جھوٹی گواہی یہ ہے کہ کوئی اس بات کی گواہی دے جس کا اس کے پاس ثبوت نہ ہو۔ ارشاد ہوتا قرآن پاک میں ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)ترجمہ کنز الایمان: تودور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔ ارشاد فرمایا کہ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہوجن کی پوجا کرنا بدترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ اور یہاں جھوٹی بات سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی دینا ہے۔(صراط الجنان)

خاص جھوٹی گواہی دینے کی کثیر احادیث میں شدید مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے چند احادیث ملاحظہ ہوں۔

جھوٹی گواہی دینا گناہ کبیرہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اﷲ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، باب قولہ تعالیٰ: ومن احیاحا، حدیث 16871)

جھوٹے گواہ کے لئے جہنم واجب ہے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابن ماجہ، الحدیث: 237)

جھوٹے گواہ کے حکم میں کون ہے؟: حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔(سنن الکبری للبیہقی، کتاب الوکالۃ، باب اثم من خاصم او اعان فی خصومۃ بباطل، 6 / 136، الحدیث: 11444)

جھوٹے گواہ نے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے اپنے اوپر جہنم کے عذاب کو واجب کرلیا۔(معجم الکبیر:1154)

جھوٹا گواہ جہنمی ہے:پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جس نے کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دی جس کا وہ اہل نہیں تھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث: 10622،ج3،ص585)

الله پاک ہم سب کو جھوٹی گواہی دینے سے بچائے اور ہمیں سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

انسان کی زندگی میں سچ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے کہ سچ ایک ایسا عمدہ وصف ہے جو آدمی کی شخصیت کو نکھارتا ہے جبکہ جھوٹ ایک مہلک مرض ہے کہ یہ اعتماد کو تباہ و برباد کر دیتا ہے قرآن وحدیث میں جھوٹ کی کئی جگہ مذمت بیان کی گئی ہے ہم یہاں جھوٹی گواہی کی مذمت بیان کریں گے۔

جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے:جس طرح چوری کرنا ایک بڑا گناہ ہے اسی طرح جھوٹی گواہی دینا بھی بڑا گناہ ہے جیسا کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ عزوجل کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بہار شریعت، جلد 2، شہادت(گواہی)کا بیان)(بخاری، کتاب الدیات، باب قول اللہ تعالی: ومن احیاہا، 4/358، الحدیث: 6871)

اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب:جھوٹی گواہی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ اللہ سے ناراضی کا سبب ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم پر حلف اٹھایا تاکہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہو گا۔(صراط الجنان بحوالہ بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب عہد اللہ عزّوجل، 4/290، الحدیث: 6659)

جہنم میں جانے کا سبب ہے:جھوٹی گواہی دنیا میں رسوائی کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی خسارہ کا سبب ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(بہار شریعت، جلد2، شہادت کا بیان)(ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ الزور، 3/123، الحدیث:2373)

جھوٹی گواہی شرک کے برابر ہے:جھوٹی گواہی اتنی بری چیز ہے کہ اس کی نحوست کو شرک کے برابر فرمایا گیا جیساکہ حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صبح کی نماز پڑھ کر کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: جھوٹی گواہی ہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ایک اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور)اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے۔(بہار شریعت، جلد 2، شہادت کا بیان)(ابو داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فی شہادۃ الزور، 3/427، الحدیث: 3599)

جھوٹی گواہی جہنم کا حقدار کر دیتی ہے:آدمی سے جب گواہی طلب کی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ سچی گواہی دے ورنہ جہنم کا حقدار ٹھہرے گا کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مرد مسلم کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے جھنم واجب کرلیا۔ (بہار شریعت، جلد 2، شہادت کا بیان)

جھوٹی گواہی کے بارے میں ان تمام وعیدات اور نقصانات کی معلومات کے بعد ہمیں جھوٹی گواہی دینے سے بچنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق بولنے اور سچی گواہی دینے کی توفیق عطا فرمائے، (آمین)

بد قسمتی سے ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس معاشرے میں گناہوں کا بازار سرگرم ہے،گناہوں میں سے ایک گناہ جھوٹی گواہی دینا بھی ہے اور اس کا رواج بھی بڑھتا چلا جارہا ہے شریعت مطہرہ نے جگہ جگہ اس کی ممانعت بیان فرمائی ہے آئیے اس کی مذمت پر احادیث پاک ملاحظہ کرتے ہیں:

جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الکبائرواکبرھا،الحدیث: ۱۴۴۔(۸۸)، ص ۵۹)

