خوفِ خدا کا مطلب:خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں
کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(ماخوز من احیاء العلوم،ج40)آیت مبارکہ:وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ
تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ-یَقُوْلُوْنَ
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ۔ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور جب سنتے ہیں، وہ جو رسول کی طرف
اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں، اس لئے کہ وہ حق کو پہچان
گئے،کہتے ہیں اے ربّ ہمارے،ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے۔(پ7،المائدہ:83)حدیث: مبارکہ: حضرت انس رضی
اللہُ عنہ سے مروی ہے:آخری
نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اللہ پاک کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں خوفِ
خدا سے بہنا شروع کر دیں،یہاں تک کہ اس کے آنسو زمین پر جا گریں تو اس کو بروزِ قیامت
عذاب نہیں دیا جائے گا۔حدیث: مبارکہ: حضرت ابوہریرہ رضی
اللہُ عنہ سے روایت ہے:تمام
نبیوں کے سرور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اللہ پاک کے خوف سے روئے گا وہ جہنم میں داخل
نہیں ہوگا،یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے اور راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہ ہوں گے۔حدیث:
مبارکہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!نجات کیا
ہے؟ فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تمہیں تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤں پر رؤ و۔حدیث: مبارکہ:حضرت ابنِ مسعود رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے:سرکار
صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک
کے خوف سے آنسو بہہ جائیں، اگرچہ مکھی کے سر
کے برابر ہوں، پھر وہ آنسو اس کی رخسار پر
پہنچ جائے تو اللہ پاک اسے جہنم پر حرام فرما دے گا۔حدیث: مبارکہ:حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے :سیّد
المبلغین، رحمت اللعٰلمین صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تین
آنکھوں کے علاوہ بروزِ قیامت ہر آنکھ رو رہی ہوگی:1۔وہ آنکھ جو اللہ پاک کی
حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے باز رہے۔2۔وہ آنکھ جو اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دے۔ 3۔وہ
آنکھ جس سے خوفِ خدا کے سبب مکھی کے سَر کے برابر آنسو نکل آئے۔(جنت میں لے جانے والے اعمال)خوفِ خدا میں رونے پر صحابی کا قولِ مبارک:حضرت عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ کا وقتِ وفات قریب آیا تو کسی نے عرض کی:مجھے کچھ وصیت
ارشاد فرمائیے۔ارشاد فرمایا:میں تمہیں اللہ پاک سے ڈر نے، اپنے گھر کو لازم پکڑنے،اپنی
زبان کی حفاظت کرنے اور اپنی خطاؤں پر رونے کی وصیت کرتا ہوں۔
یا ربّ میں تیرے
خوف سے روتی رہوں ہر دم دیوانی
شہنشاہِ مدینہ کی بنا دے
انبیائے کرام علیہم
السلام کے خوفِ خدا سے رونے کے واقعات:حضرت ابو درداء رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے:
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ
و زاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گرگڑاہٹ کی آواز
سنائی دیتی۔حضرت داؤد علیہ السلام کا خوفِ خدا :ایک دن حضرت داؤد علیہ
السلام لوگوں کو نصیحت
کرنے اور ان میں خوفِ خدا پیدا کرنے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان
میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے، جن پر آپ کے پُراثر بیان کی وجہ سے ایسی رقّت
طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت عمر
کا خوفِ خدا سے رونا:حضرت عمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ کے پیچھے نماز
پڑھی تو دیکھا کہ تین صفوں تک ان کے رونے کی آواز پہنچ رہی تھی۔ایک حبشی کا خوف ِخدا
:ایک حبشی نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم کی
بارگاہ میں عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم!میرے
گناہ بے شمار ہیں، کیا میری توبہ بارگاہِ الہٰی میں قبول ہوسکتی ہے؟آپ نے ارشاد
فرمایا:کیوں نہیں،اس نے عرض کی:کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے؟ارشاد
فرمایا:ہاں!وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے! یہ سُن کر حبشی نے چیخ ماری اور زمین پر گرتے
ہی جاں بحق ہوگیا۔پیاری اسلامی بہنو!ہم نےخوفِ خدا میں رونے کے فضائل ، واقعات و
فرامین پڑھے، اب ہم کچھ دیر غور کریں اوراپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر کتنا خوفِ
خدا ہے ؟ ہم خوفِ خدا میں کتنا روتی ہیں؟ اب تک ہم اپنی زندگی کی کتنی سانسیں غفلت میں گزار چکی؟ حضرت
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! نجات کیا
ہے؟ ارشاد فرمایا:اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے(یعنی بلاضرورت باہر نہ جاؤ) اور اپنی خطاؤں پر آنسو بہاؤ۔(شعب الایمان، ، ج1،ص492،
حدیث:805)
خوف خدا میں رونا بھی بڑی نعمت ہے، ۔خوفِ خدا کسے کہتے ہیں؟یہ عظیم نعمت ہوتی
کیا ہے؟ امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی
حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامَتْ
بَرَکاتُہمُ العالِیَہ اپنی
مایہ ناز تالیف کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صفحہ26 پر فرماتے ہیں:اللہ پاک
کی خفیہ تدبیر، اس کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت (پکڑ) اس کی طرف سے دئیے جانے والے عذابوں، اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے
خوفزدہ رہنے کا نام ہے خوفِ خدا ہے، خوفِ خدا میں رونے کے فضائل :ایک ہزار دینار
صدقہ کرنے سے زیادہ پسند:حضرت عبداللہ
بن عمر رضی اللہُ عنہمافرماتے ہیں:اللہ
پاک کے خوف سے ایک
آنسو کا بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔(شعب الایمان، ص502/1) دو جنتوں
کی بشارت: سورۂ رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارت سنائی
گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ
لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمہ کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے
ڈرے ،اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، رحمن: 46)جہنم سے
رہائی: سرورِعالم، شفیعِ معظم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:جس مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتا ہے، اگرچہ مکھی کے پر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصّے تک
پہنچیں تو اللہ پاک اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔( شعب الایمان، باب الخوف من اللہ پاک، جلد 1، صفحہ 490، حدیث: 802)جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں:رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:جب مؤمن کا دل اللہ پاک کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح
جھڑتی ہیں، جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے
ہیں۔(خوف خدا، شعب الایمان، باب الخوف من اللہ ، جلد 1، صفحہ 491، حدیث: 803)بھلائی کی طرف راہ نمائی:حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے تو یہ خوف ہر بھلائی کی
طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔سبز موتیوں کا محل:حضرت کعب الاحبار رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے: اللہ پاک نے سبز موتی کا ایک محل پیدا فرمایا
ہے، جس میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر
میں ستر ہزار کمرے ہیں، اس میں وہ داخل
ہوگا، جس کے سامنے حرام پیش کیا جائے اور
وہ محض اللہ
پاک کے خوف سے چھوڑ دے۔( خوف خدا، احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 199)کامل عقل
والا:مدنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سے سب سے بڑھ کر کامل عقل والا وہ
ہے، جو ربِّ کریم سے زیادہ ڈرنے والا ہے
اور جو تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے، جو اللہ پاک
کے اَوامر و نواہی یعنی احکام میں زیادہ غور کرتا ہے۔( خوف خدا، احیاء
العلوم، جلد 4، صفحہ 199) جنت میں داخلہ:حضرت یحی بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:یہ کمزور انسان اگر جہنم سے اسی طرح ڈرے، جس طرح محتاجی سے ڈرتا ہے تو جنت میں داخل ہو۔( خوف خدا، احیاء
العلوم، جلد 4، صفحہ 199)اللہ
پاک سے دعا ہے کہ
ہمیں حقیقی معنوں میں خوفِ خدا میں رونے کی سعادت عطا فرمائے۔آمین
خوف خدا میں رونے کے بہت سے فضائل کتابوں میں ملتے ہیں۔خوفِ خدا کسے کہتے
ہیں؟خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے آنے والی سزاؤں کا
سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔فطری طور پر انسان ہر اس چیز سے کی
طرف مائل ہوتا ہے، جس سے اسے فائدہ نظر آئے، اسی تقاضے کے پیشِ نظر ہمیں چاہئے کہ فضائلِ
خوفِ خدا قرآن کریم سے مطالعہ کریں، تاکہ
رونے کی اہمیت ہم پر واضح ہو جائے، سورۂ
رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارت سنائی گئی، اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے:وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمہ کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے
ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ سورۃ البقرہ میں آیا ہے:اِنَّ
اللہ مَعَ المُتَّقِیْن۔اللہ
ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے
کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری ہے:اِنَّ
اللہ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن۔بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔حدیث: مبارکہ میں بھی خوفِ خدا کے
متعلق بہت سے فضائل وارد ہوتے ہیں، جیسا
کہ منقول ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔اس کے علاوہ اُمُّ
المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کی روایت میں ہے، فرماتی ہیں: میں نے عرض کی:یارسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا آپ
کی اُمّت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا؟ تو فرمایا:ہاں، وہ جواپنے
گناہوں کو یاد کر کے روئے۔شعب الایمان کی روایت کا جز ہے: آقا علیہ
السلام نے ارشاد
فرمایا:وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک
کے ڈر سے روئے۔ کعب احبار رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: خوفِ
خدا سے آنسو بہانا مجھے اس سے بھی زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے وزن کے مطابق سونا
صدقہ کروں، اس لئے جو شخص اللہ پاک کے ڈر سے روئے اور اس کے آنسو کا ایک قطرہ
بھی زمین پر گر جائے تو آگ اس کو نہ چھوئے
گی۔
میرے اشک بہتے
رہیں کاش ہر دم تیرے
خوف سے یا خدا یا الٰہی
ایک حکایت میں ہے: حضرت فتح موصلی رحمۃ
اللہ علیہ جو نہایت متقی و پرہیزگار تھے، ایک دن رات کو مصلے پر بیٹھے خوفِ خدا کے سبب
آنسو بہا رہے تھے کہ آپ نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا رکھا اور آپ کی اُنگلیاں سرخ
آنسو سے تَر ہیں، ایک شاگرد حاضر
ہوا، اس نے عرض کی: میں آپ کو ربّ کا
واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ بتائیں،آپ کب سے خون کے آنسو رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے
فرمایا:اگر تو ربّ کا واسطہ نہ دیتا تو میں نہ بتاتا اور فرمایا:میں 60 سال سے
خوفِ خدا سے خون کے آنسو سے رو رہا ہوں۔مرنے کے بعد ان کو کسی نے خواب میں دیکھ کر
پوچھا تو فرمایا:اللہ پاک نے اپنی شان کے لائق مجھ سے سلوک فرمایا ہے۔(حکایات الصالحین)
خوف خدا کا مطلب اللہ پاک کی ناراضی سے ڈرنا اور گناہوں پر ملنے والی
سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل خوفِ خدا سے گھبرا جائے ، ہمارے پیارے آ قا صَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:خوفِ خدا سے رونے والا
ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا حتی
کہ دودھ (جانور کے )تھن
میں واپس آجائے ۔خوفِ خدا
میں رونا سنت ہے، خوفِ خدا میں رونے کے بے
شمار فضائل ہیں:1۔خوفِ خدا میں رونے سے گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا ذہن
ملتا ہے۔ 2۔خوف ِخدا سے دل کی سیاہی دور ہوتی ہے اور دل کی سختی دور ہوتی ہے۔
3۔انسان کو دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور آ خرت میں بھی۔ 4۔خوفِ خدا سے اللہ پاک
اور اس کے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ
وَسَلَّم کی محبت دل میں
اور مضبوطی پکڑ لیتی ہے۔
تیرے خوف سے
تیرے ڈر سے ہمیشہ میں
تھر تھر رہوں کانپتی یا الٰہی
خوفِ خدا
سے جہنم کا عذاب ہٹا دیا جائے گا، بندہ
اپنے ربّ کریم کے اور بھی زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ آج ہم خوفِ خدا میں رونا تو دور
کی بات ہے، گناہوں کی ایسی لَت میں مبتلا
ہیں کہ ان پر شرمسار بھی نہیں ہوتے اور گناہوں پر گناہ ہر روز کا معمول بن چکا ہے،
آ ج کے اس پرفتن دور میں بھی ایک ہستی ایسی ہے، جس نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو مسلمان بنا کر خوفِ خدا میں رونے والا بنادیا، وہ ہستی
ہے امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامَتْ
بَرَکاتُہمُ العالِیَہ ۔
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت
فرمائے۔آمین
بجاہ النبی الآمین صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
مطلقاً خوف سے
مراد وہ قلبی کیفیت ہے، جو کسی ناپسندیدہ
امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے
زخمی ہوجانے کا ڈر/خوف خدا میں بہنے والا آنسو، بلا شبہ خوف خدا ہماری اُخروی نجات
کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ عبادات کی بجا آوری اور منہیات سے باز رہنے
کا عظیم ذریعہ خوف خدا ہے، اس حقیقت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ مختصر
سی زندگی کے ایام گزرنے کے بعد ہر ایک کو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوکر
تمام اعمال کا حساب دینا ہے، لہٰذا اس دنیاوی زندگی کی رونقوں،مسرتوں میں کھو کر
حسابِ آخرت کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجانا یقیناً نادانی ہے۔یاد رکھئے! ہماری
نجات اسی میں ہے کہ ہم ربّ کائنات اور اس کے پیارے حبیب صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے
اپنے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں اور گناہوں کے ارتکاب سے پرہیز کریں، اس
مقصدِ عظیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے دل میں خوف خدا کا ہونا بھی بے حد ضروری
ہے، کیونکہ جب تک یہ نعمت حاصل نہ ہو، گناہوں سے فرار اور نیکیوں سے پیار تقریباً ناممکن ہے۔ربّ العالمین نے خود
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر خوف خدا کو اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ،
چند آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
1۔ترجمہ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں
ایک جان سے پیدا کیا ہے۔(پ 4، النساء:1)2۔ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔)پ3،ال عمران:(28خوف خدا میں رونے کے فضائل کے بارے چند فرآمین مصطفیٰ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ملاحظہ فرمائیے:1۔حضرت انس رضی
اللہُ عنہ سے روایت ہے،رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ پاک
کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے
گا۔(کنزالعمال، ج3، ص63، حدیث: 5909)2۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند
نہیں جو آنکھ سے اس کے خوف سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جاتا
ہے۔ (احیاء العلوم،ج4، ص 200)خوف خدا میں رونا بہت بڑی سعادت کی بات ہے، اللہ پاک کو وہ آنسو بہت پسند
ہے، جو اس کی یاد میں بہا ہو، ہمارے بزرگانِ دین پر خوف خدا کا ایسا غلبہ طاری
ہوتا تھا کہ ساری ساری رات عبادت میں گزر جاتی اور اللہ کی یاد میں آنسو
بہتے۔غوثِ اعظم رضی اللہُ عنہ کا خوفِ خدا:حضرت شیخ سعدی شیرازی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: مسجد الحرام میں کچھ لوگ کعبۃ اللہ شریف
کے قریب عبادت میں مصروف تھے، اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوارِ کعبہ سے
لپٹ کر زارو قطار رو رہا ہے اور اس کے لبوں پر جاری ہے:اے اللہ پاک! اگر میرے
اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تو بروزِ قیامت مجھے اندھا اٹھانا، لوگوں کو
یہ عجیب و غریب دعا سن کر بڑا تعجب ہوا، چنانچہ انہوں نے دعا مانگنے والے سے
استفسار کیا:اے شیخ! ہم تو قیامت میں عافیت کے طلب گار ہیں اور آپ اندھا اٹھائے
جانے کی دعا فرما رہے ہیں، اس میں کیا راز ہے؟ اس شخص نے روتے ہوئے جواب دیا:میرا
مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اعمال اللہ پاک کی بارگاہ کے لائق نہیں تو میں قیامت کے دن
اس لئے اندھا اٹھایا جانا پسند کرتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا
پڑے۔وہ سب لوگ اس عارفانہ جواب کو سن کر بے حد متاثر ہوئے، لیکن اپنے مخاطب کو پہچانتے نہ تھے، اس لئے
پوچھا:اے شیخ آپ کون ہیں؟اس نے جواب دیا:میں عبدالقادر جیلانی ہوں۔(فیضان سنت بحوالہ گلستان سعدی، 733) اللہ پاک ہمیں اپنی یاد میں رونا اور آنسو بہانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
آہ!کثرتِ عصیاں،
ہائے خوف دوزخ کا کاش! اس
جہان کا میں نہ بشر بنا ہوتا
قرب الٰہی کا
ذریعہ:تقویٰ و خوف ِالٰہی کی خوبی انسان کو اللہ پاک کے بہت زیادہ قریب کر دیتی ہےجیسا کہ سورۂ
الِ عمران میں اللہ پاک فرماتا ہے: اے ایمان والو!اللہ پاک سے ڈروجیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور
ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔اور سورۂ نسا ء میں فرمایا : ہم تم میں سے پہلےاہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کرتے ہیں
کہ اللہ
پاک سے ڈرو ،ایک اور مقام پر فرمایا :اگر تم اللہ سے ڈروگے تو وہ تمہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی بصیرت
