بے ادبی کی نحوست

Thu, 10 Jun , 2021
109 days ago

 ایک مشہورمقولہ ہے کہ ”باادب بانصیب ، بےادب بےنصیب“ یعنی انسان جو پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو کھوتا ہے اس کاسبب بے ادبی ہے۔ بے ادبی کی نحوست اس قدر زیادہ ہے کہ ایمان کو کاملیت تک نہیں پہنچنے دیتی ۔ جیسا کہ حسن اخلاق کے پیکر فرماتے ہیں :وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرےاور ہمارے بڑوں کی توقیر(عزت)نہ کرے۔ (ترمذی، ح ١٩٢٦،ج ٣،ص ٣٦٩)

اور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :جو باادب نہیں اس کا کو ئی دین نہیں۔(فتاوٰی رضویہ،ج٢٨،ص١٥٨،رضا فاؤنڈیشن)

بعض اوقات بے ادبی کفر تک لے جاتی ہے اور ہمیشہ کے لیے جہنم کو ٹھکانہ بنا دیتی ہے۔جیسے شیطان نے کوئی سالوں تک اللہ کی عبادت کی اور کوئی علوم و فنون کا ماہر تھا یہاں تک کہ فرشتوں میں وعظ کرتا تھا لیکن ایک نافرنی نے اسکا ٹھکانہ ہمیشہ کے لیے جہنم کردیا اور وہ نافرمانی حضرت آدم علیہ السلام کی بے ادبی تھی۔( عجائب القرآن،ص ٢٥٧ مخلصاً)

اسی طرح ایک شخص جس کا نام بلعم بن بعورہ تھا ، بہت بڑا عابد و زاہد اور عالم تھا۔روحانیت کا یہ عالم کہ زمین پر بیٹھ کر عرش اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ لیکن مال کی حوس اور دنیا کی محبت نے اسکا انتہائی برا حال کیا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بارگاہِ خداوندی سے دھتکار دیا گیا۔ مال کی لالچ میں آکر اس بد بخت نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی لیے بد دعا کرنا چاہی اور بے ادبی کی کوشش کی جس کی وجہ سے اسکی زبان لٹک کر سینے تک آگئی اور کفر پر مرا۔(عجائب القرآن،ص١١٨ مخلصاً)

گویا کہ بے ادبی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی بنا دیتی ہے۔

جتنا بڑا علم و عابد ہو اگر اپنے سے بڑے مرتبے والے کی ادنٰی سی بے ادبی بھی کر دے تو اسکے نیک اعمال اسطرح برباد ہو جاتے ہیں کہ اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں حکم فرماتا ہے : وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ۔ ( الحجرات : 02 )

اسی لیے اگر روضہ رسول پر بھی حاضری دیں تو ادب کو ملحوظِ خاطر رکھیں کہ بندہ اطاعت سے جنت تک اور ادب سے خدا تک پہنچ جاتا ہے ۔اللہ تعالٰی ہمیں بے ادبیوں سے محفوظ فرمائے اور باادب بنائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم