سائٹ ٹاؤن شیر شاہ، کراچی میں 11 اگست 2025ء کو ایک ڈیف اسلامی بھائی کی رہائش گاہ پر ”اجتماعِ میلاد برائے ایصالِ ثواب امِ عطار “ کا انعقاد کیا گیا جس میں قرب و جوار کے اسلامی بھائیوں سمیت اسپیشل پرسنز نے شرکت کی۔

ڈسٹرکٹ کیماڑی کے ذمہ دار محمد رفیق عطاری نے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کرتےہوئے کہا کہ ماں باپ کو ستانا حرام ہے لہٰذا اُن کا ادب و احترام کیا جائے اور ہمیشہ اُن کی خدمت کی جائے۔

اس دوران ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے حاضرین کو 1500 واں جشنِ ولادت منانے اور گھر گھر چراغاں کرنے کا ذہن دیاجس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔

بعدازاں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شیرشاہ کے مختلف مقامات پر جاکر اسپیشل پرسنز کو نیکی کی دعوت پیش کی اور انہیں دینی ماحول سے منسلک ہونے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ انصاری چوک، ملتان میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت 7 دن پر مشتمل رہائشی ”اشاروں کی زبان کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں 40 سے زائد اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

کورس کے اختتام پر 31 جولائی 2025ء کو اختتامی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ملتان ڈویژن کے نگران اسلامی بھائی نے شرکا کو اسپیشل پرسنز میں دینی کام کرنے کا ذہن دیا جس پر کورس کرنے والے اسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ: محمد جمال عطاری ڈویژن ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارمنٹ ملتان، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت 1 اگست 2025ء کو تحصیل کبیر والا میں عظیم الشان اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں گونگے اور  بہرے اسلامی بھائیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

تلاوت و نعت کے بعد ڈسٹرکٹ نگران خانیوال نے سنتوں بھرا بیان کیا جبکہ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے پاکستان سطح کے ذمہ دار نے اشاروں کی زبان میں بیان کی ترجمانی کی اور اسپیشل پرسنز کو قبر و آخرت کی تیاری کرنے، فرض علوم سیکھنے اور دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی۔ (رپورٹ: محمد جمال عطاری ڈویژن ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارمنٹ ملتان، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی دعاؤں سے حصہ پانے اور ثواب کمانے کی نیت سے 1 اگست 2025ء کو یومِ شجرکاری مہم کے موقع پر اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کبیر والا میں شجرکاری کرتے ہوئے پودے لگائے گئے۔

اس موقع پر نگرانِ ڈسٹرکٹ خانیوال، نگرانِ تحصیل، پاکستان سطح کے ذمہ دار، ڈیپارٹمنٹ کے ڈویژن ذمہ دار دیگر اسلامی بھائی موجود تھےجنہوں نے شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔

بعدازاں ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی نے اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کبیر والا کے اسٹاف سے ملاقات کی اور اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کا تعارف کروایا نیز ملک بھر میں ہونے والی شجرکاری کے بارے میں بریفنگ دی جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی خدمات کو سراہا اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


لوگوں کو تعلیماتِ اسلام سکھانے والے دعوتِ اسلامی کے شعبے مدنی کورسز کے تحت 8 تا 10 اگست 2025ء کو مدنی  مرکز فیضانِ مدینہ اڈیالہ روڈ، راولپنڈی میں 3 دن پر مشتمل رہائشی معلم کورس منعقد ہوا جس میں راولپنڈی ڈویژن اور اسلام آباد سٹی کے نگران و ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا حاجی محمد عقیل عطاری مدنی نے اسلامی بھائیوں کی تربیت کرتے ہوئے مختلف امور پر اُن کی رہنمائی کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭معلم کو کیسا ہونا چاہیئے؟٭اچھے معلم کی خصوصیات٭فیضانِ نماز کورس کا اجمالی شیڈول٭اختتامی نشست کا مکمل طریقہ ٭ڈیٹا انٹری٭اسکلزانہانسمنٹ۔