جھوٹی گواہی شرک کے برابر ہے:ابو داؤد و ابن ماجہ نے خریم بن فاتک اور امام احمد و ترمذی نے ایمن بن خریم رضی اللہ عنہما سے روایت کی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز صبح پڑھ کر قیام کیا اور یہ فرمایا کہ جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی۔ (سنن ابو داوٗد،کتاب القضاء،باب في شھادۃ الزور،الحدیث: 3599،ج 3،ص 427)

اللہ پاک جہنم واجب فرمادے گا:ابن ماجہ عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(سنن ابن ماجہ،ابواب الأحکام،باب شھادۃ الزور،الحدیث: 2373،ج 3،ص 123)

گواہی چھپانے والا بھی جھوٹی گواہی دینے والے کی طرح ہے: طبرانی ابوموسیٰ رضی اللہُ عنہ سے راوی کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو گواہی کے لیے بلایا گیا اور اُس نے گواہی چھپائی یعنی ادا کرنے سے گریز کی وہ ویسا ہی ہے جیسا جھوٹی گواہی دینے والا۔ (لمعجم لاوسط،من اسمہ علی،الحدیث: 4167،ج 3،ص 156)

خود پر جہنم واجب کرلینے والا شخص: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے،نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اُس نے (اپنے اوپر)جہنم کو واجب کر لیا۔(معجم الکبیر، عکرمۃ عن ابن عباس، 11/172، الحدیث: 11541)

ان تمام احادیث سے ہمیں جھوٹی گواہی دینے کی وعیدیں معلوم ہوئیں اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں اس بری صفت سے محفوظ رکھے اور ہر حال میں حق و سچ کا ساتھ دینے والا بنائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

دنیاوی معاملات کو معتدل رکھنے،معاشرے کو نظم و نسق کے ساتھ چلانے اور حقدار کو اس کا حق دلانے کے لیے، شریعت مطہرہ نے قانون شہادت (گواہی دینا)کو قائم کیا اور حق اور سچ گواہی دینے کا حکم دیا، نیز مستحق کی حق تلفی سے بچنے اوردیگرفسادات(خرابیوں)سے محفوظ رہنے کے لیے، جھوٹی گواہی دینے کی ممانعت و مذمت بیان فرمائی، اللہ پاک نے فرمایا:وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ترجمہ کنزالایمان:اور بچو جھوٹی بات سے۔

احادیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کی مذمت بیان فرمائی:

(1)جھوٹی گواہی شرک کے برابر: جھوٹی گواہی دینا اتنا سخت گناہ ہےکہ اسے اس گناہ کے برابر قرار دیا گیا جس کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا کہ اسے معاف نہ فرمائے گا یعنی شرک۔ چنانچہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز فجر پڑھی،پھر جب فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہو گئے،پھر تین بار ارشاد فرمایا: جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی،پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)(سنن ابو داؤد،کتاب الاقضیہ، حدیث 3599)

(2)کبیرہ گناہ: گناہ دو طرح کے ہیں،(1)صغیرہ اور(2)کبیرہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کبیرہ گناہوں کی تعداد 700 تک بیان فرمائی(تفسیر صاوی، ج2،ص 382)چنانچہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے گناہ کبیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا،تو آپ نے ارشاد فرمایا: (1)اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (2)والدین کی نافرمانی کرنا(3)کسی جان کو(ناحق)قتل کرنا اور(4)جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، کتاب الشہادات،حدیث 2653)لہٰذا معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی دینا گناہ کبیرہ بھی ہے۔

(3)جہنم واجب: جھوٹی گواہی دینے والا،جھوٹی گواہی دینے کے سبب،حق تلفی اور حقوق العباد جیسے معاملے میں گرفتار ہوتا ہے،وہیں اس سبب سے اخروی اعتبار سے جہنم کا حقدار بھی ٹھہرتا ہے،رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے،اللہ پاک اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الاحکام،2373)

(4)جہنم واجب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جس نے ایسی گواہی دی، جس سے کسی مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اس نے اپنے اوپر جہنم واجب کر لی۔(معجم الکبیر: 11541)

(5)کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑاگناہ: جھوٹی گواہی دینا گناہ کبیرہ میں سے ہے جیسا کہ حدیث نمبر دو میں گزرا لیکن ان کبیرہ گناہوں میں سے بھی سب سے بڑا گناہ ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نےفرمایا:کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ(1)اللہ کے ساتھ شریک کرنا (2)جھوٹی گواہی دینا اور(3)گواہی چھپانا ہے۔(خزائن العرفان،البقرۃ،آیت:283)

قارئین کرام!یہ ایک مذموم فعل ہے،جس سے بچنا ہماری دنیا و آخرت کی سرخروئی اور اللہ پاک کی رضا کا باعث ہے، اور نہ بچنے میں ہماری دنیا و آخرت کی بربادی اور اللہ پاک کی ناراضی ہے۔

اللہ پاک ہمیں ہر گناہ سے بالخصوص جھوٹی گواہی دینے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین


جھوٹی گواہی یہ ہے کہ کوئی اس بات کی گواہی دے جس کا اس کے پاس ثبوت نہ ہو۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰) ترجمہ کنز الایمان: تو دور رہو بتوں کی گندگی سے اور بچو چھوئی بات سے۔(حج: 30)

ارشاد فرمایا کہ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو جن کی پوجا کرنا بد ترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو یہاں جھوٹی بات سے کیا مراد ہے اس کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی دینا ہے (صراط الجنان، 6/643)جھوٹی گواہی دینے کی کثیر احادیث میں بھی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے چند احادیث ملاحظہ ہوں:

جھوٹی گواہی دینا گناہ کبیرہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں:اللہ پاک کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو نا حق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (بخاری، کتاب الدیات، باب قولہ تعالٰی: ومن احیاھا، حدیث: 16871)

جھوٹے گواہ کے لئے جہنم واجب: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابن ماجہ، الحدیث: 2373)

ساتھ چلنے والا جھوٹے گواہ کے حکم میں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمے کی پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی نا خوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔(سنن الکبریٰ للبیہقی: 11444)

اپنے اوپر جہنم واجب کرلیا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے (اپنے اوپر)جہنم (کا عذاب)واجب کرلیا۔ (معجم الکبیر:1154)

جھوٹا گواہ جہنمی ہے: حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دی جس کا وہ اہل نہیں تھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ (مسند امام احمد بن حنبل، ج1،ص 585،الحدیث 10422)

الله پاک ہم سب کو جھوٹی گواہی دینے سے بچائے سچی اور درست گواہی دینے اور سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق سعید عطا فرمائے، اٰمین

ہمارے معاشرے میں جہاں جھوٹ، غیبت، چغلی، وعدہ خلافی اور بہت سی بُرائیاں پھیلی ہوئی ہیں وہیں جھوٹی گواہی دینا بھی عام ہے جو کہ ایک انتہائی بُرا کام اور کبیرہ گناہ ہے۔قراٰن و حدیث میں بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ قراٰنِ پاک میں ہے:﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا(۳۶)﴾ ترجمۂ کنزُالایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(پ15، بنیٓ اسرآءیل: 36) یعنی جس چیز کو دیکھا نہ ہو اُس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سنا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جھوٹی گواہی نہ دو۔(صراط الجنان،5/462)

جھوٹی گواہی کی مذمت احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے آیئے اسی ضمن میں چند فرامینِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھئے:

(1)جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے: اللہ پاک کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہیں۔(دیکھئے:بخاری، 4/358، حدیث: 6871)

(2)جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ پاک اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ، 3/123، حدیث: 2373)

(3)جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مردکا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے، اس نے (اپنے اوپر) جہنم (کا عذاب)واجب کر لیا۔(معجم کبیر،11/172، حدیث: 11541)

(4)میری اُمّت میں بہترین میرا گروہ ہے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں پھر ان کے بعد ایسی قوم ہوگی جو گواہی دے گی حالانکہ گواہ بنائی نہ جائے گی، خیانت کرے گی امانت دار نہ بنائی جائے گی، نذر مانے گی اور نذر پوری نہ کرے گی۔(مشکاۃ، 2/413، حدیث:6010)

حدیث کے جز ”حالانکہ گواہ بنائی نہ جائے گی“ اس فرمان عالی کا آسان اور قوی مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ واردات کے موقعہ پر موجود نہ کیے گئے ہوں گے بلائے نہ گئے ہوں گے مگر قاضی کے ہاں گواہی دیں گے یعنی جھوٹی گواہی جیساکہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ کچہریوں میں لوگ مقدمہ والوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا تمہیں گواہ چاہئیں تو ہم حاضر ہیں اتنے روپیہ دو جو بتاؤ اس کی گواہی دے دیں لہٰذا یہ فرمانِ عالی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ اچھے گواہ وہ ہیں جو بغیر بلائے گواہی دیں وہاں سچی گواہی مراد ہے۔(مراٰۃالمناجیح،8/339)

جھوٹی گواہی بہت سارے گناہوں کا مجموعہ ہے:

(۱)جھوٹی گواہی میں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے جو خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

(۲)کئی دفعہ جھوٹی گواہی میں بہتان اور الزام تراشی بھی ہوتی ہے۔

(۳)بہت سی جگہوں پر جھوٹی گواہی دینے والا رشوت لے کر کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے رہا ہوتا ہے۔