عطا فرما دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ پاک
بڑا فضل والا ہے (مفہوم قرآن )۔ان کے علاوہ اللہ پاک نے
اور بھی بہت سی آیتوں کے ذریعہ اپنے بندوں کو خوف ِالٰہی میں رونے کی تاکید فرمائی
ہے۔رونے والی آنکھ آگ سے محفوظ ہے:حدیث: شریف : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے میرے آقائے کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :دو
آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی (1)وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی (2) وہ آنکھ جس نےاللہ پاک
کی راہ میں پہرہ داری کرکے رات گزاری (ترمذی ج4ص/92) بلا شبہ خوف خدا وہ نیک اور مقبول عمل ہے کہ جس دل میں پیدا
ہوجاتا ہے وہ دل نیکی اور تقویٰ کا مرکز بن جاتا ہے اور وہ شخص ہر قسم کے گناہ و
برائی سے دور اور محفوظ نظر آنے لگتا ہے، اور یہ خوف خدا کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جسم
کے تمام اعضا یعنی آنکھ ،کان ،زبان،ہاتھ ،پیر اور دل و دماغ سب کے سب نیک اور اچھے
کاموں میں مشغول نظر آتے ہیں۔یہ خوف خدا کی برکات و حسنات ہوتی ہیں کہ آنکھ برائی
نہیں خوبی اور بھلائی دیکھتی ہے ،دل و دماغ برا اور خراب نہیں بلکہ بھلا اور اچھا
سوچتے دیکھائی دیتے ہیں ،ہاتھ اور پیر گنا ہ و ظلم کے راستے پر چلنے کے بجائے نیک
اور حق و سچ کے راستے پر چلتے نظر آتے ہیں ،حاصل کلام یہ ہے کہ جب آدمی اپنے دل میں
خوف خدا پیدا کرلیتا ہے اور اللہ پاک سے ڈرنے لگتا ہے تو ہر قسم کے گناہ اور برائی
سے محفوظ ہو کر اللہ پاک کی بارگاہ میں محبوب و مقبول بن جاتا ہے۔خوف خدا کا انعام و
اکرام بڑا عظیم ہوتا ہے، ہر نیک کام کا بڑا بہتر اجر اور بدلہ ہے دنیا میں خیرو
برکت، آخرت میں عزت و عظمت اور نجات و بخشش اور پھر جنت کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔شہنشاہِ
مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ،فیض گنجینہصَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت
نشان ہے:اللہ
پاک کو کوئی شئے دو قطروں سے زیادہ پسندنہیں: (1) خوف ِالٰہی پاک سے بہنے
والا آنسوؤں کا قطرہ اور (2) اللہ پاک کی راہ میں بہنے والا خون کا قطرہ۔(جامع الترمذی،حدیث: 1669،ص1823)حضور نبی کریم، ر ء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یہ دعا فرمایا
کرتے : اے اللہ پاک!مجھے رونے والی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے آنسو بہاتی
رہیں اس سے پہلے کہ خون کے آنسو رونا پڑے اور داڑھیں پتھرہوجائیں۔ (الزھد للامام احمد بن حنبل،حدیث:48،ص34)
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام
نہیں ذکرِ محبت عام ہے
لیکن سوزِ محبت عام نہیں
دعوتِ
اسلامی کےتحت8دسمبر2021ءبروزبدھ
مدنی مرکزفیضانِ مدینہ فیصل آبادمیں جامعۃالمدینہ(بوائزوگرلز)،
مدرسۃ المدینہ (بوائزوگرلز) اور فیضان مدینہ رینوویشن کےذمہ داران کامدنی مشورہ منعقدہوا۔
اس موقع پرمرکزی مجلسِ شوریٰ کےرکن ونگرانِ
پاکستان مشاورت حاجی محمدشاہدعطاری نےذمہ داراسلامی بھائیوں کی دینی،اخلاقی
اورتنظیمی اعتبارسےتربیت فرمائی۔
اس دوران رکنِ شوریٰ حاجی محمد اسدعطاری مدنی
نےبھی اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کرتےہوئےشعبوں کےدینی کاموں کا جائزہ لیا۔
نگرانِ پاکستان نےجامعۃالمدینہ،مدرسۃالمدینہ
اورمدنی مراکزفیضانِ مدینہ کی تعمیرات کےحوالےسےمدنی پھولوں سےنوازا۔
درود پاک کی
فضیلت:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھا، اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے
گا۔ہمارے مضمون کا عنوان ہےخوفِ خدا میں رونے کے فضائل خوفِ خدا کسے کہتے ہیں؟ آیات، احادیث اور بزرگوں کی روایت کے ذریعے خوفِ خدا
میں رونے کے فضائل پیش کئے جائیں گے۔خوفِ خدا کا مطلب:اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل
گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(خوف خدا، صفحہ 14)اسی طرح اللہ پاک نے قرآن پاک میں متعدد جگہ پر خوفِ خدا میں رونے کے فضائل بیان
کئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے، سورۂ رحمن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو
جنتوں کی بشارت سنائی گئی ہے، چنانچہ
ارشاد ہوتا ہے:وَ
لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمہ
کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے ،اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، رحمن: 46)سبحان اللہ!اللہ پاک نے کتنی پیاری فضیلت بیان فرمائی ہے۔ خوفِ
خدا کے فضائل :اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے، ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ پاک
کے سوا کسی سے ڈرتا ہے تو اللہ پاک اسے ہر شے سے خوفزدہ کردیتا ہے۔(شعب الایمان، باب
الخوف من اللہ
،جلد 1، صفحہ 541، حدیث: 984)اس حدیث: سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اپنے ربّ کریم کا
ہی خوف رکھنا چاہئے، اگر اللہ پاک
کا خوف دل میں موجود ہوگا تو ان شاء اللہ بہت سے گناہوں سے بھی بچ جائیں گے، الحمدللہ
ہمارے اسلاف کرام نے بھی خوفِ خدا میں رونے کے فضائل بیان فرمائے ہیں، جن میں سے دو یہ ہیں:1۔حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :جو شخص
اللہ پاک
سے ڈرتا ہے تو یہ خوف ہر بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 198)2۔کسی بزرگ کا قول ہے:جو ہنستے ہوئے گناہ کرے گا تو ربِّ کریم اسے اس حال میں
جہنم میں ڈالے گا کہ وہ رو رہا ہوگا اور جو روتے ہوئے نیکی کرے تو اللہ پاک
اسے اس حال میں جنت میں داخل فرمائے گا کہ وہ ہنس رہا ہوگا۔(المنبہات علی الاستعداد لیوم المھاد، صفحہ 5)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا خوف عطا کرے اور اپنی رضا والے کام
کرنے کی توفیق دے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم
میرے اشک بہتے
رہیں کاش ہر دم تیرے
خوف سے یا خدا یا الٰہی
(وسائل بخشش، صفحہ 52)
خوفِ خدا ہوتا
کیا ہے؟خوفِ خدا سے مراد ہے کہ اللہ پاک کی خفیہ تدبیر،اس کی بے نیازی،اس کی ناراضی،اس
کی گرفت (پکڑ)،اس کی طرف سے
دیئے جانے والے عذابوں،اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے
خوف زدہ رہنا۔خوفِ خدا کی فضیلت:کسی چیز کی فضیلت کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ بندے کو
کس قدر اللہ
پاک سے ملاقات کی سعادت کے قریب کرتی ہے، بندے کا سب سے بڑا مطلوب سعادت مندی ہے اور سب سے بڑی سعادت مندی اللہ پاک
کا قُرب ہے، جو اس کی معرفت سے حاصل ہوتا
ہے اور معرفتِ الٰہی اس کے جَلال اور قدرت میں غوروفکر کرتے رہنے سے حاصل ہوتی
ہے، یہ دل سے دنیا کی محبت کا قلع قمع
کرنے سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا خواہشاتِ
دنیا کا خاتمہ خوفِ خدا کی آگ سے ہی ممکن ہے، گویا کہ خوفِ باری سب سے بڑی سعادت مندی ہے ۔چنانچہ ارشادِ خدا وندی ہے:خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ
مُؤمِنِیْن۔ترجمۂ کنزالایمان: مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ 4 ،ال
عمران :175)خوفِ خدا کے بہت سے فضائل قرآن و حدیث: میں مذکور ہیں اور خوفِ خدا اولیائے کرام کی سب سے بڑی صفت ہے
۔فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:جس بندہ مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکھی
کے پَر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ پاک اس بندے پر دوزخ کو
حرام فرما دیتا ہے۔( ابن ماجہ، حدیث:4197)خوف سے بہنے والے آنسو:اللہ پاک کے نزدیک اس کے خوف سے بہنے والے آنسو کے
قطرے اور اس کی راہ میں بہنے والے خون کے قطرےسے زیادہ کوئی قطرہ محبوب نہیں ۔(الزھدلابن المبارک،حدیث: 672)حضرت کعب الاحبار رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس
ذات پاک کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں اللہ پاک کے خوف سے روؤں، یہاں تک کہ میرے آنسو رُخساروں پر بہیں، یہ میرے نزدیک پہاڑکے برابر سونا
صدقہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔جنت میں کون داخل ہو گا؟اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ
صدیقہ رَضِیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں : میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:کیا آپ کی اُمّت میں کوئی
ایسا شخص بھی ہے، جو بلا حساب جنت میں
داخل ہو گا؟ارشاد فرمایا: ہاں! وہ جو اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے۔چنانچہ ارشادَ
باری ہے:وَلِمَنْ
خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتٰنِ۔ ترجمۂ
کنزالایمان: اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے، اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمٰن:46)خلیفہ
ثانی رضی اللہُ عنہ کا خوفِ خدا :کثرت سے رونے کے سبب امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی
اللہُ عنہ کے چہرہ مبارک پر دو سیاہ لکیریں بن گئی تھیں، ایک روز آپ رضی
اللہُ عنہ نے سورۂ تکویر کی تلاوت شروع فرمائی اور جب اس آیت مبارکہ
پر پہنچے:وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ترجمہ:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں۔(پ 30،التکویر:10)تو بےہوش
ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔بلا شک خوفِ خدا اس کے محبوب بندوں کی صفت ہے، تاریخ دیکھی جائے تو جتنے بھی اولیائے کرام
گزرے، سب خوفِ خدا والے تھے، ہاں ویسے یہ ضرور ہے کہ خوفِ خدا اسی میں ہوتا
ہے، جس میں عشقِ رسول ہو، کیونکہ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سب سے بڑھ کر خوفِ خدا والے
تھے اور سب سے بڑھ کر اللہ پاک کو محبوب ہیں، ہمیں بھی اللہ پاک کی پیاری بندی
بننے، پیارے آقا صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنتِ مبارکہ کو اپنانے کے
لئے گناہوں کو ترک کر کے خوفِ خدا کی صفت اپنانی چاہئے۔
کوئٹہ
زون کے 6 علاقوں میں مسکرانے کے دینی و دنیاوی
فوائد کورس کا انعقاد
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے تحت ماہ
نومبر2021ء میں کوئٹہ زون کی 3 کابینہ کے 6 علاقوں میں ون ڈے سیشن مسکرانے کے دینی و دنیاوی
فوائد کورس کا انعقاد کیا گیا جن میں89 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
کورس
میں مبلغات دعوت اسلامی نے نبی کریم ﷺ کے مسکرانے کی سنت اور مسکرانے کے دیگر دنیاوی و
دینی فوائد کے ساتھ طبی فوائد بھی بیان کئے گئے۔ مزید اسلامی بہنوں کو مدنی
مذاکرہ دیکھنے اور ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں باقاعدگی سے شرکت کرنے کا ذہن دیاگیا۔
فرمانِ مصطفے :مجھ
پر درودشریف پڑھو اللہ پاک تم پر رحمت بھیجے گا۔خوفِ خدا میں
رونے والا ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا:رحمتِ عالم،سرورِ کائنات،سردارِدو جہان،محبوبِ
رحمن صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:خوفِ خدا
میں رونے والا ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا حتی کہ دودھ تھن میں واپس آجائے۔(شعب الایمان ، 1/ 490، حدیث: 800)حکیمُ الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیث: پاک کے
متعلق فرماتے ہیں:دوہے ہوئے دودھ کا تھن میں واپس ہونا نا ممکن ہے ایسے ہی اس شخص
کا دوزخ میں جانا نا ممکن ہے ۔جیسے رب کریم
فرماتا ہے :ترجمۂ کنزالایمان: جب تک سُوئی کے ناکے اونٹ نہ داخل ہو۔
قلبِ مضطر کی لاج رکھ مولیٰ یہ صدا میری چشم ِنم کی
ہے
قرآن و حدیث: میں
اللہ پاک
سے ڈرنے کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں ،چنانچہ اللہ پاک
کا ارشاد ہے :ترجمۂ کنزالعرفان:
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کیلئے دو جنتیں
ہیں۔ایک مقام پر ارشاد فرمایا:ترجمۂ کنزالعرفان:اور آخرت تمہارے رب کے پاس
پرہیزگاروں کیلئے ہے۔ایک جگہ ارشاد فرمایا:ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک ڈرنے والے باغوں
اور چشموں میں ہوں گے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس مومن بندے کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کی وجہ سے آنسو نکلیں اگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر
ہوں،پھر وہ آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر آجائیں تو اللہ پاک
اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب اللہ پاک کے خوف سے بندے کا بدن لرزنے لگے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے
ہیں جیسے سوکھے ہوئے درخت سے اس کے پتے
جھڑتے ہیں۔فرمانِ مصطفے:اللہ پاک کے خوف سے مومن کی
آنکھ سے نکلنے والا قطرہ اس کیلئے دنیا اور اس کی ہر چیز اور ایک سال کی عبادت سے
بہتر ہے۔ہمیں اللہ پاک سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ خوفِ خدا میں خوب رونا چاہئے،لیکن ساتھ ساتھ اللہ پاک کی عبادت بھی کرنی چاہئے۔ خوفِ خدا ہو گا تو عبادت کریں گی۔دنیا اورمالِ دنیا کیلئے رونا بھی کوئی
رونا ہے؟ سب کچھ یہیں رہ جائے گا،ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ اللہ پاک کے خوف میں روئیں
گی تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائیں گی۔خوفِ خدا میں رونے کا فائدہ تو دیکھئے
کہ جہنم حرام کر دی جاتی ہے اور کیا چاہیے؟اللہ پاک ہم سب کو خوفِ
خدا میں رونا نصیب فرمائے۔اٰمین
خوف خدا کا مطلب:خوفِ
خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک
کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی
سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ ۔(پ 22، احزاب:70 )نبی کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد مبارک:نبی کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:حکمت کی اصل اللہ پاک
