محمد امجد عطّاری (درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ
راولپنڈی ، پاکستان)
کسی کی تربیت
کرنے کا مطلب اسے آداب سکھانا، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو لوگوں کی
طرف اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں کو دین ودنیا کے آداب سکھائے جائیں اور ان کی تربیت کی جائے۔حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف اوقات میں اور مختلف انداز ( میں
کبھی اقوال سے اور کبھی افعال)سے اپنے غلاموں کی تربیت فرمائی۔کبھی حضورصَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا انداز یہ رہا کہ آپ نے اعداد میں
اپنی امت کی تربیت فرمائی۔درج ذیل میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وہ پانچ فرامین مبارک کو بیان کیا جائیے
گا ۔جن میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ وَسَلَّمَ نے چھ چیزوں کو ذکر
فرما کر اپنی امت کی رہنمائی فرمائی:
(1)مسلمان
کے چھ حقوق ہیں: حضور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں (1)جب اس سے ملے تو اسے بھلائی کے ساتھ
سلام کرے (2) جب وہ بلائے تو دعوت قبول کرے(3) جب چھینکے یہ جواب دے
(4) جب بیمار ہو عیادت کرے(5) جب وہ مرجائے اس کے جنازے کے ساتھ جائے
(6) جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ (سنن
الترمذی،کتاب الادب،باب ماجاء فی تشمیت العاطس، ،ج 4،ص338 الحدیث:2745 )
(2)چھ
چیزوں سے پہلے نیک عمل کرنے میں سبقت کرو: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا ’’ چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک عمل کرنے میں سبقت کرو(1) سورج کے
مغرب سے طلوع ہونے (2)دھوئیں (3)دجال
(4)دابۃُ الارض(6،5) تم میں سے کسی ایک کی موت سب کی موت (یعنی قیامت ) سے
پہلے۔ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب فی بقیۃ من احادیث الدجال، ص 1579 ،
الحدیث: 7398)
(3)چھ
چیزوں کی وجہ سے جنت کی ضمانت دیتا ہوں: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنت
کا ذمہ دار ہوتا ہوں ۔ (1)جب بات کرو سچ بولو (2) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو (3) جب
تمہارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو (4)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (5) اپنی نگاہیں نیچی رکھو (6)
اپنے ہاتھوں کو روکو۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ بن
الصامت رضی اللہ عنہ،413/8 حدیث 9630 بیروت)
(4)راہ
خدا میں شہید ہونے کے چھ فضائل:
حضرت مقدام بن
معدیکرب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے، نبی اکرم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شہید کے لئے چھ خصلتیں
ہیں ، (1)خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی ا س کی بخشش ہو جاتی ہے (2)جنت میں اپنا
ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ (3)قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ (4)سب سے بڑی گھبراہٹ سے
امن میں رہے گا۔ (5)اس کے سر پر عزت و وقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک
یاقوت دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ (6)بڑی آنکھوں والی 72 حوریں ا س
کے نکاح میں دی جائیں گی اور ا س کے ستر رشتہ داروں کے حق
میں ا س کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ ( ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب فی ثواب
الشہید،250/3 ، الحدیث: 1669)
(5)چھ
آدمیوں پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا: چھ قسم کے لوگوں پر میں نے لعنت کی اور اللہ نے بھی ان پر
لعنت کی ، اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے (1)اللہ
کی کتاب میں اضافہ کرنے والا ،(2)اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا ، (3)طاقت کے بل
بوتے پر مسلط ہونے والا شخص تاکہ وہ کسی ایسے شخص کو معزز بنائے جسے اللہ نے ذلیل
بنایا ہو ، اور کسی ایسے شخص کو ذلیل بنا دے جسے اللہ نے معزز بنایا ہو ،(4) اللہ
کے حرم کی بے حرمتی کرنے والا ، (5)میری اولاد کی بے حرمتی کرنے والا (6) میری سنت
کو ترک کرنے والا ۔‘‘ (مشکوة المصابیح ج1ص
26حدیث109 )
علی
اکبر ( درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
ہمارے پیارے
آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب اس دنیا میں تشریف آوری ہوئی تواس
وقت لوگ اللہ عزوجل کی نافرمانیوں میں لگے ہوئے تھے اس وقت سود عام تھا زنا عام
تھا ماں باپ کی کوئی عزت نہ تھی لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے تو اللہ تعالیٰ
نے ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا
بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی رہنمائی فرمائی اور لوگوں
