16 جنوری 2023ء
بروز پیر دعوتِ اسلامی کے تحت پاکستان مشاورت کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا آن لائن
مدنی مشورہ منعقد ہوا۔
معلومات کے مطابق نگرانِ
پاکستان مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے سال 2023ء کے سالانہ ڈونیشن اہداف کا جائزہ
لیتے ہوئے اسلامی بہنوں کو ڈونیشن بڑھانے کی ترغیب دلائی۔
علاوہ ازیں نگرانِ
پاکستان مجلسِ مشاورت نے مختلف چند اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جس پر وہاں موجود
اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت امجد، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
مسلمانوں پر سود کو حرام قرار دیا ہے اور جو بد نصیب یہ جاننے کے بعد بھی سودی
لین دین جاری رکھے تو گویا وہ اللہ پاک اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والا ہے،سود
قطعی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے،اس کی حرمت کا منکر (یعنی اس کے حرام
ہونے کا انکار کرنے والا) کافر اور جو حرام سمجھ کر اس بیماری میں مبتلا ہو وہ
فاسق اور مردود الشہادہ ہے (یعنی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی)۔ (بہار شریعت)
سود کی تعریف:سود اس اضافہ کو
کہتے ہیں جو دو فریق میں سے ایک فریق کو مشروط طور پر اس طرح ملے کہ وہ اضافہ عوض
سے خالی ہو۔(ہدایہ)
سود کی اقسام:قرض کے بدلے حاصل
ہونے والا اضافہ یا ادھار کی بعض صورتوں میں پایا جانے والا سود۔مخصوص اشیا کے
تبادلے پر چند صورتوں میں پایا جانے والا سود۔
سود کی مثال:ایک شخص ایک لاکھ
روپے قرض دے اور واپس ایک لاکھ دس ہزار وصول کرے تو یہ اضافی دس ہزار روپے کسی بھی
عوض سے خالی ہیں یہ سود ہیں۔
فرامینِ مصطفیٰ:
1۔جس نے سود کھایا اگر چہ ایک ہی درہم ہو تو گویا اس نے اسلام میں اپنی ماں سے
زنا کیا۔(نیکیوں کی جزائیں،ص 46)
2۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:شب معراج میرا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جس کے پیٹ گھر
کی طرح بڑے بڑے تھے ان پیٹوں میں سانپ موجود تھے جو باہر سے دکھائی دیتے تھے۔میں
نے پوچھا:اے جبرائیل یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ سود خور ہیں۔(سیرت مصطفیٰ،ص 103)
3۔جس قوم میں سود پھیلتا ہے تو گویا اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔
4۔سود اگرچہ ظاہری طور پر زیادہ ہی ہو آخر کار اس کا انجام کمی پر ہوتا
ہے۔(مسلم،ص 64،حدیث:284)
5۔قرض سے جو فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔
سود کے چند معاشرتی نقصانات:محشر کے دن جب سود خور اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو مخبوط الحواس ہوں گے اور ان
کی کیفیت ایسی ہی ہوگی جیسے اس آسیب زدہ شخص کی ہوتی ہے جس کو شیطان نے چھو کر
مجنون اور خبطی بنا دیا ہو۔اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:سود خور لوگ
نہیں کھڑے ہوں گے (اپنی قبروں سے یا میدان محشر میں) مگر اس طرح جس طرح وہ کھڑا
ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی (بد حواس) بنا دے یہ اس لیے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ
تجارت بھی سود کی طرح ہے،حالانکہ اللہ پاک نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا
ہے۔(البقرۃ:275)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم ایسے گناہوں سے بچو جس کی قیامت کے دن بخشش نہیں ہوگی
ان میں سے ایک سود ہے،کیونکہ جو سود خوری کرے گا وہ روز قیامت مجنون بنا کر اٹھایا
جائے گا،پھر آپ ﷺ نے مذکورہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: اَلَّذِیْنَ
یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ
یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا
الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-(پ
3،البقرۃ:275)ترجمہ کنز الایمان:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے
مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط کر دیا ہو یہ اس لیے کہ انہوں
