سرجانی ٹاؤن،  4k چورنگی کے عاشقانِ رسول کو کفن دفن کے مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے 10 اگست 2025ء کو یوسی 4 کی جامع مسجد ظہیر فاطمہ میں دعوتِ اسلامی کے تحت ”کفن دفن سیشن“ کا انعقاد کیا گیا جس میں نمازی حضرات، یوسی نگران سیّد عامر عطاری اور شعبہ کفن دفن کےٹاؤن ذمہ دار تنویر عطاری کی شرکت رہی۔

سیشن کی ابتدا میں ڈسٹرکٹ اورنگی کےشعبہ کفن دفن ذمہ دار مولانا فہیم الدین عطاری مدنی نے غسلِ میت کی فضیلت و اہمیت بتاتے ہوئے حاضرین کو غسلِ میت دینے اور کفن پہنانے/ کاٹنے کا طریقہ سکھایا۔

دورانِ سیشن ذمہ دار نے دعوتِ اسلامی کے مسلم فیونرل ایپلیکیشن کے بارے میں بتایا اور شرکا کو 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔ (رپورٹ: عزیر عطاری ڈسٹرکٹ ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


بےشک دنیا کی زندگی فانی (مٹ جانے والی) ہے ۔ دنیا کی تمام چیزیں دنیا میں ہی رہ جانی ہیں اور صرف اعمال نے ہی آگے جانا ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں دنیا کی زندگی کی کئی مثالیں بیان کی گئی ہے تاکہ انسان دنیا کی زندگی کی رونقوں کے سبب اللہ عزوجل اور اس کی عبادت سے غافل نہ ہوجائے کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ عزوجل کی عبادت اور اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ دنیاوی زندگی کے بارے میں قرآن میں دی گئی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں :

دنیا کی زندگی کی مثال ایسے ہے جیسے پانی: اللہ پاک قرآن مجید فرقان حمید میں دنیا کی زندگی کے بارے میں فرماتا ہے :

‏ وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ ‏السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ ‏الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور ان کے سامنے بیان کرو کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پانی ہو جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا پھروہ سوکھی گھاس بن گیا جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (سورہ کہف، پارہ18 آیت 45)

اس آیت میں دُنْیَوی زندگی کے قابلِ فنا ہونے اور قیامت کے حساب کتاب کے بارے میں سمجھایا گیا ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں کے سامنے دنیا کی حقیقت بیان کرو اور اس کے سمجھانے کیلئے اس مثال کا سہارا لو کہ دنیوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے زمین کی ہریالی اور سرسبزی و شادابی، جو ہمارے نازل کئے ہوئے پانی کے سبب زمین سے نکلی ہو اور اس پانی کی وجہ سے زمین پر وہ شادابی اور تازگی پھیل جائے لیکن پھر کچھ ہی عرصے کے بعد وہ سبزہ فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور سوکھی ہوئی گھاس میں تبدیل ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اِدھر سے اُدھر اڑائے پھرتی ہیں اور اس کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی ۔ فرمایا کہ دنیاوی زندگی کی مثال بھی ایسے ہی ہے کہ جس طرح سبزہ خوشنما ہونے کے بعد فنا ہوجاتا ہے اور اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا، یہی حالت دنیا کی بے اعتبار حیات کی ہے اس پر مغرور و شیدا ہونا عقل مند کا کام نہیں اور یہ سب فنا و بقا اللّٰہ کی قدرت سے ہے۔( روح البیان، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵ / ۲۴۹-۲۵۰، مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۶۵۳، ملتقطاً)

دنیا کی زندگی جیسے کھیل کود: اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ ‏بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ ‏الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ ‏فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا ‏الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰)‏ ترجمہ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل ‏کود اورزینت اور آپس میں فخرو غرور کرنا اور مالوں اور اولاد ‏میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے ۔(دنیا کی زندگی ایسے ‏ہے)جیسے وہ بارش جس کا اُگایاہواسبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ ‏سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا ‏‏(بے کار)ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ ‏کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا(بھی ہے) اور دنیاکی ‏زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔ (پ27، الحدید: 20) ‏

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ایک حدیث مذکور ہے جو مندرجہ ذیل ہے : حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ دنیا ملعون ہے اور اس کی ہر چیز بھی ملعون ہے البتہ دنیا میں سے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے وہ ملعون نہیں ۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف الزای الزہد، ۲ / ۷۷، الجزء الثالث، الحدیث: ۶۰۸۰)

دنیا کی زندگی کی کہاوت : اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ ‏فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى ‏اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ ‏قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا ‏كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ ‏یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)‏ ترجمہ کنزالعرفان:

دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی (زیادہ )ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی آیتیں مُفَصَّل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔ (سورہ یونس پارہ ١١ آیت ٢٤)

اس آیت میں بہت بہترین طریقے سے دل میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ دنیوی زندگانی امیدوں کا سبز باغ ہے، اس میں عمر کھو کر جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کو مراد حاصل ہونے کا اطمینان ہوتا ہے اور وہ کامیابی کے نشے میں مست ہو جاتا ہے تو اچانک اس کو موت آ پہنچتی ہے اور وہ تمام نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا کا طلب گار جب بالکل بے فکر ہوتا ہے اس وقت اس پر عذابِ الٰہی آتا ہے اور اس کا تمام سازو سامان جس سے اس کی امیدیں وابستہ تھیں غارت ہوجاتا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۳۱۰، ملخصاً)

ہمیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا کی زندگی فانی ہے اور ابدی زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے۔ ہمیں ایسے اعمال کرنے چاہیے جس سے ہماری آخرت بہتر ہو ۔ اللہ تعالی ہمیں آخرت کو بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


دعوت اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب "اصلاح اعمال" جلد اول صفحہ نمبر 128 تا 129 پر ہے: دنیا کا لغوی معنی ہے: "قریب" اور دنیا کو دنیا اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ آخرت کی نسبت انسان کے زیادہ قریب ہے یااس وجہ سے کہ یہ اپنی خواہشات ولذات کے سبب دل کے زیادہ قریب ہے۔

علامہ بدرالدین عینی بخاری شریف کی شرح "عمدۃالقاری" جلد 1 صفحہ نمبر 52 پر لکھتے ہیں : دار آخرت سے پہلے تمام مخلوق دنیا ہے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی صرف آسائشوں سے بھری ہوئی ہے اور دنیا کی محبت آخرت کی بربادی کا سبب ہے اللّٰہ پاک نے جہاں قرآن مجید میں بےشمار چیزوں کی مذمّت بیان فرمائی ہے وہیں دنیا کی زندگی کی مذمّت بیان فرما کر مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کی اس دھوکہ اور فریب والی زندگی کے قریب بھی نہ جائیں جو ان کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔اب ہم آپ کے سامنے قرآن مجید کی روشنی سے دنیا کی مذمّت بیان کرتے ہیں۔ غور کرو اور عبرت حاصل کرو۔

(1) سوکھی ہوئی گھاس: وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ ‏السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ ‏الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵) ترجمہ کنز العرفان:اور ان کے سامنے بیان کرو کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پانی ہو جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا پھروہ سوکھی گھاس بن گیا جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔(پ15 ،الکھف، آیت نمبر 45)

(2) آسمان سے اترا ہوا پانی: اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ ‏فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى ‏اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ ‏قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا ‏كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ ‏یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)‏

ترجمہ کنز العرفان:دنیا کی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی ہو کر نکلیں جن سے انسان اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی خوبصورتی پکڑلی اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ (اب) وہ اس فصل پر قادر ہیں تو رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آیا تو ہم نے اسے ایسی کٹی ہوئی کھیتی کردیا گویا وہ کل وہاں پر موجود ہی نہ تھی۔ ہم غور کرنے والوں کیلئے اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔(پ 11 ، یونس ،آیت نمبر :24)

(3) آرائش والی زندگی: اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ ‏بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ ‏الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ ‏فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا ‏الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰)‏ ترجمہ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل ‏کود اورزینت اور آپس میں فخرو غرور کرنا اور مالوں اور اولاد ‏میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے ۔(دنیا کی زندگی ایسے ‏ہے)جیسے وہ بارش جس کا اُگایاہواسبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ ‏سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا ‏‏(بے کار)ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ ‏کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا(بھی ہے) اور دنیاکی ‏زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔ (پ27، الحدید: 20) ‏

مذکورہ تمام آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا کی زندگی کھیل کود٬آسائشوں٬دھوکے بازیوں اور عارضی و فانی ہے۔ اس کی محبت آخرت کی بربادی کا سبب ہے۔ اس کے فریب میں آنے والا گناہوں کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

اللّٰہ پاک اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے ہمیں دنیا کے فریب سے بچنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


دنیا کا لغوی معنی ہے قریب اور دنیا کو دنیا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ آخرت کی نسبت انسان سے زیادہ قریب ہے یا اس وجہ سے کہ یہ اپنی خواہشات و لذات کے سبب دل سے زیادہ قریب ہے ۔( اصلاح اعمال جلد 1، ص 128تا129)

دنیا ایک عارضی ، فانی اور آزمائش کا مقام ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں آخرت میں ہونے والے امتحان کی تیاری کے لیے پیدا فرمایا ہے ۔ دنیا کی خواہشات اور محنت و مشقت سے عزت و دولت کمانا جلد ختم ہونے والی چیزیں ہیں دنیا کی آخرت کے معاملے میں کوئی اہمیت نہیں کیونکہ دنیا کی زندگی مختصر اور آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لیے ہیں اس لئے اصل زندگی آخرت کی ہے قرآن مجید فرقان حمید میں بھی آخرت کی زندگی کو دنیاوی زندگی سے بہتر قرار دیا گیا ہے تاکہ مسلمان دنیا کی طرف راغب نہ ہو ۔

آئیے اب ہم دنیا کی حقیقت کے متعلق چند آیات مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) سوکھی ہوئی گھاس : وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ ‏السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ ‏الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵) ترجمۂ ‏کنزالایمان:اور ان کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو ‏جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتاراتو اس کے سبب زمین کا ‏سبزہ گھنا ہوکر نکلا کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں اور ‏اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے۔ ‏ ‏(پ15، الکہف: 45) ‏

(2) آسمان سے اترا ہوا پانی : اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ ‏فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى ‏اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ ‏قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا ‏كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ ‏یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)‏ ترجمۂ کنزالایمان: دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے ‏جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے ‏اگنے والی چیزیں گھنی (زیادہ )ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور ‏چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا ‏اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس ‏میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے ‏کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی آیتیں مُفَصَّل ‏بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔ ‏(پ11، یونس:24)‏

(3) دھوکے کا سامان ہے : اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ ‏بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ ‏الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ ‏فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا ‏الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰)‏ ترجمہ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل ‏کود اورزینت اور آپس میں فخرو غرور کرنا اور مالوں اور اولاد ‏میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے ۔(دنیا کی زندگی ایسے ‏ہے)جیسے وہ بارش جس کا اُگایاہواسبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ ‏سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا ‏‏(بے کار)ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ ‏کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا(بھی ہے) اور دنیاکی ‏زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔ (پ27، الحدید: 20) ‏

مذکورہ بالا تمام آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے ایسے ہی دنیا سے نفرت تمام نیکیوں کی اصل ہے ۔

ہمارے دل سے نکل جائے الفت دنیا

دے دل میں عشق محمد مرے رچا یا رب

( وسائل بخشش ، ص82)

دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم


اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت آفندی ٹاؤن، حیدرآباد میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ”اشاروں کی زبان کورس“ مکمل کرنےوالے اسلامی بھائیوں کے لئے تقسیمِ اسناد کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

اس موقع پر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد فاروق جیلانی عطاری نے اسلامی بھائیوں کو اسپیشل پرسنز (گونگے، بہرے اور نابینا اسلامی بھائیوں) میں دینی کام کرنے، اپنا مطالعہ بڑھانے اور پیر و مرشد کی محبت اپنے دل بسانے کے حوالے سے مدنی پھول بیان کئے۔

بعدازاں رکنِ شوریٰ نے ”اشاروں کی زبان کورس“ مکمل کرنےوالے اسلامی بھائیوں میں اسناد تقسیم کیں اور اُن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں تحائف بھی دیئے۔(رپورٹ: محمد عمیر ہاشمی عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ حیدرآباد ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کےتحت فیصل آباد، پنجاب میں ہونے والے  دینی و فلاحی کاموں کا فالو اپ لینےکے لئے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اس مدنی مشورے میں ڈویژن نگران، ڈسٹرکٹ نگران، تحصیل نگران، سب تحصیل نگران، فیصل آباد سٹی نگران، ٹاؤن نگران، سب ٹاؤن نگران، فیصل آباد کے سٹی یوسی نگران،جامعۃ المدینہ و مدرسۃالمدینہ کے ناظمین اور شعبہ آئمہ مساجد کے امام صاحبان نے شرکت کی۔

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے ”1500 واں جشنِ ولادت“ منانے کی تیاریوں کے حوالے سے کلام کیا اور دھوم دھام سے جشنِ ولادت منانے کی ترغیب دلائی۔

اس کے علاوہ نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں سے 12 دینی کاموں کے متعلق بھی مشاورت کی اور انہیں دینی کاموں میں مزید بہتری لانے کے لئے مدنی پھولوں سے نوازا۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دنیا کا مطلب ہے قریب کی چیز، دنیا کا متضاد آخرت ہے اور آخرت کا مطلب ہے بعد میں آنے والی چیز ، آخرت کا ‏مقصد دنیاوی ‏اعمال کی جزا اور سزا ہے دنیا کی زندگی عارضی ہے جبکہ آخرت کی زندگی دائمی ہے لیکن دنیا کی حرص ‏رکھنے والوں نے دنیا کی عارضی ‏زندگی کو دائمی سمجھ لیا ہے وہ آخرت کی ابدی زندگی کو بھول گئے ہیں عارضی چیز کے ‏حصول کے لیے دائمی چیز کے حصول کو ترک کر ‏دینا کتنی بڑی نادانی ہے ۔

اللہ پاک نے قراٰنِ مجید کی متعدد آیات میں دنیا کی حقیقت کو مثالوں سے واضح فرمایا ہے۔‏ 3 آیات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:‏

‏(1) دنیا کی مثال سوکھی گھاس کی طرح ہے: ﴿ وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ ‏نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵)﴾ترجَمۂ کنزالایمان:اور ان کے سامنے ‏زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا کہ سوکھی گھاس ہوگیا ‏جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے۔ (پ15، الکہف: 45) ‏

‏ اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے فرما رہا ہے کہ اے حبیب (علیہ السّلام ) ‏لوگوں کے سامنے دنیا کی ‏حقیقت کو بیان کر دیں اور اس کے سمجھانے کے لیے اس مثال کو سہارا بنائیں کہ جس طرح ‏سبزہ خوشنما ہونے کے بعد فنا ہو جاتا ہے ‏اور اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا یہی حالت دنیا کی بے اعتبار حیات کی ہے ‏اس پر مغرور اور شیدا ہونا عقلمند کا کام نہیں اور یہ سب فنا ‏اور بقا اللہ کی قدرت سے ہے‏۔ ‏(دیکھیے: روح البیان، 5/249، 250، الکہف، تحت الآیۃ:45)‏

‏(2)دنیا کی تر و تازگی کا ہلاک ہونے والے سبزے کی مثل ہونا: ﴿ اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ ‏بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَفِی ‏الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰)﴾ ترجَمۂ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا ‏کی زندگی توصرف کھیل کود اور زینت اور آپس میں فخرو غرور کرنا اور مالوں اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے۔(دنیا کی ‏زندگی ایسے ہے)جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا ‏‏(بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (بھی ہے) اور دنیاکی زندگی تو ‏صرف دھوکے کاسامان ہے۔ (پ27، الحدید: 20) ‏

اللہ پاک نے دُنْیَوی زندگی کی ایک مثال ارشاد فرمائی کہ دنیا کی زندگی ایسی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایاہواسبزہ کسانوں کواچھا ‏لگتا ہے ، پھر وہ سبزہ کسی زمینی یا آسمانی آفت کی وجہ سے سوکھ جاتا ہے تو تم اس کی سبزی(سبز رنگ) جاتے رہنے کے بعد اسے زرد ‏دیکھتے ہو ،پھر وہ پامال کیا ہوا بے کارہوجاتا ہے۔یہی حال دنیا کی اس زندگی کا ہے جس پر دنیا کا طلبگار بہت خوش ہوتا ہے اور اس کے ‏ساتھ بہت سی امیدیں رکھتا ہے لیکن وہ انتہائی جلد گزر جاتی ہے ۔ (صراط الجنان، 9/741) ‏

‏(3)دنیا کی زندگی امیدوں کے سبز باغ کی مثل‏: ﴿ اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ ‏الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ ‏اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)﴾ترجَمۂ کنزالایمان: ‏دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی (زیادہ) ‏ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک ‏سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی ‏آیتیں مُفَصَّل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔(پ11، یونس:24) ‏

اس آیت میں بہترین مثال دے کر دل میں یہ بات بٹھائی گئی کہ دنیاوی زندگی امیدوں کا سبز باغ ہے اس میں عمر کھو کر ‏جب ‏آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کو مراد حاصل ہونے کا اطمینان ہو اور وہ کامیابی کی نشے میں مست ہو جاتا ‏ہے تو اچانک اس کو ‏موت آ پہنچتی ہے اور وہ تمام لذتوں اور نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔

‏ آخرت کو فراموش کر کے دنیا کے دھوکے میں آنے والوں کے لیے شدید عذاب کی وعید سنائی گئی ہے جبکہ دنیا کو ‏فراموش کر ‏کے آخرت کی فکر کرنے والوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی بخشش کی خوشخبری دی گئی ہے۔

‏ اللہ پاک ہمیں دنیا ‏سے بے رغبتی عطا فرمائے۔ اٰمِیْن


22 جولائی 2025ء کو شعبہ 8 دینی کام دعوتِ اسلامی کے تحت کوئٹہ ، بلوچستان میں قلات ڈسٹرکٹ کا ماہانہ مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں نگرانِ صوبہ  بلوچستان اور قلات ڈسٹرکٹ کی جملہ ذمہ دار اسلامی بہنوں کی شرکت ہوئی۔

صوبائی نگران اسلامی بہن نےاس مدنی مشورے میں”تلاوتِ قراٰنِ کریم “ کے موضوع بیان کیا اور اسلامی بہنوں سے شعبے کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیا جس میں انہوں نے آئندہ کے اہداف کا تعین کرنے، اسلامی بہنوں سے ملاقات کرنے اور انہیں دینی کاموں کی ترغیب دلانے کا ذہن دیا۔

صوبائی نگران اسلامی بہن نے 8 دینی کاموں کو مضبوط کرنے اور فیضانِ میلاد مسجد بنانے میں اپنا حصہ ملانے کے حوالے سے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

آخر میں صوبائی نگران اسلامی بہن نے ذمہ دار اسلامی بہنوں کی حوصلہ افائی کےلئے اُن کے درمیان تحائف تقسیم کئے ۔ 

