گناہ پر تعاون کی ممانعت کا حکم قرآن میں بالکل
واضح طور پر موجود ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا : وَ
تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ
وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور
پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔گناہ
پر دوسرے کی مدد کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ گناہ سے روکا جائے۔ اس
حوالے سے ایک حدیث مبارک ہے: نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم
ہو یا مظلوم، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! مظلوم کی تو
ہم مدد کریں گے، لیکن کیا ظالم کی بھی مدد کریں ؟ فرمایا ہاں! اور ظالم کی مدد یہ
ہے کہ تم اسے ظلم سے روک دوں یہ ظالم کی مدد یوں ہے کہ اسکی آخرت کے لیے مفید ہے
تو گناہگار کی مدد یہ ہے کہ اسے گناہ سے روک دیا جائے۔ (بخاری، 3/128، حدیث :2443)
اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے، جو دوستی
یاری نبھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی گناہ میں معاونت کرتے ہیں اور اپنے طور پر
سمجھتے ہیں کہ دوستی کا حق ادا کررہا ہوں۔
اللہ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری باطنی امراض اور
گناہوں سے محفوظ رکھے، ہمیں نیک بنائے اور نیکیوں پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ
دنیا جب سے وجود میں آئی ہے اس میں نیکی اور برائی
کا وجود ہر دور میں موجود رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا ایک مسلمان کو نیکی
کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور برائی کے کاموں سے دور رہنے کا حکم دیا گیا
ہے اسی طرح مسلمان کو کسی دوسرے سے تعاون کرنے میں بھی یہی شرط رکھی گئی ہے کہ اگر
کوئی نیکی کا کام کر رھا ہے تو اس کے ساتھ تعاون کیا جائے اور اگر کوئی برائی کا
کام کر رھا ہے تو اس سے تعاون نہ کیا جائے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جائے مثلا اگر
کوئی شخص کسی طرح کا بھی ظلم کر رھا ہے تو اسے کسی بھی قسم کا کوئی تعاون فراہم نہ
کیا جائے بلکہ مظلوم کی داد رسی کی جائے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا
عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز
العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر
باہم مدد نہ کرو۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم
دیا ہے: (1)نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔ (2) گناہ اور زیادتی
پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔ برسے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے
حکم دیا ہے اور تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا
ہے۔ اثم سے مراد گناہ ہے اور عدوان سےمراد اللہ تعالیٰ کی حدود میں حد سے بڑھنا۔
(جلالین، ص 94)
اس حوالے سے ایک حدیث مبارک ہے: نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں لیکن کیا ظالم کی بھی
مدد کریں۔ فرمایا: ہاں اور ظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اسے ظلم سے روک دو۔ یہ ظالم کی
مدد یوں ہے کہ اس کی آخرت کے لیے مفید ہے تو گناہگار کی مدد یہ ہے کہ اسے گناہ سے
روک دیا جائے۔ (بخاری، 3/128، حدیث :2443)
نیکی کے کاموں میں مدد کرنے سے ثواب ملتا ہے جبکہ
گناہ کے کاموں میں مدد کرنے سے گناہ ملتا ہے۔ گناہ پر مدد کرنے کی بہت سی صورتیں
ہوتی ہیں مثلاً کوئی ناچ رہی ہے یا گانے گا رہی ہے اسکو پیسے دینا یا تالیاں بجانا،
اسکی تعریف کرنا وغیرہ وغیرہ اسکو مزید گناہوں پر ابھارے گا جس سے گناہ پر مدد
کرنے والا اور گنا پر ابھارنے والا بھی گناہ گار ہوگا۔ اسی طرح دیگر گناہوں پر بھی
مدد کرنے والا گناہ گار ہوگا۔ قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا
عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ کنز العرفان:
اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد
نہ کرو۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت مبارکہ میں اللہ
تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا ہے: (1)نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد
کرنے کا۔ (2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔ برسے مراد ہر وہ نیک کام
ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے
بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اثم سے مراد گناہ ہے اور عدوان سےمراد اللہ
تعالیٰ کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (تفسیر جلالین، ص 94)
ایک قول یہ ہے کہ اثم سے مراد کفر ہے اور عدوان سے
مراد ظلم یا بدعت ہے۔ (خازن، 1/ 461)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔ (صاوی، 2/469)
حضرت نواس بن سمعان فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم ﷺ
سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نیکی حسن اخلاق ہے
اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند
ہو۔ (ترمذی، 4 / 173، حدیث: 2396)
نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ
کے کاموں میں مدد نہ کرنے کا حکم: یہ انتہائی جامع آیت مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ
میں ان کی تمام انواع واقسام داخل ہیں اور اثم اور عدوان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو
گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتی ہو۔ علم دین کی اشاعت میں وقت، مال، درس و تدریس
اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا، دین اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات
دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے باہمی تعاون کرنا، اپنی اور دوسروں کی عملی
حالت سدھارنے میں کوشش کرنا، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، ملک و ملت
کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا، سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس
میں داخل ہے۔ گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے۔ کسی کا حق مارنے
میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا
وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز
کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا
یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔ سبحان اللہ! قرآن پاک کی
تعلیمات کتنی عمدہ اور اعلیٰ ہیں، اس کا ہر حکم دل کی گہرائیوں میں اترنے والا، اس
کی ہر آیت گمراہوں اور گمراہ گروں کے لئے روشنی کا ایک مینار ہے۔ اس کی تعلیمات سے
صحیح فائدہ اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب ان پر عمل بھی کیا جائے۔ افسوس، فی
زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد عملی طور پر قرآنی تعلیمات سے بہت دور جا چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ سبھی مسلمانوں کو قرآن کے احکامات پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔
گناہ پر مدد کرنے کے حوالے سے احادیث مبارکہ اور
بزرگان دین کے اقوال: خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافروں، بے دینوں، گمراہوں
اور ظالموں کے ساتھ بلاضرورت میل جول، رسم و راہ، قلبی میلان اور محبت، ان کی ہاں
میں ہاں ملانا اور ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے۔ ظالموں کے بارے میں امام محمد
غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں (ظالموں کے ساتھ عملی طور پر تعاون تو ظاہر ہے
اور) زبانی طور پر تعاون یہ ہے کہ وہ ظالم کے لئے دعا مانگتا ہے یااس کی تعریف
کرتا ہے یااس کے جھوٹے قول کی صراحتاً تصدیق کرتا ہے، مثلاً زبان سے اسے سچا قرار
دیتا ہے یاسر ہلا دیتا ہے یااس کے چہرے پر مسرّت ظاہر ہوتی ہے یاوہ اس شخص سے محبت
و دوستی ظاہر کرتا ہے، اس سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے اور اس کی عمر میں اضافہ اور
ا س کی بقا کی حرص رکھتا ہے، ایسا شخص عام طور پر (ظالموں کو) صرف سلام ہی نہیں
کرتا بلکہ (ان سے) کچھ بات چیت بھی کرتا ہے اور وہ اسی شخص کا کلام ہوتا ہے
حالانکہ اس کا ظالم کی حفاظت، اس کی لمبی زندگی، ا س کے لئے نعمتوں کی تکمیل اور
اس طرح کی دوسری دعائیں مانگنا جائز نہیں، اور اگر دعا کے ساتھ تعریفی کلمات بھی
ہوں اور وہ ان باتوں کا ذکر کرے جو اس ظالم میں نہیں ہیں تو یہ شخص جھوٹا، منافق
اور ظالم کااعزاز کرنے والا ہے اور یہ تین گناہ ہیں، اور اگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ا
س کی باتوں کی تصدیق بھی کرے،اس کے کاموں کی تعریف کرے،اس کی پاکیزگی بیان کرے تو
وہ اس تصدیق اور اعانت کی وجہ سے گناہگار ہو گا کیونکہ ظالم کی پاکیزگی بیان کرنا
اور تعریف کرنا گناہ پر مدد کرنا ہے۔ (احیاء علوم الدین، 2 / 179، 180)
احادیث اور بزرگان دین کے اقوال میں بھی ان چیزوں
کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس وقت ناراض ہوتا ہے جب زمین
پر کسی فاسق کی تعریف کی جاتی ہے۔ (شعب الایمان، 4 / 230،
الحدیث: 4885)
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص کسی ظالم
کے باقی رہنے کی دعا کرتا ہے وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی کی جائے۔ (شعب الایمان، 7/ 53، حدیث:
9432)
امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ
تعالیٰ کے ہاں اس عالم سے زیادہ ناپسندیدہ شخص کوئی نہیں جو کسی عامل (یعنی ظالم
گورنر) کے پاس جاتا ہے۔ (مدارک، ص515)
یہاں ایک اور بات یاد رکھیں کہ بعض حضرات کا یہ
نظریہ ہے کہ ہم اپنی دنیوی ضروریات کی وجہ سے ظالموں کے اعمال پر راضی ہوتے، ان کی
خوشامد و چاپلوسی کرتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، اگر ہم ایسا نہ کریں تو
ہمارے لئے اپنی دنیوی ضروریات کو پورا کرنا دشوار ہو جائے، انہیں چاہئے کہ وہ
علامہ احمدصاوی رحمۃ اللہ علیہ کے ا س کلام پر غور کر لیں، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
ظالموں کے اعمال سے راضی ہونے میں دنیوی ضروریات کو دلیل بنانا قابل قبول نہیں
کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور قدرت والا ہے۔ (صاوی، 3/ 936) اور جب حقیقی رازق، قوی اور قادر اللہ
تعالیٰ ہے تو خود کو ظالموں کا دست نگر سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔
آقاﷺ کی قرآن سے محبت بے مثال تھی اور آپ کی پوری
زندگی قرآن کی تعلیمات کی عملی تصویر تھی۔ یہاں کچھ اہم پہلو بیان کیے گئے ہیں جو
آپ کی قرآن سے محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔
1عملی نمونہ: حضرت محمد ﷺ کی پوری زندگی قرآن کی
تعلیمات پر عمل کرنے کا نمونہ تھی۔ آپ نے قرآن کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ
کیا اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
روایت ہے: آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ (مسند امام احمد، 9/380، حدیث: 24655)
2تلاوت: آپ ﷺ باقاعدگی سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے،
خاص طور پر رات کی عبادات میں آپ خود بھی قرآن پڑھتے اور دوسروں سے بھی قرآن سننے
کا شوق رکھتے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے، اور سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینے میں کرتے
تھے جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے اور آپ کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے۔ (بخاری،
1/627، حدیث: 1902)
3. تعلیم و تدریس: آقاﷺ نے صحابہ کو قرآن کی تعلیم
دی اور اس کی تعلیمات کو پھیلایا۔ آپ نے لوگوں کو قرآن کے معانی اور مفاہیم سکھائے
اور اس کی حکمتیں بیان کیں۔
4. حب الوحي: آقا ﷺ وحی کا انتظار کرتے تھے اور جب
وحی آتی تو خوشی اور سکون محسوس کرتے۔ آپکے دل میں قرآن کے الفاظ کی قدر و منزلت
بہت زیادہ تھی۔
5دعا اور ذکر: آقا ﷺ کی دعاؤں اور اذکار میں قرآن
کے الفاظ شامل ہوتے تھے۔ آپ کی دعاؤں میں قرآن کی آیات کا ذکر اور استعمال ہوتا
تھا۔
اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا اور یہ عقیدہ
رکھنا کہ جو کتابیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس وحی کے ذریعے بھیجیں، وہ بے شک و
شبہ سب حق اور سچ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ
آخری کتاب ہے جو حضرت جبریل علیہ السلام لے کر آئے اور ہمارے پیارے نبی حضرت ﷺ کے
مبارک دل پر نازل ہوئی۔ وہ ہمارے لیے ہدایت اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کا
ذریعہ ہے۔ ہمارے لیے قرآن حکیم ایک فیصلہ کن کلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّهٗ لَقَوْلٌ
فَصْلٌۙ(۱۳) (پ
30، الطارق: 13) ترجمہ: بے شک یہ قرآن ایک فیصلہ کن کلام ہے۔
آخرت میں بھی کامیابی کا دار و مدار قرآن حکیم کے
احکام پر عمل کرنے اور رسول ﷺ کی کامل اتباع کے ساتھ وابستہ ہے۔ جیسا کہ رسول ﷺ نے
فرمایا: قرآن تمہارے حق میں دلیل ہوگا یا تمہارے خلاف۔ (مسلم، ص 140، حدیث: 223)
اس کے علاوہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور اکرم کا سب سے اہم پیغمبرانہ وظیفہ وحی کے ذریعے قران کو اللہ تعالیٰ سے لینا، اس کی حکمت کو سمجھنا، اس کو سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا اور سکھانا تھا ۔ لہٰذا جو قیامت تک قرآن پڑھنے، سیکھنے اور سکھانے کا مشن
بنائے گا۔ وہ رسول ﷺ کا علمبردار اور خادم
ہو گا اور اس کو رسول ﷺ سے خاص نسبت حاصل ہوگی۔ حدیث مبارکہ ہے: تم میں بہتر شخص
وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ (بخاری،3 /410، حدیث: 5027)
نبی ﷺ کی قرآن سے محبت کا عالم یہ تھا کہ حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے لیکن جب بڑی
عمر ہوگئی اور وزن مبارک میں اضافہ ہوا تو نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ جب 30 سے
40 آیات پڑھ لیتے تو کھڑے ہو جاتے۔ ہم اس
سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص یا سورہ کوثر پڑھنے پر
اکتفا کرتے، جب کہ وہ بڑی عمر میں اتنی
آیات پڑھا کرتے۔ ان کے صدقے میں اللہ سبحان تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائیں
آمین۔
حضور اکرم ﷺ کی قرآن سے محبت ایسی تھی کہ وہ قرآن
پڑھتے بھی اور سنتے بھی تھے۔ آپ کے ذوق کا عالم یہ تھا کہ پڑھنے اور سننے کا انداز
لطف والا ہوتا تھا۔ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا
فرمان ہے: جب سورہ مرسلات نازل ہوئی اور نبی اکرم ﷺ تلاوت فرما رہے تھے اور آپ کا
چہرہ مبارک تر تھا یعنی انداز یوں تھا جب انسان ذوق اور خشوع کے ساتھ پڑھتا۔ ماشاءاللہ
اسی طرح حضور اکرم اور صحابہ کرام جب آپس میں ملتے
تو قرآن سننے کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔ یعنی جب ملاقات فرماتے تو کہتے کچھ قرآن
سناؤ۔ یہ انداز ہوا کرتا تھا۔ بخاری شریف میں موجود ہے کہ ایک
مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے سامنے
قرآن پڑھو انہوں نے فرمایا کہ یا رسول
اللہ میں آپ کے سامنے قرآن کیسے پڑھوں۔ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: پڑھو میں تم سے قرآن سننا چاہتا ہوں۔ انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع
کی اور نگاہیں جھکائے حضرت عبداللہ بن مسعود پڑھ رہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب میں
اس حصے پر پہنچا۔ ترجمہ: ہم اُس دن آپ کو
ان تمام لوگوں پر یعنی ہر اُمت میں سے ایک گروہ کو لے کر آئیں گے یعنی نبی کریم ﷺ کو لے کر آئیں گے اور
ان تمام کے اوپر آپ کو گواہ لے کر آئیں گے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کافی ہے!
کافی ہے! حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جب میں نے آنکھیں اٹھا کے دیکھا تو
نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کہ قرآن حزن کے
ساتھ نازل ہوا ۔ حزن کے ساتھ پڑھا کرو۔(مجمع الزوائد، 7/351، حدیث: 11694)
حضور
ﷺ کی قرآن سے محبت از بنت غلام عباس، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
نبی کریم ﷺ کی زندگی قرآن پاک کے ساتھ گہری محبت
اور عقیدت سے عبارت تھی۔ وہ قرآن پاک کو اپنے لیے رہنمائی، ہدایت اور تسلی کا
ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی میں قرآن پاک کی اہمیت کا اندازہ ان واقعات سے
لگایا جا سکتا ہے جو ان کی زندگی میں پیش آئے۔ نبی کریم ﷺ نے قرآن پاک کی تلاوت کو
اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا تھا۔ وہ ہر روز قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور اس
کی تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ آپ نے اپنے صحابہ کرام کو بھی قرآن پاک
کی تلاوت اور اس کی تعلیم پر زور دیا۔ ان کی زندگی میں قرآن پاک کی اہمیت کا
اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ قرآن پاک کی آیتوں کو اپنے خطبوں،
خطبات اور تقریروں میں شامل کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کی قرآن پاک سے محبت کا ثبوت ان کی
زندگی کے مختلف واقعات سے ملتا ہے۔ ایک واقعہ یہ ہے کہ جب انہیں پہلی وحی ملی تو
انہوں نے اسے بڑی عقیدت اور محبت سے قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے قرآن پاک کی
تلاوت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا اور اس کی تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔
نبی کریم ﷺ کی قرآن پاک سے محبت ہمیں بھی اس کی
اہمیت اور فضیلت کا احساس دلاتی ہے۔ ہمیں بھی ان کی زندگی سے سبق لینا چاہیے اور
قرآن پاک کی تلاوت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو قرآن پاک سے جڑا
ہوا تھا۔ وہ قرآن پاک کو اپنے لیے ہدایت، رہنمائی اور تسلی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
ان کی محبت کا اندازہ ان کی زندگی کے واقعات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ قرآن پاک کی تلاوت کو بہت پسند کرتے تھے
اور اس کی تلاوت میں بہت زیادہ وقت گزارتے تھے۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت کو اپنے لیے
ایک نعمت سمجھتے تھے اور اس کی تلاوت سے انہیں بہت سکون ملتا تھا۔ ان کی محبت کا
اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت کے دوران بہت
زیادہ متاثر ہوتے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔
نبی کریم ﷺ قرآن پاک کی تعلیمات کو اپنی زندگی کے
ہر پہلو میں لاگو کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ قرآن پاک کی آیتوں کو یاد رکھنے اور
ان پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ ان کی زندگی قرآن پاک کی تعلیمات کا
عملی نمونہ تھی۔ وہ قرآن پاک کی تعلیمات کو اپنے لیے ایک رہنما سمجھتے تھے اور ان
کی زندگی میں ہر قدم پر ان کی رہنمائی حاصل کرتے تھے۔
حقوق انسان کی بہت ساری جہتیں ہیں جن میں والدین
اور اولاد کے حقوق، اساتذہ اور طلبا کے حقوق،فقرا او مساکین کے حقوق۔ حکمران اور
رعایا وغیرہ کے حقوق شامل ہیں چونکہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کا تعلق فرد اور
معاشرہ سے ہے اور معاشرے کے اہم ترین اجزاء دو ہیں ان ان دونوں کے حقوق و فرائض کے
تعین اور ادائیگی سے ہی معاشروں کا عروج وزوال جڑا ہوا ہوتا ہے اس مضمون میں ہم
حاکم کے حقوق کو قرآن اور احادیث مبارکہ کی روشنی سے بیان کریں گے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا
اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ
5، النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے
ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حکمران بھی اطاعت کے مستحق
ہیں جب تک وہ حق کے موافق رہیں اگر حق کے مخالف ہوئے تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے
گی۔
آیت مبارکہ میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم ہے اس
میں امیر،امام،بادشاہ،حاکم،قاضی،علماء سب شامل ہیں۔
احادیث کی روشنی میں حاکم کے حقوق:
1۔ حاکم کا حکم ماننا ابن عمر سے روایت ہے کہ آقا ﷺ
نے فرمایا، ایک مسلمان پر (حکام کی) سمع و اطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا
ناپسند ہو الّا یہ کہ اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے اگر امیر نافرمانی کا حکم دے
تو نہ تو اس پر سننا ہے اور نہ ہی ماننا۔ (بخاری، 4/455، حدیث: 7144)
2۔ ناپسندیدہ بات پر صبر کرنا ابن عباس سے روایت ہے
اقا ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے اپنے امیر سے ناپسندیدہ کوئی چیز پہنچے تو اس کو چاہیے
کہ صبر کرے کیونکہ جو سلطان سے ایک بالشت بھی دور نکلا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم،
ص 793، حدیث: 4790)
3۔ حاکمو ں کے ساتھ خیر خواہی کرنا رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے،یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے،یقینا دین
خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کس کے لیے ؟ فرمایا: اللہ کے
لیے اس کی کتابوں کے لیے اس کے رسول کے لیے مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام
لوگوں کے لیے یا یہ فرمایا: مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔
(ترمذی، 3/371، حدیث: 1932)
4۔ حاکم کی اطاعت طاقت کے مطابق کرنا۔ ابن عمر سے
روایت ہے: جب ہم نے نبی کریم ﷺ کے دست اقدس پر اطاعت اور فرمانبرداری کی بیعت کی
تو آپ نے فرمایا: اپنی گنجائش کے مطابق (تم اطاعت اور فرمانبرداری کرو گے)۔
5۔ حاکم کو رسوا کرنے والے کے لیے رسوائی حضرت
ابوبکر بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص
سلطان کو رسوا کرے گا اللہ اسے رسوا کرے گا۔ (ترمذی، 4/96، حدیث: 2231)
اسلامی نظام میں اصل متاع اللہ تعالی ہے ایک مسلمان
سب سے پہلے اللہ کا بندہ ہے اس کے بعد باقی سب کچھ انسان کی انفرادی اور اجتماعی
زندگی دونوں کا مرکز خدا کی فرمانبرداری ہے دوسری اطاعتیں صرف اس صورت میں قبول کی
جائیں گی جب وہ خدا کے مد مقابل نہ ہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اور جس
نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر و حاکم کی
اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر و حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری
نافرمانی کی۔ (بخاری، 4/453، حدیث: 7137)
کسی بھی معاشرہ میں زندگی کےمعاملات کو صحیح طور پر
چلانے کیلئےایک حاکم یا امیر کا ہونا ضروری ہے، شہری زندگی ہو یا دیہاتی بغیر امیر
کے کسی بھی جگہ کا نظام درست نہیں رہ سکتا، اور کوئی بھی حاکم معاشرے میں امن و
امان اس وقت تک قائم نہیں کرسکتا جب تک کہ اسے رعایا کا تعاون حاصل نہ ہو، اگر غور
کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ کسی بھی معاشرے کے اندر بدامنی کے پھیلنے میں سب سے
بڑا دخل حاکم اور محکوم کی اپنی اپنی ذمہ داری اور اپنے اوپر واجبی حقوق کو ادا
کرنے میں کوتاہی ہے، اس لئے اس امر کی معرفت ضروری ہےکہ حاکم و محکوم اپنے فرائض و
واجبات کو پہچانیں۔
1:سننا اور ماننا: جو
شخص کسی بھی طرح سے حاکم بن چکا ہے، اسکی اطاعت و فرمانبرداری ہر فرد بشر پر واجب
ہے، بشرطیکہ وہ حاکم جائز اور استطاعت کی حدود میں ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: مسلمان مرد پر اپنے
مسلمان حکمران کی بات سننا اور ماننا فرض ہے (ہر کام میں) خواہ وہ بات اسے پسند ہو
یا نا پسند مگر یہ کہ اسے گناہ کرنے کا حکم دیا جائے جب اسے اللہ کی نافرمانی کا
حکم دیا جائے تو پھر اس کا سننا اور ماننا فرض نہیں ہے۔ (بخاری، 4/455، حدیث: 7144)
ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تین چیزوں کو پسند
فرماتا ہے: (ان میں سے ایک چیز یہ ہے ) اپنے حاکموں کے ساتھ نصیحت کا معاملہ رکھو۔
2۔ انکے ساتھ تعاون: اس
معنی میں کہ انکے جو حقوق واجبات اپنے اوپر ہیں انہیں ادا کرنے کی کوشش کریں اور
اگر اپنے کچھ حقوق یا مال ہو رہے ہوں تو انکی وجہ سے اپنا دست تعاون نہ کھینچیں۔
ایک بار اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر ہم پر
کچھ ایسے حاکم مسلط ہوجائیں کہ وہ ہم سے اپنا حق تو مانگیں لیکن ہمیں ہمارا حق نہ
دیں تو ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ اولا جواب سے خاموش رہے لیکن دوبارہ یا سہ
بارہ سوال پر آپ نے فرمایا: تم انکی بات سنو اور مانو، انکی جو ذمہ داری ہے وہ ان
پر ہے اور جو تمہاری ذمہ داری ہے وہ تم پر ہے۔ (مسلم، ص 792، حدیث: 4782)
3:عدم بغاوت اور انکے لئے دعا: اگر
حاکم اسلام سے باغی نہیں ہے تو اس سے بغاوت جائز نہیں ہے، بلکہ حتی الامکان اسکے
اصلاح کی کوشش کی جائے اور انکے اصلاح و حق پر ثبات کیلئے دعا کی جائے۔
فرمان نبوی: تمہارے اچھے حاکم وہ ہیں کہ تم ان سے
محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت رکھتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اور تم
انکے لئے دعا کرتے ہو، اور تمہارے حاکموں میں سے میرے حاکم وہ ہیں کہ تم ان سے بغض
رکھتے رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں اور تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم
پر لعنت بھیجتے ہیں، آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم ایسے
حاکموں کو تلوار لیکر انکے خلاف علم بغاوت نہ بلند کریں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں،
جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں (ان کے خلاف بغاوت نہ کرنا ) اور جب
تم اپنے حاکموں سے کوئی ایسی شے دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو ان کے عمل کو برا
سمجھو مگر انکی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچنا۔ (مسلم، ص 795، حدیث: 4804)
4:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہوگا
اس کی رعیت کا (حاکم سے مراد منتظم اور نگران کار اور محافظ ہے)، پھر جو کوئی
بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہوگا اس کی رعیت کاکہ اس نے اپنی
رعیت کے حق ادا کیے، ان کی جان ومال کی حفاظت کی یا نہیں۔ آدمی حاکم ہے اپنے گھر
والوں کا اس سے سوال ہوگا ان کا۔ عورت حاکم ہے اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی۔
اس سے ان کا سوال ہوگااور غلام حاکم ہے اپنے مالک کے مال کا،اس سے اس کا سوال ہوگا۔
(بخاری، 2/159، حدیث:2554)
5:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس
کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے، ان میں بھی جنہیں وہ
ناپسند کرے، جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے، اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر
اطاعت ضروری نہیں ہے۔ (بخاری، 4/455، حدیث: 7144)
6:رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حاکم اسلام زمین پر
اللہ کا سایہ ہے اور جب وہ تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اُس کے لئے اجر ہے اور تم
پر شکر لازم ہے اور اگر برا سلوک کرے تو اس کا گناہ اُس پر ہے اور تمہارے لئے صبر
ہے۔ (شعب الایمان، 6/15، حدیث: 7369)
اللہ پاک ہمیں ان حقوق پر عمل کرنے اور دوسروں تک
پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ امِين
اسلام نے ہر ایک کی ذمہ داریاں مقرر فرمائی ہیں اور
انہیں پورا کرنا ان پر لازم قرار دیا ہے شریعت مطہرہ نے عادل مسلم امیر کی بہت
قدرو منزلت ارشاد فرمائی ہے۔
بات سننااورعمل کرنا
جو شخص کس پر امیر ہو اسکی بات سننا اور اسکی اطاعت کرنا ہر ایک پر واجب ہے
بشرطیکہ وہ حاکم جائز یا حق بات کہنے والا ہو۔ الله پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا
ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا
الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ
5، النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے
ہیں۔
اس آیت مبارکہ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ مسلمان
حکمرانوں کی اطاعت کا بھی حکم ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف
حکم دیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ آیت میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم ہے
اس میں امام، امیر، بادشاہ، بادشاہ، حاکم، قاضی اور علما سب داخل ہیں۔(صراط
الجنان، 2/230)
آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جس نے امیر کی
اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی
کی۔ (بخاری، 4/453، حدیث: 7137)
ہر حال میں حاکم کی بات سننا ہر
حال میں حاکم کی جائز بات سننا لازم ہے۔ جیسا کہ آقاعلیہ السلام نے فرمایا: مرد پر
حاکم کی بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے اگر چہ وہ چیز اسے پسند ہو یا نہ پسند ہو
مگر یہ کہ وہ برائی کا حکم دے اور جب وہ برائی کا حکم دے تو نہ اسکو سنا جائے اور
نہ اسکی اطاعت کی جائے۔ (بخاری، 4/455، حدیث: 7144)
انکی اطاعت و فرمانبرداری کرنا حکمر
ان کی ہر طرح سے اطاعت و فرمانبرداری کی جائے، آقا علیہ السلام نے فرمایا: جس نے
(حکمران کے جائز کاموں میں) اطاعت سے ہاتھ اٹھا لیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے
روز اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو شخص اس حال میں
مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم، ص
794، حدیث: 4793)
ناپسندیدہ بات پر صبر کرنا؟ اگر
کوئی حاکم کا ناپسندیدہ بات کرے تو اس پر صبر کرے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: جو
اپنے حاکم سے کوئی ناپسند بات پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس پر صبر کرے پس بے شک جو
ایک بالشت اپنے حاکم کی بات سے نکلا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم، ص 793، حدیث: 4790)
اس کی توہین سے بچنا حاکم
کی اطاعت کرنا ہر ایک پر لازم ہے جیسا کہ آقا علیہ السلام کا فرمان ہے: جس نے حاکم
کو رسوا کیا اللہ اسے رسوا کرے گا۔ (ترمذی، 4/96، حدیث: 2231)
ان کے ساتھ خیر خواہی کرتارہے اسکے
ساتھ بھلائی و خیر خواہی والا سلوک کیا جائے اگر کوئی ایسا غلط معاملہ نظر آئے تو
انکو بھلائی واحسن انداز میں بتایا جائے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: دین خیر
خواہی کا نام ہے، پوچھا گیا کس کی خیر خواہی؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ
کی اللہ کے رسول ﷺ کی اللہ کی کتاب کی مسلمانوں کے حاکموں کی اور عام مسلمانوں کی۔
(ترمذی، 3/371، حدیث: 1932)
اسلام ایک مکمل ضابطہ ہے یہ بہت پیارادین ہےیہ شعبہ
زندگی سے تعلق رکھنے والےہر طرح کے افرادکی راہنمائی کرتاہے یہ عالمگیر معاشرہ
رکھتا ہےجیسےیہ سب انسانوں کو حقوق اللہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ویسے ہی یہ اپنے
ماننے والوں کو حقوق العباد ادا کرنے پربھی زور دیتا ہے حقوق العباد میں والدین
بہن بھائی دوست احباب کے ساتھ ساتھ حاکم و محکموم کے حقوق پر بھی زور دیتا ہے حاکم
کے حقوق کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ
وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ 5،
النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی حاکم کے حقوق بیان ہوئے ہیں۔
فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے،یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے،
یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ کس کے لیے؟ آپ
نے فرمایا: اللہ کے لیے،اسکی کتابوں کے لیے،اسکے رسولوں کے لیے،مومنوں کیلئے۔(ترمذی،
3/371، حدیث: 1932)
1۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے
سوال ہوگا اس کی رعیت کا (حاکم سے مراد منتظم اور نگران کار اور محافظ ہے)، پھر جو
کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہوگا اس کی رعیت کاکہ اس نے
اپنی رعیت کے حق ادا کیے، ان کی جان ومال کی حفاظت کی یا نہیں۔ آدمی حاکم ہے اپنے
گھر والوں کا اس سے ان کاسوال ہوگا۔ عورت حاکم ہے اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں
کی۔ اس سے ان کا سوال ہوگااور غلام حاکم ہے اپنے مالک کے مال کا،اس سے اس کا سوال
ہوگا۔ (بخاری، 2/159، حدیث:2554)
2۔ حاکم کی فرمانبرداری۔ فرمایا: تجھ پر لازم ہے حاکم
کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔تکلیف و راحت میں، خوشی و رنج میں اور جس وقت تیرا حق
کسی اور کو دے۔ (مسلم، ص 788، حدیث: 4754)
3۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے اپنے حاکم سے کوئی ناپسندیدہ شے پہنچے تو اس کو چاہیے
کہ صبر کرے کیونکہ جو سلطان سے ایک بالشت بھی دور نکلا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم،
ص 793، حدیث: 4790)
4۔ حضرت سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ جب تک حاکم وقت اسلام کے مطابق زندگی گزارےاس کی اطاعت ہم پر لازم ہے کیونکہ
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی اعلان فرمایا: اے لوگو! جب تک میں
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں تو تم بھی میری اطاعت کرنا اگر میں ان کی اطاعت
نہ کروں تو تم بھی میری اطاعت نہ کرنا۔ اے اللہ ہمیں جانشین صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ عطا فرما!
الله پاک سے دعا کہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق ادا کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔
حقوق کی دو اقسام ہیں: حقوق الله اور حقوق العباد۔ حقوق
الله کا معاملہ الله تعالیٰ کے ساتھ ہے جبکہ حقوق العباد کا معاملہ بندوں کے ساتھ
خاص ہے کہ بندوں کے بندوں پر حقوق۔ جن میں اولاد کے حقوق، والدین کے حقوق، اساتذہ
و طلباء کے حقوق، حاکم و رعایا وغیرہ کے حقوق شامل ہیں۔ اسلامی معاشرے کے نظام کو
چلانے کے لئے کسی نہ کسی حاکم کی ضرورت ہوتی ہے اور معاشرے میں جو کوئی جس طرح کا
بھی حاکم بن چکا ہو اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہر فرد بشر پر واجب ہے، بشرطیکہ وہ
حاکم شریعت پر عمل کرنے والا ہو جیسا کہ الله پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا
الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ
5، النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔
اِس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان حکمرانوں کی اطاعت
کا بھی حکم ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی
اطاعت نہیں کی جائے گی۔ آیت میں اُولِی
الْاَمْرِ کی اطاعت کا حکم ہے، اس میں امام، امیر، بادشاہ، حاکم، قاضی، علماء سب
داخل ہیں۔(صراط الجنان، 2/230)
حاکم کے حقوق:
1۔ اطاعتِ رسول اطاعتِ الٰہی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے الله کی اطاعت کی اور جس نے میری
نافرمانی کی اس نے الله کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری
اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (بخاری، 4/453،
حدیث: 7137)
2۔ حکمرانوں کے ظلم پر صبر کرنا۔ حضرت عبداللہ بن
مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک
شروع ہو جائے گا اور ایسے معاملات پیش آئیں گے جن کو تم برا سمجھوگے۔ صحابہ کرام
نے عرض کی یارسول الله ﷺ ایسے حالات میں ہمارے لئے کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: تم پر
جو حق ہے اسے ادا کرو اور اپنے حقوق کا الله تعالیٰ سے سوال کرنا جس شخص کا کسی
چیز میں حق ہو اُسے اُس سے الگ کر دینا۔ (بخاری، 2/501، حدیث: 3603)
3۔ حاکم کی فرمانبرداری۔ تجھ پر لازم ہے حاکم کی
بات سننا اور اطاعت کرنا۔تکلیف و راحت میں، خوشی و رنج میں اور جس وقت تیرا حق کسی
اور کو دے۔ (مسلم، ص 788، حدیث: 4754)
4۔ مسلمان حکمرانوں کی اطاعت۔ حضرت جریر سے مروی ہے
کہ میں نے سرور کونینِ، شہنشاہِ دارین سے اس بات کی گواہی کہ الله کے علاوہ کوئی
معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے، حاکم
اسلام کی سننے اور اطاعت کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ (بخاری،
2/34، حدیث:2157)
چنانچہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا
ہے کہ الله تعالیٰ نے ہم پر حکمران مقرر کیے ہیں جن کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا
لازم ہے اور اگر وہ ہمارے خلاف کوئی حکم مقرر کر دیں تو ہمیں اس پر صبر، صبر اور
صبر کرنا ہے اس کا اجر ہمیں قیامت کے دن ضرور ملے گا۔
ہماری شریعت نے ہم پر بہت سے احکام لا غو کیے ہیں
جن کا پورا کرنا ہم پر لازم ہے۔ کسی بھی معاشرے میں صحیح طریقے سے زندگی کے
معاملات کو چلانے کے لیے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے اور حاکم کے بغیر کسی بھی جگہ
کا نظام درست نہیں رہ سکتا اور کوئی بھی حاکم معاشرے کا نظام اس وقت تک نہیں ٹھیک
کر سکتا جب تک رعایا کا تعاون نہ ملے۔ تو جہاں حاکم پر لازم ہے کہ وہ اپنے ماتحت
کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کمی و بیشی نہ کرے تو وہی لازم ہے کہ ما تحت بھی حاکم
کے تمام حقوق کو احسن انداز سے پورا کرے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا
الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ
5، النساء: 59) ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے
ہیں۔
حدیث شریف میں بھی حاکم کے حقوق بیان ہوئے ہیں۔ اب
حدیث مبارک کی روشنی میں حاکم کے حقوق ملاحظہ فرمائیے۔
حاکم کی نافرمانی نہ کی جائے: رسول
ﷺ نے فرمایا: تجھ پر لازم ہے سننا اور اطاعت کرنا (حاکم کی بات کا)تکلیف اور راحت
میں،خوشی اور رنج میں اور جس وقت تیرا حق اور کسی کو دیں۔ (مسلم، ص 788، حدیث: 4754)
حاکموں کے ساتھ خیر خواہی کرنا: رسول
ﷺ نے فرمایا یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے،یقینا دین خیر خواہی کا نام ہے، یقینا
دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ کس کے لیے؟آپ نے
فرمایا اللہ کے لیے،اسکی کتابوں کے لیے،اسکے رسولوں کے لیے،مومنوں کے حاکموں کے
لیے اور انکے عام لوگوں کے لیے۔ (ترمذی، 3/371، حدیث: 1932)
حاکموں کی عزت کیجیے: حضرت
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: سلاطین کی عزت و توقیر کرو کیونکہ جب
تک یہ عدل کریں گے یہ زمین پر اللہ کی قوت اور سایہ ہونگے۔ (دین و دنیا کی انوکھی
باتیں،ص،187/1)
حاکم کی جانب سے ناپسندیدہ چیز پہنچنے پر محکوم کیا
کرے؟ رسول ﷺ نے فرمایا: جو اپنے حاکم سے ناپسندیدہ چیز دیکھے تو صبر کرے۔ (بخاری،
4/429، حدیث: 7053)
حاکم کے سامنے اچھے اخلاق سے پیش آئے: حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: اہل ایمان میں زیادہ
کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔
حاکم کو دھوکہ نہ دے: نہ
کسی بے قصور کو حاکم کے پاس لے کر جاو تاکہ اسے قتل کردے۔
Dawateislami