14
جولائی 2025ء کو اسلامی بہنوں کے عالمی سطح پر ہونے والے دعوتِ اسلامی کے دینی
کاموں کے سلسلے میں آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی جس میں اراکینِ عالمی مجلس مشاورت و
سب کانٹیننٹ نگران اسلامی بہنوں نے بذریعہ انٹرنیٹ شرکت کی ۔
مدنی
مشورے کے دوران نومبر 2025ء میں کراچی میں
ہونے والے اوورسیز سنتوں بھرے اجتماع کے انتظامات اور تیاریوں سے متعلق گفتگو ہوئی جبکہ پچھلے سال کے تجربات و مشاہدات کو
سامنے رکھتے ہوئے اس سال اس اجتماع کو انتظامی امور کے حوالے سے مزید بہتر بنانے
پر زور دیا گیا ۔
ذمہ
دار اسلامی بہنوں نے اوورسیز سے آنے والی
اسلامی بہنوں کی تربیت و رہنمائی کے حوالے سے بہترین شیڈول ترتیب دینے پر مشاورت
کی۔
12
جولائی 2025ء کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں مدنی مشورہ ہوا جس میں
بعض سب کانٹیننٹ نگران اور رکنِ عالمی مجلسِ مشاورت کی ذمہ داریوں میں جو تبدیلی
کی گئی ہے اس کے متعلق گفتگو ہوئی۔
ذمہ
دار اسلامی بہنوں نے دینی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے دینی کاموں کو بتدریج بڑھانے
پر مشاورت کی جس پر تمام ذمہ دار اسلامی بہنوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔
دینی
ماحول میں دنیاوی تعلیم دینے والے دعوتِ اسلامی کے شعبے دارالمدینہ گرلز کے تحت 15
جولائی 2025ء کو آن لائن مدنی مشورے کا
انعقاد کیا گیا جس میں شعبے کی عالمی سطح ذمہ دار اور نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت
نے شرکت کی۔
اس
دوران دعوتِ اسلامی کی عالمی مجلسِ مشاورت نگران اسلامی بہن نے دارالمدینہ گرلز میں
اسلامی بہنوں کے لئے ےتعلیمی سسٹم بنانے نیز ملکی سطح، صوبائی سطح اور اورسیز سطح
پر شعبہ دارالمدینہ گرلز کی ذمہ داران
مقرر کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس کے
علاوہ نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے اسلامی بہنوں کے 8 دینی کاموں کا جائزہ بھی
لیا اور اسلامی بہنوں کو مدنی پھولوں سے نوازا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا
اظہار کیا۔
20
جولائی 2025ء کو عالمی سطح پر ہونے والے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں
ذمہ داران کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں کینبرا، آسٹریلیا کی جملہ ذمہ دار
اسلامی بہنیں شریک ہوئیں۔
ابتداً
ذمہ دار اسلامی بہن نے مدرسۃالمدینہ بالغات کے درجات لگانے کے بارے میں گفتگو کی
نیز اصلاحِ اعمال کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا جس میں نیک
اعمال اور مدنی مذاکرہ دونوں کی کارکردگی شامل ہے۔
آخر
میں ذمہ دار اسلامی بہن نے ربیع الاول میں محفل نعت ، فیملی اجتماعات اور اسلامی
بہنوں کے گھروں میں محفل نعت منعقد کروانے کے متعلق ذمہ دار اسلامی بہنوں کی ذہن
سازی کی۔
بیرونِ
ملک کی اسلامی بہنوں سے دینی کاموں کا فالو اپ لینے اور اُن کی دینی و اخلاقی
تربیت کرنے کے لئے 18 جولائی 2025ء کو ایک میٹنگ ہوئی جس میں وکٹوریا نگران سمیت
دیگر ذمہ دار اسلامی بہنیں شریک ہوئیں۔
اس
موقع پر ذمہ دار اسلامی بہنوں نے دینی کاموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف
نکات پر مشاورت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
٭ ایسٹ کاؤنسل
کے دینی کام ٭ وقف
مبلغہ اسلامی بہنوں کے دینی کام٭ شارٹ
کورسز پر نئی اسلامی بہنوں کی تربیت٭ ویک اینڈ پر دینی کام بڑھانا٭ ذمہ دار
اسلامی بہنوں کی تربیت٭ رہائشی
کورسز کا جائزہ۔
عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت دنیا بھر میں ہونے والے دینی کاموں کا
فالو اپ لینے کے لئے 15 جولائی 2025ء کو کینبرا، آسٹریلیا کی نگران اسلامی بہنوں
کا مدنی مشورہ منعقد ہوا۔
مدنی
مشورے کے دوران ذمہ دار اسلامی بہن نے کینبرا میں سنتوں بھرا اجتماع شروع کروانے کے حوالے سے کلام کیا اور اجتماع
ذکرِ شہادت کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا۔اس کے علاوہ دیگر سطح کی ذمہ دار اسلامی
