(1)پہلی صفت وہ صالحہ نیک بخت اور ادب والیاں: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- ترجمہ: نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔(پارہ 5، سورة النسآء، الآیۃ: 34)

حضرت ابو امامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِا قدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تقویٰ کے بعد مومن کے لئے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ اگروہ اُسے حکم دے تو وہ اطاعت کرے اوراگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اور کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے۔(ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب افضل النساء، 2/414، الحدیث: 1857)

(2)دوسری صفت اپنی عصمت و آبرو اور پارسائی کا پورا تحفظ کرے: اپنی عصمت و آبرو کا پورا تحفظ کرے اور کسی بھی وقت اور کسی کے ساتھ بھی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے خاوند کو کوئی شکایت پیدا ہو یا اس کی مردانہ غیرت و حمیت کے خلاف ہو۔ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ ترجمہ: اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔(سورۃ النور، آیت:31)

(3)تیسری صفت وہ زینت نہ دیکھائیں:وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ ترجمہ: اور اپنی زینت نہ دکھائیں۔(سورۃ النور، آیت:31)زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے جیسے زیور وغیرہ اور چونکہ محض زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لئے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے ان اعضاء کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں جیسے سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں اور پنڈلیاں، البتہ بد ن کے وہ اعضاء جوعام طور پر ظاہر ہوتے ہیں جیسے چہرہ،دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں،انہیں چھپانے میں چو نکہ مشقت واضح ہے اس لئے ان اعضاء کو ظاہر کرنے میں حرج نہیں۔(لیکن فی زمانہ چہرہ بھی چھپایا جائے گا)۔(مدارک، النور، تحت الآیۃ: 31، ص777)

(4)چوتھی صفت کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں:وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ ترجمہ: اور زمین پر اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں۔ (سورۃ النور، آیت:31)عورتیں چلنے پھرنے میں پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ اُن کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے۔ اسی لئے چاہیے کہ عورتیں بجنے والے جھانجھن نہ پہنیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں۔ اس سے سمجھ لیناچاہیے کہ جب زیور کی آواز دعا قبول نہ ہونے کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی اللہ تعالیٰ کے غضب کو لازم کرنے والی ہوگی۔ پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے (اللہ کی پناہ)۔ (تفسیر احمدی، النور، تحت الآیۃ: 31، ص565، خزائن العرفان، النور، تحت الآیۃ: 31، ص656 ملتقطاً)

(5)پانچویں صفت وہ پردہ کرنے والیاں ہیں:وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ ترجمہ: اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔ (سورۃ النور، آیت:31) مسلمان عورتیں اپنے دوپٹوں کے ذریعے اپنے بالوں، گردن،پہنے ہوئے زیور اور سینے وغیرہ کو ڈھانپ کر رکھیں۔ (تفسیرات احمدیہ، النور، تحت الآیۃ: 31، ص562)

حضرت اُمِّ خلاد رضی اللہُ عنہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیا، آپ رضی اللہُ عنہا ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے چہرے پرنقاب ڈالے باپردہ بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر ہو ئیں، اس پر کسی نے حیرت سے کہا:اس وقت بھی آپ نے منہ پر نقاب ڈال رکھا ہے!آپ رضی اللہُ عنہا نے جواب دیا: میں نے بیٹاضرور کھویا ہے لیکن حیا ہر گز نہیں کھوئی۔(ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فضل قتال الروم علی غیرہم من الامم، 3/9، الحدیث: 2488)

(6)چھٹی صفت جو پاک اور صاف ستھریاں ہیں ان کے لیے ستھرے مرد اور بخشش اور عزت کی روزی ہے، جیسا کہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ-اُولٰٓىٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠(۲۶)

ترجَمۂ کنزُالایمان: گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے اور ستھریاں ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریوں کے لیے وہ پاک ہیں اُن باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں اُن کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ (سورۃ النور، آیت:26)

