اللہ  رب العزت کے محبوب بندوں رضی اللہُ عنہم سے محبت وعقیدت کاتعلق قائم رکھتے ہوئے ان کے نقش قدم پرچلنایقینابہت بڑی سعادت کا حامل ہے کیونکہ یہ وہ پاکیزہ ہستیاں ہیں کہ جن پراللہ نے اپنے انعام واکرام کی بارشیں نازل فرماتے ہوئے انہیں قرآن پاک میں اپنے”انعام یافتہ بندے“قراردیا۔

ایک دوروہ بھی تھاکہ جب بزرگان دین کی صحبت اختیارکرنالازم اوران کی خدمت کوسعادتِ عظمیٰ تصورکیاجاتاتھا۔لیکن آہستہ آہستہ اسلام دشمن طاقتوں اورگستاخانِ محبوبانِ ربُ العلی کی مذموم سازشوں کے نتیجے میں اسلاف کرام رحمہم اللہ سے اس پاکیزہ تعلق کی مضبوطی میں کمی واقع ہونے لگی اور طرح طرح کی خُرافات زبان زَدِ عام ہونے لگیں اور فتنے جڑ پکڑنے لگے ۔ الحمدللہ عزوجل مختلف علماء کرام دامت فیوضہم نے ان سازشوں کے نتیجے میں بزرگانِ دین سے بڑھتی ہوئی بے رغبتی کااندازہ فرماکراپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے محبوبانِ بارگاہِ الٰہی عزوجل سے عوام کاتعلق دوبارہ مضبوط کرنے کے لئے تحریری وتقریری اَقدام کئے۔ علمائے کرام دامت فیوضہم کی ان کوششوں کی برکت سے دشمنانِ اسلام کی سازشیں دم توڑنے لگیں اور عقیدتوں کا گلستان پھر سے ہرا بھرا ہوگیا۔

شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہبھی مختلف اولیائے کرام کی سیرت سے متعلق آگاہی کے لئے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کو وقتاً فوقتاً مختلف اولیائے کرام کی سیرت پر لکھے گئے رسائل پڑھنے کی ترغیب دلاتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ اپنے اِن بزرگوں کی سیرت سے آگاہ ہو اور اُن کے اندازِ زندگی کو پڑھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے اور راہِ ہدایت پر گامزن ہو۔

اسی سلسلے میں امیر اہل سنت نے اس ہفتے24 صفحات کا رسالہ ”فیضانِ معروف کرخی“پڑھنے سننے ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا اللہ پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ”فیضانِ معروف کرخی“پڑھ یا سُن لےاُسے فیضانِ بزرگانِ دین سے مالا فرماکر ماں باپ سمیت بے حساب بخش کر جنت الفردوس میں اپنے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پڑوس نصیب فرما۔اٰمین

اِس رسالے کو ڈاؤن لوڈ کرنے یا آن لائن آڈیو سُننے کے لئے نیچے ڈاؤن لوڈ پر کلک کیجئے

Download


عاشقانِ رسول کے دلوں میں مدینے کی محبت پیدا کرنے اور غمِ مدینہ کی تڑپ میں مچلنے کے لئے خلیفۂ امیر اہلسنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے اس ہفتے 21 صفحات کا رسالہ امیر اہلسنت کی سفرِ مدینہ 1980ء سے واپسیپڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازاہے۔

دعائے خلیفۂ امیر اہلسنت

یااللہ پاک! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ امیر اہلسنت کی سفرِ مدینہ 1980ء سے واپسیپڑھ یا سن لے اُسے غمِ مدینہ کی دولت سے نواز دےاور اُسے خیر و عافیت کے ساتھ ہر سال مدینۂ پاک کی حاضری نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے عید الاضحیٰ کے موقع پرقربانی کی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جس کے لئے دنیا بھر میں مبلغین و ذمہ داران  دعوتِ اسلامی سمیت دیگر عاشقانِ رسول بھی خوشیوں کے اِن لمحات میں اپنی دیگر مصروفیات کو چھوڑ کر قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں۔ اسلامی بھائیوں کا قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو دنیا بھر میں عام کرنے والی دینی تحریک دعوت اسلامی کی معاونت کرنا ہوتا ہے۔

قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے خلیفۂ امیر اہلسنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے عید کے پہلے اور تیسرے دن کراچی کے مختلف علاقوں میں دعوت اسلامی کے تحت لگنے والے اسٹالز کا وزٹ کیا ۔خلیفۂ امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اسٹالز پر کھالیں اٹھانے والے اسلامی بھائیوں کا شکریہ ادا کیا اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں اور دعاؤں سے نوازا۔ 


خلیفۂ امیر اہلسنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نےاس ہفتے عاشقانِ رسول کو شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہکے والد محترم ”حاجی عبد الرحمن بن عبد الرحیم واڑی والا “ کی سیرت پر لکھا گیا رسالہ فیضانِ ابو عطار پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازاہے۔

دعائے خلیفۂ امیر اہلسنت

یااللہ کریم! جو میرے دادا جان کی سیرت پر مشتمل رسالہ فیضانِ ابو عطار کے 17 صفحات پڑھ یا سن لے اُسے اور اُس کے سارےخاندان کو نیک نمازی بنا اور سچا عاشقِ رسول بنا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


ہمارے درمیان ماہِ ذو الحجۃ الحرام اپنی برکتیں لٹا رہا ہے، اس بابرکت مہینے میں جہاں دنیا بھر کے مسلمان سنّتِ ابراہیمی کو ادا کرنے کے لئے قربانی کی تیاری کررہے ہیں وہیں اللہ کے لاکھوں خوش نصیب بندے حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے حرمِ پاک کعبۃ اللہ زادھَا اللہُ شرفاً وَّ تعظیماً میں حاضر ہیں۔

اسی مناسبت سے عاشقِ مدینہ شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقان رسول کو 17 صفحات کا رسالہ سنّی عالموں کے مکّے مدینے کے 17 واقعاتپڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ سنّی عالموں کے مکّے مدینے کے 17 واقعاتپڑھ یا سُن لے اُسے بار بار حج و دیدارِ مدینہ سے مشرف فرما اور اُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


80جون 2024ء کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرپور جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: کیالیڈرامام مسجداورامام مسجدلیڈرہوسکتاہے ؟

جواب: محاورہ ہے لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ یعنی ہر فن کے ماہرین ہوتے ہیں ،ہرایک کی اپنی اپنی لائن ہوتی ہے ،جس کا کام ہے وہی کرسکتاہے ،لیڈراورامام دونوں کی لائن جداجداہے ،مگرصلاحیت ہوتو لیڈرامام مسجداورامام مسجدلیڈرہوسکتاہے ۔

سوال:اگرکسی عالِم کوکسی مسئلہ میں کھٹکا ہو،ضرورت محسوس کرے تو کیاوہ دوسرے علماء سے مشورہ کرلے ؟

جواب:جی ہاں اگرایساہوتو اپنی معلومات وعلم پر اعتمادکرنے کے بجائے کسی بڑے عالِم سے مشورہ کرے ،بالفرض کسی اپنے شاگردسے درست بات مل جاتی ہے تو اسے قبول کرے، اسے اپنی کسرِ شان(شان میں کمی) نہ سمجھے۔

سوال : ہمارالباس،شکل وصورت اوراندازکیساہونا چاہئے؟

جواب : ہمارالباس،شکل وصورت اوراندازاُن جیساہوناچاہئے جن کا کلمہ پڑھا ہے یعنی پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین اورسنتوں کے مطابق ز ندگی گزارنی چاہئے۔

سوال: کسی کو نیکی کی دعوت دینے کادُرست طریقہ کیا ہے ؟

جواب: جس کوکوئی نیکی کی دعوت دینا چاہتاہے اُس میں جو اچھی بات ہے اُس کی جائز تعریف کرےمثلا اگروہ فجرکی نمازکے لیے جلدی مسجدمیں آجاتاہے اگرچہ اس نے داڑھی نہ رکھی ہوتو بھی اس کی تعریف کریں کہ ماشاء اللہ الکریم آپ نمازفجرکے لیے جلدی مسجدمیں آجاتے ہیں پھر اسے نیکی کی دعوت دے، حدیث پاک میں ہے : یعنی حکمت مؤمن کا گمشدہ خزانہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث :4169)حکمت سے ہی نیکی کی دعوت پھیلے گی ،ضدیاطنز یا بداخلاقی کرنے سے سامنے والا کبھی نیک نہیں بنے گا بلکہ شیطان اُس میں ضدپیداکردے گا۔شیطان یہی چاہتاہے کہ ہم صحیح نیکی کی دعوت ہی نہ دیں ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہدنیا کی محبت“ پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ دنیا کی محبت“ پڑھ یا سُن لے اُسے اپنے سواکسی اور کا محتاج نہ کراور اس کے دل سے دنیا کی محبت نکال کر حقیقی عاشقِ رسول بنا اور اُسے بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔


علمِ دین کو عام کرنے والی عاشقانِ رسول کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہرہفتے مدنی مذاکرے  کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے دینی و دنیاوی معاملات کے حوالے سے سوالات کرتے اور امیرِ اہلِ سنت اُن سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔

اسی سلسلے میں 1st جون 2024ء کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کراچی کے عاشقان رسول براہِ راست جبکہ ملک و بیرونِ ملک کے کثیر اسلامی بھائی بذریعہ مدنی چینل شریک ہوئے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: سب کے سامنے سمجھانا کیسا؟

جواب: کسی کوسب کے سامنے سمجھانے سے اس کی توجہ بٹ جائے گی اورعزت نفس ابھرے گی کہ میری سب کےسامنے بے عزتی ہوگئی۔اس وجہ سے وہ کم سمجھے گا یا ضدمیں آکر دلائل دے گا،اورکام خراب ہوجائے گا،بعض صحابہ کرام کے اقوال ملتے ہیں کہ اگرکسی نے اُسے اکیلے میں سمجھایا تو اس نے اُسے زینت دی اورسب کے سامنے سمجھایا تو بدنماکردیا۔یوں اکیلے میں سمجھانا زیادہ اثررکھتاہے ،مفیدبھی ہوتاہے اورسمجھ میں بھی جلدی آتا ہے ،ضدوغیرہ پیدا نہیں ہوتی ،سخت ضرورت نہ ہوتو ہمیشہ اکیلے میں ہی سمجھانا چاہئے ۔سمجھانے کا اندازبھی سلجھاہوا،مشفقانہ(شفقت والا) ،مصلحانہ(اصلاح والا) اورمبلغانہ ہوگاتو سمجھ میں آئے گا،جارحانہ ،جھاڑکر طنزیہ اندازمیں سمجھائیں گے تو سمجھ میں نہیں آئے گا،سمجھانا بھی ایک فن ہے ، اگرآپ یہ فن سیکھ لیں گے تو نمازی بڑھ جائیں گے۔ ان شاء اللہ الکریم۔

سوال: غصے کا علاج کیسے کیا جائے ،جو غصے میں اپنے آپ کو نقصان پہنچاتاہوتو اسے کیسے سمجھائیں؟

جواب: جی ہاں لوگ غصے میں اپنے آپ کو نقصا ن پہنچاتےہیں ،خود کو مارتے ہیں ،برتن توڑدیتے ہیں ،غصے میں بندہ اس طرح ہوجاتاہے کہ اسے اس کی مووی(ویڈیو) دیکھا دی جائے تو وہ شرما جائے ،کیونکہ غصے میں بندہ پاگل لگتاہے۔جیل میں جانے والےاکثر غصے والے ہی ہوتے ہیں ،دہشت گردآدھے دماغ والے اورغصے والے ہوتے ہیں۔غصہ واقعی پریشان اورتباہ کرنے والاہے،لوگ غصے میں آکر خودکشی کرلیتے ہیں، یہ دوسروں کو بھی تباہ کردیتاہے، غصے کے علاج یہ ہے کہ انسان اس جگہ سے ہٹ جائے، اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، بیٹھا ہوتو لیٹ جائے، وضو کرلے، غصے میں بولے نہیں۔ حدیث پاک میں ہےکہ اللہ پاک کو راضی کرنے کےلیے بندے نے غصہ کا جو گھونٹ پیا، اس سے بڑھ کر اللہ پاک کے نزدیک کوئی گھونٹ نہیں۔ (شعب الایمان، 6 /314،  الحدیث 8307)غصہ آئے تو بندہ اسے ضبط کرکے ثواب کماسکتاہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ جو غصہ پی جائے گاحالانکہ وہ نافِذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے معمور فرمادیگا۔(کنزالعُمّال ج3/163حدیث7160 ) مزیدمعلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ’’غصّے کا علاج‘‘کا مطالعہ کریں ۔

