17 صفر المظفر امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی والدۂ ماجدہ رحمۃُ اللہِ علیہا کی یومِ وفات ہے۔ آپ رحمۃُ اللہِ علیہا کے ایصالِ ثواب کے لئے دعوتِ اسلامی کے شعبہ محبتیں بڑھاؤ کے تحت آج مؤرخہ 12 اگست 2025ء بروز منگل میوہ شاہ قبرستان کراچی مزارِ ام عطار رحمۃُ اللہِ علیہا کے پاس ”ایصالِ ثواب اجتماع“ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس اجتماع میں خصوصی بیان رکن شوریٰ حاجی فضیل عطاری فرمائیں گے۔

عاشقان رسول سے شرکت کی درخواست ہے۔

واضح رہے کہ امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی تربیت میں سب سے بڑا اور اہم کردار ان کی والدہ کا ہے۔ آپ کی والدہ نے گھر کے نظام کو احسن انداز میں چلاتے ہوئے اپنے بچوں کی اسلامی خطوط پر تربیت کی۔

آپ دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی والدہ ماجدہ کا نام ”امینہ“ تھا۔ آپ نیک سیرت اور پرہیز گار خاتون تھیں، فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ فاتحہ وایصالِ ثواب کی بھی پابندی کیا کرتی تھیں، بچوں کو باقاعدگی سے پانچوں نمازیں پڑھوایا کرتی تھیں، خود امیر اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میری بچپن میں بھی کبھی نماز فجر چھوٹی ہو۔


14 اگست 1947ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ یہ وہ دن ہے جب لاکھوں قربانیوں، جدوجہد، عزم اور ایمان کے نتیجے میں ایک آزاد مملکت وجود میں آئی۔ یہ دن ہمیں تحریکِ آزادی کے تمام علماء، رہنماؤں اور مسلمانوں کی انتھک محنت و قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہ تھا بلکہ یہ ایک نظریئے کی جیت تھی۔ ایک ایسا نظریہ جو برصغیر کے مسلمانوں کے لئے اپنی تہذیب، ثقافت، مذہب اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا حق مانگتا تھا۔ لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر، جان و مال کی قربانی دے کر اس پاک دھرتی تک پہنچے۔

یومِ آزادی نہ صرف خوشی کا دن ہے بلکہ یہ ہمارے لیے تجدیدِ عہد کا موقع بھی ہے کہ ہم اس وطن کو ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے پاکستان میں ناانصافی،بے حیائی، بُرے کاموں اور نفرت سے پاک کر کے امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانا ہے۔

13 اگست 2025ء بروز بدھ رات 9:30 پر انتہائی منظم اور ملّی جوش و خروش کے ساتھ 78 واں یومِ آزادی منانے کے لئے عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعو تِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ”مدنی مذاکرہ“ منعقد ہونے جارہا ہے۔

خوشی کے اس موقع پر محبِّ وطن شخصیت شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت ِاسلامی حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ مہذب انداز میں یومِ آزادی منانے، اللہ پاک کی اس نعمت کا شکر ادا کرنے، امن و محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے، گناہوں سے نفرت اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے اور ایک اچھا سچا پاکستانی مسلمان بننے کے حوالے سے عاشقانِ رسول کی تربیت فرمائیں گے۔اس موقع پر عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات بھی دیئے جائیں گے۔ یہ مدنی مذاکرہ مدنی چینل پر بھی براہِ راست نشر کیاجائے گا۔

عاشقانِ رسول منظم انداز میں یوم آزادی منانے کے لئے اس مدنی مذاکرے میں ضرور بالضرور شرکت کریں۔


سندھ کے شہر پنوعاقل میں موجود گورنمنٹ ہائی سکینڈری اسکول حسین کلوڑ میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹیچرز و پرنسپل  سمیت دیگر اسلامی بھائیوں کی بھی شرکت ہوئی۔

اس سیشن میں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے حاضرین کے درمیان ”اخلاقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے موضوع پر بیان کیا اور انہیں بھی اخلاقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنانے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔

بعدازاں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے ٹیچرز و پرنسپل کے ہمراہ اسکول کے احاطے میں شجرکاری کی اور پودے لگاکر ملک و قوم کی سلامتی کے لئے دعا کروائی جبکہ وہاں موجود تمام اسلامی بھائیوں کو امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے کُتُب و رسائل تحفے میں پیش کئے گئے۔(رپورٹ: جنید عطاری ریجن ذمہ دار شعبہ تعلیم حیدرآباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 

