ہمسایہ کا حق صرف یہ نہیں کہ آپ اس سے اس کی
تکلیفیں دور کریں بلکہ ایسی چیزیں بھی اس سے دور کرنی چاہئے کہ جن سے اسے دکھ
پہنچنے کا احتمال ہو، ہمسائے سے دکھ دور کرنا، اسے دکھ دینے والی چیزوں سے دور
رکھنے کے علاوہ کچھ اور بھی حقوق ہیں، اس سے نرمی اور حسن سلوک سے پیش آئے، اس سے
نیکی اور بھلائی کرتا رہے۔ ہمسایوں کے حقوق حدیث پاک کی روشنی میں ملا حظہ فرمائیں۔
اپنے ہمسائے سے اچھا برتاؤ کرو: فرمان
رسول ﷺ ہے: اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کر تب تو مسلمان ہوگا۔ (شعب الایمان،
5/53، حدیث: 575)
اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دیجیئے: ایک
شخص آقا ﷺ کی خدمت میں اپنے ہمسایہ کا شکوہ کیا حضور ﷺ نے اس سے فرمایا صبر کر، تیسری
یا چوتھی بار آپ نے فرمایا اپنا سامان راستہ میں پھینک دے، راوی کہتے ہیں کہ لوگوں
نے جب اس کے سامان کو باہر راستہ پر پڑا دیکھا تو پو چھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا
مجھے ہمسایا ستاتا ہے، لوگ وہاں سے گزرتے رہے، پوچھتے رہے اور کہتے رہے اللہ پاک
اس ہمسایہ پر لعنت کرے، جب اس ہمسایہ نے یہ بات سنی تو آیا، اسے کہا اپنا سامان
واپس لے آؤ، بخدا میں پھر تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا۔ (صحیح ابن حبان، 1/368، حدیث:
521)
ہمسائے کو دکھ دینے والا جہنم میں
جائے گا: مروی
ہے کہ ایک عورت نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آ کر کہا میرا ہمسایہ ہے جو
مجھے تکلیف دیتا ہے، گالیاں دیتا ہے اور تنگ کرتا ہے، آپ نے یہ سن کر فرمایا جاؤ
اگر وہ تمہارے متعلق اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو تم اس کے بارے میں اللہ کی اطاعت
کرو، حضور ﷺ سے عرض کی گئی، یارسول اللہ فلاں عورت دن کو روزہ رکھتی ہے،رات کو
عبادت کرتی ہے مگر اپنے ہمسایوں کو دکھ دیتی ہے آپ نے یہ سن کر فرمایا: وہ جہنم
میں جائے گی۔ (مستدرک للحاکم، 5/231، حدیث: 7384)
جب کوئی چیز لائے تو اپنے ہمسایہ کو بھی کھانے کے
لیے دے، حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
عنہ کے پاس بیٹھا تھا اور آپ کا غلام بکری کی کھال اتار رہا تھا آپ نے کہا: اے
غلام جب بکری کی کھال اتار لے تو سب سے پہلے ہمارے یہودی ہمسایہ کو گوشت دینا،آپ
نے یہی بات متعدد بار کہی تو غلام نے کہا اب اور کتنی مرتبہ کہیں گے؟ تب آپ نے
فرمایا: حضور ﷺ ہمیں ہمسائیوں کے متعلق وصیت فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں
اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمسایوں کو وارث نہ بنا دیا جائے۔ (ترمذی، 3/379، حدیث: 1949)
اپنے ہمسائے کی عزت کیجیے: حضور
ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آ خرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔
(بخاری، 4/105، حدیث: 6019)
آقا ﷺ کا فرمان ہے: ہمسائے تین ہیں، ایک ہمسایہ کا
ایک حق، دوسرے کے دو حق اور تیسرے کے تین حقوق ہیں، جس ہمسائے کے تین حقوق ہیں وہ
رشتہ دار مسلمان ہمسایہ ہے، اس کا ہمسائیگی کا حق، اسلام کا حق اور رشتہ داری کا
حق ہے۔ جس ہمسایہ کے دو حقوق ہیں وہ مسلمان ہمسایہ ہے اس کے لیے ہمسائیگی کا حق ہے
اور اسلام کا حق ہے اور جس ہمسائے کا ایک حق ہے وہ مشرک ہمسایہ ہے۔ غور کیجئے کہ
اسلام نے مشرک ہمسایہ کا بھی حق ہمسائیگی رکھا ہے۔ (شعب الایمان، 7/83، حدیث: 9560
)
اللہ پاک ہم سب کو اخلاص کے ساتھ ہمسائیوں کے حقوق
ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمسائیگی کو عربی میں ”جوار“ کہا جاتا ہے اور پڑوس
کو ”جار“ کہتے ہیں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے خوشگوار اور مطمئن معاشرہ پیدا
کرنے کے لیے انسانی زندگی کو کوئی انفرادی اور اجتماعی پہلو ایسا نہ چھوڑا جس سے
ہمیں واسطہ نہ پڑتا ہو چنانچہ رہائش اور سکونت کے لحاظ سے سب سے زیادہ واسطہ ہر
ایک کو اپنے ہمسائے یعنی پڑوسی سے پڑتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ نے
ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ارشاد فرمایا: وَ
الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء:
36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی ( کے ساتھ حسنِ سلوک سے
پیش آؤ)۔
حدیث شریف میں ہے: جبرائیل مجھے ہمیشہ پڑوسی کے
حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے! یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ وہ اسے وارث ہی
بنا دیں گے۔ (بخاری، 4/104، حدیث: 6014)
بہترین پڑوسی کون؟ حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کریم
کے نزدیک بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوستوں کے لیے اچھا ہو اور اللہ کریم کے نزدیک
بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے لیے اچھا ثابت ہو۔ (شعب الایمان، 7/83، حدیث:
9560 )
پڑوسی کو تکلیف نہ دیجیے: تاجدارِ
رسالت ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی
کو ہرگز تکلیف نہ دے۔ (مسلم، ص 43، حدیث: 47) مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد
یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: یعنی اس کو تکلیف دینے کے
لیے کوئی کام نہ کرے، کہا جاتا ہے: ہمسایہ اور ماں جایا برابر ہونے چاہئیں۔ افسوس
مسلمان یہ باتیں بھول گئے قرآن مجید میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا، بہرحال
پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگیے۔ (مراۃ المناجیح،
6/53)
مزید پڑوسیوں کے حقوق ملاحظہ فرمائیں: اگر وہ محتاج
ہوں تو اسے کچھ دے، بیمار ہو تو عیادت کرے، کوئی خوشی حاصل ہو تو مبارکباد دے،
مصیبت پہنچے تو تعزیت کرے، مر جائے تو جنازے میں شریک ہو، بلا اجازت اس کے مکان سے
اونچا مکان بنا کر اس کی ہوا نہ روکے، اگر کوئی پھل خرید کر لائے تو کچھ اسے بھی
دے۔
ہمسائے کی بکری کو بھی تکلیف نہ دو! حضرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک دن ہمسائے کی بکری گھر میں داخل ہوگئی
جب اس نے روٹی اٹھائی تو میں اس کی طرف گئی اور روٹی کو اس کے جبڑے سے کھینچ لیا۔
یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا: تجھے اس کو تکلیف دینا امان نہ دے گا کیونکہ یہ بھی ہمسائے
کو تکلیف دینے سے کچھ کم نہیں۔ ( مکارم الاخلاق، ص 395، حدیث: 239)
اللہ کریم ہمیں پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے
ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
ہمسایہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے ”ہم“ اور ”سایہ“ ہمسایہ
کے لئے عربی زبان میں ”جار“ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد وہ لوگ جو ایک دوسرے
کے قرب و جوار اور پڑوس میں رہتے ہیں۔ عام اصطلاح میں ہمسایہ سے مراد ہم رہائش
یعنی ساتھ ساتھ رہنے والے ہی ہوتے ہیں۔ الله پاک نے قرآن کریم میں ہمسایوں کے حقوق
ادا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ
5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا
سلوک کرو)۔
پڑوسی کے حقوق سے متعلق 5 فرامینِ مصطفیٰ:
1۔ جبرئیل مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے،
یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ (بخاری، 4/104، حدیث:
6014)
2️۔ الله تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے
جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔ (ترمذی، 3/379، حدیث:1951)
3۔ الله تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا
ہے اسے شیریں بنا دیتا ہے۔ عرض کی گئی: شیریں بنانے سے کیا مراد ہے؟ تو ارشاد
فرمایا: ہمسایوں کے نزدیک اسے محبوب بنا دیتا ہے۔ (مستدرک للحاکم، 1/658، حدیث:
1298)
4۔ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اس بات سے منع نہ کرے کہ
وہ اس کی دیوار میں شہتیر گاڑھ لے۔ (مسند امام احمد، 3/105، حدیث: 7706 )
5۔ جو شخص الله اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ
اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (مسلم، ص 43، حدیث: 48 )
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا پڑوسی کے حقوق ادا
کرنا ہم پر لازم ہے پڑوسی کا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کیا جائے
ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے ان کے باہمی تعلقات خوشگوار ہوتے ہیں، پڑوسی
کی عزت و تکریم کی جائے اس کی مالی و جسمانی ہر طرح سے مدد کی جائے اس کو تکلیف
دینے سے گریز کیا جائے، پڑوسی کو تحائف سے نوازے کہ ”تحفہ دینے سے آپس میں محبت
بڑھتی ہے“ اگر پڑوسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کیا جائے پڑوسی کو
برے افعال سے روکا جائے اور نیکی کی تلقین کی جائے، دین و دنیا کے جس معاملے میں
انہیں رہنمائی کی ضرورت ہو اس میں ان کی رہنمائی کرے پڑوسی کی خوشی میں شریک ہونے
سے اس کی خوشی دوبالا ہو جاتی ہے اور غمی میں شریک ہونے سے اس کا غم ہلکا ہو جاتا
ہے، پڑوسی کے ساتھ سلام میں پہل کرے، اس کی اولاد کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرے۔
الله سے دعا ہے کہ ہمیں دوسروں کو تکلیف دینے سے
بچائے اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین
ﷺ
اسلام نے جہاں ماں باپ اور عزیز و اقارب سے امن و
سلامتی محبت ہمدردی و اخوت، پیار اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا حکم
دیا ہے وہیں ہمارے آس پاس رہنے والے لوگوں کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے یعنی اپنے پڑوسیوں
کا خیال رکھنا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہے
کیونکہ اگر ایک محلے یا سوسائٹی میں رہتے ہوئے اپنے پڑوسیوں سے نہ ملیں گے یا اچھا
سلوک نہ کریں گے تو اس سے معاشرہ میں خرابیاں پیدا ہوں گی اگر ہم پڑوسیوں سے مل جل
کر رہیں گے تو معاشرہ اچھار ہے گا۔ پڑوسیوں کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ
5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور
دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں احادیث مبارکہ
ملاحظہ ہوں۔
فرامینِ مصطفیٰ:
1۔ اللہ تین طرح کے لوگوں سے محبت فرماتا ہے (ان
میں سےایک وہ ہے) جس کا برا پڑوسی اسے تکلیف دے تو وہ اس کے تکلیف دینے پر صبر کرے
یہاں تک کہ اللہ اس کی زندگی یا موت کے ذریعے کفایت فرمائے۔ (معجم کبیر، 2/ 152، حدیث:
1637)
2۔ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اگر فوت ہو
جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو، اگر قرض مانگے تو اسے قرض دے دو اور اگر وہ عیب
دار ہو جائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ ( معجم كبير، 19/ 419، حديث: 1014)
3۔ جس نے اپنے پڑوسی کو تکلیف دی بے شک اُس نے مجھے
تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اُس نے اللہ پاک کو ایذا دی، نیز جس نے اپنے پڑوسی
سے جھگڑا کیا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور جس نے مجھ سے لڑائی کی بے شک اس نے اللہ پاک
سے لڑائی کی۔ (ترغیب و ترہيب، 3/286، حديث:3907)
4۔ جس کے شر سے اُس کا پڑوسی بےخوف نہ ہو وہ جنت
میں نہیں جائے گا۔ (مسلم، ص 43، حدیث: 73)
5۔ نبی کریم ﷺ نے تین بار ارشاد فرمایا: الله کی
قسم! وہ مؤمن نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول اللہ! وہ کون ہے ؟ ارشاد
فرمایا: جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔ (بخاری، 4/104، حديث: 6016)
درس: پڑوسیوں کے
حقوق کے بارے میں ہم نے احادیث مبارکہ پڑھیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے پڑوسیوں کا
خیال رکھیں ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں اور ان کو کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی نہ
دیں۔ الله پاک ہمیں دوسروں کے حقوق پورا کرنے کی توفیق دے اور ہمارا خاتمہ بالخیر ایمان
پر ہو۔ آمین
اسلام نےجس طرح والدین عزیز و اقارب اور دیگر رشتہ
داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح قرب و جوار میں رہنے والے
ہمسایوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے اور بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الْجَارِ ذِی
الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز
العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ قریب کے ہمسائے
سےمراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہو اور دور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے
جومحلہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو یا جو پڑوسی بھی ہو
اوررشتہ دار بھی وہ قریب کا ہمسایہ ہے اور جو صرف پڑوسی ہو رشتہ دار نہ ہو وہ دور
کا ہمسایہ یا جو پڑوسی بھی ہو اور مسلمان بھی وہ قریب کا ہمسایہ اور جو صرف پڑوسی
ہو مسلمان نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ ہے۔ (تفسیرات احمدیہ، ص 275)
پڑوسیوں کے حقوق:
1۔ ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت
ہے کہ تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے متعلق
برابر وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔
(بخاری،4/ 104،حدیث 6014)
2۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے: اللہ کے نزدیک بہتر ین پڑوسی
وہ ہے جواپنے پڑوسی کا خیر خواہ ہو۔ (مشکاۃ، 1/55، حدیث: 175)
3۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے: جس نے اپنے پڑوسی کو ایذا دی
اس نے مجھے ایذادی جس نے مجھے دی اس نےاللہ پاک کو ایذادی۔ ( کنزالعمال، 5/25، حدیث:24922)
4۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں
نے اپنی امی جان خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ رات
کو مسجد بیت میں صبح صادق تک نوافل پڑھتی رہتیں میں نے آپ کو اپنے بجائے دوسرے
مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ دعائیں کرتے سنا،میں نے عرض کی امی جان! کیا وجہ ہے کہ
آپ اپنے لئے کوئی دعا نہیں کرتیں؟ فرمایا: پہلے پڑوس ہے پھر گھر۔ (مدارج نبوت، 2/461)
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پڑوسی
کےحقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اسے سلام کرنے میں پہل کرے، اس سےطویل گفتگو نہ کرے،اس
کے حالات کے بارے میں زیادہ پوچھ گچھ نہ کرے، وہ بیمارہو تو اس کی مزاج پرسی کرے،
مصیبت کے وقت اس کی غم خواری کرے اور اس کا ساتھ دے، خوشی کے موقع پر اسے مبارک
باد دے اور اس کے ساتھ خوشی میں شرکت کرے، اس کی لغزشوں سے در گزر کرے چھت سے اس
کے گھر میں نہ جھا نکے، اس کے گھر کا راستہ تنگ نہ کرے، اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے،
اگر وہ کسی حادثے کا شکار ہو تو فوری طور پر اس کی مدد کرے، اسے جن دینی یا دنیوی
امور کا علم نہ ہو ان کے بارے میں اس کی رہنمائی کرے۔
سینہ تری سنت کا مدینہ بنے آقا جنت میں پڑوسی مجھے تم
اپنا بنانا
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہمسایوں کےحقوق ادا
کرنے کا توفیق عطا فرمائے اور اپنا خوف دے۔
جیسے دنیا میں ماں باپ، بہن بھائی وغیرہ کے حقوق
ہوتے ہیں ویسے ہی پڑوسیوں کے حقوق ہوتے ہیں جیسے ہم اپنے رشتے داروں اور والدین کے
حقوق کا خیال رکھتے ہیں ویسے ہی ہمیں پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے پڑوسی
چاہے دور کا ہو یا قریب کا۔ قرآن پاک میں بھی پڑوسیوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں، جیسا
کہ الله پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ
الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء:
36) ترجمہ کنز
العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ احادیثِ مبارکہ
میں بھی پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا، چند ایک احادیث ملاحظہ
ہوں۔
فرامین مصطفیٰ:
1۔ خدا کی قسم! وہ مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ مومن
نہیں، خدا کی قسم! وہ مومن نہیں۔ عرض کی گئی، کون یا رسول الله؟ فرمایا: وہ شخص کہ
اس کے پڑوسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہوں۔ یعنی جو اپنے پڑوسیوں کو تکلیفیں دیتا
ہے۔ (بخاری، 4/ 104، حدیث: 6016)
2۔ جبرائیل مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے
رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث نہ بنا دیں۔ (بخاری، 4/104، حدیث:
6014)
3۔ وہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کا پڑوسی اس کی
آفتوں سے امن میں نہیں ہے۔ (مسلم، ص43، حدیث: 46)
4۔ وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کھائے اور اس کا
پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔ (شعب الایمان، 3/225، حدیث:3389)
5۔ جب کوئی شخص ہانڈی پکائے تو شوربا زیادہ کرے اور
پڑوسی کو بھی اس میں سے کچھ دے۔ (معجم اوسط، 2/379، حدیث: 3591)
الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی پڑوسیوں کے حقوق
ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے ہر ایک کے حقوق کو پورا کرنے کا
ہمیں حکم دیا ہے۔ حقوق العباد میں ہمسایوں کے بے شمار حقوق کا قرآن و حدیث میں بار
بار ذکر آیا ہے خود مالک کائنات اللہ کریم ہمسایوں کے بارے میں اپنے لافانی کلام
قرآن مجید میں ارشادفرماتا ہے: وَ الْجَارِ ذِی
الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز
العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی ( کے ساتھ حسن سلوک کرو )۔ مفسرین نے
فرمایا کہ قریب کے پڑوسی سے مراد وہ پڑوسی ہے جو تمہارے مکان کے متصل رہتا ہے اور دورسے
وہ پڑوسی مراد ہے جو تمھارے مکان سے کچھ فاصلہ پر رہتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے ہمسائے کے حقوق کی ادائیگی کو ایمان
کا حصہ قرار دیا، آئیے ہمسائے کے حقوق کے بارے میں حضور کے ارشادات ملاحظہ
فرمائیے۔
فرامینِ نبوی:
1۔ ہمسائے کو کھانا کھلانا: حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ
وہ کامل مومن نہیں ہو سکتا جو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں
بھوکا ہو۔ (شعب الایمان، 3/225، حدیث:3389)
2۔ ہمسائے کے شر پر سخت وعید:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:
اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہو سکتا! عرض کی گئی: کون یار سول اللہ؟ فرمایا: جس کا پڑوسی
اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔ (بخاری، 4/ 104، حدیث: 6016)
3۔ ہمسائے کی طرف سے دی گئی چیز کو حقیر
نہ جاننا: فرمایا:
اے مومن خواتین! تم میں سے کوئی ایک بھی اپنی پڑوسن سے آنے والی کسی چیز کو حقیر
نہ سمجھو خواہ وہ بکری کا ایک پایہ ہو۔ (بخاری، 2/165، حدیث: 2566)
4۔ پڑوسی کو تکلیف دینا: جس
نے اپنے پڑوسی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے
اللہ پاک کو ایذا دی۔(ترغیب و ترہيب، 3/286، حديث:3907)
5۔ پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے: رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی
کو اذیت نہ پہنچائے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6018)
اس کے علاوہ اور بہت سی احادیث میں پیارے آقا ﷺ نے
پڑوسیوں کے حقوق کو بیان فرمایا، چنانچہ ارشاد فرمایا: اگر وہ بیمار ہو تو اس کی
عیادت کرو اگر موت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو اگر قرض مانگے تو اسے قرض دو
اور اگر عیب دار ہو جائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ (معجم کبیر، 19/419، حدیث: 1014)
اللہ کریم ہمیں پڑوسیوں کے حقوق احسن طریقے سے ادا
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یادرکھئے! ہمسائیگی کچھ حقوق کا تقاضا کرتی ہے جو
ان حقوق کے علاوہ ہیں جن کا اخوت اسلامی تقاضا کرتی ہے۔ ایک مسلمان جن باتوں کا
مستحق ہوتا ہے ان تمام کا اور ان سے کچھ زائد کا مسلمان ہمسایہ مستحق ہوتا ہے۔
پڑوسی کی اقسام: سرکار
دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پڑوسی تین قسم کے ہیں: (1) وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہوتا ہے۔
(2) وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں اور (3) وہ پڑوسی جس کے تین حق ہوتے ہیں۔
مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین حق ہیں: حقِ پڑوس، حقِ اسلام اور رشتہ داری کا حق۔
مسلمان پڑوسی کے دو حق ہیں: حقِ پڑوس اور حقِ اسلام۔ مشرک پڑوسی کا صرف ایک حق ہے:
حق پڑوس۔ (شعب الایمان، 7/83، حدیث: 9560) اس حدیث پاک میں غور کریں تو معلوم ہوتا
ہے کہ حضور ﷺ نے مشرک کے لئے بھی صرف پڑوس کے باعث حق ثابت فرمایا۔ رسول پاک ﷺ نے
پڑوسی کے بہت سارے حقوق بیان فرمائے ہیں جن میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:
پڑوسیوں کے حقوق:
1۔ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کر تو (کامل)
مسلمان ہو جائے گا۔(ابن ماجہ، 4/475، حدیث:
4217)
2۔ محبوب رب ذوالجلال ﷺ نے ارشاد فرمایا: جانتے ہو
پڑوسی کا حق کیا ہے؟ پھرارشاد فرمایا: اگر وہ تم سے مدد چاہے تو اس کی مدد کرو،
اگر تم سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، اگر محتاج ہو تو اس کی حاجت پوری کرو، اگر اسے
کوئی بھلائی پہنچے تو مبارکباد دو اور اگر کوئی مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو، اس کی
اجازت کے بغیر اس کے گھرسے اونچا گھر نہ بناؤ کہ اسے ہوا نہ پہنچے، اسے تکلیف نہ
پہنچاؤ، اگر تم کوئی پھل خرید کر لاؤ تو اس میں سے پڑوسی کو بھی کچھ بھیجو، اگر
ایسا نہ کر سکو تو چھپا کر لے جاؤ اور اپنے بچوں کو بھی وہ پھل گھر سے باہر نہ
لانے دو کہ پڑوسی کے بچے اس پھل کی وجہ سے غمگین ہوں گے اور اپنی ہنڈیا کی خوشبو
سے بھی پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ مگر یہ کہ کچھ سالن اسے بھی بھیج دو۔ یہ فرمانے
کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا: جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے
قبضہ قدرت میں میری جان ہے! پڑوسی کا حق صرف وہی ادا کر سکتا ہے جس پر اللہ رحم
فرمائے۔ (شعب الایمان، 7/83،حدیث:9560)
3۔ کہیں پڑوسی کو وارث نہ بنا دیا
جائے: حضرت
امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہما
کی خدمت میں حاضر تھا، ان کا غلام بکری کی کھال اتار رہا تھا تو آپ نے فرمایا: اے
غلام! جب تو کھال اتار لے تو سب سے پہلے ہمارے یہودی پڑوسی کو دینا حتی کہ آپ نے
یہ جملہ کئی بار فرمایا۔ غلام نے کہا: آپ کتنی بار یہ کہیں گے؟ فرمایا: رَسُولُ
الله ﷺ ہمیں مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتی کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ کہیں
پڑوسی کو وارث نہ بنادیں۔ (ترمذى، 3/379، حدیث: 1949)
4۔ سالن پکاؤ تو پڑوسی کو بھی کچھ
دو: حضرت
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت کرتے ہوئے
ارشاد فرمایا: جب تم ہنڈیا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو پھر اپنے کچھ پڑوسیوں
کو دیکھ کر اس میں سے کچھ ان کو دو۔ (مسلم،ص2595، حدیث: 2625)
5۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
بیان کرتی ہیں کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: میرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے
ایک میرے دروازے کے سامنے رہتا ہے اور دوسرا دروازے سے کچھ دور اور بعض اوقات میرے
پاس موجود چیز اتنی ہوتی ہے کہ دونوں کو دینے کی گنجائش نہیں ہوتی، لہذا ان دونوں
میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے سامنے
ہے۔ (بخاری، 2/174، حدیث: 2595)
6۔ پڑوسی سے جھگڑا نہ کرو: خلیفہ
اول امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبد الرحمٰن
رضی الله عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہے ہیں تو آپ نے ان سے فرمایا: اپنے
پڑوسی سے مت جھگڑو کیونکہ لوگ چلے جاتے ہیں جبکہ یہ بات باقی رہ جاتی ہے۔(کنز العمال،
5/79، حدیث:25599)
7۔ پڑوسی کے گھر کی دیوار کے سائے کا
حق: ابن
مقفع کو یہ خبر ملی کہ اس کا پڑوسی قرض کی ادائیگی کی وجہ سے اپنا گھر بیچ رہا ہے
چونکہ ابن مقفع اس کے گھر کی دیوار کے سائے میں بیٹھتا تھا کہنے لگا: اگر اس نے
مفلس ہونے کی وجہ سے اپنا گھر بیچ دیا جب تو میں نے اس کے گھر کے سائے کا بھی حق
ادا نہ کیا۔ یہ کہہ کر ابن مقفع نے اس کے گھر کا ثمن ادا کیا اور اس سے کہا: گھر
مت بیچو۔(احیاء العلوم، 1/771)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے پڑوسی کے
ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پڑوسی کے حقوق پورے کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین
اسلام ہمارا کتنا پیارا مذہب ہے کہ جو نہ صرف ہمیں
والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کا درس دیتا ہے بلکہ اسلام ہمیں ہمسایوں کے
ساتھ بھی بھلائی اور حسن سلو ک کرنے کا درس دیتا ہے معاشرے میں سب سے پہلا حسن سلوک
کا حق دار پڑوسی ہو تا ہے۔ قرآن کریم میں بھی پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں تاکید
فرمائی گئی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ الْجَارِ ذِی
الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز
العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ قریب کے پڑوسی
سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہو اور دور کے پڑوسی سے مراد وہ ہے
جو محلے دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔
اب پڑوسیوں
کے چند حقوق ملاحظہ فرمائیں: سلام میں پہل کرے، جب مدد طلب کرے اس کی مدد کرے، جب
قرض مانگے تو قرض دے، اس کی محتاجی کو دور کرے، اس کی خوشی میں شرکت کرے، جو کچھ
وہ اپنے گھر میں لے جارہا ہو اس پر نظر نہ گاڑے، اپنے گھر کی چھت پر سے اس کے گھر
میں مت جھانکے، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کو جائے، اس کے عیوب پر پردہ ڈالے، جب
اسے مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کو جائے، جب خوشی پہنچے تو اسے مبارکباد دے، جب
غمی پہنچے تو اس کی غمی میں شریک ہو۔ (احیاء العلوم، 2/ 772)
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے پڑوسیوں کا بہت خیال رکھا کرتے ان کی خبر گیری
فرماتے اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہو جاتا تو اس کے جنازے کے ساتھ ضرور جاتے، اس کی
تدفین کے بعد جب لوگ واپس لوٹ جاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہو کر
اس کے حق میں مغفرت کی دعا فرماتے اس کے اہل خانہ کو صبر کی تلقین فرماتے اور ان کو
تسلی دیا کرتے۔ (معین الا رواح، ص 88 )
پڑوسیو ں کے حقو ق کے معاملے میں ہمارے بزرگان دین
کا انداز کس قدر شاندار ہوا کرتا تھا۔ اللہ کریم ہمیں پڑوسیو ں کے حقوق کو احسن
انداز میں پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو تکلیف دینے سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین
ہمارا اسلام کتنا پیارا مذہب ہے کہ جو نہ صرف ہمیں
والدین اور رشتے داروں کے ساتھ بھلائی کا درس دیتا ہے بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ
ہمیں اپنے قریبی اور دور کے پڑوسیوں سے کیسا سلوک کرنا چاہئے؟ قرآن پاک میں الله تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ
الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور
دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ اس آیت کی تفسیر میں قریب کے ہمسائے سے
مراد جس کا گھر آپ کے گھر سے ملا ہوا ہو اور دور کے ہمسائے سے مراد جس کا گھر آپ
کے گھر سے ملا ہوا نہ ہو۔ پڑوسیوں کے حقوق قرآن پاک کے علاوہ بہت سی احادیث میں بیان
کئے گئے ہیں ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں:
1۔ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی
ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جبرئیل مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے
یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ (بخاری، 4/104، حدیث:
6014)
2۔ حضرت
ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: خدا کی قسم وہ مومن
نہیں (تین مرتبہ اس کو دہرایا) عرض کی گئی: کون یارسول الله؟ فرمایا: وہ شخص کہ اس
کے پڑوسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہوں۔ (بخاری، 4/ 104، حدیث: 6016)
3۔ حضرت
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص ہانڈی پکائے تو
زیادہ کرے اور پڑوسیوں کو اس میں سے کچھ دے۔ (معجم اوسط، 2/379، حدیث: 3591)
4۔ فرمان مصطفیﷺ ہے: کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق
کیا ہے؟ اگر وہ تم سے مدد مانگے تو اس کی مدد کرو، قرض مانگے تو قرض دو، اگر محتاج
ہو تو اس کو کچھ دو، بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ
جاوٴ۔ (مرقاۃ المفاتیح، 8/69، تحت الحدیث: 4243)
5۔ جو شخص الله
اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ (مسلم، ص 44، حدیث:
47) ان آیات اور احادث سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے کو تکلیف نہیں دینی چاہئے بلکہ
ان کا اکرام کرنا چاہئے اور ان کے حقوق جو ہم پر ہیں ان کو پورا کرنا چاہئے۔
حدیث کی رو سے گھر کے چاروں طرف تقریبا 40 گھروں کو
پڑوسی تسلیم کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ انسان کا روزانہ واسطہ
پڑتا ہے اس میں آپ کا کاروباری شریک، ہم جماعت اور اسی طرح کے دیگر افراد شامل ہوں
گے۔ قرآن کریم میں اللہ پاک ہمسائے کے بارے میں یوں فرماتا ہے: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ
5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور
دور کے پڑوسی (کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔
پڑوسی کی قسمیں: (1)
وہ پڑوسی جو بالکل گھر کے قریب ہو۔ سب سے اہم اس کا حق ہے۔ (2) وہ پڑوسی جس کے گھر
سے گھر تو ملا ہوا نہ ہو لیکن وہ قریب ہی ہے اسی محلے اور گلی میں دو چار گھر چھوڑ
کر رہتا ہے۔ (3) جو عارضی طور پر پڑوسی بن جائے گویا رفیق، ہمسفر یا ہم نشین جو
برابر کی سیٹ پر ہے وہ بھی ہمارا پڑوسی ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق:
1۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل امین مجھے ہمسائے
کے حق کے بارے میں اللہ کا حکم پہنچاتے رہے حتی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ عنقریب ہمسائے
کو وراثت میں حصے دار بنا دیں گے۔ (بخاری، 4/104، حدیث: 6105)
2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
پیارے نبی مکی مدنی ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمام مخلوق اللہ پاک کی پروردہ ہے اور اللہ
کو اپنی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک
سے پیش آئے۔ (مسند ابی یعلی، 3/232، حدیث: 6534)
3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک
ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے کو
تکلیف نہ دے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6018)
4۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے
چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6019)
5۔ جب وہ (پڑوسی) بیمار ہو تو اس کی تیمارداری کرو
جب مر جائے تو اس کے جنازے میں جاؤ جب قرض مانگے تو قرض دو اور جب اسے کوئی خوشی
پہنچے تو مبارکباد دو جب کوئی تکلیف آئے تو پردہ پوشی کرو اور اس کے گھر سے اونچی
دیواریں نہ بناؤ اور اس کی ہوا نہ روکو۔ مزید فرمایا: اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے!
(تین بار یہ جملہ ارشاد فرمایا) صحابہ کرام نے عرض کی! یا رسول اللہ! کون مومن
نہیں ہے؟ فرمایا: جس شخص کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں ہے وہ مومن نہیں ہے۔(بخاری،
4/ 104، حدیث: 6016)
ایک بزرگ کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے گھر
میں چوہے آگئے تو کسی نے مشورہ دیا کہ آپ چوہوں سے نجات پانے کے لیے گھر میں بلی
رکھ لیں بلی گھر میں گھومے پھرے گی چوہے بھاگ جائیں گے انہوں نے ارشاد فرمایا: مشورہ
تو بہت اچھا ہے بات تو بڑی اچھی ہے کہ میں بلی گھر میں رکھ لیتا ہوں تو چوہے میرے
گھر سے نکل جائیں گے لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ چو ہے میرے گھر سے نکلیں گے
تو یہ چوہے میرے پڑوسی کے گھر میں چلے جائیں گے۔
سبحٰن اللہ کیا انداز تھا ان اللہ والوں کا خود کو
تکلیف میں رکھ لیتے ہیں لیکن پڑوسی کو کبھی تکلیف نہیں دیتے۔ اللہ پاک ہمیں بھی
ایسی سوچ عطا فرمائے۔ آمین
اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ
5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور
دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ قریب کے ساتھی سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے
گھر سے ملا ہوا ہو۔ (تفسیر صراط الجنان، 2/201)
تمام انسان ایک معاشرے میں رہتے ہیں اور اس معاشرے میں
انسان کی مختلف لوگوں سے یا تو قرابت داری ہوتی ہے یا دوستی یا ہمسائیگی ہوتی ہے۔
دین اسلام نے جس طرح قرابت داروں اور دوستوں کے حقوق سکھائے ہیں اسی طرح پڑوسیوں
کے بھی حقوق سکھائے۔ حدیث شریف میں ہے: کوئی بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا
جب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہوجائے۔ (مسند براز، 5/392، حدیث: 2026) دین اسلام اس قدر خوش اخلاق دین ہے
کہ اس نے غیر مسلم پڑوسی کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں
ہے: پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک وہ پڑوسی جس کا ایک
حق ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جس کے دو حق ہوتے ہیں اور تیسرا وہ جس کے تین حقوق ہوتے ہیں۔
مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین
حقوق ہیں: حقِ پڑوس، حقِ اسلام اور رشتہ داری کا حق۔ مسلمان پڑوسی کے دو حق ہیں: حقِ پڑوس اور حقِ اسلام جبکہ مشرک
پڑوسی کا صرف ایک حق ہے:حقِ پڑوس۔ (شعب الایمان، 7/83،
حدیث: 9540) یہاں پر پڑوسیوں کے چند حقوق بیان کئے
جارہے ہیں:
1۔ پڑوسی کی تکلیف برداشت کرنا:یاد
رکھئے! حق پڑوس صرف یہ نہیں کہ پڑوسی کو تکلیف پہنچانے سے اجتناب کیا جائے بلکہ
پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرنا بھی حق پڑوس ہے۔ (احیاء العلوم،
2/771)
2۔ قریبی پڑوسی کا حق: حدیث
شریف میں قریبی پڑوسی کے حق کو زیادہ فرمایا گیا۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
بیان کرتی ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: میرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے ایک
میرے دروازے کےسامنے رہتا ہےاور دوسرا دروازے سے کچھ دور رہتا ہے اور بعض اوقات
میرے پاس موجود چیز اتنی ہوتی ہے کہ دونوں کو دینے کی گنجائش نہیں ہوتی،لہذا دونوں
میں کس کا حق زیادہ ہے تو آپ نے فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے سامنے ہے۔ (بخاری، 2/174، حدیث: 2595)
3۔ حسنِ سلوک کرنا: حدیث
شریف میں ہے: اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کر تُو کامل مومن ہوجائے گا۔ (ابن ماجہ،
4/475، حدیث:4217)
4۔ پڑوسی کو وارث بنا دیا جاتا: حدیث
شریف میں ہے: جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں
نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ (مسلم، ص 1413، حدیث: 2526) اس حدیث
شریف سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کے کس قدر حقوق ہیں لہٰذا ہمیں اپنے پڑوسیوں کے حقوق
کا خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ کریم توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین
Dawateislami