قرآن
کریم میں بارگاہ نبوی کے 5 آداب از بنت شہباز، جامعۃ المدینہ معراجکے سیالکوٹ
ادب اخلاقیات کا حصہ اور ہمارے دین اسلام کا اہم جز ہے۔
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ با ادب با مراد۔ اسلام میں ادب و احترام کو
ہر شعبہ ہائے زندگی میں ملحوظ رکھا گیا ہے، یہ ہماری بنیادی تربیت کا حصہ بھی ہے۔ فرمان سید الانبیاء ﷺہے کسی باپ نے اپنے بیٹے کو
اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔ (ترمذی،3/ 383، حدیث: 1959) اس
حدیث پاک سے ادب کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن کریم میں
بارگاہ نبوی ﷺکے آداب کی بات کر رہے ہیں۔ رب کریم نے اپنے پیارے محبوب ﷺکی بارگاہ
کے آداب خود قرآن کریم میں بیان فرما دئیے۔
1۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا
وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104) ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو ! ر اعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر
نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔اس آیت مبارکہ میں ایمان والوں سے
خطاب ہے اور حضور کو پکارنے کے ادب کو بیان کیا جا رہا ہے کہ راعنا نہ کہو، جس کے
معنی ہیں (ہمارے حال کی رعایت فرمائیے) اور یہود کی لغت میں (خطا کار کے )ہیں۔ تو یہودی
مذاق کے طور پر راعنا کہتے اور صحابہ کرام کلام کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے عرض
کرتے۔ تو آیت میں راعنا کی جگہ انظرنا کہنے کا حکم دیا گیا۔ آیت
سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر، ان کی جناب میں ادب کا لحاظ رکھنا فرض
ہے، جس کلمہ میں ترکِ ادب کا معمولی بھی اندیشہ ہو زبان پر لانا ممنوع ہے۔
2۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا
بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ
عَلِیْمٌ(۱)(پ 26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ سُنتا جانتا
ہے۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اجازت کے بغیر
کسی قول و فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے۔
چند لوگوں نے عیدالاضحیٰ کے
دن حضور ﷺسے پہلے قربانی کر لی تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ دوبارہ قربانی کریں۔(تفسیر
صراط الجنان)
3۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی
نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے
آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں
خبر نہ ہو۔
ان آیات میں مطلقاً دو آداب بیان ہوئے، پہلا کہ جب حضور ﷺ
تم سے کلام فرمائیں اور تم کچھ عرض کرو تو تمہاری آوازیں ان سے بلند نہ ہوں۔ اور
دوسرا یہ ہےکہ حضور ﷺکو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو نام لے کر نہ پکارو
بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ ادب و تعظیم و توصیف و تکریم کے کلمات کے ساتھ ہو۔
4۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ
لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات: 4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک
وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔
اس آیت میں بارگاہِ رسالت
میں حاضری کا ادب بیان ہوا کہ جب حضور ﷺ حجروں میں ہوں تو باہر سے پکارنا جہالت
اور بے عقلی ہے۔
5۔ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ
جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا
اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) (پ 5، النساء:64) ترجمہ کنز
الایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں
اور پھر اللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت
توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
حضور ﷺکی تعظیم و توقیر جس طرح آپ کی حیات ظاہری میں کی
جاتی ہے ٹھیک اسی طرح ہماری نظروں سے پردہ فرمانے کے بعد بھی واجب و لازم ہے۔
محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ
کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اپنی شگفتہ مزاجی کے باوجود جب بھی حدیث سنتے تو سراپا
انکساری و عاجزی ہو جاتے۔
اسی طرح خود حضور ﷺکی زبان پاک سے سنتے وقت خاموش رہنا
واجب ہے۔ (الشفاء،2/ 92)
جب یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ والی آیت
نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺاللہ کی قسم
آئندہ میں آپ سے سرگوشی کے انداز میں بات کیا کروں گا۔ (کنزالعمال، 1/214)
مذکورہ بالا آیات مبارکہ سے ہمیں درس ملتا ہے کہ حضور ﷺکی
بارگاہ میں حاضری کے وقت آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اسی میں دین و دنیا کی
بھلائی ہے۔
اللہ پاک ان حضرات کے طفیل حضور کی بارگاہ کے آداب بجا
لانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
آئیے ترغیب کے لیے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ امیر
المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضرین مجلس کے ساتھ حضور اقدس کی سیرت پاک کا
تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جس وقت آپ ﷺ کلام فرماتے تھے تو آپ کی مجلس میں بیٹھنے
والے صحابہ کرام اس طرح سر جھکا کر خاموش اور سکون سے بیٹھ رہا کرتے تھے کہ گویا
ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جس وقت آپ خاموش ہو جاتے تو صحابہ کرام گفتگو
کرتے اور کبھی آپ کے سامنے کلام میں تنازع نہیں کرتے، اور جو آپ کے سامنے کلام
کرتا آپ توجہ کے ساتھ اس کا کلام سنتے رہتے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوجاتا۔(شمائل
ترمذی، ص 125)
قرآن کریم میں بارگاہ نبوی کے 5
آداب از بنت شفیق، جامعۃ المدینہ معراجکے سیالکوٹ
دنیا کے شہنشاہوں کا اصول یہ
ہے کہ جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور دربار کے
آداب خود بناتا ہے دنیا سے جاتے ہوئے تعظیم کے نظام کو بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن
کائنات میں ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کے دربار کا عالم ہی نرالا ہے اس کی بارگاہ کے
آداب اور اصول نہ خود اس نے اور نہ ہی مخلوق نے بنائے بلکہ تمام بادشاہوں کے
بادشاہ اللہ پاک نے قرآن میں بیان فرمائے اور خاص وقت کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے
لئے مقرر فرمائے اور وہ عظیم شہنشاہ اس کائنات کے مالک و مختار محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات
گرامی ہے۔
اعلی حضرت فرماتے ہیں:
|
مولا علی نے واری تیری نیند پر نماز |
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلی خطر کی ہے |
|
صدیق بلکہ غار میں جان ان پر دے چکے |
اور حفظِ جاں تو جان فروض غرر کی ہے |
|
ہاں تو نے ان کو جان انہیں پھیر دی نماز |
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے |
|
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں |
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے |
قرآنی
آیات:
1۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ(پ9، الانفال:24) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ و رسول کے بلانےپر حاضر ہو جب رسول تمہیں
بلائیں۔
تفسیر: حضور اکرم ﷺجب بھی بلائیں فوراً ان کی بارگاہ میں حاضر
ہو جائے۔
2- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ
كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-(پ18،النور: 63) ترجمہ کنزالعرفان: اے لوگو! رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا
نہ بنا لو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
تفسیر: ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نبی ﷺکو نہ پکارو۔ اعلیٰ
حضرت فرماتے ہیں: علما تصریح فرماتے ہیں حضور ﷺکو نام لے کر ندا کرنا حرام ہے، خالی
نام کی بجائے القاب سے پکارنا چاہیے۔
3-اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پ26، الحجرات: 1)ترجمہ کنزالعرفان: ایمان والو! اللہ
اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سننے والا جاننے والا
ہے۔
تفسیر: کسی قول اور فعل میں ان سے آگے نہ بڑھو۔ تمام مخلوق پر
حضور کی اطاعت واجب ہے۔
4-اللہ پاک فرماتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا
رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ
اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ
کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں
کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر: جس کلمہ میں ادب ترک ہونے کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر
لانا ممنوع ہے جیسا کہ لفظ راعنا کو تبدیل کرنے کا حکم دینے سے یہ بات واضح ہے۔
5- اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ
الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ
اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات: 4) ترجمہ: بےشک وہ جو
تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔اور اگر وہ صبر کرتے
یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے
والا مہربان ہے۔
تفسیر: حجروں کے باہر سے پکارنے والوں کو اللہ نے بے عقل فرمایا
اور انہیں تعظیم کی تعلیم دی۔
درس:
ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ پاک کی
بارگاہ میں اس کے حبیب کا ادب انتہائی مطلوب ہے، ان کا ادب نہ کرنا اللہ پاک کو
انتہائی ناپسندیدہ ہے حضور کا ادب کرنا شرک نہیں۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب اس
بُرے مذہب پہ لعنت کیجیے
لہٰذا ان آداب کو بجا لانا چاہیے۔
بزرگ
کا واقعہ:امام مالک رحمۃ اللہ علیہ مسجد نبوی
میں درس دیا کرتے تھے جب ان کے حلقے میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی
گئی آپ ایک آدمی مقرر کر لیں جو آپ سے حدیث پاک سن کر لوگوں کو سنا دے۔ امام مالک
نے فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: اے ایمان والو اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی
نہ کرو۔ اور رسول کی عزت زندگی اور وفات دونوں میں برابر ہے اس لیے میں یہاں کسی
شخص کو آواز بلند کرنے کے لئے ہر گز مقرر نہیں کر سکتا۔ (صراط الجنان)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ اصغر، جامعۃ المدینہ معراجکے سیالکوٹ
حضور ﷺ کی شان اتنی بلند ہے کہ اللہ پاک نے خود اپنے پیارے حبیب کی بارگاہ میں
حاضر ہونے کے آداب بیان فرمائے اور لوگوں کو سکھائے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں آدابِ
نبوی بیان کیے جاتے ہیں:
آیاتِ مبارکہ:
1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (پ 26،
الحجرات:1) ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ
سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
تفسیر:
اس
آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب ﷺ کا ادب واحترام ملحوظ رکھنے کی
تعلیم دی ہے کہ لوگوں کو حضور ﷺ کی اجازت کے بغیر ان کے قول یا فعل میں اصلا ان سے
آگے نہ بڑھنا لازم ہے۔ تم اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ یہ ہی ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے
روکے گا۔
شانِ نزول یہ ہے کہ چند لوگوں نے عید الضحیٰ کو
حضور ﷺ سے پہلے قربانی کر لی تو ان کو حکم ہوا کہ دوبارہ قربانی کریں۔
2۔ یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات:2) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی
کی آواز پر اونچی نہ کرو اوران کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے
ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو
جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
تفسیر:اس
میں آداب سکھائے گئے ہیں کہ ایک یہ کہ تم جب نبی کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو یا وہ
تم سے کلام فرمائیں تو تم پر لازم ہے کہ ان سے اپنی آواز بلند نہ کرو اور دوسرا یہ
کہ نبی کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو جس طرح تم ایک دوسرے کو نام لے کر
پکارتے ہو ایسے نہ پکارو، بلکہ لقب سے ندا کرو کیونکہ ترکِ ادب سے اعمال برباد
ہونے کا اندیشہ ہے اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
3۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)
(پ26،الحجرات: 4) ترجمہ: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں
اکثر بے عقل ہیں۔
تفسیر: بنو تمیم کے چند
لوگ دوپہر کے وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اس وقت حضور آرام فرما رہے تھے، ان
لوگوں نے آپ کو حجروں کے باہر سے پکارنا شروع کر دیا اور حضور باہر تشریف لائے تو
اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور ان لوگوں کی ملامت کی گئی۔
4۔وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى
تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵)
(پ26، الحجرات:5) اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس تشریف لے آتے