(7)ساتویں صفت جو پارسا اور ایمان والیوں پر الزام لگاتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بڑا عذاب ہے اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۲۳) ترجَمۂ کنزُالایمان:بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ النور، آیت:23)

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عورتیں جوبدکاری اور فِسق و فُجور کو جانتی بھی نہیں اور بُرا خیال اُن کے دل میں بھی نہیں گزرتا اور وہ پاکدامن اورایمان والی ہیں، ایسی پاکیزہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان لگانے والوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما نے فرمایا کہ آیت میں عورتوں کے بیان کردہ اوصاف سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ازواجِ مطہرات کے اوصاف ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے تمام ایماندار اور پارسا عورتیں مراد ہیں، انہیں عیب لگانے والوں پر اللہ تعالیٰ لعنت فرماتا ہے۔(مدارک، النور، تحت الآیۃ: 23، ص775)

(8)آٹھویں صفت خاوند کو تسلی دینے والی: نیک عورت کی ایک صفت یہ ہے کہ خاوند کو زندگی میں کوئی ایسا مرحلہ پیش آجائے جس سے وہ گھبرا جائے اور اندیشہ ہائے دور درازمیں مبتلا ہو جائے تو عورت اس کو تسلی دے، اس کی ڈھارس بندھائے اور اس کی خوبیوں کا ذکر کر کے اس کو اللہ سے اچھی امیدیں وابستہ کرنے کی تلقین کرے۔

اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہُ عنہا سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو عورت اس حال میں مری کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا وہ جنت میں داخل ہو گی۔(ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی حقّ الزوج علی المرأۃ، 2/386، الحدیث: 1164)

(9)نویں صفت خاوند کی خدمت و اطاعت کی اہمیت و تاکید: خاوند کی خدمت و اطاعت کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے، اس کااندازہ حدیث سے لگایا جا سکتا ہے۔ حدیث میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو یقینا عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے۔(جامع الترمذی، حدیث: 1159)

(10)دسویں صفت شکر گزار عورت: مسلمان عورت کی ایک اہم صفت شکر گزاری ہے، یعنی عسر و یسر، خوش حالی اور تنگ دستی ہر حالت میں اللہ کا بھی شکر ادا کرے اور اپنے خاوند کی بھی شکر گزار ہو۔

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے ہمیں ایمان کی دولت سے مالا مال کیا اور قرآن کریم میں اس نے مؤمن مردوں اور عورتوں کی صفات بیان کرکے انہیں عزت و شرف سے نوازا یہاں اسی سے متعلق اللہ کریم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

اس آ یت مبارکہ میں اللہ کریم نے مؤمن مردوعورت کی صفات بیان کی ہیں آئیے قرآن کریم میں موجود مومنہ عورتوں کی دس صفات ملاحظہ کیجئے!

(1)وَ الْمُسْلِمٰتِ: وہ عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئیں اور انہوں نے اللہ پاک کہ احکامات کی اطاعت کی اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔

(2)وَ الْمُؤْمِنٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریات دین کو مانا۔

(3)وَ الْقٰنِتٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے عبادات پر مداومت اختیار کی اور انہیں (ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ)قائم کیا۔

(4)وَ الصّٰدِقٰتِ: وہ عورتیں جو اپنی نیت، قول اور فعل میں سچی ہیں۔

(5)وَ الصّٰبِرٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے طاعتوں کی پا بندی کی ممنوعات سے بچتی رہیں اور مصائب وآلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہ کیا۔

(6)وَ الْخٰشِعٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اوراعضاء کے ساتھ عاجزی و انکساری کی۔

(7)وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دیئے۔

(8)وَ الصّٰٓىٕمٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے فرض روزے رکھے اور نفلی روزے بھی رکھے منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے ایام بیض (یعنی قمری مہینےکی13، 14، 15 تاریخ)کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنےوالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

(9)وَ الْحٰفِظٰتِ: وہ عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچیں۔

(10)وَّ الذّٰكِرٰتِ: وہ عورتیں جو اپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شما ر ہوتا ہے جب کہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے۔(بحوالہ: تفسیرِ صراط الجنان،سورةالاحزاب،آيت نمبر:35)

