نبیرۂ اعلیٰ حضرت صاحبزادہ کرنل (ریٹائرڈ) جواد رضا خان صاحب کی گزشتہ روز مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں آمد ہوئی جہاں اُن کی ملاقات استاذُ الحدیث مفتی ہاشم خان عطاری مدظلہ العالی سمیت شعبہ رابطہ بالعلماء کے ذمہ داران سے ہوئی۔

اس موقع پر ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے کرنل (ریٹائرڈ) جواد رضا خان صاحب کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا وزٹ کروایا اور عالمی سطح پر ہونے والی خدماتِ دعوتِ اسلامی کے بارے میں تعارفی ڈاکومنٹری دکھائی۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ بالعلماء، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

پنجاب پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وا رسنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبۂ کرام، اساتذۂ کرام، قاری صاحبان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کثیر  عاشقانِ رسول کی شرکت ہوئی۔

معمول کے مطابق اجتماع کے آغاز میں تلاوتِ قراٰن کی گئی اور نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔

تلاوت و نعت کے بعد مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے ”عاشقِ رسول پہاڑ“ کے موضوع پربیان کیا اور وہاں موجود اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا۔(رپورٹ: محمد ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

12 دسمبر 2024ء کو پاکپتن ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں شعبہ رابطہ برائے وکلا دعوتِ اسلامی کے تحت سنتوں بھرا اجتماع ہوا جس میں وکلا حضرات سمیت دیگر اسلامی بھائیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تلاوت و نعت سے اجتماع کا آغاز کرنے کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے ”کردار سازی سیرت النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی روشنی میں“ کے موضوع پرسنتوں بھرا بیان کیا۔بعدِ بیان مختلف وکلا حضرات سے رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری کی ملاقات ہوئی۔(رپورٹ: محمد ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی  کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت فیصل ڈویژن کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی میٹنگ ہوئی ۔

اس میٹنگ میں نگرانِ پاکستان مشاورت آفس مولانا حاجی عمر عطاری مدنی، فیصل آباد ڈویژن نگران ، ڈسٹرکٹ نگران ، تحصیل نگران، سب تحصیل نگران، فیصل آباد سٹی نگران، شہر مشاورت، ٹاؤن نگران اور سب ٹاؤن نگران اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کےحوالے سے کلام کرتے ہوئے اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کی اور مختلف موضوعات پر مشاور ت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭ماہِ قافلہ میں ہونے والے اجتماعات اور ان میں ہونے والے نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری کے بیانات کا جائزہ٭12 دینی کاموں کی کارکردگی، سب تحصیل اور سب ٹاؤن سطح پر اپڈیٹ تقرری کا جائزہ (جنوری تا اکتوبر 2024ء)٭شعبہ اصلاحِ اعمال اور شعبہ قافلہ ذمہ داران کی تقرری کا جائزہ۔

بعدازاں نگرانِ پاکستان مشاورت نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا نیز اختتامی دعا بھی کروائی۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے تحت 12 دن، 1 ماہ اور 12 ماہ کے لئے قافلوں میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول  کا مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں ٹریننگ سیشن منعقد کیا گیا جس میں کراچی، دیگر شہروں کے اسلامی بھائی ، شعبہ قافلہ فیصل آباد کے ذمہ داران اور اسپیشل پرسنز شریک ہوئے۔

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے بیان کیا جس میں انہوں نے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی تربیت و رہنمائی کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔

بعدِ بیان اسلامی بھائیوں نے دینی کاموں کے متعلق مختلف سوالات کئے جس کے نگرانِ پاکستان مشاورت نے جوابات دیئے اور اختتامی دعا کروائی نیز اسلامی بھائیوں نے نگرانِ پاکستان مشاورت سے ملاقات بھی کی۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کے سلسلے میں 10 دسمبر 2024ء کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد سے تمام ذمہ داران کا آن لائن ٹریننگ سیشن منعقد ہوا جس میں فیصل آباد کے ذمہ داران نے براہِ راست  اور دیگر ذمہ داران نے بذریعہ انٹرنیٹ شرکت کی۔

