انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جو
اکیلے زندگی گزارنے کا اہل نہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ رہ کر خوشی، غم، سیکھنے،
سکھانے اور ترقی کے مراحل طے کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں فرد کی اصلاح پر زور دیا ہے،
وہیں معاشرتی تعلقات، دوستی، ہم نشینی اور ایک دوسرے کے حقوق کی بھی تعلیم دی ہے۔
مصاحبت اور ہم نشینی نہ صرف ایک نعمت ہے
بلکہ اس کے کچھ حقوق بھی ہیں جنہیں ادا کرنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔
(1) سلام
اور خیر مقدم کا حق: ہم
نشین کے ساتھ بیٹھنے سے پہلے اسے سلام کرنا اور خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہنا
محبت و مودت کو بڑھاتا ہے۔
(2) اچھے
اخلاق سے پیش آنا: نرم لہجہ، خوش گفتاری، اور تحمل مزاجی ہر ہم نشین کا بنیادی
حق ہے۔
(3) توجہ
سے سننا: جب کوئی ہم نشین بات کر رہا ہو
تو اس کی بات پوری توجہ اور احترام سے سننا اس کی عزت افزائی ہے۔
(4) بات میں
مداخلت نہ کرنا: کسی کی بات کاٹنا یا دورانِ گفتگو دخل اندازی کرنا خلافِ ادب اور ہم
نشینی کے آداب کے خلاف ہے۔
(5) راز
داری کا لحاظ رکھنا:مجلس
میں کی گئی نجی باتوں کو افشا کرنا خیانت ہے؛ ہم نشین کا حق ہے کہ اس کی باتیں راز
میں رہیں۔
احادیث کی روشنی میں :
(1) حضرت انس رضی اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کی مدینہ
منورہ میں دس سال خدمت کی جب کہ میں لڑکا تھا مگر میرا ہر کام آپ ﷺ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا تھا، لیکن جو میں نے
کیا اس پر کبھی آپ ﷺ نے اُف تک نہ کیا اور نہ یہ فرمایا کہ یہ تم نے
کیوں کیا یا ایسے کیوں نہ کیا۔( سنن ابى داود كتاب الادب باب في الحلم والخلاق
التي الحديث ٤٧٧، ح ٣٢٤)
مصاحبت اور ہم نشینی انسانی
تعلقات کی بنیاد ہیں، جن کے ذریعے محبت، ہمدردی، اور خیر خواہی پروان چڑھتی ہے۔ ایک
مہذب اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی مجلسوں اور محفلوں میں
ایک دوسرے کے جذبات، خیالات اور حقوق کا احترام کریں۔
اگر ہم سب اپنی مجلسوں میں عدل،
رواداری، نرمی، اور سچائی کو فروغ دیں تو نہ صرف دلوں میں محبت پیدا ہو گی بلکہ
سماج میں اتحاد اور امن کا ماحول قائم ہو گا۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم نشینی کے
آداب کو سیکھیں، ان پر عمل کریں، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہماری
مجلسیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنیں۔
Dawateislami