دنیا کے شہنشاہوں کا اصول یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور دربار کے آداب خود بناتا ہے دنیا سے جاتے ہوئے تعظیم کے نظام کو بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن کائنات میں ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کے دربار کا عالم ہی نرالا ہے اس کی بارگاہ کے آداب اور اصول نہ خود اس نے اور نہ ہی مخلوق نے بنائے بلکہ تمام بادشاہوں کے بادشاہ اللہ پاک نے قرآن میں بیان فرمائے اور خاص وقت کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے مقرر فرمائے اور وہ عظیم شہنشاہ اس کائنات کے مالک و مختار محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔

اعلی حضرت فرماتے ہیں:

مولا علی نے واری تیری نیند پر نماز

اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلی خطر کی ہے

صدیق بلکہ غار میں جان ان پر دے چکے

اور حفظِ جاں تو جان فروض غرر کی ہے

ہاں تو نے ان کو جان انہیں پھیر دی نماز

پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں

اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

قرآنی آیات:

1۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ(پ9، الانفال:24) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ و رسول کے بلانےپر حاضر ہو جب رسول تمہیں بلائیں۔

تفسیر: حضور اکرم ﷺجب بھی بلائیں فوراً ان کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے۔

2- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-(پ18،النور: 63) ترجمہ کنزالعرفان: اے لوگو! رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنا لو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔

تفسیر: ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نبی ﷺکو نہ پکارو۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: علما تصریح فرماتے ہیں حضور ﷺکو نام لے کر ندا کرنا حرام ہے، خالی نام کی بجائے القاب سے پکارنا چاہیے۔

3-اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پ26، الحجرات: 1)ترجمہ کنزالعرفان: ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

تفسیر: کسی قول اور فعل میں ان سے آگے نہ بڑھو۔ تمام مخلوق پر حضور کی اطاعت واجب ہے۔

4-اللہ پاک فرماتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر: جس کلمہ میں ادب ترک ہونے کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے جیسا کہ لفظ راعنا کو تبدیل کرنے کا حکم دینے سے یہ بات واضح ہے۔

5- اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات: 4) ترجمہ: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر: حجروں کے باہر سے پکارنے والوں کو اللہ نے بے عقل فرمایا اور انہیں تعظیم کی تعلیم دی۔

درس: ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اس کے حبیب کا ادب انتہائی مطلوب ہے، ان کا ادب نہ کرنا اللہ پاک کو انتہائی ناپسندیدہ ہے حضور کا ادب کرنا شرک نہیں۔

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب اس بُرے مذہب پہ لعنت کیجیے

لہٰذا ان آداب کو بجا لانا چاہیے۔

بزرگ کا واقعہ:امام مالک رحمۃ اللہ علیہ مسجد نبوی میں درس دیا کرتے تھے جب ان کے حلقے میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی آپ ایک آدمی مقرر کر لیں جو آپ سے حدیث پاک سن کر لوگوں کو سنا دے۔ امام مالک نے فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: اے ایمان والو اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔ اور رسول کی عزت زندگی اور وفات دونوں میں برابر ہے اس لیے میں یہاں کسی شخص کو آواز بلند کرنے کے لئے ہر گز مقرر نہیں کر سکتا۔ (صراط الجنان)