کو سیدھے راستے پر چلایا آئیے حدیث پاک کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے تربیت حاصل کرتے ہیں۔
(
حدیث 1) چھ چیز وں سے بزرگی:روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول
الله نے فرمایا مجھ کو تمام پیغمبروں پر چھ چیزوں سے بزرگی دی گئی مجھے جامع الفاظ
دیئے گئے ،ہیبت سے میری مدد کی گئی،میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں اور میرے لیے
ساری زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنائی گئی اور میں ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا
اور مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔ ( مراٰة
المناجيح، شرح مشكوة المصابيح جلد: 8،
حدیث نمبر : 5748)
(حدیث
2) چھ چیزوں کا ذکر: آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے چھ چیزوں کا ذکر فرمایا :سونا، چاندی، گیہوں، جو، کھجور، نمک اور
فرمایا کہ جب سونا، سونے کے بدلے چاندی، چاندی کے بدلے گیہوں، گیہوں کے بدلے جو،
جو کے بدلے کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے فروخت کیا جائے، تو برابر ہونا
چاہیے، اور ایک ہاتھ لے اور دوسرے ہاتھ دے، کمی بیشی سود ہے۔ (صحيح مسلم، باب الصرف، رقم الحديث:1587)
(حدیث
3) چھ چیز وں کی ذمہ داری : حضرت
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صَلَّى اللَّه تَعَالَى
عَلَيْهِ والِہ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم لو گ اپنی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کی
ذمہ داری قبول کرلو تو میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ (۱) جب بات کرو تو سچ بولو (۲) جب کوئی وعدہ کرو اس کو پورا کرو (۳) جب کوئی امانت تم کو سونپی جائے تو اس امانت کو ادا کرو
(۴) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (۵) اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو (۶) اپنے ہاتھوں کو ہر ظلم و مَعْصِیت سے ) روکے رکھو۔ ( منتخب
حدیثیں، حدیث نمبر : 25)
(
حدیث 4) مومن کے مومن پر چھ حق : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ
وسلم نے کہ مؤمن کے مؤمن پر چھ حق ہیں جب وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی کرے اور جب
مرجاوے تو جنازہ پر حاضر ہو جب دعوت دے تو قبول کرے ، جب اس سے ملے تو اسے سلام
کرے اور جب چھینکے تو جواب دے اور اس کی خیر خواہی کرے جب وہ غائب ہو یا حاضر ۔ (
کتاب مرآة المناجيح شرح مشكوة المصابيح جلد : 6، حدیث نمبر : 4630 )
(حدیث
5) چھ آدمیوں پر لعنت: روایت ہے حضرت عائشہ
سے فرماتی ہیں: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے چھ آدمی وہ ہیں جن پر میں نے اور اللہ نے لعنت کی اور ہر نبی مقبول
الدعا ہے ،(1) اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا، (2)اللہ کی تقدیر کا انکاری، (3)جبرا قبضہ جمانے
والا تاکہ انہیں ذلیل کرے جنہیں اللہ نے عزت دی اور انہیں عزت دے جنہیں اللہ نے
ذلیل کیا ،(4)اللہ کے حرام کو حلال سمجھنے والا ،(5) میری آل کے متعلق وہ باتیں
حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا اور(6) میری سنت کو چھوڑنے والا۔ (مرآة
المناجيح شرح مشكوة المصابيح جلد : 1،
حدیث نمبر : 109)
تربیت کی
اہمیت یعنی قدرو منزلت اور ضرورت کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ ربِّ کریم جَلَّ
جَلاَلُہٗ اپنے محبوبِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ کو اِس کے آداب اِرشاد فرما رہا ہے ۔ چنانچہ پارہ
۱۴ سُورۂ نَحْل آیت نمبر ۱۲۵ میں ارشاد ہوتا ہے ۔ ترجمۂ کَنْزُ العرفان : اپنے رب
کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو
جو سب سے اچھا ہو ۔
تربیت کی مثال
بالکل اس طرح ہے جس طرح ایک کسان کھیتی باڑی کے دوران اپنی فصل سے غیر ضروری گھاس
اور جڑی بوٹیاں نکال دیتا ہے تاکہ فصل کی ہریالی اور نشوونما میں کمی نہ آئے۔حضور
اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مختلف مواقع پر اپنے
اقوال اور افعال کے ذریعے سے تربیت فرمائی ہے۔ آپ علیہ السّلام کی متعدد احادیثِ
طیبات میں چھ چیزوں کے بیان سے تربیت کرنا ملتا ہے۔ کہیں ان میں آپ نے نیک اعمال
کی ترغیب (شوق دلایا) ہے تو کہیں آپ نے گناہوں سے ترہیب (ڈرایا) ہے ان احادیث میں
سے چند ملاحظہ فرمائیں:
(1)
میں چھ چیزوں سے خوفزدہ ہوں: حضرت سیِّدُنا عوف بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : میں چھ
چیزوں سے خوفزدہ ہوں : (۱)بیوقوفوں کی حکمرانی (۲)رشوت کے
فیصلوں (۳)سپاہیوں کی کثرت (۴)قطع رحمی (۵) ایسی قوم سے جو قرآن کو موسیقی کے طرز پر پڑھے گی ، اور
(۶)قتلِ ناحق ۔ (مسند احمد، ۹/ ۲۵۲حدیث : ۲۴۰۲۵)
(2)
چھ (6)چیزوں کی ضمانت: حضرت