ٹریننگ سیشن میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیاجس میں انہوں نے LMS(Learning Management System) اور ORG (Organization) دعوتِ اسلامی کا تعارف کرواتے ہوئے LMS میں ہونے والے کورسز کی اہمیت پر ذمہ داران کی رہنمائی کی۔

LMS کے متعلق آگاہی دیتے ہوئے نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے بتایا کہ اس میں مختلف آن لائن کورسز کروائے جاتے ہیں جن میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی تربیت کی جاتی ہے۔

آخر میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی جانب سے سوالات کا سلسلہ ہوا جن کے نگرانِ پاکستان مشاورت نے جوابات دیئے اور انہیں مدنی پھولوں سے بھی نوازا۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


والدین کے بعد سب سے زیادہ حق رشتہ داروں کا  آیا ہے چنانچہ سب سے پہلے رشتہ داروں کا فرمایا گیا کہ انہیں ان کا حق دو چنانچہ اللہ ‏پاک نے قران پاک میں ارشاد فرمایا ‏: فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ ترجمۂ کنزالایمان: تو رشتہ دار کو ا س کا حق دو ۔ ‏( سورۃ الروم آیت نمبر 38 )‏

یعنی اے وہ شخص! جسے اللہ تعالیٰ نے وسیع رزق دیا،تم اپنے رشتے دار کے ساتھ حسن ِسلوک اور احسان ‏کر کے ا س کا حق دو ‏۔ (صراط لجنان)

‏(1)رشتہ داروں کو نفقہ دینا: اس آیت سے مَحْرَم رشتہ داروں کے نَفَقہ کا وُجوب ثابت ہوتا ہے (جبکہ وہ محتاج ہوں )۔‏

‏(مدارک، الروم، تحت الآیۃ: 38 ص909)

‏(2) ثواب کا مستحق کون: ‏اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رشتہ دارو ں سے حسنِ سلوک اور صدقہ و خیرات ،نام و نَمو د اور رسم کی پابندی کی وجہ سے نہیں بلکہ ‏محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کر ے وہی ثواب کا مستحق ہے۔( صراط الجنان)

‏(3) صلہ رحمی کرنا : اُن کے ساتھ صِلہ رحمی کرو ، ان سے محبت سے پیش آؤ۔ (تفسیر صراط الجنان، تحت الآیۃ، سورۃ بنی اسراءیل، آیت نمبر 26)‏

‏(4) خبر گیری کرنا :‏ ان سے میل جول رکھو اور ان کی خبر گیری کرتے رہو ‏۔ (تفسیر صراط الجنان)‏

‏ (5) رشتہ داروں کی مدد کرنا : ضرورت کے موقع پر ان کی مدد کرو اور ان کے ساتھ ہر جگہ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ (تفسیر صراط الجنان)‏

رشتہ داروں کا خرچ اٹھانے سے متعلق حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر رشتے دار مَحارم میں سے ہوں اور محتاج ہوجائیں تو اُن کا خرچ اُٹھانا یہ ‏بھی ان کا حق ہے اور صاحب ِاِستطاعت رشتہ دار پر لازم وواجب ہے۔ ‏( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 25، 3 / 172)‏

اللہ پاک ہمیں اپنے ذو رحم رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین

جس طرح انسان پر معاشرے میں مختلف حقوق کی ادائیگی لازم ہے اسی طرح ہر انسان پر ذی رحم رشتہ داروں کے حقوق کی ذمہ ‏داری بھی عائد ہوتی ہے یہ حقوق معاشرے کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں اگر ہم قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ‏ہے کہ ان حقوق کی پاسداری نہ صرف اخلاقی ذمہ داری بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے یہ حقوق معاشرتی توازن اور ہم آہنگی کی فضا کو ‏قائم کرتے ہیں آئیے ان میں سے چند حقوق کا مطالعہ کرتے ہیں۔

(‏1)صلہ رحمی ‏: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کو یہ پسند ہے کہ اس کے رزق میں ‏کشادگی و کشائش ہو اور عمردراز ملے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔( بخاری، الادب، باب من بسطہ فی الرزق لصلۃ الرحم، حديث:5985)

