تمام تعریفیں
اس ذات کے لیے جس نے آپ ﷺ کو انسان کی تربیت کے لیے مبعوث فرمایا اور ہمیں آقاﷺ کا
امتی بنایا ، آپ نے تمام لوگوں کی رہنمائی فرمائی اور ناپسندیدہ چیزوں کی پہچان
بتائی ، ناپسندیدہ چیزوں کے لیے عام طور پر لفظ ابغض استعمال کیا جاتا ہے۔
(1)
برے اخلاق کی وجہ سخت ناپسندیدہ ہونا: وَعَن أبي ثَعلبةَ الخُشنيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ
وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ
إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مني مساويكم أَخْلَاقًا الثرثارون المتشدقون المتفيقهون ترجمہ: ابوثعلبہ خشنی رضى الله عنه سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ بے شک (دنیا میں) تم میں سے مجھے زیادہ پسند و
محبوب اور روزِ قیامت میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو تم میں سے زیادہ بااخلاق ہو
گا، اور تم میں سے (دنیا میں) مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور روزِ قیامت مجھ سے سب
سے زیادہ دور وہ شخص ہو گا جو تم میں سے بد اخلاق، بہت باتیں کرنے والے، زبان دراز
اور گلا پھاڑ کر باتیں کرنے والے ہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب: آداب کا بیان، باب:
بیان و شعر کا بیان، حدیث نمبر: 4797، جلد:3۔ صفحہ:1352)
(2)
جھگڑا کرنے والا ناپسندیدہ: وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ
إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الخَصِمُ ترجمہ: عائشہ رضى الله عنها بیان کرتی
ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ سخت جھگڑالو شخص اللہ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ
شخص ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب:
امارت و قضاء کا بیان، باب: فیصلوں اور گواہیوں کا بیان، حدیث نمبر: 3762، جلد :2۔
صفحہ:1111)
(3)
حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ: وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ
النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى
اللَّهِ الطلاقُ ترجمہ: ابن عمر
رضى الله عنه سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’ حلال چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک
سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب: نکاح کا بیان، باب:
خلع اور طلاق کا بیان، حدیث نمبر: 3280، جلد:2۔ صفحہ: 978)
(4)
سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الْبِلَادِ
إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَاد إِلَى الله أسواقها ترجمہ: ابوہریرہ رضى الله عنه بیان کرتے ہیں،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور
سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔‘‘ ۔ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب: نماز کا بیان
، باب: مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان، حدیث نمبر: 696، جلد:1۔ صفحہ:
220)
(5)
سخت ناپسندیدہ قسم کے لوگ: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى الله ثَلَاثَة ملحد
فِي الْحرم وميتغ فِي الْإِسْلَام سنة الْجَاهِلِيَّة ومطلب دم امرىء بِغَيْر حق
ليهريق دَمه ترجمہ: ابن عباس
رضى الله عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ تین قسم کے لوگ اللہ کو سخت
ناپسندیدہ ہیں، حرم میں ظلم و ناانصافی کرنے والا، اسلام میں، جاہلیت کا طریقہ
تلاش کرنے والا اور بڑی جدوجہد کے بعد کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا۔‘‘ (مشکوٰۃ
المصابیح، کتاب: ایمان کا بیان، باب: کتاب و سنت کے ساتھ تمسک اختیار کرنے کا بیان،
حدیث نمبر: 142، جلد :1 صفحہ: 51)
(6)سرکش
اور خبیث شخص سخت ناپسندیدہ ہے : عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، بايع الناس
وفيهم رجل ذو جثمان، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله أرزئت في نفسك
شيئا قط؟ قال: لا، قال: ففي
ولدك؟ قال: لا، قال: ففي أهلك؟ قال: لا، قال: يا عبد الله إن أبغض عباد الله إلى
