حضرت علامہ ابواللیث رحمۃُ اللہِ
علیہ کہتے ہیں:
ساتویں آسمان پر اللہ کے ایسے فرشتے ہیں کہ انہیں اللہ پاک نے جب سے پیدا کیا
ہے، برابر سجدے میں ہیں اور اللہ پاک
کے عذاب سے انتہائی خوفزدہ ہیں، قیامت کے
دن جب وہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے تو کہیں
گے: سُبْحٰنَکَ مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ
عِبَادَتِکَ۔اے اللہ تو
پاک ہے، ہم تیری کماحقہٗ عبادت نہیں کرسکے۔فرمانِ الٰہی ہے:یَخَافُوْنَ
رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۔ترجمہ کنزالایمان:اپنے اوپر اپنے ربّ کا خوف کرتے ہیں اور
وہی کرتے ہیں، جو انہیں حکم ہو۔(پ 14، :50)وہ فرشتے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں اور جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا ہے، وہی کرتے ہیں اور ایک لمحہ بھی میری نافرمانی
میں نہیں گزارتے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:جب کوئی بندہ خوفِ الٰہی سے کانپتا ہے تو اس کے گناہ اس کے بدن سے ایسے
جھڑجاتے ہیں، جیسے درخت کو ہلانے سے اس کے
پتے جھڑ جاتے ہیں۔(شعب
الایمان،1/491، حدیث: 803 بتغیر)حکایت: ایک نوجوان عورت کی محبت میں مبتلا ہوگیا، وہ رات کے قافلے کے ساتھ باہر کے سفر پر روانہ
ہو گئی، جو ان کو جب معلوم ہوا تو وہ بھی
قافلے کے ساتھ چل پڑا، جب قافلہ جنگل میں
پہنچا تو رات ہو گئی، رات کو انہوں نے
وہیں پڑاؤ کیا، جب سب لوگ سو گئے تو وہ
نوجوان چپکے سے اس عورت کے پاس پہنچا اور کہنے لگا :میں تجھ سے بے انتہا محبت کرتا
ہوں اور اسی لئے میں قافلے کے ساتھ ساتھ آ رہا ہوں، عورت بولی:جا کر دیکھو کوئی جاگ تو نہیں رہا
؟جوان نے فرطِ مسرت سے سارے قافلے کا چکر لگایا اور واپس آکر کہنے لگا : سب لوگ
غافل پڑے سو رہے ہیں، عورت نے پوچھا:اللہ پاک
کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ وہ بھی سو رہا ہے؟جوان بولا:اللہ پاک
تو نہ کبھی سوتا ہے، نہ ہی اسے کبھی
اُونگھ آتی ہے، تب عورت بولی: لوگ سو گئے
تو کیا ہوا، اللہ پاک تو جاگ رہا ہے، ہمیں دیکھ رہا ہے، اس سے ڈرنا ہم پر فرض ہے، جوان نے جونہی یہ بات سُنی، خوف خدا سے لرز گیا اور بُرے ارادے سے تائب ہو
کر گھر واپس چلا گیا، کہتے ہیں کہ جب وہ
نوجوان مرا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا: سناؤ کیا گزری؟جوان نے جواب
دیا: میں نے اللہ پاک کے خوف سے ایک گناہ کو چھوڑا تھا، اللہ پاک نے اس کی سبب سے میرے تمام گناہوں کو
بخش دیا۔حضرت عمر رضی اللہُ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف سے بے ہوش ہو
جاتے، ایک دن ایک تنکا ہاتھ میں لے کر
کہا: کاش! میں تنکا ہوتا، کوئی قابلِ ذکر
چیز نہ ہوتا، کاش! مجھے میری ماں نہ جنتی
اور خوفِ خدا سے آپ اتنا رویا کرتے تھے کہ آپ کے چہرے پر آنسو ؤں کے بہنے کی وجہ
سے دو سیاہ نشان پڑ گئے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:جو شخص خوف خدا سے روتا ہے، وہ
جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا، اسی طرح
جیسے کہ دودھ دوبارہ اپنے تھنوں میں نہیں جاتا۔(ترمذی،3/236، حدیث: 1639)حدیث: شریف میں ہے:کوئی ایسا بندہ مؤمن نہیں، جس کی آنکھوں سے مکھی کے پر کے برابر آنسو بہے
اور اس کی گرمی اس کے چہرے پر پہنچے اور اسے کبھی جہنم کی آگ چھوئے۔حضرت محمد بن
المنذر رحمۃُ اللہِ علیہ جب خوف خدا سے روتے تو اپنی داڑھی اور چہرے پر آنسو ملا
کرتے اور کہتے: میں نے سنا ہے کہ وجود کے جس حصّے پر آنسو لگ جائیں گے، اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
دقائق
الاخبار میں ہے: قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، جب اس کے اعمال تولے جائیں گے تو برائیوں کا
پلڑا بھاری ہو جائے گا، چنانچہ اسے جہنم
میں ڈالنے کا حکم ملے گا، اس وقت اس کی پلکوں کا ایک بال اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض
کرے گا : اے ربّ کریم! تیرے رسول صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا تھا: جو اللہ پاک کے خوف سے روتا
ہے، اللہ پاک اس پر جہنم کی آگ
حرام کر دیتا ہے اور میں تیرے خوف سے رویا تھا، اللہ پاک کا دریائے رحمت جوش
میں آئے گا اس شخص کو ایک اشکبار بال کے بدلے جہنم سے بچا لیا جائے گا، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ
السلام پکاریں گے، فلاں بن فلاں ایک بال کے بدلے نجات پا گیا۔
انسان کے دنیا
میں آنے کا مقصد اللہ پاک کی عبادت ہے اور اللہ پاک کی عبادت سے غفلت وہی کرے گا جیسے اللہ پاک
کا خوف نہ ہو ۔ خوف بہت بڑی نعمت ہے ۔کہ انسان اس کے ذریعے اپنے مقصد حیات کو پانے
میں کامیاب ہتا ہے وہی گناہوں سے بچنے میں بھی کامیاب ہوجاتا ہے ۔ مثلا جب کسی کا
بچہ گم ہوجائے تو اس کا کھانا پینا چھوٹ جاتا ہے ۔ایسے ہی جب کسی ماں کا بیٹا فوت
ہوجاتا ہے ۔ تو اس ماں کا کھانا پینا چھوٹ جاتا ہے ۔ تو حزن کھانا چھڑوادیتا ہے ۔
ایسے ہی اللہ
پاک کاخوف گناہ چھڑوا دیتا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے : اے ایمان والوں اللہ سے
ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔تو بندہ جب اس حکم پر عمل کرتا ہے ۔ اپنے دل میں
خوف خدا پیدا کرتا ہے تو خود بخود گناہوں سے بچتا چلا جاتا ہے ۔ اور جو اس کےحضور
کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے ۔اس کے لیے دو جنتیں ہیں ۔ولمن خاف مقام ربہ جنتن۔ سورۂ رحمن ۔ اور اس کے برخلاف جو خوف خدا سے بے خوف ہو تو وہ اپنی زندگی
بے کار فصول کاموں میں لگا دیتا ہے ۔ اپنی دنیا بھی اور آخرت بھی برباد کرتا ہے ۔
تو جب تک خوف خدا نہی ہوگا تو نیکیوں پر چلنا مشکل ہے ۔ امام غزالی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: عبادت کے راستے پر چلنا اس وقت تک
ممکن نہی جب تک تم اپنے اندر خوف خدا اور امید رحمت کی صفات پیدا نہ کرلو ۔ امام
غزالی رحمۃ
اللہ علیہ نے مزید فرمایا:نفس امارہ برائی کا دلدادہ ہے ۔
یہ اس وقت تک گناہوں سے باز نہی آسکتا جب تک زبردست خوف خدا حاصل نہ ہوجائے۔ (منھاج العابیدین)خوف خدا
ہی وہ صفت ہے جس سے نیکیاں کرنا آسان اور گناہ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ خوف خدا میں
رونا بڑی سعادت ہے ۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک نے فرمایا: ان لوگوں کو جہنم سے نکال
دو جو ایک دفعہ مجھ سے ڈرے ہیں ۔ ترمذی شریف ص
2594خوف خدا میں رونے والا ہر گز جہنم میں نہی جائے گایہاں تک
کہ دودھ تھن میں واپس چلاجائے۔ ترمذی ،فصائل
الجھاد،ص 415 حدیث: 1633مفتی احمد یار خان رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں:جیسے تھن سے نکلا دودھ تھن میں واپس نہی جاتا ایسے ہی خوف خدا سے
رونے والے کاجہنم میں جانا ممکن نہی ۔خوف
خدا میں رونا انبیاء کی سنت اور نیک لوگوں کی علامات ہے ۔ حضرت یحٰی علیہ
السلام ۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی
کے ڈھیلے ساتھ روتے ۔ آپ اللہ پاک کے خوف سے مسلسل روتے یہاں تک کہ رخسار پر
زخم ہوگئے۔ نیکی کی دعوت ص 274 حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رونے کی گڑگڑاھٹ 1 میل کے فاصلے سے سنائی دیتی ۔تو جب انبیاء کرام کے خوف
خدا کا یہ عالم ہے تو ہمیں کس قدر اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے ۔ البتہ جہاں اللہ پاک کاخوف بندہ کی آخرت
سنوارتا ہے وہی اس کی دنیا بھی سنور جاتی ہے کہ اللہ پاک کا خوف رکھنے والا
حرام سے بچتا ہے ۔ اللہ پاک کاخوف رکھنے والا سود سے بچتا اور دین کے احکام کو سینے سے
لگاتا ہے ۔ تو خوف خدا میں رونے کی عادت پیدا کیجیے ۔ اور رب کی رضا حاصل کر کے
آخرت کو بہتر بنانے کی کوشش کیجیے ۔خوفِ خدا کہتے کسے ہیں؟امِیراہلسنّت دامَتْ
بَرَکاتُہمُ العالِیَہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی خفیہ تدبیراس کی طرف سے دیئے
جانے والے عذابوں اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے خوف زدہ
رہنے کا نام خوفِ خدا ہے۔کفریہ کلمات کے
بارے میں سوال جواب، ص26قرآنِ کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ
کنزالایمان:اور بے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے
اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ پارہ5سورۂ نِساء آیت نمبر131۔سورۂ رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارت
سنائی گئی ہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے
ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہے۔خوفِ خدا، ص26سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہے:ایک رات رسولصلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور
فرمانے لگے: مجھے رخصت دوکہ میں رب کریم کی عبادت کرلوں ۔تو میں نے عرض کی: مجھے
آپ کا رب کریم سے قریب ہونا اپنی خواہش سے زیادہ عزیز ہے۔تو آپصلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم گھر کے ایک کونے میں کھڑے
ہوگئے اور رونے لگے ،پھر وضو کرکے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو دوبارہ رونا شروع
کردیا یہاں تک کے آپ چشمان مبارک سے نکلنے والے آنسو زمین تک جاپہنچے۔اتنے میں
حضرت بلال رضی اللہُ عنہ حاضر ہوئے تو آپ کو روتے دیکھ کر عرض کی :یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! میری جان آپ پر قربان! آپ
کیوں رورہے ہیں حالانکہ آپ کے سبب تو اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں؟ تو ارشاد
فرمایا:کیا میں شکر کزار بندا نہ بنوں؟(پھر
فرمایا:) اے بلال!جہنم کی آگ کو آنکھ کے آنسو ہی بجھا سکتے ہیں۔ خوفِ خدا،ص424344قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں لایا
جائےگا۔اُسے اُس کا اعمال نامہ دیاجائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا۔پھر عرض
کرے گا:یا اِلٰہی!میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں؟اللہ پاک ارشاد فرمائےگا:میرے
پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں۔پھر اللہ پاک کے حکم سے اس کے اعضا گواہی دیں گے ۔ہاں!ہم(حرام کی طرف)بڑھے تھے۔وہ بندہ
یہ سُن کر حیران رہ جائےگا۔پھر جب اللہ پاک اس کے لئے جہنم میں جانے کا حکم
فرمادے گا۔تواس شخص کی سیدھی آنکھ کا ایک بال ربّ کریم سے کچھ عرض کرنے کی اجازت
طلب کرےگا اور اجازت ملنے پر عرض کرےگا:یااِلٰہی!کیا تونے نہیں فرمایاتھا کہ میرا
جوبندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں ترکرے گا
میں اس کی بخشش فرمادوں گا؟ اللہ پاک اِرشاد فرمائے گا! کیوں نہیں!تو وہ بال عرض
کرےگا:میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گنہگار بندہ تیرے خوف سے رویا تھاجس سے میں
بھیگ گیا تھا۔یہ سُن کر اللہ پاک اس بندے کو جنّت میں جانے کا حکم فرمادےگا۔خوفِ خدا،ص142دو احادیثِ طیبہ: (1) قیامت کے دن سب آنکھیں رونے والی ہوگی
مگر تین آنکھیں نہیں روئیں گی ان میں سے ایک وہ ہوگی جو خوفِ خدا سے روئی ہوگی۔(2)
اے لوگو!رویا کرو اور اگر نہ ہو سکے تو رونے کی کوشش کیا کرو کیونکہ جہنّم میں
جہنمی روئیں گےیہاں تک کہ اُن کے آنسو ان کے چہروں پر ایسے بہیں گے گویا وہ نالیاں
ہیں جب آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون بہنے لگے گا اور آنکھیں زخمی ہوجائیں گی۔ خوفِ خدا میں رونے کی اہمیت،ص1011حضرت عبد اللہ بن عمر رضی
اللہُ عنہ فرماتے ہیں:اللہ پاک کے خوف سے ایک آنسو کا بہنا میرے
نزدیک ایک ہزار دِینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔حضرت کعب الاحبار رضی
اللہُ عنہ فرماتے ہیں:اُس ذات کی قسم! جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان
ہے۔ اگر میں اللہ پاک کے خوف سے روؤں حتٰی کہ میرے آنسو میرے رخساروں پر جاری ہوں
تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں سونے کا ایک پہاڑ صدقہ کروں۔ خوفِ خدا میں رونے کی اہمیت،ص11
خوفِ خدا کا مطلب:خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں
کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(ماخوز من احیاء العلوم،ج40)آیت مبارکہ:وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ
تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ-یَقُوْلُوْنَ
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ۔ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور جب سنتے ہیں، وہ جو رسول کی طرف
اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں، اس لئے کہ وہ حق کو پہچان
گئے،کہتے ہیں اے ربّ ہمارے،ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے۔(پ7،المائدہ:83)حدیث: مبارکہ: حضرت انس رضی
اللہُ عنہ سے مروی ہے:آخری
نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اللہ پاک کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں خوفِ
خدا سے بہنا شروع کر دیں،یہاں تک کہ اس کے آنسو زمین پر جا گریں تو اس کو بروزِ قیامت
عذاب نہیں دیا جائے گا۔حدیث: مبارکہ: حضرت ابوہریرہ رضی
اللہُ عنہ سے روایت ہے:تمام
نبیوں کے سرور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اللہ پاک کے خوف سے روئے گا وہ جہنم میں داخل
نہیں ہوگا،یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے اور راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہ ہوں گے۔حدیث:
مبارکہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!نجات کیا
ہے؟ فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تمہیں تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤں پر رؤ و۔حدیث: مبارکہ:حضرت ابنِ مسعود رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے:سرکار
صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک
کے خوف سے آنسو بہہ جائیں، اگرچہ مکھی کے سر
کے برابر ہوں، پھر وہ آنسو اس کی رخسار پر
پہنچ جائے تو اللہ پاک اسے جہنم پر حرام فرما دے گا۔حدیث: مبارکہ:حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے :سیّد
المبلغین، رحمت اللعٰلمین صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تین
آنکھوں کے علاوہ بروزِ قیامت ہر آنکھ رو رہی ہوگی:1۔وہ آنکھ جو اللہ پاک کی
حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے باز رہے۔2۔وہ آنکھ جو اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دے۔ 3۔وہ
آنکھ جس سے خوفِ خدا کے سبب مکھی کے سَر کے برابر آنسو نکل آئے۔(جنت میں لے جانے والے اعمال)خوفِ خدا میں رونے پر صحابی کا قولِ مبارک:حضرت عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ کا وقتِ وفات قریب آیا تو کسی نے عرض کی:مجھے کچھ وصیت
ارشاد فرمائیے۔ارشاد فرمایا:میں تمہیں اللہ پاک سے ڈر نے، اپنے گھر کو لازم پکڑنے،اپنی
زبان کی حفاظت کرنے اور اپنی خطاؤں پر رونے کی وصیت کرتا ہوں۔
یا ربّ میں تیرے
خوف سے روتی رہوں ہر دم دیوانی
شہنشاہِ مدینہ کی بنا دے
انبیائے کرام علیہم
السلام کے خوفِ خدا سے رونے کے واقعات:حضرت ابو درداء رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے:
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ
و زاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گرگڑاہٹ کی آواز
سنائی دیتی۔حضرت داؤد علیہ السلام کا خوفِ خدا :ایک دن حضرت داؤد علیہ
السلام لوگوں کو نصیحت
کرنے اور ان میں خوفِ خدا پیدا کرنے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان
میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے، جن پر آپ کے پُراثر بیان کی وجہ سے ایسی رقّت
طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت عمر
کا خوفِ خدا سے رونا:حضرت عمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ کے پیچھے نماز
پڑھی تو دیکھا کہ تین صفوں تک ان کے رونے کی آواز پہنچ رہی تھی۔ایک حبشی کا خوف ِخدا
:ایک حبشی نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم کی
بارگاہ میں عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم!میرے
گناہ بے شمار ہیں، کیا میری توبہ بارگاہِ الہٰی میں قبول ہوسکتی ہے؟آپ نے ارشاد
فرمایا:کیوں نہیں،اس نے عرض کی:کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے؟ارشاد
فرمایا:ہاں!وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے! یہ سُن کر حبشی نے چیخ ماری اور زمین پر گرتے
ہی جاں بحق ہوگیا۔پیاری اسلامی بہنو!ہم نےخوفِ خدا میں رونے کے فضائل ، واقعات و
فرامین پڑھے، اب ہم کچھ دیر غور کریں اوراپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر کتنا خوفِ
خدا ہے ؟ ہم خوفِ خدا میں کتنا روتی ہیں؟ اب تک ہم اپنی زندگی کی کتنی سانسیں غفلت میں گزار چکی؟ حضرت
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! نجات کیا
ہے؟ ارشاد فرمایا:اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے(یعنی بلاضرورت باہر نہ جاؤ) اور اپنی خطاؤں پر آنسو بہاؤ۔(شعب الایمان، ، ج1،ص492،
حدیث:805)
خوف خدا میں رونا بھی بڑی نعمت ہے، ۔خوفِ خدا کسے کہتے ہیں؟یہ عظیم نعمت ہوتی
کیا ہے؟ امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی
حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامَتْ
بَرَکاتُہمُ العالِیَہ اپنی
مایہ ناز تالیف کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صفحہ26 پر فرماتے ہیں:اللہ پاک
کی خفیہ تدبیر، اس کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت (پکڑ) اس کی طرف سے دئیے جانے والے عذابوں، اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے
خوفزدہ رہنے کا نام ہے خوفِ خدا ہے، خوفِ خدا میں رونے کے فضائل :ایک ہزار دینار
صدقہ کرنے سے زیادہ پسند:حضرت عبداللہ
بن عمر رضی اللہُ عنہمافرماتے ہیں:اللہ
پاک کے خوف سے ایک
آنسو کا بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔(شعب الایمان، ص502/1) دو جنتوں
کی بشارت: سورۂ رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارت سنائی
گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ
لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمہ کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے
ڈرے ،اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، رحمن: 46)جہنم سے
رہائی: سرورِعالم، شفیعِ معظم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:جس مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتا ہے، اگرچہ مکھی کے پر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصّے تک
پہنچیں تو اللہ پاک اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔( شعب الایمان، باب الخوف من اللہ پاک، جلد 1، صفحہ 490، حدیث: 802)جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں:رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:جب مؤمن کا دل اللہ پاک کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح
جھڑتی ہیں، جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے
ہیں۔(خوف خدا، شعب الایمان، باب الخوف من اللہ ، جلد 1، صفحہ 491، حدیث: 803)بھلائی کی طرف راہ نمائی:حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے تو یہ خوف ہر بھلائی کی
طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔سبز موتیوں کا محل:حضرت کعب الاحبار رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے: اللہ پاک نے سبز موتی کا ایک محل پیدا فرمایا
ہے، جس میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر
میں ستر ہزار کمرے ہیں، اس میں وہ داخل
ہوگا، جس کے سامنے حرام پیش کیا جائے اور
وہ محض اللہ
پاک کے خوف سے چھوڑ دے۔( خوف خدا، احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 199)کامل عقل
والا:مدنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سے سب سے بڑھ کر کامل عقل والا وہ
ہے، جو ربِّ کریم سے زیادہ ڈرنے والا ہے
اور جو تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے، جو اللہ پاک
کے اَوامر و نواہی یعنی احکام میں زیادہ غور کرتا ہے۔( خوف خدا، احیاء
العلوم، جلد 4، صفحہ 199) جنت میں داخلہ:حضرت یحی بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:یہ کمزور انسان اگر جہنم سے اسی طرح ڈرے، جس طرح محتاجی سے ڈرتا ہے تو جنت میں داخل ہو۔( خوف خدا، احیاء
العلوم، جلد 4، صفحہ 199)اللہ
پاک سے دعا ہے کہ
ہمیں حقیقی معنوں میں خوفِ خدا میں رونے کی سعادت عطا فرمائے۔آمین
خوف خدا میں رونے کے بہت سے فضائل کتابوں میں ملتے ہیں۔خوفِ خدا کسے کہتے
ہیں؟خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے آنے والی سزاؤں کا
سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔فطری طور پر انسان ہر اس چیز سے کی
طرف مائل ہوتا ہے، جس سے اسے فائدہ نظر آئے، اسی تقاضے کے پیشِ نظر ہمیں چاہئے کہ فضائلِ
خوفِ خدا قرآن کریم سے مطالعہ کریں، تاکہ
رونے کی اہمیت ہم پر واضح ہو جائے، سورۂ
رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارت سنائی گئی، اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے:وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمہ کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے
ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ سورۃ البقرہ میں آیا ہے:اِنَّ
اللہ مَعَ المُتَّقِیْن۔اللہ
ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے
کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری ہے:اِنَّ
اللہ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن۔بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔حدیث: مبارکہ میں بھی خوفِ خدا کے
متعلق بہت سے فضائل وارد ہوتے ہیں، جیسا
کہ منقول ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔اس کے علاوہ اُمُّ
المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کی روایت میں ہے، فرماتی ہیں: میں نے عرض کی:یارسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا آپ
کی اُمّت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا؟ تو فرمایا:ہاں، وہ جواپنے
گناہوں کو یاد کر کے روئے۔شعب الایمان کی روایت کا جز ہے: آقا علیہ
السلام نے ارشاد
فرمایا:وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک
کے ڈر سے روئے۔ کعب احبار رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: خوفِ
خدا سے آنسو بہانا مجھے اس سے بھی زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے وزن کے مطابق سونا
صدقہ کروں، اس لئے جو شخص اللہ پاک کے ڈر سے روئے اور اس کے آنسو کا ایک قطرہ
بھی زمین پر گر جائے تو آگ اس کو نہ چھوئے
گی۔
میرے اشک بہتے
رہیں کاش ہر دم تیرے
خوف سے یا خدا یا الٰہی
ایک حکایت میں ہے: حضرت فتح موصلی رحمۃ
اللہ علیہ جو نہایت متقی و پرہیزگار تھے، ایک دن رات کو مصلے پر بیٹھے خوفِ خدا کے سبب
آنسو بہا رہے تھے کہ آپ نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا رکھا اور آپ کی اُنگلیاں سرخ
آنسو سے تَر ہیں، ایک شاگرد حاضر
ہوا، اس نے عرض کی: میں آپ کو ربّ کا
واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ بتائیں،آپ کب سے خون کے آنسو رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے
فرمایا:اگر تو ربّ کا واسطہ نہ دیتا تو میں نہ بتاتا اور فرمایا:میں 60 سال سے
خوفِ خدا سے خون کے آنسو سے رو رہا ہوں۔مرنے کے بعد ان کو کسی نے خواب میں دیکھ کر
پوچھا تو فرمایا:اللہ پاک نے اپنی شان کے لائق مجھ سے سلوک فرمایا ہے۔(حکایات الصالحین)
خوف خدا کا مطلب اللہ پاک کی ناراضی سے ڈرنا اور گناہوں پر ملنے والی
سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل خوفِ خدا سے گھبرا جائے ، ہمارے پیارے آ قا صَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:خوفِ خدا سے رونے والا
ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا حتی
کہ دودھ (جانور کے )تھن
میں واپس آجائے ۔خوفِ خدا
میں رونا سنت ہے، خوفِ خدا میں رونے کے بے
شمار فضائل ہیں:1۔خوفِ خدا میں رونے سے گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا ذہن
ملتا ہے۔ 2۔خوف ِخدا سے دل کی سیاہی دور ہوتی ہے اور دل کی سختی دور ہوتی ہے۔
3۔انسان کو دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور آ خرت میں بھی۔ 4۔خوفِ خدا سے اللہ پاک
اور اس کے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ
وَسَلَّم کی محبت دل میں
اور مضبوطی پکڑ لیتی ہے۔
تیرے خوف سے
تیرے ڈر سے ہمیشہ میں
تھر تھر رہوں کانپتی یا الٰہی
خوفِ خدا
سے جہنم کا عذاب ہٹا دیا جائے گا، بندہ
اپنے ربّ کریم کے اور بھی زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ آج ہم خوفِ خدا میں رونا تو دور
کی بات ہے، گناہوں کی ایسی لَت میں مبتلا
ہیں کہ ان پر شرمسار بھی نہیں ہوتے اور گناہوں پر گناہ ہر روز کا معمول بن چکا ہے،
آ ج کے اس پرفتن دور میں بھی ایک ہستی ایسی ہے، جس نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو مسلمان بنا کر خوفِ خدا میں رونے والا بنادیا، وہ ہستی
ہے امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامَتْ
بَرَکاتُہمُ العالِیَہ ۔
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت
فرمائے۔آمین
بجاہ النبی الآمین صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
مطلقاً خوف سے
مراد وہ قلبی کیفیت ہے، جو کسی ناپسندیدہ
امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے
زخمی ہوجانے کا ڈر/خوف خدا میں بہنے والا آنسو، بلا شبہ خوف خدا ہماری اُخروی نجات
کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ عبادات کی بجا آوری اور منہیات سے باز رہنے
کا عظیم ذریعہ خوف خدا ہے، اس حقیقت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ مختصر
سی زندگی کے ایام گزرنے کے بعد ہر ایک کو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوکر
تمام اعمال کا حساب دینا ہے، لہٰذا اس دنیاوی زندگی کی رونقوں،مسرتوں میں کھو کر
حسابِ آخرت کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجانا یقیناً نادانی ہے۔یاد رکھئے! ہماری
نجات اسی میں ہے کہ ہم ربّ کائنات اور اس کے پیارے حبیب صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے
اپنے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں اور گناہوں کے ارتکاب سے پرہیز کریں، اس
مقصدِ عظیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے دل میں خوف خدا کا ہونا بھی بے حد ضروری
ہے، کیونکہ جب تک یہ نعمت حاصل نہ ہو، گناہوں سے فرار اور نیکیوں سے پیار تقریباً ناممکن ہے۔ربّ العالمین نے خود
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر خوف خدا کو اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ،
چند آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
1۔ترجمہ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں
ایک جان سے پیدا کیا ہے۔(پ 4، النساء:1)2۔ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔)پ3،ال عمران:(28خوف خدا میں رونے کے فضائل کے بارے چند فرآمین مصطفیٰ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ملاحظہ فرمائیے:1۔حضرت انس رضی
اللہُ عنہ سے روایت ہے،رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ پاک
کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے
گا۔(کنزالعمال، ج3، ص63، حدیث: 5909)2۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند
نہیں جو آنکھ سے اس کے خوف سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جاتا
ہے۔ (احیاء العلوم،ج4، ص 200)خوف خدا میں رونا بہت بڑی سعادت کی بات ہے، اللہ پاک کو وہ آنسو بہت پسند
ہے، جو اس کی یاد میں بہا ہو، ہمارے بزرگانِ دین پر خوف خدا کا ایسا غلبہ طاری
ہوتا تھا کہ ساری ساری رات عبادت میں گزر جاتی اور اللہ کی یاد میں آنسو
بہتے۔غوثِ اعظم رضی اللہُ عنہ کا خوفِ خدا:حضرت شیخ سعدی شیرازی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: مسجد الحرام میں کچھ لوگ کعبۃ اللہ شریف
کے قریب عبادت میں مصروف تھے، اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوارِ کعبہ سے
لپٹ کر زارو قطار رو رہا ہے اور اس کے لبوں پر جاری ہے:اے اللہ پاک! اگر میرے
اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تو بروزِ قیامت مجھے اندھا اٹھانا، لوگوں کو
یہ عجیب و غریب دعا سن کر بڑا تعجب ہوا، چنانچہ انہوں نے دعا مانگنے والے سے
استفسار کیا:اے شیخ! ہم تو قیامت میں عافیت کے طلب گار ہیں اور آپ اندھا اٹھائے
جانے کی دعا فرما رہے ہیں، اس میں کیا راز ہے؟ اس شخص نے روتے ہوئے جواب دیا:میرا
مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اعمال اللہ پاک کی بارگاہ کے لائق نہیں تو میں قیامت کے دن
اس لئے اندھا اٹھایا جانا پسند کرتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا
پڑے۔وہ سب لوگ اس عارفانہ جواب کو سن کر بے حد متاثر ہوئے، لیکن اپنے مخاطب کو پہچانتے نہ تھے، اس لئے
پوچھا:اے شیخ آپ کون ہیں؟اس نے جواب دیا:میں عبدالقادر جیلانی ہوں۔(فیضان سنت بحوالہ گلستان سعدی، 733) اللہ پاک ہمیں اپنی یاد میں رونا اور آنسو بہانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
آہ!کثرتِ عصیاں،
ہائے خوف دوزخ کا کاش! اس
جہان کا میں نہ بشر بنا ہوتا
قرب الٰہی کا
ذریعہ:تقویٰ و خوف ِالٰہی کی خوبی انسان کو اللہ پاک کے بہت زیادہ قریب کر دیتی ہےجیسا کہ سورۂ
الِ عمران میں اللہ پاک فرماتا ہے: اے ایمان والو!اللہ پاک سے ڈروجیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور
ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔اور سورۂ نسا ء میں فرمایا : ہم تم میں سے پہلےاہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کرتے ہیں
کہ اللہ
پاک سے ڈرو ،ایک اور مقام پر فرمایا :اگر تم اللہ سے ڈروگے تو وہ تمہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی بصیرت
عطا فرما دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ پاک
بڑا فضل والا ہے (مفہوم قرآن )۔ان کے علاوہ اللہ پاک نے
اور بھی بہت سی آیتوں کے ذریعہ اپنے بندوں کو خوف ِالٰہی میں رونے کی تاکید فرمائی
ہے۔رونے والی آنکھ آگ سے محفوظ ہے:حدیث: شریف : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے میرے آقائے کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :دو
آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی (1)وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی (2) وہ آنکھ جس نےاللہ پاک
کی راہ میں پہرہ داری کرکے رات گزاری (ترمذی ج4ص/92) بلا شبہ خوف خدا وہ نیک اور مقبول عمل ہے کہ جس دل میں پیدا
ہوجاتا ہے وہ دل نیکی اور تقویٰ کا مرکز بن جاتا ہے اور وہ شخص ہر قسم کے گناہ و
برائی سے دور اور محفوظ نظر آنے لگتا ہے، اور یہ خوف خدا کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جسم
کے تمام اعضا یعنی آنکھ ،کان ،زبان،ہاتھ ،پیر اور دل و دماغ سب کے سب نیک اور اچھے
کاموں میں مشغول نظر آتے ہیں۔یہ خوف خدا کی برکات و حسنات ہوتی ہیں کہ آنکھ برائی
نہیں خوبی اور بھلائی دیکھتی ہے ،دل و دماغ برا اور خراب نہیں بلکہ بھلا اور اچھا
سوچتے دیکھائی دیتے ہیں ،ہاتھ اور پیر گنا ہ و ظلم کے راستے پر چلنے کے بجائے نیک
اور حق و سچ کے راستے پر چلتے نظر آتے ہیں ،حاصل کلام یہ ہے کہ جب آدمی اپنے دل میں
خوف خدا پیدا کرلیتا ہے اور اللہ پاک سے ڈرنے لگتا ہے تو ہر قسم کے گناہ اور برائی
سے محفوظ ہو کر اللہ پاک کی بارگاہ میں محبوب و مقبول بن جاتا ہے۔خوف خدا کا انعام و
اکرام بڑا عظیم ہوتا ہے، ہر نیک کام کا بڑا بہتر اجر اور بدلہ ہے دنیا میں خیرو
برکت، آخرت میں عزت و عظمت اور نجات و بخشش اور پھر جنت کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔شہنشاہِ
مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ،فیض گنجینہصَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت
نشان ہے:اللہ
پاک کو کوئی شئے دو قطروں سے زیادہ پسندنہیں: (1) خوف ِالٰہی پاک سے بہنے
والا آنسوؤں کا قطرہ اور (2) اللہ پاک کی راہ میں بہنے والا خون کا قطرہ۔(جامع الترمذی،حدیث: 1669،ص1823)حضور نبی کریم، ر ء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یہ دعا فرمایا
کرتے : اے اللہ پاک!مجھے رونے والی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے آنسو بہاتی
رہیں اس سے پہلے کہ خون کے آنسو رونا پڑے اور داڑھیں پتھرہوجائیں۔ (الزھد للامام احمد بن حنبل،حدیث:48،ص34)
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام
نہیں ذکرِ محبت عام ہے
لیکن سوزِ محبت عام نہیں
دعوتِ
اسلامی کےتحت8دسمبر2021ءبروزبدھ
مدنی مرکزفیضانِ مدینہ فیصل آبادمیں جامعۃالمدینہ(بوائزوگرلز)،
مدرسۃ المدینہ (بوائزوگرلز) اور فیضان مدینہ رینوویشن کےذمہ داران کامدنی مشورہ منعقدہوا۔
اس موقع پرمرکزی مجلسِ شوریٰ کےرکن ونگرانِ
پاکستان مشاورت حاجی محمدشاہدعطاری نےذمہ داراسلامی بھائیوں کی دینی،اخلاقی
اورتنظیمی اعتبارسےتربیت فرمائی۔
اس دوران رکنِ شوریٰ حاجی محمد اسدعطاری مدنی
نےبھی اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کرتےہوئےشعبوں کےدینی کاموں کا جائزہ لیا۔
نگرانِ پاکستان نےجامعۃالمدینہ،مدرسۃالمدینہ
اورمدنی مراکزفیضانِ مدینہ کی تعمیرات کےحوالےسےمدنی پھولوں سےنوازا۔
درود پاک کی
فضیلت:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھا، اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے
گا۔ہمارے مضمون کا عنوان ہےخوفِ خدا میں رونے کے فضائل خوفِ خدا کسے کہتے ہیں؟ آیات، احادیث اور بزرگوں کی روایت کے ذریعے خوفِ خدا
میں رونے کے فضائل پیش کئے جائیں گے۔خوفِ خدا کا مطلب:اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل
گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(خوف خدا، صفحہ 14)اسی طرح اللہ پاک نے قرآن پاک میں متعدد جگہ پر خوفِ خدا میں رونے کے فضائل بیان
کئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے، سورۂ رحمن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو
جنتوں کی بشارت سنائی گئی ہے، چنانچہ
ارشاد ہوتا ہے:وَ
لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمہ
کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے ،اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، رحمن: 46)سبحان اللہ!اللہ پاک نے کتنی پیاری فضیلت بیان فرمائی ہے۔ خوفِ
خدا کے فضائل :اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے، ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ پاک
کے سوا کسی سے ڈرتا ہے تو اللہ پاک اسے ہر شے سے خوفزدہ کردیتا ہے۔(شعب الایمان، باب
الخوف من اللہ
،جلد 1، صفحہ 541، حدیث: 984)اس حدیث: سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اپنے ربّ کریم کا
ہی خوف رکھنا چاہئے، اگر اللہ پاک
کا خوف دل میں موجود ہوگا تو ان شاء اللہ بہت سے گناہوں سے بھی بچ جائیں گے، الحمدللہ
ہمارے اسلاف کرام نے بھی خوفِ خدا میں رونے کے فضائل بیان فرمائے ہیں، جن میں سے دو یہ ہیں:1۔حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :جو شخص
اللہ پاک
سے ڈرتا ہے تو یہ خوف ہر بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 198)2۔کسی بزرگ کا قول ہے:جو ہنستے ہوئے گناہ کرے گا تو ربِّ کریم اسے اس حال میں
جہنم میں ڈالے گا کہ وہ رو رہا ہوگا اور جو روتے ہوئے نیکی کرے تو اللہ پاک
اسے اس حال میں جنت میں داخل فرمائے گا کہ وہ ہنس رہا ہوگا۔(المنبہات علی الاستعداد لیوم المھاد، صفحہ 5)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا خوف عطا کرے اور اپنی رضا والے کام
کرنے کی توفیق دے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم
میرے اشک بہتے
رہیں کاش ہر دم تیرے
خوف سے یا خدا یا الٰہی
(وسائل بخشش، صفحہ 52)
خوفِ خدا ہوتا
کیا ہے؟خوفِ خدا سے مراد ہے کہ اللہ پاک کی خفیہ تدبیر،اس کی بے نیازی،اس کی ناراضی،اس
کی گرفت (پکڑ)،اس کی طرف سے
دیئے جانے والے عذابوں،اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے
خوف زدہ رہنا۔خوفِ خدا کی فضیلت:کسی چیز کی فضیلت کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ بندے کو
کس قدر اللہ
پاک سے ملاقات کی سعادت کے قریب کرتی ہے، بندے کا سب سے بڑا مطلوب سعادت مندی ہے اور سب سے بڑی سعادت مندی اللہ پاک
کا قُرب ہے، جو اس کی معرفت سے حاصل ہوتا
ہے اور معرفتِ الٰہی اس کے جَلال اور قدرت میں غوروفکر کرتے رہنے سے حاصل ہوتی
ہے، یہ دل سے دنیا کی محبت کا قلع قمع
کرنے سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا خواہشاتِ
دنیا کا خاتمہ خوفِ خدا کی آگ سے ہی ممکن ہے، گویا کہ خوفِ باری سب سے بڑی سعادت مندی ہے ۔چنانچہ ارشادِ خدا وندی ہے:خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ
مُؤمِنِیْن۔ترجمۂ کنزالایمان: مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ 4 ،ال
عمران :175)خوفِ خدا کے بہت سے فضائل قرآن و حدیث: میں مذکور ہیں اور خوفِ خدا اولیائے کرام کی سب سے بڑی صفت ہے
۔فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:جس بندہ مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکھی
کے پَر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ پاک اس بندے پر دوزخ کو
حرام فرما دیتا ہے۔( ابن ماجہ، حدیث:4197)خوف سے بہنے والے آنسو:اللہ پاک کے نزدیک اس کے خوف سے بہنے والے آنسو کے
قطرے اور اس کی راہ میں بہنے والے خون کے قطرےسے زیادہ کوئی قطرہ محبوب نہیں ۔(الزھدلابن المبارک،حدیث: 672)حضرت کعب الاحبار رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس
ذات پاک کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں اللہ پاک کے خوف سے روؤں، یہاں تک کہ میرے آنسو رُخساروں پر بہیں، یہ میرے نزدیک پہاڑکے برابر سونا
صدقہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔جنت میں کون داخل ہو گا؟اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ
صدیقہ رَضِیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں : میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:کیا آپ کی اُمّت میں کوئی
ایسا شخص بھی ہے، جو بلا حساب جنت میں
داخل ہو گا؟ارشاد فرمایا: ہاں! وہ جو اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے۔چنانچہ ارشادَ
باری ہے:وَلِمَنْ
خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتٰنِ۔ ترجمۂ
کنزالایمان: اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے، اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمٰن:46)خلیفہ
ثانی رضی اللہُ عنہ کا خوفِ خدا :کثرت سے رونے کے سبب امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی
اللہُ عنہ کے چہرہ مبارک پر دو سیاہ لکیریں بن گئی تھیں، ایک روز آپ رضی
اللہُ عنہ نے سورۂ تکویر کی تلاوت شروع فرمائی اور جب اس آیت مبارکہ
پر پہنچے:وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ترجمہ:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں۔(پ 30،التکویر:10)تو بےہوش
ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔بلا شک خوفِ خدا اس کے محبوب بندوں کی صفت ہے، تاریخ دیکھی جائے تو جتنے بھی اولیائے کرام
گزرے، سب خوفِ خدا والے تھے، ہاں ویسے یہ ضرور ہے کہ خوفِ خدا اسی میں ہوتا
ہے، جس میں عشقِ رسول ہو، کیونکہ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سب سے بڑھ کر خوفِ خدا والے
تھے اور سب سے بڑھ کر اللہ پاک کو محبوب ہیں، ہمیں بھی اللہ پاک کی پیاری بندی
بننے، پیارے آقا صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنتِ مبارکہ کو اپنانے کے
لئے گناہوں کو ترک کر کے خوفِ خدا کی صفت اپنانی چاہئے۔
کوئٹہ
زون کے 6 علاقوں میں مسکرانے کے دینی و دنیاوی
فوائد کورس کا انعقاد
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے تحت ماہ
نومبر2021ء میں کوئٹہ زون کی 3 کابینہ کے 6 علاقوں میں ون ڈے سیشن مسکرانے کے دینی و دنیاوی
فوائد کورس کا انعقاد کیا گیا جن میں89 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
کورس
میں مبلغات دعوت اسلامی نے نبی کریم ﷺ کے مسکرانے کی سنت اور مسکرانے کے دیگر دنیاوی و
دینی فوائد کے ساتھ طبی فوائد بھی بیان کئے گئے۔ مزید اسلامی بہنوں کو مدنی
مذاکرہ دیکھنے اور ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں باقاعدگی سے شرکت کرنے کا ذہن دیاگیا۔
Dawateislami