9 مئی 2025ء کو شعبہ معاونت برائے اسلامی
بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت وہاڑی ڈسڑکٹ کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں صوبائی،
ڈسڑکٹ اور تحصیل ذمہ دار اسلامی بھائیوں
نے شرکت کی۔
صوبائی ذمہ دار اقبال عطاری نے اس مدنی مشورے
میں ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے ماہانہ کارکردگی، پیشگی و عملی شیڈول اور قربانی
کی کھالوں کے حوالے سے مشاورت کی۔
صوبائی ذمہ دار نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی
ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں عشر، گلی گلی مدرسۃالمدینہ، مدرسۃالمدینہ بالغات اور
روحانی علاج کے بستوں کے اہداف دیئے جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: محمد علی شعبہ معاونت برائے ا سلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
CEO دارالمدینہ اور دیگر ذمہ داران کی فیصل آباد میں
ہونے والی پیرنٹ مینجمنٹ میٹنگ میں شرکت
دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم کے ذمہ
داران تعلیم و تربیت کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور والدین کے اطمینان کو یقینی
بنانے کے لئے کیمپسز میں ہونے والی پیرنٹ مینجمنٹ میٹنگز (PMM) میں شرکت کرتے ہیں ۔
گزشتہ روز دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول
سسٹم کے CEO ڈاکٹر دانش اقبال عطاری ، ڈائریکٹر ایجوکیشن عابد
سہیل اور صوبائی ذمہ دار (provincial
head) عدنان یعقوب نے فیصل آباد میں ہونے والی PMM میں شرکت کی ۔
پیرنٹ مینجمنٹ میٹنگ کا مقصد والدین اور اسکول
کے تعاون کو مضبوط بنانا، مستقل تعاون، بہتر کمیونی کیشن اور مثبت تعلیمی ماحول کو
یقینی بنانا تھا۔ میٹنگ میں والدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔(رپورٹ:غلام محی الدین ترک ،اردو کانٹینٹ رائٹر
مارکیٹنگ اینڈ کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ دارالمدینہ، ہیڈ آفس کراچی ، ویب ڈسک
رائٹر:غیاث الدین عطاری)
شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے
تحت 7 مئی 2025ء کو لودھراں ڈسٹرکٹ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں صوبائی، ڈسٹرکٹ اور تحصیل ذمہ دار اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
میٹنگ کے دوران اسلامی بھائیوں سے مشاورت
کرتےہوئے صوبائی ذمہ دار اقبال عطاری نے شعبے کی ماہانہ کارکردگی ، پیشگی و عملی
شیڈول اور قربانی کی کھالوں کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کو اہداف دیئے۔
اسی طرح صوبائی ذمہ دار نے عشر، گلی گلی
مدرسۃالمدینہ، مدرسۃالمدینہ بالغات اور روحانی علاج کے بستوں پر تبادلۂ خیال کیا
جس پر وہاں موجود اسلامی بھائیوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔(رپورٹ: محمد علی شعبہ
معاونت برائےا سلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
پنجاب پاکستان کے ڈویژن ساہیوال میں شعبہ
معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت 4 مئی 2025ء کو ذمہ داران کا مدنی
مشورہ منعقد ہوا جس میں صوبائی، ڈویژن اور
ڈسٹرکٹ ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرکت ہوئی۔
شعبے کے دینی کاموں کے متعلق ذمہ داران سے کلام
کرتے ہوئے صوبائی ذمہ دار اقبال عطاری نے مدرسۃالمدینہ بالغات، گلی گلی مدرسۃالمدینہ، محارم اسلامی بھائیوں کے
سیکھنے سکھانے کے حلقے اور فیضانِ صحابیات وزٹ کے اہداف پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے روحانی علاج کے
بستوں سمیت دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں کی کارکردگی پر مشاورت کی جس پر تمام
ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔(رپورٹ: محمد علی شعبہ معاونت برائےا سلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
ڈویژن فیصل آباد، پنجاب میں دعوتِ اسلامی کے
شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے تحت 3 مئی 2025ء کو ذمہ داران کا مدنی مشورہ
ہوا جس میں صوبائی، ڈویژن اور سٹی ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرکت ہوئی۔
صوبائی ذمہ دار اقبال عطاری نے شعبے کے متعلق ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے
مدرسۃالمدینہ بالغات، گلی گلی مدرسۃالمدینہ، محارم اسلامی بھائیوں کے سیکھنے
سکھانے کے حلقے اور فیضانِ صحابیات وزٹ کے اہداف پر تبادلۂ خیال کیا۔(رپورٹ: محمد علی شعبہ معاونت برائےا سلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
محمد عدیل عطاری بن محمد عاشق ( درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
اسلام میں
بہت ساری چیزوں کے بارے میں حقوق بیان
فرمائے گئے ہیں جن میں نماز روزے حج زکوٰۃ
وغیرہ کے حقوق بھی شامل ہیں اور کتابوں کے حقوق بھی بیان فرمائے گئے ہیں تاکہ مسلمان ان پر عمل کرکے دنیا اور آ خرت میں کامیابی حاصل کر
یں اور علم دین حاصل کرنے کے لیے کتابوں کا ادب بھی ضروری ہے ۔
حقوق
نمبر 1 : کتابوں پر کوئی چیز نہ رکھنا : کتاب پر کوئی دوسری چیز نہ رکھی جائے حتّٰی کہ قلم دوات
حتّٰی کہ وہ صندوق جس میں کتاب ہو اس پر کوئی چیز نہ رکھی جائے۔ (بہار شریعت حصہ 2
صفحہ نمبر 331)
حقوق
نمبر 2 : کتابوں کو بےوضو نہ چھوئے : امام برہان الدین زرنوجی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: علم کی تعظیم میں سے
کتاب کی تعظیم کرنا طالب علم کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ کتاب کو باوضو ہو کر چھوئے۔
(کتابوں کے عاشق صفحہ نمبر 29 )
حقوق
نمبر 3: کتابوں کو بکھرے ہوئے نہ رکھیں: امام بدر الدین محمد بن جماعہ فرماتے ہیں: ہم کسی کتاب کا مطالعہ کریں یالکھیں تو اسے زمین
پر بکھرے ہوئے نہ چھوڑیں بلکہ کسی چیز پر رکھیں تاکہ ترتیب خراب نہ ہو اور زمین پر
نہ رکھی جائے کہ کہیں بوسیدہ نہ ہو جائے۔ (کتابوں کے عاشق صفحہ نمبر 28)
حقوق
نمبر 4: کتابوں کی طرف پاؤں نہ پھیلائے جائیں: کتاب کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پاؤں نہ پھیلائے
جائیں اور نہ کتاب کے اوپر سیاہی وغیرہ رکھی جائے۔ (کتابوں کے عاشق صفحہ نمبر 30)
حقوق
نمبر5: کتابوں کو بے ترتیب نہ رکھیں: کتابیں رکھنے میں ادب کا لحاظ رکھیں جیسے سب کے اوپر قران پاک پھر احادیث
پھر تفاسیر پھر شروح حدیث پھر اصول دین پھر اصول فقہ پھر فقہ تو پھر نحو اور صرف
پھر علم عروض کے متعلق کتابیں رکھی جائیں گی اگر ایک فن کی دو کتابیں ہوں تو
اسےاوپر رکھا جائے گا جس میں قرآن واحادیث مبارک زیادہ ہو ں اور اگر اس میں بھی
برابر ہو تو مصنف کی جلالت علمی کو فوقیت دی جائے گی اور اگر مصنفین بھی برابر ہو
تو اب اس کتاب کو ترجیح دے جسے علماء زیادہ پڑھتے ہیں۔ (کتابوں کے عاشق صفحہ نمبر
29 )
نوٹ:
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
قاری احمد رضا عطّاری ( درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
کتاب اور
علم بہترین میراث ہیں کہ یہ وہ وراثت ہے جس میں تفریق نہیں اور وہ خزانہ ہے جس پر
زکوۃ واجب نہیں ، کوئی حاسد حیلہ سازی کر کے چھین نہیں سکتا، کوئی چور چرا نہیں
سکتا اور کوئی پڑوسی دعوی نہیں کر سکتا اور نہ کوئی جھگڑا کر کے اپنا حق جتا سکتا
ہے۔ (عشاق الكتب، ص 56)
اسی اہمیت
کے کےپیش نظر کتاب و سنت میں کتاب کے حقوق بیان کیے ہے چنانچہ آپ بھی کتاب کے پانچ
حقوق پڑھیے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے۔
تعظیم
کرنا:کتاب کا ایک حق یہ بھی ہے
کہ اس کی تعظیم کی جائے جیسے کہ راہ علم میں ہے:تعظیم علم میں کتاب کی تعظیم کرنا
بھی شامل ہے۔ لہذا طالب علم کو چاہیے کہ کبھی بھی بغیر طہارت کے کتاب کو ہاتھ نہ
لگائے۔(تعليم المتعلم طريق التعلم مترجم صفحہ 33مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
2:
کتاب پر کوئی چیز نہ رکھنا: امام
فخر الاسلام حضرت سیدنا قاضی خان عَلَیہ رَحْمَۃ الرَّحمن فرمایا کرتے تھے کہ
کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے
مگر اولی یہ ہے کہ اس سے بچا جائے ۔(تعليم المتعلم طريق التعلم مترجم صفحہ 33مطبوعہ
مکتبہ المدینہ کراچی)
وضو
کرنا:شمس الائمہ حضرت سیدنا
امام سرخسی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ رحمہ اللہ تعالی علیہ
کا پیٹ خراب ہو گیا۔ آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اور بحث و
مباحثہ کیا کرتے تھے۔ پس اس رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو 17 با روضو کرنا
پڑا کیونکہ آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے۔ (تعليم المتعلم طريق التعلم
مترجم صفحہ 33مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
4:کتابوں
کی طرف پاؤں نہ کرنا: طالب علم
کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طرف پاؤں نہ کرے۔ (تعليم المتعلم طريق
التعلم مترجم صفحہ 33مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
5:ترتیب
قائم رکھنا : کتابوں کا ایک حق یہ
بھی ہے کہ ان کو ترتیب سے رکھنا یعنی سب سے اوپر قران پاک اس سے نیچے قران پاک کی
تفسیر پھر حدیث پھر اصول حدیث پھر فقہ اور پھر اس کے بعد دیگر اسلامی کتب رکھی جائیں۔
اللہ پاک ہمیں کتابوں کے حقوق ادا کرنے اور اسے
دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
کتابیں نوری
علم ہیں اورہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وہ ہماری سوچ کو وسعت دیتی ہیں، ہماری
معلومات میں اضافہ کرتی ہیں، اور ہمیں نئی دُنیاؤں سے روشناس کرتی ہیں ، اس بنا پر
ہم کتابوں کی حقوق مد نظر رکھیں گے تو ہمیں ان سے فیض حاصل ہو گا کتابوں کے بارے میں
بہت سے علماء و مشائخ اقوال بیان ہیں ان میں سے کچھ اقوال آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
بغیر وضو کے ہاتھ نہ لگانا : حضرت شیخ شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ کا قول آپ
فرماتے ہیں کہ میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کے سبب حاصل کیا وہ اس طرح
کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کے کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا ( راہِ علم،صفحہ 33 (بتغیر)
،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)
شمس الائمہ حضرت سیدنا امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ : کہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃ اللهِ تعالی علیہ کا
پیٹ خراب ہو گیا۔ آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اور بحث و مباحثہ
کیا کرتے تھے۔ پس اس رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو 17 بار وضو کرنا پڑا کیونکہ
آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے۔( راہِ علم، صفحہ 34(بتغیر)،مطبوعہ مکتبۃ
المدینہ،کراچی)
دوات نہ رکھنا : امام اجل فخر الاسلام حضرت سیدنا قاضی خان عَلَیہ رَحْمَۃً
الرحمن کا فرمان ہے کہ کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہو
تو ایسا کرنا جائز ہے مگر اولی یہ ہے کہ اس سے بچا جائے۔ ( راہِ علم،( بتغیر) صفحہ
33،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)
کتاب کا حق : طالب علم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طرف
پاؤں نہ کرے۔ کتب تفاسیر کو تعظیماً تمام کتب کے اوپر رکھے اور کتاب کے اوپر کوئی
دوسری چیز ہر گز نہ رکھی جائے ۔ ( راہِ علم،( بتغیر) صفحہ 33،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی
کتاب پر کوئی چیز رکھنا : محدثِ اعظم پاکستان مولانا سرداراحمد قادری
رحمۃُ اللہِ علیہ کے شاگرد نے ایک مرتبہ بخاری شریف پرگلاب رکھا تو آپ نے فرمایا:پھول
اگرچہ بڑی نازک چیز ہے،بہرحال بخاری شریف سے افضل نہیں۔ (فیضان محدث اعظم
پاکستان،صفحہ 20،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
کتاب کے چند آداب : باوضو اور قبلہ رو ہو کر کتاب کو پڑھنا۔ خوشبودار اور
صاف ستھرا ماحول ہو ۔ کتاب کے اوپر کوئی چیز نہ رکھنا۔ کتاب کی طرف پاؤں نہ پھیلانا۔
کتاب کو اونچی جگہ پر رکھنا ۔ کتابوں کو ترتیب کے ساتھ رکھنا اس طرح کہ سب سے اوپر
تفسیر ، پھرحدیث، پھر فقہ اور پھر دیگر کتابیں رکھی جائیں۔
محمد علی حیدر ( درجۂ اولی جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ تعالٰی نے ہمارے درمیان ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو
مبعوث فرمایا۔ جنہوں نے زندگی کے متعلق ہر شعبے کے حقوق و احکام سے آگاہ فرمایا ۔
فرمان حافظ ملت رحمتہ اللہ علیہ : (دینی) کتاب ہاتھ میں لٹکا کر چلنے کی بجائے جب
سینے سے لگائی جائے گی تو سینے میں اترے گی اور جب کتاب کو سینے سے دور رکھا جائے
گا تو کتاب بھی سینے سے دور ہوگی ۔ (شان حافظ ملت ، ص: 6)( مکتبہ المدینہ، رسالہ
بزرگان دین کے 40 اقوال )
ہمیں کتابوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے۔ آئیے
کتابوں کے حقوق ملاحظہ فرماتے ہیں۔
(1)
وضو کے ساتھ چھونا : امام برھان
الدین زرنوجی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : علم کی تعظیم میں سے کتاب کی تعظیم کرنا
ہے۔ طالب علم کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب کو باوضو ہو کر چھوئے ۔ (کتابوں کے
عاشق ، ص : 29 )
(2)
ادب سے پکارنا : محدث اعظم
پاکستان مولانا سردار احمد چشتی قادری فرماتے ہیں : قرآن وحدیث اور کتب دینی کے
بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہاں پڑی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہاں رکھی ہیں
۔ ( بزرگانِ دین کے 40 اقوال ،ص : 35 ، مکتبہ المدینہ)
(3)
کتابوں کی طرف پاؤں نہ کرنا : طالب
علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طرف پاؤں نہ کرے ۔ ( تعلیم المتعلم
طريق التعلم مترجم، ص : 33)
(4)
زمین پر بکھرا ہوا نہ چھوڑنا : امام
بدر دین محمد بن جماعہ فرماتے ہیں ۔ جب کسی کتاب کا مطالعہ کریں یا لکھیں تو اسے
زمین پر بکھرا ہوا نہ چھوڑیں بلکہ کسی چیز پر رکھیں ۔ تاکہ ترتیب خراب نہ ہو ۔ زمین
پر نہ رکھی جائے کہ کہیں بوسیدہ نہ ہو جائے کتابیں رکھنے میں ادب کا لحاظ رکھیں کہ
علوم اور مصنف کے شرف فضیلت کے اعتبار سے ترتیب بنائی جائے۔( کتابوں کے عاشق ، ص :
28)
محمد زین ( درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
، پاکستان)
نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تربیت بہت ہی نرالا ہے۔کبھی آپ وعید سنا کر تربیت
فرماتے تو کبھی خوشخبری سنا کر دل کو چین بخشتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
بہت سی احادیث مبارکہ ایسی ملتی ہیں جن میں آپ نے لفظ ابغض یعنی نا پسندیدہ چیزوں
کے متعلق بتلایا آئیے ان احادیث میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)
انصار صحابہ کرام سے محبت کی فضیلت: عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ
عَنْهُمَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی
الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ
مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ
ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن
عازب رضی اللہ عنہما سے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺنے
انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا : ’’ ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض
رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان
سے بغض رکھے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ناپسند فرماتا ہے ۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین
جلد:4 ,صفحہ247 ،حدیث نمبر:380)
(2)
محبوب الٰہی محبوب جبریل: عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ
النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : اِذَا اَحَبَّ
اللَّهُ تَعَالٰی الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ : اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی يُحِبُّ
فُلاَنًا فَاَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِى فِى أَهْلِ السَّمَاءِ :
اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَاَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ
يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِى الْاَرْضِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ : قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی اِذَا
اَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيْلَ فَقَالَ : اِنِّي اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحْبِبْهُ
فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ
فُلَانًا فَاَحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ
الْقَبُولُ فِي الْاَرْضِ وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ:
اِنِّي اُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضْهُ فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي
أَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضُوهُ فَيُبْغِضُہُ
اَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْاَرْضِ
ترجمہ:-
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل کو
ندا دیتا ہے کہ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی
اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ
السَّلَام آسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں شخص سے محبت
فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں
پھر زمین میں اسے مقبول بنادیا جاتا ہے ۔‘‘مسلم شريف کی روايت میں ہے :حضرتِ سَیِّدُنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ،
مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا
: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل امین عَلَیْہِ
السَّلَام کو بلاکر فرماتا ہے کہ بے شک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم
بھی اس سے محبت کرو ۔ چنانچہ جبریل امین بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَام آسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں شخص
سے محبت فرماتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو ‘‘پس آسمان والے بھی اس سے محبت
کرتے ہیں ، پھر زمین میں اسے مقبول بنادیا جاتا ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے
کو ناپسند فرماتا ہے تو جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو بلاکر فرماتا ہے کہ میں فلاں
شخص کو ناپسند کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اسے ناپسند کرو ۔ چنانچہ جبریل عَلَیْہِ
السَّلَام بھی اسے ناپسند کرتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں
کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں شخص کو ناپسند فرماتا ہے لہٰذا تم لوگ بھی اسے ناپسند
کرو ۔ ‘‘ پھر آسمان والے بھی اس سے ناپسند کرتے ہیں پھر زمین میں بھی اس کے لیے
ناپسندیدگی رکھ دی جاتی ہے ۔ ‘‘ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین,جلد:4 , صفحہ 283,حدیث
نمبر:387)
(3)
بروز قیامت قرب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہ
عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: اِنَّ مِنْ
اَحَبِّكُمْ اِليَّ ،وَاَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ،
اَحَاسِنَكُم اَخْلاَقًا، وَاِنَّ اَبْغَضَكُمْ اِلَيَّ وَاَبْعَدَكُمْ مِنِّي
يَوْمَ القِيَامَةِ، اَلثَّرْثَارُوْنَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُوْنَ،
قَالُوْا: يَارَسُولَ اللهِ، قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُوْنَ وَالمُتَشَدِّقُونَ،
فَمَا الْمُتَفَيْهِقُوْنَ؟ قَالَ:اَلْمُتَكَبِّرُونَ
ترجمہ:-
حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام
نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم
میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے
والے وہ لوگ ہوں گے جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ
نا پسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ ہوں گےجو زیادہ بولنے
والے،زبان درازی کرنے والے اور بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والے ہوں گے۔صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا :یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زیادہ بولنے والے اور زبان درازی کرنے والے کو تو ہم نے جان لیا
لیکن یہ بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والے کون لوگ ہیں؟ اِرشاد فرمایا:’’تکبر کرنے
والے۔‘‘ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین,جلد:5 ،صفحہ 528,حدیث نمبر:631)
(4)
اللہ پاک کے نزدیک نا پسندیدہ شخص : عَن عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْھَا
قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ : اِنَّ
اَبْغَضَ الرِّجَالِ اِلَی اللّٰہِ الَٔالَدُّ الْخَصمُ ترجمہ: بیشک اللہ عزوجلَّ کے نزدیک بندوں میں سے نا پسندیدہ
شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہے ۔
(5)
نا پسندیدہ حلال کون سا؟ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللهِ الطَّلَاقُ ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا" ناپسندیدہ ترین حلال
الله کے نزدیک طلاق ہے ۔(مشكوة المصابيح ، كتاب النكاح ، باب الخلع و الطلاق ،
الفصل الثانى ، جلد 5 ،حدیث نمبر 3139 ،صفحہ نمبر 136 ، مطبوعہ: مکتبہ اسلامیہ )
اللہ عزوجل
ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے اور جن کاموں کو اللہ عزوجل کے ناپسندیدہ
کام کہا ان سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد رضا عطاری ( درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سا دھو
کی لاہور ، پاکستان)
نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سی احادیث مبارکہ میں لفظ ابغض کے ذریعے سمجھایا
ہے ۔آئیے ان احادیث میں سے چند احادیث کا مطالعہ کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1)وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَبْغَضُ النَّاسِ
إِلٰى اللهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلَامِ
سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبٍ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقِّ لِيُهْرِيقَ
دَمَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ روایت
ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے: الله کی
بارگاہ میں تین شخص ناپسند ترین ہیں حرم میں بے دینی کرنے والا ،اسلام میں جاہلیت
کے طریقے کا متلاشی، مسلمان کے خون ناحق کا جویاں تاکہ اس کی خونریزی کرے۔ (بخاری،
مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:134 پہلی فصل باب قرآن وسنت مضبوطی سے پکڑنا
صفحہ نمبر27)
(2)عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ
عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ
اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ
اَبْغَضَهُ اللهُ حضرت سیدنا براء
بن عازب رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبرﷺ نے انصارکے
بارے میں ارشادفرمایا : ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور
جو اِن سے محبت کرےاللہ پاک اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ
وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 , حدیث نمبر:380 اللہ کیلے
محبت کرنے کا بیان صفحہ نمبر 247 مکتبۃ المدینہ)
(3)عَنْ عُمَرَ بْنِ
الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
إِنَّهٗ تُصِيبُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ سُلْطَانِهِمْ شَدَائِدُ لَا
يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا رَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَجَاهَدَ عَلَيْهِ
بِلِسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَقَلْبِهٖ فَذٰلِكَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ السَّوَابِقُ
وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَصَدَّقَ بِهٖ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ
فَسَكَتَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَأٰى مَنْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ أَحَبَّهٗ عَلَيْهِ
وَإِنْ رَأٰى مَنْ يَعْمَلُ بِبَاطِلٍ أَبْغَضَهٗ عَلَيْهِ فَذٰلِكَ يَنْجُو عَلٰى
إِبْطَانِهٖ كلِّهٖ
روایت ہے
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری
زمانہ میں میری امت کو اپنے حکمرانوں سے سخت تکلیفیں پہنچیں گی ان سے نجات نہیں
پائے گا مگر وہ شخص جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس پر اپنی زبان،ہاتھ اور دل
کے ساتھ جہاد کیا یہ وہ شخص ہے جو پوری طرح سبقت لے گیا دوسرا وہ آدمی جس نے اللہ
کے دین کو پہچانا اور اس کی تصدیق کی،تیسرا وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا
اور اس پر خاموش رہا اگر کسی کو نیکی کرتے دیکھا تو اس سے محبت کرنے لگا اور اگر
کسی کو غلط کام کرتے دیکھا تو اس سے ناخوش رہا یہ سب اپنی اندرونی حالت کے باعث
نجات پاجائیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:4921 تیسری فصل باب نیک
باتوں کا حکم دینا ہے صفحہ نمبر452)
(4)وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ
الخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ
أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ
أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَسَاوِيْكُمْ
أَخْلَاقًا اَلثَّرْثَارُوْنَ اَلْمُتَشَدِّقُوْنَ اَلْمُتَفَيْهِقُوْنَ روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے کہ رسول الله صلی
الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے مجھے سب سے پیارا اور قیامت کے دن مجھ سے
بہت قریب تم میں سے اچھے اخلاق والا ہے اور تم میں سے مجھ کو بہت ناپسند اور مجھ
سے بہت دور برے اخلاق والے ہیں جو زیادہ بولنے و الے منہ پھٹ فراخ گو متکبر ۔ (مشکوٰۃ
المصابیح جلد:2 , حدیث نمبر:4585 دوسری فصل باب واعظ وشعر کا بیان صفحہ نمبر424)
(5)وَعَنْ عَائِشَةَ
قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبْغَضَ
الرِّجَالِ إِلَى اللّٰهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ روایت ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲ
صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ کی
بارگاہ میں بہت ناپسندیدہ شخص زیادہ سخت جھگڑالو ہے (مسلم،بخاری، (مشکوٰۃ المصابیح
جلد:2 , حدیث نمبر۔3586 پہلی فصل باب فیصلوں اور گمراہیوں کا بیان صفحہ نمبر 337)
اللہ پاک
کا ہم مسلمانوں پر یقینا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں محبوب ﷺ کا امتی
بنایا،اور نبی کریم ﷺ کو اپنی امت سے بہت زیادہ محبت ہے،جس کا اندازہ اس بات سے
لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ہر معاملہ میں حضور ﷺ نے اپنی امتیوں کی رہنمائی فرمائی ہے،چاہے وہ دنیا کا معاملہ ہو یا پھر
دین کا۔جیسا کہ رسول ﷺ کا کلمہ ‘‘أبْغَضَ یا اُبْغضَ’’ سے تربیت فرمانا۔اس
اندازکی کثیر احادیث پاک موجود ہیں۔
آیئے اسی
تربیت کو حاصل کرنے کی نیت سے چند احادث پاک پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1)
ناپسندیدہ شخص: اللہ پاک کو جو
سب سے زیدہ ناپسندیدہ شخص ہے اس کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّ اَبْغَضَ
الرِّجَالِ اِلَی اللہِ اَلالَدُّ الْخَصِمٌ یعنی بیشک اللہ پاک کو سب سے زیادہ ناپسند شخص جھگڑا لو
ہے۔ (بخاری،کتاب المظالم،باب قول اللہ:وھوالد الخصم، ج1، ص:677، حدیث: 2457)
اس حدیث
پاک میں سرکارﷺ نے لفظ ‘‘ابغض یعنی سب زیادہ ناپسندیدہ ’’ استعمال فرماکر اپنے
امتیوں کی تربیت فرمائی ۔ عربی میں معنی کی زیادتی کے لیے یہ وزن‘‘اَفْعَلُ’’
استعمال ہوتا ہے۔ یہاں پر حضورﷺ نے لفظ ‘‘ابغض’’ استعمال فرماکر لوگوں کو یہ تاکید
فرمادی کہ اللہ پاک کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو جھگڑا لو ہے تاکہ لوگ
جھگڑا کرنے سے باز رہیں۔
(2)
ناپسندیدہ قاری: اللہ پاک کو جو
سب سے زیادہ ناپسند قاری ہے اس کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّ مِنْ اَبْغَضِ
الْقُرَّآءِ اِلَی اللہِ تَعَالیٰ الَّذِیْنَ یَزُوْرُوْنَ الْاَمْرَآءَ یعنی بیشک اللہ پاک کو سب سے زیادہ ناپسند
قاری وہ ہیں جو امیروں کی ملاقتیں کرتے ہیں۔(مراۃ المناجیح،کتاب العلم،الفصل
الثالث،ج:1،ص 212،حدیث:256،حسن
پبلیشرز)
اس حدیث
رسولﷺ میں وہ بے دین علماء جو دولت لے کر امیروں کی بدکاریوں کو، ان کے ظلم کرنے
کو جائز ثابت کرتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ قاری اللہ پاک کو سب سے زیادہ
ناپسند ہیں۔ حضورﷺ کا ‘‘ابغض’’ کے ساتھ تربیت فرمانا اس لیے تاکہ قاری جب میرا یہ
فرمان سنے تو وہ اللہ پاک کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اس کام سے باز آجائے۔ لہٰذا
ہمیں صرف وہ کام کرنے چاہيے جس میں اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیبﷺ کی رضا ہو۔
(3)
نبی پاکﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ شخص:نبی
پاکﷺ کو جو زیادہ محبوب اور جو زیادہ ناپسندیدہ ہے ان کا اظہار کرتے ہوئے حضورﷺ نے
ارشاد فرمایا: اِنَّ
مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ، وَ اَقْرَبِکُمْ مَنِّي مَجْلِسًا یَوْمَ القِیَامَۃِ،
اَحَاسِنَکُمْ اَخْلَاقًا، واِنَّ اَبْغَضَکُمْ اِلَیَّ وَاَبْعَدَکُمْ مِنِّی
یَوْمَ القِیَامَۃِ، اَلثَّرْثَارُوْنَ وَ المُتَشَدِّقُوْنَ وَ
المُتَفَیْھِقُوْنَ، قَالُوا:یارسولَ اللہِ،قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُوْنَ وَ
المُتَشَدِّقُوْنَ، فَمَا الْمُتَفَیْھِقُوْنَ ؟قَالَ: اَلْمُتَکَبِّرُوْنَ یعنی تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت
کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کے اَخلاق سب سے زیادہ
اچھے ہیں اور تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے
سب سے زیادہ دور وہ ہوں گے جو زیادہ بولنے والے،زبان درازی کرنے والے اور بڑھا
چڑھا کر باتیں کرنے والے ہوں گے۔ صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا:یارسول
اللہﷺ زیادہ بولنے والے اور زبان درازی کرنے والے کو تو ہم نے جان لیا لیکن بڑھا
چڑھا کر باتیں کرنے والے کون ہیں؟اِرشاد فرمایا:‘‘تکبر کرنے والے۔ ( ریاض الصالحین،کتاب
الاخلاص،باب حسن الخلق،ج:1،ص:390،حدیث:634،شبیر برادرز)
اس حدیث پاک میں حضورﷺ نے‘‘احب’’ سے اپنے
پسندیدہ شخص اور‘‘ابغض’’ سے ناپسندیدہ شخص کا اظہار فرمایا تاکہ میرے امتی اور مجھ
سے محبت کرنے والے ان کاموں سے باز آجائیں جو مجھے پسند نہیں اور وہ کام کریں جو
مجھے پسند ہیں۔
مذکورہ
حدیث پاک سے ایک اصول یہ سیکھنے کو ملا کہ اِیمان والے ایمان کی وجہ سے محبوب ہیں
مگر ان کی اچھائی و بُرائی کی صفت کی وجہ سے لوگ برے اور مبغوض ہوجاتے ہیں،یعنی جس
میں جتنی برائیاں زیادہ وہ اتنا زیادہ ناپسندیدہ اور جس کی اچھائیاں جتنی زیادہ
ہونگی وہ اتنا زیادہ محبوب ہوگا، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اچھائی کریں اور برائی سے بچیں ۔
Dawateislami