بہنوں کے ساتھ مدنی مشورہ رکھنے کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیرونِ
ممالک میں ہونے والی دعوتِ اسلامی کی دینی ایکٹیویٹیز کے سلسلے میں 15 جولائی
2025ء کو ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں نیوزی لینڈ نگران اور نئی
مدنیہ مبلغہ اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
اس
دوران ذمہ دار اسلامی بہنوں نے دینی ایکٹیویٹیز کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیا
اور مختلف موضوعات پر مشاورت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
٭نیوزی
لینڈ کے تنظیمی اسٹرکچر ٭ نیو
زی لینڈ میں ہونے والے 8 دینی کام، اس کی
تفصیل اور اس کو بڑھانا٭ مدنیہ
اسلامی بہن سےڈیلی کلاسز لگوانا٭ فیجی
(Fiji) کی اسلامی بہنوں اور دیگر
کمیونٹی میں دینی کام بڑھانا۔
14
جولائی 2025ء کو عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ایک میٹنگ ہوئی جس
میں پرتھ، آسٹریلیا (Perth, capital of
Western Australia)
نگران اسلامی بہنوں نے دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کے متعلق چند اہم امور
پر گفتگو کی۔
اُن
امور میں سے بعض درج ذیل ہیں:
٭ دعائے
صحت اجتماع کا فالو اپ٭ دعائے ذکرِ
شہادت اجتماع کا فالو اپ٭ پرتھ میں
نئی مبلغہ اسلامی بہن کے بیانات٭ ماریشس کی ذمہ
دار اسلامی بہنوں کی تربیت٭ فیضان
ویک اینڈ اسلامک اسکول کا آغاز کرنا٭ فیضان ویک اینڈ اسلامک اسکول کے لئے
نئی جگہ اور داخلے٭نئے ذیلی میں دینی کام شروع کرنا٭ نئی منسلک
اسلامی بہنوں کی لسٹ اپڈیٹ کرنا٭ربیع الاول کی محافل رکھنے کے حوالے سے مدنی
مشورہ۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ اصلاح اعمال للبنات کےتحت
11 اور 12 جولائی 2025ء کو لاہور
سٹی میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا لرننگ سیشن ہواجس میں لاہور اور پنجاب کی
صوبائی، سٹی، ڈویژن، ڈسٹرکٹ، تحصیل اور ٹاؤن سطح کی اسلامی بہنوں کی شرکت ہوئی۔
شعبہ اصلاح اعمال للبنات کی عالمی سطح ذمہ
دار اسلامی بہن نے بذریعہ انٹرنیٹ شعبے کے
حوالے سے اسلامی بہنوں کی رہنمائی کی اور اُن کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے۔
نگرانِ
پاکستان مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے ”فضول گوئی کی عادت نکل جائے“کے موضوع
پر بیان کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذرا سوچئے! بروز
محشر اس وقت تمام اولین و آخرین کی موجودگی میں اپنا وہ نامہ ٔاعمال کس طرح پڑھ کر
سنائیں گی؟ جو فضول گفتگو سے بھرا ہوگا۔
حجۃ الاسلام
حضرت سیدنا امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ
علیہ
چار وجوہات کی بِنا پر فضول باتوں کے نقصان بیان کرتے ہیں :
٭فضول باتیں کر اماً کاتبین یعنی اعمال لکھنے والے
فرشتوں کو لکھنی پڑتی ہیں لہٰذا آدمی کو چاہیئے
کہ ان سے شرم کرے اور انہیں فضول باتیں لکھنے کی تکلیف نہ دے٭یہ بات اچھی نہیں کہ فضول باتوں سے بھر پور
اعمال نامہ اللہ کریم کی بارگاہ میں پیش ہو ٭فضول باتوں کی مذمت کی تیسری
وجہ یہ ہے کہ اللہ کے دربار میں تمام مخلوق کے سامنے بندے کو حکم ہو گا کہ اپنا
اعمال نامہ پڑھ کر سناؤ! اب قیامت کی خوفناک سختیاں اس کے سامنے ہوں گی ، انسان بے
لباس ہو گا، سخت پیاسا ہو گا، بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو گی، جنت میں جانے سے روک دیا
گیا ہو گا اور ہر قسم کی راحت اُس پر بند کر دی گئی ہوگی، غور کیجئے ایسے تکلیف دہ
حالات میں فضول باتوں سے بھر پور اعمال نامہ پڑھ کر سناناکس قدر پریشان کن ہو گا ٭ بروز قیامت بندے کو فضول باتوں پر ملامت کی جائے گی اور اُس کو شر
مندہ کیا جائے گا۔ بندے کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہو گا اور وہ اللہ پاک کے سامنے
شرم و ندامت سے پانی پانی ہو جائے گا۔ (مِنہاجُ العابِدین، ص 67)
شعبہ
اصلاح اعمال پاکستان سطح کی ذمہ دار
اسلامی بہن نے شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئےشعبے کے دینی کاموں کو بڑھانے سے متعلق
اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے شعبے کے دینی کاموں کو بڑھانے کے لئے
اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔
خاتون جنت
حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی سب سے چھوٹی اور چہیتی شہزادی ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ بعثت کے پہلے
سال یا بعثت سے ایک سال پہلے یا پانچ سال پیدا ہوئیں۔
ہمارے پیارے
نبی نانائے حسنین ﷺ اپنی پیاری شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بےحد محبّت
فرماتے تھے، حدیث پاک میں ہے: جب آپ رضی اللہ عنہا تشریف لاتیں تو حضور ﷺ آپ رضی اللہ
عنہا کو مرحباً بابنتی کہہ کر استقبال فرماتے اور اپنے ساتھ بٹھاتے۔ (فیضان فاطمۃ
الزہرا، ص 5)
صحابی رسول
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب سفر کا ارادہ
فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے ملاقات فرماتے اور جب
سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ سے ملاقات فرماتے۔ (مستدرك للحاكم، 4/141،
حدیث: 4792)
نبی پاک ﷺ جب
نماز کے لیے تشریف لاتے اور راستے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر سے
گزرتے اور گھر سے چکی کے چلنے کی آواز سنتے تو بارگاہ رب العزت میں دعا کرتے: یا
ارحم الراحمین ! فاطمہ کو ریاضت و قناعت کی جزائے خیر عطا فرما اور اسے حالت فقر
میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ (فیضان فاطمۃ الزہرا، ص 13)
اللہ پاک کی
ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
حضور ﷺ کی سب
سے چھوٹی بیٹی کا نام حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ہے۔آپ کی ولادت جمعۃ
المبارک کے دن اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے ہوئی۔آپ نبی کریم ﷺ کی سب سے زیادہ
لاڈلی بیٹی اور آپ ﷺ کو بہت محبوب تھیں۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا تمام
مسلمانوں کے نزدیک ایک پاکیزہ ہستی ہیں۔آپ کے بہت سے القابات ہیں جیسا کہ خاتون
جنت بتول اور زہرہ وغیرہ۔
حضرت محمد ﷺ سیدہ
فاطمۃ الزہرا سے بہت محبت کرتے تھے اور نہایت الفت اور شفقت کا مظاہرہ کرتے تھے۔آپ
ﷺ کی عادت کریمہ تھی کہ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی
اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے محبت اور شفقت کا برتاؤ کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بےشک
فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے مجھے وہ چیز تکلیف دیتی ہے جو اسے دیتی
ہے۔ (مسلم، ص 1021، حدیث: 6307)
ایک اور حدیث
مبارکہ ہے: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے
مجھے ناراض کیا۔ (مسلم، ص 1021، حدیث: 6307)
ام المومنین
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال طور طریقہ شکل مشابہت اور
بات چیت میں سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول ﷺ کی مشابہ
نہیں دیکھا۔
جب فاطمہ رضی
اللہ عنہا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ان
کا ہاتھ پکڑتے بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے اور جب آپ ﷺ ان کے پاس جاتے
تو آپ کے استقبال کے لیے بھی وہ کھڑی ہو جاتیں ہاتھوں چومتی اور اپنی جگہ پر
بٹھاتی۔
حضرت عائشہ
فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وصال کے وقت بلایا اور
ان کے کان میں کوئی بات کہی تو وہ رو پڑیں۔ آپ ﷺ نے پھر بلایا اور پھر ان کے کان
میں ایک بات کہی تو وہ مسکرا دی۔حضور ﷺ کے وصال کے بعد میں نے ان سے اس بارے میں
پوچھا انہوں نے کہا رسول ﷺ نے پہلے مجھے بتایا کہ اس بیماری میں ان کا انتقال ہو
جائے گا تو میں رو پڑی پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ میں خاندان میں سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ
سے ملوں گی اس لیے ہنس پڑی۔
حضور ﷺ کے