تو یہ ان کیلئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
تفسیر:اس
آیت میں ادب کی تلقین کی گئی کہ اگر وہ نبی خودان کے پاس تشریف لے آتے تو یہ ان کے
لیے بہتر تھا اور جن سے یہ بے ادبی سرزد ہوئی اگر وہ اس سے توبہ کر لیں اور نبی کا
ادب اپنے اوپر لازم کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
5۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا
لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-(پ
9، الانفال:24)ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہو
جاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کیلئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔
تفسیر:
اس
آیت سے ثابت ہوا کہ تاجدار رسالت ﷺ جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ
آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے، چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو اگرچہ نماز میں
ہو۔
آداب بجالانے کا درس:ان سب آیات سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا ادب ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس
ادب کو ترک کرنے والے کے اعمال برباد ہونے کا اندیشہ ہے تو اسی طرح ادب کی ترغیب
دیتے ہوئے ایک قرآنی آیت پیش ِنظر رہے، ترجمہ: بیشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس
اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کیلئے پر
کھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ اس آیت مبارکہ میں ادب کا درس دینے کے
ساتھ ساتھ ادب والے کے لیے بخشش اور بڑے ثواب کی بشارت ہے تو کیوں نہ ہو کہ ہم بھی
اس ثواب کو پانے کے حقدار بنیں۔ اس سے مراد یہ ہے نبی کے ہر قول و فعل حدیث پاک کا
ادب کیا جائے اور علماء اور پیرو مرشد کا ادب کیا جائے جو صحیح العقیدہ عالم ہوں۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میں نے کبھی اپنے کسی استاد کے
دروازے پر دستک نہیں دی بلکہ میں ان کا انتظار کرتا رہتا اور جب وہ خود تشریف لاتے
تو میں ان سے استفادہ کرتا۔
ایک
صحابی کا واقعہ:امام مالک رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں درس دیا کر تے
تھے جب ان کے حلقہ درس میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی: آپ ایک
آدمی مقرر کرلیں جو آپ سے حدیث سن کر لوگوں کو سنادے۔ امام مالک نے فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اے ایمان والو! اپنی
آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔ اور رسول کریم ﷺ کی عزت و حرمت زندگی اور
وفات دونوں میں برابر ہے اس لیے میں یہاں کسی شخص کو آواز بلند کرنے کیلئے ہر گز
مقرر نہیں کر سکتا۔(صراط الجنان،9/403)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ عبد الستار، نند پور سیالکوٹ
حضور اقدس ﷺ کی
بارگاہ اللہ پاک کی بارگاہ ہے اور ان کے ہاں حاضری اللہ کے حضور حاضری ہے۔ حضور کا
حکم اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور حضور کے حکم سے منہ موڑنا رب تعالیٰ کے حکم سے منہ
موڑنا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے
اور الله سے ڈرے اور اس کی نافرمانی سے ڈرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔(مدارک، النور،
تحت الآیۃ:52، ص 787)
1۔مقدس قرآن
پاک میں اللہ پاک کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ
لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمہ کنز
العرفان:اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور
زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات
کرتے کہ کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں۔ اس آیت مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ کی
آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺکی خدمت
میں آواز بلند کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
آسکتا ہے کب ہم سے گنواروں کو ادب وه جیسا کہ ادب
کرتے تھے یاران محمد
2۔قرآن پاک
میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: تم فرماؤ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر
اگر تم منہ پھیرو تو رسول کے ذمہ وہی تبلیغ ہے جس کی ذمے داری کا بوجھ ان پر رکھا
گیا اور تم پر وہ (اطاعت) لازم ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا ہے اور اگر تم رسول
کی فرمانبراری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمے صرف صاف صاف تبلیغ کر دینا
لازم ہے۔(تفسیر طبری، النور،تحت الآیۃ:54، 9/346) اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا
ہے کہ اے حبیب! تم ان سے فرما دو کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کریں
گے تو ہدایت پائیں گے اگر وہ نافرمانی کریں گے تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان ہے،
کیونکہ رسول پاک کی ذمہ داری صرف دین کی تبلیغ اور احکام الٰہی پہنچانا ہے اور
انہوں نے اپنا یہ کام پورا کرلیا ہے اور آپ پر ان کی فرمانبرادی لازم ہے اگر رو
گردانی کروگے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کاتمہیں سامنا کرنا پڑے
گا۔
3۔قرآن پاک کی
سورۃ الحجرات میں ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ
وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پ 26،
الحجرات:1) ترجمہ: اے ایمان والو!الله اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور الله سے
ڈرو بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
4۔ اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا
وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵) (پ 26، الحجرات:
15) ترجمہ کنز الایمان: ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان
لائے پھر انہوں نے شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا
وہی سچے ہیں۔اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جو الله اور اس کے رسول پر سچے دل سے
ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد اس میں شک نہ کرے اور اپنی جان اور مال سے اللہ
کی راہ میں جو جہاد کرے وہی سچا ہے۔
5۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)
(پ26،الحجرات: 4) ترجمہ: بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں
اکثر بے عقل ہیں۔ اس آیت میں اُن لوگوں کو بے عقل قرار دیا گیا ہے کہ جو آپ ﷺ کو حجرے
سے باہر کسی کام کے لیے بلاتے تھے۔
ان
آداب کو بجالانے کا درس: تمام مخلوقات میں الله کے نزدیک رسول
کریم ﷺ سب سے زیادہ بزرگ و محترم مقرب و محبوب اور برگزیدہ ہیں، آپ کی بارگاہ
عالی وہ ہے جہاں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے اور آواز بلند کرنے کا وبال یہ
ہے کہ تمام اعمال و عبادتیں ضائع اور برباد ہو جاتی ہیں اور آدمی کو اس کا شعور و
احساس بھی نہیں رہتا اس لیے لازم ہے کہ ہر مسلمان آپ کا ادب واحترام کرے اور بے
ادبی سے بچتا رہے۔
ایک
صحابی کا واقعہ: ایک دفعہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو
قحافہ نے کفر کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں ناشائستہ کلمہ منہ سے نکالا اس
پر حضرت ابوبکر صدیق نے فوراً اُن کے منہ پر طمانچہ کھینچ کر مارا، رسول اکرم ﷺ نے
دریافت فرمایا تو عرض کی: یارسول الله اس وقت میرے پاس تلوار نہ تھی ورنہ ایسی
گستاخی پر اُن کی گردن اتار دیتا۔ اس وقت آپ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی، ترجمہ:
آپ ان لوگوں کو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے
ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتا ہے، خواہ وہ ان کے باپ
اور دادا ہوں یا بیٹے اور پوتے ہوں، اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتے دار
ہوں یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس اللہ نے ایمان ثبت فرمایا ہے اور اُنہیں
اپنی روح (یعنی قبض خاص) سے تقویت بخشی ہے۔
فیضانِ مکہ مدینہ لاہور میں شعبہ تحفظ اوراقِ مقدسہ کے کارخانے میں مشورہ
پچھلے
دنوں شاہدرہ چوک لاہور رحمٰن سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مکہ مدینہ کے پاس شعبہ
تحفظ اوراقِ مقدسہ کے کارخانے میں مدنی مشورہ ہوا جس میں شعبہ ذمہ دار حاجی
محمد ارشد عطاری اور رکنِ مشاورت حاجی
عبدالستار عطاری نے شرکت کی۔
مدنی مشورے میں تحصیل نگران محمد خرم عطاری اور ٹاؤن نگران محمد ارشد عطاری نے شہید اوراقِ مقدسہ کے تحفظ ، شعبہ خود کفالت ١ور
12 دینی کاموں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کو مدنی پھول دیئے نیز کارخانے میں تیار ہونے والے تحفظ اوراقِ مقدسہ
کے جدید ڈرم اور دیگر باکسز کے حوالے سے نکات
بتائے۔
اس کے
علاوہ دسمبر ماہِ مدنی قافلہ میں ایک ماہ اور 12 دن کے مدنی
قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیا جس پر ذمہ
داران نے اسی ماہ میں مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی اچھی اچھی نیتیں پیش کیں۔(
رپورٹ : محمد ناصر عطاری شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ ڈسٹرک شیخوپورہ، کانٹینٹ:
رمضان رضا عطاری)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ شفیق عطاریہ،تاجپورہ لاہور
دنیا کے بادشاہوں کا قانون یہ ہے کہ جب وہ اپنی
بادشاہت سنبھالتے تو وہ اپنی تعظیم اور دربار خاص میں اپنے آداب خود بتاتے ہیں مگر
اس کائنات میں ایک ایسے بھی شہنشاہ آئے ہیں جن کااحترام اور بارگاہ میں حاضری کے
آداب نہ انہوں نے خود بیان کیے اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی نے بنائے بلکہ ان کے
احترام و توقیر کے آداب خود مالک مختار، رب ذوالجلال نے اپنے کلام میں بیان فرمایا
جن میں سے کچھ ملاحظہ فرمائیں۔
1:حضورِ اکرم ﷺ جب بھی بلائیں فورا ًآپ کی
خدمت اقدس میں حاضر ہو جاؤ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ- (الانفال:
24)ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہو
جاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔
2: اللہ تعالیٰ نے بارگاہ نبوی کا ادب بیان
کرتے ہوئے پارہ 26 سورۃ الحجرات،آیت 2 میں ارشاد فرمایا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)
ترجمہ کنزالعرفان:اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان
کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے
بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
3:ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نبی کریم ﷺ کو
نہ پکارو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ
الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (النور: 63) ترجمہ
کنز العرفان: رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنا لو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے
کو پکارتا ہے۔
4: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا
رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ
اَلِیْمٌ(۱۰۴) ( البقرۃ:
104) ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم
پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔اس آیت
میں اللہ پاک نے تعظیم رسول کو واضح فرمایا دیا کہ ایسی بات جس میں ادب ترک ہونے
کا شبہ بھی ہو تو اس کے ساتھ بھی آپ کو نہ پکارا جائے۔
5: وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ
رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-( الاحزاب:
36) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب
اللہ و رسول کچھ حکم فرما دیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار ہے۔اس آیت میں
بتادیا کہ نبی ﷺ کے حکم کے سامنے مومن کو اپنی جان کے معاملات کا کوئی اختیار
نہیں۔ یہ آیت حضرت زینب کے بارے میں نازل ہوئی تھی جب وہ حضرت زید سے نکاح کے لیے
تیار نہیں تھی مگر حکم رسول ﷺ ملتے ہی راضی ہو گئیں۔
ان آیات کے احکام صاف واضح ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی
بارگاہ میں اس کے رسول ﷺ کا ادب انتہائی محبوب ہے اور ان کا ادب و تعظیم نہ کرنا
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی سخت ناپسندیدہ ہے۔
ترجمہ کنزُالعِرفان: تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان
لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے
ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ( الاعراف: 157)
اس آیت میں تعظیم مصطفیٰ ﷺ بجا لانے والوں کو فلاح
پانے کی بشارت دی گی کہ حقیقت میں کامیاب وہی ہے جو آقا ﷺ کی توقیر کرنے والا ہو۔
اسلام میں ادب کی بہت اہمیت ہے،قرآن و سنّت میں جگہ بہ
جگہ ہمیں کھانے، پینے، سونے، اٹھنے، بات کرنے،
سلام کرنے، قرآن پاک پڑھنے، نماز پڑھنے کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ اسی ضمن میں آج ہم
ایک ایسی بارگاہ کے آداب سیکھیں گے،جس کے ادب کا حکم خود ہمارا ربّ ہمیں
دیتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ
وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ
لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26،الحجرات:1-2)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو
اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ سُنتا جانتا ہے۔
اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور
ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک
دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں
خبر نہ ہو۔
ان آیات کریمہ میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب
ﷺ کے تین آداب سکھائے ہیں:
سورۃ الحجرات کی آیت ایک میں پہلا ادب سکھایا کہ الله
اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو یعنی اللہ اور اس کے رسول کے قول و فعل میں ان سے
آگے نہ بڑھو۔ کوئی کام رسول اللہ ﷺ سے پہلے نہ کرو۔ ان سے آگے نہ چلو ان کی اطاعت
کرو۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آیت مبارکہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے
بڑھنے سے منع کیا گیا ہے اور اللہ سے کوئی آگے کیسے بڑھ سکتا ہے ؟ تو معلوم ہوا کہ
رسول الله ﷺ کی بے ادبی اللہ پاک کی بے ادبی ہے۔(شانِ حبیب الرحمٰن، ص 225)
سورة الحجرات کی آیت 2 میں نبی کریم ﷺ کا یہ دوسرا ادب
سکھا یا گیا کہ جب نبی تم سے کلام فرمائیں اور جب تم کچھ ان کی بارگاہ میں عَرْض
کرو تو اپنی آواز رسول اللہ کی آواز سے دھیمی اور آہستہ رکھو۔
آیت 2 میں ہی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا تیسرا ادب بیان
کیا گیا کہ جب ان کو ندا کرو تو ادب و تعظیم کا لحاظ رکھو۔ ان کو ایسے ندا نہ کرو
جیسے آپس میں ایک دوسرے کو کرتے ہو بلکہ تعظیم واحسن القاب کے سا تھ ان سے عرض
کرو، جیسے: یا رسول اللہ! یا حبیب اللہ۔(تفسیر قرطبی، الحجرات، تحت الآیۃ:2،8/
220)
بارگاہِ رسالت
کا جو ادب ان آیات میں بیان ہوا، وہ آپ ﷺ کی ظاہری حیات سے لے کر تا قیامت تک باقی
ہے، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اب
بھی حاجیوں کو حکم ہے کہ جب روضۂ مبارک پر
حاضری نصیب ہو تو سلام بہت آہستہ اور کچھ دورکھڑے ہو کر کریں۔ (شان حبیب الرحمن، ص
225)
سورۃ البقرۃ میں بھی ایمان والوں کو ان کا ربّ بارگاہِ
نبوی کے آداب ارشاد فرماتاہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ
لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (پ1،البقرۃ:104)ترجمہ کنزُ الایمان: اے ایمان والوراعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر
نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اس آیت
مبارکہ میں حضور ﷺ کو راعنا کہنے کی ممانعت کی گئی ہے، جب حضور ﷺ صحابہ کرام کو
تعلیم و تلقین فرماتے تو کبھی کبھی درمیان میں صحابہ کرام عَرْض کرتے:رَا عِنَا
یَارَ سُوْلَ اللہ!(یعنی یَارَسُوْلَ
اللہ ﷺ! ہمارے حال کی رعایت فرمائیں) یہودیوں کی لغت میں یہ کلمہ بے ادبی کا تھا،
اس لئے اللہ پاک نے رَاعِنَا کے بجائے اُنْظُرْنَا بولنے کا حکم
دیا، اس آیت مبارکہ میں ہمیں آداب نبوی کی تعلیم دی گئی ہے۔
ایسے الفاظ جن میں ہلکا سابھی
ترکِ ادب ہو، نبی کریم ﷺ کےلئے نہیں بولے جائیں گے۔ وَ اسْمَعُوْا بغور سنو: اس سے حکم دیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کا کلام غور
سے سنو تاکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑے کہ حضور ﷺ توجہ فرمائیں کیونکہ یہی ادب ہے۔(شانِ
حبیب الرحمٰن، ص 363)
یہ مدنی پھول بھی حاصل ہوا
کہ اب بھی جہاں کہیں حدیث مبارکہ سننے کی سَعادت حاصل ہو تو بھر پور توجہ اور ادب
سے سننی چاہیے،صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہِ رسالت کا ادب آپ ﷺ کی ظاہری حیات
میں ہی نہیں بلکہ وصال ظاہری کے بعد بھی خوب خیال رکھتے اور احتیاط کرتے،چنانچہ ایک
مرتبہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں
دو شخصوں کی اونچی آواز سنی تو آپ نے فرمایا کہ تم دونوں جانتے ہو کہ کہاں کھڑے ہو؟
پھر ارشاد فرمایا: تم کسی علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ دونوں نے عَرْض کیا: ہم طائف کے
رہنے والے ہیں،فرمایا: اگر تم مدینۂ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزاد یتا۔
( کیونکہ مدینے والے حضور ﷺ کی بارگاہ کا خوب ادب جانتے ہیں) (تفسیر ابن کثیر، الحجرات،
تحت الآیۃ: 2، 7/343)
پیاری اِسْلَامی بہنو! دیکھا آپ نے صحابۂ کرام بارگاہِ
رسالت کا کتنا ادب بجا لاتے کہ وصال ظاہری کے بعد بھی مسجد نبوی میں اونچا بولنے
کی اجازت نہ تھی،ہمیں بھی چاہیئے کہ اس عظیم بارگاہ کے آداب سیکھیں اور ان پر عمل
کریں کہ اسی میں دنیا جہاں کی اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ پاک ہمیں بارگاہِ
رسالت کا ادب کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔
قرآن کریم میں بارگاہ نبوی کے 5
آداب از بنت ظفر اقبال،جامعۃ المدینہ کھیالی گجرانوالہ
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں جس سے محبت کی
جائے اس کا اول حق اس کا ادب کرنا ہے حضور ﷺ کی ذات طیبہ انتہائی احترام و ادب کی
متقاضی ہےآپ کا ادب و احترام ایمان کا جز ہے جب تک آپ کی
سچی تعظیم دل میں نہ ہو اگرچہ عمر بھر عبادت و ریاضت میں گزرے سب
بے کار ہے آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور آپ کا ادب و احترام خود خالق کائنات
نے قرآن پاک میں سکھایا اس سلسلے میں چند آیات ملاحظہ ہوں۔
آیات
قرآنیہ:قرآن کریم میں اللہ پاک نے متعدد
مقامات پر اپنے پیارے نبی کے ادب و احترام کا حکم فرمایا، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ
ہے:
1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا
انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ
کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں
کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر:جب حضور ﷺ صحابہ کو کچھ تعلیم و
تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کرتے راعنا یارسول اللہ اس کے معنی
ہم پر رعایت کریں یعنی اچھی طرح سمجھنے دیں اور یہود کی زبان میں
یہ گالی تھی چنانچہ مومنین کو اس سے منع کر دیا گیا اور کہا گیا عرض کرو انظرنا
اور پہلی بار ہی توجہ سے سنو۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام
علیہم السلام کی تعظیم و تکریم کا لحاظ فرض ہے اور بالخصوص نبی الانبیاء ﷺ کی
بارگاہ کا ادب۔ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انبیاء
کرام کی جناب میں ادنیٰ گستاخی کفر ہے۔ (تفسیر صراط الجنان،
البقرۃ، تحت الآیۃ: 104)
2۔ایک اور موقع پر اللہ پاک نے مومنوں کو آداب نبوی سے
خبردار کرتے ہوئے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا
بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ
نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ
فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی
النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ-(پ 22، الاحزاب:53)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والونبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ
مثلا کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے
جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ
بے شک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور الله حق
فرمانے میں نہیں شرماتا۔
تفسیر: اس کا شان نزول کچھ یوں ہے کہ حضور
علیہ السلام نے حضرت زینب سے نکاح کیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی تو لوگ جماعت
کی صورت میں آتے اور کھانے سے فارغ ہو کر چلے جاتے آخر میں تین صاحب رہ گئے جو
کھانے سے فارغ ہو کر گفتگو میں مصروف ہوئے اور یہ سلسلہ طویل ہوگیا، مکان کی تنگی
کے سبب اہل خانہ کو تکلیف ہوئی حضور علیہ السلام اٹھے اور حجروں میں تشریف لے گئے
اور جب دور فرما کر تشریف لائے تو اس وقت تک یہ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضور
علیہ السلام پھر واپس ہو گئے تو یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوگئے، اس
پر یہ آیت نازل ہوئی معلوم ہوا کہ اللہ کی بارگاہ میں جو مقام حضور علیہ السلام کو
حاصل ہے وہ مخلوق میں سے کسی کو نہیں اور اللہ نے آپ کی بارگاہ کا ادب مسلمانوں کو
خود سکھایا کہ احکام و آداب کی مکمل رعایت
کرتے ہوئے داخلِ دربار ہو۔(تفسیر صراط الجنان، الاحزاب، تحت الآیۃ:
53)
3۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ
اِذَا دَعَاكُمْ (پ 9، الانفال:24) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ و رسول کے بلانےپر
حاضر ہو جب رسول تمہیں بلائیں۔
تفسیر:
اس آیت میں واحد کا صیغہ استعمال
ہوا کہ حضور علیہ السلام کا بلانا اللہ کا بلانا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں بتایا گیا
کہ اس بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ جب وہاں بلایا جائے تو بلاتاخیر فوراً حاضر ہو۔
بخاری شریف میں
ہے حضرت ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد نبوی
میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسول اکرم ﷺ نے بلایا لیکن میں حاضر نہ ہوا (نماز سے
فارغ ہونے کے بعد) میں نے حاضر خدمت ہوکر عرض کی یارسول اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا
تو سرکار علیہ السلام نے فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہ فرمایا: اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ
اِذَا دَعَاكُمْ (پ 9، الانفال:24) ترجمہ: اللہ
اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب وہ تمہیں بلائیں۔(تفسیر صراط الجنان،
الانفال،تحت الآیۃ: 24)
4۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا
بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ(پ 26، الحجرات:1) ترجمہ کنز
الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول
سے آ گے نہ بڑھو۔ اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب ﷺ کا ادب و
احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی، اور خلاصہ یہ ہے کہ ایمان والو! اللہ اور اس کے
رسول کی اجازت کے بغیر کسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم
ہے اور تمام اقوال و افعال میں اللہ سے ڈرو اور یہ ڈرنا تمہیں آگے
بڑھنے سے روکے گا۔
مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت کا
شان نزول کچھ بھی ہو مگر حکم عام ہے کسی کام میں حضور علیہ السلام سے آگے ہونا منع
ہے اگر حضور علیہ السلام کے ہمراہ راستے میں جا رہے ہوں تو آگے آگے چلنا منع ہے
اسی طرح اپنی رائے کو حضور علیہ السلام کی رائے سے
مقدم کرنا حرام ہے۔(تفسیر صراط الجنان، الحجرات، تحت الآیۃ: 1)
5۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ
لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26،
الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب
بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک
دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ اس میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو
اپنے حبیب کے دو عظیم آداب سکھائے ہیں؛ پہلا یہ کہ اے ایمان والو! جب نبی علیہ
السلام تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند
نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہو وہ آہستہ اور پست آواز سے کہو۔
دوسرا یہ کہ حضور علیہ
السلام کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام
لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ جو عرض کرنا ہو ادب و تعظیم اور توصیف و
تکریم کے کلمات عظمت والے القاب کے ساتھ عرض کرو مثلا ً یا رسول اللہ یا نبی اللہ
کہہ کر عرض کرو۔ (تفسیر صراط الجنان، الحجرات، تحت الآیۃ: 02)
سیکھنے
کے مدنی پھول:یہ تمام احکام حضور ﷺ کی ظاہری
حیات طیبہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تاقیامت باقی رہیں گے۔ ان آیات میں ہمارے لئے یہ درس
ہے کہ محبوب علیہ السلام کی بارگاہ، احادیث، سنتوں وغیرہ کا ادب کریں، جب درس حدیث
ہو رہا ہو تو آوازوں کو پست رکھیں اگرچہ کوئی اور درس دے رہا ہو مگر کلام محبوب
خدا علیہ السلام کا ہے اسی طرح درِ اقدس پر حاضری ہو تو وہاں کی ہر چیز کے
ادب کا خیال رکھیں کہ وہ سر کے بل چلنے کی جگہ ہے سلام عرض کرنا ہو
تو دور کھڑے ہوکر پست آواز سے عرض کریں کیونکہ بغیر ان کے ادب و احترام تمام
عبادات و اعمال حبط (برباد) ہیں۔
صحابہ کرام کا ادب و احترام:صحابہ کرام اور صحابیات کا
عمل ہمارے لئے مثالی نمونہ ہے، آئیے! ملاحظہ کیجیے کہ صحابہ ادب نبوی کے
لئے کیسے متحرک رہتے، چنانچہ جب حضور ﷺ نے خیبر سے واپسی کا ارادہ
فرمایا تو اونٹ قریب لایا گیا محبوب خدا ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے
کپڑے سے پردہ کرایا اور زانوئے مبارک (گھٹنے کے اوپر کی ہڈی )کو قریب کیا تا کہ آپ
رضی اللہ عنہا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جائیں مگر قربان جائیں حضرت صفیہ
کے ادب و تعظیم مصطفی ٰپر کہ آپ کے دل نے گوارا نہ کیا کہ اپنا پاؤں حضور ﷺ کے
مبارک زانو پر رکھیں، چنانچہ روایت میں ہے کہ آپ تعظیم مصطفی کے پیش نظر آپ ﷺ کے زانوئے
مبارک پر گھٹنا رکھ کر سوار ہوئیں۔ (فیضان امہات المومنین،ص
297)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنت غلام علی گیلانی، کھیالی گوجرانوالہ
ہمارا ایمان و
عقیدہ ہے کہ قرآن کے بیان کیے ہوئے طریقے کے مطابق ادبِ بارگاہِ نبوی جب تک نہ کیا
جائےایمان کامل و اکمل نہیں ہو سکتا۔ الله پاک نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کی قرآن میں سیرت
بیان فرمائی اور ان کی بارگاہ کے آداب بیان فرما کر ان آداب کو بجالانےکا حکم
فرمایا۔قرآن کی بے شمار آیات اس پر شاہد ہیں کہ اہلِ ایمان پرنبی کریم ﷺ کی بارگاہ
کا ادب اور تعظیم ہر حال میں ملحوظ ِخاطر رکھناایمان کی سلامتی کے لیے لاز می وضروری
ہے۔
1۔ نبی ﷺ کو
ایسے نہ پکارو جیسے آپس میں مخاطب ہوتے ہو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا
اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ
كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا
تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26،
الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب
بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک
دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
مفسرین نے اس کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہﷺ کو ندا کرو توادب
سے تکریم اور توقیرو تعظیم کے ساتھ معظم القاب سےنرم آواز کے ساتھ متواضعانہ لہجہ
میں ”یانبی الله،یا حبیب الله“ عرض کریں۔
بارگاہِ ناز میں آہستہ بول ہو نہ سب کچھ رائیگاں آہستہ
چل
امام مالک
فرماتے ہیں: تاجدارِ ر سالت ﷺکی عزت و حرمت آج بھی اسی طرح ہے جس طرح حیاتِ ظاہری میں
تھی۔
2۔نبی ﷺ کے
قول و فعل میں آگے نہ بڑھنے کا حکم: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا
بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ
عَلِیْمٌ(۱)(پ 26،
الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
مفتی نعیم الدین مرادآ بادی رحمۃ اللہ علیہ اس
آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں: یعنی تمہیں الزام ہے کہ اصلاً تم سے تقدیم واقع نہ ہو،نہ
قول میں نہ فعل میں کہ تقدیم کرنا ادب کے خلاف ہے اور بارگاہِ نبوی میں نیاز مندی
و آداب لازم ہے۔
3۔ جانِ
کائنات ﷺ کوحجروں کے باہر سے پکارنےوالوں کو جاہل اور بے عقل کہا گیا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ
اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات: 4) ترجمہ: بےشک وہ جو
تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔اور اگر وہ صبر کرتے
یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے
والا مہربان ہے۔
الله پاک نےاس
آیتِ مبارکہ میں حضور ﷺ کی عظمتِ شان کا اظہار فرمایا ہے کہ بارگاہِ رسالت مآبﷺ
میں اس طرح حجروں کے با ہر سے پکارنا نادانی وبے عقلی ہے۔ رحمۃ للعالمینﷺ کی جناب
میں کلماتِ ادب عرض کرنافرض ہے۔
4۔نبی ﷺکی
بارگاہ میں ایسے الفاظ کا استعمال ممنوع ہے جس میں ترکِ ادب کا شائبہ ہو۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ
کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں
کے لیے دردناک عذاب ہے۔
مفتی نعیم
الدین مراد آبادی فرماتے ہیں:جب حضور ﷺصحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو کبھی کبھی
وہ درمیان میں عرض کیا کرتے:راعنا یا رسول الله!یا
رسول اللہ!ہمارے حال کی رعایت فرمائیے۔ یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا
موقع دیجئے۔یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوءِ ادب کے معنی میں تھا یہودیوں نے اس نیت
سے کہنا شروع کردیا۔پھر اللہ نےیہ آیت نازل فرما کر لفظ راعنا
کہنے کی ممانعت فرمادی۔ اس کے معنی کا دوسرا لفظ انظرنا
کہنے کا حکم فرما دیا۔معلوم ہوا!انبیا علیہم السلام کی تعظیم اور ان کی جناب میں
کلماتِ ادب عرض کرنا فرض ہے۔جس میں ترک ادب کا شبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع
اور ان کے اعلیٰ مراتب کا لحاظ لازم ہے۔ للکفرین
میں اشارہ ہے کہ انبیا علیہم السلام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے۔
5۔اللہ نے نبیﷺ
پر ایمان لانے کے ساتھ ان کی تعظیم کا حکم فرمایا۔ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ
مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-( الفتح:8-9)ترجمہ
کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول
کی تعظیم و توقیرکرو۔ ان دونوں آیات میں اللہ پاک نے رسولِ کریم ﷺ کی
رسالت اور ان کے حاضر و ناظر ہونے اور ان پر ایمان لا نے کےساتھ اپنے حبیب کی
تعظیم و توقیر کا حکم فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد حضور کی تعظیم و
تو قیر بنیادی عنصر ہے کیونکہ اس آیت میں ایمان کے بعد تعظیمِ مصطفٰے کا ذکر ہے،
اس کے بعد اعمال کا ذکر ہے۔
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بند گی اس تاجور
کی ہے
صحابی
رسول کا بارگاہِ نبوی کے ادب کا انداز: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں۔جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ
لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26،
الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب
بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک
دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
آ سکتا ہے کب ہم سے گنواروں کو ادب وہ جیسا کہ ادب کرتے تھےیارانِ
محمد
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ بشیر احمد،صابری کالونی اوکاڑہ
اللہ پاک کی بارگاہ
میں سید المرسلین ﷺ کی شان اتنی بلند ہےکہ ان کی بارگاہ کے آداب خود اللہ پاک نے ارشاد
فرمائے۔ حضور ﷺ کی تعظیم جزءِ ایمان و رکنِ ایمان ہے اور فعل ِتعظیم ایمان کے بعد ہر
فرض سے مقدم ہے۔ کافر کے دل میں حضور ﷺکا ادب آجائے تو مومن ہو سکتا ہے اور مومن کے
دل میں بے ادبی کی بیماری ہو جائے تو ایمان کے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہے۔
(1)اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ (پ26،الحجرات:1) ترجمہ کنز العرفان:
الله اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ اے ایمان والو!اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی اجازت
کے بغیر کسی قول اور کسی فعل میں حضور ﷺسے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے
بڑھنا حضور اقدس ﷺ کے ادب و احترام کے خلاف ہے۔
(2)اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے۔ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ
26، الحجرات:2 ) ترجمہ کنزالعرفان: اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
فرمایا جارہا ہے
کہ جب نبی کریم ﷺ تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر
لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو۔ جو عرض کرنا ہو آہستہ اور پست آواز
میں کرو کیونکہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں آواز بلند کرنا منع ہے۔
(3)الله پاک ارشاد
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا
بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ (پ
22، الاحزاب: 53) ترجمہ کنز العرفان:نبی کے گھر نہ حاضر ہو جب تک اجازت نہ ہو۔ اس آیت
میں حضور ﷺ کے گھروں میں جانے کے آداب اللہ پاک سکھا رہا ہے کہ اے ایمان والو !بغیرا
جازت میرےحبیب کے گھر میں داخل نہ ہو۔
(4)اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ- (پ7، المائدۃ: 101) ترجمہ کنز العرفان: ایسی باتیں نہ
پوچھو جو تم پر ظاہر ہوجائیں تو تم کو بری لگیں۔ حضورﷺ سے مختلف مجالس میں لوگوں نے
غیر متعلقہ اور غیر مفید سوالات کئے تھے ان امور کے متعلق اللہ پاک نے صحابہ کرام کی
تربیت فرمادی اور بارگاہ رسالت میں فضول سوالات کرنے کی ممانعت فرمادی۔
5۔ اللہ پاک نےپارہ 26 الحجرات آیت نمبر2میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تَجْهَرُوْا
لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُم ترجمہ کنز العرفان: ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات
نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال بربادنہ
ہوجائیں۔ اس آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ حضور ﷺ کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو
جیسے ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو
ادب و تعظیم کے کلمات اور عظمت والے القابات کے ساتھ عرض کرو جیسے کہو: یارسول الله
ﷺ! یانبی اللہ ﷺ!۔ کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے۔
حضرت
فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا بارگاہ رسالت کا ادب: جب بارگاہ رسالت
کے آداب کی آیات نازل ہوئیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ بارگاہ
رسالت میں بہت آہستہ بات کرتے حتی کہ بعض اوقات حضور اکرم ﷺ کو بات سمجھنے کے لیے دوبارہ
پوچھنا پڑتاکہ کیا کہتے ہو؟
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ فلک شیر،آہیر پورہ جوہر آباد
سید المرسلینﷺ
کی شان رب تعالیٰ کےدربارمیں ایسی بلند ہےکہ ان کی بارگاہ کے آداب اوربےادبی پر
وعیدات رب تعالیٰ نےخود بیان فرمائیں اور یہ ادب کا حکم صرف انسانوں کے ساتھ ہی
خاص نہیں بلکہ ملائکہ وجن وانس سبھی اس میں شامل ہیں۔
چند آداب پیش
خدمت ہیں:
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ
وَ رَسُوْلِهٖ (پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو۔ اس آیت میں
اللہ ورسولﷺ دونوں سے آگے نہ بڑھنے کا فرمایا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کی بے ادبی دراصل
اللہ پاک کی بےادبی ہے۔
(2) یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی
آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔ یہ حکم صرف آپ کی ظاہری
حیات مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ وصال ظاہری کے بعد سے قیامت تک یہی حکم باقی
ہے۔
(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ(الاحزاب:
54) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والونبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ
پاؤ۔ تمام عبادات بدن کا تقوٰی ہیں اور حضورﷺکاادب دل کا تقوٰی ہے۔
(4) لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ
بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (النور:
63) ترجمہ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک
دوسرے کو پکارتا ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ حضورﷺ کی پکار پر جواب دینا
اور عمل کرنا واجب ہے اور دوسرا یہ کہ حضور کو تعظیم وتکریم والے الفاظ سے پکارا
جائے۔
(5) یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا (البقرۃ:104) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ کہو اور یوں
عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں۔ راعنا کا معنی ہے: ہمارے حال کی رعایت کیجیے۔ یہودیوں کی لغت میں
یہ کلمہ بے ادبی کامعنی رکھتا تھااس لیے مسلمانوں کو اس سے منع فرما دیا گیا۔
تومعلوم ہوا
کہ جس لفظ میں ترک ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ ہووہ حضور کے لیے استعمال کرنا
ممنوع ہے۔
نوٹ:
مکمل
مضمون تفسیر صراط الجنان سے ماخوذہے۔
بزرگ
کا واقعہ: امام
مالک علیہ الرحمہ کےادب کا عالم یہ تھا کہ جب بھی آپ کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا ذکر
خیرکیا جاتا تو آپ کی پشت مبارک جھک جاتی اور آپ کے چہرے مبارک کا رنگ متغیر ہو
جاتا(صحابہ کرام کا عشق رسول،ص 50 )
درس ہدایت: مسلمانوں کو
چاہیے کہ ان آیات وروایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بحیثیت امتِ رسول ﷺ جب بھی حضورﷺ
کا ذکر خیر کیا جائے یاجب بھی روضہ انور پر حاضری
کا شرف نصیب ہو تو آداب کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئےمعتدل راہ اختیار
کریں۔
اللہ کریم ہمیشہ بارگاہ رسالت مآبﷺکا باادب رکھے اور روضہ اقدس کی حاضری
سے مشرف فرمائے۔ اٰمین
شعبہ ڈونیشن بکس دعوتِ اسلامی کے تحت پنجاب پاکستان
کے شہر ملتان میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 10 دسمبر 2022ء بروز ہفتہ ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں شعبے کی ڈویژن مینجمنٹ نے شرکت کی۔
تلاوتِ قراٰنِ پاک و نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم سے میٹنگ کا آغاز کرنے کےبعد صوبائی ذمہ دار محمد زاہد بغدادی عطاری نے ذمہ
داران سے 12 دینی کاموں کے حوالے سے گفتگو
کی بالخصوص ایک ماہ کے مدنی قافلےمیں سفر کرنے کی ترغیب دلائی۔
صوبائی ذمہ دار نے شعبے کے نظام میں کیسے ترقی
لائی جا سکتی ہے اس پر کلام کرتے ہوئے کارکردگیوں کا جائزہ لیا نیز مختلف موضوعات
پر مشاورت کی اور ذمہ داران کو آئندہ کے لئے نئے اہداف دیئے۔
مزید صوبائی ذمہ دار نے سافٹ ویئر کے متعلق شرکا
کی ذہن دسازی کی اور دعوتِ اسلامی کے اخراجات کیسے پورا کیا جا سکتا ہےاس پر
تبادلۂ خیال کیا۔
Dawateislami