سَیِّدُنَا عُبَادہ بن صَامِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سُلطانِ بَحْر و بَر، مَدینے کے تَاجْوَر،
مَحْبُوبِ رَبِّ اَکْبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
فرمایا کہ ’’تم مجھے چھ (6) چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جَنّت کی ضمانت دیتا
ہوں (۱) جب بولو
تو سچ بولو (۲)جب وعدہ کرو تو اُسے پورا
کرو (۳) جب امانت لو تو اُسے ادا کرو (۴) اپنی
شرمگاہوں کی حِفاظت کرو (۵) اپنی
نگاہیں نیچی رکھا کرو اور (۶) اپنے
ہاتھوں کو روکے رکھو ۔ (الاحسان بترتیب
صحیح ابن حبان ، کتاب البر والصلۃ والاحسان۔۔الخ ، باب الصدق۔۔۔الخ ، حدیث ۲۷۱ ، ج۱، ص ۲۴۵)
ہم جائیں گے فردوس میں رِضواں سے یہ کہہ کر
روکو نہ ہمیں ہم ہیں غلامانِ محمد
(3) حضور نبی
اکرم، رسول اعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا:چھ قسم کے لوگ چھ چیزوں کے سبب جہنم میں جائیں گے: (۱)عرب عصبیت
(اپنوں کی بے جا حمایت اور دوسروں سے نفرت )کی وجہ سے (۲)حکمران ظلم کی وجہ سے (۳)سردار تکبُّر کی وجہ سے (۴)تاجر خیانت کی وجہ سے (۵)دیہات والے جہالت کی وجہ سے اور (۶)علما حسد
کی وجہ سے ۔(التفسیرالکبیر،سورة البقرة،تحت الآيۃ:۱۰۹ ،۱/۶۴۵مسندالفردوس،۱/۴۴۴،حدیث:۳۳۰۹)
(4) دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب جُود و نوال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : چھ چیزیں عمل کو ضائع
کر دیتی ہیں : (۱)مخلوق کے عیوب کی ٹوہ میں
لگے رہنا (۲)قَساوتِ قلبی (۳)دنیاکی محبت (۴)حیا
کی کمی (۵)لمبی اُمید اور (۶)حد سے زیادہ ظُلْم کرنا ۔ (کنز العمال ، جزء ۱۶ ، ۸ / ۳۶ حدیث
: ۴۴۰۱۶)
اللہ پاک نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کو جہاں دیگر معجزات سے نوازا وہیں آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کو ایک معجزہ یہ بھی عطا کیا گیا کہ آپ جامع الکلم تھے یعنی آپ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے الفاظ کم ہوتے ہیں اور ان کے معنی و مفہوم زیادہ۔ بعض احادیثِ مبارکہ میں حضورِ اکرم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے 6اہم باتوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کی تربیت
فرمائی ہے، یہ احادیث ہمارے لئے راہنمائی کا ذریعہ ہیں، آیئے! 4احادیثِ مبارکہ
ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)6حقوق المسلمین: حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا: مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔ عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ کیا ہیں:(۱)جب تم اس سے ملو تو اسے سلام کرو (۲)جب وہ تمہیں دعوت دے تو قبول کرو (۳)جب
وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اسے نصیحت کرو (۴)جب اسے چھینک آئے اور وہ اللہ پاک کی حمد کرے تو اس کا جواب دو (۵)جب وہ بیمار ہو تو اس
کی عیادت کرو اور (۶)جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو۔(مسلم، ص919، حدیث:
5651)
(2)شہید کی چھ فضیلتیں: حضرت مِقدام بن مَعدی کرب رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک کے یہاں شہید کو چھ خصلتیں حاصل ہوں
گی: (1)پہلی بار ہی اسے بخش دیا جائے گا (2)اسے جنّت کا ٹھکانا دکھا دیا جائے گا
(3)اسے قبر کے عذاب سے امان دی جاتی ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا
(4)اس کے سَر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت موتی دنیا اور جو کچھ اس
میں ہے اس سے بہتر ہوگا (5)بہتّر(72)حوروں سے اُس کا نکاح کیا جائے گا (6)ستّر(70)
قریبی رشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(ترمذی، 3/250، حدیث:1669)
(3)سچے مسلمان کی چھ خصلتیں: حضرت ابو سعید رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا:جس مسلمان میں یہ چھ اوصاف ہیں وہ
سچا مسلمان ہے: (۱)مکمل وُضو کرنے والا
(۲)سخت بارش کے دن نماز کے لئے جلدی مسجد جانے والا (۳)سخت گرمیوں میں کثرت سے روزے رکھنے والا (۴)(جہاد
میں)دشمنوں کو تلوار (ہتھیار) سے قتل کرنے والا (۵)مصیبت پر صبر کرنے والا (۶)حق
پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا ختم کرنے والا۔(الفردوس بماثور الخطاب، 2/326،
حدیث: 3458)
(4)چھ چیزوں کی ضمانت: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی
ضمانت دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: (1)جب بولو تو سچ بولو (2)جب
وعدہ کرو تو پورا کرو (3)جب تمہارے پاس امانت
رکھوائی جائے تو اس میں خیانت نہ کرو (4)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (5)اپنی نظریں نیچی رکھو (6)اپنے ہاتھوں کو
ظلم سے روکو۔(مسند احمد، 37/417، حدیث:
22757)
علی شان (درجہ ثانیہ مرکزی
جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
نصیحت کا مطلب
ہمدردی اور خیر خواہی کرناہے۔ہر نبی علیہ
السلام نے اپنے دورِ نبوت میں اپنی قوم کی
بھلائی کے لیے مختلف نصیحتیں کیں۔ان میں سے چند انبیاءکرام علیہ السلام کی نصیحتوں
کو قرآن کریم نے بیان کیا ہےان میں سے حضرت ھود علیہ السلام کی چند نصیحتوں کو ذیل
میں بیان کیا جاتا ہے۔
(1)
دعوتِ دین: حضرت ھود علیہ السلام
نے جو نصیحت فرمائی قرآن پاک میں اس کا ایسے تذکرہ آیا ہے: قَالَ یٰقَوْمِ
اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ترجمۂ
کنز الایمان: کہااے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا
تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔ (سورۃالاعراف 65)
(2)
کفار کے ردِ عمل پر جواب: جب ھود
علیہ السلام نے اپنی قوم کو وحدانیت کی دعوت دی تو کفار نے کہا کہ آپ ہمیں حماقت
کا شکار لگتے ہیں کہ باپ دادا کے دین کو چھوڑ کر دوسرے دین کو مانتے ہیں۔ اس پر
حضرت ھود علیہ السلام نے جواب دیا اس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے : اَوَ
عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْؕ ترجمۂ
کنز الایمان: اور کیا تمہیں اس کا اچنبھا
ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت
کہ وہ تمہیں ڈرائے۔ (سورۃالاعراف69)
(3)
انعامات یاد دلا کر نصیحت: حضرت
ھود علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ پاک کے
انعامات یاد کرواکر نصیحت کی کہ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ پاک نے
تمہیں قومِ نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا اور
تمہیں زیادہ قوت و طاقت دی تو تمہیں چاہیے کہ ان نعمتوں کو یاد کرو اور شکرانے کے
طور پر ایمان لا کر اللہ پاک کی عبادت کرو
تاکہ فلاح حاصل کر سکو۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَ
اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی
الْخَلْقِ بَصْۜطَةًۚ-فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ترجمۂ کنز الایمان: اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا
اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا
ہو۔ (الاعراف 69)
(4) بُرے معمولات پر
نصیحت: حضرت ھود علیہ السلام کی
قوم کا معمول تھا کہ وہ بلند عمارات بناتے اور لوگوں کو نا حق تنگ کرتے اور غرور و
تکبر کے باعث بہت سی برائیوں میں مبتلا تھے چنانچہ انہیں نصیحت کرتے ہوئے حضرت ھود علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً
تَعْبَثُوْنَ(۱۲۸) وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ
تَخْلُدُوْنَۚ(۱۲۹) وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ(۱۳۰) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۳۱) وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا
تَعْلَمُوْنَۚ(۱۳۲) اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ(۱۳۳) وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ(۱۳۴) اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ
عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ(۱۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان : کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں
سے ہنسنے کو۔اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے۔ اور جب کسی پر
گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی سے گرفت کرتے ہو۔تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو.اور
اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے کہ تمہیں معلوم ہیں ۔تمہاری مدد کی
چوپایوں اور بیٹوں ۔اور باغوں اور چشموں سے۔بیشک مجھے تم پر ڈر ہے ایک بڑے دن کے
عذاب کا۔ (سورۃالشعرآء: 128تا135)
محمد
سلمان الحنفی (درجۂ رابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور،
پاکستان)
انسانی زندگی
میں نصیحت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ بزرگوں کی نصیحتوں کے بغیر حالات کی تاریکیوں
سے بچنا ناممکن سا ہے۔ زندگی میں کم ہی ایسے لوگ ہوں گے جو اس کی خوشبو سے محروم
رہے ہوں۔ انبیاء کرام علیہم السلام صف اول کی ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی اپنی قوموں
کو نصیحتوں کے پھول عطا کیے جن لوگوں نے ان کی نصیحتوں کو اپنے سینے سے لگایا وہ
ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوئے اور مخالفت کرنے والے دردناک عذاب کے مستحق ہوئے۔ حضرت
ہود علیہ السلام کی کچھ نصیحتیں جو انہوں نے اپنی قوم عاد کو کیں آئیے ملاحظہ
کیجیئے:
(1)
ایک معبود کی عبادت : حضرت ہود
علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایک الله کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ
تمہارا کوئی معبود نہیں جیسا کہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ
اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ
مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ترجمۂ کنز
الایمان: اور عاد کی طرف ان کی برادری سے
ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں
تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔(پ8،اعراف:65)
(2)
الله سے ڈرنا : حضرت ہود علیہ
السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ الله تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اِذْ قَالَ
لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ(124)اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ(125)فَاتَّقُوا
اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ (126) ترجمۂ کنز الایمان: جب کہ ان سے ان کے ہم قوم ہود نے فرمایا کیا تم
ڈرتے نہیں ۔ بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور
میرا حکم مانو۔(پ19، الشعراء124-126)
تفسیر:
خلاصہ یہ ہے
کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ’’عاد‘‘ نے انہیں اس وقت جھٹلایا جب آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا: تم جس کفر و شرک
میں مبتلا ہو،کیا اس پر تم اللہ تعالٰی کے
عذاب سے ڈرتے نہیں ۔بیشک میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک ایسا رسول ہوں جس کی امانت
داری تم میں مشہور ہے اور میں اللہ تعالٰی کی وحی کا امین ہوں تو تم مجھے جھٹلانے
میں اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور میں تمہیں جو حکم دوں اس میں میری
اطاعت کرو۔ (صراط الجنان 7 /128، مکتبۃ المدینہ)
(3)
استغفار کرنا : حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اپنی
خطاؤں پر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ یٰقَوْمِ
اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ
مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا
مُجْرِمِیْنَ ترجمۂ کنز الایمان: اور اے میری قوم اپنے رب سے
معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا اور تم میں جتنی
قوت ہے اس سے اور زیادہ دے گا اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو۔(پ12، ھود52)
تفسیر:
جب قومِ عاد
نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت قبول نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے کفر کے سبب
تین سال تک بارش موقوف کردی اور نہایت شدید قحط نمودار ہوا اور اُن کی عورتوں کو
بانجھ کردیا، جب یہ لوگ بہت پریشان ہوئے تو حضرت ہود علیہ السلام نے وعدہ فرمایا
کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اس کے رسول کی تصدیق کریں اور اس کے
حضور توبہ و اِستغفار کریں تو اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا اور اُن کی زمینوں کو
سرسبز و شاداب کرکے تازہ زندگی عطا فرمائے گا اور قوت و اَولاد دے گا۔(صراط الجنان
4/ 450-451،مکتبۃ المدینہ)
حضرت نوح علیہ
السلام کے برسوں بعد اللہ تعالی نے ایک قوم پیدا فرمائی جسے اس زمانے میں
"قوم عاد" کہا جاتا تھا۔یہ لوگ ،طاقتور، بڑے قد اور لمبی عمروں والے
تھےلیکن ایمان و عمل کے اعتبار سے پستی کا شکار تھے۔ گمراہیوں کی تاریکیوں میں
بھٹکنے والی اس قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے اللہ تعالی نے اس قوم سے حضرت ہود
علیہ السلام کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا۔آپ علیہ السلام نےقوم عاد کو جو
نصیحتیں کی اللہ تعالی نے ان کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔آئیے چند نصیحتیں
ملاحظہ فرماتے ہیں:
(1)
وحدانیت الہی پر ایمان لانے کی نصیحت : آپ علیہ السلام نے قوم عاد کو اللہ تعالی کی
وحدانیت پر ایمان لانے، اللہ تعالی سے ڈرنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کا حکم
دیا۔جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: قَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ
ترجمہ کنزالایمان: کہا اے میری قوم
اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔ ( الاعراف:65)
(2)
انعامات الہی یاد دلا کر نصیحت : آپ علیہ السلام نے قوم کو انعامات الہی یاد دلا
کر نصیحت کی ،چنانچہ فرمایا:اے میری قوم! اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرو اور
شکرانے میں ایمان لاؤ اور بندگی کا راستہ اختیار کرو ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: وَ
اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی
الْخَلْقِ بَصْۜطَةًۚ-فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ترجمہ
کنزالایمان: اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا اور تمہارے بدن کا
پھیلاؤ بڑھایا تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو۔ ( الاعراف:69)
(3)
عذاب سے ڈرا کر قوم کو نصیحت : آپ
علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو مجھے خوف ہے کہ تم
پر عذاب نہ آجائے۔جیسا کہ قرآن پاک میں
ہے: اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ
اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ترجمہ کنزالایمان: کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو بیشک مجھے تم پر
ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ (پ26،الاحقاف:21)
(4)
قوم پر قحط سالی کا عذاب اور حضرت ہود
علیہ السلام کی نصیحت : جس
وقت قوم ہود کی سرزمین پر بارش نہ ہونے کے سبب شدید قحط پڑ
گیاتو آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا: اگر تم بارگاہ الہی میں گناہوں سے سچی توبہ
کرو تو اللہ تعالی موسلا دھار بارش سے تمہاری زمینوں کو سرسبز و شاداب کردے گا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں
ہے: یٰقَوْمِ
اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ
مِّدْرَارًا ترجمہ
کنزالایمان: اے میری قوم اپنے رب سے معافی
چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا ۔ (پ12،ہود:52)
(5)
اللہ تعالی سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے
کی نصیحت : آپ علیہ السلام نے اپنی
قوم سے فرمایا:بیشک میں اللہ تعالیٰ کا امانت دار رسول ہوں میری
اطاعت کرو اور اللہ تعالٰی سے ڈرو ۔جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: اِنِّیْ
لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ(125)فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ ترجمہ کنزالایمان: بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ (پ19،الشعراء:125تا126)
نوٹ :
یاد رہے قوم
عاد دو ہیں : عاد اولیٰ یہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے اور یہ یمن
میں آباد تھے اور عاد ثانیہ،یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے،
اسی کو ثمود کہتے ہیں ان دونوں کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے۔ یہاں عادِ اولی
مراد ہے ۔ (تفسیر روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: 65، 3/ 175)
زین
علی خالد (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ
فیضان جمال مصطفی ڈیرہ گجراں لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک کی
عبادت اور اطاعت انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد ہے۔ دنیا کی رنگینیوں اور نفس و
شیطان کے ورغلانے سے یہ مقصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کو یاد دلانے اور
انسان کو سیدھی راہ پر چلانے کیلئے اللہ کریم نے
مختلف زمانوں میں کئی انبیائے کرام
بھیجے۔ انبیائے کرام انسان کو اس کے مقصدِ حقیقی کی پہچان کرواتے اور اس کی ہدایت
و رہنمائی فرماتے۔ یہ انبیاء مختلف زمانوں میں مخصوص قوموں اور ملکوں کی طرف بھیجے
گئے ان ہی انبیاء میں سے ایک حضرت ہود علیہ
السلام بھی ہیں ۔
حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم کا مختصر
تعارف: حضرت ہود علیہ السلام حضرت
نوح علیہ السلام کے پوتے ارم کی اولاد میں سے ہیں آپ علیہ السلام کو قوم عاد کی
طرف بھیجا گیا اس قوم کو قوم عاد، اس قوم کے
والد یا بادشاہ کی نسبت سے کہا جاتا ہے، روئے
زمین پر عاد کے نام کی دو قومیں گزری ہیں (1) عاد اولیٰ: یہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے (2) عاد ثانیہ :
یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے جو کہ قومِ ثمود کی نام کے ساتھ مشہور ہے۔ (سیرت
الانبیاء صفحہ 204،206 اقتباساً) حضرت ہود
علیہ السلام کی قرآن پاک میں مذکور چند نصیحتیں یہ ہیں :
(1)
شرک سے روکنا: آپ علیہ السلام نے
اپنی قوم کو بتایا کہ وہ شرک کرکے اللہ پاک کی ذات پر بہتان عظیم باندھنے کے مرتکب
ہورہے ہیں لہذا اس سے بچیں قرآن پاک میں یہ بیان اس انداز کے ساتھ وارد ہوا ۔ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا
لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ ترجمہ کنز العرفان : فرمایا: اے میری قوم! اللہ
کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، تم تو صرف بہتان لگانے والے ہو۔ (پارہ 12 ، سورہ ھود ، آیت نمبر 50)
(2)
خوف خدا اور اپنی اطاعت کی نصیحت: حضرت
ھود علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ ترجمہ کنز العرفان : تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (پارہ 19 ، سورہ شعراء ، آیت نمبر 126)
(3)
اللہ پاک کی عبادت کی نصیحت: قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ ترجمہ
کنز العرفان : ( ہود نے) فرمایا: اے میری
قوم ! اللہ کی عبادت کرو (پارہ 8 ، سورہ اعراف ، آیت نمبر 65)
(4)