(۴)جھوٹی گواہی کی وجہ سے بعض اوقات مظلوم پر ظلم بھی ہو رہا ہوتا ہے۔

(۵)جھوٹی گواہی کی وجہ سے لڑائی جھگڑوں، ناچاقیوں اور نااتفاقیوں میں بھی مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

پتا چلا کہ جھوٹی گواہی دینا اتنا بُرا فعل ہے کہ اس کی وجہ سے کئی گناہوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں ہلاکت کا سبب ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم تمام ہی گناہوں بالخصوص جھوٹی گواہی دینے سے خود کو بچائیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے گنا ہوں سے دور رہنےاوراپنی فرماں برداری والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ہمارے معاشرے میں جھوٹی گواہی دینا بہت عام ہے آئیے اس کی متعلق چند احادیث مبارکہ پیش خدمت کرتا ہوں:

(1) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (صراط الجنان، جلد 7 ،ص 64۔ بخاری ، کتاب الديات، باب قول اللہ تعالٰی و من احباها، 4/385، حدیث:6871)

(2) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالٰی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔( سنن ابن ماجہ ،جلد 4، ص 109 )

(3) حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے جائے کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں ہے تو وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمے کی پیروی کرے وہ اللہ تعالٰی کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔( سنن الکبری، کتاب الوکالۃ، حدیث:11444)

(4) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے اللہ کی حدود میں سے کسی حدود کو روکنے کی کوشش کی تو گویا اس نے اللہ عزوجل کی مخالفت کی اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا۔ یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے اور جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے۔ (سنن ابوداود، حدیث : 3597)

(5) حضرت ابن عمر نے نبی پاک سے روایت کی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو شخص کسی مقدمہ کی ناحق پیروی کرے گا وہ اللہ کا غیض و غضب لے کر واپس ہو گا۔ (سنن ابوداؤد، حدیث : 3598)

(6) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صبح کی نماز پڑھ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی ہے۔(ابوداود، شہادة الزور، حديث : 3599)

(7) حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے اپنے اوپر جہنم کا عذاب واجب کر لیا۔ (معجم الکبیر عكرمۃ عن ابن عباس ،حدیث : 1531)

(8) رسولُ اللہ فرمایا: میں تم لوگوں کو سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، آپ اس وقت تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ہاں اور جھوٹی گواہی بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اتنی بار دہرایا کہ ہم کہنے لگے کاش ! رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش ہو جاتے ۔ (بخارى، كتاب الديات، باب قول اللہ ،حدیث:2654)

افسوس در افسوس آج کل ہمارے معاشرے میں جھوٹی گواہی دینا تو عام ہو چکا کچھ رقم وصول کر کے جھوٹی گواہی دینا تو بہت آسان لگتا ہے لیکن ہائے عذاب الہی جس کو سہنا بے حد مشکل ہے اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیساکہ آپ نے مذکور فرامین مصطفیٰ میں جھوٹی گو اہی کی وعیدیں ملاحظہ کیں آپ نیت کیجیئے کہ معاشرے میں جہاں جہاں اس برائی کو دیکھیں گے تو کرنے والے کی ضرور اصلاح فرمائیں گے ۔ لیکن ٹھہرئیے ! دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے اپنی اصلاح بھی کیجیئے کیونکہ میرے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا الیاس عطار قادری نے ہمیں یہ مدنی مقصد عطا فرمایا ہے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِن شآءَ اللہ

اللہ پاک ہمیں مرشد کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے اپنی اور لوگوں کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنائے۔ امین 


زندگی میں انسان کا واسطہ مختلف چیزوں سے پڑتا ہے کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہے جن کو پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا ۔ تمام چیزوں کے متعلق ہماری رہنمائی کرنے کے لئے قرآن اور حدیث موجود ہے ۔ وہ چیز انسان کے ظاہر سے متعلق ہو یا باطن سے تعلق رکھتی ہو ۔ ظاہر پر شریعت کا حکم لگتا اور باطن پر شریعت کا حکم نہیں لگتا ظاہری اور باطنی چیزوں کے متعلق قرآن وسنت نے ہماری واضح طور پر رہنمائی فرمائی ہے۔