کا خوف ہے۔خوف خدا میں رونے کی فضیلت:خوف خدا سے رونے لرزنے اور ربّ کی بارگاہ میں
گڑگڑانے والوں کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور انہیں داخلِ جنت کیا جاتا
ہے، بلاشبہ خوفِ خدا ایک ایسی چیز
ہے، جو بندے کو گناہوں سے روک کر نیکیوں
کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔اللہ پاک کے خوف سے اس کی بارگاہ میں رونے سے قربِ الہٰی
نصیب ہوتا ہے، خوف خدا سے ہمارا دل
عبادتوں کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے، پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس قدر خوفِ خدا سے روتے کہ آپ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی داڑھی مبارک تر ہو جاتی
ہے۔خوف خدا کے فضائل قرآن کریم کی روشنی میں:سورۂ رحمٰن میں خوف خدا رکھنے والوں
کے لئے دو جنتوں کی بشارت سنائی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے
ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔دنیا میں اپنے خالق و مالک کا خوف رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے، جیسا کہ ربّ کریم پارہ 25، سورہ ٔدخان، آیت 51میں ارشاد فرماتاہے:ان المتقین فی مقام امین ۔ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ڈر والے امان کی جگہ۔جب ہمیں رب کریم کی بارگاہ سے اتنی پیاری پیاری نوید سنائی جا
رہی ہے تو کیوں نہ ہم اس کی بارگاہ میں سربسجود ہوں، کیوں نہ ہم اس کی بارگاہ میں خوب روئیں،رب کریم
تو ایسا رحیم و کریم ہے کہ بندے کے آنسو بہانے پر فوراً اسے تھام لیتا ہے،اس سے
کبھی نہیں ٹھکراتا، خواہ وہ پھر اپنی
پریشانی ظاہر کرتے ہوئے روئے یا پھر اس کے خوف سے روئے۔رونے والا تو زیادہ پسندیدہ
ہے، کس طرح ہمارے بزرگانِ دین راتوں کو
جاگ جاگ کر عبادتیں کرتے تھے، بعض صحابہ
کرام علیہمُ
الرضوان کو تو خود نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جنت کی بشارت دے دی تھی، پھر بھی ان کی عبادتوں اور ان کے سجدوں میں
کوئی کمی نہیں آئی، آج اگر ہمیں دنیاوی
معاملہ پیش آ جاتا ہے، جیسے ٹیسٹ دینا ہے
تو کس طرح ہم دن رات محنت کرتی ہیں، بلکہ
دنیاوی امتحان میں تو راتوں کی نیندیں اُڑا لیتی ہیں کہ ہم کامیاب ہو جائیں لیکن
کیا ہمیں آخرت کا خوف بھی ہے؟ہم جانتی ہیں کہ ہمارے تو اعمال بھی ناقص ہیں تو پھر
یہ تو دنیاوی معاملات ہیں، اگر یہاں نہ
بھی کامیاب ہوں تو صرف دنیا کا ہی نقصان ہے، لیکن خدانخواستہ آگے بروزِ حشر کیا بنے گا؟ ہمارے پاس اعمال بھی ہیں جو
ہمیں کامیاب کروائیں اور پُل صراط پار کروائیں؟ جو قبر کے کیڑے مکوڑوں سے بچالیں؟
کیا ہم خوف خدا سے روتی ہیں؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔خوف خدا کے فضائل احادیث
مبارکہ کی روشنی میں:حضرت ابوہریرہ رضی
اللہُ عنہ سے مروی ہے:سرورِ عالم، نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت و جلال کی
قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دوامن جمع کروں
گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں
گا اور اگر دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے امن میں رکھوں
گا۔سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے، ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ پاک
کے علاوہ کسی چیز سے ڈرتا ہے تو اللہ پاک اسے ہر شے سے خوفزدہ کردیتا ہے۔ سرور عالی
شان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس مؤمن
کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں، اگرچہ مکھی کے پَر کے برابر ہوں، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کا ظاہری حصّے تک پہنچیں تو اللہ پاک
اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔جہاں ربّ کریم کی رحمت سے یہ نوید ملتی ہے کہ وہ اپنی رحمت سے معاف کر کے جنت میں داخل کر
دے گا اور جہنم حرام کردے گا اور کہیں وہ ہمیں عذاب سے ڈراتا ہے،بےشک اس کا عذاب
بہت ہی سخت ہوگا، جو ہم جیسی جانیں جنہیں
آج ایک ذرا سی چوٹ لگ جائے تو اس پر پورا گھر سر پر اٹھا لیتی ہیں تو خدانخواستہ
اگر وہ ہم سے ناراض ہو گیا تو ہم کیا کریں گی۔اللہ پاک ہمیں اپنے خوف سے
رونے والی آنکھیں عطا فرمائے۔آمین
دل ہائے گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا مغلوب شہا! نفسِ
بدکار نہیں ہوتا
اے ربّ کے حبیب آؤ اے میرے طبیب آؤ اچھا یہ گناہوں کا
بیمار نہیں ہوتا
Dawateislami