(‏2)صدقہ کرنا‏: صدقہ کرنے میں سب سے زیادہ حقدار قریبی مستحق رشتہ دار ہیں ۔ رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ‏: مسکینوں پر صدقہ کرنے سے ایک صدقے کا ثواب ملتا ہے جب کہ رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو صدقوں کا ثواب ملتا ہے‏۔ (سنن الترمذی،كتاب الزكاه،بابو ما جاء فی الصدقۃ على ذی القرابۃ، 142/2, الحديث658)‏

(3) ‏ معاف کرنا : ہمیں چاہیے کہ ہمارے رشتہ داروں میں سے اگر کسی سے کوئی غلط بات یا کوئی غلط کام صادر ہو جائے تو اسے معاف کر دیا جائے معاف ‏کرنے کی فضیلت کے حوالے سے رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان بھائی کو اس کی لغزش کے سبب ‏چھوڑ دیا اللہ تعالی قیامت میں اسے چھوڑ دے گا ‏۔ ‏(شعب الايمان السابع والخمسون من شعب،،،الخ فصل في ترک الغضب،،،الخ 313/6, الحديث 8310)‏

(4) حاجت کو پورا کرنا ‏: رشتہ داروں کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی کسی بھی حاجت وغیرہ کو پورا کیا جائے اور مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا ‏کرنے کا بہت زیادہ ثواب ہے ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے کے لیے ‏دن یا رات میں سے ایک گھڑی بھی چلے خواہ وہ حاجت کو پورا کر سکے یا نہ۔ اس کا یہ عمل اس کے لیے دو ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے ‏۔ ‏(المعجم الاوسط 279/5 الحديث 7326)‏

(5) حسن اخلاق‏: قریبی رشتہ داروں کے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ بھی ہے ان کے ساتھ ہمیشہ حسن اخلاق سے پیش آ یا جائے ۔ ‏حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سب سے افضل عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : حسن اخلاق‏ ۔ ‏(المعجم الكبير، 180/1 ، الحديث: 468)‏

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رشتہ داروں کے حقوق کا لحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام میں صلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں سے حسن سلوک، کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور قطع رحمی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن و سنت میں صلہ رحمی سے رزق میں برکت اور عمر میں درازی کی بشارت، جبکہ قطع رحمی کرنے والوں کے لیے جنت سے محرومی کی وعید ہے۔

( 1) رشتہ داروں سے اچھا سلوک : وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَا

ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اورپاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو) بیشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر، فخرکرنے والا ہو۔ (سورۃ النساء پارہ 5 آیت 36)

(2) رشتہ داروں پر خرچ کرنا: اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ و السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ

ترجمہ کنز العرفان : اللہ کی محبت میں عزیز مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اورمسافروں اور سائلوں کو اور (غلام لونڈیوں کی) گردنیں آزاد کرانے میں خرچ کرے ۔ (سورۃ البقرہ پارہ 2 آیت177 )

(3) اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓىٕكُمْ مَّعْرُوْفًاؕ-كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا

ترجمہ کنز العرفان : یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور مومنوں اور مہاجروں سے زیادہ اللہ کی کتاب میں رشتے دار ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو۔ یہ کتاب میں لکھاہوا ہے۔ (سورۃ الاحزاب پارہ 21 آیت6 )

(4) رزق کشادہ: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:من أحب أن يُبسط له في رزقه ويُنسأ له في أثره فليصل رحمه ترجمہ: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا رزق کشادہ کیا جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری: کتاب الادب، باب صلۃ الرحم وتأكيدها، حدیث نمبر 5986)یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے اور اس میں صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک) کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

(5)قطع تعلقی: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ترجمہ: قطع رحمی کرنے والا (رشتہ داروں سے تعلقات توڑنے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری: کتاب الادب، باب اثم القاطع، حدیث نمبر 5984)

یہ حدیث صلہ رحمی کی اہمیت اور قطع رحمی (رشتہ داروں سے تعلقات توڑنا) کی سخت ممانعت کو واضح کرتی ہے۔

صلہ رحمی اسلامی معاشرتی زندگی کا اہم ستون ہے، جو خاندانوں کو مضبوط اور مربوط رکھتا ہے۔ اس کی پابندی سے نہ صرف دنیاوی برکات حاصل ہوتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی ملتی ہے۔ قطع رحمی سے خاندانوں میں انتشار اور معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جسے اسلام سختی سے ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ محبت و حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔

ذو رحم رشتےداروں کے حقوق اسلام میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن و سنت میں ان رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، مدد، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ ذو رحم رشتےدار وہ ہیں جن سے نسب یا قرابت کی بنا پر رشتہ ہے، جیسے والدین، بہن بھائی، چچا، پھوپھی، خالہ، اور ان کے بچوں وغیرہ۔ذو رحم رشتہ داروں کے حقوق کے حوالے سے قرآن مجید میں کئی آیات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک اہم آیت سورۃ النساء پارہ (4) آیت (36) ہے :  

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبَىٰ ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں سے ۔

یہ آیت نہ صرف والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کو بیان کرتی ہے بلکہ ذو رحم رشتہ داروں کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ پر زور دیتی ہے۔ اس کے ذریعے اسلامی معاشرت میں رشتہ داروں کے حقوق کی پاسداری کی تاکید کی گئی ہے۔چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہوتا ہے :

حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :إِنَّ الرَّحِمَ شِعْبَةٌ مِنَ الرَّحْمَةِ، فَصَلُوهَا يَرْحَمْكُمُ اللَّهُ ترجمہ: رشتہ داری اللہ کی رحمت کی ایک شاخ ہے، اس کو جوڑو، تاکہ اللہ تم پر رحم کرے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2556)

اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذو رحم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا اللہ کی رضا اور رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات کے مطابق، ذو رحم رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی مدد کرنا، معاشرتی فلاح کی بنیاد ہے۔ ان کے حقوق میں بہت ساری چیزیں شامل ہیں:

(1)اخلاقی حسن سلوک : انہیں محبت، عزت، اور احترام دینا۔

(2)مالی مدد : ضرورت مند رشتہ داروں کی مالی مدد کرنا۔

(3)ملاقات اور رابطہ: انہیں وقت دینا اوران سے رابطے میں رہنا۔

(4)دعائیں: ان کے لیے دعا کرنا اور ان کی فلاح کی خواہش کرنا۔

(5)مشورہ اور مدد : مشکلات میں ان کی مدد کرنا اور مشورہ دینا۔

(6)سخاوت اور قربانی : اپنے رشتہ داروں کی مدد کے لیے مالی اور غیر مالی دونوں طرح کی قربانیاں دینا، جیسے ان کی بیماری میں عیادت کرنا یا ان کی مشکلات میں شریک ہونا۔

(7)جھگڑالو اور متنازعہ مسائل میں صلح : خاندان میں اگر کوئی جھگڑا یا تنازعہ ہو تو صلح کرانے کی کوشش کرنا، کیونکہ خاندان کی امانت داری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا اہم ہے۔وراثتی حقوق: ذو رحم رشتہ داروں کو ان کے قانونی اور شرعی وراثتی حقوق دینا، کیونکہ وراثت میں ان کا حق ہوتا ہے۔

دینِ اسلام میں ذو رحم رشتہ داروں کے حقوق کی پاسداری اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کو معاشرتی استحکام اور فرد کی روحانیت کی بہتری کے لیے بہت اہم سمجھا گیا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے رشتے داروں سے حُسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے آمین

ذو رحم یعنی قریبی رشتہ داروں کے حقوق اسلام میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ قراٰن و احادیث میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں تو معاشرے میں امن و امان اور پیار محبت کی فضا قائم ہوجائے گی۔ یہاں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ذو رحم رشتہ داروں کے 5حقوق پیش کئے جا رہے ہیں:

(1)صلہ رحمی:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔(بخاری، 4/97، حدیث:5985)

(2)رشتہ داروں کی مدد کرنا: حضرت سلمان بن عامر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ یہ باعث برکت ہے اور اگر کھجور نہ ہو تو پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاک کرنے والا ہے۔ پھر فرمایا: مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے لیکن رشتہ دار کو صدقہ دینے پر دو مرتبہ صدقے کا ثواب ہے، ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا۔(ترمذی، 2/142، حدیث: 658)

(3)رشتہ داری جوڑو: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: (رشتہ داری کا حق یہ ہے کہ) جو تمہارے ساتھ تعلق توڑے، تم اس سے تعلق جوڑو اور جو تمہیں محروم کرے، تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے، تم اسے معاف کرو۔(دیکھئے: مسند احمد، 28/654، حدیث: 17452)