ظاہری میں سے ایک گواہی بھی ہے گواہی دینا بہت اچھی بات ہے آج کل اکثر لوگ گواہی دینے سے ڈرتے ہیں جو گواہی دینے کی کوشش کرتے ہیں ان میں سے کچھ لالچ میں آکر یا کسی کے دباؤ میں آکر جھوٹی گواہی دے دیتے ہیں۔ اور جو بندہ سچی گواہی دیتا ہے اللہ تعالٰی کی رحمتوں کا حقدار ٹھہرتا ہے جو جھوٹی گواہی دیتا ہے وہ اللہ اور اسکے رسول کی اپنے ناراضگی کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ جھوٹی گواہی کے متعلق چند احادیث ملاحظہ کیجئے:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (صراط الجنان، جلد 7 ،ص 64۔ بخاری ، کتاب الديات، باب قول اللہ تعالٰی و من احباها، 4/385، حدیث:6871)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالٰی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔( سنن ابن ماجہ ،جلد 4، ص 109 )

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے جائے کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں ہے تو وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمے کی پیروی کرے وہ اللہ تعالٰی کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔( سنن الکبری، کتاب الوکالۃ، حدیث:11444)

اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) ترجمۂ کنزالایمان: اورجو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اورجب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔ (پ19، الفرقان:72)

اس کی تفسیر میں مفتی قاسم صاحب فرماتے ہیں: کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بولتے وہ جھوٹ بولنے والوں کی مجلس سے علیحدہ رہتے ہیں ان کے ساتھ میل جول نہیں رکھتے ۔

قرآن و حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو شخص جھوٹی گواہی دیتا ہے وہ اللہ اور اسکے رسول کی ناراضگی کا حقدار بن جاتا ہے۔ صد کروڑ افسوس فی زمانہ جھوٹی گواہی دینا ایک معمولی کام سمجھا جاتا ہے۔ جھوٹی گواہی دینے والا یہ نہیں سمجھتا کہ میری ایک جھوٹی گواہی دینے سے کسی مسلمان کی جان چلی جائے گی ، یا کسی کا مال ہلاک ہو جائے گا یا کسی مسلمان کی عزت خاک میں مل جائے گی۔ آج فی زمانہ ظالم اور مالدار تو عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہیں کیونکہ وہ لالچ دے کر جھوٹے گواہ بنالیتے ہیں جسکی وجہ دوسرا مسلمان ظلم کی چکی میں پستا ہے اور وہ اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے مظلوم بیچارہ اپنے معاشر ے میں رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کاش کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی عزتوں کے محافظ بن جائیں جو شخص سچی گواہی دیتا ہے اگر چہ اسکو ظاہری طور پر کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہوتا مگر اللہ تعالی اسے دنیا میں بھی بلندیاں عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بلندیاں عطا فرماتا ہے۔ 


اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں جہاں مومن مردوں کی صفات ذکر فرمائی ہیں وہی اللہ عزوجل نے مومنہ عورتوں کی بھی صفات ذکر فرمائی ہیں اللہ نے یہ مقام یہ مرتبہ عورتوں کو بھی بخشا کہ ان کا ذکر اپنی پاک کتاب اور سب کتابوں کی سردار کتاب میں ان کا ذکر فرمایا۔فرمان باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 35)

اللہ عزوجل نے اس آیت مبارکہ میں مومنہ عورت کی 10 خصوصیات مردوں کے ساتھ ذکر فرمائی ہیں۔

مومنہ عورت کی تعریف:وَ الْمُؤْمِنٰتِ:وہ عورتیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی تصدیق بھی کرتی ہیں اور تمام ضروریاتِ دین کو مانتی ہیں۔

اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم رکھتی ہیں: وَ الْمُسْلِمٰتِ:مومنہ وہ عورتیں ہیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔

عبادت پر ہمیشگی کرنے والی: وَ الْقٰنتٰتِ:اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے والی عورتیں۔ وہ عورتیں عبادات پر مُداوَمَت(ہمیشگی)اختیار کرتی ہیں اور انہیں (ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ)قائم رکھتی ہیں۔(تفسیر صراط الجنان، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 35)

علامہ حافظ عمادالدین ابن کثیر اپنی کتاب تفسیر ابن کثیر میں تحت ھذا الایۃ فرماتے ہیں: اطاعت ایسی کرتی ہیں جس میں عاجزی شامل ہوتی ہے۔(تفسیر ابن کثیر مترجم، سورۃالاحزاب آیت35، جلد3،صفحہ 811)

سچ بولتی ہیں: وَ الصّٰدِقٰتِ: سچ بولنے والی عورتیں۔

سچائی قابل ستائش خصلت ہے: اور علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد بن محمد نسفی فرماتے ہیں: مومنہ عورتیں اپنے ارادوں اور نیتوں میں اور اپنے اقوال و گفتار میں اور اپنے افعال واعمال اور سیرت و کردار میں سچائی پر قائم رہتی ہیں۔(تفسیر مدارک مترجم، سورۃالاحزاب، آیۃ35،صفحہ108)

صبر کرنے والی ہوتی ہیں: وَ الصّٰبِرٰتِ۔ صبر کرنے والی ہوتی ہیں۔ قاضی ثناءاللہ عثمانی اس کے تحت فرماتے ہیں: مومنہ عورتیں اللہ عزوجل سے ڈرتی ہیں اور ہر تکلیف و مصیبت میں صبر کرنے والی ہوتی ہیں۔(تفسیر مظہری مترجم،سورۃالاحزاب، آیت35، جلد7، صفحہ 488)

مفتی قاسم صاحب فرماتے ہیں: مومنہ عورتیں اپنے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے طاعتوں کی پابندی کرتی ہیں، ممنوعات سے بچتی ہیں اور مَصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہیں کرتیں بلکہ صبر کرتی ہیں۔(تفسیر صراط الجنان، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 35)

عاجزی کرنے والی ہوتی ہیں: وَ الْخٰشِعٰتِ:عاجزی کرنے والی ہوتی ہیں۔ علامہ ابوالبرکات فرماتے ہیں: مومنہ عورتیں ظاہر و باطن اور دل وجان سے اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی اختیار کرنے والی ہوتی ہیں اور ظاہر و باطن ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی ہوتی ہیں۔(تفسیر مدارک مترجم، سورۃالاحزاب، آیت35،صفحہ108)

صدقہ کرتی ہیں: وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ:صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں۔ مومنہ عورتیں صدقہ و خیرات کرتی ہیں خواہ وہ فرض ہو(جیسے زکوٰۃ،قربانی،صدقہ فطر،وغیرہ)یا نفل ہو(جیسے مسجد،مدرسہ،و دیگر فلاحی کاموں پر مال و دولت خرچ کرتی ہیں)۔(تفسیر مدارک مترجم، سورۃالاحزاب، آیت35،صفحہ109)

روزہ رکھتی ہیں: وَ الصّٰٓىٕمٰتِ: روزہ رکھنے والی ہوتی ہیں۔ مومنہ عورتیں فرض روزے(جیسے ماہ رمضان،نذر،اور کفارہ)تو رکھتی ہیں لیکن وہ نفلی روزے(جیسے ہرماہ چاند کی13، 14، 15کاروزہ 9 اور 10محرم کاروزہ اور ہر پیر کاروزہ)بھی رکھتی ہیں۔(تفسیر مدارک مترجم، سورۃالاحزاب، آیت35صفحہ109)

پاکدامن رہتی ہیں: وَ الْحٰفِظٰتِ:شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں۔ مومنہ عورتیں تمام حرام کاموں سے اپنی پارسائی کی حفاظت کرتی ہیں۔(تفسیر مدارک مترجم، سورۃالاحزاب، آیت35،صفحہ109)

اللہ کا ذکر کرتی ہیں: وَّ الذّٰكِرٰتِ:ذکر کرنے والی عورتیں۔ اس کا تعلق پیچھے آیت میں موجود کثیراً سے ہے مطلب کثرت سے اللہ کا ذکر کرتی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے انکے کثرت سے ذکر کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن انکا مقام اللہ کے ہاں سب سے بلند ہوگا۔(تفسیر ابن کثیر، الاحزاب، آیت35، جلد3)

اور اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں۔(سورۃالنسآء،آیت34)

امام فخرالدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں: قٰنِتٰتٌ سے مراد اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ہوتی ہیں اور حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ سے مراد اپنے شوہر کے حقوق پورے کرنے والی ہوتی ہیں۔

اور شیخ واحدہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لفظ قنوت اللہ کی اطاعت اور خاوند کی اطاعت دونوں کو شامل ہے تو واضح ہوگیا نیک عورتیں وہی ہیں جو اللہ کے حکم کی بھی اطاعت کرتی ہیں اور اپنے شوہر کے حکم کی بھی اطاعت کرتی ہیں۔ (تفسیر کبیر مترجم، سورۃ النسآء، آیت34، جلد10، صفحہ 226)

اور پھر ان نیک اور صالحہ عورتوں کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے خوشخبری بیان فرمائی ارشاد فرمایا:اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(سورۃ الاحزاب، آیت 35)

مطلب کہ جو عورتیں ان تمام صفات کی حامل ہوں گی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان صفات اور ان کے ان اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے اور وہ کیا ہے وہ جنت ہے۔

محترم قارئین کرام یہ ہیں مومنہ عورتیں۔ ہم بھی اپنی گھر کی خواتین کو اپنی بچیوں کو اپنی بہنوں کو ان صفات کا حامل بنائیں ہم صرف کوشش کرسکتے ہیں مدد کرنے والی ذات اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہے اور کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکی کہ کام میں ضرور مدد فرماتا ہے۔ ارشاد فرمایا:الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک الله نیکوں کے ساتھ ہے۔(سورۃ العنکبوت، آیت69)

اللہ فرماتا ہے کوشش تو کرو ہم ضرور اسے راستہ دکھائیں گے ہدایت طلب تو کرو ضرور ہدایت ملے گی جب تک پیاس نہ لگے پانی بھی کوئی نہیں دیتا بھوک نہ ہو تو کھانا بھی کوئی نہیں دیتا پیاس بھوک ہوتی ہے تو ہی پانی ملتا ہے کھانا ملتا ہے اسی طرح جب تک ہم میں ہدایت کی تڑپ نہیں ہوگی ہمیں کیسے ہدایت ملے گی اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا پسندیدہ بندہ بنالے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

قرآن پاک اللہ عزوجل کی بے مثال اور روشن کتاب ہے جس میں واقعات احکام کو ذکر کرنے کے ساتھ عورتوں کے اوصاف کو بھی بیان فرمایا ہے ان اوصاف میں سے چند اوصاف ملاحظہ فرمائیں:

(1)فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- ترجمہ کنز الایمان: نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہے جس طرح اللہ نے حکم دیا۔ (پاره 5، سورة النسآء، آیت نمبر 34)

نیک اور پارسا عورتوں کا وصف بیان کیا جارہا ہے کہ جب ان کے شوہر موجود ہوں تو ان کی اطاعت کرتی ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی میں مصروف رہتی اور شوہر کی نافرمانی سے بچتی ہیں اورموجود نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے مال اور عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔

(2)وَ الْمُسْلِمٰتِ ترجمہ کنزالایمان: مسلمان عورتیں۔ وہ عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئیں اور انہوں نے اللہ کے احکام کی اطاعت کی اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔

(3)وَ الْمُؤْمِنٰتِ ترجمہ کنز الایمان: ایمان والیاں۔ وہ عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریات دین کو مانا۔

(4)وَ الْقٰنِتٰتِ: ترجمہ کنزالایمان: اور فرماں برداریں۔ وہ عورتیں جنہوں نے عبادات پر مداومت اختیار کی اور انہیں رات کی حدود اور شرائط کے ساتھ قائم کیا۔

(5)وَ الصّٰدِقٰتِ: ترجمہ کنزالایمان: خیرات کرنے والیاں۔ وہ عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض اور نقلی صدقات دیئے۔

(6)وَ الصّٰبِرٰتِ: ترجمہ کنز الایمان: صبر والیاں۔ وہ عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے طاعتوں کی پابندی کی ممنوعات سے بچتی ہیں۔ اور مصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔

(7)وَ الْخٰشِعٰتِ: ترجمہ کنز الایمان: عاجزی کرنے والیاں۔ وہ عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و انکساری کی۔

(8)وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ: ترجمہ کنز الایمان: سچیاں۔ وہ عورتیں جو اپنی نیت، قول اور فعل میں سچی ہیں۔

(9)وَ الصّٰٓىٕمٰتِ: ترجمہ کنزالایمان: روزے والیاں۔ وہ عورتیں جنہوں نے فرض اور نفلی روزے رکھے۔

(10)وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ: ترجمہ کنزالایمان: اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والیاں۔ وہ عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچیں۔ (تفسیر صراط الجنان، پارہ22، سورۃ الاحزاب، آیت 35)


اللہ پاک نے اپنی بے مثل کتاب قرآن مجید میں واقعات اور احکام کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ مؤمنہ عورت کی صفات اور مراتب بھی ذکر فرمائے ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں عورتوں کی صفات کو ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمہ کنزالایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرماں برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔اللہ پاک نے مومنہ عورتوں کی دس صفات ذکر کی ہیں اور ان کیساتھ انکی مدح فرمائی ہے۔(سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 35)

(1)وَ الْمُسْلِمٰتِ یعنی اسلام لانےوالی عورتیں: ان مراتب میں سے پہلی صفت اسلام ہے جو اللہ اور اس کے پیارے حبیب علیہ السلام کی فرمانبرداری ہے۔

(2)وَ الْمُؤْمِنٰتِ یعنی ایمان لانےوالی عورتیں: دوسری صفت ایمان ہے کہ وہ اعتقاد صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے یعنی ان کا ظاہر و باطن کفر سے پاک ہے۔

(3)وَ الْقٰنِتٰتِ یعنی اطاعت کرنےوالی عورتیں: تیسری صفت قنوت ہے یعنی وہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتی ہیں۔

(4)وَ الصّٰدِقٰتِ یعنی سچ بولنےوالی عورتیں: چوتھی صفت صدق نیات اور صدق اقوال و افعال ہیں یعنی ان کی نیتیں اور ان کے اقوال و افعال کا سچا ہونا ہے۔

(5)وَ الصّٰبِرٰت ِیعنی صبرکرنےوالی عورتیں: پانچویں صفت صبر ہے یعنی طاعتوں کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز کرنا ہے۔

(6)وَ الْخٰشِعٰتِ یعنی خشوع وخضوع اختیارکرنےوالی عورتیں: چھٹی صفت خشوع یعنی طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب و جوارح کیساتھ متواضع ہونا ہے۔

(7)وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ یعنی صدقہ کرنے والی عورتیں:ساتویں صفت صدقہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے مال سے اس کی راہ میں بطریق فرض ونفل دینا ہے۔

(8)وَ الصّٰٓىٕمٰتِ یعنی روزہ رکھنےوالی عورتیں: آٹھویں صفت صوم یعنی روزہ ہے یہ بھی فرض و نفل دونوں کو شامل ہے۔

(9)وَ الْحٰفِظٰتِ یعنی پارسائی کو محفوظ رکھنے والی عورتیں: نویں صفت عفت ہے یعنی وہ اپنی پارسائى کو محفوظ رکھتى ہیں اور جو حلال نہیں اس سے بچتی ہیں۔

(10)وَّ الذّٰكِرٰتِ یعنی کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں: دسویں صفت کثرت ذکر ہے یعنی اس میں تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر، قرأت قرآن، علم دین کا پڑھنا اور پڑھانا نماز وعظ و نصیحت میلاد شریف سب شامل ہیں۔

اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں کثیر مقامات پر مومنہ عورتوں کی صفات کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمانے باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(سورۃ الاحزاب، آیت نمبر: 35)

مردوں کے ساتھ عورتوں کے دس مراتب:

اس آیت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے جو دس مراتب بیان ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)…وہ مرد اور عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔

(2)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا۔

(3)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے عبادات پر مُداوَمَت اختیار کی اور انہیں (ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ)قائم کیا۔

(4)…وہ مرد اور عورتیں جو اپنی نیت،قول اور فعل میں سچے ہیں۔

(5)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے طاعتوں کی پابندی کی، ممنوعات سے بچتے رہے اور مَصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہ کیا۔

(6)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کی۔

(7)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دئیے۔

(8)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے فرض روزے رکھے اور نفلی روزے بھی رکھے۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے اَیّامِ بِیض (یعنی قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ)کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

(9)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے۔

(10)…وہ مرد اور عورتیں جو اپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔

خلاصہ کلام:خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام،ایمان اورطاعت میں،قول اور فعل کے سچا ہونے میں،صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں،توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(ابو سعود، الاحزاب، تحت الآیۃ: 35، 4/321، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: 35، ص941، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: 35، 3/500 ملتقطاً)

اور سورۃ النسآء، آیت نمبر 34 میں فرمانے باری تعالیٰ ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ-وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا(۳۴)

ترجَمۂ کنزُالایمان:مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔

فَالصّٰلِحٰتُ:نیک عورتیں۔ نیک اور پارسا عورتوں کے اوصاف بیان فرمائے جا رہے ہیں کہ جب ان کے شوہر موجود ہوں تو ان کی اطاعت کرتی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں مصروف رہتی اور شوہر کی نافرمانی سے بچتی ہیں اور جب موجود نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے مال اور عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔

نیک بیوی کے اوصاف اور فضائل:

کثیر احادیث میں نیک اور پارسا بیویوں کے اوصاف اور ان کے فضائل بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے 2 احادیث درج ذیل ہیں:

(1)حضرت ابو امامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِا قدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تقویٰ کے بعد مومن کے لئے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ اگروہ اُسے حکم دے تو وہ اطاعت کرے اوراگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اور کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے۔(ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب افضل النساء، 2/414، الحدیث: 1857)

(2)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جسے چار چیزیں ملیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی ملی: (1)شکر گزار دل (2)یادِ خدا کرنے والی زبان (3)مصیبت پر صبر کرنے والا بدن (4)ایسی بیوی کہ اپنے نفس اور شوہر کے مال میں گناہ کی مُتلاشی (یعنی اس میں خیانت کرنے والی)نہ ہو۔ (معجم الکبیر، طلق بن حبیب عن ابن عباس، 11/109، الحدیث:11275)

سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 71 میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

اسی طرح سورۃ الحدید، آیت نمبر 18 میں رب کائنات ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ(۱۸)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کے دُونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے۔

دعا ہے رب تعالیٰ سے وہ مالک ہماری ماؤں بہنوں کو ان صفات کا جامع بنائے۔آمین ثم آمین