حضور
صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نے ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں اہلِ جنت میں سب سے زیادہ مرتبے والے آدمی کا پتا
نہ بتاؤں؟ صحابۂ کرام علیہم
الرضوان
نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم !ضرور بتائیے ،تو آپ نے فرمایا:وہ میری امت کے علما
ہیں۔(منہاج
العابدین،ص23)(5)حضور
صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے
ارشاد فرمایا:عالم کا سونا جاہل کی نماز سے بہتر ہے۔(منہاج
العابدین،ص27)اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں علم حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
قرآن و حدیث میں علم
اور علما کے فضائل بیان ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علمِ دین کتنی عمدہ عبادت بلکہ
عبادت کی اصل ہے۔علما کا دین میں کتنا مقام و مرتبہ ہے کیونکہ دین کو جتنا علما جانتے
ہیں کوئی دوسرا نہیں جان سکتا۔ اگر علما نہ ہوں تو معاشرہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اس
لیے فرمایا گیا کہ ایک عالم کی موت پورے عالم یعنی دنیا کی موت ہے۔قرآن و حدیث سے علما
کے فضائل جانتی ہیں: اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:اللہ نے گواہی دی کہ اس
کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے۔(پ3،ال عمران:18)اس آیتِ مبارک میں اللہ پاک نے
اس بات کی گواہی دینے کے لیے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اپنی اس گواہی کے ساتھ ساتھ
فرشتوں اور علم والوں کی گواہی کو ملایا۔یقیناً اس میں علم والوں کی بہت عظمت ہے۔ اسی
طرح سرکارِ مدینہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کی بکثرت احادیثِ مبارکہ میں بھی علم و علما کی شان بیان کی
گئی۔فرامینِ مصطفٰے پڑھیے:حدیث نمبر 1:حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے
اور اسے راہِ راست کی ہدایت فرماتا ہے۔(معجم
کبیر،حدیث:784،مکاشفۃ القلوب،ص574)حدیث نمبر 2: ارشاد
فرمایا:علما،انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و
السلام کے وارث ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام سے بڑھ کر کسی کا رتبہ نہیں اور انبیا علیہم الصلوۃ و السلام کے وارثوں سے بڑھ
کر کسی کے وارث کا مرتبہ نہیں۔(ترمذی،حدیث:2491،مکاشفۃ
القلوب،ص574)حدیث نمبر3:ارشاد فرمایا: مرتبۂ نبوت میں سب سے زیادہ قریب
علما اور مجاہدین ہیں۔علما اس لیے کہ انہوں نے رسولوں کے پیغامات لوگوں تک پہنچائے
اور مجاہد اس لیے کہ انہوں نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے احکامات کو تلوار
کے زور کی طرح پورا کیا اور ان کے احکامات کی پیروی کی۔ مزید ارشاد فرمایا:پورے قبیلے
کی موت ایک عالم کی موت سے آسان ہے۔حدیث نمبر4:ارشاد فرمایا:قیامت کے دن علما کی سیاہی
کی دواتیں شہدا کے خون کے برابر تولی جائیں گی۔(مکاشفۃ القلوب،ص574)حدیث نمبر5:نبیِ پاک
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:عالم علم سے کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ جنت
پہنچ جاتا ہے۔ نیز فرمایا :عالم بن یا متعلم یعنی طالبِ علم یا علمی گفتگو ے والا یا
علم سے محبت کرنے والا بن اور پانچواں یعنی علم سے بغض رکھنے والا نہ بن کہ ہلاک ہو
جائے گا۔(مکاشفۃ القلوب،ص575)حضرت حسن بن علی رضی اللہ
عنہ کا قول ہے:جو شخص علما کی محفل میں اکثر جاتا ہے اس کی زبان
کی رکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ ذہن کی الجھنیں کھل جاتی ہیں۔جو کچھ وہ حاصل کرتا ہے اس کے
لیے باعثِ مسرت ہوتا ہے۔ اس کا علم اس کے لیے ایک ولایت اور فائدہ ہوتا ہے۔(مکاشفۃ القلوب،ص575)اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی علما کی برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین
بجاہ النبی الامین صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم
26 مئی 2022 ء بروز جمعرات مدنی مرکز فیضان مدینہ فیصل آباد میں ہفتہ وار سنتوں بھرےاجتماع کا انعقاد کیا
گیا جس میں کثیر عاشقان رسول ﷺ اسلامی بھائیوں نے شرکت کی ۔
اجتماع پاک کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور
نعت رسول مقبول ﷺ سے شروع ہوا ، نگران پاکستان حاجی محمد شاہد عطاری نے سورہ فاتحہ کے فضائل کے موضوع پر
سنتوں بھرا بیان کیا اور حاضرین کی دینی و
اخلاقی اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے مدنی پھولوں سے نوازا۔
اس اجتماع پاک میں کورئین مسلم یوٹیوبر داؤد
کِم نے بھی شرکت کی اور نگران پاکستان نے داؤد کِم سے ملاقات کرتے ہوئے دیگر
اسلامی بھائیوں سے بھی ملاقات کی ۔
(کانٹینٹ: محمد مصطفی انیس انصاری )
علم ع سے عطیۂ الٰہی،ل سے لازوال
نعمت،م سے میراثِ انبیا یعنی انبیا علیہم السلام کی
میراث۔علم نور،روشنی اور ہدایت ہے۔ اے عاشقانِ رسول!یقیناًعلمِ دین کی روشنی سے
جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔اسی سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ قرآن
و سنت میں علم اور علما کی بہت اہمیت بیان فرمائی گئی ہے۔علم کی اہمیت و فضیلت سے
انکار ممکن نہیں ۔علم کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ اللہ پاک اور رسول اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صفت ہے۔اللہ پاک کے ہاں علم کی
اہمیت جاننے کے لیے یہی دو باتیں کافی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام
کی پیدائش کے بعد سے پہلے انہیں علم کی دولت سے ہی نوازا گیا اور ہمارے پیارے آقا،مکی
مدنی مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پربھی
سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ بھی علم کے متعلق ہی تھی۔ اللہ پاک نے قرآنِ مجید
میں اور اس کے پیارے محبوب صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے احادیثِ طیبہ میں علمائے کرام کے فضائل بیان
فرمائے ہیں۔علم والوں کے آخرت میں درجے بلند ہوں گے فرمانِ باری ہے:ترجمہ:اللہ
تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پ28،
المجادلۃ: 11)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:ترجمہ:تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان
نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(پ23، الزمر:9) والدِ
اعلی حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃُ اللہِ علیہ
اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:یعنی جاہل کسی طرح عالم کے مرتبے کو نہیں پہنچتا۔ (فیضانِ
علم و علما ،ص12)اب احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں علمائے کرام کے
فضائل پڑھتی ہیں:(1)عالم کی عابد پر فضیلت:جنتی صحابی حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رحمتِ عالم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:عالم کی فضیلت
عابد پر ایسی ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر اور بے شک علما
انبیا علیہم
الصلوۃ و السلام کے وارث ہیں اور بے شک انبیا علیہم
الصلوۃ و السلام درہم اور دینار یعنی دنیاوی مال و دولت کا وارث
نہیں بناتے بلکہ ان کی وراثت علم ہے تو جس نے اس میں سے لے لیا اس نے بڑا حصہ پا
لیا۔(
ابن ماجہ،حدیث:219)(2)فرمانِ مصطفٰے! زمین اور آسمان کی تمام مخلوق
عالم کے لیے استغفار کرتی ہے۔(ابن ماجہ،1/146،حدیث:223)لہٰذا
اس سے بڑا مرتبہ کس کا ہوگا جس کے لیے زمین و آسمان کے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے
ہوں۔(3)علما کی شہدا پر فضیلت:سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے:قیامت کے دن انبیائے
کرام
علیہم السلام
سب سے پہلے شفاعت کریں گے ،پھرعلما اور ان کے بعد شہدا۔(ابن