سکھر میں قائم اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر سہیل احمد سرہندی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران نگران ڈیپارٹمنٹ شہزاد عطاری نے دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات کا تعارف پیش کیا گیا بالخصوص FGRF (فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن) کے تحت جاری فلاحی کاموں جیسے بلڈ ڈونیشن، ڈرائیو اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں شجرکاری مہم کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا ۔

اس کے علاوہ گرین پاکستان پروجیکٹ اور اس کے تحت بننے والے ”فیضان فاریسٹ“ کے متعلق آگاہی دی نیز دینی خدمات کا بھی تعارف کروایا گیا جن میں شارٹ کورسز، نوجوانوں میں نشہ آور عادات کے خاتمے کے لئے اسپیشل سیشنز اور ماہِ ربیع الاول میں سیرتِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے موضوع پر میلاد کانفرنس شامل تھیں۔

بعد ازاں رجسٹرار، ڈپٹی رجسٹرار اور دیگر یونیورسٹی فیکلٹی ممبران نے مین لائبریری کے سامنے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والی شجرکاری میں حصہ لیا اور پودے لگا کر ملک و قوم کی سلامتی کے لئے دعا کی۔ اس موقع پر نگران ڈیپارٹمنٹ نے رجسٹرار اور دیگر حکام کو دعوتِ اسلامی کی کتاب ”آخری نبی کی پیاری سیرت“ تحفے میں پیش کی۔(رپورٹ: جنید عطاری ریجن ذمہ دار شعبہ تعلیم حیدرآباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

اسپیشل پرسنز (گونگے، بہرے اور نابینا اسلامی بھائیوں)میں نیکی کی دعوت عام کرنے اور انہیں دینِ اسلام کی باتیں سکھانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں2 تا 7 اگست 2025ء کو ”سائن لینگویج کورس“ کا انعقاد کیا گیا۔

اس دوران کورس میں شریک اسلامی بھائیوں کو سائن لینگویج کے حوالے سے خصوصی ہدایت دی گئی تاکہ وہ بہتر انداز میں اسپیشل پرسنز کے درمیان نیکی کی دعوت کو عام کر سکیں اور معاشرے میں مثبت اثرات پیدا کر سکیں۔ (رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دینی و دنیاوی اعتبار سے بچوں کی  تربیت کرنے اور انہیں معاشرے کا ایک بہترین فرد بننے میں مدد کرنے والے دعوتِ اسلامی کے تعلیمی ادارے فیضان اسلامک اسکول سسٹم کے تحت 7 اگست 2025ء کو Parent Management Meetingکا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد والدین کے ساتھ تعلیمی و انتظامی امور پر تبادلہ ٔخیال کرنا تھا۔

اس موقع پر فیضان اسلامک اسکول سسٹم کے CEO مولانا محمد زبیر عطاری مدنی نے Parents سے ملاقات کی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے بارے میں Parents کی جانب سے تجاویز سنیں۔

CEO مولانا محمد زبیر عطاری مدنی نے اس دوران Parents سے گفتگو کرتے ہوئے تعلیمی ادارے کی بہتری کے حوالے سے چند اہم باتیں کیں اور مستقبل میں مزید ترقیاتی اقدامات کا ظاہر کیا۔ (رپورٹ: امیر حمزہ عطاری فیضان اسلامک اسکول سسٹم، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم و تربیت کے مختلف انداز اختیار فرمائے، جن میں ایک مؤثر طریقہ "اشارے سے تربیت دینا" بھی ہے۔ آپ ﷺ اکثر اوقات بغیر الفاظ کے، اپنے عمل یا ہاتھ کے اشارے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھایا کرتے تھے۔ ذیل میں چند احادیث اور ان کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے جن میں نبی کریم ﷺ نے اشارے سے تعلیم دی ہے۔

(1) قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا. وَيُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ فَيَمُدُّ بِهِمَا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گیے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے (اس نزدیکی کو) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق ، باب قول النبی بعثت أنا والساعۃ ، ج 08 ، صفحہ 105، حدیث نمبر 6503)

اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان غفلت چھوڑ کر نیک اعمال کی طرف متوجہ ہو، توبہ کرے، اور زندگی کو آخرت کی تیاری کے مطابق گزارے۔