سوال : کیا مظلوم کی بددعالگتی ہے ؟

جواب : ظلم کی اسلام میں کوئی حوصلہ افزائی نہیں ،اسے قیامت کے اندھیرے کہاگیا ہے ، مظلوم کی بددعالگتی ہے اگرچہ وہ فاجرہی کیوں نہ ہو،دوفرامین ِ مصطفی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ):(1)مظلوم کی بد دُعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ پاک سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ پاک کسی حقدار کو اس کے حق سے منع نہیں فرماتا۔ (  کنزالعمال ، 2 / 200 ، حدیث : 7594)  (2) مظلوم کی بد دعا مقبول ہےاگرچہ وہ فاجر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کا فجور تو اس کی اپنی جان پرہے۔(الترغیب والترہیب ، 3 / 130 ، حدیث : 18) ظلم صرف اس کونہیں کہتے کہ گولی مار دی یا کسی چیز سے پیٹ پھاڑدیا ،بلکہ زبان سے بھی ہوتاہے ،کہاجاتاہے کہ تلوارکا زخم جلدی بھرجاتاہے مگرزبان کا زخم جلدی نہیں بھرتا۔لوگ طنز، توہین اورایسی کسی کی گھریلوبات الٹ پلٹ اندازسےاس طرح بیان کردیتے کہ اگلے کی ٹھیک ٹھاک دل آزاری ہو جاتی ہے ، اللہ کی پناہ!

سوال: خاموشی کی فضیلت بیان فرمادیں؟

جواب: حضرت حکیم لقمان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ جب لوگ اپنی زبان داری اورخوش بیانی پر فخرکریں تو تم اپنی خاموشی پر فخرکرنا ۔ یادرکھیں زیادہ بولتے چلے جانا اورزبان کے جوہر دیکھانا ٹھیک نہیں ۔ایک چپ سوسکھ۔ایک چپ سوکوہرائے۔یا درکھئے !فضول وگناہ بات کے ایک ایک لفظ کا حساب ہے۔

سوال: اس مدنی مذاکرے میں امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا خوش خبری سنائی؟

جواب: اللہ کی رحمت سے بنگلادیش میں دعوت ِ اسلامی کا دینی کام بڑھتاجارہاہے ،ماشاء اللہ یہاں جامعات المدینہ اورمدارس المدینہ بھی ہیں، عماموں کی بھی بہاریں ہیں ،مَیں یہاں کے اسلامی بھائیوں کو فقرائے مدینہ کہتاہوں ۔ہم نے یہ فیصلہ کیاہے کہ ایک فقیرالمدینہ کی ذمہ داری بڑھا دیں اوریہ انعام ہوتاہے کہ جودینی کام کے حوالے سے جتنا زیادہ اپنی ذمہ داری نبھائے گا،جنت میں اتنے ہی بلنددرجے ملیں گے، ان شاء اللہ الکریم۔خوش خبری یہ ہے کہ مبلغ دعوتِ اسلامی عبدالمبین عطاری کو آج سے ہم نے دعوتِ اسلامی کےمرکزی مجلس شوریٰ کا رکن بنادیا ہے۔یہ کراچی آبھی چکے ہیں ،ایکٹوبھی ہیں ،دیوانے ہیں ،مَیں نے پہلے بول دیا تھا کہ یہ روکر اپنے جذبات کا اظہارکریں گے ،یہ فقرائے مدینہ سے ہیں، انہیں حاجی بنادیا جائے ۔یہ حاجی عبدالمبین رضا بن جائیں ،پورے بنگلادیش کے نگران تو یہ پہلے سے ہیں ،مرکزی مجلس شوریٰ تو پوری دنیا کی ہے، انہیں مرکزی مجلس شوری کی طرف سے جو دینی کام دیاجائے ،انہیں اسے فوکس کرنا ہے ۔

سوال: دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے اراکین کی اب کتنی تعدادہوگئی ہے ؟

جواب: مجموعی طورپر مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین کی تعداد آج 29ہوگئی ہے ،اس مرتبہ 29 روزے ہوئے تھے ،29کا عددبھی مدینہ مدینہ ہے ، روزے فرض ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کل نو(9)رمضان کے روزے رکھے ،جن میں 2رمضان میں 30روزے ہوئے اوربقیہ سات بار29 روزے ہوئے ۔29کاعددبھی اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ مساجدِ مدینہ‘‘ پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یاربِّ کریم:جو کوئی 17 صفحات کا رسالہمساجدِ مدینہ پڑھ یا سُن لے اسے مکے مدینے کی باادب حاضری نصیب فرما، مساجدِ مدینہ دکھا اور اُس کو ماں باپ سمیت بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔


حضرت سیدنا ابو مُوسیٰ اشعری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے:رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس نے دُنیا سے محبت کی وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جس نے آخرت سے محبت کی وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے،تو تم باقی رہنے والی(آخرت)کو فنا ہونے والی (دُنیا)پر ترجیح دو۔(مستدرک للحاکم،۵/۴۵۴،حدیث:۷۹۶۷)

شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہنے عاشقان رسول کے دلوں سے دنیا کی محبت نکالنے اور آخرت کی یاد دلانے کے لئے اس ہفتے 17 صفحات کا رسالہ دنیا کی محبتپڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ دنیا کی محبتپڑھ یا سُن لے اُسے اپنے سواکسی اور کا محتاج نہ کراور اس کے دل سے دنیا کی محبت نکال کر حقیقی عاشقِ رسول بنا اور اُسے بے حساب بخش دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


25 مئی 2024ء بمطابق 17 ذیقعدۃ الحرام 1445ھ بروز ہفتے کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عاشقانِ رسول نے جبکہ بذریعہ مدنی چینل  کثیر اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے میں امیرِ اہلِ سنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اسلامی بھائیوں کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال: کیادل سیاہ اورمردہ بھی ہوتاہے،اس کوروشن اورزندہ کرنے کا طریقہ بھی ارشادفرمادیں ؟

جواب: جب بندہ گنا ہ کرتا ہے تو اس پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتاہے اورجب گناہ کرتارہتاہے تو پورادل سیاہ ہوجاتاہے ،دل سخت، اوندھا اورمردہ بھی ہوتاہے ،جب دل سیاہ ہوجاتاہے تو نصیحت بندے پر اثرنہیں کرتی ،زیادہ ہنسنے سے بھی دل مردہ ہوتاہے، بحرحال نیک لوگوں کی صحبت سے دل کی سیاہی دورہوتی ہے ۔اللہ پاک و آخرت کویادکرنے اور قرآن پاک کی تلاوت سے دلوں کی صفائی ہوتی ہے ۔یادرکھئے !سلامت دل(قلبِ سلیم ) میں ہی کامیابی ہے ۔

سوال:نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا تقاضاکیا ہے ؟

جواب:محبِت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تقاضا ہے کہ ہم سنتوں پر عمل کریں ،ہماراحلیہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک حلیے جیساہونا چاہیئے ،چہرے پر ایک مٹھی داڑھی ،سرپر زلفیں ہونی چاہیئے اور لباس بھی انہیں جیساہو۔

سوال : کیا کام کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیئے ؟

جواب : جی ہاں ،ہر جائز کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیئے ،فرما نِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :جو بھی اہم کام بسم اللہ سے شروع نہیں کیا جاتاوہ ادھورااورنامکمل رہ جاتاہے ۔(جامع صغیر،حدیث 6284)

سوال: جمعہ کی کیافضیلت ہے ؟

جواب: جمعہ رحمت وبرکت والادن ہے ،اس کی ایک نیکی سترنیکیوں کے برابرہے ۔

سوال: کسی کے عیب کی ٹوہ میں لگنے کے بارےمیں اسلام ہماری کیارہنمائی کرتا ہے ؟

جواب: کسی کے عیب کی ٹوہ میں لگنے اورتجسس(کسی شخص کے بارےمیں تلاش وجستجو) کرنے سے اسلام نے منع کیا ہے ۔اسی لئے میں کہتاہوں کہ لوگوں سے یہ نہ پوچھا کریں کہ نمازپڑھتے ہویا نہیں ؟ اگرنہیں پڑھتاہوگا تو وہ بلاجھجک بول دے گا کہ نہیں پڑھتا،جس سے اس کے گناہ کا آپ کو علم ہوگااوراس کا اس طرح بولنا بھی بے باکی میں آئے گا ۔اللہ پاک ہم سب کو گنا ہوں سے بچائے ،ایک چھوٹاساگناہ بھی جہنم میں جھونک سکتاہے ۔ہم ہرگناہ سے توبہ کرتے ہیں ۔

سوال:پانی کتنا پینا چاہیئے ؟

جواب:سردیوں میں 8 سے 10 اورگرمیوں میں کم ازکم پندرہ گلاس پانی پینا چاہیئے ،جوایساکام کرتاہے جس میں پسینہ زیادہ آتاہے اس کو پندرہ سے بھی زیادہ گلاس پانی پینا چاہیئے ۔گرمیوں کے برے اثرات سے بچنے کے لئے ستو استعمال کریں ،لیموں پانی پئیں، اس میں چینی ڈالنے کے بجائے شکرڈالیں ۔موسمی پھل استعمال کریں ۔ پہلے موسم کا پھل استعمال نہیں کرنا صحت کے لئے مفیدنہیں ۔دوسرے تیسرے موسم کا استعمال کیاجائے ۔

سوال: کون سالیموں زیادہ مفیدہے ؟

جواب: کاغذی لیموں استعمال کرنا مفیدہے ،فریج میں ٹھنڈا ہوتو اسے نارمل ہونے دیں پھر استعمال کریں تاکہ تمام جوس نکل سکے ۔

سوال: سخت گرمی کی دعا کیاہے ؟

جواب: فرمانِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :جب سخت گرمی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ آج بڑی گرمی ہے اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنْ حَرِّجَہَنَّمَ یعنی اے اللہ مجھے جہنَّم کی گرمی سے پناہ دے۔ اللہ پاک دوزخ سے فرماتا ہے : میرا بندہ مجھ سے تیری گرمی سے پناہ مانگ رہا ہے اور میں تجھے گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے اسے تیری گرمی سے پناہ دی اور جب سخت سردی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے : لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ آج کتنی سخت سردی ہےاَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنْ زَمْھَرِ یْرِ جَھَنَّمَ یعنی اے اللہ مجھے جہنَّم کی زَمْھَرِیر سے بچا۔اللہ پاک جہنَّم سے کہتا ہے : میرا بندہ مجھ سے تیری زَمْھَرِیر سے پناہ مانگ رہا ہے اور میں نے تیری زَمْھَرِیر سے اسے پناہ دی ۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: جہنَّم کی زَمْھَرِیرکیا ہے؟ فرمایا: وہ ایک گڑھا ہے جس میں کافر کو پھینکا جائے گا تو سخت سردی سے اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ (البدور السافرۃ ص418حدیث1395)

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” کیا تنگدستی بھی نعمت ہے “ پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا رَبَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”کیا تنگدستی بھی نعمت ہے“ پڑھ یا سُن لےاُس کی تنگدستیاں دور کر، اسکے حلال رزق میں برکتیں عطا فرمااوراُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔


18 مئی 2024ء بمطابق 10 ذیقعدۃ الحرام 1445ھ بروز ہفتے کی شب دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے مختلف علاقوں سے براہِ راست جبکہ بذریعہ مدنی چینل کثیر اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے دوران اسلامی بھائیوں کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق سوالات کئے گئے جس کے امیرِ اہلِ سنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال:کس کی نظرزیادہ خطرناک ہوتی ہے ؟

جواب: نظرلگنا حق ہے ،حاسد کی نظرزیادہ خطرناک ہوتی ہے ،حسدکی تعریف یہ ہے کہ کسی کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ اس کی یہ نعمت جاتی رہے۔حسدوالاحسدکی آگ میں جل رہا ہوتاہے ،حدیث پاک میں ہے کہ حسدنیکیوں کو اس طرح کھا جاتاہے جیسے آگ لکڑی کو ،اس لئے حاسد کے خیالات منعم (یعنی نعمت والے)کے بارے میں اچھے نہیں ہوتے ،اسی وجہ سے اس کی نظرمیں زہرپیداہوجاتاہے ۔نظرتو اپنی بھی لگ جاتی ہے ،اس لئے اپنی یا پرائی چیز پسند آئے توماشاء اللہ ،تبارک اللہ کہہ دیا جائے ۔اس طرح کہنے سے جس چیز کو دیکھا ہے اس کو آپ کی نظرنہیں لگے گی۔

سوال:نظریا کسی بھی بلاومصیبت سے بچنے کے لئے کیاکریں ؟

جواب:اس کے لئے ایک وظیفہ ہےجس کا میرابھی برسوں سے معمول ہے وہ کیا کریں، اوریہ وظیفہ کرناسنت بھی ہے چنانچہ بخاری شریف میں ہے :رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ رات کے وقت جب بستر مبارک پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں دست ِمبارک جمع فرما کر ان میں دم کرتے اور سورہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں کو سر مبارک سے لے کر تمام جسم ِاَقدس پر پھیرتے جہاں تک دست ِمبارک پہنچ سکتے، یہ عمل تین مرتبہ فرماتے۔ (بخاری، 3 / 407، الحدیث: 5017)حدیث پاک میں ہے کہ ان کی تلاوت کرنا ہر بری چیز سے بچائے گا۔(سنن نسائی، ص862، الحدیث: 5438)

سوال : الوظیفۃ الکریمہ کس کی کتاب ہے ؟

جواب : الوظیفۃ الکریمہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے وظائف کا مجموعہ ہے جو ان کے صاحبزادے حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جمع فرمائے ہیں ۔

سوال: بہت جھک کرکھانا یا لکھناکیسا؟

جواب: بہت جھک کرکھانا یا لکھنا دونوں صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔

سوال: وہ کون سی مسجدہے جس کی تعمیرجنّات سے کرائی گئی ؟

جواب: مسجداقصیٰ فلسطین ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” خُشوع و خُضوع والی نماز “ پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ” خُشوع و خُضوع والی نماز “ پڑھ یا سن لے اُس کو سجدوں کی لَذتیں عطا فرما، اُس کی تمام نمازیں قبول فرمااوراُسے دونوں جہانوں کی بھلائیاں دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔

اسلام میں سب سے بنیادی ادارہ جس کو معاشرتی اور ثقافتی نظام میں اہمیت حاصل ہے وہ مسجد ہے، اس میں تمام ادارے ضَم ہیں، تمام ادارے اسی مرکز کے گِرد گھومتے ہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں مسجد کی بنیاد ڈالی۔ مسجد کا سب سے اہم وظیفہ عبادت اور اللہ کی بندگی ہے تاکہ انسانی شخصیت، ادارے اور معاشرے، ثقافت قرآن کے معنوی نظام کی اساس پر مکمل ہوتے جائیں۔

اسلامی مملکت میں مسجد عبادت گاہ کے علاوہ ایک ثقافتی مرکز ہوتی ہے جس میں تمام اہلِ محلہ کو دن رات میں پانچ بار ایک جگہ جمع کرکے ان کی اجتماعی اور اتحادی قوت کو بڑھایا جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجدوں کا جال بچھ چکا تھا۔ مدینے کے اندر اگر کئی مسجدیں تھیں تو مختلف قبائل کی جداگانہ مسجدیں علیحدہ ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی تھیں اور اشاعتِ اسلام کے ساتھ ساتھ مزید مساجد عرب کے گوشے گوشے میں بنتی جارہی تھیں۔مدینہ منورہ اور اس کے قرب و جوار میں متعدد ایسی مساجد موجود ہیں جہاں سرورِ کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نمازیں ادا فرمائی ہیں۔

زائرینِ مدینہ کو ان مساجد کی اہمیت و فضیلت بتانے اور اُن کے دلوں میں مساجدِ مدینہ کی زیارت کا شوق پیدا کرنے کے لئے امیرِ اہلِ سنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری ضوی ضیائی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے تمام عاشقانِ رسول کو رسالہ ”مساجدِ مدینہ“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربِّ کریم:جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ”مساجدِ مدینہ“ پڑھ یا سُن لے اسے مکے مدینے کی باادب حاضری نصیب فرما، مساجدِ مدینہ دکھا اور اُس کو ماں باپ سمیت بخش دے۔آمین

یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے

Download


تفصیلات کے مطابق امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا الیاس قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے بھتیجے حاجی محمد ادریس برکاتی کا قضائے الہٰی سے گزشتہ رات (27 مئی 2024ء کو)انتقال ہوگیا۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن۔ مرحوم ادریس برکاتی امیر اہل سنت کے بڑے بھائی عبدالغنی( واڈی والا) کے بیٹے تھے۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ جامع مسجد اسماعیل گیگا جمشید روڈ میں رات ساڑھے گیارہ بجے ادا کی گئی ۔ نمازِ جنازہ امیر اہل سنت مولانا الیاس قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے پڑھائی ۔

نمازِ جنازہ میں جانشینِ امیر اہل سنت مولانا حاجی عبید عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، نگران پاکستان حاجی شاہد عطاری ، حاجی امین عطاری سمیت ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی اور بڑی تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

شعبہ دعوتِ اسلامی کے شب وروز کی ٹیم کے اراکین حاجی محمد ادریس برکاتی کے دونوں بیٹوں مولانا یاسر برکاتی اور محمد حسن برکاتی سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ پاک مرحوم کی حتمی بخشش و مغفرت فرمائے، اُ ن کے درجات کو بلندی عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖنصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم