پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں
قائم ٹیچرز ٹریننگ کالج میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار اسلامی
بھائیوں نے پروفیسر الفت اورپروفیسر طارق
سمیت صدر ٹیچرز ٹریننگ ایسوسی ایشن جنید
نیازی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے
افسران کو نیکی کی دعوت دیتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے تحت ٹیچرز کے درمیان ہونے والے
دینی کاموں کے متعلق بتایا۔
ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت 23
جنوری 2025ء کو ڈگری کالج قاسم آباد میں ٹیچرز میٹ اپ منعقد کیا گیا جس میں پرنسپل
منیر کریم بڑوڑو اور کالج کے تمام اسٹاف
نے شرکت کی۔
اس میٹ اپ میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ
شوریٰ کے رکن عبد الوہاب عطاری نے بیان کیا اور وہاں موجود اسٹاف کو اپنی علمی
صلاحیتیں بڑھانےبالخصوص علم دین حاصل کرنے کی ترغیب دلائی۔
دعوتِ اسلامی کے تحت UK میں 2024ء کے دوران ہونے والی
سرگرمیوں کے سلسلے میں 25 جنوری 2025ء کو برطانیہ اور بین الاقوامی سطح پر ایک
تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں غزہ، فلسطین، ترکی، شام اور مراکش میں تباہ کن
زلزلوں کے متاثرین کے لئے ہونے والی امداد
سمیت دیگر امورکے بارے میں بتایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اس موقع پر عالمی سطح پر ہونے
والی خدمات کے علاوہ FGRF UK کے مؤثر کاموں پر بریفنگ دی گئی جن میں فری ہیلتھ چیک سروسز، اہم
سماجی مسائل بشمول جرائم، منشیات کا استعمال اور کمیونٹیز کو متأثر کرنے والے دیگر
چیلنجز شامل تھے۔
دورانِ تقریب FGRF UK کے اہم اراکین بالخصوص نگرانِ FGRF UK
سیّد فضیل رضا عطاری نے FGRF UK کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی
ہمدردی کی خدمات اور کمزور آبادیوں کے لئے کی جانے والی امداد کے بارے میں بتایا۔
عالمی سطح پر تعلیمِ قراٰن عام کرنے والی
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 24 جنوری 2025ء کوفیضان آن لائن
اکیڈمی بوائز کی برانچ میرپور و سیالکوٹ
کا ماہانہ مدنی مشورہ ہوا جس میں مدرسین کی آن لائن شرکت ہوئی۔
ملتان اور بہاولپور ڈویژن کے شفٹ ذمہ داران (مفتشین) کا ماہانہ
مدنی مشورہ
قراٰن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کی تربیت کرنے
والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 19 جنوری 2025ء کو ملتان اور
بہاولپور ڈویژن میں قائم فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کے شفٹ ذمہ داران (مفتشین) کا ماہانہ مدنی
مشورہ ہوا۔
مدنی مشورے میں ڈویژن تعلیمی ذمہ دار مولانا آصف
عطاری مدنی نے ذمہ داران سے شعبے کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے دینی کاموں
کو مضبوط کرنے کے حوالے سے کلام کیا نیز دورانِ اجارہ اپنے دیئے گئے کاموں کو ایس
او پیز کے مطابق کرنے پر مشاورت کی۔
ڈویژن تعلیمی ذمہ دار نے مدرسین کی کارکردگی
بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مدرسین کے جملہ مسائل کو حل کرنے کے بارے میں ذمہ داران
کی ذہن سازی کی تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر کیا جاسکے جس پر انہوں نے اچھی
اچھی نیتیں کیں۔
عاشقانِ رسول کی
دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت فیصل آباد میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں پاکستان مشاورت آفس کے اراکین کی میٹنگ
منعقد ہوئی جس میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے نگران اور شعبہ کارکردگی کے صوبائی ذمہ
داران نے شرکت کی۔
میٹنگ
کی ابتدا میں نگرانِ ایس او پیز ڈیپارٹمنٹ سیّد احمد عطاری نے ”تجربہ کار لوگوں
سے مشورے کےفوائد“ پر اراکین اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کی جبکہ
نگرانِ پاکستان مشاورت آفس مولانا حاجی عمر عطاری مدنی نے آفس میں ہونے والے کاموں
کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اُن میں مزید بہتری لانے کا ذہن دیا۔
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ
التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ
6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد
کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم
دیا ہے: نیکی اور پرہیزگری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔ گناہ اور زیادتی پر باہمی
تعاون نہ کرنے کا۔ (جلالین، ص 94)
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں
نے رسولِ اکرم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: نیکی
حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا
تجھے ناپسند ہو۔ (ترمذی،4/137، حدیث: 2396)
نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ
کے کاموں میں مدد نہ کرنے کا حکم: یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے نیکی اور تقویٰ میں
ان کی تمام انواع و اقسام داخل ہیں اور اِثم اور عُدوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو
گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہو۔
علمِ دین کی اشاعت میں وقت، مال، درس و تدریس اور
تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا، دینِ اسلامی کی دعوت اور اس کی تعلیمات
دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کیلئے باہمی تعاون کرنا،اپنے اور دوسروں کی عملی حالت
سدھارے میں کوشش کرنا،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا،ملک و ملت کے
اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا،سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں
داخل ہیں۔
گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم
ہے۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا،رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا،چھوٹی
گواہیاں دینا،بلاوجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا،ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ
دینا،حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا،بدی کے
اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔
سبحان اللہ! قرآن پاک کی تعلیمات کتنی عمدہ اور اعلیٰ ہے اس کا ہر حکم دل کی
گہرائیوں میں اترنے والا،اس کی ہر آیت گمراہوں اور گمراہ گروں یعنی گمراہ کرنے
والوں کیلئے روشنی کا ایک مینار ہے اس کی تعلیمات سے صحیح فائدہ اسی وقت حاصل کیا
جاسکتا ہے جب ان پر عمل بھی کیا جائے۔ افسوس! فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد عملی
طور پر قرآنی تعلیمات سے بہت دور جاچکی۔
پیاری اسلامی بہنو! سوشل میڈیا پر بھی آج کل بہت سے
گناہ ہورہے ہیں اور ہم ان میں سے کچھ گناہ کربھی رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا
ذرا برابر بھی علم تک نہیں ہوتا۔ جیسے کہ یوٹیوب youtube،ٹک
ٹاکTiktok،
فیس بک Facebook اور کسی بھی سوشل میڈیا کی ایپ App
وغیرہ پر ہم کسی بھی ویڈیو، تصویر یا تحریر پر لائک کردیتے ہیں اور یوٹیوب پر کسی
کے بھی چینل کو سبسکرائب کردیتے ہیں کسی بدعقیدہ کی ویڈیو کو لائک کردیتے ہیں یا
کسی کے غلط مسائل والی تحریر کو لائک کردیتے ہیں یا کسی گناہ والی ویڈیو کو لائک
کردیتے ہیں یا کسی کے گناہوں بھرے چینل کو سبسکرائب کردیتے ہیں تو یہ بھی گناہوں
پر مدد کی ایک صورت بن جاتی ہے، کیونکہ اس سے ان لوگوں کے ویوز views
بڑھتے ہیں،فالورز followers
بڑھتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے پھر ایسے لوگ گناہوں پر مزید دلیر
ہوجاتے ہیں اور بغیر اللہ پاک کا خوف کیے لوگوں کو گناہوں میں ملوث کرنے میں لگے
رہتے ہیں۔
اب اگر مثال کے طور پر ہم کسی بھی گناہ والی ویڈیو
کو یا پوسٹ کو یا کسی چینل کو سبسکرائب نہ کرتے تو ہوسکتا ہے اس کے ویوز کم ہونے
کی وجہ سے وہ ایسی گناہوں والی ویڈیوز بنانا ہی چھوڑ دیتا ایسے بہت سے لوگ فحاشی
دیکھنے سننے سے محفوظ رہتے اور لوگ بدعقیدہ ہونے سے بھی بچے رہتے لیکن ہم کیا کرتے
ہیں بغیر کسی تحقیق کے ہر ایرے غیرے کی ویڈیوز پر لائک اور اچھے اچھے کمنٹ کردیتے
ہیں جس سے وہ سمجھتا میں بہت اچھا کام کررہا ہوں۔ (الامان والحفیظ)
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں
نے نبی کریم ﷺ سے گناہ کے بارے میں پوچھا تو ارشاد فرمایا: گناہ وہی ہے جو تمہارے
دل میں کھٹکے اور تمہیں پسند نہ ہو کہ لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جائے۔ (ترمذی، 4 / 173، حدیث: 2396)
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور
ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں لہذا تم اسے ہر گز ضائع
نہ کرو کچھ چیزیں حرام کی ہیں اسے ہر گز ہلکا نہ جانو کچھ حدیں قائم کی ہیں تم
ہرگز ان سے تجاوز نہ کرو اور اس نے تم پر رحمت فرماتے ہوئے جان بوجھ کر کچھ چیزوں
کے متعلق کچھ نہیں فرمایا تم ان کی جستجو نہ کرو۔ (دار قطنی، 4/617، حدیث: 4355)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پہ سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا
ہے جب وہ اس گناہ سے باز آ جاتا ہے توبہ و استغفار کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف ہو
جاتا ہے اور اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے تو اس کا نقطہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ اس کا
پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ (ترمذی، 5/220، حدیث: حدیث:
3345)
گناہ کی دو قسمیں ہیں: گناہ
صغیرہ اور گناہ کبیرہ۔
گناہ کبیرہ کے بارے میں مشہور حدیث یہ ہے: قیامت کے
دن اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑے گناہ یہ ہوں گے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ مسلمان کا
ناحق قتل کرنا۔ جنگ کے دن راہ خدا میں جہاد سے فرار ہونا۔ والدین کی نافرمانی
کرنا۔ جادو سیکھنا۔ سود کھانا۔ پاک دامن عورتوں پر تھمت لگانا۔ یتیم کا مال کھانا۔
(سنن کبری، 4/149، حدیث: 255)
گناہوں پر مدد کی صورتیں: کسی
کو شراب پینے یا جوا کھیلنے کے لیے رقم دینا۔ پیشہ
ور بھکاریوں کو کچھ دینا۔ جو
فرض ہونے کے باوجود بلا عذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے یا توڑ دے تو اس کو کچھ
کھانا پلانا۔ کسی کو گناہ کے آلات مثلا میوزک سسٹم
خریدنے کے لیے رقم دینا۔
گناہ پر مدد کرنا گناہ ہے۔ (رسائل ابن نجیم، ص 353،
354 ملتقطا)
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ
التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ
6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد
کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
اسباب: علم دین سے
دوری کئی صورتوں میں لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ یہ بھی گناہ پر مدد کرنا ہے۔ برے
لوگوں سے دوستی اور میل جول کہ بعض اوقات آدمی مروت میں آ کر گناہ کے کام میں ان
کی مدد کر بیٹھتا ہے۔
گناہ سے کیسے بچا جائے: علم
دین حاصل کیجیے بری صحبت سے بچیے اور پابند شریعت نیک پرہیزگار لوگوں کی صحبت
اختیار کیجیے بے جا مروت سے پیچھا چھڑائیے۔
اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات
بنایا اور ہمیں بیشمار نعمتیں نصیب فرمائیں تو اب ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم رب
تعالیٰ کی اطاعت والے کاموں میں لگ جائیں اور اسکی نافرمانیوں والے کاموں سے خود
بھی بچیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچائیں۔ اگر ہم گناہوں میں دوسروں کی مدد کرینگے
تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوجائیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ خود قرآن پاک میں گناہ پر مدد
نہ کرنے کا حکم ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى
الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ
6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد
کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
آیت مبارکہ میں اثم سے مراد گناہ ہے اور عدوان
سےمراد اللہ تعالیٰ کی حدود میں حد سے بڑھنا ایک قول یہ ہے کہ اثم سے مراد کفر ہے
اور عدوان سے مراد ظلم یا بدعت ہے اثم اور عدوان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ
اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہو۔
گناہ پر مدد کرنے کی مختلف صورتیں:
کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی
گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ
دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے
اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔
گناہ پر مدد کرنے کے بجائے نیکی پر لوگوں کی مدد
کرنے سے ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا، رب تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ
6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد
کرو۔
اس آیت مبارکہ میں برسے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس
کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے
جس سے شریعت نے روکا ہے نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں جیسے:
علم دین کی اشاعت میں وقت، مال، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد
کرنا، دین اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے
باہمی تعاون کرنا، اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا، نیکی کی
دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے
تعاون کرنا، سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہے۔
لوگوں کو
نیکی کی طرف راہ دینے پر اجر کےمتعلق حدیث مبارکہ میں ہے: رسول اللہ ﷺ کا فرمان
ہے: جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر
اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی
دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہو گا اور ان کے
گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (مسلم، ص 1438،
حدیث: 2674)
احادیث مبارکہ میں نیکی کا حکم نہ دینے پر وعیدات
بھی بیان ہوئی ہیں جیسے ایک حدیث مبارکہ میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم!
جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تمہیں بہر صورت نیکی کا حکم دینا چاہیے اور
برائی سے منع کرنا چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیجے گا۔ پھر تم اسے
(مدد کے لیے) پکارو گے تو تمہاری پکار مستجاب نہیں ہوگی۔ (ترمذی، 4/69، حدیث: 2176)
ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کی گناہ پر مدد کرنے کے بجائے
نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں جس کا ذکر ہمیں کئی آیات مبارکہ اور احادیث
مبارکہ میں ملتا ہے۔
گناہ پر مدد کی چند صورتیں ہیں: کسی کو شرابی پینے
یا جوا کھیلنے کے لیے رقم دینا پیشہ ور بھکاری ہو کچھ لینا جو فرض ہونے کے باوجود
بلاعذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے یا توڑ دے اس کو کچھ کھلانا یہاں پلانا کسی کو
گناہ کے آلات مثلا میوزک سسٹم خریدنے کے لیے رقم دینا چوری ڈاکہ جوئے کے ذریعے مدد
کرنا کسی کو حرام کے ذریعے رقم دے کر مدد کرنا۔
گناہوں پر مدد کرنے کا شرعی حکم: گناہوں
پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔ آیت مبارکہ میں ہے: وَ
تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ
وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور
پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
گناہوں پر مدد کے گناہ میں مبتلا ہونے کے اسباب:
علم دین سے دوری کئی صورتوں میں لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ بھی گناہ پر مدد
کرنا ہے برے لوگوں سے دوستی اور میل جول کہ بعض اوقات آدمی مروت میں آکر گناہ کے
کام میں ان کی مدد کر بیٹھتا ہے مال جمع کرنے کا لالچ دوسروں کو بے وقوف بنا کر
خوش ہونا جوا کھیلنے والے برے لوگوں کے پاس اٹھنا بیٹھنا، دولت کی حرص دنیا کی
محبت میں راتوں رات امیر بننے کی خواہش، اچھی تربیت نہ ہونا، شروع سے ہی اگر بچوں
کی اچھی تربیت پر توجہ نہ دی جائے تو ان کو چوری وغیرہ برائیوں میں مبتلا ہونے کا
اندیشہ ہوتا ہے۔
گناہوں پر مدد کے گناہ سے بچنے کے لیے علم دین حاصل
کیجیے بری صحبت سے بچیے اور پابند شریعت نیک پرہیزگاروں کے صحبت اختیار کیجیے،
بےجا مروت سے پیچھا چھڑائیے، اپنے دل میں احترام مسلم کا جذبہ بیدار کیجیے، مال و
دولت کا لالچ خود سے دور کر دیجیے کہ یہ بہت برا مرض ہے، قبر کی تنگی و حشت اور
قیامت کی ہولناکیوں کو کثرت کے ساتھ یاد کیجئے ان شاءاللہ گناہوں سے بچنے اور
نیکیاں کرنے کا ذہن بنے گا۔
اللہ پاک ہمیں گناہوں سے بچائے اور نیکیاں کرنے کا
جذبہ عطا فرمائے۔
انسان کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے۔ اس لئے اسے
چاہیے کہ صحیح معنوں میں الله پاک کا بندہ بننے کی کوشش کرے۔ دوسروں کو تکلیف نہ
دے۔ بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے۔ لیکن مددکرنے کے حوالے سے بھی خیال رکھنا
ہے کہ الله کی نافرمانی اور گناہ کے کاموں میں مدد نہیں کرنی بلکہ اچھے اور الله کی
رضا والے کاموں میں مدد کرنی ہے۔
گناہ پر مدد کرنے کے بارے میں الله پاک قران پاک
میں ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى
الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ
6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد
کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دوباتوں کا حکم
دیا ہے: (1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔(2) گناہ اور زیادتی پر
باہمی تعاون نہ کرنے کا۔
بر سے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت
نے حکم دیا ہے اور تقوٰی سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے
روکا ہے۔
اثم سے مراد گناہ ہے اور عدوان سے مراد اللہ تعالیٰ
کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں: نیکی
سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، 2/469) حضرت نواس بن سمعان رضی الله عنہ
فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: نیکی حسن اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس
سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو۔ (ترمذی، 4/173، حدیث: 2396)
یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے، نیکی اورتقوٰی میں
ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اثم اور عدوان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو
گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہو۔
علم دین کی اشاعت میں وقت، مال، درس و تدریس اور
تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا،دین اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا
کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے باہمی تعاون کرنا،اپنی اور دوسروں کی عملی حالت
سدھارنے میں کوشش کرنا، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا،ملک و ملت کے
اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا، سوشل ورک(Social Work)اور
سماجی خدمات سب اس میں داخل ہیں۔ گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم
ہے۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا،
جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں
ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا،
بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائزہے۔
گناہ پر مدد کی صورتیں گناہ پر مدد کی چند صورتیں
ہیں۔ کسی کو شراب پینے کے لئے رقم دینا جوا کھیلنے کے لیے رقم دینا جو فرض ہونے کے
باوجود بلا عذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے یا توڑ دے اس کو کچھ کھلانا پلانا کسی
کو گناہ کے حالات مثلا میوزک سسٹم خریدنے کے لیے رقم دینا مختلف کھیل مثلا کرکٹ،
لڈو، تاش اور شترنج وغیرہ میں مدد کرنا چوری، ڈاکا زنی میں مدد کرنا وغیرہ گناہ پر
مدد کرنے کی صورتیں ہیں۔
شرعی حکم: گناہ پر مدد
کرنا بھی گناہ ہے۔
گناہ پر مدد کرنے کے گناہ سے بچنے کی صورتیں: اچھی
صحبت اختیار کیجئے۔ گناہوں پر مدد کرنے کے گناہ کی معلومات حاصل کیجئے۔ علم دین
حاصل کیجیے۔ بری صحبت سے بچیے۔ خوف خدا پیدا کیجئے۔ پابند شریعت اور نیک پرہیزگار
لوگوں کی صحبتیں اختیارکیجیے۔، بےجا امور سے پیچھا چھرائیے۔ قبر کی تنگی و وحشت
اور قیامت کی ہولناکیوں کو کثرت کے ساتھ یاد کیجیے ان شاءاللہ گناہوں سے بچنے اور
نیکیاں کرنے کے کا ذہن بنے گا۔
الله پاک ہمیں نیکی کے کاموں میں مدد کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین۔
معاشرے میں اگر نظر دورائی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے
کہ ایک تعداد ایسی بھی ہے جو گناہ کرنے پر دوسروں کی مدد کرتی ہے جو جو مسلمان آقا
علیہ السلام کے دور انور سے دور ہورہے ہیں ایک نیکیوں سے بھی دور ہوتے جارہے پیاری
اسلامی بہنوں مضمون کو بغور پڑھئے ان شاءاللہ الکریم برائیوں سے بچنے کا ذہن بنے
گا قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ
تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ
وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور
پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے گناہ اور زیادتی
پر باہمی تعاون نہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، 2/278)
احادیث مبارکہ:
عذاب میں مبتلاہونے کا سبب: سرور
کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی قوم میں جو شخص گناہوں میں سرگرم ہواور وہ لوگ قدرت
کے باوجود اس کو نہ روکیں تواللہ تعالیٰ مرنے سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کر
دیتا ہے۔ (ابو داود، 4 / 164، حدیث:
4339)
ذمہ سے بری ہونے کی وعید: جس
نے کسی ظالم کے باطل کام پر اس کی مدد کی تاکہ وہ اس کے باطل کام کے ارتکاب کی وجہ
سے حق کو باطل کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ سے بری ہے۔ (معجم
اوسط، 2 / 180، حدیث: 2944)
برے کام کے موجد کا انجام: اور
جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اور لوگوں نے عمل کیا تو اس کے اوپر اس کا
گناہ ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اسی پر ہوگا اور ان کے گناہوں میں
کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (مسلم، ص 508، حدیث: 1017)
جھگڑے پر ناحق مدد: حضور
اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی جھگڑے پر ناحق مدد کی تو وہ تب تک اللہ تعالیٰ
کے شدید غضب میں رہے گا جب تک (اس مدد کو) چھوڑ نہیں دیتا۔ (مستدرک، 5 / 135، حدیث: 7133)
گناہ پر تعاون کی بعض مثالیں: رشوتیں
لے کر معاملات بدل دینا، سینما گھر بنانا،کسی کی ہمدردی میں جھوٹی گواہی
دینا،برائی دیکھ روکنے پر قدرت ہونے کے باوجود نہ روکنا وغیرہ۔
ہم سب بھی خود پر غور کرلیں کہ کہیں ہم بھی تو گناہ
میں تعاون کرنے والوں میں شامل تو نہیں اور اگر جواب مثبت میں ہو تو فورا سے توبہ
کی ترکیب اور ممکنہ حد تک دوسروں کو گناہوں روکنے کی نیت فرمالیتی ہیں۔
گناہوں سے بچنے کا ایک نسخہ مع روحانی علاج: جب بھی
گناہ کرنے کی طرف نفس و شیطان راغب کریں تو موت کے تصور میں گم ہوجانے کی عادت
بنالیجیے گھپ اندھیری قبر کا قبر کی وحشت کا ذہن میں لائیے ان شاء اللہ الکریم
نیکیاں کرنے گناہوں سے بچنے اور بچانے کا مدنی ذہن بنے گا۔
روحانی علاج: سورۃ الاخلاص
11 بار صبح پڑھئے۔ اگر شیطان مع اپنے لشکر کوشش کرے کہ اس سے گناہ کرائے نہ کراسکے
جب تک کہ یہ خود نہ کرے۔ (الوظیفۃ الکریمۃ، ص 21)
Dawateislami