عبدالسبحان
خان(درجہ ثالثہ جامعۃالمدینہ فیضان ابو عطار ماڈل کالونی کراچی، پاکستان)
اللہ
تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جان یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَام
سے پیدا کیا۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَام کے وجود سے ان کا جوڑا
یعنی حضرت حوا رَضِیَ اللہ عنہا کو پیدا کیا۔انہی دونوں حضرات سے زمین میں نسل
درنسل کثرت سے مرد و عورت کا سلسلہ جاری ہوا۔اور مختلف زمانوں میں اللہ پاک نے
مَردوں اور عورتوں کے احکام نازل فرمائے، آئیے! عورتوں کے بارے میں اللہ پاک نے
قرآن کریم میں جن اوصاف کا ذکر فرمایا ہے ان کو پڑھتے ہیں:
(1)شوہر کے حقوق ادا کرتی ہیں: وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ
اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ
رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجَمۂ
کنزُالایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے
کہ اُن سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بےشک اس میں نشانیاں
ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے۔
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،جس شخص نے اپنی
بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور بیوی آنے سے انکار کر دے تو اللہ تعالیٰ اس وقت
تک اس عورت سے ناراض رہتا ہے جب تک ا س کا شوہر اس سے راضی نہ ہو جائے۔(تفسیر صراط
الجنان، پ21، الروم:21)
(2)نگاہوں کو جھکاتی ہیں:وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّترجَمۂ
کنزُالایمان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔(پ18،
النور:31) آیت کے ا س حصے میں مسلمان عورتوں کوحکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں
کچھ نیچی رکھیں اور غیر مردوں کو نہ دیکھیں۔
یہاں
ایک مسئلہ یاد رہے کہ عورت کا اجنبی مردکی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے، جو مرد کا
مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ
اس کی طرف نظر کرنے سے شہوت پیدا نہیں ہوگی اور اگر اس کا شبہ بھی ہو تو ہر گز نظر
نہ کرے۔(تفسیر صراط الجنان، پ18، النور:31)
(3)اپنی زینت کو نہیں دکھاتی: ولَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّترجَمۂ
کنزُالایمان: اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں۔(پ18، النور:31)دعوت اسلامی کے اشاعتی
ادارے مكتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 480 صفحات پر مشتمل کتاب بیانات عطاریہ حصہ اوّل کے
رسالے قبر کا امتحان صفحہ 30 پر شیخ طریقت، امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد
الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: سرکار مدینہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: (معراج کی رات)میں نے ایک بد بودار گڑھا دیکھا جس میں شور و غوغا بر پا
تھا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو جبرئیل امین (علیہ السّلام)نے عرض کی: یہ وہ
عورتیں ہیں جو نا جائز اشیاء سے زینت حاصل کرتی تھیں۔ (تاریخ بغداد، ج ۱، ص ٤١٥)
(4)گھروں میں ٹھہری رہتی ہے:وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّترجَمۂ
کنزُالایمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔ (پ22،الاحزاب:33)یعنی اے میرے حبیب
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ازاواج! تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور اپنی
رہائش گاہوں میں سکونت پذیر رہو (اور شرعی ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نہ
نکلو۔)یاد رہے کہ اس آیت میں خطاب اگرچہ ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہُ عنہن کو ہے
لیکن اس حکم میں دیگر عورتیں بھی داخل ہیں۔
(5) اَزواجِ مُطَہَّرات اور گھر سے باہر نکلنا:
ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہُ عنہن نے اس حکم پر
کس حد تک عمل کیا،اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو،چنانچہ امام محمد بن سیرین رحمۃُ اللہِ
علیہ فرماتے ہیں: مجھے بتایاگیاکہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زوجہ
مطہرہ حضرت سودہ رضی اللہُ عنہا سے کہاگیا:آ پ کوکیاہوگیاہے کہ آپ نہ حج کرتی
ہیں اورنہ عمرہ کرتی ہیں؟انہوں نے جواب دیا: میں نے حج بھی کیاہے اورعمرہ بھی
کیاہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں گھرمیں رہوں۔ اللہ عزوجل کی قسم!
میں دوبارہ گھرسے نہیں نکلوں گی۔ راوی کا بیان ہے کہ اللہ عزوجل کی قسم!وہ اپنے
دروازے سے باہرنہ آئیں یہاں تک کہ وہاں سے آپ کاجنازہ ہی نکالاگیا۔(تفسیر صراط
الجنان، پ22،الاحزاب:33)
(5)زمین پر آہستہ چلتی ہے:وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّترجَمۂ
کنزُالایمان: اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں۔ یعنی عورتیں چلنے پھرنے میں پاؤں
اس قدر آہستہ رکھیں کہ اُن کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے۔ اسی لئے چاہیے کہ
عورتیں بجنے والے جھانجھن نہ پہنیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی
دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں۔ اس سے سمجھ لیناچاہیے کہ جب
زیور کی آواز دعا قبول نہ ہونے کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بےپردگی
کیسی اللہ تعالیٰ کے غضب کو لازم کرنے والی ہوگی۔ پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی
کا سبب ہے۔(تفسیر صراط الجنان،پ18، النور:31)
محمد
فضیل ساگر(درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان حسن و جمال مصطفیٰ لانڈھی کراچی،
پاکستان)
اللہ
تعالٰی نے قرآن پاک میں بہت سی جگہ مومنہ عورتوں کی صفات بیان فرمائی ہیں، جو
مومنہ عورتوں کو دیگر (غیر مومنہ عورتوں سے ممتاز کرتی ہیں، آئیے ان میں سے کچھ
پڑھتے ہیں:
نگاہ
نیچی رکھنے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی: وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ
فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ
ترجمہ
کنزالایمان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی
پاسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں۔ (پ18، النور:31)اس آیت میں عورت
کو اپنی نگاہ نیچے رکھنے اور غیر مردوں کو نہ دیکھنے کا حکم دیا گیا، حضرت ام سلمہ
رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور حضرت میمومنہ رضی الله عنہا بارگاہ رسالت میں
حاضر تھیں، اسی وقت حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے حضور صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں پردے کا حکم فرمایا تو میں نے عرض کی وہ تو نابینا
ہیں، ہمیں دیکھ نہیں سکتے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ کیا تم
دونوں بھی نابینا ہوں انہیں نہیں دیکھتیں۔
لہٰذا
معلوم ہوا کہ عورت کا غیر مرد کو دیکھنا بھی خطرے سے خالی نہیں لہٰذا عورت کو بھی
غیر مرد کو دیکھنے سے حتی الامکان بچنا ہی چاہئے۔
شوہر کی فرمانبردار ہیں: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ
عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ
لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- ترجمہ کنز الایمان:مرد افسر ہیں عورتوں
پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان
پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی
ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔(پ5،النسآء:34)
آیت
کے اس حصے: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ
اللّٰهُؕ- میں
نیک اور پار سا عورتوں کے اوصاف بیان فرمائے جا رہے ہیں کہ جب ان کے شوہر موجود
ہوں تو ان کی اطاعت کرتی ہیں اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں مصروف رہتی اور شوہر
کی نافرمانی سے بچتی ہیں اور جب موجود نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے مال
اور عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔
گھروں میں ٹھہرنے والیاں: وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ ترجمہ کنز
الایمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔(پ22،الاحزاب:33)اس آیت میں اگر چہ ازواج
مطہرات رضی اللہ عنہن کو خطاب ہے۔ لیکن اس حکم میں دیگر عورتیں بھی داخل ہیں کہ وہ
گھروں میں ٹھہری رہیں۔ اور بلاضرورت اپنے گھروں سے نہ نکلے۔
اللہ
عزوجل ہمارے مسلم معاشرے اور مسلم خاندانوں کی خواتین کو یہ قرآنی صفات اپنانے کی
سعادت نصیب فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم۔
احمد
رضا اشرف(درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار کراچی، پاکستان)
اللہ
پاک نے اپنی مخلوقات میں سے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے سے مشرف فرمایا،اور اسے
خوبصورت و حسین تخلیق و صورت کے ساتھ مزین فرمایا، پھر انسانوں میں بھی مرد و عورت
اور مسلم و کافر کی انواع (قسمیں)رکھیں اور انہیں مختلف صفات(اچھی یا بری)سے متصف
فرمایا اور ان کی راہنمائی کے لئے رہتی دنیا تک قرآن مجید نازل فرمایا ہے، اللہ
پاک نے قرآن کریم میں مسلمان مَردوں کے ساتھ ساتھ مسلمان عورتوں کی مختلف صفات بھی
بیان فرمائی ہیں، آئیے! مؤمنہ عورتوں کی چند صفات پڑھئے:
(1)شوہروں کی اطاعت کرنے والی: اللہ
پاک نے مومنہ اور نیک عورتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ ترجمہ کنز
العرفان:تو نیک عورتیں(شوہروں کی)اطاعت کرنے والی۔(پ5،النسآء:34)اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ نے فرمایا:اس (شوہر)کی اطاعت والدین پر بھی مقدم ہے۔(فتاوی رضویہ ج 15 ص
301)جبکہ جائز امور میں ہو۔
(2)شوہر کی مال و عزت کی حفاظت کرنے والی: اللہ
پاک نے فرمایا: حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- ترجمہ
کنز العرفان: خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔(پ5،النسآء:34)تفسیر صراط الجنان میں ہے: اور جب
(شوہر)موجود نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے مال اور عزت کی حفاظت کرتی
ہیں۔(تفسیر صراط الجنان، پ5،النسآء، تحت الآیۃ:34)
(3)نگاہیں جھکانا: ایک اعلیٰ
کردار کی مسلمان عورت کا اعلیٰ و وسیع وصف یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے
اور حرام و ناجائز چیزوں کو دیکھنے سے بچے، جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ ترجمہ
کنز الایمان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔(پ 18،
النور:31)
(4)شرمگاہ کی حفاظت کرنا: انسان
کا فطری عمل اور بالخصوص عورت کی عفت و پاک دامنی کا ایک بڑا سبب شرمگاہ کی حفاظت
کرنا بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اعضائے زینت چہرہ آنکھ کان گردن کلائی وغیرہ کا نامحرم
مَردوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا البتہ محارم کے سامنے ظاہر کرنے کی اجازت ہے جبکہ
فتنے اور شہوت کا خوف نہ ہو، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی پارسائی
کی حفاظت کریں۔
(5)گھروں میں رہنا: عورت کا معنی
چھپانے کی چیز ہے اور ہر چیز کا اپنے مقام پر ہونا حُسن (یعنی خوبصورتی)ہے، لہٰذا
اسلامی بہنوں کا گھروں میں رہنا، اسی میں ان کا حسن ہے نہ کہ گلیوں، بازاروں اور
راہ چلنے والے لوگوں کے لیے بدنگاہی کا ذریعہ بننا، اسی وجہ سے اللہ پاک نے عورتوں
کو گھروں میں رہنے کا حکم ارشاد فرمایا، جیساکہ قرآن پاک میں ہے: وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ ترجمہ کنز
الایمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔ (پ22، الاحزاب:33)
(6)نماز قائم کرنا: دین اسلام کا
رکن اور بنیادی امر نماز ہے، جس کا قرآن پاک میں بار بار حکم دیا گیاہے، حتی کہ
خصوصیت کے ساتھ اس حکم کا ذکر عورتوں کے لیے بھی کیا گیا اور فرمایا: وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ ترجمہ کنز
الایمان: اور نماز قائم رکھو۔(پ22،الاحزاب:33)
(7)زکوٰۃ ادا کرنا:اسی طرح زکوٰۃ
بھی دین اسلام کا رکن ہے اور ہر صاحب نصاب مسلمان پر اس کی شرائط پائے جانے کی
صورت میں زکوٰۃ فرض ہے مگر عورت کو اس کا بھی خاص طور پر حکم دیا گیا اور فرمایا:وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ ترجمہ کنز
الایمان: اور زکوٰۃ دو۔(پ22،الاحزاب:33)
(8)اللہ اور اس کے رسول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کرنا:کامل مومنہ
عورت کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی مطیع فرمانبردار ہو،اور اپنی خواہشات کے مقابلے میں ان کے فرمان کو
ترجیح دے، فرمایا: وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ
رَسُوْلَهٗؕ- ترجمہ
کنز الایمان: اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔(پ 22، الاحزاب:33)
(نوٹ:
6 تا 8 صفات میں اگرچہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کو حکم فرمایا گیا مگر ان کا
حکم ہر مسلمہ عورت کو عام ہے)
(9)توبہ کرنا: اللہ پاک نے
فرمایا: تٰٓىٕبٰتٍترجَمۂ کنزُالایمان:اور توبہ والیاں۔(پ
28، التحریم:5)اس آیت میں فرمایا کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اگر ازواج
مطہرات سے علیحدگی اختیار کر لیں تو وہ اپنے فضل سے حضور کو بہتر بیویاں عطا
فرمائے گا اور ان کی ایک صفت توبہ کرنا بھی ہوگی۔
(10)روزہ رکھنا:مؤمنہ عورت کی
ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کی اطاعت گزار،شوہر کی فرمانبردار کے علاوہ روزہ رکھنے والی بھی ہو، جیسا کہ اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا:سٰٓىٕحٰتٍترجمہ
کنزالایمان: اور روزہ داریں۔یعنی مومنہ عورتیں روزہ رکھنے والی بھی ہوتی ہیں۔
محمد
اویس منظور عطّاری(جامعۃ المدینہ فیضان عبداللہ شاہ غازی کلفٹن کراچی، پاکستان)
ایمان
انسان کی سب سے بڑی دولت ہے ایمان کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہے اللہ و رسول کی
رضا کا سبب بھی ایمان اور جنت میں داخلے کا سبب بھی ایمان ہی ہے۔ ایمان صاحبِ
ایمان کے لئے بھلائی اور خیر ہی خیر ہے۔ ایمان کو اختیار کرنے والا دونوں جہاں میں
سرخرو اور خاص طور پر آخرت میں سعادتِ ابدیہ حاصل کرنےمیں کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن
مجید میں اللہ پاک نے مومن مردوں کے ساتھ ساتھ مومن عورتوں کی صفات بھی بیان
فرمائی ہیں۔ چنانچہ مومن عورتوں کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اللہ ورسول کا حکم ماننے والیاں: اللہ
اور رسول کا حکم مانے والیوں کو اللہ عزوجل نے قرآن میں ایمان والیاں کہا ہے جس سے
ان کا فضل و کمال ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ وَ مَا
كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا
اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ- ترجَمۂ
کنزُالایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول
کچھ حکم فرمادیں تو اُنہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے۔(پ22، الاحزاب:36)
صبر
کرنے والیاں: الله
عزوجل مومنات کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ ترجَمۂ کنزُالایمان:اور صبر
والے اور صبر والیاں یعنی ایسی عورتیں کہ نفس پر شاق گزرنے کے باوجود بھی اللہ کی
اطاعت پر مداومت اختیار کرتیں ہیں اور اس پر پہنچنے والی تکالیف و مصائب پر گلہ و
شکوہ نہیں بلکہ اس پر صبر کرتی ہیں۔
خیرات کرنے والیاں: اللہ عزوجل ان
کے فضائل و خصائل کو بڑھاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ ترجَمۂ
کنزُالایمان: اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں۔ یعنی اللہ عزوجل نے جو
ان کو وسعت مال دی اس میں سے وہ غریبوں، مسکینوں اور یتیموں وغیرہ پر اور اللہ پاک
کی راہ میں فرض و نفلی صدقات دیتے ہیں۔
اپنی
پارسائی کی حفاظت کرنے والیاں: مومنہ عورتوں کی صفات ایمانیہ میں ایک
اور صفت کا اضافہ کرتے ہوئے الله پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ ترجَمۂ
کنزُالایمان: اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں۔ یعنی ایسے
مرد و عورت کہ جنہوں نے اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کی اور ہر وہ طریقہ جس سے
اللہ پاک نے منع فرمایا اس سے بچیں اور صرف حلال طریقے پر ہی عمل کیا۔
کثرت سے ذکر اللہ کرنے والیاں: کثرت
سے ذکر اللہ کرنا بھی مومن مرد و عورت کی صفات میں سے ہے چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ- ترجَمۂ
کنزُالایمان:اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔ یہ وہ عورتیں ہیں
کہ جو دل و زبان سے اللہ کا ذکر کثرت سے کرتیں ہیں اور بندہ جب کثرت سے ذکر کرنے
والوں میں شامل ہوتا ہے جب وہ کھڑے بیٹھے، لیٹے ہر حال میں الله پاک کا ذکر کرتا
رہے۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ مذکورہ تمام صفات کا ہمیں بھی حامل بنائے اور ہمارا خاتمہ
بالخیر فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم۔
شہابُ
الدّین عطّاری (درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
ایک
مؤمنہ عورت کو کس طرح کی خوبیوں کا مالک ہونا چاہئے! آئیے قراٰنِ مجید فرقانِ حمید
کی روشنی میں جانتے ہیں:
(1)اپنی عزت پارسائی کی
حفاظت کرنے والی: ﴿وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ﴾ ترجمۂ
کنزُالایمان: اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ
دکھائیں۔(پ18،النور: 30)
(2)اللہ و رسول کے حکم کی تعمیل کرنے والی: ﴿وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى
اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ
اَمْرِهِمْؕ-﴾ ترجمۂ کنزُالایمان: اور کسی مسلمان مرد
نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو اُنہیں اپنے
معاملہ کا کچھ اختیار رہے۔(پ22، الاحزاب:36)
(3)اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے والی:﴿لَا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا﴾ ترجمۂ کنزُالایمان: اللہ کا شریک کچھ
نہ ٹھہرائیں گی۔ (پ28، الممتحنۃ: 12)
(4، 5، 6، 7)چوری، بدکاری، اولاد کو قتل نہ
کرنے اور بہتان لگانے سے بچنے والی: ﴿وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ
اَوْلَادَهُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ﴾ ترجمۂ کنزُ
الایمان: اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور
نہ وہ بہتان لائیں گی۔ (پ28، الممتحنۃ: 12)
ان
تمام تر صفات کی جامع عورت ایک عظیم مرتبہ والی ہوتی ہے۔ ان اوصاف سے متصف عورتیں
گھریلوں ناچاقیوں، بے پردگی اور معاشرے میں رائج دیگر بُرائیوں سے نہ صرف خود کو
محفوظ رکھتی ہیں بلکہ اپنی جاننے والیوں کو بھی محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوتیں ہیں۔
ایک عورت نے نسلِ نو کی پرورش کرنی ہوتی ہے ان اوصاف سے متصف عورت اچھی تربیت سے
عالَمِ اسلام کی آبیاری کر سکتی ہے۔ عورت کے لئے ایک بہترین اُسوہ (نمونۂ عمل)
سیدۂ کائنات کی مبارک حیات ہے جس سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ عورت کو
اپنے شوہر، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھنا ہے۔ اللہ پاک
ہماری ماؤں بہنوں کو بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
4جنوری2024
ءجمعرات شعبہ ائمہ مساجد دعوت اسلامی کے
تحت پنجاب کے شہرسرگودھا کی جامع مسجد عزیزیہ
میں ’’احکام مسجد کورس‘‘
کا
سلسلہ ہواجس میں شعبہ ائمہ مساجد کےڈویژن اور ڈسٹرکٹ ذمہ داران
سمیت مسجد انتظامیہ کے افراد اور ذمہ دران دعوت اسلامی نے شرکت کی ۔
رکن
شوری مولاناحاجی محمد عقیل عطاری مدنی نے
مسجد انتظامیہ و امام صاحبان کو مسجد، عمارت مسجد، چندہ،وقف کے بنیادی وضروری احکام
سمجھائے اور شرعی احکامات کی تربیت کرکے نمازیوں کو عمل کروانے کا ذہن دیانیز جن
کاموں کو مسجد میں کرنا شرعاً منع ہے ان سے عوام کو بچانے،حکمت عملی سے سمجھانے کا
طریقہ بتایا ۔
شریعت
کے مطابق مسجد میں عبادات اور معاملات کی بجاآوری کرنے کا ذہن دیا نیز بنیادی فرض
علوم سیکھنے کے لئے دعوت اسلامی سے
وابستہ رہنے اور ہفتہ وار اجتماع میں شرکت
کرنے کی دعوت دی ۔
مزید ہر ماہ 3دن کے مدنی قافلوں میں سفر کرنے کے
ساتھ ساتھ وقت نکال کر 7دن کا فیضانِ نماز کورس کرنے، امامت کورس اور تربیتی کورس کرنے
کی ترغیب بھی دلائی۔(رپورٹ: مولانا عابد عطاری مدنی ،کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری)
مسجد
انتظامیہ اور دعوت اسلامی کے ذمہ داران عاشقانِ رسول کی تربیت کے سلسلے میں 3جنوری2024 ء بدھ کو پنجاب کے شہرکوٹ مومن میں احکام مسجد کورس منعقد کیا
گیا جس میں شعبہ ائمہ مساجد کےڈویژن اور ڈسٹرکٹ ذمہ داران سمیت کوٹ مومن تحصیل کے امام صاحبان اورمسجد انتظامیہ کے افراد اور ذمہ دران دعوت اسلامی نے شرکت کی ۔
رکن
شوری حاجی محمد عقیل عطاری مدنی نے مسجد انتظامیہ و امام صاحبان کو مسجد، عمارت
مسجد، چندہ،وقف کے بنیادی وضروری احکام سمجھائے اور شرعی احکامات کی تربیت کرکے
نمازیوں کو عمل کروانےنیز جن کاموں کو مسجد میں کرنا شرعاً منع ہے ان سے عوام کو
بچانے،حکمت عملی سے سمجھانے کا طریقہ بتایا ۔
علاوہ
ازیں شریعت کے مطابق مسجد میں عبادات اور
معاملات کی بجاآوری کرنے کا ذہن دیا نیز بنیادی فرض علوم سیکھنے کے لئے ہر ماہ 3دن کے مدنی قافلوں میں سفر کرنے کے
ساتھ ساتھ 7دن کا فیضانِ نماز کورس، امامت کورس اور تربیتی کورس کرنے کی ترغیب
دلائی۔(رپورٹ:
مولانا عابد عطاری مدنی ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
سوہاوہ
سٹی کے سرکاری مسجد کچری کے امام و خطیب علامہ جاوید جلالی صاحب سے ملاقات
3
جنوری 2023ء کو صوبائی
ذمہ دار نابینا افراد شعبہ اسپیشل پرسنز ڈیپاٹمنٹ
کے ذمہ دار کامران عطاری نے سوہاوہ سٹی کے سرکاری مسجد کچری کے امام و خطیب
علامہ جاوید جلالی صاحب(جو
کہ نابینا ہیں اور عالم دین اور علاقے کے مشہور نعت خواں اور قاری قرآن بھی ہیں ) سے
ملاقات کی۔
دورانِ بیان نابینا افراد میں نیکی کی دعوت دینے کے سلسلہ میں
تبادلۂ خیال ہوا ۔دعوت اسلامی میں عملی دینی خدمات دینے کے
حوالے سے گفتگو ہوئی جس پر علامہ صاحب نے مسرت کا اظہار کیا اور شعبہ
اسپیشل پرسنز اور نابینا بچوں کے ادارے میں دعوت اسلامی کی بہترین کوشش پر امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا
شکریہ ادا کیا ۔(کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری)
فیضان
مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں مدرسۃ المدینہ شارٹ ٹائم ذمہ داران کا مدنی مشورہ
مدنی مرکز فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں 3 جنوری
2024ء بروز بدھ مدرسۃالمدینہ شارٹ ٹائم کے تحت مدنی مشورے کا انعقاد ہو ا جس میں شعبے
کے صوبائی اورآفس ذمہ داراسلامی
بھائیوں سمیت صوبہ پنجاب کے سرکاری ڈویژن ذمہ داران نے شرکت کی۔
نگران
مجلس مدرسۃ المدینہ شارٹ ٹائم محمد عرفان عطاری نے تعلیمی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے بارہ دینی کام کرنے کا ذہن دیا جبکہ تقرری ، کارکردگی شیڈول اور خود کفالت کے نظام پر بھی مدنی پھول دیئے نیز مدرسۃ المدینہ شارٹ ٹائم کے نظام کو اپ گریڈ
کرنے کے تعلق سے کلام کیا، اسلامی بھائیوں کے مسائل سنے اور ان کے حل پیش کئے۔
مزید دعوتِ اسلامی کے دیگر شعبہ
جات مثلاً ائمہ مساجد، فیضان مدینہ اور تنظیمی نگران اسلامی بھائیوں کے ساتھ
مشاورت کرکے نئے مدارس اوپن کرنے کا پلان ڈسکس کیا۔(رپورٹ: محمد
احسان الحق عطاری ،سینئر آفس اسسٹنٹ ،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
اسلامیہ
یونیورسٹی بہاولپور میں تھلیسیمیا
کے مریض بچوں کے لئے شعبہ تعلیم اور FGRF
دعوتِ اسلامی کے تحت بلڈ کیمپ لگایا گیا جس
میں 28 اسٹوڈنٹس نے بلڈ ڈونیٹ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ (کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری)
02جنوری
2023ء کو شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے اسلامی بھائیوں نے ڈپٹی
کمشنر آفس کورنگی کا دورہ کیا اور وہاں افسران
( ڈپٹی کمشنر کورنگی سید جواد مظفر ، ایڈیشنل ڈپٹی
کمشنر کورنگی زاہد جونیجو ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر 2 عون عباس ، مختیار کار ہیڈ کوارٹر
ممتاز چنا، اسٹاف آفیسر اقبال خان، اکاؤنٹ آفیسر ارباب شاہ، پی ایس ٹو ڈی سی امان
اللہ خان، پی ایس ٹو اے ڈی سی شہباز خان، ڈومیسائل برانچ آفیسر عظیم احمد) سے
ملاقاتیں کیں۔
دوران ملاقات ڈسٹرکٹ ذمہ دارغلام
محبوب عطاری نے شخصیات کو دنیا بھر میں ہونے والے دعوت اسلامی کے دینی سلسلوں کے
متعلق بتایا اور ان کو ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت بھی دی جس پر انہوں
نے دعوت اسلامی کے حوالے سے مثبت تاثرات کاا ظہار کیا اور اجتماع میں شرکت کرنے کی
یقین دہانی کروائی۔( کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
سبی میں
نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما یار محمد بنگلزئی کی والدہ کے انتقال پر دعوت اسلامی
کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان کے صوبائی ذمہ دار محمد وقار عطاری نے ملاقات کی ۔
معلومات کے مطابق صوبائی ذمہ دار محمد وقار عطاری نے مرحومہ کے لئے فاتحہ خوانی و تعزیت کی نیز دعائے مغفرت کی۔اس موقع پر DSP
ریڈ زون، سول سیکریٹریٹ کوئٹہ قاسم خان سیلاچی، بی اینڈ آر ڈیپارٹمنٹ کے آفیسر
قادر بنگلزئی، سینئر صحافی سبی پریس کلب کے فنانس سیکرٹری یار علی گشکوری، قبائلی
رہنما میر غلام محمد مری، میر ظہور احمد بنگلزئی و دیگر شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔(رپورٹ:شعبہ
رابطہ برائے شخصیات بلوچستان، کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری)
Dawateislami