الله العفريت النفريت، الذي لم يرزأ في نفسه ولا أهله وماله ولا ولده ترجمہ: حضرت ابوسعید رضى الله عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے کہ ان میں ایک شخص لحیم شحیم جسم والا
تھا، آپ نے فرمایا: بندہ خدا تجھے بدن میں کبھی کوئی تکلیف بھی ہوئی ہے؟ اس نے
کہا: نہیں ، فرمایا: اولاد کے بارے میں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا:
گھر والوں کے متعلق؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے! اللہ تعالیٰ
کا سب سے ناپسندیدہ بندہ وہ ہے جو خبیث و سرکش ہو جسے مال، بدن، اولاد اور اہل میں
کوئی مصیبت نہ پہنچی ہو۔ (کنزالعمال، کتاب: کتاب البر، باب: مصائب پر اجر وثواب
ملتا رہتا ہے، حدیث نمبر: 8668، جلد:3۔ صفحہ:756 )
یہ صحیح
اور مستند احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ کن چیزوں سے بچنا ضروری ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ
کی ناراضگی سے محفوظ رہ سکیں۔
حافظ محمد عمر نقشبندی ( درجۂ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ، پاکستان)
ایمان اور
کفر کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لیے قرآن مجید میں مختلف مثالیں بیان کی گئی ہیں
جو انسان کی ہدایت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ مثالیں فطرت، زندگی اور اعمال کے
اثرات کو سمجھانے کے لیے بہترین تشبیہوں پر مشتمل ہیں، جو ایمان کی روشنی اور کفر
کی تاریکی کے حقائق کو آشکار کرتی ہیں۔ ان مثالوں سے انسان کو غور و فکر اور صحیح
راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
ایمان
کی تعریف : ایمان کا مطلب ہے دل
سے اللہ کی وحدانیت کو ماننا، زبان سے اس کا اقرار کرنا، اور اعمال کے ذریعے اس پر
عمل پیرا ہونا۔ ایمان کا مرکز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، کتابیں، انبیاء، قیامت کا
دن، اور تقدیر پر یقین رکھنا ہے۔
کفر
کی تعریف: کفر کا مطلب ہے اللہ
کا انکار یا اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنا، اور وہ چیزیں نہ ماننا جو اللہ نے اپنے
رسولوں کے ذریعے ہم تک پہنچائیں۔
ایمان روشنی
اور ہدایت کا راستہ ہے، جبکہ کفر گمراہی اور اندھیروں کی علامت ہے۔
ایمان
کی قرآنی مثالیں:
(1) روشنی اور اندھیرا: اللہ تعالیٰ نے ایمان کو روشنی اور ہدایت سے تشبیہ دی ہے: اَللّٰهُ
وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ترجمہ کنزالایمان: اللہ والی ہے مسلمانوں کا
انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکالتا ہے ۔(البقرة: 257)
(2) بارش اور زمین کی زرخیزی: ایمان کو ایسی زمین سے تشبیہ دی گئی ہے جو بارش کے پانی
سے سرسبز ہوجاتی ہے: وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی
الْاَرْضِ ترجمہ کنز
العرفان:اور وہ (پانی) جو لوگوں کو فائدہ دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے ۔(پ13
، الرعد : 17)
(3) پختہ جڑوں والا درخت: ایمان کو ایسے مضبوط درخت سے تشبیہ دی گئی جس کی جڑیں زمین
میں مضبوط ہوں اور شاخیں آسمان تک ہوں:
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا
كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی
السَّمَآءِۙ(۲۴) ترجمہ
کنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے
پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں۔ (ابراھیم: 24)
کفر
کی قرآنی مثالیں:
(1) سراب: کفر
کو سراب سے تشبیہ دی گئی جو دور سے پانی نظر آتا ہے لیکن قریب پہنچ کر کچھ نہیں
ہوتا:
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ
بِقِیْعَةٍ ترجمہ کنز العرفان
:اورکافروں کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والی
ریت ہو۔(پ18 ، النور: 39)
(3) کھوکھلا درخت: کفر
کو ایسے درخت سے تشبیہ دی گئی جو زمین سے اکھڑا ہوا اور غیر مستحکم ہو: وَ
مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ ﹰ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ
الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ(۲۶) ترجمہ کنز العرفان: اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین
کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو ۔ ( پ13 ، ابراہیم: 26)
محمد بلال ایوب ( درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ کنزالایمان مصطفیٰ آباد رائیونڈ ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے قرآن کریم میں ایمان اور کفر کے درمیان واضح فرق بیان کیا ہے اور ان دونوں کی
مثالیں دے کر انسان کو حق و باطل کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں
ایمان اور کفر کی بعض نمایاں مثالیں درج ذیل ہیں:
ایمان کی قرآنی مثالیں
(1)
روشنی اور اندھیرے کی مثال : اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ
اِلَى الظُّلُمٰتِؕ
ترجمہ
کنزالایمان: اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکالتا ہے
اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں۔(البقرة:
257)
یہ آیت ایمان
کو روشنی اور کفر کو اندھیروں سے تشبیہ دیتی ہے۔ ایمان والا شخص ہدایت کے نور میں
زندگی بسر کرتا ہے، جبکہ کافر گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا ہے۔
(2)
پاکیزہ درخت کی مثال: ایمان کی
ایک اور مثال اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کی: اَلَمْ تَرَ
كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا
ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ(۲۴) ترجمہ کنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال
بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں۔
(ابراھیم: 24)
ایمان
مضبوط درخت کی طرح ہوتا ہے جو نفع بخش ہوتا ہے، اس کی جڑیں دل میں پیوست ہوتی ہیں،
اور اعمال کی شاخیں بلند ہوتی ہیں۔
(3)
بارش اور زمین کی مثال: ایمان
کو بارش اور اس کے اثرات سے بھی تشبیہ دی گئی ہے: اَنْزَلَ
مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ
زَبَدًا رَّابِیًا ترجمہ
کنزالایمان: اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی
رَوْ(دھار) اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی۔ (الرعد: 13)
بارش ایمان
کی علامت ہے، جو دلوں کو سیراب کرتی ہے، لیکن جس دل میں کفر ہو، وہ اس پانی کو
قبول نہیں کرتا۔
کفر کی قرآنی مثالیں
(1)
سراب کی مثال: اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا
اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى
اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا ترجمہ کنزالایمان: اور جو کافر ہوئے اُن کے کام ایسے ہیں
جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک جب اُس کے
پاس آیا تو اُسے کچھ نہ پایا ۔(النور: 39)
یہ مثال
بتاتی ہے کہ کافر دنیا میں جو بھی اعمال کرتا ہے، وہ آخرت میں بے فائدہ ہوں گے۔
(2)
چٹان پر مٹی کی مثال: اللہ تعالیٰ
نے فرمایا: وَ
مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ
اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً اور
کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ
سنے۔ (البقرة: 171)
کافر ہدایت
کو سنتے ہیں، مگر ان کے دل اسے قبول نہیں کرتے۔
(3)
اندھیروں میں شخص کی مثال: اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ
مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ-ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ
بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ ترجمہ کنزالایمان: یا جیسے اندھیریاں کسی کُنڈے کے دریا
میں اس کے اوپر موج مو ج کے اوپر اَور موج اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک
جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو۔ (النور: 40)
ایمان اسے
کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک
ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو
قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ایمان و کفر کو بیان کیا گیا ہے اور امت کی رہنمائی
کے لیے مختلف امثلہ بھی ذکر کی گئی ہیں
تاکہ عقل والے اس میں غوروفکر کرکے نصیحت حاصل کریں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) کفر
وجہالت کی مثال: اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا
لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ
لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ(۱۲۲)
ترجمہ
کنزالایمان: اور کیا وہ کہ مُردہ تھا تو ہم نے اُسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایک
نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے ان
سے نکلنے والا نہیں یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردئیے گئے ہیں۔
(الانعام: 122)
وضاحت:
اس آیتِ
کریمہ میں کفر اور جہالت کی مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ مومن اور کافر کا حال یہ
ہے کہ ہدایت پانے والا مومن اُس مردہ کی طرح ہے جس نے زندگی پائی اور اس کو نور
ملا جس سے وہ مقصود کی طرف راہ پاتا ہے اور کافر اس کی مثل ہے جو طرح طرح کی اندھیریوں
میں گرفتار ہوا اور اُن سے نکل نہ سکے، ہمیشہ حیرت میں ہی مبتلا رہے۔ یہ دونوں
مثالیں ہر مومن و کافر کے لئے عام ہیں ۔(تفسیر صراط الجنان)
(2)
کافر اور مؤمن کی دُنْیَوی مثال اوران کا اُخروی حال: اَفَمَنْ یَّمْشِیْ
مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ ترجمہ کنز الایمان:تو
کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی
راہ پر۔(سورۃ الملک آیت 22)
وضاحت: اس
مثال کا مقصود یہ ہے کہ کافر گمراہی کے میدان میں اس طرح حیران و
سرگرداں جاتا ہے کہ نہ اسے منزل معلوم اور نہ وہ راستہ پہچانے اور مؤمن
آنکھیں کھولے راہِ حق دیکھتا اورپہچانتا چلتا ہے۔یہ تو کافر اور مؤمن کی
دُنْیَوی مثال ہے جبکہ آخرت میں کفار کو واقعی منہ کے بل اٹھایا اور چہروں
کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔(تفسیر صراط الجنان)
(3)
کافر و مومن برابر نہیں: مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى
وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِؕ-هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًاؕ-اَفَلَا
تَذَكَّرُوْنَ ترجمہ کنزالایمان:
دونوں فریق کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا کیا
ان دونوں کا حال ایک سا ہے تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔(سورۃ الھود آیت 24)
وضاحت: اس
آیت میں دونوں فریقوں یعنی کافر اور مومن کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ ان کا حال
ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔ کافر اس
کی مثل ہے جو نہ دیکھے نہ سنے اور یہ ناقص ہے، جبکہ مومن اس کی مثل ہے جو دیکھتا
بھی ہے اور سنتا بھی ہے اوروہ کامل ہے اور حق و باطل میں امتیاز رکھتا ہے، اس لئے
ہر گز ان دونوں کی حالت برابر نہیں۔(تفسیر صراط الجنان)
محمد ذیشان عطّاری ( درجۂ رابعہ جامعۃُ
المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
ایمان
اور کفر اسلام کے بنیادی تصورات
ہیں جو انسان کے عقیدہ اور عمل کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایمان اور کفر کی
تفصیلات قرآن و حدیث میں بڑی وضاحت سے آئی ہیں اور یہ دونوں انتہائی اہم موضوعات ہیں جو مسلمان
کی زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایمان:
ایمان کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی
ہستی، اس کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں، یوم آخرت اور تقدیر پر یقین لانا۔ ایمان ایک
داخلی حقیقت ہے جو دل میں جڑ پکڑتی ہے، لیکن اس کے اثرات ظاہری اعمال پر بھی مرتب
ہوتے ہیں۔ ایمان کے ذریعے انسان اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور اپنی
زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالتا ہے۔
کفر:
کفر کا مطلب ہے اللہ کی ہدایت
سے انکار کرنا اور اس کے دین کو رد کرنا۔
کفر ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان اللہ کی ہدایت
کو قبول نہیں کرتا اور اس کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے۔ کفر کے مختلف درجات ہیں، اور
قرآن میں کفر کی مختلف علامات اور اس کے انجام کا ذکر آیا ہے۔
آئیے ایمان
اور کفر کے حوالے سے کچھ قرآنی مثالیں اور ان کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں:
اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا
لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ
لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ(۱۲۲)
ترجمہ
کنزالایمان: اور کیا وہ کہ مُردہ تھا تو ہم نے اُسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایک
نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے ان
سے نکلنے والا نہیں یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردئیے گئے ہیں۔
(الانعام: 122)
اس آیت میں
مردہ سے کافر اور زندہ سے مومن مراد ہے کیونکہ کفر دلوں کے لئے موت جبکہ ایمان
زندگی ہے اور نور سے ایمان مراد ہے جس کی بدولت آدمی کفر کی تاریکیوں سے نجات پاتا
ہے۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نور سے کتابُ اللہ یعنی
قرآن مراد ہے۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲ / ۱۰۵)
ایک اور
مقام پر رب العالمین فرماتا ہے: وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ(۱۹) وَ
لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ (۲۰) وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ(۲۱) ترجمہ کنزالایمان: اور برابر نہیں اندھا اور
انکھیارا اور نہ اندھیریاں اور اُجالا اور نہ سایہ اور نہ تیز دھوپ ۔ (فاطر: 19تا
21)
تفسیر صراط
الجنان: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافر اور مومن کی ذات میں فرق بتایا کہ کافر ایسا
ہے جیسے اندھا اور مومن ایسا ہے جیسے دیکھنے والا اوریہ دونوں برابر نہیں ۔ بعض
مفسرین نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جاہل اور عالم برابر نہیں ۔ (جلالین
مع صاوی، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۵ / ۱۶۹۴، مدارک، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۹۷۶،
ملتقطاً)
وَ لَا الظُّلُمٰتُ:
اور نہ اندھیرے:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافر اور مومن کے اوصاف میں فرق بیان
فرمایا کہ کفر ایسے ہیں جیسے اندھیرے اور ایمان ایسا ہے جیسے اجالا،اور یہ دونوں برابر
نہیں ۔( جلالین مع صاوی، فاطر، تحت الآیۃ: ۲۰، ۵ / ۱۶۹۴،
ملخصاً)
اور رب
تعالیٰ کفر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: اَفَمَنْ یَّمْشِیْ
مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ ترجمۂ کنز الایمان:
تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی
راہ پر۔ (الملک: 22)
تفسیر صراط الجنان: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے
مؤمن اور کافر کا حال واضح کرنے کے لئے ایک مثال بیان فرمائی ہے،چنانچہ ارشاد
فرمایا کہ اے لوگو! کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے اور نہ آگے دیکھے نہ
پیچھے ،نہ دائیں دیکھے نہ بائیں ،وہ زیادہ راہ پر ہے یا وہ شخص جو راستے کو دیکھتے
ہوئے سیدھی راہ پرسیدھا چلے جو منزلِ مقصود تک پہنچانے والی ہے۔( صاوی، الملک، تحت
الآیۃ: ۲۲، ۱۰ / ۲۲۰۶، تفسیر طبری، الملک، تحت الآیۃ: ۲۲،
۱۲ / ۱۷۱، ملتقطاً)
کافر
اور مؤمن کی دُنْیَوی مثال اوران کا اُخروی حال: اس مثال کا مقصود یہ ہے کہ کافر گمراہی کے میدان میں اس
طرح حیران و سرگرداں جاتا ہے کہ نہ اسے منزل معلوم اور نہ وہ راستہ پہچانے اور
مؤمن آنکھیں کھولے راہِ حق دیکھتا اورپہچانتا چلتا ہے۔یہ تو کافر اور مؤمن کی
دُنْیَوی مثال ہے جبکہ آخرت میں کفار کو واقعی منہ کے بل اٹھایا اور چہروں کے بل
جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔
ایمان اور
کفر دونوں انسان کے دل اور اعمال کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایمان اللہ کی رضا
اور ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جبکہ کفر اللہ کے راستے سے منحرف کرتا ہے۔ ہم
سب کو ایمان کی حالت میں اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کفر سے بچنا
چاہیے تاکہ ہم اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ
سے ہم ہمیشہ ایمان کی مضبوطی اور کفر سے بچنے کی دعا کرتے ہیں، کیونکہ ایمان کی
حالت انسان کی دنیا اور آخرت کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔
اللّهُمَّ ثَبِّتْ
قَلْبِي عَلَىٰ دِينِكَ وَإِيمَانِكَ
ترجمہ: اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین اور ایمان
پر ثابت قدم رکھ۔
مکۂ
مکرمہ زادھَا اللہُ شرفاً وَّ تعظیماً اور اس کے
اطراف کی مساجد کے حوالے سے عاشقانِ رسول کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے شیخ طریقت
امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات پر مشتمل رسالہ” مکۂ مکرمہ کی مساجد“ پڑھنے/سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یااللہ
پاک! جو کوئی16 صفحات کا رسالہ ” مکۂ مکرمہ کی مساجد “ پڑھ یا
سُن لے اُسےحج و عمرہ کی سعادت عنایت فرما اور اُس کو ماں باپ اور سارے خاندان
سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 24
اپریل 2025ء کو ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میں میلبرن، پرتھ اور ایڈیلیڈ
نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
22 اپریل 2025ء کو دعوتِ اسلامی کے تحت تمام
اسٹیٹ نگران اور کاؤنسل نگران اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہو اجس میں ملک مشاورت
کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
دینی کاموں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ذمہ دار
اسلامی بہنوں نے یوتھ سیشن، لرننگ سیشن، ون ڈے رہائشی کورس اور فیملی اجتماعات
کروانے پر مشاورت کی جس پر تمام اسلامی بہنوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔
اسلامی بہنوں کے مدنی مرکز فیضانِ صحابیات نزد
اسلامیہ کالج کراچی میں 24 اپریل 2025ء کو شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے تحت
لرننگ سیشن ہوا جس میں کراچی سٹی کی تمام اجیر اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
اجیر اسلامی بہنوں کی تربیت و رہنمائی کرتے ہوئے
دعوتِ اسلامی کی نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے شعبے کی ضرورت کے پیشِ
نظر اجیر رکھنے کے حوالے سے کلام کیا۔
24 اپریل 2025ء کو فیضانِ صحابیات نزد
اسلامیہ کالج کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت رہائشی کورسز کی ذمہ داران کا مدنی
مشورہ ہوا جس میں شعبے کی رکنِ عالمی مجلسِ مشاورت، پاکستان، صوبہ اور ڈسٹرکٹ ذمہ
دار اسلامی بہنیں شریک ہوئیں۔
دورانِ مدنی مشورہ پاکستان مجلسِ مشاورت کی
نگران اسلامی بہن نے شعبے کے دینی کاموں
کا جائزہ لیتے ہوئے چند اہم انکات پر مشاورت کی اور ان میں مزید بہتری
کے لئے تجاویز پیش کیں۔
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
22 اپریل 2025ء کو کراچی میں قائم ایچ آر ڈیپارٹمنٹ گرلز کے ہیڈ آفس میں مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں سب ڈیپارٹمنٹ TAD کی
ذمہ دار اور شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کی سینٹرل و انٹرنل ایچ آر ڈیپارٹمنٹ
ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر پاکستان مجلسِ مشاورت کی نگران
اسلامی بہن نے دینی کاموں کے متعلق کلام کیا نیز ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کے اہم امور اور
اُن میں مزید بہتری کے لئے تجاویز پر مشاورت کی جس پر تمام ذمہ دار اسلامی بہنوں
نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔آخر میں نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے ذمہ دار اسلامی
بہنوں کو دینی کاموں میں بہتری لانے کے لئے مدنی پھولوں سے نوازا اور اختتامی دعا کروائی۔
22 اپریل 2025ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں
اسلامی بہنوں کے دینی کاموں کے سلسلے میں مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں
ساؤتھ ڈویژن (کلفٹن ٹاؤن اور ڈیفنس ٹاؤن) کی تمام ذمہ دار اسلامی بہنوں اور رکنِ عالمی
مجلسِ مشاورت کی شرکت ہوئی۔
اس مدنی مشورے میں دعوتِ اسلامی کی نگرانِ
پاکستان مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے اسلامی بہنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں دینی
کاموں کو بڑھانے کا ذہن دیا۔
علاوہ ازیں نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے
تقرری، آئندہ کے اہداف اور ڈونیشن سمیت دیگر امو رپر تبادلۂ خیال کیا نیز اسلامی
بہنوں کی جانب سے مختلف سوالات بھی کئے گئے جس کے نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے
جوابات دیئے۔
Dawateislami