دعوتِ اسلامی کے شعبہ شب و روز (اسلامی بہنیں)کے تحت 4 دسمبر2021ء کو ڈیرہ
اسماعیل خان ڈویژن ڈيرہ سيٹی علاقہ گرين ٹاؤن ميں اجتماع پاک ہوا جس میں شب و روز زون ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
زون ذمہ
دار اسلامی بہن نے شعبہ
شب و روز کے حوالے سے نکات بتائے اور اسلامی بہنوں کو بروقت
دینی کاموں کی خبریں آگے جمع کروانے کا ذہن دیا ۔
دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدرستہ المدینہ )اسلامی بہنیں (کے تحت 4دسمبر 2021ء کو ملیر کھوکراپار کراچی میں
4 درجات کا مدنی مشورہ ہوا جس میں کم و بیش 48 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
پاکستان مشاورت ذمہ
دار اسلامی بہن نے طالبات کو دینی
کام کرنے ، تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےحوالے سے نکات بتائے اور اپنی حاضری کو مضبوط
کرنے کے متعلق طالبات کو ترغیب دلائی جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔
فیضان مدینہ اسلام آباد میں پروفیشنلز کے درمیان حاجی
عبد الحبیب عطاری کا بیان
دعوت
اسلامی کے شعبہ پروفیشنلز ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام 8 دسمبر 2021ء کو مدنی مرکز
فیضان مدینہ اسلام آباد میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف
شعبے سے وابستہ پروفیشنلز حضرات نے شرکت کی۔
مرکزی
مجلس شوریٰ کے رکن حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور شرکا
کو نیکی دعوت کی پیش کرتے ہوئے انہیں نمازوں کی پابندی کرنے، ہفتہ وار اجتماع میں
شرکت کرنے اور دینی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دلائی۔
دعوت اسلامی کے وفد کی صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان
محمود چوہدری سے ملاقات
8
دسمبر 2021ء کو دعوت اسلامی کے وفد نے صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری
سے ملاقات کی۔
ترجمان
دعوت اسلامی مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری نے صدر ریاست آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان
محمود چوہدری کو دعوت اسلامی کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا اور انہیں آزاد کشمیر
سمیت دنیا بھر میں ہونے والے دعوت اسلامی کی دینی و فلاحی کاموں پر بریفنگ دی۔
صدر
آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے دعوت اسلامی کی کاشوں کا سراہا اور یقین
دلایا کہ آزادکشمیر میں دعوت اسلامی کے دینی کاموں کے حوالے سے حکومت ہر طرح کی
معاونت اور تعاون فراہم کرے گی۔
دعوت
اسلامی کے وفد میں اراکین شوریٰ مولانا حاجی عبدالحبیب عطاری، حاجی وقار المدینہ
عطاری اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔
دعوت
اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز کے زیر اہتمام 8 دسمبر 2021ء کو عالمی مدنی مرکز فیضان
مدینہ کراچی میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں مدنی کورسز کے معلمین
نے شرکت کی۔
مرکزی
مجلس شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور شعبے کے حوالے سے
مدنی پھول ارشاد فرمائے۔ آخر میں سوالات و جوابات کا سیشن ہوا۔
ا س
موقع پر رکن شوریٰ حاجی فضیل عطاری بھی موجود تھے۔
دین
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی آخری الزمان صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے
ذریعے ہم تک پہنچایا۔ جان عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
دین اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے لوگوں کو مہد
سے لحد تک زندگی کے ہر لمحے گزارنے کے اصول بتائے ہیں نہ صرف بتائے بلکہ عملی طور
پر کرکے بھی دکھایا ہے۔ بندہ کامل مسلمان اُسی وقت ہوتا ہے جب وہ آقا کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت و
سنت پر عمل پیرا ہوجائے اور اسی میں ہی فلاح و کامرانی ہے۔ صحابہ کرام رضی
اللہُ عنہم
بھی اپنے جان و دل سے سنت مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو
اپنانے کی کوشش کرتے اور آقاکریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اپنی بے پناہ محبت کا ثبوت دیتے
تھے۔
فرمان
مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:
مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِیْ
فَـقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ جس
نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی، اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی، وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مشکوۃ
المصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثانی،۱/۵۵،حدیث:۱۷۵)
بانی دعوت اسلامی شیخ طریقت رہبر شریعت، حامیٔ سنت
علامہ محمدالیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی اپنی زندگی سنت رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق
زندگی گزارتے اور اپنے مریدین اور چاہنے والوں کو بھی سنت کے مطابق زندگی گزارنے
کی ترغیب ارشاد فرماتے رہتے ہیں، آپ نے مزید
ترغیب دلانے کے لئے عاشقانِ رسول کو اس
ہفتے رسالہ ”کھانے کی پانچ سنتیں“ پڑھنے
اور سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یارب
المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”کھانے کی پانچ سنتیں“ پڑھ یا سن لے اُسے کھانے، پینے،
سونے، جاگنے وغیرہ ہرکام سنت کے مطابق کرنے کی توفیق دے اور اُس کو مرتے وقت اپنے
پیارے پیارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
زیارت نصیب فرماکر بے حساب بخش دے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ
رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے
رسالہ
آڈیو میں سننے کے لئے کلک کریں
دعوتِ اسلامی کےشعبہ کفن دفن
کےزیرِاہتمام8دسمبر2021ءبروزبدھ کراچی میں سیکھنےسکھانےکاحلقہ لگایاگیاجس میں
مقامی اسلامی بھائیوں نےشرکت کی۔
رکن شعبہ کفن دفن عزیر عطاری نے اس موقع پرمیت
کوغسل دینے،کفن کاٹنےاورنمازِجنازہ پڑھنے
کاطریقہ سکھایا نیزعیادت اور تعزیت کےآداب بھی بتائے۔
اس کےعلاوہ ذمہ دارنےشرکا کودعوتِ اسلامی
کے12دینی کاموں میں عملی طورپرحصہ لینےکاذہن دیاجس پرانہوں نےاچھی اچھی نیتوں کا اظہار
کیا۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن،کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
اسپیشل ایجوکیشن ملتان ریجن ذمہ دار کی APS اسپیشل ایجوکیشن کالج
ملتان کا وزٹ
گزشتہ دنوں اسپیشل پرسنزڈیپارٹمنٹ کےتحت اسپیشل
ایجوکیشن ملتان ریجن کے ذمہ دار محمد
آصف عطاری نےدیگر ذمہ داران کےہمراہ APS اسپیشل
ایجوکیشن اسکول و کالج ملتان کینٹ کا دورہ کیاجہاں انہوں نے پرنسپل و اسٹاف سےملاقات کی۔
اس دوران ذمہ دارن نےپرنسپل سمیت اسٹاف کےہمراہ
ایک میٹنگ کی جس میں انہیں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی کے دینی کاموں کا
تعارف پیش کیا۔
بعدازاں ذمہ داراسلامی بھائیوں نےانہیں
مکتبۃالمدینہ کے رسائل تحفے میں دیئےجس پرنسپل وا سٹاف نےاظہارِمسرت کرتےہوئے دعوت
اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔(رپورٹ:محمد سمیر ہاشمی عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ،کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
روزے اور
اعتکاف کے اہم مسائل پر مشتمل ایک بہترین
رسالہ
فَتَاویٰ اہْلسُنَّت
احکام روزہ و اعتکاف
از: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی
پیشکش : مَجْلِس اِفتاء ، دعوتِ
اسلامی
اِس رسالے کی چندخصوصیات:
٭دیدہ زیب ودِلکش سرورق (Title) وڈیزائننگ (Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیشِ نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کیلئے
’’علاماتِ ترقیم‘‘(Punctuation Marks) کا اہتمام ٭اُردو،
عربی اور فارسی عبارتوں کو مختلف رسم الخط (Fonts)میں لکھنے کا اہتمام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭بعض جگہ عربی عبارات مع ترجمہ کی
شمولیت ٭آیات کے ترجمہ میں کنزالایمان کی شمولیت ٭حسب ضرورت مشکل اَلفاظ پر اِعراب اور بعض
پیچیدہ اَلفاظ کے تلفظ بیان کرنے کا
اہتمام ٭قرآنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، اَحادیث،توضیحی عبارات، فقہی جزئیات کےحوالوں (References) کا خاص اہتمام ٭ اغلاط کوکم سے کم کرنے کےلئے
پورے رسالے کی کئی بار لفظ بہ لفظ پروف ریڈنگ۔
36 صفحات پر مشتمل یہ رسالہ2016 ء
میں تقریباً50 ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکا ہے۔
اس رسالے کی PDF
دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔
دعوتِ اسلامی کےشعبہ رابطہ برائےحکیم کےتحت
8دسمبر2021ءبروزبدھ پاکستان مشاورت اور ریجن ذمہ دارنےدیگرذمہ داراسلامی بھائیوں
کےہمراہ ہمدردیونیورسٹی کادورہ کیاجہاں انہوں نے نیشنل کونسل ممبر سےملاقات کی۔
اس کےعلاوہ ذمہ داران نے نیشنل کونسل طیب کے
ممبر سے میٹنگ کی جس میں انہیں دعوتِ
اسلامی کی عالمی سطح پرہونےوالی دینی وفلاحی سرگرمیوں کےبارےمیں بتایا۔
خوف خدا میں رونا گناہوں کی آگ کو بجھاتا ہے، دلوں کی کھیتی کو زندہ کرتا اور مطلوب تک
پہنچاتا ہے، اللہ پاک نے کسی آسمانی کتاب
میں ارشاد فرمایا:میرے عزت و جلال کی قسم!جو بندہ میرے خوف سے روئے گا، میں اس کے بدلے نور سے اُسے خوشی عطا کروں
گا، میرے خوف سے رونے والوں کو بشارت ہو
کہ جب رحمت نازل ہوتی ہے تو سب سے پہلے انہی پر نازل ہوتی ہے اور میرے گناہ گار
بندوں سے کہہ دو کہ وہ میرے خوف سے رونے والوں کی محفل اختیار کریں، تاکہ جب رونے والوں پر رحمت نازل ہو تو ان کو
بھی رحمت پہنچے۔حدیث: مبارکہ میں ہے:حضرت نضر بن سعد رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: کسی کی آنکھ سے خشیتِ الٰہی پاک سے آنسو بہتے
ہیں تو اللہ
پاک اس کے چہرے کو جہنم پر حرام فرما دیتا ہے، اگر اس کے رخسار پر بہہ جائے تو قیامت کے دن نہ
وہ ذلیل ہوگا۔ اگر کوئی غمگین شخص اللہ پاک کے خوف سے کچھ لوگوں
میں روئے تو اللہ پاک اس کے رونے کے سبب ان لوگوں پر بھی رحم فرماتا ہے، آنسو کے علاوہ ہر عمل کا وزن کیا جائے گا اور
آنسو کا ایک قطرہ آگ کے سمندر کو بجھا دیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی
اللہُ عنہما نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہانا
مجھے ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی
اللہُ عنہ سے روایت ہے ،حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس مسلمان
کی آنکھ سے مکھی کے سر کے برابر خوف خدا کی وجہ سے آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر آ گریں تو اللہ پاک اس پر دوزخ کو حرام
فرما دے گا۔ حضرت احمد بن ابی حواری رحمۃُ
اللہِ علیہ فرماتے ہیں:میں نے اپنی لونڈی کو خواب میں دیکھا کہ اس سے
زیادہ حسین کوئی عورت نہ دیکھی، اس کا
چہرہ حسن و جمال سے دمک رہا تھا، میں نے
اس سے پوچھا:تیرا چہرہ اتنا روشن کیوں ہے؟تو وہ کہنے لگی:آپ کو وہ رات یاد
ہے، جب آپ رحمۃُ
اللہِ علیہ اللہ پاک کے خوف سے روئے تھے؟میں نے کہا:جی، اس نے کہا:آپ کے آنسو کا ایک قطرہ میں نے اٹھا
کر اپنے چہرے پر مل لیا تو چہرہ ایسا ہو گیا، جیسا آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔قیامت کے دن تمام اعضاء گواہی دیں گے اور
اعضاء گواہی دیں گے، مولا! اس نے حرام کام
کئے تھے اور اس کے لئے جہنم کا حکم دے دیا جائے گا، جب اس کے لئے جہنم کا حکم دیا جائے گا تو اس
شخص کی سیدھی آنکھ کا بال ربّ کریم سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرے گا، اجازت ملنے پر سیدھی آنکھ کا ایک بال عرض کرے
گا:الٰہی! کیا تو نے نہیں فرمایا تھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ سے کسی بال کو
میرا خوف سے بہائے جانے والے آنسوؤں سے تر کرے گا، میں اس کی بخشش فرما دوں گا؟ اللہ پاک
ارشاد فرمائے گا:کیوں نہیں، تو وہ بال عرض
کرے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گنہگار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا، جس سے میں بھیگ گیا تھا، یہ سن کر اللہ پاک اس بندے کو جنت میں
جانے کا حکم فرما دے گا۔ایک منادی پکار کر
کہے گا:سنو! فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے جہنم سے نجات پا گیا۔(کتاب الرقۃ والبکاء، ابن ماجہ، طبرانی، خوف خدا)
رونے والی
آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں ذکرِ
محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں
خوف سے مراد وہ
قلبی کیفیت ہے، جو کسی ناپسندیدہ اَمر کے
پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً
پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر۔جب کہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے
کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل
گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(احیاء علوم
الدین، باب بیان حقیقۃ الخوف4/190
ماخوذا، خوف خدا، صفحہ14)ربّ
العالمین نے خود قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا
ہے، جسے درج ذیل آیات میں ملاحظہ کیا
جاسکتا ہے:وَ
لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕوَ لَقَدْ وَصَّیْنَا
الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ۔ترجمہ کنزالایمان:اور بے شک تاکید فرمائی ہے ہم نے ان
سے، جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم
کو کہ اللہ
سے ڈرتے رہو۔(پ 5، النساء:131) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ۔ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔(پ22،الاحزاب:70)فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ۔ترجمۂ کنزالایمان:تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔(پ6،المائدہ:3) یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔ترجمہ کنزالایمان:اے لوگو!اپنے ربّ سے ڈرو، جس نے تمہیں
ایک جان سے پیدا کیا۔(پ4، النساء:1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِهٖ
وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے
ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا،مگر مسلمان۔(پ4،ال عمران:102) وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ترجمہ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، ال عمران:175)وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ۔ترجمہ
کنزالایمان:اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔(پ1، البقرہ:40)وَ یُحَذِّرُكُمُ اللہ
نَفْسَهٗؕ۔ترجمہ کنزالایمان:اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔(پ3، ال عمران:28)وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللہ۔ترجمہ کنزالایمان:اور ڈرو اس دن سے، جس میں اللہ کی طرف پھرو گے۔(پ3، البقرہ:281)خوف خدا کے متعلق احادیث
مبارکہ:عَنِ ابْنِ عباس رضی اللہُ عنہما قَالَ:سَمِعْتُ رسول اللّٰہ صلی
اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلم
یَقُوْلُ:عَیْنٌ بَکَتْ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہ،
وَعْیْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہ۔(ترمذی فی السنن،4/92، الرقم 1439)حضرت عبداللہ بن عباس رضی
اللہُ عنہما روایت کرتے ہیں،میں نے حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:دو
آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی، (ایک) وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی اور (دوسری) وہ آنکھ جس نے اللہ پاک
کی راہ میں پہرہ دے کر رات گزاری۔عَنْ
مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَةَ رضی
اللّٰہُ عنہ قَالَ:قَالَ رسول
اللّٰہ صلی
اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلم: ثَلَاثَۃٌ
لَاتَرَی اَعْیُنُہُمُ النَّارَعَیْنٌ حَرَسَتْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہ، وَعَیْنٌ
غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ۔ (طبرانی فی المعجم الکبیر19/416، رقم1003، والسیوطی فی
الدارالمنثور1/593)حضرت معاویہ بن حیدہ رضی
اللہُ عنہ کا بیان ہے ،رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تین افراد کی
آنکھیں دوزخ نہیں دیکھیں گی، ایک آنکھ وہ
ہے جس نے اللہ
پاک کی راہ میں پہرہ دیا، دوسری وہ
آنکھ جو اللہ
پاک کی خشیت سے روئی اور تیسری وہ جو اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں
سے باز رہی۔عَنْ اَنَسٍ رضی اللّٰہُ عنہ قَالَ: قَالَ رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ
واٰلہٖ وسلم: یَقُوْلُ اللّٰہ
تعالی: اَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَکَرَنِی یَوْمًا اَوْ خَافَنِی فِی
مَقَامٍ۔( ترمذی فی السنن، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء ان
للنار نفسین4/712، رقم2594)حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے ، حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک
فرمائے گا:دوزخ میں سے ہر ایسے شخص کو نکال دو، جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا میرے خوف سے کہیں بھی مجھ سے ڈرا۔عَنْ اَبِی ہُرَیْرَةَ رضی اللّٰہُ عنہ قَالَ: قَالَ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ
واٰلہٖ وسلم: لَا یَلِجُ
النَّارَ رَجُلٌ بَکَی مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ حَتَّی یَعُوْدَ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ، وَلَا
یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ۔(ترمذی فی السنن،4/171،
رقم1633)حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک
کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، جب تک کہ دودھ، تھن میں واپس نہ چلا جائے اور اللہ پاک
کی راہ میں پہنچنے والی گردوغبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔عَنْ عَبْدِاللّٰہ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰہُ عنہ قَالَ: قَالَ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ
واٰلہٖ وسلم: مَا مِنْ
عَبْدٍ مُؤمِنٍ یَخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ دُمُوْعٌ وَاِنْ کَانَ مِثْلَ رَاْسِ الذُّبَابِ مِنْ
خَشْیَۃِ اللّٰہ ثُمَّ تُصِیْبُ شَیْئًا مِنْ حُرِّ وَجْھِہِ اِلَّا حَرَّمَہُ اللّٰہ
عَلَی النَّارِ۔(ابن ماجہ فی السنن، 2/1404، الرقم4197)حضرت عبداللہ
بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کی آنکھ سے مکھی کے سَر کے
برابر خوفِ خداوندی کی وجہ سے آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر آگریں گے تو اللہ پاک
اس پر دوزخ کو حرام فرما دے گا۔عَنِ الٰہیثَمِ
بْنِ مَالِکٍ رضی
اللّٰہُ عنہ قَالَ: خَطَبَ رسولُ
اللّٰہ صلی
اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلم: النَّاسَ
فَبَکَی رَجُلٌ یَدَیْہِ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلم: لَوْ شَہِدَکُمْ الْیَوْمَ کُلُّ
مُؤْمِنٍ عَلَیْهِ مِنَ الذُّنُوْبِ کَاَمْثَالِ الْجِبَالِ الرَّوَاسِی لَغُفِرَھُمْ بِبُکَاءِ ھَذَا الرَّجُلِ وَ
ذَلِکَ اَنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَبْکِی وَ تَدْعُوْلَہُ وَتَقُوْلُ: اَللَّھُمَّ
شَفِّعِ الْبَکَّائِیْنَ فِیْمَنْ لَمْ یَبْکِ ۔( بہیقی فی شعب الایمان1/494، رقم 810)حضرت ہیثم بن مالک رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے لوگوں سے خطاب
فرمایا، تو خطاب کے دوران آپ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے بیٹھا ہوا ایک شخص
رو پڑا، اس پر حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اگر آج تمہارے درمیان وہ تمام مؤمن
موجود ہوتے، جن کے گناہ پہاڑوں کے برابر
ہیں تو انہیں اس ایک شخص کے رونے کی وجہ سے بخش دیا جاتا اور یہ اس وجہ سے ہے کہ
فرشتے بھی اس کے ساتھ رو رہے تھے اور دعا کر رہے تھے:اے اللہ پاک!نہ رونے والوں کے حق
میں، رونے والوں کی شفاعت قبول فرما۔عَنْ مُطَرِّفٍ
عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: رَاَیْتُ رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلم: یُصَلِّی وَفِی صَدْرِہِ اَزِیْزٌِ
کَاَزِیْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُکَاءِ۔ (ابن حبان فی الصحیح3/30، رقم 753)حضرت مطرف اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں،میں بارگاہِ نبوی میں
حاضر ہوا، آپ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے اور
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سینہ اَقدس اور اَندروں جسد میں رونے کی وجہ سے ایسا جوش اور اُبال
محسوس ہوتا تھا، جیسے کہ دیگِ جوشاں چولہے
پر چڑھی ہو۔عَنْ زَیْدِ
ابْنِ اَرْقَمَ رضی
اللّٰہُ عنہ قَالَ: قَالَ
رَجُلٌ: یَارسول اللّٰہ، بِمَ اَتَّقِی النَّارَ؟ قَالَ: بِدُمُوْعِ عَیْنَیْکَ
فَاِنَّ عَیْنًا بَکَتْ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰہ لَا تَمَسُّھَا النَّارُ اَبَدًا۔ (ابن رجب الحنبلی فی التخفیف
من النار1/42، والمنذری فی الترغیب
والترھیب4/114، رقم 5030)حضرت زید بن ارقم
رضی اللہُ عنہ نے بیان کیا ہے :ایک آدمی نے عرض کی:یارسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !میں دوزخ سے
کیسے بچ سکتا ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اپنی آنکھوں کے ذریعے، جو آنکھ اللہ پاک کے خوف سے رو
پڑی، اسے کبھی(دوزخ کی) آگ نہیں چھوئے گی۔
خوف کے تین درجات ہیں:1۔ضعیف(یعنی کمزور):یہ وہ خوف ہے جو
انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا
ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سُن کر محض جُھرجُھری لے کر رہ جانا اور پھر سے
غفلت و معصیت(گناہ) میں گرفتار ہو
جانا۔2۔معتدل(یعنی متوسط):یہ وہ خوف ہےجو
انسان کو نیکی کے اَپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو،
مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لئے عملی کوشش کرنا اور اس کے
ساتھ ساتھ ربّ کریم سے اُمیدِ رحمت بھی رکھنا۔3۔قوی(یعنی مضبوط):یہ وہ خوف ہے، جو انسان کو نا اُمیدی، بے ہوشی اور بیماری
وغیرہ میں مبتلا کر دے، مثلاً اللہ پاک کے عذاب وغیرہ کا سُن کر اپنی مغفرت سے
نااُمید ہو جانا، یہ بھی یاد رہے کہ ان سب میں بہتر درجہ معتدل ہے، کیونکہ خوف ایک
ایسے تازیانے(کوڑے) کی مثل ہے، جو
کسی جانور کو تیز چلانے کے لئے مارا جاتا ہے، لہٰذا اگر اس تازیانے کی ضرب(چوٹ) اتنی ضعیف(کمزور) ہو کہ جانور کی
رفتار میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر یہ اتنی قوی
ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاس کے اور اتنا زخمی ہوجائے کہ اس کے لئے چلنا ہی ممکن
نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں اور اگر یہ معتدل ہو کہ جانور کی رفتار میں بھی
خاطر خواہ اضافہ ہوجائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے۔(احیاء العلوم4/457، خوف خدا ،صفحہ 18) خوفِ خدا کی علامات:حضرت فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک
کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ 1۔انسان کی زبان میں:وہ اس طرح کہ
ربّ کریم کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اُسے ربّ
کریم کے ذکر، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔2۔اس کے شکم میں: وہ
اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدرِ ضرورت
کھائے گا۔3۔اس کی آنکھ میں:وہ اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا
کی طرف رغبت سے نہیں، بلکہ حصولِ عبرت کے لئے دیکھے گا۔4۔اس کے ہاتھ میں:وہ اس طرح
کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا، بلکہ ہمیشہ اطاعتِ الٰہی میں استعمال کرے
گا۔5۔اس کے قدموں میں:وہ اس طرح کہ وہ انہیں ربّ کریم کی نافرمانی میں نہیں اٹھائے
گا، بلکہ اس کے حکم کی اطاعت کے لئے اٹھائے گا۔6۔اس کے دل میں:وہ اس طرح کہ وہ
اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حَسد کرنے کو دور کر دے اور اس میں
خیر خواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔7۔اس کی اطاعت و
فرمانبرداری میں:اس طرح کے وہ فقط ربِّ کریم کی رضا کے لئے عبادت کرے اور ریاو
نفاق سے خائف رہے۔8۔اس کی سماعت میں:اس طرح کے وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے۔(تنبیہ الغافلین)
Dawateislami