اس موقع پر شعبے کے دیگر ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے بھی شرکائے کورس کی ذہن سازی کی جن میں مولانا اعجاز عطاری مدنی (نگرانِ اورسیز شعبہ مدنی کورسز)، قاری محمد ندیم عطاری (رکنِ شعبہ مدنی کورسز)، مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی (رکنِ شعبہ مدنی کورسز) اور حافظ مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی شامل تھے۔(رپورٹ: مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی رکن شعبہ مدنی کورسز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ضلع قصور میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کوٹ رادھا کشن میں 7 تا 9 اگست 2025ء کو شعبہ مدنی کورسز کے تحت 3 دن کا فیضانِ نماز کورس (رہائشی )منعقد کیا گیا جس میں مدرسۃالمدینہ بوائز کے بچوں سمیت دیگر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

اس کورس میں شعبے کے معلم مولانا حبیب اللہ عطاری مدنی نے نماز کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہوئے فرائضِ نماز بیان کئے اور وضو کا پریکٹیکل کرکے بتایا۔

اس کے علاوہ مولانا حبیب اللہ عطاری مدنی نے شرکا کو علمِ دین کے فضائل کے متعلق احادیث بیان کیں اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے اُن کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔

آخر میں معلم نے مدرسۃالمدینہ بوائز کے بچوں کو جامعۃالمدینہ بوائز میں داخلہ لینے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: محمد احمد سیالوی عطاری مدنی رکن شعبہ مدنی کورسز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ہمارا پیارا وطن “ پاکستان “ ہماری پہچان ہے ، ہم دنیا کے کسی بھی خطے میں چلے جائیں ہماری پہچان اسی سے ہے اور ہم پاکستانی مسلمان ہی کہلائیں گے۔ یہ وطن ہمارے لئے ایک گھر کی مانند ہی نہیں بلکہ حقیقتاً ایک گھر ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کی صورت میں اللہ کریم نے ہمیں جو نعمت دی ہے اس کا زبان سے شکر ادا کرنا اور عملی طور پر شکرانے کے تمام پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی پاکستانی سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کو اپنے وطن سے محبّت ہے تو یقیناً اس کا جواب “ ہاں “ میں ہوگا۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہی تو وہ گھر ہے جہاں ہم آزادی کے ساتھ سانس لیتے ہیں ، اللہ کریم کی عبادت بلا کسی خوف و خطر کرتے ہیں ، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت میں گلی گلی محفلیں منعقد کرتے ، اولیا و اسلافِ کرام کی عظمتیں بیان کرتے اور دینی تعلیمات بلا کسی روک ٹوک سیکھتے سکھاتے ہیں۔ یہ آزادی ہی کی برکت ہے کہ ہمارے ہر علاقے میں ایک بلکہ کہیں تو دو سے بھی زائد مساجد آباد ہیں ، مسجدوں کے اسپیکروں سے پانچ وقت”  اَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ “ اور ” اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ “ کی پُر کیف صدائیں سنتے ہیں ۔

قارئینِ کرام!اللہ ربُّ العزّت کی اس نعمت سے محبت کے کچھ تقاضے اور اس نعمتِ عظمیٰ کے شکرانے کی کچھ صورتیں ہیں چنانچہ ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ ان تقاضوں کو پورا کرے اور ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا اپنا حصہ ملائے۔

(1) وطن کی حفاظت اور دفاع: اسلام اپنے پیروکاروں کو اپنے وطن کی حفاظت اور دفاع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کوئی دشمن ملک پر حملہ آور ہو تو اس کا مقابلہ کرنا اور اپنی جان و مال کی قربانی دینا بھی جائز بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔

(2)وطن کے قوانین کی پاسداری: اسلام مسلمانوں کو اپنے وطن کے جائز قوانین کی پاسداری کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب تک کسی قانون میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو، اس پر عمل کرنا شرعاً واجب ہے۔

(3)وطن کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوشش کرنا: اسلام اپنے پیروکاروں کو اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ کوششیں مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہیں، مثلاً ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دینا، تعلیم اور علم کے حصول میں کوشش کرنا، معاشی ترقی میں حصہ لینا اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا۔