(2) قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا، عِبَادَ اللهِ! إِخْوَانًا. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا، (پھر فرمایا): ”کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے ۔“ (صحیح مسلم ، كتاب البر والصلۃ والآداب،باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره ودمہ وعرضہ ومالہ، ج04 ، صفحہ 1986، حدیث نمبر 2563)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے لیے خیر خواہی، عزت، اور امن کا ذریعہ بنے۔ دوسروں کی عزت، جان اور مال کا احترام کرنا اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دلوں سے حسد، بغض، اور نفرت کو نکال کر، محبت، خلوص، اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ یہی وہ اخلاقی بنیادیں ہیں جن پر ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

ان احادیث مبارکہ کے علاوہ، نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان مبارک اور اشاروں سے امت کو ہدایت کے روشن راستے دکھائے۔ آپ ﷺ کے الفاظ اور عمل ہماری زندگیوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پیغاموں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق دے، تاکہ ہم بھی اپنی زندگیوں کو انوارِ نبوت سے منور کر سکیں۔ آمین۔


اوراقِ مقدسہ کی حفاظت کے لئے قائم کئے گئے دعوتِ اسلامی کے شعبے تحفظِ اوراقِ مقدسہ کے تحت گزشتہ روز مدنی مرکز فیضانِ مدینہ لاہور میں تمام ڈویژن ذمہ دار اسلامی بھائیوں کا مدنی مشورہ ہوا۔

اس مدنی مشورے کے دوران نگرانِ شعبہ مولانا افضل عطاری مدنی اور صوبائی ذمہ دار محمد فہیم عطاری نے شعبے کے سابقہ اہداف کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے اہداف طے کئے او رنمایاں کارکردگی کے حامل اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں تحائف دیئے۔

نگرانِ شعبہ نے دلجوئی کے ساتھ اپنے شعبے بالخصوص دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کام کرتے رہنے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: حافظ نسیم عطاری سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ آف پاکستان شعبہ تحفظِ اوراقِ مقدسہ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اللہ عزوجل اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے وقتا فوقتا اپنے مقدس انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا رہا اور سب سے آخر میں اس نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حکمت و دانائی عقل و فراست قول و فعل علم و عمل سے مختلف مقامات پر اپنی امت کی تعلیم و تربیت فرمائی جس پر عمل پیرا ہو کر انسان اپنی زندگی کو دین اسلام کے مطابق ڈال کر دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کر سکتا ہے ان میں سے ایک پہلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارے سے اصلاح و تربیت فرمانا بھی ہے ان میں سے چند فرامین آپ بھی پڑھیے اور علم و عمل کی نیت کیجیے

(1) ایک عمارت کی مثل: عَنْ اَبِیۡ مُوسٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ ترجمہ: حضرت سیدنا ابو موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حُضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیےعمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت دیتاہے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا ( بخاری شریف کتاب الادب ،باب تعاون المومنین بعضھم بعضا 106/4الحدیث6026)

اُس حدیث پاک میں مؤمن کو دوسرے مؤمن کی مدد ونصرت پراُبھاراگیاہےاور ایک دوسرے کی مدد کرنا ایک پختہ اور ضروری امر ہے جس سے مسلمان تقویت پا سکتے ہیں اور دنیا و آخرت کا نظام احسن انداز میں چل سکتا ہے

(2) مسلمان کے حقوق: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُوْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ التَّقْوَى هَا هُنَا بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَاَخَاهُ الْمُسْلِمَ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے ۔ ( ترمذی کتاب البرو الصلہ باب ما جاء فی شفقت 3 /372حدیث 1032 )

اس حدیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے چند حقوق بیان فرمائے مثلاً مسلمان کی عزت و حرمت کا خیال رکھنا اس سے خیانت نہ کرناوغیرہ

(3) یتیم کی کفالت: وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَنَا وَكَافلُ اليَتِيْمِ في الجَنَّةِ هٰكَذا وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حُسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیااور اُن کے درمیان کچھ کشادگی فرمائی ۔ (بخاری شریف، کتاب الطلاق باب اللعان، 3 /497 حدیث : 8304 )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یتیم کی کفالت کرنا ایک عظیم کام ہے اور اِس کی فضیلت اَحادیث مبارکہ میں بیان فرمائی گئی ہے، یتیم کی کفالت کرنے والے کو قیامت کے دن حضورسَیِدُ الانبیاء، احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک رَفاقت نصیب ہو گی۔

ان کے علاوہ بھی بہت سی احادیث کریمہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اشارے سے اپنی امت کی اصلاح فرمائی جس کا مقصد انسان کی دنیاوی و اخروی کا کامیابی کی طرف رہنمائی کرنا اور اس کو راہ ہدایت پر گامزن کرنا تھا اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اللہ پاک نے اس کائنات رنگا رنگ کو تخلیق بخشی پھر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہادی برحق اور معلم امت بنا کر مبعوث فرمایا تاکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی اصلاح و تربیت فرما کر ان کو راہ ہدایت پر گامزن فرمائیں اس میں سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک انداز مبارک یہ تھا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اشارے کے ذریعے اصلاح فرماتے تھے ، چنانچہ آ پ بھی اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ پڑھئے اور اپنے قلوب و اذھان کو معطر کیجیے:

(1) ایک مومن دوسرے مؤمن کیلئے عمارت : عَنْ اَبِیۡ مُوسٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ

حضرت سیدنا ابو موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حُضور نبی کریم رؤف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیےعمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت دیتاہے ۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےاپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا۔ (فیضان ریاض الصالحین ،حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان ،جلد3 ، صفحہ نمبر 229 ،حدیث نمبر:222 مکتبۃ المدینہ )

(2) مسلمان مسلمان کا بھائی ہیں : عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُوْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ التَّقْوَى هَا هُنَا بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَاَخَاهُ الْمُسْلِمَ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے ۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان ،جلد3 ، صفحہ 272 ،حدیث نمبر:234 مطبوعہ مکتبۃالمدینہ )

(3) ایک دوسرے سے حسد نہ کرو : وعن ابوہریرۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللَّهِ اِخْوَانًا اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا ، وَيُشِيْرُا ِلیٰ صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَ اَخَاهُ ، الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ ’اَلنَّجَشُ‘‘ اَنْ يَزِيْدَ فِيْ ثَمَنِ سَلْعَةٍ يُنَادٰي عَلَيْهَا فِيْ السُّوْقِ وَنَحْوِهٖ وَلَا رَغْبَةَ لَهُ فِيْ شَرَائِهَا بَلْ يَقْصِدُاَنْ يَّغُرَّ غَيْرَهُ وَهٰذَا حَرَامٌ وَالتَّدَابُرُاَنْ يُعْرِضَ عَنِ الْاِنْسَانِ وَيَهْجُرَهُ وَيَجْعَلَهُ كَالشَّيْءِ الَّذِيْ وَرَاءَ الظَّهْرِ وَالدُّبُرِ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، تناجش نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، وہ اس پر ظلم نہ کرے ، اُسے حقیر نہ جانے ، اور نہ ہی اُسے بے یارو مددگارچھوڑ ے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا : ’’تقویٰ یہاں ہے۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ، ہر مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی عزت ، اس کا مال اور اس کا خون حرام ہے ۔ ‘‘

مشکل الفاظ کے معانی : ’’النَّجَشْ‘‘ کسی سامان کی فروخت کے لئے بازار میں بولی لگائی جا رہی ہو تو کوئی شخص دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کردےحالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ ’’تَدَابُر‘‘یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے بے رخی کرے اور اسے اس طرح چھوڑدے جیسے کوئی چیز پیٹھ کے پیچھے ہوتی ہے۔(فیضان ریاض الصالحین حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان جلد:3 , صفحہ نمبر 280، حدیث نمبر:235، مطبوعہ مکتبۃالمدینہ )

اللہ پاک ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کے آخری نبی ہونے کے ساتھ ساتھ معلم کائنات بھی ‏ہیں۔ حضور علیہ السّلام نے اپنے ‏امتیوں کی مختلف مواقع پرمختلف انداز میں اصلاح و تربیت کی ‏ہے۔ نبیِ کریم علیہ السّلام نے اپنے امتیوں کی تربیت کبھی اپنے قول سے ‏کبھی فعل سے اور کبھی ‏اشاروں سے تربیت فرمائی ہے۔ ذیل میں ایسی چند احادیث نقل کی جا رہی ہیں جن میں اشاروں سے تربیت ‏فرمائی ہے:‏

‏(1)سواری تیز چلانے میں کوئی خوبی نہیں ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ آپ عرفہ کے دن نبیِ کریم صلَّی ‏اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ واپس ہوئے نبیِ ‏کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے پیچھے اونٹوں کو سخت ڈانٹ ڈپٹ اور مار(کی آواز ) سنی ‏۔فَاَشَارَ بِسَوْطِهٖ اِلَيْهِمْ وَقَالَ:يَااَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَاِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالاِيضَاعِ یعنی تو انہیں اپنے کوڑے سے اشارہ فرمایا ‏اور ‏حکم دیا کہ اے لوگو اطمینان اختیار کرو تیز دوڑنے میں خوبی نہیں ‏۔ (مشکاۃ المصابیح، 1/486، حدیث:2605 )‏

اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ ہمیں سواری تیز چلانے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ اس میں جہاں اپنی جان کی حفاظت ہوتی ‏ہے وہیں ‏دوسرے لوگوں کی بھی جان محفوظ رہتی ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس تیز رفتاری کی وجہ سے خود کو اور ‏دوسروں کو موت کی آغوش میں ‏لے جاتے ہیں ۔

‏(2) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے باریک کپڑوں والی صحابیہ سے منہ موڑ لیا ‏:حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا سے روایت ہے کہ جناب ‏اسماء بنتِ ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہما رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ‏حاضر ہوئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں، ‏حضور علیہ السّلام نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا:يَا اَسْمَاءُ، اِنَّ الْمَرْاَةَ اِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ اَنْ يُرَى مِنْهَا اِلَّا هَذَا وَهَذَا ‏وَاَشَارَ اِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ یعنی اے اسماء عورت جب بالغ ہو جائے ‏تو جائز نہیں کہ اس کا کوئی حصہ دیکھا جائے سوائے اِس کے اور اُس ‏کے۔نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کی ‏طرف ‏ اشارہ فرمایا۔ (ابوداؤد،4/75، حدیث:4104 ) ‏

‏ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اُس زمانہ میں بھی باریک کپڑے ایجاد ہوچکے تھے، اب تو بہت ہی بُرا حال ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ‏‏6/121) اس ‏حدیث سے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ماننے والیوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اور ہرگز ہرگز ایسے کپڑے استعمال ‏‏نہیں کرنے چاہیے جن سے جسم کا کوئی بھی عضو نظر آئے۔دور ِ حاضر میں فتنے کی وجہ سے چہرے اور ہاتھوں کو بھی ‏چھپانا چاہیے ‏۔

‏(3) شیطان کی طرح بال بکھرے ہوئے نہ رکھو ‏: حضرت عطاء ابن یسار سےروایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ ‏وسلَّم مسجد میں تھے تو ایک شخص ‏سر اور داڑھی بکھیرے آیا ۔فَاشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ كَاَنَّهُ يَاْمُرُهُ بِاِصْلَاحِ ‏شَعْرِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ اَنْ يَاْتِيَ اَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّاْسِ كَاَنَّهُ شَيْطَان تو ‏آپ علیہ السّلام نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے ‏بال اور داڑھی کی درستی کا حکم دے رہے تھے، چنانچہ (وہ گیا اور ‏‏) اس نے (بال اور داڑھی کو درست)کرلیا ۔ پھر واپس آیاتو رسولِ معظّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ‏فرمایا : کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں ‏سے کوئی شیطان کی طرح سر بکھیرے ہوئے آئے ‏۔ (مشکاۃ المصابیح، 2/137، حدیث:4486 ) ‏

ہمیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ایسی حالت بنا كر رکھنی چاہیے جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی متأثر ‏ہوں نہ کہ ایسی کہ جس سے دوسروں کو ہم سے خوف آئے ۔

‏(4) دوسروں کو حقیر مت سمجھو ‏: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سےروایت ہے، رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مسلمان ‏‏مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے ذلیل وحقیر جانے۔اَلتَّقْوَى هَاهُنَاوَيُشِيرُ اِلیٰ صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ ‏الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ تقویٰ یہاں ہے اور اپنے سینہ کی طرف تین ‏بار اشارہ فرمایا، مزید فرمایا کہ انسان کے لیے یہ شر کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے، ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان ‏‏کاخون ،مال اور اس کی آبرو حرام ہے ‏۔ (دیکھیے:مسلم، ص1064، حدیث: 6541 ) ‏