ماجہ،ص2739،حدیث:4313)(4)علمائے کرام کے محتاج:سید المرسلین،
خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نے ارشاد فرمایا:جیسے لوگ دنیا میں علمائے کرام کے محتاج ہیں جنت میں بھی ان کے
محتاج ہوں گے۔ (5)عالم کی 70 درجے فضیلت:اللہ پاک کے آخری نبی،مکی مدنی،محمد عربی صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مومن عالم، مومن عابد
پر70 درجے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔(جامع بیان العلم و فضلہ،ص36،حدیث:84)اللہ
کریم ہمیں علمِ دین حاصل کرنے اور علمائے کرام کا ادب و احترام اور ان سے راہ نمائی
لیتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔الحمدللہ علمائے کرام ہمارے راہ نما ہیں ان شاءاللہ
ان کی راہ نمائی کی بدولت ہم گمراہی سے محفوظ رہیں گی۔
ہم کو اے عطار !سنی عالموں سے پیار ہے دو جہاں
میں ان شاء اللہ اپنا بیڑا پار ہے
علم ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو نکھرا
ہوا موتی بنا دیتی ہے۔علم نفع بخش حاصل کرنا زندگی کا اہم فریضہ ہے کہ علم کا حاصل
کرنا مرد و عورت پر فرض ہے۔علم رکھنے والا عالم کہلاتا ہے۔اسی طرح عالم کی بھی دو
قسمیں ہیں:1:عالمِ باعمل2: عالمِ بے عمل۔عالمِ با عمل وہ ہوتا ہے جو علم حاصل کرے اور
اس پر عمل بھی کرے۔عالمِ بے عمل جو اس کے برعکس ہو اور مرتبۂ نبوت میں سب سے
زیادہ قریب عالم اور مجاہد ہیں جیسا کہ فرمانِ نبوی ہے:(1)سب لوگوں سے افضل وہ
مومن عالم ہے کہ جب اس کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ نفع دے اور جب اس سے بے نیازی
برتی جائے تو وہ بھی بے نیاز ہو جائے۔مزید ارشاد فرمایا:مرتبۂ نبوت میں سب سے
زیادہ قریب عالم اور مجاہد ہیں۔علما اس لیے کہ انہوں نے رسولوں کے پیغامات لوگوں
تک پہنچائے اور مجاہد اس لئے کہ انہوں نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ
و السلام
کے احکامات کو بزورِ شمشیر پورا کیااور ان کے احکامات کی پیروی کی۔(مکاشفۃ
القلوب،ص579)اسی
طرح عالم کی فضیلت عام لوگوں سے افضل ہوئی لیکن عالمِ با عمل زیادہ فضیلت کا حق دار
ہے۔مزید فرمانِ نبوی ہے:(2)عالم علم سے کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ جنت میں
پہنچ جاتا ہے۔(مکاشفۃ
القلوب،ص579)علما
کی فضیلت میں تو یہاں تک آتا ہے کہ علما انبیا کے وارث ہیں۔سبحان اللہ!علما کی کیا
ہی شان ہے۔اس بارے میں مزید فرمانِ مصطفٰے پیشِ خدمت ہیں:نبیِ اکرم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:(3)علما انبیا کے
وارث ہیں اور یہ بدیہی بات ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ
و السلام
سے بڑھ کر کسی کا رتبہ نہیں اور انبیا کے وارثوں سے بڑھ کر کسی وارث کا مرتبہ نہیں۔(مکاشفۃ
القلوب،ص579)سبحان
اللہ!تمام امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ علم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں اور دوسروں
تک پھیلائیں۔مزید عالم کی فضیلت میں حدیثِ نبوی ہے:عالموں کی دواتوں کی روشنائی
قیامت کے دن شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہو جائے گی۔(کنزالعمال،حدیث:28711)سبحان
اللہ! کتنی شاندار فضیلت ہے علم والوں کی!تو ہمیں چاہیے کہ علمِ دین حاصل کریں اور
اگر یہ نہ ہو پائے تو عالمات کی صحبت اختیار کریں۔عالم کو تو عابد پر بھی فضیلت
حاصل ہے اگرچہ فرض نماز یا فرض عبادات تو تمام امت پر فرض ہیں لیکن علم حاصل کرنا
نوافل وغیرہ سے افضل ہیں جیسا کہ ایک حدیثِ نبوی میں ہے:ایک فقیہ ایک ہزار عابدوں
سے زیادہ شیطان پر بھاری ہے۔(ابن ماجہ،ص69،حدیث:222)سبحان
اللہ!علم کی بھی بہت ہی اقسام ہیں جیسے علم القرآن،علم حدیث،علم الفقہ،علمِ باطنی،علمِ
ظاہری وغیرہ ۔حدیثِ نبوی میں بھی علم کی اقسام بیان فرمائی گئی ہیں۔حدیثِ نبوی کی
طرف بڑھتی ہیں کہ فرمانِ مصطفٰے ہے:علم کی دو قسمیں ہیں(1)ربانی علم:جو لوگوں پر
اللہ پاک کی حجت ہے ۔(مکاشفۃ القلوب،ص566)(2)قلبی علم:یہ
علم لوگوں کو نفع دینے والا ہے۔اللہ پاک ہمیں لوگوں کو نفع دینے والا یعنی علم
نافع عطا فرمائے۔آمین۔جب علم حاصل کیا جائے تو اسے پھیلایا بھی جائے اور بخل نہ
کیا جائے کیونکہ علم ایک ایسا خزانہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے اور علم میں بخل
کرنا بہت زیادہ سخت بات ہے کہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اپنا علم چھپاتا ہے اللہ
پاک اسے آگ کی لگام دے گا۔(مکاشفۃ القلوب،ص566)الامان
والحفیظ۔پیاری اسلامی بہنو!ہمیں علم حاصل کر نے میں کوشاں رہنا چاہیے اور اسے
دوسروں تک پھیلانا چاہیے۔اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمارے سینوں کو علمِ
نافع سے منور فرمائے۔آمین۔ علم چھپانا ایک بہت بری بات ہے اور ایسوں کا شمار
علمائے سو میں ہوتا ہے یعنی وہ علما جو علم کے حصول سے دنیاوی نعمتوں کے کمانے کا
ارادہ رکھتے ہیں یا دنیاوی قدر و منزلت چاہتے ہیں یا دینی واہ وا کے لیے تو یہ علمائے
سو کے زمرے میں آتے ہیں۔برے علمائے کرام کے بارے میں حضرت عیسی علیہ
السلام
نے فرمایا:برے علما کی مثال ایسی چٹان کی سی ہے جو نہر کے منہ پر گر گئی ہو، نہ وہ
خود سیراب ہوتی ہے نہ ہی وہ پانی کو راستہ دیتی ہے کہ اس سے کھیتیاں سیراب ہوں۔(مکاشفۃ
القلوب،ص569)اس
لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ علم حاصل کرے ،اس پر عمل پیرا ہو کر دوسروں تک
پہنچانا اپنا اہم فریضہ سمجھے اور علما کی فضیلت کو پائے۔اللہ پاک ہمیں علم حاصل
کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔آمین
علم دنیا و آخرت میں باعثِ اکرام و نجات ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی
شے نہیں۔بادشاہ لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جبکہ علما بادشاہوں پر حکومت کرتے ہیں۔عالم
کی عظمت کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:تم فرماؤ!
کیا علم والے اور بےعلم برابر ہیں؟(الزمر:9)اللہ پاک نے عالم کو جاہل سے ممتاز فرمایا اور جاہل کسی طرح
بھی عالم کے مرتبے کو نہیں پہنچتا۔ علما کی فضیلت پر احادیث:1: ہزار عابدوں سے زیادہ
بھاری:رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔( فیضان علم و علما،ص18) اس کی وجہ ظاہر ہے کہ عابد اپنے نفس کی دوزخ سے بچاتا ہے اور عالم ایک عالَم کو
ہدایت فرماتا اور شیطان کے مکر و فریب سے آگاہ کرتا ہے۔(فیضان علم و علما،ص18)2:شہدا کا خون اور
علما کی سیاہی:پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قیامت
کے دن علما کی دواتوں کی سیاہی اور شہیدوں کا خون تولا جائے گا،روشنائی ان کی دواتوں
کی شہیدوں کے خون پر غالب آئے گی۔(فیضان علم وعلما،ص14)3:علما کی شفاعت:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قیامت
کے دن تین قسم کے لوگ شفاعت کریں گے:انبیا،علما،شہدا۔(احیاء العلوم،1 /48) 4:عالم کی زیارت:حضور
اقدس صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:عالم کی طرف ایک نظر میرے نزدیک سو برس روزے رکھنے
اور سو برس رات کو وافل پڑھنے سے بہتر ہے۔(منہاج
العابدین،ص38)5:انبیا علیہم الصلوۃ و
السلام کے وارث: آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:علما انبیا علیہم الصلوۃ و
السلام کے وارث ہیں ۔(احیاء
العلوم،1/45) معلوم ہوا !انبیا علیہم
الصلوۃ و السلام کی میراث درہم و دینار نہیں بلکہ علم ہے۔غرض علمِ دین سے جس
کو بھی حصہ دیا گیا اسے خیر کثیر دی گئی ۔علم ہی وہ معزز چیز ہے جسے انبیا علیہ السلام چھوڑ کر گئے۔علما سے وابستگی میں دنیا و آخرت کی
بھلائی ہے۔علما ایسے روشن ستارے ہیں جو لوگوں سے فرضِ کفایہ ساقط کرتے ہیں۔غرض علما
کے کیا کیا فضائل ذکر کیے جائیں۔دنیا میں تو
ہم ان کی محتاج ہیں ہی آخرت میں بھی ان کی محتاج ہوں گی۔ ہاں! اس کرب کے دن میری مراد
آخرت میں بھی لوگ ان کے شفاعت پائیں گے۔اللہ کریم ہمیں علما کا احترام اور ان سے وابستگی
عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
علمِ دین تو یقیناً بہت بڑی نعمت ہے ۔
اس کاسہرا انہی خوش نصیبوں کے سر پر سجتا ہے جنہیں اللہ پاک اپنے خاص فضل سے
نوازتا ہے جیسا کہ محبوبِ رحمن صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ
عالی شان ہے:اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا
فرماتا ہے۔حقیقی علمائے ربانی وہ ہیں جو اللہ والے ہیں اور لوگوں کو اللہ والا
بناتے ہیں،جن کی صحبت سے خدا کی کامل محبت نصیب ہوتی ہے۔علما کی شان تو ربِّ
کائنات قرآن میں بیان کرتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا:ترجمہ: گواہی دی اللہ نے کہ
کوئی بندگی کے لائق نہیں سوا اس کے اور فرشتوں نے اور عالموں نے وہ(اللہ)باانصاف(انصاف
والا)ہے۔(پ3،اٰلِ
عمران:18)تو
اس آیت سے تین فضیلتیں معلوم ہوئیں:اول:خدائے پاک نے علما کو اپنے اور فرشتوں کے ساتھ ذکر کیا اور یہ ایسا
مرتبہ ہے کہ نہایت یعنی انتہا نہیں رکھتا۔دوم:ان علما کو فرشتے کی طرح اپنی
وحدانیت یعنی ایک ہونے کا گواہ اور ان کی گواہی کو وجہِ ثبوتِ الوہیت یعنی اپنے
معبود ہونے کی دلیل قرار دیا۔سوم: ان علما کی گواہی مانندِ گواہیِ ملائکہ کے معتبر
ٹھہرائی۔علما کی فضیلت پر مبنی پانچ احادیث:حدیث نمبر ایک:ترمذی نے روایت کیا
کہ رسولِ پاک صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر ہوا ایک
عابد دوسرا عالم تو آپ نے فرمایا:عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت
تمہارے کم تر پر۔(ترمذی،حدیث:2694)حدیث نمبر2:علم
کے سبب بخشش:حدیثِ مبارکہ میں ہے: جب پروردگار قیامت کے روز اپنی کرسی پر فیصلہ
فرمائے گا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے تو علما سے فرمائے گا(
جس کا خلاصہ معنی یہ ہے)میں نے اپنا علم و حلم یعنی نرمی تم کو
صرف اسی ارادے سے دی کہ تم کو بخش دوں اور مجھے کچھ پروا نہیں۔(معجم
کبیر،حدیث: 4694)حدیث نمبر 3:سب سے بڑے سخی:بیہقی روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
فرماتے ہیں:اللہ پاک بڑا جواد(یعنی سب سے زیادہ نوازنے والا )ہے
اور میں سب سے بڑا سخی ہوں اور میرے بعد ان میں سب سے بڑا سخی وہ ہے جس نے کوئی
علم سیکھا پھر اس کو پھیلایا۔(شعب الایمان،2/281،حدیث:1761)حدیث
نمبر4:شہدا کا خون اور علما کی سیاہی:امام ذہبی رحمۃُ اللہِ علیہ
نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قیامت کے روز علما کی دواتوں کی سیاہی اور شہیدوں کا
خون تولا جائے گا روشنائی یعنی سیاہی ان کی دواتوں کی شہیدوں کے خون پر غالب آئے
گی۔(جامع
بیان العلم وفضلہ،ص48،حدیث:139)حدیث نمبر5: 70صدیقین کا ثواب:حدیث
شریف میں آیا ہے :جو شخص ایک باب علم کا اوروں یعنی دوسروں کو سکھانے کے لیے سیکھے
اس کو 70 صدیقوں کا اجر دیا جائےگا۔ (الترغیب والترہیب،حدیث119)
اللہ کریم ہمیں علما کی صحبت سے مالا مال فرمائے ۔آمین بجاہ النبیین صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
27
مئی 2022 ء کونماز
جمعہ کے بعد امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کے
خصوصی فرمان و اعلان پر مدنی مرکز دعوت اسلامی فیضان مدینہ ڈہرکی میں دعاء استسقاء
(رحمت والی بارش کے لئے دعا ) کا اہتمام ہوا۔
اس موقع پر نمازی بھائیوں نے بعد نماز
جمعہ استغفار کیا۔ اس کے بعد امام مسجد اسلامی بھائی نے خصوصی دعاء استسقاء ( یعنی رحمت والی بارش) کروائی گئی یا اللہ پاک جمعہ کے مبارک دن کی برکت سے اپنی رحمت والی بارش عطا فرما اور
تمام شرکا کی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ رحمت برساکچھ دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا۔(کانٹینٹ:
رمضان رضا عطاری)
Dawateislami