شعبہ 8 دینی کام دعوتِ اسلامی کے تحت 20 جولائی 2025ء کو صوبہ بلوچستان کا ماہانہ مدنی مشورہ کوئٹہ شہر  میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان مشاورت کی ذمہ داران اور ڈویژن نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مدنی مشورے کی ابتدا میں صوبائی نگران اسلامی بہن نے ”ضد اور ہٹ دھرمی“ کے موضوع بیان کیا اور اسلامی بہنوں سے شعبے کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیا جس میں انہوں نے آئندہ کے اہداف کا تعین کرنے، اسلامی بہنوں سے ملاقات کرنے اور انہیں دینی کاموں کی ترغیب دلانے کا ذہن دیا۔

صوبائی نگران اسلامی بہن نے 8 دینی کاموں کو مضبوط کرنے اور فیضانِ میلاد مسجد بنانے میں اپنا حصہ ملانے کے حوالے سے اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔

آخر میں صوبائی نگران اسلامی بہن نے ذمہ دار اسلامی بہنوں کی حوصلہ افائی کےلئے اُن کے درمیان تحائف تقسیم کئے ۔


24 جولائی 2025ء:

بیرونِ ممالک میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں 24 جولائی 2025ء کو ویسٹرن ایشیا سب کانٹیننٹ اور عرب ملک جارڈن کی نگران اسلامی بہنوں کی آن لائن میٹنگ ہوئی ۔

میٹنگ کے دوران دعوتِ اسلامی کی نگرانِ عالمی مجلس مشاورت اسلامی بہن نے نئے شہروں میں دینی کاموں کو بڑھانے، عربی زبان سیکھنے اور دینی کاموں میں درپیش مسائل کے حوالے سے مختلف نکات گفتگو کی۔

اس کے علاوہ نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے دینی کاموں کی نمایاں کارکردگی پر اسلامی بہنوں کی حوصلہ افزائی کی تاکہ دعوتِ اسلامی کے دینی سرگرمیاں مزید منظم طریقے سے جاری رہ سکیں۔


21 جولائی 2025ء:

دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی سطح پر جاری اسلامی بہنوں کے دینی کاموں کے حوالے سے 21 جولائی 2025ء کو ایک مدنی مشورہ ہوا جس میں عالمی مجلس مشاورت کی اراکین اور سب کانٹیننٹ نگران اسلامی بہنوں نے آن لائن شرکت کی۔

مدنی مشورے کے دوران 4 اگست 2025ءکو ہونے والے مرکزی مجلس شوریٰ اور عالمی مجلس مشاورت کے مدنی مشورے کے لئے تیاریوں پر مشاورت کی گئی۔ اس کے علاوہ 1500 سالہ جشنِ ولادت کے حوالے سے بھی چند اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں نگران و شعبہ جات نے اس خصوصی ایونٹ میں اپنے کردار ادا کرنے کی اچھی اچھی نیتیں کیں۔

نگرانِ عالمی مجلس مشاورت اسلامی بہن نے سب کانٹیننٹ نگران اسلامی بہنوں اور شعبہ جات کے اراکین کو 1500 سالہ جشنِ ولادت کی منصوبہ بندی تیار کرنے کا ہدف دیا تاکہ یہ عظیم موقع خوش اسلوبی سے منایا جا سکے۔


22 جولائی 2025ء:

دعوتِ اسلامی کے تحت اسلامی بہنوں کی عالمی مجلسِ مشاورت کا دینی کام ملک و بیرونِ ملک میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں 22 جولائی 2025ء کو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے حوالے سے اہم میٹنگ منعقد کی گئی جس میں نگران عالمی مجلسِ مشاورت اور بعض اراکین عالمی مجلسِ مشاورت نے آن لائن شرکت کی۔

اس میٹنگ میں پاکستان مجلسِ مشاورت آفس اور شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز میں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کرنے والی اسلامی بہنوں کی JDS اور صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا نیز باقاعدہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی مجلس بنانے اور ان سے دینی کاموں کے فوائد و امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بعدازاں بعض اراکین اسلامی بہنوں نے اپنی رائے پیش کیں جنہیں محفوظ کر لیا گیا تاکہ آئندہ اس کام میں بہتری لانے کے لئے ان پر عمل کیا جا سکے۔