یعنی مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو نہ اسے حقارت کے الفاظ سے پکارو یا برے لقب سے یاد کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ، آج کل ‏بعض ‏لوگ نسب ، پیشہ اور غربت و افلاس کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھتے ہیں حتی کہ صوبجاتی تعصب ہم میں بہت ہو گیا ‏ہے کہ وہ پنجابی ہے ، وہ بنگالی ہے ، وہ سندھی، اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیے ہیں، جس طرح شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس ‏چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ‏ہو جاتا ہے، اسی طرح جب حضور کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے حبشی ہو یا رومی۔اسلام ‏میں عزت تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے اور تقویٰ کا اصلی ٹھکانہ دل ہے۔تمہیں کیا خبر کہ جس مسکین مسلمان کو ‏تم حقیر سمجھتے ہو اس کا ‏دل تقویٰ کی شمع سے روشن ہو اور وہ الله کا پیارا ہو تم سے اچھا ہو۔‏(دیکھیے:مراٰةالمناجیح، 6/552 ) ‏

اللہ پاک ہم سب کو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن ‏


الحمدللہ قرآن کریم اللہ پاک کی لاریب کتاب ہے جس میں اللہ پاک نے زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے ہمیں دنیا میں پیدا فرمایا اور دنیا میں زندگی گزارنے کے سامان مہیا فرمائے وہیں دنیا کی حقیقت بھی بیان فرمائی ہے کہ کہیں  ہم دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر آخرت کو نہ بھول جائیں۔

آئیے دنیا کی حقیقت کے بارے خدا رحمن کے فرمان ملاحظہ فرمائیں۔

دنیا کی زندگی کی مثال: وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ ‏السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ ‏الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵) ترجمہ کنزالعرفان : اور ان کے سامنے بیان کرو کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پانی ہو جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا پھروہ سوکھی گھاس بن گیا جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔(سورہ کہف پارہ 15 آیت 45)

اس آیت میں فرمایا کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے دنیا کی حقیقت بیان کرو اور اس کے سمجھانے کیلئے اس مثال کا سہارا لو کہ دنیوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے زمین کی ہریالی اور سر سبزی و شادابی جو ہمارے نازل کئے ہوئے پانی کے سبب زمین سے نکلی لیکن کچھ عرصے بعد وہ سبزہ فنا کے گھاٹ اتر جاتا اور سوکھی ہوئی گھاس میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے ہوائیں ادھر سے اُدھر اڑائے پھرتی ہیں اور اس کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی یہی حالت دنیا کی بے اعتبار حیات کی ہے اس پر مغرور و شیدا ہونا عقل مند کا کام نہیں اور یہ سب فنا و بقا اللہ پاک کی قدرت سے ہے(تفسیر تعلیم القرآن جلد1 صفحہ 779)

دنیوی زندگی دھوکہ کا سامان: اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ ‏بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِؕ-كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ ‏الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاؕ-وَ ‏فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌۙ-وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌؕ-وَ مَا ‏الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰)‏ ترجمہ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل ‏کود اورزینت اور آپس میں فخرو غرور کرنا اور مالوں اور اولاد ‏میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے ۔(دنیا کی زندگی ایسے ‏ہے)جیسے وہ بارش جس کا اُگایاہواسبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ ‏سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا ‏‏(بے کار)ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ ‏کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا(بھی ہے) اور دنیاکی ‏زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔ (پ27، الحدید: 20) ‏

ا س آیت میں اللہ پاک نے دنیا کی حقیقت بیان فرمائی اور اس آیت میں اللہ پاک نے دنیا کے بارے میں پانچ چیزیں اور ایک مثال بیان فرمائی ہے۔وہ پانچ چیزیں یہ ہیں:

(1، 2)دنیا کی زندگی توصرف کھیل کود ہے جو کہ بچوں کا کام ہے اور صرف اس کے حصول میں محنت و مشقت کرتے رہنا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

(3)دنیا کی زندگی زینت و آرائش کا نام ہے جو کہ عورتوں کا شیوہ ہے۔

(4، 5)دنیا کی زندگی آپس میں فخر و غرور کرنے اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنے کا نام ہے۔ اس کے بعد اللہ پاک نے دنیوی زندگی کی ایک مثال ارشاد فرمائی کہ دنیا کی زندگی ایسی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کو اچھا لگتا ہے پھر وہ سبزہ کسی زمینی یا آسمانی آفت کی وجہ سے سوکھ جاتا ہے تو تم اس جاتے رہنے کے بعد اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا بے کار ہو جاتا ہے۔ یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔(تفسیر تعلیم القرآن جلد2 صفحہ 694)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