کتاب اللہ سے
مراد ہے اللہ پاک کا کلام یعنی قرآن پاک، قرآن مجید دلوں کی راحت ہے۔یقیناً قرآن مجید اللہ پاک کی
بہت ہی پیاری کتاب،نعمت اور برکتوں اور رحمتوں والی کتاب ہے۔ یہ کلام اللہ ہے (یعنی
اللہ پاک کا پیارا کلام ہے)یہ مبارک کتاب ہر اعتبار سے کامل ہے، اسے اتارنےوالارب
العالمين ہے تولانے والے روح الامین (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام ہیں،جن پر نازل
ہوئی وہ رحمۃ للعالمین ہیں۔
قرآن
پاک کے بے شمار فضائل ہیں:
· قرآن پاک کی تلاوت کیا کرو کہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت
کرنے کے لئے آئے گا۔
· قرآن پاک حضور
اکرم ﷺکے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے۔
· قرآن پاک بےچین
دلوں کے سکون کا ذریعہ ہے۔
· قرآن پاک اللہ
پاک کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔
· قرآن پاک ایک
نور ہے جس کےپڑھنے سے دل منور ہو جاتا ہے۔
ارشاد باری ہے:ترجمہ کنز الایمان: جنہیں ہم نے کتاب دی ہے
وہ جیسی چاہیے اس کی تلاوت کرتےہیں وہی اس پر ایمان رکھتے اور جو اس کے منکر ہوں
تو وہی زیاں کار ہیں۔( البقرۃ: 121) اس سے یہ معلوم ہو کہ کتاب اللہ کے بہت سے
حقوق بھی ہیں۔
قرآن مجید کا
حق یہ ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے، اس کی تلاوت کی جائے، اس پر
ایمان رکھا جائے،چنانچہ حدیث مبارکہ ہیں
حدیث
مبارکہ:روایت
ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے فرماتی ہیں: فرمایارسول الله ﷺ نے: قرآن کا عالم معزز
فرشتوں اور محترم و معظم ہستیوں کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا ہو کہ اس میں اٹکتا ہو اور قرآن اس پر گراں ہو اس کیلئے ثواب ہے۔(
مسلم، بخاری)
شرح
حدیث:قرآن
کریم کا ماہروہ عالم ہے جو الفاظ قرآن، معانی ورسائل قرآن، اسرار و رموز قرآن کا
واقف ہو اس کا بڑا درجہ ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ جہاں سفرہ سے فرشتوں کی جماعت مراد
ہے اور کرام بررة سے انبیائے کرام علیہم السلام مقصود - مرقات نے فرمایا کہ یہ تینوں
صفتیں فرشتوں کی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ تینوں صفتیں صحابہ کرام کی ہیں کہ انہوں نے
قرآن جمع بھی کیا اور وہ اللہ کے ہاں مقبول اور گنا ہوں سے محفوظ بھی ہیں۔ سبحان
اللہ عالم قرآن کا تو وہ مرتبہ ہے جو ابھی ذکر ہوا اور جو کند ذہن،موٹی زبان والا
قرآن پاک سیکھ تو نہ سکے مگر کوشش میں لگا رہے کہ مرتے د م تک کو شش کئے جائے وہ ڈبل ثواب کا مستحق ہے شوق
محنت۔ خیال رہے کہ یہ دوگناثواب تو اس
عالم قرآن کے مقابلے میں نہیں ہے، عالم قرآن تو فرشتوں نبیوں اور صحابہ کےساتھ ہے
بلکہ اس کے مقابلے میں جو بے تکلف قرآن
پڑھ کربس کر دے۔( مراٰۃ المناجیح،جلد3، حدیث:2112)
ہمیں چاہئے کہ
ہم قرآن پاک کی تلاوت کریں روزانہ کم ازکم آدھا پاره تو لازمی پڑھنا چاہئے کیونکہ
جو قرآن سیکھنے کے بعد بھی نہیں پڑھتا تو قرآن پاک اس کی شفاعت کیسے کرے گا! ہمیں
چاہیے کہ صراط الجنان سے ترجمہ تفسیر بھی پڑھیں۔ الله پاک ہمیں قرآن کو سیکھ کر
پڑھ کر دوسروں کوپڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
قرآنِ کریم اس
رب عظیم کا بے مثال کلام ہے جو اکیلا معبود
و تنہا خالق اور ساری کائنات کا حقیقی ملک ہے اور اس نے اپنا کلام رسولوں کے
سردار، دو عالم کے تاجدار،حبیبِ بے مثال ﷺ
پر نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے آپﷺلوگوں کو اللہ پاک پر ایمان لانے اور دینِ حق
کی پیروی کرنے کی طرف بلائیں اور شرک وکفر و نافرمانی کے انجام سے ڈرائیں اور ایمان
اور اسلام کے روشن اور مستقیم راستے کی طرف ہدایت دیں اور ان کے لیے دنیا آخرت میں
فلاح و کامرانی کی راہیں آسان فرمائیں۔ قرآنِ کریم کی شان یہ ہے کہ وہ کسی اور
کلام کو حاصل نہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
قرآنِ
کریم اللہ کی واضح دلیل او ر اس کا نور
ہے:جیسا
کہ ارشادِ باری ہے:ترجمۂ کنزالعرفان:اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی
اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا۔
اس
کتاب کی ذمہ داری خود اللہ نےلی ہے:
چنانچہ ارشاد فرما یا: ترجمہ کنز العرفان: بے شک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اوربے
شک ہم خود اس کی حفاظت کر نے والے ہیں۔ (الحجر:9)
یہ
جامع العلوم کتاب ہے: ترجمہ کنز العرفان:اور ہم نے تم پر قرآن اتارا جو
ہر روشن چیز کا بیان ہے۔(النحل: 89)
ترجمہ کنز العرفان:اور ہم نے اس قرآن میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ (الانعام:38)
حضرت ابو
امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:قرآن پڑھو کیونکہ
وہ قیامت کے دن اپنے اصحاب کے لیے شفیع ہو
کر آئے گا۔
قرآنِ پاک کے حقوق:آئیے !اب قرآنِ
پاک کے حقوق سنتے ہیں:
(1)قرآنِ پاک کا پہلا حق اس کے تمام تقاضوں سمیت اس پر ایمان لانا اور اس
کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔ قرآن ِمجید کے ساتھ جو باطنی
تعلق ہے جب وہ مضبوط ہوتا ہے توقربِ الٰہی کی دولت نصیب ہوتی ہے اور یہی قرب دل میں
روشنی پیدا کرتا ہے۔
(2)اس کا دوسر احق اس کو صحتِ لفظی کے ساتھ پڑھا جائے۔
(3)قرآنِ مجید
کا تیسرا حق اس کو سمجھنا ہے کہ ہم اسے سمجھ کر پڑھیں گے تو ہمیں دوسری قوموں پر
آنے والے عذاب معلوم ہوں گے۔ ہمیں پڑھنے میں دلچسپی ملے گی اور عمل کا جذبہ بڑھےگا۔
(4)اس کا چوتھاحق
اس پر عمل کرنا ہے کہ جب ہم قرآن کو سمجھیں گے تو عمل کا جذبہ اور بڑھے گا اورعمل کرکے
دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
(5) اس کا پانچواں اور آخری حق یہ ہے کہ اس کی تبلیغ کرنا ہے۔ ہم اس کو
سمجھیں گے تو عمل کر سکیں گے۔ عمل کریں گے تو تبلیغ کر سکیں گے۔تبلیغ
کرنے کے تو ویسے بھی بہت فضائل ہیں۔ معلومات کےلیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب نیکی کی
دعوت کا مطالعہ کیجیے۔ہم اس قرآن کو تجوید کے ساتھ پڑھیں گے تو اس کو سمجھیں گے۔
قرآن پاک
درست پڑھنے کے لیے مدرسۃ المدینہ بوائز/ گرلز میں اپنے بچوں کاایڈمیشن دلوائیں اور
خود بھی بالغات میں ایڈ میشن لیں اور قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے صراط الجنان کا
مطالعہ بےحد مفید ہے،نہایت آسان الفاظ میں تفسیر بیان کی گئی ہے۔اللہ پاک ہمیں قرآنِ کریم
کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
بجاہِ النبی الامین ﷺ
9 دسمبر 2022ء
بروز جمعہ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ذمہ داران کی ماہانہ میٹنگ ہوئی جس میں سٹی
مشاورت اور ٹاؤن نگران اسلامی بھائی سمیت شعبے کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت
کی۔
اس میٹنگ میں نگرانِ
راولپنڈی سٹی محمد اسلم عطاری نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوتِ
اسلامی کے 12 دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
اس کے علاوہ نگرانِ
راولپنڈی نے شعبہ جات کے لئے ہونے والے ٹیلی تھون سمیت مختلف موضوعات پر کلام کیا
اور اخلاص کے ساتھ دینی کام کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں
کیں۔(رپورٹ:محمدبلال
راولپنڈی سٹی وڈسٹرکٹ ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
کتاب اللہ
کے 5 حقوق از بنت ِ طفیل الرحمن ہاشمی، فیضِ مدینہ نارتھ کراچی
قرآنِ کریم
اللہ پاک کی وہ عظیم کتاب ہے جو ایک مسلمان کیلئے مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں پیدائش
سے موت تک اور ازل سے ابد تک کے تمام حالات و واقعات اور مرنے کے بعد کے حالات کو
بھی تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔ طہارت و پاکیزگی،شادی بیاہ، خوشی و غمی،نشست و
برخاست، دوسرے کے ساتھ برتاؤ، روزی کمانے اور خرچ کرنے، جہاد، عدالت، سیاست،حکومت
وغیرہ کے بارے میں بہترین اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔یہ علوم کا سر چشمہ اور ہدایت
کا ایسا مجموعہ ہے جو نہ صرف فرد کو احکام و آداب سکھا کر اس کی شخصیت نکھارتا ہے
بلکہ معاشرے کی اصلاح و تربیت کے لئے بھی کئی رہنما اصول اس کتاب ِمبین کا حصہ ہیں۔
قرآنِ کریم کی روشن تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم ایک ترقی یافتہ، پر امن اور پاکیزہ
معاشرہ تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ دونوں جہاں کا سفر فلاح ونجات کے ساتھ طے کر سکتے ہیں۔
قرآنِ کریم کے حقوق: کتاب اللہ کے بہت سے حقوق بھی ہیں۔ قرآن کا حق یہ ہے کہ اس کی تعظیم کی
جائے، اس سے محبت کی جائے جائے۔اس کی تلاوت کی جائے،اسے سمجھا جائے، اس پر ایمان
رکھاجائے، اس پر عمل کیا جائے اور اسے دوسروں تک بھی پہنچایا جائے۔ یہاں تلاوتِ
قرآن کے چند باطنی آداب ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ مسلمان قرانِ عظیم کی اس طرح تلاوت کریں جیسا کہ تلاوت کرنے
کا حق ہے۔
تلاوتِ
قرآن کے ظاہری آداب:(1)با وضو ہو کر،قبلہ رو ہو کر،مؤدب ہو کر اور عجز
وانکساری کے ساتھ بیٹھیے۔(2) آہستہ پڑھیے اور اس کے معانی میں غور و فکر کیجیے،
تلاوتِ قرآن میں جلد بازی سے کام نہ لیجیے۔(3) دورانِ تلاوت رونا بھی چاہیے، اگر رونا نہ آئے
تو رونے جیسی شکل بنا لیں۔(4) اگر قراءت سے ریاکاری کا اندیشہ ہو یا کسی کی نماز میں
خلل پڑتا ہو تو آہستہ آہستہ تلاوت کریں۔(5) جہاں تک ممکن ہو قرآنِ پاک کو خوش
الحانی کے ساتھ پڑھیں۔
تلاوتِ
قرآن کے باطنی آداب:(1) قرآنِ مجید کی عظمت دل میں بٹھائیں، قرآنِ مجید
پڑھنے سے پہلے اللہ پاک کی عظمت دل میں
بٹھائیں اور خیال کریں کہ یہ کس عظیم ذات کا کلام ہے اور میں کس بھاری کام کیلئے بیٹھا
ہوں۔ (2)قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے وقت دل کو حاضر رکھیں۔ادھر اُدھر خیال نہ کریں، برے
خیالات سے دل کو آلودہ نہ کریں اور جو بے خیالی میں پڑھ چکے اسے از سرنو توجہ
سے پڑھیں۔ (3) ہر حکم کے معنی میں غور و فکر کریں، اگر سمجھ میں نہ آئے تو اسے بار
بار پڑھیں اور اگر کسی آیت کے پڑھنے سے لذت محسوس ہو تو اسے پھر پڑھیں کہ یہ
دوبارہ پڑھنا زیادہ تلاوت کرنے سے بہتر ہے۔ (4)جس طرح آیات کا مضمون تبدیل ہوتا
رہے اسی طرح مضمون کے مطابق دل کی کیفیت بھی بدلتی رہے اور قرآن کے رنگ میں رنگتی
جائے۔(5)قرآنِ مجید کی تلاوت اس طرح کرے کہ گویا یہ قرآن اللہ پاک کی بارگاہ سے سن
رہا ہے اور خیال کرے کہ ابھی اس ذات کی جانب سے سن رہا ہوں۔ (کیمیائے سعادت، ص 241 تا247 ملخصاً)
قرآنِ پاک پر عمل کرنا: علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک کی کتابوں سے مقصود
ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا ہے نہ فقط زبان سے بالترتیب ان کی تلاوت کرنا۔اس کی
مثال یہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ اپنی سلطنت کے کسی حکمران کی طرف کوئی خط بھیجے اور
اس میں حکم دے کہ فلاں فلاں شہر میں اس کے لیے ایک محل تعمیر کر دیا جائے اور جب
وہ خط اس حکمران تک پہنچے تو اس میں دیے گئے حکم کے مطابق عمل نہ کرے البتہ اس خط
کو روزانہ پڑھتا رہے تو جب وہ بادشاہ وہاں
پہنچے گا اور محل نہ پائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ حکمران عتاب بلکہ سزا کا مستحق
ہوگا۔ کیونکہ اس نے بادشاد کا حکم پڑھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا تو قرآن بھی
اسی خط کی طرح جس میں اللہ پاک نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ دین کے ارکان جیسے
نماز اور روزہ وغیرہ کی تعمیر کریں اور بندے فقط قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہیں اور اللہ پاک کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان
کا فقط قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہنا حقیقی طور پر فائدہ مند نہیں۔(روح البيان،
البقرة، تحت الآیۃ:64، 1/155 ملخصاً)
قرآنِ
پاک کی قراءت کے چند احکام:(1) تجوید قرآنِ پاک کی آیت،متواتر
احادیث،صحابہ کرام، تابعین اور تمام ائمہ کرام کے مکمل اجماع کی وجہ سے حق اور
واجب اور الله پاک کے دین اور شریعت کا علم ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ
تَرْتِیْلًاؕ(۴) اسے
مطلقاً ناحق بتانا کلمہ کفر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 6/322-323
ملخصا)(2) قرآنِ پاک کو اتنی تجوید سے پڑھنا
فرضِ عین ہے جس سے حروف صحیح ادا ہوں اور غلط پڑھنے سے بچے۔( فتاویٰ رضویہ، 6/343ملخصاً)(3) جس سےحروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ حروف صحیح ادا
کرنے کی رات دن پوری کوشش کرے اور اگر نماز میں صحیح پڑھنے والے کی اقتدا کر سکتا
ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ آیتیں پڑھے جن کے حروف صحیح ادا کر
سکتا ہو۔ اور یہ دونوں صورتیں نا ممکن ہوں تو کوشش کے زمانے میں اس کی اپنی نماز
ہو جائے گی اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نماز نہیں ہوگی۔ دوسرے کی
اس کے پیچھے کیا ہوگی۔آج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہیں اور صحیح
پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ان کی اپنی نمازیں باطل ہیں۔ (بہار شریعت، 1 /570-571ملخصاً)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ اپنے زمانہ
کے حفاظ کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:افسوس !صد افسوس !کہ اس زمانہ میں حفاظ
کی حالت نہایت نا گفتہ بہ ہے، اکثر ایسا پڑھتے ہیں کہ ”یعلمون“”تعلمون“ کے سوا کچھ
پتا نہیں چلتا، الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں، جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں انہیں دیکھیے تو حروف صحیح ادا نہیں کرتے۔ ہمزہ، الف، عین اور ذ،ز،ظ اور ث،س، ص،ت،ط
وغیرہا حروف میں فرق نہیں کرتے جس سے قطعا ًنماز ہی نہیں ہوتی۔ فقیر کو انہی مصیبتوں
کی وجہ سے تین سال ختمِ قرآنِ مجید سننا نہ ملا۔مولا تمام مسلمان کو توفیق دے کہ مَاۤ اَنْزَلَ
اللّٰهُ( یعنی جس طرح اللہ پاک نے قرآن مجید نازل فرمایا اسی طرح )پڑھنے
کی کوشش کریں .(بہار شریعت، حصہ چہارم، تراویح کا بیان، 1/691-692)
الله پاک ہمیں
صحیح تلفظ، مخارج و قواعد کے ساتھ خشوع و خضوع سے قرآنِ کریم پڑھنے، سمجھنےاور اس
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کا بہترین طریقہ
مع ترجمہ و تفسیر پڑھنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم روز مرہ کے معمول میں تین آیات مع
ترجمہ و تفسیر پڑھنا اپنا معمول بنالیں۔
قرآنِ کریم کی
اہمیت بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور اس کے
حقائق میں تدبر کریں۔ جب قرآنِ کریم کو نازل فرمانے والا سب سے بڑا عظیم ہے تو اس
کی طرف سے بھیجے ہوئے قرآنِ کریم کو سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہیے اور اس میں
انتہائی غور و فکر کرنا اور کامل طریقے سے اس کے دیئے گئے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔
قرآنِ مجید کے
حقوق مندرجہ ذیل ہیں:
1-
قرآنِ پاک کی تعظیم کی جائے: وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ
اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴) (پ 9، الاعراف:
204) ترجمہ كنز العرفان: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش
رہو کہ تم پر رحم ہو۔
2-قرآنِ
پاک کو بے وضو نہ چھوا جائے: لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹) (پ
27، الواقعہ: 79)ترجمہ كنز العرفان: اسے نہ چھوئے مگر باوضو۔
3-قرآنِ پاک کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴) (پ 29، المزمل: 4)ترجمہ كنز العرفان:اور قرآن کو خوب ٹھہر
ٹھہر کر پڑھو۔
4-
قرآن ِپاک کی آیتوں میں غور و فکر کرکے نصیحت حاصل کی جائے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ
اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا
الْاَلْبَابِ(۲۹)
(پ 23، صٓ: 29)ترجمہ کنز العرفان: یہ قرآن ایک برکت والی کتاب ہے جوہم نے تمہاری
طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غوروفکر کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں۔
5
-قرآنِ پاک پر عمل کیا جائے اور دوسروں تک پہنچایا جائے: وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ
لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴) (پ
14، النحل: 44)ترجمۂ كنز العرفان: اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل
فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کرو جوان کی طرف نازل کیا گیا ہے اورتا کہ وہ
غوروفکر کریں۔
قرآن
کو درست پڑھنے کی ترغیب:حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے روایت ہے، رسول الله ﷺ
ہمارے پاس تشریف لائے جب ہم قرآن پڑھ رہے تھے عربی اور عجمی سب ہی تھے۔ فرمایا:
پڑھے جاؤ !سب ٹھیک ہو کچھ قومیں ایسی ہوں گی جو تلاوت کو ایسے درست کریں گی جیسے تیر
سیدھا کیا جاتا ہے۔
شرحِ
حدیث:قرآن
شریف عجمی، عربی،شہری،بدوی سب کے لیے آیا ہے سب ہی تلاوت کیا کرو۔ عجمی یہ خیال نہ
کریں چونکہ ہمارا لہجہ عرب کا سا نہیں ہو سکتا لہٰذا ہم تلاوت ہی چھوڑ دیں جو لہجہ بن پڑے اس میں
پڑھو۔ہاں !صحیح پڑھو،لہجے کا اعتبار نہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 291)
غلط
پڑھنے کا وبال:حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں (غلط پڑھنے
کی وجہ سے) قرآن ان پرلعنت کرتا ہے۔(احیاء العلوم،1/ 364)
یاد رکھیے!قرآنِ
کریم کی تلاوت کرنے والے پر اللہ پاک کی رحمتوں کی بارش بھی اسی وقت ہوگی جبکہ وہ
صحیح معنوں میں قرآنِ پاک پڑھنا جانتی ہوگی۔ جو لوگ صحیح مخارج کے ساتھ قرآنِ پاک
پڑھنا نہیں جانتے وہ ثواب کمانے کے بجائے گناہ کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔
تفسیر
صراط الجنان کی ترغیب:دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے مسلمانوں کی زبان
عربی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمان اپنی اپنی علاقائی اور مادری
زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں اور قرآنِ مجید کی تفاسیر کا زیادہ تر ذخیرہ چونکہ عربی
زبان میں ہے اس لیے اہلِ عرب کے علاوہ دیگر علاقوں میں مقیم مسلمانوں کی اکثر یت عربی
زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان تفاسیر سےفائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ ایسی ضرورت اور حاجت کے
پیشِ نظر بے شمار علما نے تفاسیر لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک صراط الجنان فی تفسیر
القرآن بھی ہے۔ اس میں سب سے پہلے ہر سورۃ کا تعارف بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مضامین
میں فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ پھر اس کے بعد کنز الایمان اور کنز العرفان سے ترجمہ
پیش کیا گیا ہے۔اس کے بعد اس کی انتہائی آسان اور ساده تفسیر بیان کی گئی ہے جس کو
ہر خاص و عام بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں صراط الجنان فی تفسیر القرآن کو
پڑھنےاور خوب خوب فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
قرآنِ مجید، فرقانِ
حمید کی اہمیت و فضیلت خود رب کریم نے ارشاد فرمائی۔ پارہ 8 سورهٔ انعام میں ارشاد
ہوا: وَ هٰذَا كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ
تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵) (پ 8، الانعام:155)
ترجمہ کنزالایمان: یہ برکت والی کتاب ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری
کرو کہ تم پر رحم ہو۔
قرآنِ پاک
اللہ پاک کا بہت ہی مبارک کلام ہے۔ قرآن ِکریم ہدایت کا مرکز ہے۔تمام علوم قرآن میں
موجود ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر
چیز کا واضح روشن اور تفصیلی بیان ہے۔ قرآنِ مجید تو علوم و معارف کا وہ خزانہ ہے
جو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا۔
قرآنِ مجید کے
پڑھنے کے پانچ حق ذکر کیے جاتے ہیں۔ جو درج ذیل ہیں:
(1) قرآنِ پاک
کا ایک حق یہ ہے کہ اسے عرب کے لب ولہجے میں پڑھا جائے۔ کیونکہ پیارے آقا ﷺنے فرمایا:اِقْرَءُواالْقُرْاٰنَ
بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَ اَصْوَا تِہا یعنی
قرآنِ مجید عربی لہجوں اور عربی آوازوں سے پڑھو۔( مراٰۃ المناجیح، 3 /292، حدیث: 2103)
(2)قرآن کا
دوسرا حق قرآنِ پاک کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا ہے۔ پیارے آقاﷺ نے فرمایا:حَسِّنُوا
الْقُرْاٰنَ بِاَ صْوَاتِکُمْ فَاِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ الْقُرْاٰنَ
حسنا
قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن بڑھادیتی ہے۔ (مراٰۃ
المناجیح، 3 /292 ) ایک جگہ ارشاد فرمایا: جو قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں
سے نہیں۔
(3)قرآن پڑھنے
کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانے۔ اس بات کا ثبوت
بھی حدیثِ مبارکہ سے ملتا ہے۔ پیارے پیارے شہد سے بھی میٹھے آقا ﷺکا فرمان ہے:وہ
شخص قرآن پر ایمان ہی نہ لایا جو اس کے محرمات کو حلال جانے۔ (مراٰة المناجیح، 3 /
290 )
تلاوتِ قرآن
جب مفیدہے جب اس کے احکام پر ایمان ہو، ایمان کے بغیر نہ تلاوت مفید ہے نہ قرآن
ساتھ رکھنا۔ حلال و حرام پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے۔ پھر تلاوت کا ثواب کیسے
ملے گا! غذا، دوا زندہ کو مفید ہے نہ کہ مردے کو۔
(4)قرآنِ پاک
کا چو تھا حق یہ ہے کہ قرآن کی پیروی کریں۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ هٰذَا كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ
تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵) (پ 8، الانعام:155)
ترجمہ کنزالایمان: یہ برکت والی کتاب ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری
کرو کہ تم پر رحم ہو۔
بیان کردہ آیتِ
مقدسہ کے تحت صراط الجنان جلد 3 صفحہ نمبر 247 پر لکھا ہے: اس آیت سے معلوم ہوا!
قرآنِ مجید کا ایک حق یہ ہے کہ وہ اس مبارک کتاب کی پیروی کریں، اس کے احکام کی
خلاف ورزی کرنے سے بچیں۔ ( اسلامی بیانات، 6/ 97)
(5)قرآن کا
پانچواں اور اہم حق یہ ہے کہ اس کو باوضو پڑھیں۔ کیونکہ اللہ پاک نے اپنے عظیم کلام
میں ارشاد فرمایا:
لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹) (پ 27، الواقعہ:
79)ترجمہ كنز العرفان: اسے نہ چھوئے مگر باوضو۔یعنی اسے پاکیزگی کی حالت میں ہی
چھوا جاسکتا ہے ورنہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
قرآنِ مجید کو
سمجھ کر پڑھنے سے دلوں کو سرور اور سکون ملتا ہے۔ روح مسرور ہو جاتی ہے۔ باطن
کشادہ ہو جاتا ہے۔ دل منور ہو جاتا ہے۔ چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔آنکھوں سے آنسو جاری
ہو جاتے ہیں۔اللہ واحد و یکتا کی قدرتِ کا ملہ اور رحمتِ عامہ پر مزید یقین پختہ
ہو جاتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنِ مجید کو سمجھ کر پڑھیں۔ اس کے احکامات کے
بارے میں جاننے کیلئے تفسیرصراط الجنان کا مطالعہ کیا جائے۔ یہ بالکل آسان انداز پر لکھ کرامت کی خیر
خواہی کا سامان کیا ہے۔ روزانہ ترجمہ و تفسیرسننے یا سنانے یا پھر انفرادی طور پر
پڑھنے کی عادت بنائیں اور ثواب کمائیں۔
قرآنِ کریم اللہ پاک کی آخری کتاب ہے جو اس نے اپنے آخری نبی، محمدِ عربی ﷺ
پر نازل فرمائی۔ اس مبارک کتاب کے لوگوں پر بہت سے حقوق ہیں جن میں سے پانچ درج
ذیل ہیں:
1-کتاب
اللہ پر ایمان رکھا جائے:ارشادِ باری
ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ
عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ- (پ 5، النساء:136) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو!اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس
کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ) ایمان رکھو۔
2-درست
قواعد کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے:رب
کریم فرماتا ہے:
وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴) (پ 29، المزمل:
4)ترجمہ کنز العرفان: اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس کا معنی یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ اس طرح
قرآن پڑھو کہ حروف جُدا جُدا رہیں، جن مقامات پر وقف کرنا ہے ان کا اور تمام
حرکات (اور مَدّات) کی ادائیگی کا خاص خیال رہے۔ آیت کے آخر میں ’’ تَرْتِيْلًا‘‘ فرما کر اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والے
کے لئے ترتیل کے ساتھ تلاوت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ (تفسیرمدارک، ص1292)
خیال رہے کہ قرآنِ پاک کو اتنی تجوید سے پڑھنا فرضِ عین ہے جس سے حروف
صحیح ادا ہوں اور غلط پڑھنے سے بچے۔ (فتاویٰ رضویہ، 6 /343 ملخصاً)
اگر آپ درست تجوید سے قرآنِ پاک نہیں پڑھ سکتیں تو دعوتِ اسلامی کے زیرِ
اہتمام مدرسۃ المدینہ بالغات میں داخلہ لے کر اپنے قواعد ضرور درست کیجیے۔ اس کے
علاوہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلزسے گھر
بیٹھے صحیح مخارج کے ساتھ قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے۔
3-اس
میں غور وفکر کیا جائے:اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ
الْقُرْاٰنَؕ- (پ 5، النساء: 82) ترجمہ کنز العرفان: تو کیا یہ لوگ
قرآن میں غور نہیں کرتے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: قرآنِ کریم میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی
عبادت ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت
سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر
ہے۔ (احیاء العلوم، 5 /170)
واضح رہے کہ قرآنِ پاک میں وہی غوروفکر معتبر اور
صحیح ہے جو صاحبِ قرآن ﷺکے فرامین اور حضور پُرنور ﷺ کے صحبت یافتہ صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے علوم کی
روشنی میں ہو، کیونکہ وہ غور و فکر جو اُس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قرآن
اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مُشاہدہ کرنے والے بزرگوں کے
غوروفکر کے خلاف ہو، وہ یقینا ًمعتبر نہیں۔ اس لئے دورِ جدید کے اُن نت نئے محققین
سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علما، فقہاء، محدثین ومفسرین اور ساری امت کے
فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا
ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقینا ًگمراہ
ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان)
4-جب
تلاوتِ قرآن کی جارہی ہو تو خاموش رہ کر توجہ سے سنا جائے:ارشادِ باری ہے: وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ
وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴) (پ9،الاعراف:204) ترجمہ كنز
العرفان: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم
ہو۔
علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت سے ثابت ہوا
کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش
رہنا واجب ہے۔ (مدارک، ص401)
بعض لوگ ختم شریف میں مل کر زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے۔( تفسیر
صراط الجنان)
5:اس
کے احکامات پر عمل کیا جائے:علامہ اسماعیل
حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک
کی کتابوں سے مقصود ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا ہے، نہ کہ فقط زبان سے
بِالتَّرتیب ان کی تلاوت کرنا۔
حضرت معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے
فرمایا: جو قرآن پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ
کو ایسا تاج پہنایا جائے گا، جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی، جو اگر سورج
تم میں ہوتا تودنیاوی گھروں میں ہوتی، تو اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو
اس پر عامل ہو۔ (ابو داؤد،حدیث: 1453)
ہمیں چاہئے کہ کتاب اللہ کے حقوق کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کی ادائیگی میں
کوشاں رہیں۔ پابندی کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی عادت بنائیں اور روزانہ کم
سے کم تین آیات، ترجمہ و تفسیر کے ساتھ ضرور پڑھیں۔ اس کیلئے دورِ حاضر کے تقاضوں
کے مطابق مستند تفاسیر کی روشنی میں لکھی گئی تفسیر صراط الجنان کا مطالعہ کریں۔
صراط الجنان کی موبائل ایپلیکیشن بھی پلے اسٹور پر موجود ہے، جبکہ دعوتِ اسلامی کی
ویب سائٹ سے اس کے آڈیو کلپس بھی ڈاؤن لوڈ کرکے سنے جاسکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں
کتاب اللہ کے حقوق ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین ﷺ
ار یب بن یامین (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
کنزالایمان کراچی پاکستان)
زبان اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے
اللہ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کی آفتیں کم نہیں ہیں۔ اس زبان کی آفتوں
میں سے ایک بڑی آفت بہتان کی آفت ہے جو انسان کو اللہ کے دردناک عذاب کا مستحق بناتا
ہے۔ ارشادِ باری ہے: اِنَّ
الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی
الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۲۳)ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک وہ جو عیب
لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اُن
کے لیے بڑا عذاب ہے۔(پ18،النور:23)
اس کے ساتھ ساتھ انسان معاشرتی طور پر بھی برا بن جاتا ہے ۔
اس طرح کہ وہ سب کے نزدیک برا بن جاتا ہے ، سب اس سے دور رہتے ہیں اور اس کی بات
کا کوئی اعتبار بھی نہیں کرتا۔ اس کی مذمت پر 5فرامینِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم درج ذیل ہیں:
(1) بہتان کیا ہے ؟ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمھیں معلوم ہے غیبت
کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کی، اللہ و رسول (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) خوب جانتے
ہیں ۔ ارشاد فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا اس چیز کے ساتھ ذکر کرے جو
اسے بری لگے۔ کسی نے عرض کی، اگر میرے بھائی میں وہ موجود ہو جو میں کہتا ہوں (جب
تو غیبت نہیں ہوگی)۔ فرمایا: جو کچھ تم کہتے ہو، اگر اس میں موجود ہے جب ہی تو غیبت
ہے اور جب تم ایسی بات کہو جو اس میں ہو نہیں، یہ بہتان ہے۔(بہارِ شریعت،3/529)
(2) بہتان کا عذاب: نبیٔ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا : جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو
اللہ پاک اس وقت تک دوزخیوں کے کیچڑ ،پیپ اور خون میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی
ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔ (غیبت کی تباہ کاریاں، ص295) (3) غلام پر تہمت کا وبال : حضورِ اکرم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس نے اپنے مَملُوک (غلام یا لونڈی) پر زنا کی
تُہمت لگائی اگر وہ حقیقت میں ایسا نہ ہو جیسا اس نے کہا تو بروزِ قیامت اسے
حدِّقَذف لگائی جائے گی۔(76 کبیرہ گناہ،ص83)
(4) گناہ کے الزام کا عذاب: حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مناظر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ کچھ
لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا ۔میں نے جبرئیل علیہ السّلام سے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ
لوگوں پر بِلاوجہ اِلزامِ گُناہ لگانے والے ہیں۔ (غیبت کی تباہ کاریاں،ص 295) (5) ہلاک کرنے والا گناہ : سات
ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ یہ کہہ کر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان
میں بھولی بھالی پاکدامن مسلمان عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کا بھی ذکر فرمایا۔(76
کبیرہ گناہ،ص82)
بہتان کی آفت جس
میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ملوث ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا علم نہ ہونا اور
نہ ہی اس سے بچنے کا احساس ہے۔ اللہ ہمیں بہتان کی آفت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد زوہیب حسن بن خلیل احمد(درجہ ثالثہ (جامعۃُ
المدينہ ڈگری، پاکستان)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بہتان ایک قبیح فعل ہے۔ کسی
مسلمان پر بہتان باندھنا سخت قابلِ نفر ت عمل ہے۔ قراٰنِ مجید اور احادیث مبارکہ
میں بہتان کے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا یَفْتَرِی
الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْكٰذِبُوْنَ(۱۰۵)ترجَمۂ کنزُالایمان: جھوٹ بہتان وہی
باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتےاور وہی جھوٹے ہیں۔(پ14،النحل:105)
حدیث مبارکہ ہے جھوٹے الزامات لگانے والوں کا انجام: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مناظر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ
کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا۔ میں نے جبرئیل علیہ السّلام سے اُن کے
بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر بِلاوجہ اِلزامِ گُناہ لگانے
والے ہیں۔ (شرح الصدور، ص184)
بہتان کی تعریف: کسی شخص کی موجودگی یا غیر موجودگی میں اُس پر جھوٹ
باندھنا بہتان کہلاتا ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ، 2/200) تعریف کی وضاحت اور مثال: اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھئے
کہ بُرائی نہ ہونے کے باوُجُود اگر پیٹھ پیچھے یا رُوبَرو وہ برائی اُس کی طرف
منسوب کردی تو یہ بُہتان ہوا مثلاً پیچھے یا منہ کے سامنے ریا کار کہہ دیا اور وہ
ریا کار نہ ہو یا اگر ہو بھی تو آپ کے پاس کو ئی ثُبُوت نہ ہو کیوں کہ ریا کاری کا
تعلُّق باطِنی امراض سے ہے لہٰذا اس طرح کسی کو ریاکار کہنا بہتان ہوا۔ (فرض عُلوم
سیکھئے، ص698)
بہتان کا حکم : بہتان تراشی حرام ، گناہِ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا
کام ہے۔ (فرض علوم سیکھتے ، صفحہ 698) اعلی حضرت مولانا شاہ امام احمدرضاخان رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: کسی مسلمان کو
تہمت لگانی (بہتان باندھنا) حرامِ قطعی ہے۔ (فتاوی رضویہ ، 24/ 386)
بہتان کی مذمت پر 5
احادیث:(1) بہتان باندھنے والے کو جہنم کے ایک مقام رَدْغَۃُ
الْخَبَال میں رکھا جائے گا: اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا: جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں
پائی جاتی تو اس کو اللہ پاک اس وَقْت تک رَدْغَۃُ الْخَبَال میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے
۔(ابوداؤد،3/428 ، حدیث:3597) رَدْغَۃُ الْخَبَال جہنّم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنمیوں کا خون اور پِیپ جمع ہو
گا ۔(بہارِ شریعت ، 2/ 364)
(2) جھوٹے گواہ لگانے والے پر جہنم واجب : ہمارے پیارے آقا مکی
مدنی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد کے مایا: جھوٹے گواہ کے
قدم ہٹنے نہ پائے گے کہ اللہ پاک اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔ ( ابن ماجہ، 3/123،
حدیث: 2373 )(3) بہتان
لگانے والے کو جہنم کے پُل پر روک لیا جائے گا: رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد
کرے (بہتان باندھے) تو اللہ پاک جہنم کے پُل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے
کہنے کے مطابق عذاب پائے۔ (ابوداؤد، جلد 4، حديث: 4883)
(4) بہتان باندھنے والا جہنم میں قید: فرمانِ آخری نبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جس نے کسی کی کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں تاکہ
اس کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تو اللہ رب العزت اسے جہنم میں قید کر دے گا یہاں
تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات ثابت کرے۔ (اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک عذاب
میں مبتلا رہے گا) (معجم الأوسط، 6/ 327، حدیث: 8936)
(5) کسی دوسرے پر جان بوجھ کر بہتان نہ باندھو: حضرت عبادہ بن
صامت رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے اور وہ لیلۃ العقبہ کے نقیب بنائے
گئے تھے۔ یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایسے
وقت ارشاد فرمایا جب کہ آپ کے گر دصحابہ کی ایک جماعت تھی کہ ان باتوں پر مجھ سے
بیعت کروں کہ اللہ پاک کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ
کرو گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گے، خود جان بوجھ کر کے کسی دوسرے پر بہتان
نہ باندھو گے، اچھی بات میں نافرمانی نہ کروگے، جس نے اس کو پورا کیا اس کا ثواب
اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے اور جو ان گناہوں میں کسی کا ارتکاب کر بیٹھے اور اس کو
دنیا میں سزا دی جائے تو یہ اس کیلئے کفارہ اور پاک کرنے والی ہے اور جو ان گناہوں
میں سے کچھ کرے اور الله پاک اس گناہ کو چھپائے رکھے تو یہ الله کے سپرد ہے چاہے
اس کو معاف فرمادے چاہے تو آخرت میں سزا دے، تو ہم نے ان سب باتوں پر حضورِ اقدس صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بیعت کی۔ (صحیح بخاری شریف ، 1/7)
بہتان سے بچنے کا
درس: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بہتان و تہمت کے کثیر دنیوی و
اخروی نقصانات ہیں۔ افسوس ! فی زمانہ جھوٹی گواہی دینا، بہتان و تہمت لگانا ایک
معمولی کام سمجھا جاتا ہے اور بہتان و تہمت لگانا، الزام تراشی کرنا تو اس قدر عام
ہے کہ کوئی حد ہی نہیں جس کا جو دل کرتا ہے وہ دوسروں پر الزام لگا دیتا ہے اور
جگہ جگہ ذلیل کرتا ہے۔ یاد رہے کہ بہتان و تہمت لگانا، جھوٹی گواہی دینا اور کسی
پر جان بوجھ کر غلط الزام لگانا انتہائی مذموم اور قبیح فعل ہے۔
جان لو ! برے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی برے ہیں۔ اس سے
پہلے کہ دنیا سے رخصت ہونا پڑے بہتان و تہمت سے توبہ کر لیجئے۔ بہارِ شریعت حصہ 16
صفحہ 538 پر ہے: بہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا ضروری ہے بلکہ جن
کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضروری ہے کہ میں نے جھوٹ کہا
تھا جو فلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔ (بہارِ شریعت ،3/ 538)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! قراٰن و احادیث سے واضح ہوا کسی
پر بہتان و تہمت لگانا حرام فعل ہے اور اسلامی تعلیمات کا لبِّ لُباب ہے کہ دوسروں
کو بلا وجہ تکلیف نہ دو۔ اللہ پاک ہمیں دوسروں پر بہتان و تہمت لگانے ، چھوٹی گواہی
اور الزام تراشی سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم۔
محمد مدثر رضوی عطاری (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
فاروقِ اعظم سادھو کی لاہور پاکستان)
اللہ پاک نے انسان پیدا کیا کہ وہ نیکی کرے اور گناہوں سے بچے۔
مگر انسان آج گناہوں کے سوا کوئی کام نہیں کرتا۔ انہی گناہوں میں سے جھوٹ، غیبت، بخل،
چغلی، حسد، تکبر ، وعدہ خلافی، بہتان تراشی وغیرہ
الله پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: لَوْ لَاۤ اِذْ
سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ
خَیْرًاۙ-وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ(۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایسا کیوں
نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک
گمان کرتے اور کہتے: یہ کھلا بہتان ہے۔(پ18،النور:12)
فرامینِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ فرمائیے
:۔
(1) حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسولِ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی
غرض سے ا س پر الزام عائد کرے تو اللہ پاک اسے جہنم کے پُل پر اس وقت تک روکے گا
جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات (کے گناہ) سے (اس شخص کو راضی کر کے یا اپنے گناہ کی
مقدار عذاب پاکر) نہ نکل جائے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب من ردّ عن مسلم غیبۃ، 4/ 354، حدیث: 4883)
(2) حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا : جس نے کسی شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں تا کہ اس
کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تو اللہ پاک اسے جہنم میں قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ
اس کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات ثابت کرے۔ (اس سے مراد یہ ہے کہ طویل عرصے تک وہ
عذاب میں مبتلا رہے گا)۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: مقدام، 6 / 327، حدیث: 8936)
( 3) نبیِّ رَحمت،شفیعِ امّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں
پائی جاتی تو اس کو اللہ پاک اس وَقْت تک رَدْغَۃُ الْخَبَال میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے
۔(ابوداؤد،3/428 ، حدیث:3597) رَدْغَۃُ الْخَبَال جہنّم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنمیوں کا خون اور پِیپ جمع ہو
گا ۔(بہارِ شریعت ، 2/ 364)
(4) روایت ہے حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت
لگائی اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا
نہ تھا پھر فرمایا میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے محبت میں افراط کرنے
والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں اور بغض کرنے والے جن کا بغض
اس پر ابھارے گا مجھے بہتان لگائیں گے ۔ (احمد)
اللہ پاک سے دعا ہیں کہ وہ ہمیں بہتان سے بچنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
عطاء المصطفى صديق (درجہ دورة الحدیث مرکزی جامعۃُ
المدینہ فیضان مدینہ فیصل آباد پاکستان)
محترم اسلامی بھائیو! بہتان ایک
کبیرہ گناہ ہے۔ جس کی مذمت اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں بیان کی۔ ترجَمۂ
کنزُالایمان: وہ لوگ جو ایماندار مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی جرم کے تکلیف دیتے
ہیں بے شک انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے ذمے لے لیا۔(پ27،الاحزاب:58) بہتان کی
مذمت بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ
علیہ فرماتے ہیں ۔ (مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم بہتان جیسے گناہ سے بچیں۔
سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ بہتان کسے کہتے ہیں؟ بہتان
یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص پر کوئی ایسی بات کہے جو اس میں نہ ہو تو یہ بہتان کہلاتا
ہے۔ مثال: ایک شخص دوسرے شخص کے بارے میں یہ کہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے۔ حالانکہ وہ
جھوٹ نہ بولتا ہو تو اس پہلے شخص نے دوسرے پر بہتان باندھا ہے۔
احادیث طیبہ میں مذمت
(1) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام علیہم
الرضوان سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابۂ کرام علیہم
الرضوان نے عرض کی: ہم میں مفلس(یعنی غریب مسکین) وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور
نہ ہی کوئی مال۔ ارشاد فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ
اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے فلاں کو گالی دی ہو گی، فلاں پر تہمت لگائی ہو
گی، فلاں کا مال کھایا ہو گا، فلاں کا خون بہایا ہو گا اور فلاں کو مارا ہو گا۔ پس
اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کا حصہ دے دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمّے آنے والے
حقوق پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے
جائیں گے، پھر اسے جہنَّم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص1069، حدیث:6578)
(2) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا: جس نے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے
اللہ کی مخالفت کی اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر میں جھگڑے تو وہ اللہ کی ناراضگی
میں رہے گا یہاں تک کے اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے اور جس نے کسی مؤمن کے بارے
میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہ ہو یعنی (بہتان لگایا) اللہ اس کا ٹھکانہ
جہنمیوں میں بنائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے (ابوداؤد
شریف )
(3) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ آپ فرماتے ہیں: بے
گناہ لوگوں پر الزام لگانا (بہتان باندھنا) آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے۔
(کنزالعمال) (4) حضرت
معاذ بن انس رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے ا س پر الزام عائد
کرے(یعنی بہتان لگائے) تو اللہ پاک اسے جہنم کے پُل پر اس وقت تک روکے گا جب تک وہ
اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع نہ کرلے۔( ابو داؤد)
(5) حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی (یعنی بہتان باندھا) تو اللہ
پاک اسے دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز آجائے۔ (مسند
احمد بن حنبل)
الغرض مسلمانوں پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات
لگانے پر بہت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں اور اسے گناہِ کبیرہ کہا گیا ہے۔ تو ہمیں
اس عمل سے بچتے رہنا چاہیے اور اگر زندگی میں کسی پر بہتان باندھا ہے۔تو اس سے
معافی مانگنی چاہیے تاکہ آخرت میں ہم عذاب سے محفوظ رہ سکیں۔ اللہ پاک عمل کی
توفیق عطا فر مائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ظہیر احمد ( درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ صحابہ
و اہلبیت پاکپتن شریف، پاکستان)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیوں! بہتان ایک برا فعل ہے یہ گناہِ
کبیرہ ہے اور اس کو ہم عام سی چیز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنا کیا ہوا کام
لوگوں کے سر پر تھوپ دیتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں فساد اور بدامنی پیدا ہوتی ہے۔ بہتان کی تعریف : کسی بے
قصور شخص پر اپنی طرف سے گھڑ کر کسی عیب کا الزام لگانا بہتان کہلاتا ہے۔ جو سخت
حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ پاک نے قراٰنِ
پاک میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حکم فرمایا کہ مسلمان عورتوں سے چند باتوں کی بیعت لیں۔ انہی
باتوں میں یہ بھی ہے کہ وہ بہتان نہ لگائیں۔ زنا کے علاوہ کسی دوسرے عیب مثلاً کسی
پر چوری، ڈاکہ اور قتل وغیرہ کا اپنی طرف سے گھڑ کر الزام لگا دینا یہ بھی بہتان
ہے۔ جو گناہِ کبیرہ ہے۔ لہذا ہر طرح کے بہتانوں سے بچنا ضروری ہے۔ چنانچہ الله پاک
قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کوئی خطا یا
گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔(پ5،
النسآء:112)
احادیث میں بھی بہتان کی مذمت آئی ہے۔ چنانچہ 5 احادیث
ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث نمبر (1) حضرت ابو
درداء رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں
تا کہ اس کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تو اللہ پاک اسے جہنم میں قید کر دے گا یہاں تک
کہ وہ اس کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات ثابت کرے۔ (اس سے مراد یہ ہے کہ طویل عرصے
تک وہ عذاب میں مبتلا رہے گا)۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: مقدام، 6 / 327، حدیث: 8936)
حدیث نمبر (2) امی امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ
نے فرمایا کہ کسی بے قصور پر بہتان لگانا یہ آسمانوں سے بھی زیادہ بھاری گناہ
ہے۔(کنز العمال،کتاب الاخلاق،باب البہتان،3/322،حدیث:8806)حدیث نمبر (3) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،سرکارِ
دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ
مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا:تم جانتے ہو کہ مؤمن
کون ہے؟ صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم زیادہ جانتے ہیں ۔ارشاد فرمایا: مؤمن وہ ہے جس سے ایمان والے
اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس
سے بچے۔( مسند امام احمد ، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ، 2 / 654، حدیث: 6942)
حدیث نمبر(4) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کسی پاک دامن عورت پر زنا کا بہتان لگانا ایک سو
برس کے اعمالِ صالح کو غارت اور برباد کر دیتا ہے۔(کنزا لعمال، 3/ 322)حدیث نمبر(5) حضرت عمرو بن
العاص رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: جس مرد یا عورت نے اپنی لونڈی کو ’’اے زانیہ‘‘ کہا جبکہ اس کے زنا
سے آگاہ نہ ہو تو قیامت کے دن وہ لونڈی انہیں کوڑے لگائے گی، کیونکہ دنیا میں ان
کے لئے کوئی حد نہیں۔ (مستدرک، کتاب الحدود، ذکر حد القذف، 5 / 528، حدیث: 8171)
Dawateislami