پیارے اسلامی بھائیو اور بہنو! دیکھا آپ نے اللہ پاک نے قرآن کریم میں مومنہ عورتوں کی صفات بیان فرما کر مومنہ عورتوں کو کس قدر عزت و شرف بخشا ہے، مومنہ عورتوں کو بھی چاہیئے کہ وہ اللہ کریم کا شکر ادا کریں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوں جن باتوں کا دین اسلام حکم دیتا ہے انہیں بجالائیں، اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اسلامی بہنوں کو ان تمام صفات (جو کہ قرآن کریم میں بیان کی گئیں ان)کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین۔

اللہ عزوجل نے اپنے پیارے کلام قرآن مجید فرقان حمید میں مؤمنہ عورتوں کی بے شمار صفات متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہے:

(1)مؤمنہ عورت رفیقہ ہوتی ہے:

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔(سورہ توبہ)

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے خبیث اَعمال اور فاسد اَحوال بیان فرمائے، پھراس عذاب کا بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دنیاو آخرت میں تیار کیا اور اِس آیت سے مومنوں کے اوصاف، ان کے اچھے اعمال اور ان کے اس اجر و ثواب کو بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ان کے لئے تیار فرمایا ہے، (تفسیر صراط الجنان)

(2)مؤمنہ عورت بدگمان نہیں ہوتی:

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ-وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ(۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان: کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سُنا تھا کہ مسلمان مَردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے۔(سورہ نور)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک گمان کرتے کیونکہ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کرے کہ بدگمانی ممنوع ہے۔ نیز لوگ سن کرکہتے کہ یہ کھلا بہتان ہے، بالکل جھوٹ ہے اوربے حقیقت ہے (تفسیر صراط الجنان،خازن، النور، تحت الآیۃ: 12، 3/343، تفسیرکبیر، النور، تحت الآیۃ: 12، 8/341، ملتقطاً)

(3)مؤمنہ عورت فرمانبردار ہوتی ہے:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ (سورہ الاحزاب)

شانِ نزول:حضرت اسماء بنت ِعمیس رضی اللہُ عنہا جب اپنے شوہرحضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہُ عنہ کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہُ عنہن سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے بارے میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا:نہیں، تو حضرت اسماء رضی اللہُ عنہا نے حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، عورتیں توبڑے نقصان میں ہیں۔ارشادفرمایا:کیوں؟عرض کی: ان کا ذکر (قرآن میں)خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی۔(تفسیر صراط الجنان)

(4)مؤمنہ عورت کی نورانیت:

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ(۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھو گے کہ اُن کا نور ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم اُن میں ہمیشہ رہو یہی بڑی کامیابی ہے۔(سورہ الحدید)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے بارے میں خبر دی کہ قیامت کے دن تم مومن مَردوں اورایمان والی عورتوں کو پل صراط پر اس حال میں دیکھو گے کہ ان کے ایمان اور بندگی کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑرہا ہے اور وہ نور جنت کی طرف اُن کی رہنمائی کررہا ہے اور(پل صراط سے گزر جانے کے بعد)ان سے فرمایا جائے گا کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، تم ان میں ہمیشہ رہوگے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔(تفسیر صراط الجنان، مدارک، الحدید، تحت الآیۃ: 12، ص1208، 1209، خازن، الحدید، تحت الآیۃ: 12، 4/228، 229، ملتقطاً)

اللہ رب الانام کی جناب میں دعا ہے کہ مؤمنہ عورتوں کو جو مقام قرآن نے دیا ہے ان کو اپنا مقام سمجھنے اور مندرجہ بالا قرآنی صفات پر عمل کرنے اور ہمارے معاشرے کو اس کی تعلیم سے آشنائی کی توفیق سعید عطا فرمائے

قرآن کریم اللہ عزوجل کا بے مثل اور عظیم کلام ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انبیاء، رسولوں، اولیاء، مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں، آئیے! مومنہ عورتوں کی صفات ملاحظہ فرماتے ہیں:

(1)صبر کرنے والیاں: وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ صبر کرنے والے اور صبر کرنے والیاں۔

(2)عاجزی کرنے والیاں: وَالْخَشِعينَ وَالْخَشِعَتِ عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں۔

(3)صدقہ کرنے والیاں: وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں

(4)روزہ رکھنے والیاں: وَالصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ روزہ رکھنے والے اور روزہ رکھنے والیاں۔

(5)شرم گاہ کی حفاظت کرنے والیاں: وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں۔

(6)اللہ کو یاد کرنے والیاں: وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ- اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔(پارہ 22 سورۃ الاحزاب آیت نمبر 35)

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اصولوں و قوانین مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ مرد و‎ عورت کے لیے ایسی صفات کو بھی بیان فرمایا جس پر عمل کر کے وہ اپنے اخلاق اور کردار کو نکھار سکتے ہیں۔ قرآن پاک میں بیان کی گئیں مؤمنہ عورتوں کی صفات میں سے 8یہ ہیں:

(1)مؤمنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہر حکم کی فرمانبرداری کرتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَالْقٰنِتٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: فرمانبرداری کرنے والیاں۔(پ22، الاحزاب:35)

(2)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہمیشہ سچ بولتی ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَالصّٰدِقٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: سچ بولنے والیاں۔

(3)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہمیشہ ہر حال میں صبر کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَ الصّٰبِرٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: صبر کرنے والیاں۔

(4)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ عاجزی و انکساری اختیار کرتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَالْخٰشِعٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: عاجزی کرنے والیاں۔

(5)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے صدقہ و خیرات کرتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: خیرات کرنے والیاں۔

(6)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزے رکھتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَالصّٰٓىٕمٰتِ ترجمہ کنز الایمان: روزہ رکھنے والیاں۔

(7)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہمیشہ اپنی یارسائی کی حفاظت کرتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَ الْحٰفِظٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والیاں۔

(8)مومنہ عورتوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَّ الذّٰكِرٰتِ)ترجمہ کنز الایمان: اللہ کو بہت یاد کرنے والیاں(پ22، الاحزاب:35)

الله عزوجل نے ان سب کے لئے بخشش و بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے دنیا و آخرت میں سرخروئی و کامیابی حاصل کرنے کے لئے اصول و قوانین مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان مرد و عورت کی صفات کو بیان فرمایا جن کو اپنا کروہ معاشرے کے بااخلاق و باکردار فرد بن جاتے ہیں۔ قراٰن کریم میں مؤمنہ عورتوں کی کئی صفات کا ذکر ملتا ہے جن میں سے10صفات ملاحظہ فرمائیں:

1۔ وَ الْقٰنِتٰتِ: فرماں برداری کرنے والیاں

2۔وَ الصّٰدِقٰتِ : سچ بولنے والیا

3۔ وَ الصّٰبِرٰتِ: صبر کرنے والیاں

4۔وَ الْخٰشِعٰتِ : عاجزی کرنے والیاں

5۔ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ : صدقہ و خیرات کرنے والیاں

6۔ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ: روزے رکھنے والیاں

7۔ وَ الْحٰفِظٰتِ: شرم گاہ کی حفاظت رکھنے والیاں

8۔ وَّ الذّٰكِرٰتِ: اللہ کا کرنے والیاں

9 اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ : نماز کی پابندی کرنے والیاں

10 وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ- : اللہ پاک اور اس کے رسول کے حکم پر عمل کرنے والیاں

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام،ایمان اور طاعت میں، قول اور فعل کے سچا ہونے میں، صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں، روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں،تو ایسی عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(ابو سعود، الاحزاب، تحت الآیۃ:35، 4/321، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ:35، ص941، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ:35، 3/500 ملتقطا)


قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی بلند مرتبے والی کتاب ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے آخری نبی جناب محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل فرمائی، اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں اپنے انبیاء، اولیاء اور مسلمانوں اور مؤمنہ عورتوں کی صفات کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مؤمنہ عورتوں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں اُن میں سے کچھ یہ ہیں:

اللہ کو یاد کرنے والیاں: وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ- اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔

صبر کرنے والیاں: وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ صبر کرنے والے اور صبر کرنے والیاں۔

صدقہ کرنے والیاں: وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں۔

عاجزی کرنے والیاں: وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں۔

روزہ رکھنے والیاں: وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ روز رکھنے والے اور روز رکھنے والیاں۔

شرم گاہ کی حفاظت کرنے والیاں: وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں۔

وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ: فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں۔

وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ: سچی عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں۔(پ22، الاحزاب،آیت: 35)


اللہ پاک نے قراٰن کریم میں مؤمنہ عورتوں کی کئی صفات کو ذکر فرمایا ہے ان میں سے دس مراتب پارہ 22، سورۃُ الاحزاب، آیت نمبر35 میں مَردوں کے ساتھ ذکر فرمائے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی وہ یہ ہیں:

(1)وَالْمُسْلِمٰتِ: ترجمہ: اسلام لانے والی۔ پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے۔

(2)وَالْمُؤْمِنٰتِ: ترجمہ: ایمان لانے والی۔ دوسرامرتبہ ایمان ہے کہ وہ اعتقاد صحیح اور ظاہر وباطن کا موافق ہونا ہے۔

(3)وَ الْقٰنِتٰتِ: ترجمہ: طاعت کرنے والی۔ تیسرامرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے۔

(4)وَ الصّٰدِقٰتِ: سچ بولنے والی۔ چوتھا مرتبہ صدق نیات، صدق اقوال و افعال ہے۔

(5)وَ الصّٰبِرٰتِ: ترجمہ: صبر کرنے والی۔ پانچواں مرتبہ جس کا بیان ہے کہ طاعتوں کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا خواہ نفس پر کتناہی شاق اور گراں ہو رضائے الٰہی کے لیے اختیار کیا جائے۔

(6 وَ الْخٰشِعٰتِ: ترجمہ خشوع کرنے والی۔ چھٹا مرتبہ خشوع ہے جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب و جوارح کے ساتھ متواضع ہوتا ہے۔

(7)وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ: ترجمہ: صدقہ دینے والی۔ ساتواں مرتبہ صدقہ ہے جو اللہ کے عطاکئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں بطریق فرض و نفل دینا ہے۔

(8)وَ الصّٰٓىٕمٰتِ:ترجمہ: روزہ رکھنے والی۔ آٹھواں مرتبہ صوم ہے یہ بھی فرض و نفل دونوں کو شامل ہے منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درھم صدقہ کیا وہ صدیقین میں اور جس نے ہر مہینے ایام بیض کے تین روزے رکھے وہ صائمین میں شمار کیا جاتا ہے۔

(9)وَ الْحٰفِظٰتِ:ترجمہ: حفاظت کرنے والی۔ نواں مرتبہ عفت ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھے اور جو حلال نہیں اس سے بچے۔

(10)وَّ الذّٰكِرٰتِ:ترجمہ: ذکر کرنے والی۔ دسواں مرتبہ کثرتِ ذکر ہے، ذکر میں تسبح، تحمید، تہلیل، تکبیر، قراءت قراٰن، علم دین کا پڑھنا پڑھنانا، نماز، وعظ و نصیحت، میلاد شریف، محفل نعت شریف یہ سب داخل ہیں۔

فی زمانہ لوگوں میں ایسی بری عادت پائی جا رہی ہے کہ لوگ اپنے اوصاف چھوڑ کر گناہوں کی طرف راغب ہوتے جا رہے ہیں یہ بری عادت خصوصاً عورتوں میں زیادہ پائی جا رہی ہے اور اپنے اوصاف بھولنے ساتھ ساتھ گناہوں کی طرف بڑھتی جا رہی ہیں لیکن ابھی بھی کچھ ایسی عورتیں ہیں جو اپنے اوصاف کی مکمل طور پر پاسداری کر کے اس پر عمل بھی کرتی ہیں چنانچہ ﷲ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ-