نے کہا بیع بھی تو سود ہی کی مانند ہے۔ (طبرانی،2/747)
سود سے بچنے کی ترغیب:آج ہم دیوانہ وار مال و دولت کی ہوس میں اندھے ہو گئے ہیں اپنے بیوی بچوں کا
پیٹ پالنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے بناتے ہیں کہ میں بیوی بچوں کا پیٹ پال
رہا ہوں،ان کے لیے کما رہا ہوں ،کیا کروں حرام روزی کمانے کے سوا کوئی چارہ بھی
نہیں،لوگوں کو کیا ہو گیا کہ بیوی بچوں کا پیٹ پالنے اور ان کو عیش و عشرت کی
زندگی دینے کے لیے حرام روزی کمانے میں مصروف ہو گئے اور ان کی دین اسلام کے سنہری
اصولوں کے مطابق تربیت کرنے اور انہیں حلال لقمے کھلانے سے غافل ہو گئے،انہیں کیا
معلوم کہ قیامت کے دن اپنے بیوی بچوں کو علم دین نہ سکھانے اور حرام روزی کھلانے
کا کیسا وبال سامنے آئے گا،چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی
مطبوعہ 146 صفحات پر مشتمل کتاب "قرۃ العیون" صفحہ 93 پر ہے کہ مرد سے
تعلق رکھنے والوں میں پہلے اس کی زوجہ اور اولاد ہے،یہ سب قیامت کے دن کھڑے ہو کر
عرض کریں گے "اے ہمارے رب ہمیں اس شخص سے ہمارا حق لے کر دے،کیونکہ اس نے
کبھی بھی ہمیں دینی امور کی ترغیب نہیں دی اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا جس کا ہمیں
علم نہ تھا" پھر اس شخص کو حرام کھلانے پر اس قدر مارا جائے گا کہ گویا اس کا
گوشت جھڑ جائے گا اس کو میزان کے پاس لایا جائے گا ایک شخص بڑھ کر آئے گا اور کہے
گا اس نے مجھے سود کھلایا تھا اس کی نیکیاں لے کر اس شخص کو دے دی جائیں گی پھر
فرشتے اس سے کہیں گے:یہ وہ بد نصیب ہے جس کی نیکیاں اس کے گھر والے لے گئے اور یہ
ان کی وجہ سے جہنم میں چلا گیا۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں سود جیسے مہلک مرض سے محفوظ فرمائے اور حلال روزی
کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت امجد، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
گناہ دو طرح کا ہوتا ہے،کبیرہ گناہ اور صغیرہ گناہ،مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ
گناہ صغیرہ کو بھی ہلکا نہیں جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ چھوٹی چنگاری بھی گھر جلا
سکتی ہے۔ اگر گناہ ہو بھی جائے تو فوراً اس سے توبہ کرلینی چاہیے سود بھی کبیرہ
گناہوں میں سے ایک ہے یہ قطعی طور پر حرام ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اے ایمان والو چھوڑ دو جو کچھ سود میں باقی ہے اگر
تم مومن ہو اور اگر نہ چھوڑو تو تیار ہو جاؤ لڑنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول سے۔
سود کی تعریف:سود کو عربی زبان
میں ربا کہتے ہیں جس کا لغوی معنی ہے بڑھنا،اضافہ ہونا،بلند ہونا۔شرعی اصطلاح میں
قرض دے کر اس پر مشروط اضافہ یا نفع لینا یا کیلی (ناپ کر بیچی جانے والی) یا وزنی
(تول کر بیچی جانے والی) چیز کے تبادلے میں دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو ایسی زیادتی
کا ملنا جو عوض سے خالی ہو اور عقد میں مشروط ہو۔
سود کے بارے میں احادیث مبارکہ:
1۔سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو،لوگوں نے پوچھا:یا رسول اللہ ﷺ وہ کون
سی باتیں ہیں؟ فرمایا:اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا،یتیم کا مال کھانا،جادو
کرنا،سود کھانا،اس جان کو ناحق قتل کرنا جس کواللہ نے حرام کیا،جہاد سے فرار ہونا۔
2۔رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے،کھلانے والے، اس کی
گواہی دینے والے اور اس کا معاملہ لکھنے والے سب پر لعنت فرمائی۔
3۔سود میں 70 گناہ ہیں سب سے ہلکا گناہ ایسا ہے جیسے مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔
4۔حضور ﷺ نے فرمایا:جس شب میں مجھے معراج کرائی گئی میں ایک جماعت کے پاس سے
گزرا جس کے پیٹ کمروں کی مانند تھے،ان میں سانپ تھے جو پیٹوں کے باہر سے دکھائی
دیتے،میں نے کہا: جبرائیل یہ کون لوگ ہیں؟کہنے لگے کہ یہ سود خور ہیں۔
5۔جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جائے اللہ اس بستی کو ہلاک کر دیتا ہے۔
سود کے نقصانات:سود خوری
ایک قسم کا غیر صحیح مبادلہ ہے جو انسانی رشتوں اور جذبوں کو ہلاک کر دیتا ہے،سود
خوری اخلاقی نقطہ نظر سے قرض لینے والے کے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر مرتب کرتی
ہے،سود دلوں میں کینے اور دشمنی کا بیج بوتا ہے،سود کی وجہ سے وہ قومیں جو دیکھتی
ہیں کہ ان کا سرمایہ سود کے نام پر دوسری قوم کی جیب میں جارہا ہے،سود خوری کا
نتیجہ اجتماعی بحران عمومی افراتفری اور عوامی انقلاب کی صورت میں رو نما ہوتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچنے اور نیک راستوں پر چلنے کی توفیق
عطا فرمائے۔آمین
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت ایوب،جامعۃ المدینہ یزمان ضلع
بہاولپور
معزز قارئین! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کچھ نیکیاں ظاہری ہوتی ہیں جیسے
کہ نماز اور کچھ باطنی ہوتی ہیں جیسے اخلاص، اسی طرح گناہ بھی ظاہری اور باطنی
دونوں طرح کے ہوتے ہیں، اگر ہم ظاہری گناہوں کی بات کریں تو اس میں قتل اور سودی
لین دین وغیرہ آتے ہیں، ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے،
اگر ہمارا باطن دنیا کی حرص و لالچ سے پاک ہوگا تو ہم سود جیسے ظاہری گناہ سے بھی
بچ سکتے ہیں۔
سود کی تعریف: سود یعنی لین دین کے کسی معاملے میں جب دونوں طرف
مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابل یعنی بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو
یہ سود ہے۔
اسی طرح قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع جو فائدہ حاصل ہو وہ بھی سود ہے۔
سود کا حکم: سود حرام قطعی
ہے اس کا ارتکاب کرنا گناہ کبیرہ ہے اس کا منکر یعنی انکار کرنے والا کافر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلَّذِیْنَ
یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ
یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-(پ 3، البقرۃ: 275)ترجمہ کنز الایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ
کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط (پاگل) بنا دیا
ہو۔
5 احادیث مبارکہ:
1۔ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والوں، سود دینے والوں، سودی دستاویز لکھنے والوں
اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب گناہ میں برابر کے شریک
ہیں۔(انوار الحدیث، ص 287، حدیث: 1)
2۔ سود کا گناہ 73 درجے ہے ان میں سب سے چھوٹا درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں
سے زنا کرے۔(مستدرک، حدیث: 2306)
3۔ فرمان مصطفیٰ :رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو شخص آئے اور مجھے زمین
مقدس میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے یہاں ایک شخص کنارے
پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شخص بیچ دریا میں ہے یہ کنارے
کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شخص نے ایک پتھر ایسے زور سے اس کے
منہ پر مارا کہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا،پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارے
والا منہ پر پتھر مار کر وہیں لوٹا دیتا ہے،میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟کہا یہ شخص
جو نہر میں ہے سود خوار ہے۔(بخاری، ص 543، حدیث: 2085)
4۔ سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا
ہے۔(شعب الایمان، 4/395،حدیث:5523)
5۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:معراج کی رات میرا گزر ایک
ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے
نظر آرہے تھے،میں نے جبرائیل سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے عرض
کی:یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ،3/71،حدیث: 2273)
آپ نے سود کی مذمت کے بارے میں احادیث ملاحظہ فرمائیں اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں
حرام سے بچنے کی اور حلال کھانے اور کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان کے
دارالحکومت اسلام آباد کی مختلف
سطح کی ذمہ داران کا مدنی مشورہ
دعوتِ اسلامی کے تحت
16جنوری بروز پیر پاکستان کے
دارالحکومت اسلام آباد کی سٹی نگران، سٹی سطح شعبہ ذمہ داران، زون
نگران، شعبہ ذمہ داران، یوسی اور سیکٹر
نگران اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ منعقد ہوا۔
نگرانِ پاکستان مجلس
مشاورت اسلامی بہن نے ماہ ِ رمضان کے مدنی پھولوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونیشن
کو بڑھانے کی ترغیب دلائی۔
اس موقع پر نگران و شعبہ
ذمہ دار اسلامی بہنوں نے اہداف لئے اور فیضانِ زکوٰۃ کورس 42 مقامات پر کروانے نیز ماہنامہ فیضانِ مدینہ کی بکنگ کے حوالے سے اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت باقر علی، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
سود حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، سود کھانے والا، سود لینے والا،
سود لکھنے والا سب گناہگار ہیں، سود سے کیے جانے والے کاروبار عارضی طور پر نفع
دیتے ہیں، لیکن اس سے انسان کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہو جاتی ہے، سود کے بارے
میں اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: یَمْحَقُ اللّٰهُ
الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ
اَثِیْمٍ(۲۷۶) (پ 3، البقرۃ: 276) ترجمہ کنز الایمان: اللہ پاک ہلاک کرتا
ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا ناشکرا بڑا گناہگار۔
سود کی تعریف: سود کو عربی
زبان میں ربا کہتے ہیں جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا، پروان چڑھنا اور بلندی کی طرف
جانا ہے، شرعی اصطلاح میں سود کی تعریف یہ ہے کہ کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار
دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا، مثلا 100 روپے قرض دیں تو اس کے
ساتھ 20 اضافی لے گا، کل 120 لے گا۔
فرامین مصطفیٰ:
1۔ سود کو چھوڑ دو اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی چھوڑ دو۔(ابن ماجہ، 2/73،
حدیث: 2276)
2۔ سود (کا گناہ) 70 حصہ ہے ان میں سب سے کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں
سے زنا کرے۔(ابن ماجہ، 2/50، حدیث: 3854)
3۔رسول اللہ ﷺ نے سود لینے اور سود دینے والے اور سود لکھنے والے اور اس کے
گواہوں پر لعنت فرمائی اور یہ فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔(مسلم، حدیث:1582)
4۔ادھار میں سود ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ دست بدست ہو تو سود نہیں یعنی جبکہ
جنس مختلف ہو۔ (مسلم، حدیث: 1584)
5۔سود سے بظاہر اگرچہ مال زیادہ ہو مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔(ابن ماجہ،
2/73، حدیث:2274)
سود برا فعل ہے ہمیں اس سے بچنا چاہیے، سود امیر کو امیر اور غریب کو غریب کر
دیتا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سود جیسی نحوست سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت بشیر احمد،جامعۃ المدینہ صابری کالونی
اوکاڑہ
اسلام دین کامل ہے زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا
ہے اسلام نہیں چاہتا کہ کسی انسان کو دینی یا دنیاوی معاملے میں کوئی نقصان ہو اس
لیے اسلام نے ہر معاملے میں کچھ حدیں مقرر کر دی ہیں،زمانہ جاہلیت میں جہاں اور
بہت سی معاشرتی برائیاں تھیں وہاں تجارت میں اور آپس کے معاملے میں ایک بڑی
معاشرتی برائی سود بھی عام تھی،اللہ پاک نے سود کو حرام کیا کیونکہ اس میں بہت سی
خرابیاں ہیں۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ کنز العرفان:اللہ پاک نے خرید و فروخت کو حلال
کیا اور سود کو حرام کیا۔(البقرۃ:275)
سود حرام قطعی ہے اس کا منکر یعنی انکار کرنے والا کافر ہے۔(بہار
شریعت،2/768،حصہ:11)
جس طرح سود لینا حرام ہے اس طرح سود دینا بھی حرام ہے۔(بہار
شریعت،2/768،حصہ:11)
سود کی تعریف:لین دین کے کسی
معاملے میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابل (یعنی بدلے
میں) دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے۔(بہار شریعت،2/7،حصہ:11)
قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع یا فائدہ حاصل ہو وہ بھی سود ہے۔(فتاویٰ
رضویہ،17/713)
فرامین مصطفیٰ:
1۔سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا
ہے۔(شعب الایمان، 4/395،حدیث:5523)
2۔سود کا گناہ 73 درجے ہے ان میں سے سب سے چھوٹا یہ
ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338،حدیث: 2306)
3۔رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے،کھلانے والے،لکھنے والے اور زکوٰۃ نہ دینے
والے پر لعنت فرمائی۔(مراٰۃ المناجیح،جلد 4)
4۔سود اگرچہ بہت ہو مگر انجام کمی کی طرف لوٹتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،جلد 4)
5۔ سود 70 گناہوں کا مجموعہ ہے ان میں سے سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں
سے زنا کرے۔(ابن ماجہ،حدیث:2274)
سود کے معاشرتی نقصان:سود کے بہت سے معاشرتی اور معاشی نقصانات ہیں جن میں چند درج ذیل ہیں؛
1)سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے،تجارت کی کمی انسانی معاشرے کو نقصان
دیتی ہے،سود خور کو بغیر محنت کیے مال کا حامل ہونا تجارت کی مشقت سے آسان معلوم
ہوتا ہے۔
2)سود سے باہمی محبت کو نقصان پہنچتا ہے جب آدمی سود کا عادی ہو جاتا ہے تو
وہ غریبوں،رشتہ داروں کو قرض حسن نہیں دیتا۔
3)سود خور اپنے مقروض کی بربادی کا خواہش مند رہتا ہے۔
4)سود میں جو بغیر کسی عوض کے زیادتی لی جاتی ہے یہ صریح نا انصافی ہے۔
5)سود کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قرآن پاک میں سود
کھانے والے سے فرمایا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کا یقین کر لے یہ
شدید ترین وعید ہے کسی کی کیا مجال کہ وہ اللہ سے جنگ کا تصور بھی کر سکے۔
انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں سود سے بچے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو کہ اس میں خدا
اور رسول کی ناراضگی ہے،انسان کو چاہیے کہ قناعت اختیار کرے تھوڑے مال پر راضی رہے
سود کے ذریعے اپنے مال کو زیادہ بڑھانے کی کوشش ہرگز نہ کرے،ہمیں چاہیے کہ لمبی
امیدوں سے کنارہ کشی کر لیں اس سے دل سے دنیا کی محبت نکلے گی اور گناہوں سے بچتے
ہوئے آخرت کی تیاری کا ذہن بنے گا۔
سینٹرل افریقہ کی اسلامی
بہنوں کےدرمیان ہونے والے دینی کاموں کی کارکردگی
نیکی کی دعوت کو عام کرنے
والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت دسمبر 2022ء میں سینٹرل افریقہ کی اسلامی بہنوں
کےدرمیان ہونے والے دینی کاموں کی کارکردگی درج ذیل رہی۔
٭اس
ماہ انفرادی کوشش کے ذریعے دینی ماحول سے
منسلک ہونے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:58
٭روزانہ
گھر درس دینے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:56
٭مدرسۃ
المدینہ بالغات کی تعداد:16
٭مدرسۃالمدینہ
بالغات میں پڑھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:92
٭اسلامی
بہنوں کے درمیان منعقد ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی تعداد:30
٭ان
اجتماعات میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:357
٭ہفتہ
وار مدنی مذاکرہ سننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:103
٭ہفتہ
وار علاقائی دورہ میں شرکت کرنے والی
اسلامی بہنوں کی تعداد: 50
٭ہفتہ
وار رسالہ پڑھنے/ سننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:201
٭اسلامی
بہنوں سےوصول ہونے والے نیک اعمال کے
رسائل کی تعداد:97
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت بلال حسین، ادارہ نور الاسلام لودھراں
حدیث نمبر 1۔ رسول اللہ ﷺ کا
ارشاد ہے: آدمی سود کا ایک درہم کھاتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ 36 بار زنا سے
زیادہ سخت ہے۔(درۃ الناصحین)
حدیث نمبر 2۔ حضرت جابر رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، اس کے وکیل، اس کے لکھنے
والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔(نزہۃ الواعظین)
اللہ پاک فرماتا ہے: اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ
الْعَذَابِ(۴۶) (پ 24، المؤمن: 46) ترجمہ: تم آل فرعون کو سخت عذاب میں
داخل کرو۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یا
رسول اللہ ﷺ آپ کی امت کے سود خور ہیں۔
اَلَّذِیْنَ
یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ
یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- (پ
3،البقرۃ:275)ترجمہ کنز الایمان:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے
مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط کر دیا ہو۔
سود کھانے والے اور سود دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے۔
حدیث نمبر 3۔ اللہ پاک کے ذمہ
کرم پر واجب ہے کہ وہ چار آدمیوں کو داخل نہ کرے اور نہ ان کو جنت کی نعمتیں
چکھائے؛ شراب کا عادی، سود کھانے والا، ناحق یتیم کا مال کھانے والا، والدین کا
نافرمان۔
حدیث نمبر 4۔ سود کا گناہ 36
بار زنا کرنے سے بڑا ہے ایسا زنا جو انسان اسلام کی حالت میں کرے۔
حدیث نمبر 5۔ حضور ﷺ نے
فرمایا: ایک آدمی ایک درہم کو دو درہم کے بدلے ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے
دے پس تحقیق اس نے سود لیا، پس جب وہ کسی چیز کے بارے میں حیلہ کا عمل کرے تو اس
نے سود لیا اللہ پاک کو دھوکا دیا اور اللہ پاک کی آیت ساتھ مذاق کیا۔
سود کھانے والا خونی نہر میں: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے جب صبح کی نماز
پڑھائی تو ہماری طرف متوجہ ہوئے، اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا کسی شخص نے خواب دیکھا
ہے، جس نے دیکھا ہوتا تو بتاتے۔ ایک دن پھر آپ ﷺ نے پوچھا تو صحابہ کرام فرماتے
ہیں: ہم نے عرض کی نہیں۔ تو حضور نے فرمایا: میں نے دو شخصوں کو خواب میں دیکھا،
وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے پاکیزہ زمین کی طرف لے گئے، پس ہم چلے اور خون کی
نہر کے کنارے پر پہنچ گئے، اس میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا اور نہر کے کنارے پر دوسرا
شخص کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے اور جو شخص نہر میں کھڑا ہوا تھا وہ
سامنے کی طرف آیا، پس جب اس نے نکلنے کا ارادہ کیا کنارے پر کھڑے ہوئے آدمی نے
اس کے منہ پر پتھر مارا پس اسے وہیں لوٹا دیا جہاں وہ پہلے تھا، جب وہ باہر آنا
چاہتا تو وہ پتھر مار کر اسے واپس لوٹا دیتا، میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس کو
میں نے نہر میں دیکھا تو اس نے کہا: سود کھانے والا۔(بخاری)
سود کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ از بنت تنویر، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
مسلمانوں پر سود کو حرام قرار دیا ہے اور جو بد نصیب یہ جاننے کے بعد بھی سودی
لین دین جاری رکھے تو گویا وہ اللہ پاک اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والا ہے،سود
قطعی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے،اس کی حرمت کا منکر (یعنی اس کے حرام
ہونے سے انکار کرنے والا) کافر اور جو حرام سمجھ کر اس بیماری میں مبتلا ہو وہ
فاسق اور مردود الشہادہ ہے (یعنی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی)۔ (بہار شریعت)
سود کی تعریف:سود اس اضافہ کو
کہتے ہیں جو دو فریق میں سے ایک فریق کو مشروط طور پر اس طرح ملے کہ وہ اضافہ عوض
سے خالی ہو۔(ہدایہ)
سود کی اقسام:قرض کے بدلے حاصل
ہونے والا اضافہ یا ادھار کی بعض صورتوں میں پایا جانے والا سود۔مخصوص اشیا کے
تبادلے پر چند صورتوں میں پایا جانے والا سود۔
سود کی مثال:ایک شخص ایک لاکھ
روپے قرض دے اور واپس ایک لاکھ دس ہزار وصول کرے تو یہ اضافی دس ہزار روپے کسی بھی
عوض سے خالی ہیں لہٰذا سود ہیں۔
فرامین مصطفیٰ:
1۔جس نے سود کھایا اگر چہ ایک ہی درہم ہو تو گویا اس نے اسلام میں اپنی ماں سے
زنا کیا۔(نیکیوں کی جزائیں،ص 46)
2۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:شب معراج میرا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جس کے پیٹ گھر
کی طرح بڑے بڑے تھے ان پیٹوں میں سانپ موجود تھے جو باہر سے دکھائی دیتے تھے۔میں
نے پوچھا:اے جبرائیل یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ سود خور ہیں۔(سیرت مصطفیٰ،ص 103)
3۔جس قوم میں سود پھیلتا ہے تو گویا اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔
4۔سود اگرچہ ظاہری طور پر زیادہ ہی ہو آخر کار اس کا انجام کمی پر ہوتا
ہے۔(مسلم،ص 64،حدیث:284)
5۔قرض سے جو فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔
سود کے چند معاشرتی نقصانات:محشر کے دن جب سود خور اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو مخبوط الحواس ہوں گے اور ان
کی کیفیت ایسی ہی ہوگی جیسے اس آسیب زدہ شخص کی ہوتی ہے جس کو شیطان نے چھو کر
مجنون اور خبطی بنا دیا ہو۔اللہ پاک قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:سود خور لوگ نہیں
کھڑے ہوں گے (اپنی قبروں سے یا میدان محشر میں) مگر اس طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے
جسے شیطان چھو کر خبطی (بد حواس) بنا دے یہ اس لیے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت
بھی سود کی طرح ہے،حالانکہ اللہ پاک نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا
ہے۔(البقرۃ:275)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم ایسے گناہوں سے بچو جس کی قیامت کے دن بخشش نہیں ہوگی
ان میں سے ایک سود ہے،کیونکہ جو سود خوری کرے گا وہ روز قیامت مجنون بنا کر اٹھایا
جائے گا،پھر آپ ﷺ نے مذکورہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: اَلَّذِیْنَ
یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ
یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا
الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-(پ
3،البقرۃ:275)ترجمہ کنز الایمان:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے
مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط کر دیا ہو یہ اس لیے کہ انہوں
نے کہا بیع بھی تو سود ہی کی مانند ہے۔ (طبرانی،2/747)
سود سے بچنے کی ترغیب:آج ہم دیوانہ وار مال و دولت کی ہوس میں اندھے ہو گئے ہیں اپنے بیوی بچوں کا
پیٹ پالنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے بناتے ہیں کہ میں بیوی بچوں کا پیٹ پال
رہا ہوں،ان کے لیے کما رہا ہوں ،کیا کروں حرام روزی کمانے کے سوا کوئی چارہ بھی
نہیں،لوگوں کو کیا ہو گیا کہ بیوی بچوں کا پیٹ پالنے اور ان کو عیش و عشرت کی
زندگی دینے کے لیے حرام روزی کمانے میں مصروف ہو گئے اور ان کی دین اسلام کے سنہری
اصولوں کے مطابق تربیت کرنے اور انہیں حلال لقمے کھلانے سے غافل ہو گئے،انہیں کیا
معلوم کہ قیامت کے دن اپنے بیوی بچوں کو علم دین نہ سکھانے اور حرام روزی کھلانے
کا کیسا وبال سامنے آئے گا،چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی
مطبوعہ 146 صفحات پر مشتمل کتاب "قرۃ العیون" صفحہ 93 پر ہے کہ مرد سے
تعلق رکھنے والوں میں پہلے اس کی زوجہ اور اولاد ہے،یہ سب قیامت کے دن کھڑے ہو کر
عرض کریں گے "اے ہمارے رب ہمیں اس شخص سے ہمارا حق لے کر دے،کیونکہ اس نے
کبھی بھی ہمیں دینی امور کی ترغیب نہیں دی اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا جس کا ہمیں
علم نہ تھا" پھر اس شخص کو حرام کھلانے پر اس قدر مارا جائے گا کہ گویا اس کا
گوشت جھڑ جائے گا اس کو میزان کے پاس لایا جائے گا ایک شخص بڑھ کر آئے گا اور کہے
گا اس نے مجھے سود کھلایا تھا اس کی نیکیاں لے کر اس شخص کو دے دی جائیں گی پھر
فرشتے اس سے کہیں گے:یہ وہ بد نصیب ہے جس کی نیکیاں اس کے گھر والے لے گئے اور یہ
ان کی وجہ سے جہنم میں چلا گیا۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں سود جیسے مہلک امراض سے محفوظ فرمائے اور حلال
روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ
الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- (پ 3، البقرۃ:
275) ترجمہ کنز الایمان:یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کی مانند ہے
اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود کو۔
سود کی تعریف:فقہا نے لکھا کہ
سود اس اضافے کو کہتے ہیں جو دو فریق میں سے ایک فریق کو مشروط طور پر اس طرح ملے
کہ وہ اضافہ عوض سے خالی ہو۔(ہدایہ)
5 فرامین مصطفیٰ:
1۔سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ و برباد کرنے والی ہیں،صحابہ کرام نے عرض کی:یا
رسول اللہ ﷺ وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ فرمایا:شرک کرنا،جادو کرنا،ایسے ناحق قتل کرنا
کہ جس کا قتل اللہ نے حرام کیا،سود کھانا،یتیم کا مال کھانا،جنگ کے دوران مقابلے
کے وقت پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا اور پاک دامن شادی شدہ مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔
2۔جس قوم میں سود پھیلتا ہے اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔
3۔پیارے آقا ﷺ نے فرمایا:میں شب معراج ایک ایسی قوم
کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ کمروں کی طرح (بڑے بڑے) تھے جن میں سانپ پیٹوں کے باہر
سے دیکھے جا رہے تھے میں نے جبرائیل سے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے عرض کی کہ
یہ سود خور ہیں۔
4۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اللہ کے محبوب ﷺ نے سود کھانے
والے،کھلانے والے،اس کی تحریر لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا
کہ یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔
5۔بے شک سود کے 72 دروازے ہیں ان میں سے کمترین ایسے ہے جو کوئی مرد اپنی ماں
سے زنا کرے۔
سود کے چند معاشرتی نقصانات:سود خور گھر کے گھر تباہ و برباد کر دیتا ہے،سب کو اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے
اور مال کی محبت میں دیوانہ وار گھومتا رہتا ہے،صدقہ و خیرات کرنا بھی گوارہ نہیں
کرتا کہ کہیں مال کم نہ ہو جائے،کیونکہ یہی رقم کا وہ ڈھیر ہے جس سے آمدنی حاصل
کرنی ہے،یہ بدنصیب دولت کا ڈھیر جمع کرنے میں اس قدر حرص کا شکار ہو جاتا ہے کہ
اپنے اہل و عیال پر بھی رقم خرچ نہیں کرتا اور اپنے اہل و عیال کو بھی صحیح معنوں
میں کھلاتا پلاتا نہیں،بس مال و دولت کی گٹھریاں جمع کرتا چلا جاتا ہے اور آخر
کار دولت کی یہی حرص و ہوس اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بنا ڈالتی ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو سود جیسے گناہ سے بچا کر رکھے اور ہمیں نیک و صالح اعمال
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کراچی دارالسنہ صدیق
آباد میں 2 دن کا لرننگ سیشن، 3 صوبوں کی ذمہ داران کی شرکت
پچھلے دنوں شعبہ
مدرسۃالمدینہ بالغات اور قراٰن ٹیچر ٹریننگ کورس دعوتِ اسلامی کے زیرِا ہتمام
کراچی دارالسنہ صدیق آباد میں 2 دن کا لرننگ سیشن منعقد ہوا جس میں کراچی
سٹی، صوبۂ سندھ اور صوبۂ بلوچستان کی کثیراسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق اس
لرننگ سیشن میں صاحبزادیِ عطار سلمہا الغفار نے اسلامی بہنوں کی تربیت و
رہنمائی کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے
نوازا اور اسلامی بہنوں کی حوصلہ افزائی کی۔
اس کے علاوہ نگرانِ عالمی
مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے شعبے میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے اسلامی بہنوں کی
ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں رکنِ شعبہ ذمہ
دار اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا ابو ماجد حاجی محمد شاہد عطاری مدنی نے بھی بذریعہ آڈیو لنک شرکا کو مدنی
پھولوں سے نوازا اور اخلاص کے ساتھ دینی کام کرنے کی ترغیب دلائی نیز شعبے میں
درپیش متفرق مسائل کا حل بتایا۔
Dawateislami