قراٰنِ کریم ہمارے لیے رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان تفصیل کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک اہم بیان بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب بھی ہے۔ جو اہلِ حق کی پہچان رہی ہے ۔ یہ قراٰن کا ہی درس تھا جو صحابہ کو بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں آواز تک بلند نہ کرنے دیتی تھی آیئے ہم قراٰن سے کچھ آداب سیکھتے ہیں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ- ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو!راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو۔(پ1،البقرۃ:104)اس آیت سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں ادب کا لحاظ فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ (مزید معلومات کے لیے تفسیر ِنعیمی یا صراط الجنان کا مطالعہ کریں) ۔

(2) وَ اسْمَعُوْاؕ-: اور غور سے سنو: حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کلام فرمانے کے وقت ہمہ تن گوش ہو جاؤ تا کہ یہ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ توجہ فرمائیں کیوں کہ دربارِ نبوت کا یہی ادب ہے۔

(3) وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۱) ترجمۂ کنز العرفان : اور جو رسولُ اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ10،التوبۃ:61) اپنے قول یا فعل یا کسی حرکت سے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینا کفر ہے کیونکہ دردناک عذاب کی وعید عموماً کفار کو ہی ہوتی ہے ۔

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبرنہ ہو۔(پ26،الحجرات:2) ادب یہ ہے کہ جب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پست آواز سے کرو۔

(5) اور ادب یہ بھی ہے کہ حضور کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عام القاب سے نہ پکارو جن سے ایک دوسرے کو پکارتے ہو بلکہ رسول الله، شفیع المذنبین کہو۔

ان ساری آداب پر عمل تب ہی ممکن ہے جب ہم عاشقانِ رسول کی صحبت اختیار کریں گے۔ آپ بھی عاشقان رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی سے وابستہ ہو جائیے۔ اس کے ذریعہ خوفِ خدا و عشقِ مصطفی کا جام بھی ملے گا اور نیکوں کا ساتھ بھی۔