ترجمۂ کنز الایمان: تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔

نیک اور پارسا عورتوں کے اوصاف بیان فرمائے جا رہے ہیں کہ جب ان کے شوہر موجود ہوں تو ان کی اطاعت کرتی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں مصروف رہتی اور شوہر کی نافرمانی سے بچتی ہیں اور جب موجود نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے مال اور عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔ (صراط الجنان، سورۃ النساء 4، آیت 34)

اس آیت میں مؤمنہ عورت کا دوسرا وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کے سامان کی کس طرح حفاظت کرتی ہے اور صرف اس کی موجودگی میں نہیں بلکہ اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کے مال و متاع کی حفاظت کرتی ہے

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

اِس آیت سے مومنوں کے اوصاف، ان کے اچھے اعمال اور ان کے اس اجر و ثواب کو بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ان کے لئے تیار فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق، آپس میں دینی محبت والفت رکھتے اور ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانے اور شریعت کی اتباع کرنے کا حکم دیتے ہیں اور شرک و معصیت سے منع کرتے ہیں۔ فرض نمازیں ان کے حدود و اَرکان پورے کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ اپنے اوپر واجب ہونے والی زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حکم مانتے ہیں۔ان صفات سے مُتَّصِف مومن مرد اور عورتیں وہ ہیں جن پر عنقریب اللہ تعالیٰ رحم فرماے گا اور انہیں دردناک عذاب سے نجات دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔ (صراط الجنان، سورۃ التوبۃ 9،آیت 71)

اس آیت میں مؤمنہ عورت کا تیسرا وصف یہ بیان کیا گیا ہے مؤمنہ عورت مؤمن مرد کے ساتھ رفیق ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا حکم بھی دیتے ہیں اور شریعت کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔

ان تمام آیاتِ قرآنیہ سے مؤمنہ عورت کی صفات واضح ہو رہی ہیں اللہ پاک مؤمنہ عورتوں کو ان اوصاف کے ساتھ متصف فرمائے اور ہم سب کو گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳)

ترجمہ کنزالایمان: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔ (پ26، الحجرات:13)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ان میں دو انواع مرد اور عورت کو پیدا کیا پھر انہیں قومیں اور قبیلے بنایا۔ اور ان قبیلے اور قوموں میں رہنے کے لیے انسان کو کچھ اصولوں کا پابند بنایا اور ان اصولوں کو قرآن پاک میں بیان فرمایا۔ آج ہم قرآن پاک میں بیان کردہ عورتوں کے احکام وصفات کو ذکر کریں گے۔ بے شک ہمارے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اور بہترین ہدایت حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہدایت ہے جیسے کہ حدیث پاک میں ہے:خیر ھدی ھدی محمد۔ اور قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-

ترجمہ کنزالایمان: نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں اُن کی مائیں ہیں (پ21، الاحزاب: 6)

جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم پر ہماری جان سے زیادہ مالک ہیں جب ان کا حکم آجائے تو ہمیں کسی امر کا اختیار نہیں اور نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ازواج ہماری مائیں ہیں۔ تو جب ہماری ان ماؤں کو اللہ تعالیٰ پردے کا حکم دیتا ہے تو ہمارے لیے بدرجہ اولیٰ اس حکم پر عمل کرنا لازم آئے گا جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹)

ترجمہ کنزالایمان: اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ22، الاحزاب:59)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ میرے حبیب کی ازواج! تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور اپنی رہائش گاہوں میں سکونت پذیر رہو (اور شرعی ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نہ نکلو)۔ یاد رہے کہ اس آیت میں خطاب اگرچہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے ہے لیکن اس کے حکم میں دیگر عورتیں بھی داخل ہیں۔ (روح البیان الاحزاب، تحت الآية 10/733)

وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى

ترجمہ کنزالایمان: اور بے پردہ نہ رہو جسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔یعنی جس طرح پہلی جاہلیت کی عورتیں بے پردہ دہا کرتی تھیں اس طرح تم بے پردگی کا مظاہرہ نہ کرو۔

یادر ہے کہ پہلی جاہلیت سے مراد اسلام سے قبل کا دور تھا جس زمانے میں عورتیں اتراتی ہوئی نکلتی اور اپنی زینت اور محاسن کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد ان کی طرف متوجہ ہوں اور پچھلی جاہلیت سے مراد آجری زمانہ ہے کہ تب کی عورتیں بھی اسی طرح کریں گی جس طرح معاذاللہ آجکل عام ہے، پھر اس آیت کو بیان کرنے کے بعد اسی آیت میں مومنہ عورت کے کچھ اور صفات کو اس طرح بیان کیا کہ

وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)

ترجمہ کنزالایمان: اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اللہ اور رسول کا حکم مانو اے نبی کے گھر والو! اللہ، تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکےخوب صاف ستھرا کردے۔(پ22، الاحزاب: 33)

اللہ تعالیٰ نے مؤمنہ عورتوں کے صفات میں نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر فرمایا ہے، نیزنماز ایک ایسا عمل ہے جس کا حکم مردوں اور عورتوں دونوں کو ہے۔ یہ نماز ایسا عمل ہے جو انبیاء کرام کی بھی سنت ہے۔ اس کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ کیجئے کہ قیامت میں سب سے پہلے اعمال میں نماز کا سوال ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تقریباً 700 سے زائد مرتبہ نماز کا ذکر فرمایا ہے حتی کہ جب جنتی دوزخیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس عمل نے ڈالا تو وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲)قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔

نماز کے متعلق بہت سی وعیدیں آئی ہیں۔ ہمیں ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور اپنی نماز کی پابندی کریں اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں۔(پ18، النور:31)

اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا اور غیر مردوں کو دیکھنے سے منع فرمایا ہے، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھیں کہ حضرت ابن ام مکتوم حاضر خدمت ہوئے تو حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں پردہ قائم کرنے کا حکم دیا تو میں نے عرض کی: وہ تو نابینا ہیں ہمیں دیکھ نہیں سکتے تو حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کیا تم انہیں نہیں دیکھتیں۔

دوسرا حکم یہ ہواکہ اپنی زینت نہ دکھائیں۔ اس سے مراد جب زینت کا سامان پہن لیں تو اس وقت اپنے آپ کو غیر مردوں سے چھپائیں اور اپنی زینت محض اپنے شوہروں کے لیے رکھیں اور ان کے سامنے سج سنور کر آئیں۔

اس کے علاوہ قرآن نے عورتوں کے بہت سے اوصاف بیان کیے ہیں جن کا احاطہ ہم یہاں نہیں کر سکے۔ ایک مومنہ عورت کے اوصاف کیا ہیں اس کے لئے سورۂ نور کا ترجمۂ کنز الایمان اور تفسیر صراط الجنان کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔

مدنی التجا: قرآن پاک کی ہر سورت و پارہ کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا بہت مفید ہے اور ترجمہ و تفسیر کے لیے ضروری ہے کہ کسی عاشق رسول کا ترجمہ و تفسیر پڑھا جائے۔ ترجمۂ کنزالایمان اور تفسیر صراط الجنان بہت مفید ہے اور بالکل آسان ترجمہ کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اللہ پاک پارہ 22 سورۃُ الاحزاب آیت نمبر 35میں مومنہ عورتوں کی صفات اس طرح بیان فرمائی ہیں:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

یہ وہ صفات تھیں جو رب ذوالجلال نے اپنی لا ریب کتاب میں ذکر فرمائی اور مومنہ عورتوں کی صفات احادیث مبارکہ کے اندر بھی کثیر وارد ہوئیں ہیں ان میں سے چند احادیث یہاں ذکر کی جاتیں ہیں:

حدیث نمبر 1: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے دریافت کیا گیا کون سے بندے اللہ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ارشاد فرمایا اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور بہت ذکر کرنے والی عورتیں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کا درجہ اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ ہوگا ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص مشرکین اور کفار پر اتنی تلوار چلائے کہ ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے تب بھی کثرت سے اللہ پاک کا ذکر کرنے والا اس سے درجے میں زیادہ ہوگا (مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ الفصل الثالث 1/427، حدیث 2280)

مومنہ عورتوں کی یہ وہ صفت ہے جو قرآن وحدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر گئی ہے، اللہ پاک مسلمان مردوں اور عورتوں کو کثرت کے ساتھ اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

حدیث نمبر 2:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مکہ مکرمہ کے راستے میں چل رہے تھے۔ جب آ پ کا گزر جمدان نامی پہاڑکے پاس ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! چلے چلویہ جمدان ہے اور سن لو کہ جو ممتاز لوگ ہیں وہ قربِ خداوندی پالینے میں دوسروں سے آگے بڑھ گئے ہیں تو لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ممتاز لوگ کون ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ مرد جو اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے رہتے ہیں اور وہ عورتیں جو خدا عزوجل کا ذکر کثرت سے کرتی رہتی ہیں۔(مسلم کتاب الذکر والدعاء والتوبہ والاستغفار باب الحث علی ذکر اللہ تعالیٰ ص 1439 الحدیث:2676)

حدیث نمبر 4: مسلم شریف میں ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا: دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہتر متاع نیک عورت ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام،ایمان اورطاعت میں،قول اور فعل کے سچا ہونے میں،صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں، تو ایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

اللہ پاک مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو دینی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

مؤمن عورتوں کی دس صفات:

1۔ الْمُسْلِمٰتِ مسلمان عورتیں۔

2۔ الْمُؤْمِنٰتِ ایمان والی عورتیں۔

3۔ الْقٰنِتٰتِ فرمانبردار عورتیں۔

4۔ الصّٰدِقٰتِ سچی عورتیں

5۔ الصّٰبِرٰتِ صبر کرنے والی عورتیں۔

6۔ الْخٰشِعٰتِ عاجزی کرنے والی عورتیں۔

7۔ الْمُتَصَدِّقٰتِ خیرات کرنے والی عورتیں۔

8۔ الصّٰٓىٕمٰتِ روزہ رکھنے والی عورتیں۔

9۔ فُرُوْجَهُمْ الْحٰفِظٰتِ پارسائی کی حفاظت کرنے والی عورتیں۔

10 ۔ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-۔

اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں۔

شانِ نزول:حضرت اسماء بنت ِعمیس رضی اللہُ عنہا جب اپنے شوہرحضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہُ عنہ کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہُ عنہن سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے بارے میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا:نہیں، تو حضرت اسماء رضی اللہُ عنہا نے حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی: یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! عورتیں توبڑے نقصان میں ہیں۔ارشادفرمایا:کیوں؟عرض کی: ان کا ذکر (قرآن میں)خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی۔

مردوں کے ساتھ عورتوں کے دس مراتب: اس آیت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے جو دس مراتب بیان ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)وہ مرد اور عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔

(2)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا۔

(3)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے عبادات پر مُداوَمَت اختیار کی اور انہیں (ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ)قائم کیا۔

(4)وہ مرد اور عورتیں جو اپنی نیت،قول اور فعل میں سچے ہیں۔

(5)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے طاعتوں کی پابندی کی، ممنوعات سے بچتے رہے اور مَصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہ کیا۔

(6)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کی۔

(7)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دئیے۔

(8)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے فرض روزے رکھے اور نفلی روزے بھی رکھے۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے اَیّامِ بِیض (یعنی قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ)کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

(9)وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے۔

(10)وہ مرد اور عورتیں جو اپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام،ایمان اورطاعت میں،قول اور فعل کے سچا ہونے میں،صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں،توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(تفسیر ابو سعود، الاحزاب، تحت الآیۃ: 35، 4/321، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۹۴۱، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۵۰۰، ملتقطاً)