توبہ و استغفار کی نصیحت : جب قومِ
عاد نے حضرت ہود علیہ السّلام کی دعوت قبول نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے
کفر کے سبب تین سال تک بارش مَوقوف کردی اور نہایت شدیدقحط نمودار ہوا اور اُن کی
عورتوں کوبانجھ کردیا ، جب یہ لوگ بہت پریشان ہوئے تو حضرت ہود علیہ
السّلام نے انہیں بارگاہِ رب غفار میں توبہ و استغفار کی نصیحت کرتے ہوئے
فرمایا : وَ
یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ ترجمہ کنز العرفان : اور اے میری قوم! تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر
اس کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ (پارہ 12، سورہ
ھود ، آیت نمبر 52)
محمد
عامر بن محمد یعقوب (درجۂ سادسہ جامعۃُالمدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور)
حضرت ہود علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ قراٰنِ کریم میں ان کی نصیحتوں اور ان کی
قوم کے ساتھ مکالمے کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ہود علیہ السّلام نے اپنی قوم
کو توحید، ایمان، نیک اعمال کی طرف بلایا اور انہیں گمراہی سے باز رہنے کی نصیحت
کی۔ ان کی چند نصیحتیں درج ذیل ہیں:
توحید کی دعوت: حضرت ہود علیہ السّلام نے اپنی قوم عاد
کو اللہ کی وحدانیت کی طرف
بلایا، جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ
اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ
غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۶۵)﴾
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا
تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔(پ8، الاعراف:65)
قومِ عاد نے رسالت کو جھٹلایا: حضرت ہود علیہ
السّلام نے جب اپنی قوم کو ایمان کی
دعوت دی اور اپنے رسول ہونے کا بتایا تو قومِ
عاد نے آپ کو رسول ماننے سے انکار کردیا، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:﴿كَذَّبَتْ عَادُ اﰳلْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۲۳) اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ
هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۲۴) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۲۵) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِۚ(۱۲۶)﴾ ترجَمۂ کنزالایمان: (قومِ)
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا جب کہ ان سے ان کے ہم قوم ہود نے فرمایا کیا تم ڈرتے
نہیں بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم
مانو۔ (پ19، الشعرآء:123تا126)
مغروری اور سرکشی سے روکا: حضرت ہُود علیہ السّلام نے اپنی قوم کو سرکشی اور غرور سے
روکا۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ﴿وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ(۱۲۹) وَاِذَا
بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ(۱۳۰)﴾ ترجَمۂ کنزالایمان: اور مضبوط محل
چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی
سے گرفت کرتے ہو۔(پ19، الشعرآء: 129، 130)
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تاکید: آپ نے اپنی قوم کو اللہ پاک کی عطا کردہ
نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تاکید کی۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ﴿اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْؕ-وَاذْكُرُوْۤا اِذْ
جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی
الْخَلْقِ بَصْۜطَةًۚ-فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۶۹) ﴾ ترجَمۂ کنزالایمان:
اور کیا تمہیں اس کا اچنبھا (تعجب) ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی
طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور
یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا تو
اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا ہو۔(پ8، الاعراف:69)
اللہ کے عذاب سے ڈرایا: حضرت ہود علیہ السّلام نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے
ڈرایا اور کہا کہ اگر وہ راہِ راست پر نہیں آئیں گے تو ان پر بھی عذاب نازل ہوگا۔ اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ
اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۚ-فَاْتِنَا بِمَا
تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۷۰)
قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ
رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌؕ-اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ
اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ
سُلْطٰنٍؕ-فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ(۷۱) فَاَنْجَیْنٰهُ وَالَّذِیْنَ مَعَهٗ
بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَا
كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠(۷۲)﴾ ترجَمۂ کنزالایمان: بولے کیا تم ہمارے
پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے
باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو کہا ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور
غضب پڑ گیا کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑرہے ہو
جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے اللہ
نے ان کی کوئی سند نہ اُتاری تو راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں تو ہم نے
اُسے اور اس کے ساتھ والوں کو اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے۔(پ8، الاعراف: 70تا72)
عاشقان
رسول کو علم دین سے آراستہ کرنے کےلئےشیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار
قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 25
صفحات کا رسالہ ” چوری ڈکیتی “ پڑھنے / سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یا
اللہ پاک ! جو کوئی 25 صفحات کا رسالہ ”چوری ڈکیتی“ پڑھ یا سُن لے اُس کو آسان اور خوب
برکتوں والی روزی عطا فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
علم
دین کے حصول کے لئے مجلس جامعۃ المدینہ کراچی سٹی و شعبہ تخصص فی الحدیث کے تحت
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک ایجوکیشن عالمی مدنی مرکز کراچی
میں ایک انتہائی اہم اور منفرد کورس ”اصول الجرح والتعدیل کورس“ کا آغاز
کیا گیا۔ کورس کی پہلی کلاس 09 دسمبر 2024ء کو منعقد ہوئی جس میں کثیر علمائے
کرام، اساتذۂ کرام اورطلبۂ کرام شریک ہوئے۔
شعبہ
تخصص فی الحدیث کے H.O.Dو ماہر فن اصول الجرح والتعدیل شیخ
الحدیث مفتی محمد حسان عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نےعلم حدیث کے اصول و ضوابط پر محققانہ اندازمیں
گفتگو کی جن میں سے چند یہ ہیں:
٭
علم الحدیث روایت ودرایت کی تعریف ٭حدیث
کی تعریف، علم الحدیث روایۃً کی تعریف، موضوع، غرض وغایت ٭ علم
الحدیث درایۃًکی تعریف،موضوع،غرض وغایت ٭انواع
علم الحديث درایۃ المتعلقۃ بعلم الجرح والتعدیل ٭تفصيل
علوم ثلاثہ ٭جرح
کی تعریف
٭تعدیل
کی تعریف٭اصول
الجرح والتعدیل کی تعریف ٭جرح کے جواز
پر دلائل
آج دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار اجتماع سیہون شریف
سندھ سے مدنی
چینل پر براہِ راست نشر کیا جائے
دعوتِ اسلامی حصولِ علمِ دین کا درس دینے ، لوگوں کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کرنے
اور انہیں پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں کا عامل
بنانے والی عالمی سطح کی دینی تحریک ہے جس
کے تحت ہر جمعرات کو ملک و بیرونِ ملک کے
مختلف شہروں میں عاشقانِ رسول کی تربیت و رہنمائی کے لئے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات
کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان اجتماعات میں تلاوتِ قراٰنِ
پاک، حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ مقول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، منقبت،
بیانات، دعا اور اختتام پر سیکھنے سکھانے کے حلقوں کا اہتمام کیا جاتا ہےجن میں
عاشقانِ رسول کو سنتیں و آداب سکھائے جاتے ہیں۔
آج مورخہ 12 دسمبر 2024ء کو رات تقریباً 8:30
بجے جہاز چوک میلہ گراؤنڈ، سیہون شریف سندھ سے دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سنتوں
بھرا اجتماع مدنی چینل پر براہِ راست نشر کیا جائے گا جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ
کے رکن حاجی فضیل رضا عطاری سنتوں بھرا بیان کریں گے۔
اسی طرح عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں
رکنِ شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ہارون آباد روڈبہاولنگر
پنجاب میں رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری، مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ محبوب ٹاؤن اوکاڑہ میں رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ، مدینہ ٹاؤن فیصل آباد میں رکنِ شوریٰ و نگرانِ پاکستان مشاورت
حاجی محمد شاہد عطاری، مدنی مرکز فیضانِ مدینہ شاہ رکنِ عالم کالونی نزد
انصاری چوک ملتان میں رکنِ شوریٰ حاجی قاری محمد سلیم عطاری، مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ نزد سوئی گیس آفس سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں رکنِ شوریٰ مولانا
حاجی محمد عقیل عطاری مدنی، جامع مسجد سبحانی سیکٹر 15 نزد 13 نمبر بس اسٹاپ
میں رکنِ شوریٰ مولانا حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاری مدنی اور جامع مسجد
انوارِ مدینہ نایاب پارک سلامت پورہ لاہور میں رکنِ شوریٰ حاجی منصور عطاری
سنتوں بھرے بیانات کریں گے۔
Dawateislami