اللہ پاک جہاں اپنے احکامات کی پیروی کا حکم دیا ہے وہیں اپنے حبیب کی عزت و تکریم کرنے کا، آداب مصطفوی کاحکم بھی قراٰن پاک میں ارشاد فرمایا، اس پر عمل کرنے والوں کا میاب ٹھہرایا، چنانچہ 5 ایسے مقامات ملاحظہ ہوں:-

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ1،البقرۃ:104) اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے ایسا کلمہ بولنا جس میں معمولی سا بھی ترکِ ادب ہو، ممنوع ہے۔

(2) فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵) ترجمۂ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔ (پ 5 ، النسآء:65)

(3)فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۱۵۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔(پ9،الاعراف:157)

(4) لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ18،النور:63)

(5) وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶)ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو اُنہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بےشک صریح گمراہی بہکا (پ 22 ، الاحزاب: 36)

اللہ پاک ہمیں اپنے اور اپنے پیارے حبیب کی پکی سچی محبت عطا فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1)شانِ نزول :چند لوگوں نے عیدالاضحیٰ کے دن سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پہلے قربانی کر لی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں۔(تفسیر صراط الجنان جلد 9 )

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)شانِ نزول : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی وہ اونچا سنا کرتے تھے ان کی آواز بھی اونچی تھی اور بات کرنے میں آواز بلند ہو جایا کرتی تھی اور بعض اوقات اس سے حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اذیت ہوتی تھی۔ (تفسیر صراط الجنان )

(3) اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ترجمۂ کنز الایمان :بےشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔(پ26،الحجرات:3)شانِ نزول: جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اور کچھ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بہت احتیاط لازم کر لی اور سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں بہت ہی پست آواز سے عرض و معروض کرتے۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 9 ،سورۃ الحجرات : 3)

(4) اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔ (پ26،الحجرات: 4)شانِ نزول : بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اس وقت حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آرام فرما رہے تھے ان لوگوں حجروں کے باہر سے حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پکارنا شروع کر دیا حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہر تشریف لائے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(تفسیر صراط الجنان جلد 9 ،سورۃ الحجرات : 4)

(5) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ26،الحجرات:5)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما حضر ت اُبی بن کعب رضی اللہُ عنہ سے قرآٰنِ مجید کی تعلیم حاصل کرنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے کے پاس کھڑے ہو جاتے اور ان کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتے (بلکہ خاموشی سے ان کاانتظار کرتے) یہاں تک کہ وہ اپنے معمول کے مطابق باہر تشریف لے آتے ۔حضرت اُبی بن کعب رضی اللہُ عنہ کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما کا یہ طرزِ عمل بہت برا معلوم ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: آپ نے دروازہ کیوں نہیں بجایا(تاکہ میں فوراً باہر آجاتا اور آپ کوانتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑتی؟)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما نے جواب دیا: عالِم اپنی قوم میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح نبی اپنی امت میں ہوتا ہے (یعنی عالِم نبی کا وارث ہوتا ہے) اور (چونکہ) اللہ پاک نے اپنے نبیٔ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ’’ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ‘‘(اس لئے میں نے بھی دروازہ بجانے کی بجائے آپ کے خود ہی تشریف لے آنے کا انتظار کیا)۔


آداب ادب کی جمع ہے اور ادب کا معنی ہے الوقوف مع المستحسنات یعنی اچھائیوں پر مضبوطی سے قائم رہنا۔ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اچھی باتوں کا خیال رکھنا اور ناپسندیدہ باتوں سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے تو حضور جانِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم افضل المخلوقات ہیں، ایسے ہی آپ کی بارگاہ کی حاضری کے آداب بھی تمام مخلوقات سے زیادہ ہیں اور کئی آداب خود خالق کائنات نے قراٰنِ مجید میں بیان فرمائے ہیں، ان میں سے پانچ آداب درج ذیل ہیں:۔

ادب نمبر(1) دورانِ تعلم خطاب کے الفاظ: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو ۔(پ1،البقرۃ:104)شانِ نزول: جب حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ ’’رَاعِنَا یارسول اللہ‘‘ اس کے یہ معنی تھے کہ یا رسول اللہ ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلامِ اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہودیوں کی لغت میں یہ کلمہ بے ادبی کا معنی رکھتا تھا اور انہوں نے اسی بری نیت سے کہنا شروع کردیا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہُ عنہ یہودیوں کی اصطلاح سے واقف تھے۔ آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنانِ خدا !تم پر اللہ کی لعنت، اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔ یہودیوں نے کہا: ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں جبکہ مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں ، اس پر آپ رنجیدہ ہو کر سرکار ِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’رَاعِنَا‘‘ کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہنے کا حکم ہوا ۔ (تفسیر صراط الجنان، 1/181)

اللہ پاک نے صحابہ کرام کو ان الفاظ کے بولنے سے روک دیا جسے منافقین غلط معنی کے طور پر بولتے تھے۔

ادب نمبر(2)رسول کا بلانا یا رسول کو ندا کرنا : لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ18،النور:63)یعنی اے لوگو! میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔اس کا ایک معنی یہ ہے کہ میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پکارنے کو آپس میں ایسا معمولی نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے کیونکہ جسے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پکاریں اس پر جواب دینا اور عمل کرنا واجب اور ادب سے حاضر ہونا لازم ہوجاتا ہے ۔دوسرا معنی یہ ہے کہ میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام لے کر نہ پکارو بلکہ تعظیم، توقیر اور عاجزی و انکساری سے انہیں پکارو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ظاہری حیاتِ طیبہ میں اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی انہیں ایسے الفاظ کے ساتھ نِدا کرنا جائز نہیں جن میں ادب و تعظیم نہ ہو۔یہ بھی معلوم ہو اکہ جس نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حقیر سمجھا وہ کافر ہے اور دنیا وآخرت میں ملعون ہے۔(ملتقطا تفسیر صراط الجنان، 6/675)

ادب نمبر(3)اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1)

اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اجازت کے بغیر کسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنا رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں اللہ پاک سے ڈرو کیونکہ اگر تم اللہ پاک سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے بھی اللہ پاک کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔

اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق دو رِوایات درجِ ذیل ہیں:(1) چند لوگوں نے عیدُالاضحیٰ کے دِن سر کارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں ۔ (2)حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آگے نہ بڑھو۔( تفسیر صراط الجنان، 9/394) پتہ چلا کی عبادت اگرچہ اللہ پاک کی ہے لیکن اس میں بھی رسول اللہ کی اتباع ضروری ہے۔

ادب نمبر(4)اپنی آواز رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آواز سے بلند نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)

ادب نمبر(5)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گھر میں بے اجازت داخل نہ ہو۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ ترجمۂ کنز ُالایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ۔( پ 22، الاحزاب:53 )

اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق ایک روایت ہے کہ جب سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت زینب رضی اللہُ عنہا سے نکاح کیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی تو لوگ جماعت کی صورت میں آتے اور کھانے سے فارغ ہو کر چلے جاتے تھے۔ آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے۔ مکان تنگ تھا تو اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حرج واقع ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کر سکے۔ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اٹھے اور ازواجِ رضی اللہُ عَنہُنَّ کے حجروں میں تشریف لے گئے اور جب دورہ فرما کر تشریف لائے تو اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پھر واپس ہو گئے تو یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے، تب حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازے پر پردہ ڈال دیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

آیتِ مذکور کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گھروں میں یونہی حاضر نہ ہو جاؤ بلکہ جب اجازت ملے جیسے کھانے کیلئے بلایا جائے تو حاضر ہوا کرو، ہاں جب تمہیں بلایا جائے تو اس وقت ان کی بارگاہ میں حاضری کے احکام اور آداب کی مکمل رعایت کرتے ہوئے ان کے مقدس گھر میں داخل ہو جاؤ، پھر جب کھانا کھا کر فارغ ہو جاؤ تو وہاں سے چلے جاؤ اور یہ نہ ہو کہ وہاں بیٹھ کر باتوں سے دل بہلاتے رہو کیونکہ تمہارا یہ عمل اہلِ خانہ کی تکلیف اور ان کے حرج کا باعث ہے۔ بیشک میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور تم سے چلے جانے کے لئے نہیں فرماتے تھے لیکن اللہ پاک حق بیان فرمانے کو ترک نہیں فرماتا۔ (تفسیر صراط الجنان، 8/73)


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 6 دسمبر 2022ء بروز منگل شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا آن لائن مدنی مشورہ ہوا جس میں شعبے کی پاکستان، صوبائی و ڈویژن سطح کی ذمہ داران اور سٹی نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

اس مدنی مشورے میں پاکستان مجلس مشاورت کی نگران اسلامی بہن نے حوصلہ افزائی کیجیئے“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے صوبائی و ڈویژن سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کے 9ماہ کے سفر شیڈول کا جائزہ لیا۔

نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں ہونے والی کمزوری پر توجہ دلائی اور ماتحت غیر فعال ذمہ داران کو فعال بنانے، ماہانہ مدنی مشوروں کا جائزہ لینے اور بروقت مدنی مشورے لینے کی ترغیب دلائی۔

بعدازاں اسلامی بہنوں کی 9 ماہ کی کارکردگی میں ترقی و تنزلی اور اہداف پر کلام کیا گیا نیز تقرری مکمل کرنے کے حوالے سے اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اہداف لئے۔

(1)رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم کرنے والے کامیاب ہیں: لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو ۔(پ26،الفتح:9)اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم و توقیر (عزت) بے انتہا اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں اللہ پاک نے اپنی تسبیح پر اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم و توقیر(عزت) کو پہلے بیان فرمایا ہے اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد آپ علیہ السّلام کی تعظیم کرتے ہیں ان کے کامیاب اور بامراد ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۱۵۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جواس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں ،جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، جسے یہ (اہلِ کتاب )اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائی سے منع کرتے ہیں اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں اور ان کے اوپر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتے ہیں جو ان پر تھیں تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔(پ9،الاعراف:157)

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم

خدا چاہتا ہے رضائے محمد

(2)قراٰن اور تعظیم ِحبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: دنیا کے شہنشاہوں کا اصول یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور اپنے دربار کے آداب خود بناتا ہے اور جب وہ چلا جاتا ہے تو اپنی تعظیم و ادب کے نظام کو بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن کائنات میں ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کے دربار کا عالَم ہی نرالا ہے کہ ا س کی تعظیم اور اس کی بارگاہ میں ادب و احترام کے اصول و قوانین نہ اس نے خود بنائے ہیں اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی اور نے بنائے ہیں بلکہ اس کی تعظیم کے احکام اور اس کے دربار کے آداب تمام شہنشاہوں کے شہنشاہ، تما م بادشاہوں کے بادشاہ اور ساری کائنات کو پیدا فرمانے والے رب تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں اور بہت سے قوانین ایسے ہیں جو کسی خاص وقت تک کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مقرر فرمائے ہیں اور وہ عظیم شہنشاہ اس کائنات کے مالک و مختار محمد مصطفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات ِگرامی ہے ، جن کی تعظیم و توقیر کرنے کا خود اللہ پاک نے حکم دیا اور قراٰنِ مجید میں آپ کی تعظیم اور ادب کے باقاعدہ اصول اور احکام بیان فرمائے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے ، پھر اگر تم( اس پر قدرت)نہ پاؤ تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ۔ (پ28،المجادلۃ: 12) (بعد میں وجوب کا حکم منسوخ ہو گیا تھا۔)

ایک اور مقام پر اللہ پاک نے ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پکارنے سے منع فرمایا: لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ18،النور:63)

حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بات کرتے وقت ان کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کی بارگاہ میں زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کرو۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہو تجھے

(3)رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے ادبی اللہ پاک کی بے ادبی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1) اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اجازت کے بغیر کسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنا رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔

اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں ،ان میں سے ایک رِوایت درجِ ذیل ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آگے نہ بڑھو۔ (خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: 1، 4/ 163-164، جلالین، الحجرات، تحت الآیۃ:1، ص426، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ:1، ص1149-1150، ملتقطاً)

دو اہم مدنی پھول:(1)…اللہ پاک کی بارگاہ میں سیّد المرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی بارگاہ کے آداب اللہ پاک نے ارشاد فرمائے ہیں ۔(2)…اس آیت میں اللہ پاک اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دونوں سے آگے نہ بڑھنے کا فرمایا گیا حالانکہ اللہ پاک سے آگے ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہ نہ زمانہ میں ہے نہ کسی مکان میں اور آگے ہونا یا زمانہ میں ہوتا ہے یا جگہ میں، معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آگے نہ بڑھو، ان کی بے ادبی دراصل اللہ پاک کی بے ادبی ہے۔( شان حبیب الرحمٰن،ص224-225، ملخصاً)۔

وہ خدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا

کہ کلام مجید نے کھائی شہا تیرے شہرو کلام و بقا کی قسم

(4)آوازوں کو بھی پست رکھنے کا حکم: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)اس آیت ِمبارکہ میں بھی اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دو عظیم آداب سکھائے ہیں ،پہلا ادب یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب نبیٔ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پَست آواز سے کرو ۔دوسرا ادب یہ ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور عظمت والے اَلقاب کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسولَ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، یا نَبِیَّ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔( قرطبی ، الحجرات ، تحت الآیۃ: 2 ، 8 / 220 ، الجزء السادس عشر)

(5)مختار نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اختیار: وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔(پ28،الحشر:7) اس کا ایک معنی یہ ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غنیمت میں سے جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو کیونکہ وہ تمہارے لئے حلال ہے اور جو چیز لینے سے منع کریں اس سے باز رہو اور اس کا مطالبہ نہ کرو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہیں جو حکم دیں اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت واجب ہے اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔مزید فرمایا کہ اللہ پاک سے ڈرو ،نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مخالفت نہ کرو اور ان کے حکم کی تعمیل میں سستی نہ کرو، بیشک اللہ پاک اسے سخت عذاب دینے والا ہے جو رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی کرے۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: 7، 9 / 429، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: 7، ص1224، ملتقطاً)۔

بنایا ان کو مختار دو عالم ان کے مولیٰ نے

خلافت ایسی ہوتی ہے نیابت اس کو کہتے ہیں


بارگاہِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ علیہ الصلاة والسلام کی بارگاہ وہ مقام و مرتبہ رکھتی ہے کہ اس کے آداب خود ربِّ کریم نے اپنے کلامِ مجید میں بیان فرمائے حتٰی کہ مؤمنين کو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے گفتگو کے آداب بھی سکھائے اور اس کے خلاف کرنے والے کے لئے سخت وعیدیں بھی سنائیں۔ اللہ پاک نے بارگاہِ نبوی کے آداب بیان کرکے یہ بات واضح کر دی یہ بارگاہ کوئی عام بارگاہ نہیں بلکہ محبوبِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ ہے لہذا ہر مؤمن پر آداب کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔

(1) نبیٔ پاک کے بلانے پر فوراً حاضر ہو جاؤ: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔(پ9،الانفال:24)حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: آیت میں اس بات کا ادب سکھایا کہ اے حاضر رہنے والو جس وقت تمہارے کان میں میرے محبوب کے بلانے کی آواز پہنچے تو تم جس حال میں بھی ہو فوراً حاضر ہو جاؤ۔(سلطنتِ مصطفٰی، ص6)

(2) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عام لوگوں کی طرح پکارنے کی ممانعت: قراٰن کریم میں ہے: لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ18،النور:63) اس میں صحابۂ کرام کو بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں کو بارگاہِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب سکھایا گیا ہے۔(شان حبیب الرحمن، ص115)

(3) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آگے نہ بڑھو: الله کریم ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1) تفسیر صراط الجنان میں ہے اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اجازت کے بغیر کسی قول اور فعل سے اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کہ یہ آگے بڑھنا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ادب و احترام کے خلاف ہے۔(صراط الجنان، 9/394)

(4) اپنی آوازوں کو الله کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے پست رکھو: رب کریم کا ارشاد عظیم ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو ۔(پ26، الحجرات:2) تفسیر صراط الجنان میں ہے: اے ایمان والو جب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام فرمائیں اور تم انکی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز اُنکی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ آہستہ پست آواز سے کہو۔(صراط الجنان، 9/397)

(5) بلند آواز سے پکارنے کی ممانعت: اللہ پاک کا ارشاد عظیم ہے: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ ترجمہ کنزالعرفان: اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو۔(پ26،الحجرات:2)

لے سانس بھی آہستہ کہ خلاف ادب نہ ہو

کہ نازک ہے آئینہ سے طبیعت رسول اللہ کی


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 6 دسمبر 2022ء بروز منگل شعبہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا آن لائن مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں شعبے کی پاکستان، صوبہ و ڈویژن سطح کی ذمہ داران اور سٹی نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

اس مدنی مشورے میں پاکستان مجلس مشاورت کی نگران اسلامی بہن نےحوصلہ افزائی کیجیئے“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے صوبائی و ڈویژن سطح کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کے 9ماہ کے سفر شیڈول کا جائزہ لیا۔

نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں ہونے والی کمزوری پر توجہ دلائی اور ماتحت غیر فعال ذمہ داران کو فعال بنانے، ماہانہ مدنی مشوروں کا جائزہ لینے اور بروقت مدنی مشورے لینے کی ترغیب دلائی۔

بعدازاں اسلامی بہنوں کی 9 ماہ کی کارکردگی میں ترقی و تنزلی اور اہداف پر کلام کیا گیا نیز تقرری مکمل کرنے کے حوالے سے اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اہداف لئے۔

قراٰنِ کریم ہمارے لیے رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان تفصیل کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک اہم بیان بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب بھی ہے۔ جو اہلِ حق کی پہچان رہی ہے ۔ یہ قراٰن کا ہی درس تھا جو صحابہ کو بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں آواز تک بلند نہ کرنے دیتی تھی آیئے ہم قراٰن سے کچھ آداب سیکھتے ہیں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ- ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو!راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو۔(پ1،البقرۃ:104)اس آیت سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں ادب کا لحاظ فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ (مزید معلومات کے لیے تفسیر ِنعیمی یا صراط الجنان کا مطالعہ کریں) ۔

(2) وَ اسْمَعُوْاؕ-: اور غور سے سنو: حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کلام فرمانے کے وقت ہمہ تن گوش ہو جاؤ تا کہ یہ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ توجہ فرمائیں کیوں کہ دربارِ نبوت کا یہی ادب ہے۔

(3) وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۱) ترجمۂ کنز العرفان : اور جو رسولُ اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ10،التوبۃ:61) اپنے قول یا فعل یا کسی حرکت سے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینا کفر ہے کیونکہ دردناک عذاب کی وعید عموماً کفار کو ہی ہوتی ہے ۔

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبرنہ ہو۔(پ26،الحجرات:2) ادب یہ ہے کہ جب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پست آواز سے کرو۔

(5) اور ادب یہ بھی ہے کہ حضور کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عام القاب سے نہ پکارو جن سے ایک دوسرے کو پکارتے ہو بلکہ رسول الله، شفیع المذنبین کہو۔

ان ساری آداب پر عمل تب ہی ممکن ہے جب ہم عاشقانِ رسول کی صحبت اختیار کریں گے۔ آپ بھی عاشقان رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی سے وابستہ ہو جائیے۔ اس کے ذریعہ خوفِ خدا و عشقِ مصطفی کا جام بھی ملے گا اور نیکوں کا ساتھ بھی۔


ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

دنیا دی بادشاہ ! اپنے درباروں کے آداب اور ان میں حاضری دینے کے قوانین خود بناتے ہیں اور اپنے مقررہ حاکموں کے ذریعہ رعایا سے اُن پر عمل کراتے ہیں کہ جب ہمارے دربار میں آؤ تو اس طرح کھڑے ہو، اس طرح بات کرو، اس طرح سلامی دو۔ پھر جو کوئی آداب بجا لاتا ہے اس کو انعام دیتے ہیں جو اس کے خلاف کرتا ہے بادشاہ کی طرف سے سزا پاتا ہے۔ یہ سارے قاعدے صرف انسانوں پر ہی جاری ہوتے ہیں ، دوسری مخلوقات جِنّ ، فرشتے وغیرہ کو ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ پھر یہ سارے آداب اس وقت تک رہتے ہیں جب تک بادشاہ زندہ ہے اور اس کی حکومت قائم ہے ۔ لیکن اس آسمان کے نیچے ایک ایسا دربار بھی ہے جس کے آداب اور جس میں حاضر ہونے کے قاعدے ، سلام و کلام کرنے کے طریقے خود ربِّ کریم نے بنائے، اپنی خلقت کو بتائے کہ اے میرے بندو ! جب اس دربار میں آؤ تو ایسے ایسے آداب کا خیال رکھنا اور خود فرمایا کہ اگر تم نے اس کے خلاف کیا تو تم کو سخت سزا دی جائے گی ۔ پھر لطف یہ ہے کہ اب وہ شاہی دربار ہماری آنکھوں سے چھپ گیا ۔ اس شہنشاہ نے ہم سے پردہ بھی فرمالیا، مگر اس کے آداب اب تک وہی باقی، پھر اس دربار کے قوانین فقط انسانوں ہی پر جاری نہیں بلکہ وسعتِ سلطنت کا یہ حال ہے کہ ہر عرشی، فرشی اس قاہر حکومت کا بندۂ بے زر۔ مسلمانو! معلوم ہے وہ دربار کس کا ہے ؟ وہ دونوں جہاں کے مختار، حبیبِ کردگار، کونین کے شہنشاہ ، رحمتہ اللعالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دربار ہے ۔

دوستو! آؤ ہم تم کو قرآن کی سیر کرائیں اور دکھائیں کہ اس نے اس سچے شہنشاہِ کونین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ کے کیا ادب سکھائے:۔

(1) کچھ لوگ زمانۂ رسالت میں حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پہلے ہی قربانی کر لیتے اور کچھ لوگ رمضان سے پیشتر روزے رکھنا شروع کر دیتے ۔تو رب فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1)

اس آیت نے ادب سکھایا کہ کوئی مسلمان اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کلام میں ، چلنے میں، غرض کسی کام میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آگے نہ ہو ۔

(2) ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سےاور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی وہ اونچا سنا کرتے تھے ان کی آواز بھی اونچی تھی اور بات کرنے میں آواز بلند ہو جایا کرتی تھی اور بعض اوقات اس سے حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اذیت ہوتی تھی۔

سبحان اللہ! کیا ادب سکھایا کہ اس بارگاہ میں حاضری دینے والوں کو زور سے بولنے کی بھی اجازت نہیں ۔

(3) قبیلۂ بنی تمیم کے کچھ لوگ دوپہر کے وقت بارگاہِ رسالت میں پہنچے۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دولت خانہ میں آرام فرما رہے تھے ان لوگوں نے حجرے شریف کے باہر سے پکارنا شروع کر دیا ۔ رب کریم کو پسند نہ ہوا کہ کوئی اس دولہا کو پکار کر بلائے جس کے گھر میں جبرئیل بے اجازت نہیں جا سکتے ، فوراً یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔ (پ26،الحجرات: 4) اب اللہ پاک ادب سکھاتا ہے: اور اگر یہ لوگ اتنا صبر کرتے کہ آپ ان کے پاس خود تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا ۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ26،الحجرات: 5) ادب سکھا یا کہ اگر کوئی شخص ایسے وقت آئے کہ میرے محبوب علیہ السّلام دولت خانہ میں ہیں تو ان کو آواز دیکر نہ بلاؤ بلکہ تشریف آوری کا انتظار کرو ۔ جب وہ نازنین سلطان خود تشریف لائیں تب عرض و معروض کرو ۔

(4) جب سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت زینب رضی اللہُ عنہا سے نکاح کیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی تو لوگ جماعت کی صورت میں آتے اور کھانے سے فارغ ہو کر چلے جاتے تھے۔ آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے۔ مکان تنگ تھا تو اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حرج واقع ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کر سکے۔ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اٹھے اور ازواجِ رضی اللہُ عَنہُنَّ کے حجروں میں تشریف لے گئے اور جب دورہ فرما کر تشریف لائے تو اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پھر واپس ہو گئے تو یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے، تب حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازے پر پردہ ڈال دیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ- ترجمۂ کنز ُالایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ ۔( پ 22، الاحزاب:53 ) اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ نبوت میں دعوت کھانے کے آداب یہ ہیں کہ کھانا پکنے سے پہلے وہاں نہ پہنچو اور کھانا کھا کر پھر وہاں نہ بیٹھو... کیوں؟ اس کی وجہ قراٰن بیان فرما رہا ہے: اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ ترجمۂ کنز ُالایمان: بےشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا۔( پ 22، الاحزاب:53 )

(5) صحابۂ کرام علیہم الرضوان کا یہ طریقہ تھا کہ اگر محبوب علیہ السّلام کے کسی لفظ کو نہ سمجھ سکتے تو عرض کرتے راعنا یا رسول الله، یا حبیب اللہ دوبارہ فرما دیجئے تاکہ ہم سمجھ لیں ۔ لفظ راعنا یہود کی زبان میں گستاخی کا لفظ تھا ۔ انہوں نے یہی لفظ دوسرے معنی کی نیت سے بولنا شروع کر دیا اور دل میں خوش ہوئے کہ بارگاہِ رسالت میں بکواس بکنے کا موقع مل گیا ۔ وہ بھیدوں کا جاننے والا اور نیتوں سے واقف رب ہے اس کو یہ کیسے پسند ہو سکتا تھا کہ کسی کو میرے محبوب کی جناب میں گستاخی کا موقع ملے، آیت کریمہ آئی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ1،البقرۃ:104)


ادب ایک ایسا عمل ہے جس کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ مؤدب شخص کو دنیا میں ہر جگہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگوں کے درمیان بداخلاقی کو پسند نہیں کیا جاتا، تو بارگاہِ نبوی تو وہ بارگاہ ہے جہاں بے ادبی کی بالکل گنجائش نہیں۔اسی مناسبت سے بارگاہِ نبوی کے 5 آداب ذکر کئے جاتے ہیں۔

(1) بارگاہِ نبوی میں کتنی آواز اور کیسے پکارا جائے : مقدّس قراٰن میں اللہ پاک کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)

(2) حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں ادب و احترام ملحوظ رکھے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1)

(3) اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب بجا لاؤ۔ اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے: لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔(پ26،الفتح:9)

(4) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا بلانا اللہ پاک کے بلانے کی طرح ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔(پ9،الانفال:24)

(5) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ26،الحجرات:5،4)

جو حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خیمہ کے باہر سے بلاتے انہیں اللہ پاک نے نا سمجھ فرمایا اور ادب و احترام کی تعلیم دی ۔


اللہ پاک نے کائنات کو وجود بخشا اور اسی کائنات میں اللہ پاک نے بہت سے نبیوں کو بھیجا تاکہ اللہ پاک اپنے پیغام کو نبیوں کے ذریعے اپنے بندوں تک پہنچائے اور ان کے ذریعے سے بندے صراط مستقیم پر چلے اور گناہوں سے باز رہے۔

کئی قوموں نے انبیا کی شان میں گستاخی کی تو اللہ پاک نے اس قوم کو ہلاک و برباد کردیا جیسے کہ قومِ لوط عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوئے۔ تمام نبیوں کے سردار ہمارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں جن پر بابِ نبوت ختم ہوا ۔صحابہ کرام رضی اللہُ عنہم بھی آپ کا ادب و احترام بجا لاتے تھے آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے والوں کو صحابی کہتے ہیں جنہوں نے ادب و احترام کی ایسی عظیم الشان مثالیں پیش کیں جس سے پوری تاریخ عاجز ہے۔

تو پتا چلا کہ ہر مسلمان پر نبیوں کی تعظیم وتوقیر بجا لانا واجب ہے کیونکہ اللہ پاک نے قراٰنِ پاک میں جاں بجا تعظیم و توقیر کا ذکر فرمایا۔ جن میں سے پانچ درج ذیل ہیں:۔

(1) اللہ پاک قراٰنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1)اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اجازت کے بغیر کسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنا رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں اللہ پاک سے ڈرو کیونکہ اگر تم اللہ پاک سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے بھی اللہ پاک کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سےاور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)اس آیت ِمبارکہ میں بھی اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دو عظیم آداب سکھائے ہیں ،پہلا ادب یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب نبیٔ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پَست آواز سے کرو ۔دوسرا ادب یہ ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور عظمت والے اَلقاب کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسولَ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، یا نَبِیَّ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔( قرطبی ، الحجرات ، تحت الآیۃ: 2 ، 8 / 220 ، الجزء السادس عشر)

(3) اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ترجمۂ کنز الایمان :بےشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔(پ26،الحجرات:3)

اس آیت سے 5 باتیں معلوم ہوئیں: (1)… تمام عبادات بدن کا تقویٰ ہیں اور حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب دل کا تقویٰ ہے۔ (2)…اللہ پاک نے صحابہ ٔکرام رضی اللہُ عنہم کے دل تقویٰ کے لئے پَرَکھ لئے ہیں تو جو انہیں مَعَاذَاللہ فاسق مانے وہ اس آیت کا مُنکر ہے۔(3)…صحابہ ٔکرام رضی اللہُ عنہم انتہائی پرہیز گار اور اللہ پاک سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے کیونکہ جس نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ پاک کا رسول مان لیا اور آپ کی اس قدر تعظیم کی کہ آپ کے سامنے اس ڈر سے اپنی آواز تک بلند نہ کی کہ کہیں بلند آواز سے بولنے کی بنا پر اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں تو ا س کے دل میں اللہ پاک کی تعظیم اور اس کا خوف کتنا زیادہ ہو گا۔(4)… حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہما کی بخشش یقینی ہے کیونکہ اللہ پاک نے ان کی بخشش کا اعلان فرما دیا ہے۔(5)… ان دونوں بزرگوں کا اجر و ثواب ہمارے وہم و خیال سے بالا ہے کیونکہ اللہ پاک نے اسے عظیم فرمایا ہے۔

(4) اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔ (پ26،الحجرات: 4) شانِ نزول: بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں پہنچے ،اس وقت حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آرام فرما رہے تھے، ان لوگوں نے حُجروں کے باہر سے حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پکارنا شروع کر دیا اور حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہر تشریف لے آئے، ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جلالت ِشان کو بیان فرمایا گیا کہ سیّد المرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہالت اور بے عقلی ہے۔( مدارک ، الحجرات ، تحت الآیۃ: 4 ، ص1151 ، ملخصاً)

(5) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ26،الحجرات:5)اس آیت میں ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پکارنے کی بجائے صبر اور انتظار کرنا چاہئے تھا یہاں تک کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خود ہی مُقَدّس حجرے سے باہر نکل کر ان کے پاس تشریف لے آتے اور اس کے بعد یہ لوگ اپنی عرض پیش کرتے۔ اگر وہ اپنے اوپر لازم اس ادب کو بجا لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور جن سے یہ بے ادبی سرزَد ہوئی ہے اگر وہ توبہ کریں تو اللہ پاک اُنہیں بخشنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔( خازن ، الحجرات ، تحت الآیۃ: 5 ، 4/ 166 ، روح البیان ، الحجرات ، تحت الآیۃ: 5 ، 9 / 68 ، ملخصاً)


اللہ پاک نے تمام مخلوق میں اپنے پیارے حبیب محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلی و عرفہ مقام عطا فرمایا۔ ساتھ ساتھ ہمیں حضورِ پاک کی آداب و اکرام کا بھی حکم فرمایا ۔قراٰنِ مجید میں پارہ 26 سورہ حجرات کی آیت نمبر 2 میں ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سےاور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)

اور ایک مقام میں ارشاد فرمایا : وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) ترجمۂ کنز العرفان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کربیٹھے تھے تو اے حبیب! تمہاری بارگاہ میں حاضر ہو جاتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (بھی) ان کی مغفرت کی دعا فرماتے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، مہربان پاتے۔(پ5،النسآء:64)

اللہ پاک نے اور ایک مقام میں ارشاد فرمایا: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔(پ26،الفتح:9،8)

اللہ پاک اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے۔(پ28،المجادلۃ:9)