(4)وطن کے وسائل کی حفاظت کرنا: وطن کے قدرتی وسائل، جیسے زمین، پانی، جنگلات اور معدنیات، سب کی حفاظت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان وسائل کا بے دریغ استعمال اور ان کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ وسائل دراصل آنے والی نسلوں کی امانت ہیں جن کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔

(5)وطن کے شہریوں کے حقوق کا احترام کرنا: اسلام اپنے پیروکاروں کو وطن کے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرنے کی تعلیم دیتا ہے، چاہے ان کا مذہب، رنگ، نسل یا زبان کچھ بھی ہو۔ سب کے ساتھ عدل و انصاف کا سلوک کرنا اور کسی قسم کی تفریق روا نہ رکھنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ امین


اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت "وطن" ہے انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، پلتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے، وہی وطن اس کے لیے سب سے بہتر سرزمین ہے۔ یہ سرزمین صرف مٹی کا ایک حصہ ہی نہیں بلکہ اس میں جو بچپن کی پرانی یادیں، خاندانی چلن چلان ، تہذیب، ثقافت اور قربانیاں بسی ہوتی ہیں انسان اپنی زندگی کا اکثر حصہ اپنے پیارے وطن میں گزارتا ہے۔اسی کو ہم "وطن" کہتے ہیں، اور اس وطن کے بھی ہر کسی پر کچھ حقوق ہوتے ہیں جنہیں ادا کرنا ہر فرد کا اخلاقی و سماجی اور دینی طور پر فرض ہے۔وطن کے چند حقوق ملاحظہ کیجیے:

وطن کے حقوق سے مراد ہے کہ وہ فرائض وہ ادائیگیاں ہیں جو ایک شہری پر اپنے وطن کے حوالے سے بہت زیادہ لازم ہوتے ہیں۔

1۔ ایک سچا شہری ہمیشہ ہمیشہ اپنے پیارے وطن سے زیادہ محبت کرتا ہے، اس کے خلاف جو ہونے والی سازشوں سے دور رہتا ہے اور اس وطن کا بہت وفادار رہتا ہے۔

2۔ ایک اچھے سے اچھا شہری وہ ہوتا ہے جو اپنے وطن کے قوانین کا زیادہ احترام کرے، نظم و ضبط کو ہمیشہ قائم رکھے، اور امن و امان میں زیادہ معاون رہے۔

وطن انسان کی پہچان کرواتا ہے۔ وطن انسان کو تحفظ دیتا ہے شناخت دیتا ہے روزگار کے ذرائع پیش کرتا ہےتعلیم اور عزت دیتا ہے۔ اسی وجہ سے کہ جب وطن پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہر انسان اس کے دفاع کے لیے اس کی آزادی کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ وطن کی محبت ایک ایسا جوش و جذبہ ہے جو قوموں کی قوموں کو زندہ، متحد اور زیادہ طاقتور بناتا ہے۔

3۔محبت اور وفاداری: ہر انسان کو چاہیے کہ وہ دل سے اپنے وطن سے پیار کرے اور وفاداری کا زیادہ ثبوت دے۔

دفاع وطن: وطن کی حفاظت صرف افواج کا کام نہیں بلکہ ہر شہری ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ جب دشمن ملک پر حملہ کرے یا فساد پھیلانے کی کوشش کرے تو ہمیں اس کا زیادہ مقابلہ کرنا چاہیے۔

3. قوانین کی پابندی:ہر وطن کا ایک آئین اور قانون ہوتے ہیں جس کے تحت ہم اس پر عمل کریں اچھے شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین کا احترام کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال زیادہ رکھے۔

امن و امان کا قیام: وطن میں امن قائم رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ جھگڑے،چوری، دھوکہ، نفرت اور جھوٹ جیسے اعمال وطن کو کمزور کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اخوت و بھائی چارے، اور صلح رحمی کا ماحول پیدا کریں۔

ترقی میں کردار: وطن کی ترقی میں ہر انسان کو اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔ طالب علم تعلیم و تربیت حاصل کرکے، مزدور مزدوری کرکے، تاجر ایمانداری سے کاروبار کرکے، اور علماء دین کی روشنی پھیلا کر اپنے وطن کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکتے ہیں۔

اسلام اور وطن کی محبت: پیارے نبی پاک نور مجسم شاہِ بنی آدم دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم نے وطن سے محبت کا عملی نمونہ پیش فرمایا جب میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو مدینہ پہنچ کر دعا کی :

اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدّ ترجمہ:اے اللہ! ہمیں مدینہ سے ایسی محبت عطا فرما جیسی ہمیں مکہ سے ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ جہاں ہم رہیں، وہاں کے امن، ترقی اور خیر خواہی میں رہیں ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم ﷺکے صدقے اس وطن کی حفاظت فرمائے اور اس وطن میں جتنے بھی رہنے والے ہیں ان کی زیادہ سے زیادہ حفاظت فرمائے اور آنے والے دنوں کو اچھا فرمائے زندگی کی ہر پریشانی ہر مصیبت کو ہم سے دور تر دور فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین


دین اسلام جس طرح ہمیں عبادات الہی اور عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا درس دیتا ہے اسی طرح ہمیں وطن کے حقوق ادا کرنے کا حکم بھی دیتا ہے چنانچہ اپ بھی وطن کے چند حقوق پڑھیے اور عمل کی نیت کیجیے :

(1) وطن سے محبت کرنا : یہ بھی وطن کا حق ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن مکہ مکرمہ سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے جیسا کہ روایت میں آیا ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی تو سواری پر سوار ہو کر بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے اور فرماتے:اے مکہ ! اللہ کی قسم تو اللہ تعالیٰ کی بہترین اور محبوب ترین زمین ہے، اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا تو میں تجھے چھوڑ کر نہ جاتا۔ (صحیح مسلم، باب فضل الصلوة بمسجد مكۃ)

بعد ازاں جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ پہنچے اور مدینہ منورہ کو اپنا مستقل وطن بنالیا تو یہ دعا مانگی:

اے اللہ ! جس طرح مکہ مکرمہ کی محبت تو نے ہمیں عطا کی تھی اسی طرح مدینہ منورہ کی محبت بھی ہمیں عطا فرما، یا اس سے بھی زیادہ ہمیں مدینہ کی محبت عطا فرما، اور یہاں کی آب و ہوا صحت بخش بنا دے اور ہمارے صاع اور مد (غلہ ناپنے کے دونوں پیمانوں ) میں برکت عطا فرما اور مدینہ کے وبائی بخار کو جحفۃ( نامی مقام ) میں منتقل کر دے ۔ (صحیح مسلم: 3480، باب الترغيب فی سكنى المدينۃ)

(2) صاف رکھنا: وطن کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کو پاک و صاف اور پاکیزہ رکھا جائے، صفائی ستھرائی اسلام کو پسند ہے، صفائی فرد کی ہو یا معاشرے یا وطن کی، سبھی اسلام کو مطلوب ہے ۔

(3) حاکم کی اطاعت: حاکم کی اطاعت کرنا بھی وطن کا ایک حق ہے ، حاکم کی اطاعت ہوگی تو وطن میں امن آئے گا انتشار سے محفوظ رہے گا۔

(4) تکلیف سے بچانا: وطن میں رہنے والوں کو ہر طرح کی تکلیف سے بچانا یہ بھی وطن کا ایک حق ہے۔

(5) سر سبز رکھنا: وطن کا حق یہ بھی ہے کہ اس کو سر سبز و شاداب رکھنا اس میں درخت تو پودے وغیرہ لگانا حضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُسےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: جوبھی مسلمان کوئی درخت لگائےتواس سے جو کھایا جائے وہ اس کے‏لیےصدقہ ہے اور جوچوری ہوجائے وہ بھی اس کے‏لیےصدقہ ہے بلکہ اگر کوئی اس میں نقصان کرے توبھی اس کے ‏لیےصدقہ ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ،حدیث نمبر:135)

