محمد صابر عطّاری(درجہ ثانیہ جامعۃُ المدینہ فیضان فتح
شاہ ولی ہبلی کرناٹک ، ہند)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!
یقیناً دلوں کے حالات اللہ پاک کے علاوہ
کوئی اور نہیں جانتا اور وہی ہر غیب کو جاننے والا ہے بیشک ہمارے دلوں میں جو کچھ
ہم لوگوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں اللہ پاک اس کو جانتا ہے کوئی اچھا سوچتا ہے تو کوئی برا سوچتا ہے۔ اچھا سوچنا (گمان کرنا) کبھی واجب ہوتا ہے تو کبھی مستحب اور برا گمان کبھی جائز تو کبھی ممنوع لیکن کسی نیک
شخص کے بارے بدگمانی (برا گمان) کرنا حرام ہے۔ ہمیں ان سب کاموں سے بچنا بےحد
ضروری جن امور کو اللہ پاک نے ہم حرام کیا ہے
بدگمانی کی تعریف: کسی واضح قرینے کے بغیر کسی مسلمان کے بارے میں برائی کو دل میں جما لینا کہ وہ ایسا ہی ہے بد
گمانی کہلاتا ہے۔(غیبت کی تباہ کاریاں،ص343)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا
مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک
کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔(پ 26،الحجرات:12 )
آیت کے اس حصے میں اللہ پاک نے اپنے مؤمن بندوں کو بہت زیادہ گمان کرنے سے منع فرمایا کیونکہ
بعض گمان ایسے ہیں جو محض گناہ ہیں لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ گمان کی کثرت
سے بچا جائے۔( ابن کثیر، الحجرات، تحت الآیۃ: 12، 7 / 352)
(1) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے جس نے اپنے مسلمان بھائی سے بدگمانی کی بیشک اس نے
اپنے رب سے بدگمانی کی۔ (بدگمانی کی تباہ کاریاں، ص5)
(2)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ
عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بد
گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔(بخاری، کتاب الفراءض، باب تعلیم
الفرائض، 4 / 313، حدیث: 6724)
(3) ارشاد فرمایا حضور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیشک اللہ پاک نے مسلمان کا خون، مال حرام قرار دیا ہے
اور یہ بھی حرام ٹھہرایا ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی یعنی برا گمان کیا
جائے۔ (شعب الایمان، 5/297، حدیث:6706)
(4)حضرت عمر بن خطاب رضی
اللہُ عنہ فرماتے ہیں :تم اپنے بھائی کے
منہ سے نکلنے والی کسی بات کا اچھا مَحمل پاتے ہو تو اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرو۔(در منثور، الحجرات، تحت
الآیۃ: 12، 7/ 566)
(5)حضرت عبداللہ بن عمر رضی
اللہُ عنہما سے روایت ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: اللہ پاک کے ساتھ برا گمان رکھنا بڑے کبیرہ گناہوں میں سے
ہے۔( مسند الفردوس، باب الالف، 1 / 364، حدیث: 1469)
بد گمانی کے دینی اور دُنْیَوی نقصانات: یہاں بدگمانی کے دینی اور دُنْیَوی نقصانات بھی
ملاحظہ ہوں تاکہ بد گمانی سے بچنے کی
ترغیب ملے، چنانچہ اس کے 3دینی نقصانات یہ ہیں: (1) جس کے بارے میں بد گمانی کی ،اگر اُس کے سامنے اِس کا اظہار کر
دیا تو اُس کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور شرعی اجازت کے بغیر مسلمان کی دل آزاری
حرام ہے ۔ (2)اگر ا س کی غیر موجودگی میں دوسرے کے سامنے اپنے برے گمان کا اظہار کیا تو یہ غیبت ہو جائے گی اور
مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے ۔ (3)بد گمانی کرنے سے بغض اور حسد جیسے خطرناک
اَمراض پیدا ہوتے ہیں ۔
اور اس کے دو بڑے دُنْیَوی نقصانات
یہ ہیں :۔(1) بد گمانی کرنے سے دو بھائیوں میں دشمنی پیدا ہو جاتی ہے، ساس اور بہو ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں ، شوہر
اور بیوی میں ایک دوسرے پر اعتماد ختم
ہوجاتا اور بات بات پر آپس میں لڑائی
رہنے لگتی ہے اور آخر کار ان میں طلاق
اور جدائی کی نوبت آجاتی ہے ،بھائی اور بہن کے درمیان تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور یوں ایک ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ جاتا ہے۔(2) دوسروں کے لئے برے خیالات رکھنے والے افراد پر فالج
اور دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہو جاتا
ہے جیسا کہ حال ہی میں امریکن ہارٹ ایسوسی
ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افراد جو دوسروں کے لئے مخالفانہ سوچ رکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار اور غصے
میں رہتے ہیں ان میں دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ%86بڑھ
جاتا ہے۔
بد گمانی کا علاج: امام محمد غزالی رحمۃُ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : شیطان آدمی کے دل
میں بدگمانی ڈالتا ہے تو مسلمان کو چاہیے
کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اور اس کو خوش
نہ کرے حتّٰی کہ اگر کسی کے منہ سے شراب کی بو آرہی ہو تو پھر بھی اس پر حد لگانا جائز نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے شراب کا ایک گھونٹ پی
کر کلی کردی ہو یا کسی نے اس کو جَبراً
شراب پلادی ہو اور اس کااِحتمال ہے تو وہ دل سے بدگمانی کی تصدیق کر کے شیطان کو خوش
نہ کرے (اگرچہ مذکورہ صورت میں بدگمانی کا
گناہ نہیں ہوگا لیکن بچنے میں پھر بھی بھلائی ہی ہے)۔ (احیاء العلوم ، کتاب
آفات اللسان، بیان تحریم الغیبۃ بالقلب، 3 / 186ملخصاً)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!
بدگمانی کی ہلاکت سے بچنے کے لئے اور اس باطنی بیماری کو دور کرنے کے لئے ہمیں
عملی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ مسلمان بھائیوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں اور بری صحبت
سے بچیں اور اچھی صحبت اختیار کیجئے کیونکہ بری صحبت سے برے گمان پیدا ہوتے ہیں
اگر پیدا ہو تو اس کے انجام پر غور و فکر کریں اور اپنے آپ کو عذابِ الٰہی سے ڈرائیں
اور مالک و مولا کی بارگاہ میں دعا کرتے رہیں ۔
اللہ پاک ہمیں بد ُگمانی سے بچنے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اچھا گمان رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین
محمد اویس نعیم قادری (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ
گوجرخان ضلع روالپنڈی پاکستان )
حضرت زکریا علیہ
السّلام اللہ پاک کے برگزیدہ نبی، حضرت یحیی (علیہ السّلام) کے والد اور مریم رضی
اللہ عنہا کے خالو تھے۔ آپ علیہ السّلام حضرت مریم رضی الله عنہا کی کفالت و پرورش
فرمائی ، ان کے پاس بے موسمی پھلوں کی آمد دیکھ کر بارگاہ الہی میں اولاد کی دعا
مانگی جو قبول ہوئی اور آپ کو حضرت یحیی (علیہ السّلام) کی صورت میں عظیم فرزند
عطا ہوئے۔ یہودیوں نے سازش کر کے آپ علیہ
السّلام کو شہید کروادیا۔ یہاں 2 ابواب میں آپ علیہ السّلام کی سیرتِ مبارکہ بیان
کی گئی ہے جس کی تفصیل ذیلی سطور میں ملاحظہ ہو۔
باب (1) حضرت زکریا ( علیہ السّلام)
کے واقعات کے قراٰنی مقامات: قراٰنِ پاک
میں آپ علیہ السلام کا مختصر تذکرہ سورۂ
انعام آیت نمبر 85 میں اور تفصیلی ذکرِ خیر درجہ ذیل 3 سورتوں میں کیا گیا ہے: (1)سورۂ
آل عمران، آیت 37 تا 44 (2) سورۂ مریم، آیت1 تا 11 (3) سورۂ انبیاء، آیت: 89
، 90
حضرت زکریا ( علیہ السّلام) کا تعارف نام و نسب : آپ علیہ السلام کا مبارک
نام زکریا اور ایک قول کے مطابق نسب نامہ یہ ہے: زکریا بن لدن بن مسلم بن صدوق بن حشبان بن داؤد
بن سلیمان بن مسلم بن صدیقہ بن برخیا بن بلعاطۃ بن ناحور بن شلوم بن بہفا شاط بن اینا
من بن رحبعام بن حضرت سلیمان علیہ السّلام بن حضرت داؤد علیہ السّلام۔
پیشہ: اپنی محنت سے کما کر کھانا انبیاء کرام علیہم السلام کی پاکیزہ
سیرت رہی ہے۔ اس لیے حضرت زکریا علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی ہی سے کھاتے
تھے ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: حضرت زکریا علیہ السلام لکڑی سے اشیاء بنانے کا کام کیا کرتے تھے۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم
السّلام میں سے کسی نبی علیہ السلام نے اپنی نبوت کو ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ
کائنات کے یہ معزز ترین حضرات مختلف پیشے اختیار کر کے اپنا گزر بسر کیا کرتے تھے۔
تقوی: آپ علیہ السلام انتہائی پر ہیز گار تھے۔ مروی ہے کہ آپ علیہ
السلام اجرت پر کسی کی دیوار گارے سے بنا رہے تھے اور اس کے بدلے میں وہ آپ علیہ
السلام کو ایک روٹی پیش کرتے کیونکہ آپ علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے ہی
کھانا تناول فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ (کھانے کے دوران ) کچھ لوگ آپ علیہ السلام کی
بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے کھانے کی دعوت نہ دی یہاں تک کہ خود کھانا کھا کر
فارغ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ان لوگوں کو آپ علیہ السلام کے طرز عمل پر تعجب ہوا کہ
انتہائی سخی اور زاہد ہونے کے باوجود آپ نے ہمیں اپنے کھانے میں شریک کیوں نہیں کیا
اور یہ گمان کیا کہ اگر ہم ہی پہل کرتے ہوئے کھانا مانگ لیتے تو اچھا رہتا۔ آپ علیہ
السلام نے (اپنے طرز عمل کی حکمت بیان کرتے ہوئے) ان سے ارشاد فرمایا: میں ایک قوم
کے ہاں اجرت پر کام کرتا ہوں اور وہ مجھے ایک روٹی اس لیے دیتے ہیں تاکہ میرے اندر
ان کا کام کرنے کی طاقت پیدا ہو ، اب اگر میں تمہیں اپنے حصے کی روٹی میں سے کچھ
کھلاتا ہوں تو یقیناً یہ نہ تمہیں کفایت کرتی نہ مجھے، مزید یہ کہ میرے اندر ان کا
کام کرنے کی طاقت کم ہو جاتی۔
اس واقعے میں نصیحت ہے کہ جب
اجرت پر کسی کا کام کریں تو اس کے تمام تر تقاضوں کو بھی پورا کریں۔
فرزند پر اظہارِ شفقت: آپ علیہ السلام کے فرزند حضرت یحیٰ علیہ
السلام پر اللہ پاک کا خوف بہت غالب تھا جس کے سبب وہ بکثرت گریہ وزاری کرتے تھے ، ایک دن آپ علیہ السلام نے
ان سے فرمایا: اے پیارے بیٹے ! میں نے تو اللہ پاک سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ تجھے
میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے ابا جان ! حضرت
جبریل علیہ السلام نے مجھے بتایا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جنگل ہے ، جسے
وہی طے کر سکتا ہے جو (اللہ پاک کے خوف سے ) بہت رونے والا ہو۔ اس پر حضرت زکریا
علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے فرزند : ٹھیک ہے تم روتے رہو۔
اللہ اکبر! حضرت یحیٰ علیہ السلام اللہ پاک کے
برگزیدہ نبی، ہر طرح کے گناہ سے پاک اور یقینی حتمی، قطعی طور پر بخشش و مغفرت و
نجات اور جنت میں اعلیٰ ترین مقامات کا پروانہ حاصل کیے ہوئے ہیں ، اس کے باوجود
خوفِ خدا سے گریہ وزاری کا یہ حال ہے تو ہم گناہگاروں کو رب قہار سے کس قدر ڈرنا
اور اس کے خوف سے کس قدر رونا چاہئے۔
اوصاف: دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح آپ علیہ السلام بھی
نیکیوں میں جلدی کرنے والے، اللہ پاک کو بڑی رغبت اور بڑے ڈر سے پکارنے والے اور
اللہ پاک کے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔ ارشاد باری ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ
یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک وہ نیکیوں میں جلدی
کرتے تھے اور ہمیں بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر
سے پکارتے تھے اور ہمارے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔ (پ17، الانبیآ:90)
انعاماتِ الہی: اللہ پاک نے حضرت زکریا علیہ
السلام پر بہت سے انعامات فرمائے ، ان میں سے 6 انعامات یہ ہیں :
(1تا3) اللہ پاک آپ علیہ السلام کو بطورِ خاص ان
انبیاء علیہم السلام کے گروہ میں نام کے ساتھ ذکر کیا جنہیں اللہ کریم نے نعمتِ
ہدایت سے نوازا، صالحین میں شمار فرمایا اور جنہیں ان کے زمانے میں سب جہان والوں
پر فضیلت عطا کی۔ فرمانِ باری ہے : وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَؕ-كُلٌّ
مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ(۸۵) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ
الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور
الیاس کو (ہدایت یافتہ بنایا) یہ سب ہمارے خاص بندوں میں سے ہیں۔ اور اسماعیل اور یَسَع
اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا
فرمائی۔ (پ 7 ،الانعام:86،85)
(4 تا 6 ) آپ علیہ السّلام نے فرزند کی دعا مانگی تو رب کریم نے اسے
قبول فرمایا، آپ علیہ السّلام کے لیے آپ کی زوجہ کا بانجھ پن ختم کر کے اسے اولاد
پیدا کرنے کے قابل بنا دیا اور انہیں سعادت مند فرزند حضرت یحیٰ علیہ السلام عطا فرمائے۔ فرمانِ باری ہے: وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ
نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ(۸۹) فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗ٘-وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗؕ ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا ، اے میرے رب!
مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔ تو ہم نے اس کی
دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو قابل بنا دیا۔(پ17،
الانبیآء:90،89)
اس سے معلوم ہوا کہ دین کی
خدمت کے لئے بیٹے کی دعا اور فرزند کی تمنا کرنا سنتِ نبی ہے۔ یہ بھی پتا چلا کہ جیسی
دعا مانگے ، اسی قسم کے نام سے اللہ پاک کو یاد کرے۔ چونکہ حضرت زکریا علیہ السّلام
کے فرزند نے اُن کے کمال کا وارث ہونا تھا، اس لیے آپ علیہ السّلام نے رب کو وارث
کی صفت سے یاد فرمایا۔
علی رضا اشفاق احمد (درجہ خاصہ سال اول ، جامعۃُ المدینہ
فیضان جمال مصطفی کراچی، پاکستان)
پہلی صفات : غیب کی خبریں ہونا۔ حضرت زکریا علیہ السّلام کو غیب کی
خبروں کی وحی کی جاتی تھی چناچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَؕترجَمۂ کنزُالایمان: یہ غیب کی خبریں ہیں
کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں۔(پ3،آلِ عمرٰن:44) یہ آیت مبارکہ اس بات پر
دلالت کرتی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السّلام کو غیب کی خبریں تھیں۔
دوسری صفت : صالحین میں شمار ہونا۔حضرت زکریا علیہ السّلام صالحین میں
سے تھے چنانچہ اللہ پاک قراٰن میں خود فرماتا ہے: وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ
اِلْیَاسَؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ(۸۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور
زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو (ہدایت یافتہ بنایا) یہ سب ہمارے خاص
بندوں میں سے ہیں۔ (پ 7 ،الانعام: 85)
تیسری صفت : اللہ کی
تسبیح کا درس دینا۔ حضرت زکریا علیہ السّلام
لوگوں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرنے کا درس دیتے تھے۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا
ہے : فَخَرَ جَ عَلٰى
قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ
عَشِیًّا(۱۱) ترجمۂ
کنزُالعِرفان:پس وہ اپنی قوم کی طرف مسجد سے باہر نکلے تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو۔(پ16،مریم:11)
چوتھی صفت : نیک کاموں میں جلدی کرنا اور ڈر سے اور رغبت سے اللہ کو
پکارنا۔ حضرت زکریا علیہ السّلام نیک کاموں میں جلدی کرتے اور ڈر اور بڑی رغبت سے
اللہ کو پکارتے تھے ۔ چنانچہ اللہ پاک کا فرماتا ہے : اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ
یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک وہ نیکیوں میں جلدی
کرتے تھے اور ہمیں بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر
سے پکارتے تھے اور ہمارے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔
(پ17، الانبیآ:90)
تفسیر مدارک میں اس آیت کے
تحت لکھا ہے یعنی جن انبیائے کرام علیہم
السلام کا ذکر ہوا ان کی دعائیں اس وجہ سے قبول ہوئیں کہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے
تھے اور اللہ پاک کو بڑی رغبت سے بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور اللہ کے حضور دل سے
جھکنے والے تھے ۔ (تفسیر مدارک بحوالہ صراط الحنان)
محمد اسماعیل عطّاری (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
بخاری کھارادر کراچی، پاکستان)
اللہ پاک نے ہدایتِ خلق کے
لئے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو بھیجا جن میں سے حضرت زکریا علیہ
السّلام بھی ہیں آپ علیہ السّلام اللہ پاک کے برگزیدہ نبی، حضرت یحییٰ علیہ
السّلام کے والد اور حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے خالو تھے۔
آپ علیہ السّلام کے چند اوصاف ملاحظہ
فرمائیں :۔
(1) آپ علیہ السّلام نے حضرت
مریم رضی اللہ عنہا کی کفالت و پرورش فرمائی، ان کے پاس بے موسم پھلوں کی آمد دیکھ
کر بارگاہ الہی میں اولاد کی دعا مانگی جو قبول ہوئی اور آپ کو حضرت یحییٰ علیہ
السّلام کی صورت میں عظیم فرزند عطا ہوئے۔
(2) اپنی محنت سے کما کر
کھانا انبیائے کرام علیہم السّلام کی پاکیزہ سیرت رہی ہے۔ اسی لئے حضرت زکریا علیہ
السّلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی ہی سے کھاتے تھے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حضرت
زکریا علیہ السّلام لکڑی سے اشیاء بنانے کا کام کیا کرتے تھے۔(مسلم، كتاب الفضائل،
باب من فضائل زكريا علیہ السلام، ص 994، حديث: 2379)
(3) آپ علیہ السّلام انتہائی
پرہیزگار تھے۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السّلام اجرت پر کسی کی دیوار گارے سے بنا رہے
تھے اور اس کے بدلے میں وہ آپ علیہ السّلام کو ایک روٹی پیش کرتے کیونکہ آپ علیہ
السّلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے ہی کھانا تناول فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ (کھانے
کے دوران) کچھ لوگ آپ علیہ السّلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے کھانے کی
دعوت نہ دی یہاں تک کہ خود کھانا کھا کر فارغ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ان لوگوں کو آپ علیہ
السّلام کے طرزِ عمل پر تعجب ہوا کہ انتہائی سخی اور زاہد ہونے کے باوجود آپ نے ہمیں
اپنے کھانے میں شریک کیوں نہیں کیا اور یہ گمان کیا کہ اگر ہم ہی پہل کرتے ہوئے
کھانا مانگ لیتے تو اچھا رہتا۔ آپ علیہ السّلام نے (اپنے طرز عمل کی حکمت بیان
کرتے ہوئے) ان سے ارشاد فرمایا: میں ایک قوم کے ہاں اجرت پر کام کرتا ہوں اور وہ
مجھے ایک روٹی اس لیے دیتے ہیں تاکہ میرے اندر ان کا کام کرنے کی طاقت پیدا ہو، اب
اگر میں تمہیں اپنے حصے کی روٹی میں سے کچھ کھلاتا ہوں تو یقیناً یہ نہ تمہیں کفایت
کرتی نہ مجھے ، مزید یہ کہ میرے اندر ان کا کام کرنے کی طاقت کم ہو جاتی۔ (احياء وعلوم الدين، كتاب النیۃ والاخلاص
والصدق، الباب الاول في النیۃ، بيان تفصيل الاعمال المتعلقۃ بالنیۃ، 5/100)
اس واقعے میں نصیحت ہے کہ جب اجرت پر کسی کا کام
کریں تو اس کے تمام تر تقاضوں کو بھی پورا کریں۔
(4) آپ علیہ السّلام کے فرزند
حضرت یحییٰ علیہ السّلام پر اللہ پاک کا خوف بہت غالب تھا جس کے سبب وہ بکثرت گریہ و زاری کرتے تھے ، ایک دن آپ علیہ السّلام
نے ان سے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں نے تو اللہ پاک سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ
تجھے میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے۔ حضرت یحییٰ علیہ السّلام نے عرض کی: اے ابا جان
!حضرت جبریل علیہ السّلام نے مجھے بتایا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جنگل
ہے، جسے وہی طے کر سکتا ہے جو اللہ پاک کے خوف سے بہت رونے والا ہو۔ اس پر حضرت
زکریا علیہ السّلام نے فرمایا: اے میرے فرزند : ٹھیک ہے تم روتے رہو۔ (احياء علوم الدين، كتاب الخوف والرجاء، بيان
احوال الانبياء...الخ، 4/226)
اللہ اکبر! حضرت یحییٰ علیہ السّلام
اللہ پاک کے برگزیدہ نبی، ہر طرح کے گناہ سے پاک اور یقینی، حتمی قطعی طور پر بخشش
و مغفرت و نجات اور جنت میں اعلیٰ ترین مقامات کا پروانہ حاصل کیے ہوئے ہیں، اس کے
باوجود خوف خدا سے گریہ وزاری کا یہ حال ہے تو ہم گناہگاروں کو رب قہار سے کس قدر
ڈرنا اور اس کے خوف سے کس قدر رونا چاہئے۔
(5) اللہ پاک نے حضرت زکریا علیہ السّلام پر بہت سے
انعامات فرمائے ، ان میں سے چند یہ ہیں: اللہ پاک نے آپ علیہ السّلام کو بطورِ خاص
ان انبیاء علیہم السّلام کے گروہ میں نام کے ساتھ ذکر کیا جنہیں اللہ کریم نے
نعمتِ ہدایت سے نوازا، صالحین میں شمار فرمایا اور جنہیں ان کے زمانے میں سب جہان
والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
اللہ پاک ہمیں ان کی سیرت پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
محمد حسان رضا عطاری
(درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مشتاق باب المدینہ کراچی، پاکستان)
تعارف: حضرت زكريا علیہ السّلام اللہ پاک کے مقرب نبی اور برگزیدہ
بندے ہیں جو حضرت یحییٰ علیہ السّلام کے والد ماجد ہیں آپ نہایت زاہد و عابد اور
تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرنے والے تھے اور مستجاب الدعوات تھے ۔ قراٰنِ پاک میں
حضرت زکریا علیہ السّلام کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے ۔ سوره آل عمران اور سورۃ
الانبيآء۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : هُنَالِكَ دَعَا
زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ-قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً
طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: یہاں پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے
رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا۔(پ3،آلِ
عمرٰن:38)
جب حضرت زکریا علیہ السّلام
نے حضرت مریم بنت عمران رضی الله عنہا کو اپنے زیر کفالت لیا تو دیکھا کے اُن کے
پاس بے موسم کے پھل موجود ہیں ، استفسار پر حضرت مریم نے جواباً کہا کہ یہ من
عند اللہ ہیں اور اس ہی کی کرم نوازی ہے۔ یہ تمام ماجرا سننے کے بعد حضرت زکریا نے اسی محراب کے پاس تبرکاً دعا مانگی اس عقیدے
کے ساتھ جو رب حضرت مریم کو بے پھل موسم دینے پر قادر ہے وہ رب مجھے میرے بڑھاپے اور میری بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود اولاد دینے پر بھی قادر ہے ۔(ماخوذ تفسیر صراط الجنان)
تفسیر سے معلوم ہونے والی صفات:
(1) حضرت زکریا علیہ السّلام اپنے رب کی رحمت سے
پر امید رہنے والے تھے ۔
(2) آپ علیہ السّلام بہت ہی
صابر و شاکر انسان تھے ۔
(3)آپ علیہ السّلام اپنے رب کی
طرف رغبت رکھنے والے اور دعا گو تھے ۔
(4)آپ علیہ السّلام دور اندیش
بھی تھے کیوں کے اپنے وارث کا طلب کرنا تا کہ وہ وارث انکے انتقال کے بعد بھی تبلیغ
توحید جاری رکھے اس بات پر دلالت کرتا ہے ۔
اسی کا ذکر سورۃُ الانبیآء میں
بھی ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ
فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ(۸۹) ترجمۂ کنزالایمان: اور زکریا
کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر
وارث۔
حضرت زكريا علیہ السّلام نے یہ
دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور میرے لئے کوئی وارث(اولاد) بنادے
اور تو سب سے بہتر وارث ہے ۔ یعنی اگر تو اپنی مشیت سے میرا کوئی وارث یعنی اولاد
نہ بھی بنائے تب بھی میں تیری رضا پر راضی ہوں کیوں کے تو سب سے بہتر وارث ہے۔
(ماخوذ تفسیر نعیمی )
اس آیت سے یہ بھی معلوم
ہوا کہ حضرت زکریا علیہ السّلام راضی
برضائے رب تھے ۔ سورۃُ الانبیآء میں اللہ
کریم نے حضرت سلیمان، لوط، نوح، ابراہیم،
اسماعیل، ایوب، ادریس، ذوالکفل اور ذوالنون علیہم السّلام کا ذکر فرمانے کے بعد
حضرت زكريا علیہ السّلام کا بھی ذکر فرمایا اور ان تمام انبیآء کے متعلق ارشاد
فرمایا : اِنَّهُمْ كَانُوْا
یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا
لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اُسے یحیی عطا فرمایا اور
اس کے لیے اس کی بی بی سنواری بےشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور
ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔(پ17، الانبیآ:90)
مذکورہ آیت میں جنابِ زکریا علیہ
السّلام کی چند صفات مذکور ہیں۔ (1) وہ نیکی کے کاموں میں جلدی کرنے والے تھے۔(2)
امید اور خوف سے اللہ کو پکارنے والے تھے۔
(3) اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے تھے۔
اللہ پاک ہمیں حضرت زکریا علیہ
السّلام کی ان با برکت صفات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ان پر بے شمار رحمتیں
نازل فرمائے اور انکے صدقے میں ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ اٰمین بجاه خاتم النبیین
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
خوشبولگانا
ہمارے پیارے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
کی سنت ہے۔ دینِ اسلام نے بھی پاکیزگی و نفاست اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ اچھی
خوشبو بھی پاکیزگی کا حصہ ہے۔
خلیفۂ
امیر اہلسنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خوشبو کی معلومات سے متعلق 14 صفحات کا رسالہ
”امیر
اہلسنت سے خوشبو کے بارے میں سوال جواب“ پڑھنے /سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں بھی نوازا ہے۔
دعائے
جانشینِ امیر اہلسنت
یااللہ
پاک جو کوئی 14 صفحات کا رسالہ ”امیر اہلسنت سے خوشبو کے بارے میں سوال جواب“ پڑھ
یا سن لے اس کے ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کو بھی مُعطر فرما اور بے حساب بخش دے۔
یہ
رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے
دو دن
کے اجتماع میں پروفیشنلز حضرات کے در میان شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس
عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ مدنی مذاکرے
میں مدنی پھول ارشاد فرمائیں گے۔ اس کے علاوہ مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا
حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی و اراکین، استاذ الحدیث مفتی محمد حسان عطاری
مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی ، نگران ویلز یوکے حاجی سید فضیل رضا
عطاری، نگران شعبہ پروفیشنلز فورم محمد ثوبان عطاری اور دیگر مبلغین دعوت اسلامی
وقتاً فوقتاً سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔
تمام
پروفیشنلز حضرات سے اس اجتماع میں شرکت کی درخواست ہے۔
17 اور 18 جون کو فیضان مدینہ میں
ٹرانسپورٹرز کا اجتماع منعقد ہونے جارہا ہے
دعوت
اسلامی کےشعبہ رابطہ برائے ٹرانسپورٹ کے زیر
اہتمام 17 اور 18جون 2023ء عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں بروز ہفتہ بعد
نماز ظہر تا بروز اتوار بعدِ نماز عصر سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہونے جارہا ہے جس میں
پاکستان بھر سے ٹرانسپورٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے عاشقان رسول شریک ہوں گے۔
اجتماع
میں شرکت کرنے والے عاشقان رسول مدنی مذاکرے میں شریک ہوکر امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی
پھولوں سے فیض یاب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اراکینِ شوریٰ و مبلغین دعوت اسلامی سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے
اسلامی بھائیوں کی شرعی و معاشرتی حوالے سے رہنمائی فرمائیں گے۔
تمام
ٹرانسپورٹرز سے اجتماع میں شرکت کرنے کی خصوصی درخواست ہے۔
سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے اسلامی بھائیوں کے درمیان حاجی
عمران عطاری کا بیان
دعوت
اسلامی کے شعبہ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام 4 جون 2023ء بروز اتوار عالمی
مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں
سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
مرکزی
مجلس شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور شرکا کو نیکی کے
کاموں میں حصہ لینے اور شیطان کے شر سے اپنے نفس کو بھی بچانے کا ذہن دیا۔
ذمہ داران کی سیدو شریف، سوات میں حضرت عبد الغفور اخوند
کے مزار پر حاضری
عالمی سطح پر تبلیغِ دین کا کام کرنے والی
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت سوات کے شہر سیدو شریف میں نگرانِ
شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ مولانا مہروز عطاری مدنی ذمہ داران کے ہمراہ دینی کاموں
میں مصروف ِ عمل ہیں۔
اسی دوران نگرانِ شعبہ مولانا مہروز عطاری مدنی
نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کے ہمراہ حضرت عبد الغفور
اخوند رحمۃاللہ علیہ کے
مزار شریف پر حاضری دی اور
فاتحہ خوانی پڑھی۔( کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
فیضان
آن لائن اکیڈمی بوائز کی برانچ فیضان مدینہ حیدرآباد میں مدنی مشورہ
2
جون 2023ء بروز جمعۃ المبارک دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کی
برانچ فیضان مدینہ حیدرآباد میں مدنی مشورہ ہوا جس میں شفٹ قادری کے تمام مدنی
عملے نے شرکت کی ۔
اس
مدنی مشورے میں ڈویژن ذمہ دار مولانا عابد حسین عطاری و برانچ ناظم مولانا عامر شاہ عطاری مدنی نے مدنی عملے کی تربیت و رہنمائی
کرتے ہوئے انہیں نظم و ضبط کی اہمیت و ضرورت سمجھائی نیز شفٹ میں بھرپور انداز میں
نظم وضبط قائم کرنے کا ذہن دیا اور مدنی عملے کے تعلیمی و انتظامی معاملات پر کئے
گئے سوالات کے جوابات بھی دیئے ۔
دورانِ
گفتگو ڈویژن ذمہ دار نے شرکا کو دعوتِ
اسلامی کے لئے قربانی کی کھالیں جمع کرنے،
اجتماعی قربانی میں حصہ لینے اور دیگر اسلامی بھائیوں کو حصہ دلوانے کی ترغیب بھی دلائی جس پر انھوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار بھی کیا۔(رپورٹ:
محمد وقار یعقوب مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
مولانا مہروز عطاری مدنی کا ننکانہ شہر کی مختلف
مارکیٹس کا دورہ، تاجران سے ملاقات
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
گزشتہ روز دینی کاموں کے سلسلے میں سوات میں موجود نگرانِ شعبہ ماہنامہ فیضانِ
مدینہ مولانا مہروز عطاری مدنی نے مقامی ذمہ داران کے ہمراہ ننکانہ شہر کی مختلف مارکیٹس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے
تاجران سمیت دیگر عاشقانِ رسول سے ملاقات کی۔
Dawateislami