انتقال کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی انتقال کر گئیں۔
یا اللہ ہمیں
حضرت محمد ﷺ کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی محبت عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی
الامین ﷺ
حضور ﷺ کی
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے محبت ایک بے مثال اور قابل تقلید رشتہ ہے جس میں شفقت
عزت اور روحانی تعلق کی جھلک ملتی ہے چند نمایاں واقعات اور اقوال جو اس محبت کا
ثبوت فراہم کرتے ہیں درج ذیل ہیں۔
قیام
کے ساتھ استقبال: جب
بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آتیں آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے
ہو جاتے ان کا ہاتھ پکڑ کر پیشانی چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے۔ (ابو داود، 4/454،
حدیث: 5217)
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (مسلم،
ص 1021، حدیث: 6307)
سب
سے زیادہ محبوب: جب
ایک صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے تو آپ ﷺ نے
فرمایا: فاطمہ اور ان کا شوہر علی رضی اللہ عنہ۔ (ترمذی، 5/468، حديث: 3900)
آخری
ملاقات: مرض
الوفات کے دنوں میں نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا آہستہ کچھ کہا
جس پر وہ روئیں پھر دوبارہ کچھ کہا تو وہ مسکرا دی بعد میں حضرت فاطمہ نے بتایا کہ
پہلے آپ نے فرمایا کہ میری وفات قریب ہے جس پر وہ روئیں پھر فرمایا کہ تم سب سے
پہلے میرے پاس آؤ گی جس پر وہ مسکرا دیں۔(بخاری، 2/508، حدیث: 3625، 3626)
حضور ﷺ کی
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے محبت قرآن مجید کی ایک اہم آیت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جو
اہل بیت کی پاکیزگی اور محبت پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ اللہ پاک نے سورۃ احزاب کی آیت
نمبر 33 میں ارشاد فرمایا: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ
الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)ترجمہ: اللہ
تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے ہر قسم کی گندگی کو دور کرے اور وہ تمہیں خوب پاک
اور صاف کرے۔
تفسیر صراط
الجنان میں اس آیت کی تفسیر میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے اہل بیت کو ہر قسم کی
گندگی سے پاک کیا ہے اور ان کی محبت مسلمانوں پر فرض قرار دی ہے اس میں حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا کی محبت کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کی بیٹی اور اہل
بیت میں شامل ہیں اس تفصیل میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ حضرت فاطمہ کی محبت نبی
کریم ﷺ کی محبت کے مترادف ہے اور جو شخص حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے
وہ دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے اس تفصیل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت
کی محبت اور ان کی پاکیزگی پر ایمان لانا اسلامی ایمان کا حصہ ہے اور اس سے نبی ﷺ کا
اظہار ہوتا ہے حضور ﷺ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے محبت نہ صرف حدیثوں میں بلکہ
قرآن مجید کی آیات اور ان کی تفسیر میں بھی واضح ہے یہ محبت مسلمانوں کے لیے ایک
نمونہ ہے کہ وہ اہل بیت کی محبت اور ان کی پاکیزگی پر ایمان رکھیں حضور ﷺ کی حضرت
فاطمہ سے محبت کا ایک واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول ﷺ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
کا بوسہ لے رہے تھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ کیا آپ
اپنی بیٹی سے محبت کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں فاطمہ سے محبت
کرتا ہوں اور اگر تم میری فاطمہ سے محبت کو جان لیتی تو تمہاری ان کے لیے محبت میں
اضافہ ہو جاتا۔
اس واقعے سے
واضح ہوتا ہے کہ حضور ﷺ اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت رکھتے تھے اور اس محبت کا اظہار
بھی کرتے تھے۔
Dawateislami