اللہ پاک ہمیں وطن کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے


وطن انسان کی جائے پیدائش، پرورش، ثقافت، تہذیب اور شناخت کا مرکز ہوتا ہے۔ اسلام نے وطن کی محبت کو ایک فطری جذبہ قرار دیا ہے اور اس کی حفاظت و خیر خواہی کو دینی فریضہ بنایا ہے۔ قرآن و حدیث میں وطن کے تعلق سے متعدد اشارے اور اصول ملتے ہیں، جو یہ واضح کرتے ہیں کہ وطن کی محبت، اس کی خیر خواہی اور اس کے تحفظ کے لیے کوشش کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔

(1) وطن کی محبت: ایک فطری جذبہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ کو ہجرت کے وقت چھوڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِاللہ! تو مجھے تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی، تو میں کبھی تجھے نہ چھوڑتا۔(جامع ترمذی، حدیث: 3925، باب ما جاء فی حب الوطن)

مزید دعا کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ (صحیح بخاری، حدیث: 1889)

(2) وطن کی حفاظت: دینی و اخلاقی ذمہ داری: قرآن کریم نے فرمایا: وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ ترجمہ:اور ان کے مقابلے کے لیے جتنی قوت جمع کر سکو کرو۔(سورۃ الانفال: 60)

یہ آیت وطن کے دفاع کے لیے عسکری اور اخلاقی قوت کی تیاری کا حکم دیتی ہے۔

(3) وطن کی بھلائی کی دعا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وطن کی ترقی و بھلائی کے لیے دعا فرمائی:اللهم بارك لنا في مدينتنا، اللهم حبب إلينا المدينة ترجمہ:اے اللہ! ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما، اور اسے ہمارے دلوں میں محبوب بنا دے۔(صحیح بخاری، حدیث: 1885)

اختتامیہ : اسلام وطن سے محبت، اس کی خیر خواہی، اصلاح، عدل، دفاع، اور ترقی کے لیے کوشش کو نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر سمجھتا ہے۔ وطن کے لیے قربانی دینا، معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کرنا، اور اس کی حفاظت کرنا ایمان کے تقاضوں میں شامل ہے۔


اللہ پاک نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور اسے ایک خاص علاقے، قوم اور زبان کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ وطن ‏انسان کی پہچان، اس کی تہذیب و ثقافت اور ‏اس کی زندگی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ وطن سے محبت فطری جذبہ ہے، اور اسلام نے اس ‏جذبے کی نہ صرف تائید کی ہے بلکہ اس کے تقاضے بھی واضح کیے ہیں۔ وطن سے ‏محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے حقوق ادا کریں، ‏اس کی حفاظت کریں، اس کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں اور اسے امن و سکون کا گہوارہ بنائیں۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ‏‏زندگی وطن سے محبت کا عملی نمونہ ہے۔ ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما کہتے ہیں کہ‎ ‎رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏‎ ‎نے شہر مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ‏کتنا پاکیزہ شہر ہے ‏تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے ‏مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا۔(ترمذی، 5/486، حدیث: 3951) ‏

یہ حدیث وطن کی محبت کی اعلیٰ ترین مثال ہے، نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینہ منورہ کو بھی اپنا وطن بنا کر اس کی خدمت کی، ‏اس کے امن، نظم و نسق، اور معاشرتی فلاح ‏کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ‏

ذیل میں وطن کے12 حقوق نقل کیے جا رہے ہیں، پڑھیے اور عمل کیجیے:‏

(1) قانون پر عمل:شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ملکی قوانین (خصوصاً ٹریفک قواعد) کی پابندی کریں، فضا کو آلودہ کرنے ‏والی گاڑیوں کی مرمت کروائیں۔

(2) انفرا اسٹرکچر کا تحفظ:‏سڑکوں، ریلوے لائنوں، بجلی و گیس کی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچائیں اور خرابی کی صورت میں فوری ‏اطلاع دیں۔

(3) صفائی کا خیال‏: گلیوں اور سڑکوں کو کچرے سے آلودہ نہ کریں۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَلطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ ‏یعنی صفائی نصف ایمان ہے۔‏(مسلم، ص115، حدیث:543)‏

