گناہ پر مدد کا حکم گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔ (ظاہری گناہوں کی معلومات، ص 93) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو (2)باتوں کا حکم دیا ہے: (1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔

آیت مبارکہ پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ گناہ پر مدد نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر ہم اپنے معاشرے پر غور کریں تو اب بس لوگوں میں یہی بات پائے جاتی کہ گناہ کرنا ہی گناہ ہے۔ گناہ پر مدد کرنا گویا کہ کوئی عیب ہی نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر ہم قرآن و حدیث پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ گناہ پر مدد کرنا بھی عذاب کا باعث بن سکتا ہے۔ اب چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں کہ جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ گناہ پر مدد کیسے کی جاتی ہے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

کسی کو شراب پینے یا جوا کھیلنے کے لیے رقم دینا۔ پیشہ ور بھکاریوں کو کچھ دینا۔ جو فرض ہونے کے باوجود بلا عزر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے یا توڑ دے اسکو کچھ کھلانا پلانا۔ کسی کو گناہ کے آلات مثلا میوزک سسٹم خریدنے کے لیے رقم دینا۔

اب ہم اگر مذکورہ بالا صورتوں پر غور کریں تو یہ بات معلوم ہوگی کہ ان صورتوں پر تو ہمارا اکثر عمل ہوتا ہے مثلا کوئی شرابی دروازے پر مانگنے آ جائے یا پیشہ ور فقیر تو ہم انکو کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں یہ بھی گناہ پر مدد ہی ہوئی اور اس مدد کے بدلے ہمیں ثواب نہیں ملے گا بلکہ الٹا گناہ ہی ملے گا۔ لیکن اب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہمیں یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شرابی ہے یا پیشہ ور فقیر تو اس صورت میں ہم غور و فکر کیے بغیر دینے پر بھی گناہ گار ہوں گے۔ اس گناہ سے بچنے کا ہمارے پاس بہت ہی پیارا حل ہے کہ ہمیں ہمارے پیرومرشد مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے پیاری دعوت اسلامی عطا کی ہم اپنے صدقات وغیرہ اس دعوت اسلامی کو دیں۔تاکہ ہم صدقہ وغیرہ کسی شرعی فقیر کو دے سکیں۔

نیز اس ضمن میں کئی احادیث مبارکہ بھی منقول ہیں:

رسول اللہ ﷺ نےشب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:جہنم کے چوتھے دروازے پر یہ 3 جملے لکھے تھے خدا اس شخص کو ذلیل اور رسوا کرتا ہے جو اسلام کو رسوا کرے اور اہلیبیت کو رسوا کرے اورجوظالم کی اس کے ظلم میں کرے مدد۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے کسی کو گمراہی کی دعوت دی اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ کا بوجھ ہوگا اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (مسلم، ص 1438، حدیث: 2674)

الله پاک ہمیں نیکی پر مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


گناہ پر مدد کا حکم: گناہ کے کام پر مدد کرنا گناہ کبیرہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ اس آیت مبارکہ کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے: اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، 3/296)

محیط برہانی میں ہے: گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (محیط برہانی، 8/312)

اللہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹)6، المائدۃ: 78) ترجمہ کنز الایمان: جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے۔

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : آیت سے ثابت ہوا کہ نہی منکر یعنی برائی سے لوگوں کو روکنا واجب ہے اور بدی کو منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے اوّل تو انہیں منع کیا جب وہ باز نہ آئے تو پھر وہ علماء بھی ان سے مل گئے اور کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے، ان کے اس عصیان و تعدّی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد و حضرت عیسیٰ علیہما السّلام کی زبان سے ان پر لعنت اتاری۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 107، 108)

گناہ پر مدد کی صورتیں:

1- کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے کسی بھی قسم کا تعاون کرنا۔

2- رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا۔

3- ظالم و مجرم کے حق میں جھوٹی گواہی دینا۔

4- ظالم کے ظلم کرنے میں اسکی مدد کرنا اس کو روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا۔

5- حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں یا بینکوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا۔

نیز آج کے دور میں سوشل میڈیا بھی گناہ پر مدد کرنے کا سنگین زریعہ بنا ہوا ہے عوام الناس بے پردہ، فحاشی پھیلانے والی عورتوں اور مردوں کی میوزیکل ویڈیو کلپس نا صرف دیکھتے بلکہ اسے دیکھنے کے بعد اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مالی تعاون بھی حاصل ہوتا ہے۔

الله کریم ہمیں دور پرفتن کے مہلک فتنوں سے محفوظ فرمائے، گناہوں سے بچنے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

اس آیت مبارکہ میں جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اس کے ساتھ گناہ پر مدد کرنے سے منع فرمایا ہے۔

ہمیں گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔

امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظالم کی پاکیزگی بیان کرنا اور تعریف کرنا گناہ پر مدد کرنا ہے۔(احیاء علوم الدین، 2 / 179، 180)

قرآن مجید میں ایک اور جگہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹)6، المائدۃ: 78) ترجمہ کنز الایمان: جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے۔

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: آیت سے ثابت ہوا کہ نہی منکر یعنی برائی سے لوگوں کو روکنا واجب ہے اور بدی کو منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے اوّل تو انہیں منع کیا جب وہ باز نہ آئے تو پھر وہ علماء بھی ان سے مل گئے اور کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے، ان کے اس عصیان و تعدّی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد و حضرت عیسیٰ علیہما السّلام کی زبان سے ان پر لعنت اتاری۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 107، 108)

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حدوداللہ میں مداہنت کرنے والا (یعنی خلاف شرع چیز دیکھے اور باوجود قدرت منع نہ کرے اس کی) اور ان میں مبتلا ہونے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کشتی میں قرعہ اندازی کی،تو بعض کے حصّے میں نیچے والا حصّہ آیااور بعض کے حصّے میں اوپر والا۔پس نیچے والوں کو پانی کے لیے اوپر والوں کے پاس جانا ہوتا تھا،تو انہوں نے ا سے زحمت شمار کرتے ہوئے ایک کلہاڑ ی لی اورکشتی کے نچلے حصّے میں ایک شخص سوراخ کرنے لگا،تو اوپر والے اس کے پاس آئے اور کہا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟کہا کہ تمہیں میری وجہ سے تکلیف ہوتی تھی اور پانی کے بغیر گزارہ نہیں۔اب اگر انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو بچا لیا او ر خود بھی بچ جائیں گے اور اگر اسے چھوڑے رکھا تو اسے ہلاک کریں گے اور اپنی جانوں کو بھی ہلاک کریں گے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 108، 109)

مداہنت (یعنی برائی کو دیکھ کر قدرت کے باوجود نہ روکنا یا کسی دنیوی فائدے کی خاطر دین میں نرمی یا خاموشی اختیار کرنا)حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 109)

اللہ پاک ہمیں گناہ پر ایک دوسرے کی مدد کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


گناہ پر مدد کرنا اسلام میں ایک سخت ممنوع عمل ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں واضح طور پر اس عمل کی مذمت کی گئی ہے۔ اس بارے میں کچھ اہم قرآنی آیات اور احادیث پیش خدمت ہیں:

قرآنی آیات:

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ-وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا(۸۵) (پ 5، النساء: 85) ترجمہ: جو شخص نیکی کی سفارش کرے گا اسے اس کا کچھ حصہ ملے گا، اور جو شخص برائی کی سفارش کرے گا اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

احادیث:

1۔ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ یا تو خیر کہے یا خاموش رہے۔ (بخاری، 4/240، حدیث: 6475)

2۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بدعت یا گناہ میں معاونت کرتا ہے، وہ بھی اسی گناہ میں برابر کا شریک ہے۔

خلاصہ: اسلام میں گناہ پر مدد کرنا سختی سے منع ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبوی میں اس کی واضح تعلیمات موجود ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور گناہ اور زیادتی میں ہرگز شریک نہ ہوں۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو اللہ کی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

گناہوں پر مدد کی چند صورتیں: کسی کو شراب پینے یا جوا کھیلنے کے لئے رقم دینا پیشہ ور بھکاریوں کو کچھ دینا جو فرض ہونے کے باوجود بلا عذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے یا توڑ دے اس کو کچھ کھلانا پلانا، کسی کو گناہ کے آلات مثلاً میوزک سسٹم خریدنے کے لئے رقم دینا وغیرہ۔

گناہ پر مدد کرنے کا شرعی حکم: گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔ قرآن پاک میں گناہ پر مدد کرنے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

گناہوں پر مدد کے گناہ میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب: علم دین سے دوری (کئی صورتوں میں لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ یہ بھی گناہ پر مدد کرنا ہے، برے لوگوں سے دوستی و میل جول کہ بعض اوقات آدمی مروت میں آکر گناہ کے کام میں ان کی مدد کر بیٹھتا ہے۔

گناہوں پر مدد کے گناہ سے بچنے کے لئے علم دین حاصل کیجئےبری صحبت سے بچئے اور پابند شریعت نیک پرہیز گار لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے، بے جا مروت سے پیچھا چھڑائیے۔

گناہ پر تعاون کرنا کیسا؟ گناه پر تعاون کی ممانعت کا حکم قرآن پاک میں بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

قرآن پاک کی نص قطعی موجود ہے کہ گناہ پردوسرے کی مدد کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ گناہ سے روکا جائے۔ اس حوالے سے ایک بڑی دلچسپ حدیث مبارک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمايا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول ﷺ ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں، لیکن کیا ظالم کی بھی مدد کریں؟ فرمایا: ہاں اور ظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اسے ظلم سے روک دو۔ یہ ظالم کی مدد یوں ہے کہ اس کی آخرت کے لیے مفید ہے۔ تو گنہگار کی مدد یہ ہے کہ اسے گناہ سے روک دیا جائے۔ (بخاری، 3/128، حدیث :2443)اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے، جو دوستی یاری نبھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی گناہ میں معاونت کرتے ہیں اور اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ دوستی کا حق ادا کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری باطنی امراض اور گناہوں سے محفوظ ہمیں نیک بنائے اور نیکیوں پر استقامت عطا فرمائے۔آمین جو دوستی یاری نبھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی گناہ میں معاونت کرتے ہیں اور اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ دوستی کا حق ادا کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری باطنی امراض اور گناہوں سے محفوظ ہمیں نیک بنائے اور نیکیوں پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامين

گناہ پر مدد کی ممانعت کا حکم قرآن پاک میں بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

قرآن پاک کی نص قطعی موجود ہے کہ گناہ پردوسرے کی مدد کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ گناہ سے روکا جائے اس حوالے سے ایک بڑی دلچسپ حدیث مبارک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول ﷺ ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں، لیکن کیا ظالم کی بھی مدد کریں؟ فرمایا: ہاں !اورظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اسے ظلم سے روک دو۔ یہ ظالم کی مدد یوں ہے کہ اس کی آخرت کے لیے مفید ہے۔تو گنہگار کی مدد یہ ہے کہ اسے گناہ سے روک دیا جائے۔ (بخاری، 3/128، حدیث :2443)

اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے، جو دوستی یاری نبھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی گناہ میں معاونت کرتے ہیں اور اپنے طور پر سمجھتےہیں کہ دوستی کا حق ادا کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری باطنی امراض اور گناہوں سے محفوظ رکھے، ہمیں نیک بنائے اورنیکیوں پر استقامت عطا فرمائے۔

سرکار نامدار ﷺ نے فرمایا: بےشک نیکی کی راہ دکھانے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔ (ترمذی، 4/305، حدیث: 2679)

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا (اور) مشورہ دینے والا سب ثواب کے مستحق (یعنی حقدار) ہیں۔ (مراة المناجیح، 1/ 194)

سبحان اللہ! نیکی کی دعوت کے دینی کام میں اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ جائز طریقے پر تعاون کرنے والا بھی اجر و ثواب کا حقدار ہوتا ہے۔ اس میں حکمِ قرآنی پر عمل کی بھی نیت کی جاسکتی ہے۔ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

خاتم النبين ﷺ کا فرمان دلنشین ہے: جو ہدایت کی طرف بلائے اس کو تمام عاملین (یعنی عمل کرنے والوں) کی طرح ثواب ملے گا اور اس سے ان ( عمل کرنے والوں) کے اپنے ثواب سے کچھ کم نہ ہو گا۔ اور جو گمراہی کی طرف بلائے تو اس پر تمام پیروی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہو گا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا۔(مسلم، ص 1438، حدیث: 2674)

لاکھوں نیکیاں اور لاکھوں گناہ: مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حکم عام ہے یعنی نبی ﷺ اور ان کے صدقے سے تمام صحابہ، ائمہ مجتہدین، علماء متقدمین و متاخرین سب کو شامل ہے مثلاً اگر کسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نمازی بنیں تو اس مبلغ کو ہر وقت ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہو گا اور ان نمازیوں کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب، اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا ثواب مخلوق کے اندازے سے وراء ہے۔ رب کریم فرماتا ہے: وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ(۳) (پ 29، القلم: 3) ترجمہ کنز الایمان: اور ضرور تمہارے لئے بے انتہا ثواب ہے۔ ایسے ہی وہ مصنفین جن کی کتابوں سے لوگ ہدایت پارہے ہیں قیامت تک لاکھوں کا ثواب انہیں پہنچتا رہے گا، یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں: وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) (پ 27، النجم : 39) ترجمہ کنز الایمان: آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔ کیونکہ یہ ثوابوں کی زیادتی اس کے عمل کی تبلیغ کا نتیجہ ہے۔ مزید فرماتے ہیں: اس میں گمراہیوں کے موجدین مبلغین (گمراہی ایجاد کرنے اور گمراہی دوسروں کو پہنچانے والے) سب شامل ہیں تاقیامت ان کو ہر وقت لاکھوں گناہ پہنچتے رہیں گے۔ (مراۃ المناجیح، 1 / 160)

خلاصہ کلام: تاہم گناہوں کی تبلیغ کرنا گناہوں کے راستے دکھانا، گناہوں کے نئے نئے طریقے نکالنا گناہ پر مدد کرنا ہی ہے۔ شادی بیا ہ کے نام پر گناہوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا، ویلنٹائن ڈے جیسے تہوار قائم کرنا اور اس پر مختلف ریسٹورنٹ میں ڈسکاؤنٹ وغیرہ مہیا کر کے انتظامات کرنا، کالجز یونیورسٹیز میں گیٹ ٹوگیدر(get together )کا انتظام کرنا، سینما ہال وغیرہ قائم کرنا اور اس پر ایڈورٹائزمنٹ کرنا وغیرہ گناہوں پر مدد کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں کی پہچان عطا کرے، نیکیوں کی تبلیغ کا جذبہ عنایت کرے، گناہ پر مدد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور گناہ گاروں کی رہنمائی اور اصلاح کی کوشش کرنے اور گناہوں کی روک تھام کرنے کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


انسانوں میں گناہوں کی جانب رغبت کا میلان موجود ہے انسان کا نفس امارہ اسے ہر وقت گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے جب ایک عقل رکھنے والا انسان کسی گناہ يا غلط كام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ وہ یہ غلط کام گناہ و زیادتی کر رہا ہے الله پاک کے فرمان سے بغاوت کر کے اس کی ناراضگی کو دعوت دے رہا ہے پیارے آقا ﷺ کے طریقے کی مخالفت کر رہا ہے اس طرح وہ اپنی دنیا و آخرت داؤ پر لگا دیتا ہے گناہ پر مدد کرنے پر جب اس کا ضمیر اس کو ندا دیتا ہے تو وہ یہ کہہ کر چپ کروا دیتا ہے کہ ابھی عمر پڑی ہے میں جلد توبہ کر لوں گا اس طرح وہ اس امید پر دل کو بہلاتا رہتا ہے اور گناہوں کی گہری دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا ہے: (1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔

بر سے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقوٰی سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اثم سے مراد گناہ ہے اور عدوان سے مراد اللہ تعالیٰ کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (جلالین، ص94) ایک قول یہ ہے کہ اثم سے مراد کفر ہے اور عدوان سے مراد ظلم یا بدعت ہےجاتا ہے۔

حضرت نواس بن سمعان رضی الله تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم ﷺ سےنیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا توآپ ﷺ نےارشادفرمایا: نیکی حسن اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو۔ (ترمذی، 4/173، حدیث: 2396)

رسول اللہ ﷺ نےشب معراج کا ذکر کرتے ہوے فرمایا:جہنم کے چوتھے دروازے پر یہ 3 جملے لکھے تھے خدا اس شخص کو ذلیل اور رسوا کرتا ہے جو اسلام کو رسوا کرے اور اہل بیت کو رسوا کرے اورجوظالم کی اس کے ظلم میں کرے مدد۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے کسی کو گمراہی کی دعوت دی اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ کا بوجھ ہوگا اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (مسلم، ص 1438، حدیث: 2674)

الله پاک ہمیں نیکی پر مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


گناہ پر مدد کرنے کا شرعی حکم گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔ قرآن پاک میں گناہ پر مدد کرنے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

گناہوں پر مدد کے گناہ میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب علمِ دین سے دوری کئی صورتوں میں لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ یہ بھی گناہ پر مدد کرنا ہے برے لوگوں سے دوستی و میل جول کہ بعض اوقات آدمی مروت میں آکر گناہ کے کام میں ان کی مدد کر بیٹھتا ہے۔

گناہوں پر مدد کے گناہ سے بچنے کے لئے: علم دین حاصل کیجئے بری صحبت سے بچئے اور پابندِ شریعت نیک پرہیزگار لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے۔ بے جا مروت سے پیچھا چھڑائیے۔

گناہ پر تعاون کرنا کیسا؟ گناه پر تعاون کی ممانعت کا حکم قرآن پاک میں بالکل واضح طور پر موجود ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

قرآن پاک کی نص قطعی موجود ہے کہ گناہ پردوسرے کی مدد کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ گناہ سے روکا جائے۔ اس حوالے سے ایک بڑی دلچسپ حدیث مبارک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمايا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں، لیکن کیا ظالم کی بھی مدد کریں؟ فرمایا: ہاں اور ظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اسے ظلم سے روک دو۔ یہ ظالم کی مدد یوں ہے کہ اس کی آخرت کے لیے مفید ہے۔ تو گنہگار کی مدد یہ ہے کہ اسے گناہ سے روک دیا جائے۔ (بخاری، 3/128، حدیث :2443)اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے، جو دوستی یاری نبھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی گناہ میں معاونت کرتے ہیں اور اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ دوستی کا حق ادا کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری باطنی امراض اور گناہوں سے محفوظ ہمیں نیک بنائے اور نیکیوں پر استقامت عطا فرمائے۔

انسان کی زندگی میں دو ہی عمل ہیں نیکی یا بدی دونوں کا حکم قرآن و احادیث میں صریح بیان فرمایا گیا۔ گناہ پر مدد کے حکم کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا ہے: پہلی یہ کہ نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو دوسری یہ کہ گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرو۔

حضرت نواس بن سمعان رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا توآپ ﷺ نےارشادفرمایا: نیکی حسن اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو۔ (ترمذی، 4 / 173، حدیث: 2396)

گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے کسی قسم کا کوئی بھی تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں کسی بھی طرح کی حمایت کرنا یا ساتھ دینا یا مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے ظالم کی حوصلہ افزائی کا سبب بننا یا باوجود قدرت کے مظلوم کی حق رسی کی کوشش نہ کرنا حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں یا بینکوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، برائی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ بھی ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائزہے۔

ارشاد ربانی ہے: رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ(۱۷) (پ 20، القصص: 17) ترجمہ: اے میرے رب! جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا ہے پھر میں گناہگاروں کا کبھی مددگار نہیں ہوں گا۔

ان آیات کو پڑھیے جو یہ گواہی دیتی ہیں کہ مجرمین کی مدد کرنا جرم و گناہ ہے اور مومنین کی اعانت کرنا فرمان الہٰی کی اطاعت ہے: وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱) (پ 10، التوبۃ: 71) ترجمہ: مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے ( مددگار و معاون )دوست ہیں، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکاۃ ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی بہت رحم فرمائے گا بے شک اللہ تعالی غلبے والا حکمت والا ہے۔ 

اسلام ہمارا اتنا پیارا دین ہے کہ ہمیں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے رکنے کا حکم دیتا ہے اس کے ساتھ دوسروں کو بھی بچانے کا حکم دیتا ہے ایک مسلمان کو نیکی کے کاموںیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے اور برائی سے باز رہنا چاہیے اور اگر کوئی دوسرا برائی کررہا ہو تو اپنی طاقت کے مطابق روکنا چاہیے کیونکہ اس امت کو بہترین امت اس لیئے کہا گیا ہے کہ یہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پ 4، آل عمران: 110) ترجمہ کنز الایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔

اللہ پاک کا ارشاد ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا ہے: (1)نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔ (2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔ برسے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اثم سے مراد گناہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اثم سے مراد کفر ہے اور عدوان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اثم سے مراد کفر ہے اور عدوان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نیکی حسن اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو۔ (ترمذی، 4 / 173، حدیث: 2396)

نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ کے کاموں میں مدد نہ کرنے کا حکم: یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اثم اور عدوان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہو۔ علم دین کی اشاعت میں وقت، مال، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا، دین اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے باہمی تعاون کرنا، اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا، سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہے۔ گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔

گناہ پر مدد کی ایک صورت یہ وہ گناہ ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا ہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(۱۱۳) (پ 12، ہود: 113) ترجمہ: اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں، اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے۔

رکون یعنی جس سے اس آیہ شریفہ میں منع کیا گیا ہے۔ اس سے مراد میل یسیر ہے یعنی تھوڑا سا بھی ایسے لوگوں کی طرف مائل ہونا جنہوں نے اپنے اوپر یا دوسروں پر ظلم کیا ہو۔ مثلاً عزت سے ان کا ذکر کرنا ان سے باہم میل ملاپ کرنا ان سے محبت کا اظہار کرنا اور ان کے تحائف کی طرف طمع رکھنا ان کی تعریف کرنا اور ان کے حکم کی اطاعت کرنا یہ تمام باتیں ان کی طرف مائل ہونے میں آتی ہیں۔

اگر کوئی شخص کسی ظالم کو درازی عمر کی دعا دے تو گویا ایسا ہے کہ وہ روئے زمین پر خدا کی مخالفت کو پسند کرتا ہے۔ ظالم کی مدد کرنے والا ایسا ہے کہ جیسے اس نے اہم ترین واجبات خدا یعنی برائی سے روکنے کو ترک کیا بلکہ وہ حقیقت میں منافق ہو گیا کیونکہ اس نے برائی کا حکم دیا اور یہ چیز منافقین کی صفات میں سےہے۔

سبحٰن اللہ! قرآن پاک کی تعلیمات کتنی عمدہ اور اعلیٰ ہیں، اس کا ہر حکم دل کی گہرائیوں میں اترنے والا، اس کی ہر آیت گمراہوں اور گمراہ گروں کے لئے روشنی کا ایک مینار ہے۔ اس کی تعلیمات سے صحیح فائدہ اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب ان پر عمل بھی کیا جائے۔ افسوس، فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد عملی طور پر قرآنی تعلیمات سے بہت دور جا چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ سبھی مسلمانوں کو قرآن کے احکامات پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں۔ اور اثم اور عدوان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہے۔ گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے۔ گناہ پر مدد کی مثالیں: کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، کسی کو شراب پینے یا جوا کھیلنے کے لیے رقم دینا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، کسی کو میوزک سسٹم خریدنے کے لیے رقم دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔ (صراط الجنان، 2/378، 379 )

سورۃ العنکبوت میں ہے: وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-وَ لَیُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠(۱۳)(پ 20، العنکبوت: 13) ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے۔

تفسیر صراط الجنان: ارشاد فرمایا: مسلمانوں سے ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کا کہنے والے کفار کا اپنا یہ حال ہوگا کہ وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں اور کفر وگمراہی کابوجھ اٹھائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ جن لوگوں کوانہوں نے گمراہ کیاتھاان کے گناہوں کابوجھ بھی یہی لوگ اٹھائیں گے۔

دوسروں کو گمراہ اور گناہوں میں مبتلا کرنے کا انجام: اس آیت سے معلو م ہوا کہ جو خود گمراہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف بلاتا ہو تواسے اپنی گمراہی کا گناہ اور اس کی سزا تو ملے گی البتہ اس کے ساتھ ان لوگوں کی گمراہی کا گناہ اور سزا بھی اسے ملے گی جنہیں اس نے گمراہ کیا تھا اور گمراہ ہونے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی اس سے ان لوگوں کو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی بڑی ضرورت ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گناہوں میں مبتلا ہونے کے مواقع فراہم کرتے اور انہیں طرح طرح کے دنیوی منافع اور فوائد بتا کر گناہوں کی ترغیب دیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے۔ آمین۔

آئیے گناہوں پر مدد کرنے کی مذمت پر احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے۔

1۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ نکالا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو عمل کرنے والے کے ثواب کی مثل ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہو گی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا پھر اس کے بعداس پر عمل کیا گیا تو عمل کرنے والے کے گناہ کی مثل گناہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔ (مسلم، ص 1437، حدیث: 2673)

2۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو ہدایت کی طرف بلائے تو اسے ویسا ثواب ملے گا جیسا اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی اور جو گمراہی کی طرف بلائے تو اسے ویسا گنا ہ ملے گا جیسا اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ (مسلم، ص 1438، حدیث: 2674)

3۔ریاض الصالحین جلد 3 حدیث 237 میں ہے: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدار رسالت نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! جب وہ مظلوم ہوتا ہےتو میں اس کی مدد کرتا ہوں لیکن جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی مدد کس طرح کروں؟ فرمایا : اسے روکو یا ظلم کرنے سے منع کرو کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔

4۔ روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! تعصب کیا چیز ہے؟ فرمایا: یہ ہے کہ تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو۔

اس کی شرح میں ہے: اپنی قوم سے محبت تعصب نہیں بلکہ برائی پر ان کی مدد کرنا یہ ہے تعصب یہی ممنوع ہے کیونکہ اس میں گناہ پر مدد ہے اور گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔

گناہوں میں مبتلا اشخاص کو چاہیے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اللہ پاک توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۹) (پ 14، النحل: 119) ترجمہ کنز الایمان: پھر بےشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بےشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ نادانی سے کفر و معصیت کا ارتکاب کر بیٹھیں ، پھر ان سے توبہ کر لیں اور آئندہ اپنی توبہ پر قائم رہ کر اپنے اعمال درست کر لیں تو الله تعالیٰ ان پر رحم فرماتے ہوئے ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔ (صاوی، 3 / 1099- خازن، 3 / 149، ملتقطاً)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں گناہوں سے خود بھی بچنے اوردوسروں کی بھی گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرو‍ں کی گناہوں پر مدد کی بجائے نیکیوں پر مدد کرنے والا بنائے۔ آمین

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔

تفسیر: اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا ہے: (1)نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔ (2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔ برسے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقویٰ سےمراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اثم سے مراد گناہ ہے اور عدوان سےمراد اللہ تعالیٰ کی حدود میں حد سے بڑھنا۔

ایک قول یہ ہے کہ اثم سے مراد کفر ہے اور عدوان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔ (خازن، 1 / 461)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، 2 / 469)

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نیکی حسن اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو۔ (ترمذی، 4 / 173، حدیث: 2396)

نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ کے کاموں میں مدد نہ کرنے کا حکم: یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اثم اور عدوان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہو۔ علم دین کی اشاعت میں وقت، مال، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا، دین اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے باہمی تعاون کرنا، اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا، سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہے۔ گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔

محترم قارئین! اگر معاشرے میں گناہ کے کاموں میں باہم مدد کی جائے گی تو معاشرے میں جرائم عام سے عام ہی ہوتے جائیں گے لیکن گناہوں سے روکنے کا ماحول پیدا کیا جائے گا لوگ خود بھی گناہوں اور برے کاموں سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے تو معاشرہ مدینے کی طرف اڑنا شروع ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

الله پاک ہمیں ظاہری و باطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