اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو زندگی کے ہر شعبے
میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ عبادتِ الٰہی کا طریقہ ہو یا اطاعتِ نبوی کا
سلیقہ ہو، والدین سے حسنِ سلوک کا انداز ہو،تجارت و معشیت کے اصول ہوں،جزاء و سزا
کے قانون ہوں یا حقوق العباد ہوں۔ اسلام کی یہ رہنمائی ہر مقام پر، ہر موڑ پر
موجود ہے اور اسلام کی یہ رہنمائی کل بھی موجود تھی آج بھی موجود ہے اورتا قیامت
موجود رہےگی۔ واضح رہے کہ حقوق العباد بھی دین کا ایک انتہائی اہم شعبہ ہے اور
انہیں شعبوں میں سے ایک شعبہ پڑوسیوں کے حقوق بھی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ پاک کا فرمان ہے: وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ
5، النساء: 36) ترجمہ کنز العرفان: قریب کے پڑوسی اور
دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ اس آیت میں حقوق اللہ اور حقوق العباد
دونوں بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو عبادت میں
شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کے آپس میں حقوق کئی طرح کے ہیں جن میں سے ایک قسم
پڑوسیوں کے حقوق ہیں۔
اسلام نے پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے پر بہت زور دیا
ہے اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کی صرف ترغیب نہیں دی بلکہ اسکی حدود مقرر
فرما کر باہمی خوشگوار تعلقات پر بہت زور دیا ہے۔اسی سلسلے میں دین اسلام نے ہر
انسان پر اس کے پڑوسی کے کچھ حقوق عائد فرمائے ہیں۔
پڑوسی کسے کہتے ہیں؟ پڑوسی
کو عربی میں جار کہتے ہیں۔ وہ پڑوسی جو رشتہ دار ہو، یا وہ پڑوسی جو مسلمان ہو، یا
وہ پڑوسی جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہو،قریب کا پڑوسی کہلاتا ہے اور وہ پڑوسی
جو مسلمان نہ ہو،یا جو رشتہ دار نہ ہو،یا جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو، دور
کا پڑوسی کہلاتا ہے۔
پڑوسیوں کے 5حقوق درج ذیل ہیں:
1۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا: حضرت
محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جبریل امین مجھے پڑوسیوں کے متعلق برابر وصیت کرتے
رہے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ وہ انہیں وارث بنا دیں گے۔(بخاری، 4/104، حدیث:
6014)ہمارے آج کے معاشرے میں اس حق میں بہت لا پرواہی برتی جا رہی ہے۔ چغلی، حسد، جھوٹ
جیسے گناہوں کا ارتکاب بہت بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ اپنے مسلمان بھائی کا خیال
رکھنا کامل ایمان کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔
2۔ تعزیت کرنا: تعزیت
کا معنیٰ ہے تسلی دینا۔ پڑوسی کو اگر کوئی تکلیف پہنچے تو اس کی تعزیت کریں۔ اگر
اس کی تکلیف کو دور کرنا ممکن ہو تو دور کریں اگر ممکن نہ ہو تو تسلی دیں۔ یاد رہے
کہ اس مقصد سے تعزیت کرنا کہ ان کا غم تازہ ہو، تکلیف میں اضافہ ہو اس طرح تعزیت
کرنا جائز نہیں۔ بلکہ تعزیت سے مراد ہر وہ کام اختیار کرنا جس سے غمزدہ کا غم شرعی
حدود کے مطابق کم ہو تعزیت کہلاتا ہے۔
3۔ تحفہ بھیجنا: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے
پڑوسی کا خیال رکھو۔ (مسلم، ص 1413، حدیث: 2625)ہمسایوں کو تحفہ بھیجنے کا حکم اس لیے
ہے کہ اس سے آپس میں پیار و محبت بڑھتی اور خوشگوار تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
4۔ ایذا رسانی سے پرہیز کرنا: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ ہر گز مومن نہیں ہوسکتا (تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد
فرمایا) عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول کون؟ فرمایا: جس کی مصیبت کی وجہ سے اس کا
پڑوسی امن میں نہ ہو۔ (بخاری، 4/ 104، حدیث: 6016)
5۔ عیادت کرنا: پڑوسی
اگر بیمار ہو تو اس کی مزاج پرسی کرے کہ عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور جس طرح مدد
کی ضرورت ہو، مدد کرے۔
اللہ پاک ہمیں ہمارے اسلاف کی راہ پر چلتے ہوئے
پڑوسی کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
کہا جاتا ہے ”ہمسایہ اور ماں جایا برابر ہونے
چاہئیں“ مگر افسوس مسلمان یہ باتیں بھول گئے، قرآن کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر
فرمایا، بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں، ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگیے۔
عبادات کی درستی سے بھی زیادہ اہم ہے معاملات کی درستی، پڑوسی سے ہر وقت معاملہ
رہتا ہے اس لیے اس سے اچھا برتاؤ کرنا بہت ضروری ہے، اس کے بچوں کو اپنی اولاد
سمجھیے، اس کی عزت و ذلت کو اپنی عزت و ذلت سمجھیے، پڑوسی اگر کافر بھی ہو تب بھی
پڑوسی کے حقوق ادا کیجیے۔ یاد رکھیے! ہمسائیگی کچھ حقوق کا تقاضا کرتی ہے جو ان حقوق
کے علاوہ ہیں جن کا اخوت اسلامی کا تقاضا کرتی ہے، ایک مسلمان جن باتوں کا مستحق
ہوتا ہے ان تمام کا اور ان سے کچھ زائد کا مسلمان ہمسایہ مستحق ہوتا ہے، یہاں تک
کہ حدیث پاک میں کسی شخص کے کامل مؤمن ہونے اور نیک و بد ہونے کا معیار اس کے
پڑوسی کو مقرر فرمایا، نیز ایک حدیث پاک میں یوں فرمایا: جو اپنے پڑوسی کا حق تلف
کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مطالب عالیہ، 7/118، حدیث: 2604) نیز پڑوسی کے حقوق کی
اہمیت کا اندازہ اس حدیث پاک سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ارشاد ہوا: حضرت جبرائیل
مجھے ہمیشہ پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ وہ اسے
وارث بناکر چھوڑیں گے۔ (بخاری، 4/104، حدیث: 6014)جہاں تک پڑوسی کے حقوق کا تعلق
ہے تو جان لینا چاہیے کہ پڑوسی کے حقوق عام مسلمانوں کے حقوق سے بھی زیادہ ہیں۔
آئیے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں حکمِ ربانی سنتے ہیں: وَ
الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء:
36) ترجمہ کنز
العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ معزز قارئین
کرام! بہت سی احادیث مبارکہ میں پڑوسیوں کے کئی حقوق بیان کیے گئے ہیں جن میں سے
چند درج ذیل ہیں۔
پڑوسی کا حق کیا ہے:
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟ پھر ارشاد فرمایا: اگر
وہ تم سے مدد چاہے تو اس کی مدد کرو، اگر تم سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، اگر
محتاج ہو تو اس کی حاجت پوری کرو، اگر بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو، اگر وہ
فوت ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو، اگر اسے کوئی بھلائی پہنچے تو مبارکباد
دو اور اگر کوئی مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو، اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے
اونچا گھر نہ بناؤ کہ اسے ہوا نہ پہنچے، اسے تکلیف نہ پہنچاؤ، اگر تم کوئی پھل
خرید کر لاؤ تو اس میں سے پڑوسی کو بھی کچھ بھیجو، اگر ایسا نہ کرسکو تو چھپا کر
لے جاؤ اور اپنے بچوں کو بھی وہ پھل گھر سے باہر نہ لانے دو کہ پڑوسی کے بچے اس
پھل کی وجہ سے غمگین ہوں گے اور اپنی ہنڈیا کی خوشبو سے بھی پڑوسی کو تکلیف نہ
پہنچاؤ مگر یہ کہ کچھ سالن اسے بھی بھیج دو۔ یہ فرمانے کے بعد آ پ نے ارشاد
فرمایا: جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان
ہے! پڑوسی کا حق صرف وہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ (شعب الایمان،
7/83، حدیث: 9560)
عزت کرنا: جو شخص اللہ
اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے پڑوسی کی عزت کرنی چاہیے۔ (بخاری،
4/105، حدیث: 6018)اور ایک دوسری روایت میں ہے: جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان
رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا
ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (مسلم، ص 44، حدیث: 47) حضرت بایزید
بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا یہودی پڑوسی سفر میں گیا اس کے بال بچے گھر رہ گئے، رات
کو یہودی کا بچہ روتا تھا، آپ نے پوچھا کہ بچہ کیوں روتا ہے، یہودن بولی گھر میں
چراغ نہیں ہے بچہ اندھیرے میں گھبراتا ہے، اس دن سے آپ روزانہ چراغ میں خوب تیل
بھر کر روشن کر کے یہودی کے گھر بھیج دیا کرتے تھے، جب یہودی لوٹا اس کی بیوی نے
یہ واقعہ سنایا یہودی بولا کہ جس گھر میں بایزید کاچراغ آگیا وہاں اندھیرا کیوں
رہے وہ سب مسلمان ہوگئے۔ (مراۃ المناجیح، 6/817)
تکلیف نہ دینا:
تاجدار رسالت ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے
وہ اپنے پڑوسی کو ہرگز تکلیف نہ دے۔ (مسلم، ص 43، حدیث: 47) حضرت علامہ علی قاری
رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: پڑوسی کی حاجت پوری کرنے کے
لیے اس کی مدد کرے، اس سے برائی دور کرے اور اس پر حصوصی عطائیں کرے تاکہ وعید کا
مستحق نہ ہو۔ مزید فرماتے ہیں: حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: جو
شریعت اسلامیہ کا التزام کرنا چاہیے اس کے لیے پڑوسی اور مہمان کا اکرام اور ان کے
ساتھ بھلائی سے پیش آنا بھی لازم ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 8/69، تحت الحدیث: 4243)
خیال رکھنا: حدیث پاک میں
پڑوسیوں سے خیرخواہی کرنے کی ترغیب آئی ہے، چنانچہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! جب شوربا پکاؤ تو اس کا پانی
زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔ (مسلم، 1413، حدیث: 2625)
پڑوسیوں کے متفرق حقوق:
پڑوسیوں کے ساتھ سلام میں پہل کرے، ان کے ساتھ طویل گفتگو نہ کرے، ان کے حالات کے
بارے میں زیادہ سوال نہ کرے، جب وہ بیمار ہوں تو ان عیادت کرے، مصیبت کے وقت ان کی
غم خواری کرے، مشکل وقت میں ان کا ساتھ دے، خوشی میں ان کو مبارکباد دے، ان کی
خوشی میں شرکت کرے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے، اپنے گھر کی چھت پر سے ان کے گھر
میں مت جھانکے، ان کی دیوار پر شہتیر رکھ کر ان کے پرنالے میں پانی گراکر اور ان
کے صحن میں مٹی وغیرہ ڈال کر انہیں تکلیف نہ پہنچائے، ان کے گھر کے راستے کو تنگ
نہ کرے، جو کچھ وہ اپنے گھر لے جارہے ہوں اس پر نظر نہ گاڑے، اگر ان کے عیوب اس پر
ظاہر ہوں تو انہیں چھپائے، اگر انہیں کوئی حادثہ پیش آجائے تو فورا ان کی مدد کرے،
پڑوسیوں کی غیر موجودگی میں ان کے گھر کی حفاظت کرنے میں غفلت کا مظاہرہ نہ کرے،
ان کے خلاف کوئی بات نہ سنے، ان کی مستورات کے سامنے نگائیں نیچی رکھے، ان کی
خادمہ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھے، ان کی اولاد کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرے،
دین و دنیا کے جس معاملے میں انہیں رہنمائی کی ضرورت ہو اس میں ان کی رہنمائی کرے۔
پڑوسیوں کو تکلیف دینے کی مختلف
صورتیں:
اس کے دروازے کے سامنے کچرا ڈال دینا، دروازے کے پاس شور کرنا، بچوں کا بالخصوص
سونے کے اوقات میں شور کرنا، وقت بےوقت کیل وغیرہ ٹھونکنا، دیوار میں سوراخ کرنے
کے لیے ڈرل مشین چلانا، مصالحہ وغیرہ پیسنے کے لیے رات کے اوقات میں آواز دینے
والا گرینڈر چلانا، ایک ہی بلڈنگ میں رہنے کی صورت میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے زور زور
سے پاؤں چٹخانا، اونچی آواز سے ٹیپ ریکارڈر یا ڈیک وغیرہ بجانا، اپنے گھر کا فرش
دھونے کے بعد پانی پڑوسیوں کے گھر کے سامنے چھوڑ دینا، ان کے بچوں کو جھاڑنا مارنا
وغیرہ۔ اللہ پاک ہمیں ان تمام باتوں سے بچائے۔
یاد رکھیے! حقِ پڑوس صرف یہ نہیں کہ پڑوسی کو تکلیف
پہنچانے سے اجتناب کیا جائے بلکہ پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کو برداشت
کرنا بھی حقِ پڑوس میں شامل ہے، کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو
تکلیف نہیں پہنچاتا اور وہ اس کے بدلے اسے تکلیف نہیں دیتا حالانکہ اس طرح پڑوس کا
حق ادا نہیں ہوتا، لہٰذا صرف تکلیفوں کو برداشت کرنے پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ
ضروری ہے کہ اس کے ساتھ نرمی اور اچھے طریقے سے پیش آئے۔
معزز قارئین کرام! اسلام میں پڑوسی کے حقوق کی بہت
اہمیت ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھیں اور جس طرح
ممکن ہو ان کے ساتھ باہمی تعاون بھی کریں، اس سے نہ صرف معاشرے میں امن و امان
قائم ہوگا بلکہ ایک دینی معاشرہ بھی تشکیل پائے گا جو دین اسلام کے افکار و احکام
کی عکاسی کرتا نظر آئے گا۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے پڑوسیوں کے حقوق کی پاسداری
کرنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے۔
انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ
داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق اپنے ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے
اور ان کی خوشی و نا خوشی کا زندگی کے چین و سکون اور اخلاق کے اصلاح و فساد اور
بناؤ و بگاڑ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے، دنیا کا ہر انسان ایک دوسرے کی مدد اور ایک
دوسرے کی نصرت و حمایت کا محتاج ہوتا ہے، اگر ایک بھوکا ہے تو دوسرے کا حق ہے کہ اپنے
کھانے میں اسے بھی شریک کرے، اگر ایک بیمار ہے تو دوسرا اس کی عیادت اور تیمار
داری کرے، اگر ایک کسی آفت و مصیبت اور کسی رنج و غم میں مبتلا ہو تو دوسرا اس کے
رنج و غم میں شریک ہو کر اس کی تسلی کا باعث بنے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات و
ہدایات میں ہمسائیگی اور پڑوسی کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی اور اس کے احترام و
رعایت کی بڑی تاکید فرمائی اور اس کو جزوِ ایمان اور داخلِ جنت کی شرط اور اللہ و
رسول ﷺ سے محبت کا معیار قرار دیا ہے۔
1۔ ایک حدیث میں نبی پاک ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر
فرمایا: خدا کی قسم! وہ مومن نہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی کون؟ فرمایا: جس کا پڑوسی
اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔ (بخاری، 4/ 104، حدیث: 6016)
2۔ حضور اکرم ﷺ نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد
فرمایا: اے مسلمان عورتو! کوئی ہمسائی اپنی ہمسائی کے لیے ہدیہ و صدقہ کو حقیر نہ
سمجھے اگرچہ بکری کا ایک کُھر ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری، 2/165، حدیث: 2566)
3۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی پر
خصوصی توجہ دلائی ہے تاکہ ہماری کوتاہی سے کسی کا کوئی حق ہماری طرف نہ رہ جائے،
پیارے آقا ﷺ کا ارشاد ہے: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ
وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے
اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت کرے اور اپنی زبان سے اچھی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔ (بخاری،
4/105، حدیث: 6019)
4۔ ایک دن نبی پاک ﷺ نے وضو فرمایا تو صحابہ کرام
آپ کے وضو کا پانی اپنے بدن اور چہرے وغیرہ پر ملنے لگے تو سرکار دو عالم ﷺ نے
دریافت فرمایا کہ اس عمل پر تمہیں کون سی چیز آمادہ و برانگیختہ کر رہی ہے اور تم
ایسا کیوں کر رہے ہو؟ تو صحابہ کرام کا جواب تھا کہ بس اللہ اور اس کے رسول کی
محبت ہے، تب آپ نے ارشاد فرمایا: سنو! جو شخص یہ پسند کرتا ہو اور جس کی یہ خواہش
ہو کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت نصیب ہوجائے یا یہ کہ اللہ اور اس کے
رسول کو اس سے محبت ہو تو اسے تین باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے: جب بات کرے تو سچ بولے،
جب کوئی امانت اس کے پاس رکھی جائے تو امانت داری کے ساتھ اس کو ادا کرے اور اپنے پڑوسی
کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ (شعب الایمان، 2/201، حدیث: 1533)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام فرائض کے ساتھ
ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
پڑوسیوں
کے حقوق از بنت محمد اشفاق، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
پڑوسی وہ ہیں جو ہمارے گھر کے قریب میں رہتے ہوں
پڑوسیوں کا ہم پر بہت بڑا حق ہے، اگر وہ نسب میں ہم سے قریب ہوں اور مسلمان بھی
ہوں تو اس کے تین حق ہیں: پڑوسی کا، قرابت داری کا ار اسلام کا حق۔ اسی طرح اگر وہ
قریبی ہے لیکن مسلمان نہیں تو اس کے دو حق ہیں: پڑوسی اور قرابت داری کا۔ اور اگر
رشتے میں دور ہے اور مسلمان بھی نہیں تو اس کا ایک حق ہے یعنی پڑوسی کا۔ اللہ پاک
اور اس کے رسول ﷺ نے امت کو جن باتوں کا حکم دیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ
پڑوسیوں کی رعایت کی جائے اور ان کے حقوق پہچانے اور ادا کیے جائیں۔ اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الْجَارِ ذِی
الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز
العرفان: قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی( کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے والدین کے ساتھ
ساتھ رشتہ داروں، یتیموں مساکین کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں کے ساتھ بھی نیکی کرنے یعنی
حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی کے ایک معنی حضرت
ابن عباس سے یہ مروی ہے کہ وہ پروسی جس سے تمہاری رشتہ داری ہو اور وہ جس سے رشتہ
داری نہ ہو دونوں کے ساتھ اللہ نے نیکی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے حقوق اللہ کے ساتھ
ساتھ حقوق العباد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور دیگر مذاہب کے برعکس جس میں
گھربار، بیوی بچے اور رشتہ دار و اقربا سب کچھ چھوڑ کر جنگلوں میں نکل جانے اور
رہبانیت کی زندگی گزارنے کی تاکید کی گئی ہے اس کی جگہ اسلام نے یہ بتایا کہ حقوق
اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی بہت ضروری ہیں اور بعض اعتبار سے انہیں حقوق
اللہ سے بھی آگے رکھا جاسکتا ہے، کیونکہ قیامت کے دن اللہ پاک اپنا حق معاف کر دے
گا لیکن اس نفسی نفسی کے عالم میں کوئی کسی کو معاف نہیں کرے گا اس دن ہر ایک کو اپنی
نجات کی فکر ہوگی، قرآن پاک نے روز حشر کا بڑا ہولناک نقشہ کھینچا ہے کہ اس دن ہر
شخص اپنے بھائی، ماں باپ سب کو بھول چکا ہوگا، حضور نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ
فرمایا: خدا کی قسم وہ ایمان والا نہیں! عرض کی گئی کون یارسول اللہ؟ فرمایا: جس
کا ہمسایہ اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہیں۔ (بخاری، 4/ 104، حدیث: 6016)
مؤمن مؤمن کے ساتھ متواضع ہوتا ہے اور ان کے سامنے
جھکا رہتا ہے اور کافروں پر سخت ہوتا ہے اور ان پر کمزور نہیں پڑتا اسلام کے
احترام اور تعظیم کی وجہ سے اور دین کو عزت بخشنے کے لیے، لیکن اس میں خیال رہے کہ
ان کو تکلیف نہ دی جائے اور نہ ان کے ساتھ مومنوں جیسی دوستی اور محبت رکھی جائے۔
اللہ پاک ہمیں پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
دعوتِ اسلامی کے شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے
زیرِ اہتمام شالیمارٹاؤن لاہور کی فیضانِ بلال مسجدمیں مدنی مشورہ ہوا جس میں رکن شوریٰ ابو ماجد محمد شاہد عطاری نے لاہورشمالی ڈسٹرکٹ نگران حاجی شہزادعطاری
کےساتھ شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں میں تقرری کرنے اورفیضان صحابیات میں کئے جانے والے دینی کاموں کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا اور ان کو آئندہ کے
لئے نکات دیئے ۔
٭اس کے بعدرکنِ
شوریٰ نے محمدطاہرعطاری (اسپین )سے ان
کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی اور وہاں انہیں نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے ان کے لئےخیر و برکت کی دعا
بھی کروائی۔(رپورٹ:
عبدالماجدعطاری،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے تحت 7 دسمبر2023ء کوشالیمارٹاؤن لاہور میں مرکزی مجلس
شوریٰ کے رکن ابو ماجد محمد شاہد عطاری
مدنی نے شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے سیدخالدحسین
عطاری (ساہیوال) ، مولاناافضل
عطاری مدنی (پاکستان اوراق مقدسہ فیصل آباد)، سب
ٹاؤن نگران عبدالرحمن عطاری اوردیگرذمہ داران کےساتھ مولانابشیراحمدیوسفی صاحب سےملاقات
کی ۔
دورانِ
ملاقات رکن شوریٰ نے بشیراحمدیوسفی صاحب کو موجودہ دنوں میں جاری دعوت اسلامی کی دینی و سماجی خدمات
کے متعلق بتایا جس پر انہوں نے خدماتِ دعوت اسلامی سراہتے ہوئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
بعدازاں
رکن شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کے ہمراہ حضرت مولانا منیراحمدیوسفی صاحب کےمزار پرحاضری دی اور وہاں فاتحہ
خانی و دعا کروائی۔(رپورٹ:
عبدالماجدعطاری،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
انچارج
ایجوکیشن ونگ سٹی ٹریفک پولیس چوہدری قمر رشید کا فیضان مدینہ فیصل
آباد کا وزٹ
12
دسمبر 2023ء کو انچارج ایجوکیشن ونگ سٹی
ٹریفک پولیس چوہدری قمر رشید نے اپنے اسٹاف کے ہمراہ مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد کا
وزٹ کیا۔
صوبائی ذمہ دار ایف جی آرایف محمدآصف عطاری اور ڈویژن
ذمہ دار فدا علی عطاری نےآنیوالےمہمانوں کوویلکم کیا۔انہیں وہاں موجود دارالحدیث،دارالافتاءاہلِ سنت، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور فیضان آن لائن اکیڈمی بوائزکاوزٹ کروایا۔
ٹریفک
آفیسر نے فیضان مدینہ مسجدمیں نمازظہراداکی اور بعدازاں وہاں پڑھنے والے طلبہ وذمہ
داران دعوت اسلامی کوٹریفک قوانین کےبارےمیں بریف کیانیز 16دسمبر2023ء کوچیف ٹریفک
آفیسرنے دوبارہ فیضان مدینہ کا وزٹ کرنے کا کہا جس میں طلبہ وذمہ داران کوڈرائیونگ لائسنس اور لرنرزکی سہولت دینےکےلئے موبائل
یونٹ کی سہولت دینے کی اچھی نیت کا اظہار کیا۔(رپورٹ : شہزاد عطاری شعبہ رابطہ برائے شخصیات پنجاب آفس ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری
مدنی )
فیصل
آباد میں قائم مدنی مرکز فیضان مدینہ میں شعبہ
رابطہ برائے شخصیات کے تحت پنجاب کے ڈویژن ذمہ داران کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں نگران مجلس حافظ قربان عطاری اور صوبائی ذمہ دار
اسلامی بھائی نے 12دینی کاموں میں عملی
طور پر شرکت کرنے اور ڈسٹرکٹ وائز شخصیات میں دینی کام کرنے کے حوالے سے اہداف دیئے۔
اس کے علاوہ کارکردگی وقت پر دینے اور بروقت رپلائی کرنے نیز شخصیات
میں بہتر انداز میں جدول بنانے کے
متعلق تربیت کی جبکہ نگران مشاورت حاجی شاہد عطاری نے بھی شعبہ کے دینی
کاموں کے حوالے سے اہم مدنی پھول بتائے۔(رپورٹ : شہزاد
عطاری شعبہ رابطہ برائے شخصیات پنجاب آفس ، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری مدنی )
شعبہ ڈونیشن بکس ملک و بیرون ملک اسلامی
بہنوں کا بذریعہ انٹرنیٹ مدنی مشورہ
دعوت
اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں 12 دسمبر 2023ء بروز منگل اسلامی بہنوں کے شعبہ ڈونیشن بکس کا بذریعہ انٹرنیٹ مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں ملک و بیرون ملک کی ذمہ داران نے شرکت کی ۔
مدنی
مشورے میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ابو
ماجد محمد شاہد عطاری نے سابقہ نکات کا جائزہ لیا ،آئندہ کی پلانگ کے متعلق مدنی پھول اور اہدف دیئے نیز اسلامی بہنوں کی جانب سے بھیجیں گئے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ (رپورٹ: مولانا جہانزیب عطاری مدنی،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )
14
دسمبر تا 18 دسمبر ایکسپو سینٹر کے
ہال نمبر 01 میں مکتبۃ المدینہ کا اسٹال لگے گا
کراچی میں قائم ایکسپو سینٹر میں 18 ویں
سالانہ بین الاقوامی کتب میلے کا آغاز 14 دسمبر 2023ء بروز جمعرات سے ہوچکا ہے جو کہ 18دسمبر2023ء بروز پیر تک جاری رہے گا۔
معلومات کے مطابق پہلے دن سے عوامی داخلے کا وقت صبح 10 سے رات 9 بجے تک ہوگا نیز اس کتب میلے میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی،سنگا
پور،چین،ملائیشیا،برطانیہ اور متحدہ عرب عمارات سمیت تقریباً 17 ممالک کے 40 ادارے حصہ لے رہے
ہیں۔جس میں 330 سے زائد اسٹال لگائے جائیں گے اور 4 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔
اس
موقع پر عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے پبلشنگ
ڈیپارٹمنٹ مکتبۃ المدینہ کی جانب سے بھی 14 تا 18دسمبر ایکسپو سینٹر کے
ہال نمبر 01 میں اسٹال لگائے جار ہے ہیں ۔اسٹال نمبر17۔18۔19
ہم
ہونگے آپ کے منتظر ! بیسیوں موضوعات پر آسان انداز میں بہترین تحقیق پر مشتمل
کتابیں۔۔ وہ بھی خصوصی ڈسکاؤنٹ پر حاصل
کرنے کے لئے تشریف لائیں۔
مزید
تفصیلات کیلئے:
+92-313-1139278
اور
اس نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+92-311-0074490
ماں
باپ کو اپنی اولادکی تربیت کرنے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے کے لئے شیخ طریقت
امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ
نے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 17صفحات کا رسالہ ”ماں کا پچھتاوا“ پڑھنے
/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یاربَّ
المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”ماں کا پچتھاوا“پڑھ
یا سُن لے اُس کے ماں باپ اس سے راضی ہوں اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت
فرمادے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتمِ
النّبیِّین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
آج رات ہفتہ وار اجتماع میں مدنی چینل پر رکن شوریٰ
حاجی محمد امین عطاری بیان فرمائیں گے
قرآن
و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے والی عاشقان رسول کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے
زیر اہتمام آج مؤرخہ 14دسمبر 2023ء بروز
جمعرات دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا جن میں
اراکین شوریٰ و مبلغین دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔
تفصیلات
کے مطابق آج رات مدنی چینل پر براہِ راست نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن
شوریٰ حاجی محمد امین عطاری فیض مدینہ مسجد کریلا اسٹاپ سیکٹر 5 نارتھ کراچی سے
سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس کے
علاوہ دیارِ مہر مارکی اینڈ میرج ہال بائی پاس روڈ لیہ پنجاب میں نگران پاکستان
مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، نورانی مسجد نشتر اسکوائر ملیر کراچی میں رکن شوریٰ
حاجی امین قافلہ عطاری، جامع مسجد رضا کورنگی کراچی میں رکن شوریٰ حاجی محمد علی
عطاری، جامع مسجد کلثوم شاہ فیصل کالونی نمبر 3کراچی میں رکنِ شوریٰ مولانا حاجی
ابو ماجد محمدشاہد عطاری مدنی اور جامع مسجد غوثیہ بلدیہ ٹاؤن کراچی میں رکن شوریٰ
حاجی فضیل رضا عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
تمام
عاشقان رسول سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کی درخواست ہے۔
Dawateislami