(4)والدین کے دوستوں کی عزت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بہترین نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد سے محبت کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔(ترمذی، 3/361، حدیث: 1910)

(5)معاف کرنا اور درگزر کرنا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یَارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں جن سے میں تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں ان سے نیکی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بُرائی کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بداخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر واقعی ایسا ہی ہے جیسا تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم ایسا ہی کرتے رہو گے تو اللہ پاک کی طرف سے ایک مددگار ان کے مقابلے میں تمہارے ساتھ رہے گا۔(مسلم، ص 1062، حدیث: 6525)

اللہ پاک ہم سب کو اپنے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اللہ پاک نے ہمارےپیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو  جوامع الکلم بنا کر مبعوث فرمایا۔

پیارے آقا صلی اللہُ علیہ وسلم موقع بموقع مختلف انداز میں اپنی امت کی اصلاح فرماتے رہے، اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی احادیثِ مبارکہ میں چھ چیزوں کو بیان فرما کر اپنی امت کی اصلاح فرمائی۔ ان احادیث میں چند احادیث طیبہ درج ذیل ہیں :

(1) چھ چیزیں نیکی میں شمار ہوتی ہیں: عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ست من البر: (إطعام الطعام، و إفشاء السلام، و تشمیث العاطس، و اتباع الجنائز، و عیادة المریض، و إعطاء السائل) ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "چھ چیزیں نیکی میں شمار ہوتی ہیں: (1) کھانا کھلانا، (2) سلام کو عام کرنا، (3) چھینکنے والے کو دعا دینا، (4) جنازے کے ساتھ جانا، (5) بیمار کی عیادت کرنا، (6) سوال کرنے والے کو دینا۔ (المعجم الأوسط للطبرانی ،جلد، 5 ،صفحہ:331،حدیث نمبر:9488)

(2) قیامت کے دن چھ حقوق: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ترجمہ: مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں:(01) جب اس سے ملو تو سلام کرو، (02)جب وہ تمہیں دعوت دے تو قبول کرو، (03)جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو نصیحت کرو، (04)جب وہ چھینکے اور الحمدللہ کہے تو اسے دعا دو،(05) جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرو، (06)اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ۔ (صحیح مسلم ،جلد: 4،صفحہ: 1705،حدیث نمبر: 2162)

(3) شہید کے چھ فضائل: عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيُؤْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجُ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِه۔ ترجمہ: اللہ کے نزدیک شہید کے چھ فضائل ہیں:(1) اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ (2) اسے جنت میں اس کا مقام دکھایا جاتا ہے۔ (3) اسے قبر کے عذاب سے نجات ملتی ہے۔ (4) قیامت کے بڑے خوف (فزعِ اکبر) سے محفوظ رہتا ہے۔ (5) اسے ایمان کی حلہ پہنائی جاتی ہے۔ (6) 72 حوروں سے اس کا نکاح کیا جاتا ہے، اور اسے 70 رشتہ داروں کی شفاعت کا حق دیا جاتا ہے۔ ( سنن الترمذی،جلد:4 ،صفحہ:187،حدیث نمبر:1663)

(4) مجھے انبیاء پر چھ چیزوں کے ذریعے فضلیت دی گئی : عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فضلت على الانبياء بست، اعطيت جوامع الكلم، ونصرت بالرعب، واحلت لي الغنائم، وجعلت لي الارض طهورا ومسجدا، وارسلت إلى الخلق كافة، وختم بي النبيون ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء پر چھ چیزوں کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے:(01) مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں (02)(دشمنوں پر) رعب ودبدے کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے (03)میرے لیے اموال غنیمت حلال کر دیے گئے ہیں (04)زمین کومیرے لیے پاک کرنے والی اور سجدہ گاہ بنا دیا گیا (05)مجھے تمام مخلوق کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہے (07) اور میرے ذریعے نبیوں (کی آمد) پر مہر لگا دی گئی ۔( صحیح مسلم ،کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ،ج،1،ص،371،بیروت)

اللہ پاک سے دعا ہے : اللہ پاک ہمیں فرامین مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ وسلم کو پڑھ کر سمجھ کر اور عملی جامہ پہنا کر شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ وسلم ۔