(4) انسانی ہمدردی:حادثات یا دیگر ضرورتوں میں ہم وطنوں کی مدد کریں، غریبوں کا خیال رکھیں، اور گمشدہ اشیاء شرعی ‏اصولوں کے مطابق لوٹائیں۔‏

(5) ملکی مصنوعات کو فروغ: ملکی اشیاء کو ترجیح دیں، ان کی برائی سے اجتناب کریں، دوسروں کو بھی خریداری پر مائل کریں۔

(6) قومی اداروں کا احترام:سرکاری ادارے اور ان کا سامان قومی امانت ہے، ان کا درست استعمال کریں، خاص طور پر اگر آپ ‏سرکاری ملازم ہیں تو۔

(7) وسائل کی بچت: بلا ضرورت جلتی لائٹیں بجھائیں، پانی ، بجلی، گیس وغیرہ کے غیر ضروری استعمال‎ ‎سے اجتناب کریں۔

(8) دینی و تعلیمی اداروں کا ساتھ:دینی مدارس، جامعات، اور علمائے اہلِ سنت کے ادارے دین و وطن دونوں کی خدمت کر ‏رہے ہیں، ان سے تعاون کریں۔

(9) بیرون ملک ذمہ داری:‏ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی وطن کی عزت کے محافظ ہیں، کسی بھی ایسی سرگرمی سے دور رہیں جو پاکستان ‏کی بدنامی کا سبب بنے۔

(10) عدل و انصاف:‏ تاجروں کو ملازمین کا حق دینا اور ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا لازم ہے تاکہ ایک مضبوط اور مہذب ‏معاشرہ اور وطن تشکیل پائے۔

(11) منفی رویوں سے اجتناب:کسی فرد کی غلطی پر پورے ادارے یا ملک کو بُرا کہنا خود اپنے گھر کو بدنام کرنا ہے۔ تنقید برائے ‏اصلاح ہونی چاہیے، نہ کہ تحقیر۔

(12) سوشل میڈیا کا محتاط استعمال:‏ کسی شخص کی غلطی کی ویڈیو وائرل کرنا گناہ کی اشاعت اور وطن کی بدنامی ہے، جو قابلِ ‏مذمت ہے۔

پاکستان ہمارا گھر ہے اور اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر کی حفاظت، صفائی، اور فلاح ہمارا فرض ہے۔ وطن سے محبت کا عملی ‏ثبوت ‏دیں اور ایک باوقار، بااخلاق، مہذب شہری بن کر اسلام اور پاکستان دونوں کا نام روشن کریں۔

اللہ کریم ہمیں دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ وطن کے حقوق بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن ‏


بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معلم کائنات ہیں آپ کا انداز تربیت انتہائی دلکش و دلنشیں ہے اس نرالے انداز تربیت میں سے ایک خوبصورت انداز اشارے فرما کر تربیت کرنا ہے ۔ متعدد احادیث طیبات میں آپ کا اشارہ فرما کر تربیت کرنے کا انداز ملتا ہے ان میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں :

غسل کا نبوی طریقہ: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا یعنی میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ (صحیح البخاری جلد 1 کتاب الغسل حدیث: 254 صفحہ 60)

ابو بکر و عمر کی اقتدا کرو: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ یعنی میرے بعد( خلیفہ بننے والے ) دو افراد کی پیروی کرنا۔’’ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کی طرف اشارہ کیا۔ (سنن ابن ماجہ جلد 1 کتاب السنۃ حدیث: 97 صفحہ37)

تقوی دل میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نہ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم جلد 4 کتاب البر و الصلۃ حدیث : 6542 صفحہ 1986)

لڑکیوں کے کفیل کو بشارت: انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ دَخَلْتُ أَنَا وَهُوَ الْجَنَّةَ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ جس نے دولڑکیوں کی کفالت کی تو میں اوروہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے، اورآپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔(جامع الترمذی جلد 4 ابواب البر و الصلۃ ،حدیث:2028 صفحہ 45)

اللہ عزوجل ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی سعادت عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم