مرزا عزیر بیگ (درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ
فیضان حسن جمال مصطفیٰ کراچی، پاکستان)
اللہ
تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا
یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۰۵)ترجمہ کنز الایمان: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو
اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں۔ (پ14، النحل: 105)
لہٰذا
ثابت ہوا کہ جھوٹ بولنا اور بہتان باندھنا بےایمانوں ہی کا کام ہے۔ اور یہ بھی
معلوم ہوا کہ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بد ترین گناہ ہے لیکن آج ہمارے معاشرے میں
جھوٹ اس قدر عام ہوچکا ہے کہ لوگ دنیاوی خواہشات اور اس فانی دنیا کی محبت میں
گواہی میں بھی جھوٹ بولنے لگ گئے اور جھوٹی گواہی دینے لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا
بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲)ترجمہ کنز الایمان: اور جو جھوٹی گواہی
نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔(پ19،
الفرقان: 72)
یعنی
کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بولتے اور وہ جھوٹ بولنے والوں کی مجلس
سے علیحدہ رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ میل جول نہیں رکھتے۔ (مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ:
72) اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی جھوٹی گواہی کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ چند
احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں:
(1)حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ
اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الاحكام، باب شهادة الزور، 3/123، حدیث:2373)
(2)حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: الله کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی
کو ناحق قتل کرتا اورجھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، کتاب الديات، باب قول الله تعالى:
ومن احياها، 4/358، حدیث: 6871)
(3)حضرت
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے
یا کسی کا خون بہایا جائے تو اس نے جہنم کو واجب کر لیا۔ (معجم كبير، عكرمۃ عن ابن
عباس، 11/172، حدیث:11541)
محمد اسد جاوید عطّاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ
المدی فیضانِ مدینہ نہ جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)
جھوٹی
گواہی دینا نہایت ہی مذموم عمل ہے، قرآن و حدیث میں اس کی شدید ترین مذمت بیان کی
گئی ہے، جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے، جھوٹی گواہی دینے والا الزام،
بہتان، جھوٹ اس کے علاوہ طرح طرح کے گناہوں میں ملوث ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ
جھوٹی گواہی بہت بڑا سماجی اور اخلاقی جُرم ہے اور ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو
سماج اور عدالتی نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔ قرآن پاک میں الله تبارک وتعالیٰ اپنے
بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ
-ترجمہ کنزالایمان: اور جو جھوٹی گواہی
نہیں دیتے۔ (پ19، الفرقان:62)
یعنی
کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بولتے۔(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ:72، ص811)کثیر
احادیث میں جھوٹی گواہی کی مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے چند یہ ہیں:
جھوٹے
گواہ کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اس پر اسی وقت جہنم کو واجب فرما
دیتا ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:(1)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہماسے روایت
ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم
ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابن ماجہ،
باب شہادۃ الزور، 3/123، الحدیث: 2373)
جھوٹے
گواہ کو اس کے کہنے کے مطابق عذاب دیا جائے گا جس کے خلاف اس نے گواہی دی
تھی،(2)حضرت معاذ بن انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،رسول کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام
عائد کرے تو اللہ تعالیٰ جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے
مطابق عذاب پا لے۔(ابوداؤد، 4/354،
حدیث: 4883)
جھوٹے
گواہ کو جہنم کے ایک مقام ردغۃ الخبال(ایسا مقام جس میں جہنمیوں کا خون اور پیپ
جمع ہوتا ہے)عذاب دیا جائے گا،(3)حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود
بھی جانتا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے (جہنم کے ایک مقام)رَدْغَۃُ الْخَبَالْ میں اس
وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پالے۔(کتاب الجامع فی آخر
المصنّف، 10/353، حدیث:21069)
حدیث
پاک میں جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے،(4)حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے
روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ
ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل
کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، کتاب الدیات، 4/358،
حدیث:6871)
جھوٹا
گواہ خود ہی اپنے اوپر جہنم کا عذاب واجب کر لیتا ہے،(5)حضرت عبداللہ بن عباس رضی
اللہُ عنہما سے روایت ہے، حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مردکا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا
خون بہایا جائے، اس نے (اپنے اوپر)جہنم (کا عذاب)واجب کر لیا۔(معجم کبیر، 11/172، حدیث: 11541)
جھوٹی
گواہی دینے والا تو جھوٹا گواہ ہے لیکن جو اپنا گواہ ہونا ظاہر کرے حالانکہ وہ
گواہ نہیں تو یہ شخص بھی جھوٹا گواہ ہے، (6)حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت
ہے، سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں
کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی
جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ
اللہ تعالیٰ کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔(سنن کبریٰ للبیہقی،
کتاب الوکالۃ، 6/136، حدیث:11444)
حدیث
پاک میں جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر کہا گیا ہے، (7)حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی
اللہُ عنہ فرماتے ہیں، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صبح کی نماز پڑھ
کر کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی
گئی۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: فَاجْتَنِبُوا
الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ
لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ
- ترجمۂ کنزُالایمان: تو دور ہو بتوں کی
گندگی سے اوربچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی(شریک)کسی کو نہ
کرو۔(ابو داؤد، 3/427، حدیث:3599)
وارث علی عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور، پاکستان)
دین
اسلام میں ایک انسان کی عزت و حرمت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اگر وہ انسان مسلمان
بھی ہو تو یہ عزت و قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے دین اسلام میں ان تمام افعال
سے بچنے کا درس ملتا ہے جس کی وجہ سے انسان کی عزت و قدر کم ہو اور انہیں میں سے
ایک فعل جھوٹی گواہی رینا ہے۔
ارشاد
باری تعالیٰ ہے:وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ
- ترجمہ کنزالایمان:اور جو جھوٹی گواہی
نہیں دیتے۔
یعنی کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں
بولتے اور وہ جھوٹ بولنے والوں کی مجلس سے علیحدہ رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ میل جول
نہیں رکھتے۔(مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: 76، ص811)اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی
نہ دینا اور جھوٹ بولنے والوں سے تعلق نہ رکھنا کامل ایمان والوں کا وصف ہے۔ یاد
رہے کہ جھوٹی گواہی دینا انتہائی مذموم عادت ہے اور کثیر احادیث میں اس کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے جن میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں:
(1)حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا، کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ عزوجل کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی
کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، باب قبول الله تعالیٰ
ومن احیاها، 4/358، حدیث:9871)
(2)حضرت
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال بلاک ہو
جائے یا کسی کا خون بہایا جائے، اس نے اپنے اوپر جہنم کا عذاب واجب کر لیا۔(معجم
کبیر، 11/172، حدیث:11541)
(3)حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکار دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوا چلا کہ یہ بھی گواہ ہے
حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے۔ اور جو بغیر جانے ہوئے کسی
کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی نا خوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو
جائے۔(سنن کبری للبیہقی، کتاب الوكالۃ، باب اثم من خاصم او اعان فی خصومۃ
باطل،6/369، حديث:11444)
(4)حضرت
عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے
لئے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شهادة الزور، 3/123، حدیث:
2373)
ظہیر عطّاری(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
دین
اسلام میں ایک انسان کی عزت و حرمت کی بہت اہمیت ہے اور اگر وہ انسان مسلمان بھی
ہو تو اس کی عزت و حرمت اور بڑھ جاتی ہے اسی وجہ سے دین اسلام ان تمام افعال سے
بچنے کا درس دیتا ہے جس کی وجہ سے کسی انسان کی عزت و حرمت کم ہو انہی افعال میں
سے ایک فعل جھوٹی گواہی دینا بھی ہے۔آئیے آپ بھی جھوٹی گواہی کے بارے میں 5 احادیث
مبارکہ ملاحظہ فرمائیے!
(1)اللہ تعالیٰ کا جہنم واجب کرنا:حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے
لیے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ،کتاب الاحکام،باب شھادتہ الزور، 3/123، حدیث:
6383)
(2)اپنے اوپر جہنم واجب کر لینا: حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو
جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اس نے (اپنے اوپر)جہنم کو واجب کر لیا۔ (معجم
کبیر،عکرمتہ عن ابن عباس، 11/172،حدیث،11541)
(3)سب سے بڑا گناہ: حضور نبی
کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد
فرمایا:اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور کسی جان کو
قتل کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ
بتاؤں؟ اور وہ جھوٹ بولنا ہے یا فرمایا: جھوٹی گواہی دینا ہے۔(صحیح بخاری،کتاب
الادب،باب عقوق الوالدین من الکبائر، ص506، الحدیث: 5977)
(4)جھوٹی گواہی دینا شرک کے برابر: حضرت
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز فجر ادا فرمائی،جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر
3 مرتبہ ارشاد فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دی
گئی ہے۔ پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ترجمہ کنزالایمان: تو دور رہو بتوں کی
گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے،ایک اللہ کا ہو کر اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو۔(سنن
ابی داؤد،کتاب القضاء،باب فی شھادتہ الزور، ص 1490، الحدیث: 3599)
غلام مصطفیٰ(درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان
حسن و جمال مصطفیٰ کراچی، پاکستان)
تمام
تعریفیں اس پاک پروردگار کے لیے ہیں جس نے کلمہ کن سے ہر شیء کو پیدا فرمایا اور
ہر دور میں اپنے انبیاء کرام کو بھیج کر انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کیلئے
انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی کو ان کے لیے نمونہ بنایا اور سب سے آخر میں
اپنے حبیب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بطور آخری نبی مبعوث فرما کر
اُن پر قرآن مجید کو نازل کیا جس کی تشریح کرتے ہوئےنبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی احادیث کے ذریعے ہر جائز اور ناجائز امور کے درمیان فرق
کردیا چنانچہ انہیں میں سے ایک امر کسی معاملے پر گواہی دینا ہے۔
قرآن
مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو عدل و انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کا
حکم ارشاد فرماتے ہوئے گواہی کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ
بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ
وَ الْاَقْرَبِیْنَۚ-اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا- فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى
اَنْ تَعْدِلُوْاۚ-وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۳۵)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو
انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لیے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو
یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو بہرحال اللہ
کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑواور اگر
تم ہیر پھیر کرو یا منہ پھیرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (النسآء:135)
اسی
طرح نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی گواہوں کے اوصاف بیان فرمائے
ہیں:جیساکہ حضرت زید بن خالد سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں وہ گواہ ہے جو
طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے۔ (مراٰۃ المناجیح، حدیث: 3766)
ایک
اور حدیث میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بڑے سے بڑا گناہ
اﷲ کا شریک ٹھہرانا ہے اور ماں باپ کی نافرمانی اورگزشتہ پر جھوٹی قسم اور نہیں
قسم کھاتا کوئی روکنے والی قسم، پھر اس میں مچھر کے پر برابر ملاوٹ کرے مگر وہ
تاقیامت اس کے دل میں داغ بنادی جاتی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، حدیث: 3677)
بیہقی
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: اگر لوگوں کو محض اُن کے دعوے پر چیز دلائی جائے تو بہت سے لوگ خون اور مال
کے دعوے کر ڈالیں گے و لیکن مدعی کے ذمہ بینہ (گواہ)ہے اور منکر پر قسم۔(سنن کبری
للبیہقی، ج10،ص427،
الحدیث:21201)
صحیح
بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں، اللہ(عزوجل)کے ساتھ شریک کرنا،
ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(صحیح
مسلم،ص59، حدیث:144)
ابو
داؤدو ابن ماجہ نے خریم بن فاتک اور امام احمد و ترمذی نے ایمن بن خریم رضی اللہ
عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز صبح پڑھ کر
قیام کیا اور یہ فرمایا کہ جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی۔ (سنن ابو
داوٗد، حدیث:3599)
ابن
ماجہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا کہ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس
کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ، حدیث:2373)
طبرانی
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مرد مسلم کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا
خون بہایا جائے اُس نے جہنم واجب کر لیا۔(المعجم الکبیر، ج11،حدیث:
11541)
لہٰذا
ہمیں بھی چاہیے کہ جب کبھی ہماری گواہی کی ضرورت پیش آئے تو ہم ان احادیث کو پیش
نظر رکھتے ہوئے جھوٹی گواہی سے اجتناب کریں اور سچی گواہی دے کر اللہ اور اس کے
رسول کی خوشنودی اور رضا کو حاصل کریں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہمیشہ سچ بولنے
کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد مبین علی (درجۂ ثانیہ جامعۃُ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور، پاکستان)
آج
کل لوگ بہت سے گناہ کرتے ہیں مگر اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ ان میں سے ایک بڑا گناہ
جھوٹی گواہی دینا بھی ہے۔ آج کل بہت سے لوگ جھوٹی گواہیوں کا سہارا لے کر مسلمانوں
کی حق تلفیاں کرتے ہیں آئیے جھوٹی گواہی کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ ہے کیا؟
جھوٹی گواہی کی تعریف: جھوٹی گواہی
یہ ہے کہ کوئی اس بات کی گواہی دے جس کا اس کے پاس ثبوت نہ ہو۔
حکم: جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ
اور نا جائز و حرام ہے۔
حدیث:
پیارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے کسی
مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دی جس کا وہ اہل نہیں تھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں
بنا لے۔(مسند امام احمدبن حنبل، ص 585،حدیث: 10622)
حدیث:شہنشاہ
مدینہ قرار قلب و سینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے:
(بروز قیامت)جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے حتی کہ اس کے
لئے جہنم واجب ہو جائے گی۔(ابن ماجہ، ص2619، الحدیث:2373)
حدیث:
حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: کبیره گناہ یہ
ہیں: (1)اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا (2)والدین کی نا فرمانی کرنا (3)کسی جان
کو قتل کرنا اور (4)جھوٹی قسم کھانا۔ (صحیح البخاری، ص558، الحدیث:6675)
حدیث:
حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے
فرمایا: اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور کسی جان کو
قتل کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ
بتاؤں؟ اور وہ جھوٹ بولنا ہے یا فر مایا: جھوٹی گواہی دینا ہے۔(صحیح بخاری، ص 506،
حدیث:6675)
حنین رضا (درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ حسن و جمالِ
مصطفیٰ کراچی، پاکستان)
فی
زمانہ لوگوں کی حالت اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ ان کے نزدیک جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی
گواہی دینا، جھوٹے مقدمات میں پھنسوا کر اپنے مسلمان بھائی کی عزت تار تار کر
دینا، لوہے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے لاچارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینا،
اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال ہڑپ کر جانا گویا کہ یہ جرائم کی فہرست میں داخل ہی
نہیں۔ اس دنیا کی فانی زندگی کو حرفِ آخر سمجھ بیٹھنا عقلمندی نہیں نادانی اور
بیوقوفی کی انتہا ہے، انہیں چاہئے کہ اِن احادیث کو بغور پڑھ کر عبرت حاصل کریں۔
یاد
رہے کہ جھوٹی گواہی دینا انتہائی مذموم عادت ہے اور کثیر اَحادیث میں اس کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے،اور ہمارا مضمون بھی جھوٹی گواہی کی مذمت سے جڑا ہوا ہے لہٰذا
اس سے متعلق آپ کی خدمت میں 5 احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں:
(1)حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے ایک حدیث مروی ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے
بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور گواہی کو چھپانا
ہے۔(شعب الایمان، الثامن من شعب الایمان، 1/271،
الحدیث:291)
(2)حضرت
انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی
کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، کتاب الدیات، باب قول
اللہ تعالی: ومن احیاہا، 4/358،
الحدیث: 6871)
(3)حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ
اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ الزور، 3/123، الحدیث:2373)
(4)حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے،حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مردکا مال ہلاک ہو
جائے یا کسی کا خون بہایا جائے، اس نے (اپنے اوپر)جہنم (کا عذاب)واجب کر لیا۔
(معجم الکبیر، عکرمۃ عن ابن عباس، 11/172،
الحدیث:11541)
(5)حضرت
ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی
گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے
ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا
نہ ہو جائے۔(سنن کبریٰ للبیہقی، کتاب الوکالۃ، باب اثم من خاصم او اعان فی خصومۃ
بباطل، 6/136، الحدیث: 11444)
اس
سے معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی نہ ہی دینا چاہیے اور نہ ہی جھوٹ بولنے سے تعلق رکھنا
چاہیے کیونکہ جھوٹ کہنا اور جھوٹی گواہی دینا یہ کبیرہ گناہ ہے اور ایسا نہ کرنا
کامل ایمان والوں کا وصف ہے۔
محمد فہیم عطاری (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ
فیضان حسن و جمال مصطفی کراچی، پاکستان)
آج
کل ہمارے معاشرے میں جھوٹ بہت عام ہو چکا ہے، لوگ جھوٹ اس طرح بول رہے ہوتے ہے کہ
اللہ پاک کی پناہ! بات بات پر جھوٹ بول دیا جاتا ہے، اسی طرح بعض لوگ دنیاوی فائدے
حاصل کرنے یا کسی کو بدنام کرنے اور اپنے کسی دوست یا عزیز کو بچانے کے لیے جھوٹی
گواہی بھی دے دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جھوٹی گواہی کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے،
جھوٹی گواہی دینا کامل ایمان والوں کا طریقہ نہیں ہے۔
اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ لَا
یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-ترجَمۂ کنزُالایمان: اورجو جھوٹی گواہی
نہیں دیتے۔ یعنی کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بولتے اور وہ جھوٹ
بولنے والوں کی مجلس سے علیحدہ رہتے ہیں اُن کے ساتھ میل جول نہیں رکھتے۔(تفسیر
صراط الجنان، الفرقان: 72)
ایک
اور مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے: وَ اجْتَنِبُوْا
قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)ترجمہ کنزالعرفان: اور جھوٹی بات سے بچو۔ تفسیر
صراط الجنان میں ہے: یہاں جھوٹی بات سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے
کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی دینا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، الحج: 30)
جھوٹی گواہی کی مذمت پر 5 فرامین مصطفٰے صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھئے:
(1)حضرت
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے نماز فجر پڑھی، پھر فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا
کہ جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر کر دی گئی ہے۔ پھر یہ آیت
تلاوت فرمائی: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ
اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ
ترجَمۂ کنزُالایمان: تو دور ہو بتوں کی گندگی سے
اوربچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی(شریک)کسی کو نہ کرو۔(ابو
داؤد، 3/428)
(2)حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو
جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اُس نے جہنم واجب کر لیا۔ (معجم کبیر، 11/172)
(3)حضرت
انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ پاک کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی
کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، 4/358)
(4)حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ پاک اس
کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ، 3/123)
(5)حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں
وہ خود بھی جانتا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے رَدْغَۃُ الْخَبَالْ میں اس وقت تک
رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پالے۔(کتاب الجامع فی آخر المصنّف،
10/353)
بلال منظور (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ
وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا(۳۶)ترجمہ
کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بےشک
کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
تفسیر:
اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں یعنی جس چیز کو دیکھا نہ ھو اس کے
بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سنا نہ ھو اس کے بارے میں یہ
نہ کہو کہ میں نے سنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جھوٹی گواہی نہ
دو۔
جھوٹی گواہی کی تعریف:جھوٹی گواہی
یہ ہے کہ کوئی اس بات کی گواہی دے جس کا اس کے پاس ثبوت نہ ہو۔ جھوٹی گواہی دینے،
جھوٹے الزامات لگانے اور اس طرح کے دیگر جھوٹے اقوال کی احادیث میں ممانعت کی گئی
ہے۔
(1)جہنم واجب کر دے گا: حضرت عبد
الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے
لیے جہنم واجب کردے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادة الزور،3/123، الحدیث: 2373)
(2)گناہ کبیرہ:حضور نبی کریم
رءوف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبیرہ گنا ہوں کا ذکر کرتے ہوئے
فرمایا: اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور کسی جان کو
قتل کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں
نہ بتاؤں؟ اور وہ جھوٹ بولنا ہے۔ یا فرمایا: جھوٹی گواہی دینا ہے۔(صحيح البخاری،
کتاب الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر، الحدیث: 5977، ص506)
(3)اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے:پیارے
آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے
کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دی جس کا وہ اہل نہیں تھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم
میں بنالے۔ (مسند امام احمد بن حنبل، مسند ابى ہريرة، الحديث:10622، ج3، ص585)
(4)وادیِ غی میں ڈالے جانا:حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: غی جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی
سے جہنم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو زنا کے عادی اور
اس پر مصر ہوں، جو شراب کے عادی ہوں۔ جو سود خور اور سود کے عادی ہوں جو والدین کی
نافرمانی کرنے والے ہوں اور جھوٹی گواہی دینے والے ہوں۔(بغوی، مریم، تحت الآیۃ:
168، 3/59)
(5)جہنم کا عذاب واجب کر لیا: حضرت
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو
جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے اپنے اوپر جہنم کا عذاب واجب کر لیا۔(معجم
الکبیر، عکرمتہ عن ابن عباس، 11/ 172، الحدیث: 11541)
خالد حسین عطاری مدنی(مدرس جامعۃ المدینہ
فیضانِ ابو عطار ماڈل کالونی کراچی، پاکستان)
قرآن
کریم میں اللہ پاک نے جھوٹی گواہی نہ دینے کو کامل ایمان والے کا وصف بتایا کہ جو
جھوٹی گواہی نہیں دیتے وہ کامل ایمان والا ہے اور رحمٰن کا بندہ ہے، افسوس کہ فی
زمانہ جس طرح دیگر گناہوں کو ہلکا سمجھا جاتا ہے وہیں پر جھوٹی گواہی کو بھی عام
کام سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ انتہائی مذموم (برا)کام ہے، قرآن و حدیث میں اس کی
مذمت بیان کی گئی ہے۔
جھوٹی گواہی نیک اعمال کو برباد کردیتی ہے:
عَنْ
اَبِى هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صلى الله عليه وسلم مَنْ
لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ في أَنْ
يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ ہمارے پیارے اور آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
جو جھوٹی باتیں اور برے کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پانی چھوڑ
دینے کی پرواہ نہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد3، روزے کا بیان، حدیث نمبر: 1999)
جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے:
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رضي الله عنه قَالَ قَالَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ ثَلاَثًا قَالُوا
بَلَى يَا رَسُولَ اللہ قَالَ الإِشْرَاكُ بِاللہ وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ
وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ
يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ حضرت ابو
بکرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، انہوں نے کہاہم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب
سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ (آپ نے یہ تین بار کہا)پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کے
ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا (یافرمایا: جھوٹ
بولنا)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم (پہلے)ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے،
پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے (دل میں)کہا:
کاش! آپ مزید نہ دہرائیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب الکبائر واکبرھا، حدیث
نمبر: 259)
جھوٹی گواہی اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنے کے
برابر ہے:
عَنْ
خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رضي الله عنه قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللہ صلى الله عليه وسلم
صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ عُدِلَتْ شَهَادَةُ
الزُّورِ بِالإِشْرَاكِ بِاللہ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَرَأَ فَاجْتَنِبُوا
الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ
غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فجر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام
پھیرا تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اورفرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے
برابر ہے، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھرآپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی ﴿ فَاجْتَنِبُوا
الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ
لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان: تو دور ہو بتوں
کی گندگی سے اوربچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی(شریک)کسی کو نہ
کرو۔(مسند احمد، اول مسند الکوفیین، حدیث خریم ابن فاتک، حدیث نمبر: 18898)
جھوٹی
گواہی جہنم میں داخلہ کا سبب ہے:
عَنْ
أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللہ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَنِ
اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللہ لَهُ النَّارَ
وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا
يَا رَسُولَ اللہ قَالَ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ یعنی ابو
امامہ اياس بن ثعلبہ حارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے
لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا۔ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے
رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! چاہے وہ چیز تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی
ٹہنی ہی ہو۔ (صحیح مسلم، جلد 1،باب وعید من اقتطع حق مسلم بین فاجرۃ بالنار، حدیث
نمبر: 353)
جھوٹی گواہی اللہ پاک کو ناراض کرنے کے اسباب
میں سے ایک سبب ہے:
عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ مسعود رضي الله عنه
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صلى الله عليه وسلم: مَنْ حَلَفَ عَلٰى يَمِيْنِ صَبْرٍ
وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللّٰهَ
يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَصْدِيْقَ
ذٰلِكَ: إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا
قَلِيْلًا إِلى آخِرِ الآيَةِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، حضرت عبد
اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پیارے اور آخری نبی صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو لزومی قسم پر حلف اٹھائے حالانکہ وہ اس میں جھوٹا
ہو تاکہ کسی مسلمان آدمی کا مال مارے تو وہ قیامت کے دن اﷲ سے اس حالت میں ملے گا
کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ تواﷲ نے اس کی تصدیق اتاری کہ بے شک جو لوگ اﷲ کے عہد کے
اور اپنی قسموں کے بدلہ تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 5،حدیث
نمبر: 3759)
محمد حمزہ رضوان وجہی (درجہ رابعہ
جامعۃ المدینہ فیضان حسن و جمال مصطفی کراچی، پاکستان)
وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا
بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲)ترجمۂ کنز الایمان: اورجو جھوٹی گواہی
نہیں دیتےاورجب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔
جھوٹی
گواہی نہ دینا اور جھوٹ بولنے سے تعلق نہ رکھنا کامل ایمان والوں کا وصف ہے۔ یاد
رہے کہ جھوٹی گواہی دینا انتہائی مذموم عادت ہے اور کثیر اَحادیث میں اس کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے، یہاں ان میں سے چند اَحادیثیں ملاحظہ ہوں:
حدیث
نمبر 1: حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شریک کرنا، ماں
باپ کی نا فرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری، کتاب
الدیات، باب قول اللہ تعالی: ومن احیاہا، 4/358،
الحدیث: 6871)
اس
حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس طرح اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک
ٹھہرانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور کسی کو نا حق قتل کرنا گناہ کبیرہ میں
سے ہے اسی طرح جھوٹی گواہی دینا بھی گناہ کبیرہ میں سے ہے۔
حدیث
نمبر 2: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ
اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ
الزور، 3/123، الحدیث: 2373)
اس
حدیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص جھوٹی گواہی دیتا ہے تو اس شخص پر
جہنم فوراً واجب ہوجاتی ہے
حدیث
نمبر 3: طبرانی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مرد مسلم کا مال ہلاک ہو
جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اُس نے جہنم واجب کر لیا۔ (المعجم الکبیر،
الحدیث:11541، ج11، ص 172، 173)
حدیث
نمبر 4: ابو داؤدو ابن ماجہ نے خریم بن فاتک اور امام احمد و ترمذی نے ایمن بن
خریم رضی اللہ عنہما سے روایت کی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز
صبح پڑھ کر قیام کیا اور یہ فرمایا کہ جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی
پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ
اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ ترجَمۂ
کنزُالایمان: تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اوربچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر کہ
اس کا ساجھی(شریک)کسی کو نہ کرو۔(پ17،
الحج:30، 31- سنن ابی داوٗد، کتاب القضاء، باب فی شھادۃ الزور،
الحدیث: 3599، ج 3،
ص427)
جھوٹی
گواہی کی تعریف: حق بات کو چھپا کر اس کے مخالف گواہی دینا جھوٹی گواہی کہلاتا ہے۔
جھوٹی گواہی کے بارے میں قرآن پاک اور احادیث میں اس کی بہت مذمت بیان کی گئی۔
چنانچہ
حدیث 1: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی
پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ
پاک کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی
گواہی دینا۔(بخاری، کتاب الديات، باب قول الله تعالى، الحديث:697)
اسی
طرح جھوٹے گواہ کے لیے جہنم واجب ہے۔
حدیث 2:حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جھوٹے گواہ
کے قدم ہٹنے بھی نا پائیں گے کہ اللہ تعالی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔
حدیث 3:حضور پرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک
ہو جائے یا کسی مسلمان کا خون بہایا جائے۔ اس نے اپنے اوپر جہنم کا عذاب واجب کر
لیا۔(معجم الکبیر، عکرمہ عن ابن عباس، الحدیث: 11541)
حدیث 4:حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صبح کی نماز پڑھ کر کھڑے
ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا کہ جھوٹی گواہی ہی شرک کے ساتھ برابر کردی گئی
ہے پھر تین مرتبہ اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ
اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-ترجمۂ
کنزُالایمان: تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اوربچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر کہ
اس کا ساجھی(شریک)کسی کو نہ کرو۔(ابو داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فی شہادۃ الزور، 3/427، الحدیث: 3599)
حدیث 5: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اے لوگو! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹے ایمان کےمخالف ہیں۔ (مسند امام احمد، مسند ابی
بکر الصدیق رضی اللہ عنہ،حدیث:16)
Dawateislami