سودایک نہایت مہلک گناہ اور حرام قطعی ہے، نیز اسے حلال جاننے والا کافر ہے۔ قراٰن و حدیث میں اس کے متعلق سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک قراٰن پاک میں ارشاد فرماتاہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ ۔ (پ4،اٰل عمران : 130)

اللہ پاک کے آخری نبی مکی مدنی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث سے بھی سود کے مذموم ہونے کا پتہ چلتا ہے، لہذا اسی ضمن میں پانچ فرامینِ آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں:(1) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سات ہلاکت کی چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا حضور وہ کیا ہیں ؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، جادو، اور ناحق اس جان کو ہلاک کرنا جو اللہ نے حرام کی، اور سود خوری، یتیم کا مال کھانا، جہاد کے دن پیٹھ دکھادینا، پاکدامن مؤمنہ بے خبر بیبیوں کو بہتان لگانا۔(بخاری،مسلم)(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل علیہ السّلام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔ (ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، 3 / 71، حدیث: 2273)

(3) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب کہ سود کھائے بغیر کوئی نہ رہے گا اگر سود نہ بھی کھائے گا تو اسے سود کا اثر ضرور پہنچے گا یہ بھی روایت ہے کہ اس کا غبار پہنچے گا۔ (4) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، کتاب البیوع، انّ اربی الربا عرض الرجل المسلم، 2/338، حدیث: 2306)(5) حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنا کہ آپ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے لکھنے والے زکوٰۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نوحہ سے منع فرماتے تھے۔ یعنی مُردے کے غلط اوصاف بیان کر کے بلند آواز سے رونا۔ (نسائی)


حاجت مند کو قرض دینا کارِ ثواب اور اجرِ عظیم ہے، قرض دینے والے کو اس بات کی اجازت ہو گی کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا، جو نعمت چاہے گا پائے گا، بروزِ قیامت قرض دینے والے کو اجر و ثواب کا پیمانہ بھر بھر کر دیا جائے گا۔ مگر افسوس! فی زمانہ ہمارے معاشرہ میں حاجت مند کو قرض تو دیا جاتا ہے لیکن اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ اب کسی حاجت مند کو بغیر سود (Interest)کے قرض (Loan)ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ جب تک قرض پر قرض دینے والے کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہو وہ حاجت مند کی حاجت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالنا تو دور کی بات ہے جیب کے قریب ہاتھ کو لانا گوارا نہیں کرتا ۔ ہاں یہ ضرور دیکھا گیا ہے جہاں قرض دینے والے کو قرض لینے والے سے فائدہ حاصل ہو رہا ہے ہوتا ہے وہاں قرض دینے والا کا دل کرتا ہے کہ میں منہ کا لقمہ بھی قرض میں دے دوں۔

یاد رکھئے! رسولِ بے مثال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر قرض صدقہ ہے۔(المعجم الاوسط،2/345، حدیث: 3498)اور قرض پر کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا سود ہے۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ قرض پر نفع لینے کے متعلق فرماتے ہیں: قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع و فائدہ حاصل ہو وہ سب سود اور نرا حرام ہے۔ حدیث میں ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: قرض سے جو فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 17/713) سود قطعی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کی حرمت کا منکر کافر اور جو حرام سمجھ کر اس بیماری میں مبتلا ہو وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے۔(یعنی اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی) الله پاک نے قراٰن پاک میں اس کی بھرپور مذمت فرمائی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے ۔ (پ4،اٰل عمران : 130)سورۂ بقرہ کی آیت 278،276،275 میں بھی سود کی حرمت کا بیان موجود ہے اور حدیث میں ہے۔

(1) حضور سیدُ المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث:106(1599) (2) حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔ (مستدرک، 2 /338، حدیث:2306) (3) سرورِکائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے36 بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔(شعب الایمان، 4 / 395، حدیث:5523)

(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل علیہ السّلام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔ (ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، 3 / 71، حدیث: 2273)(5) فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: قیامت کے دن سود خور کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ دیوانہ و مخبوط الحواس ہو گا۔ (المعجم الکبیر ،18/60، حدیث:110)

بروزِ قیامت سود خور پر ایسا وبال آئے گا کہ سود خور کا چلنا پھرنا مشکل ہو جائے، یہی اس کی پہچان ہو گی، آخرت میں ہلاکت اس کا مقدر بنے گی، اس کے تمام نیک اعمال برباد ہو جائیں گے ، سود کا نہ صدقہ کام آئے گا، نہ مسجد کو تعمیر کرنا اور اس کی آباد کرنا کوئی فائدہ دے ، حج، زکوٰۃ، روزہ، نماز باجماعت ، رشتوں داروں سے حسنِ سلوک، یتیم و مسکین و فقیر وغریب غربا کے ساتھ مدد کرناالغرض سود خور کی سودی مال سے کی گئی تمام نیکیاں برباد ہو جائیں گی۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : سود خور کا نہ صدقہ قبول کیا جائے گا ، نہ جہاد ، نہ حج اور نہ ہی صلہ رحمی۔(تفسیر قرطبی،2/274، البقرۃ،تحت الآیۃ:276)

اللہ پاک ہم سب کو عافیت اور امان عطا فرما کر سود کی آفتوں سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


عالمی  مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 12 جنوری 2023ء کو دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز کی جانب سے معلم اجتماع میں 12 دین کام کورس کا سلسلہ ہواجس میں اوورسیز مدنی کورس ذمہ دارمولانا اعجاز احمد عطاری مدنی نے اسلامی بھائیوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے 12دینی کام کیسے کئے جائیں اس کے متعلق رہنمائی کی ۔(رپورٹ : مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری) 


دسمبر2022ء تک دعوت اسلامی کے تعلیمی اداروں (جامعات المدینہ ،مدارس المدینہ،اسکولزاورآن لائن اکیڈمیز) کی کل تعداد68ہزار 77 ہے، جن میں طلبہ طالبات کی تعداد8لاکھ 55 ہزار 66 ہے ، کل اسٹاف 50ہزار 700  افرادپرمشتمل ہے جبکہ سالانہ اخراجات اربوں روپے ہیں ،تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں :

ملک و بیرون ملک میں قائم جامعۃ المدینہ (بوائز ،گرلز )

تعداد جامعات المدینہ (بوائز گرلز)

1309

ایک ہزار 3سو9

طلبہ وطالبات کی کل تعداد تقریبا

117402

1لاکھ 17ہزار 4سو2

کل اسٹاف (مدرس،مدرسات ،ناظم وناظمات وغیرہ)

11523

11ہزار 5سو23

ملک و بیرون ملک میں قائم مدارس المدینہ (بوائز ،گرلز )

تعداد مدارس المدینہ (بوائز گرلز)

9578

9ہزار5سو78

طلبہ وطالبات کی کل تعداد تقریبا

323026

3لاکھ 23ہزار26

کل اسٹاف (مدرس،مدرسات ،ناظم وناظمات وغیرہ)

13425

13ہزار4سو25

ملک و بیرون ملک میں قائم مدارس المدینہ (بالغان وبالغات)

تعداد مدرسۃ المدینہ (بالغان وبالغات)

56915

56ہزار 9سو 15

طلبہ وطالبات کی کل تعداد تقریباً

347313

3لاکھ 73ہزار 13

کل اسٹاف (مدرس،مدرسات ،ناظم وناظمات وغیرہ)

16875

15ہزار 8سو75

ملک و بیرون ملک میں قائم دارالمدینہ و فیضان اسلامک اسکو ل

دارالمدینہ اسکول ،فیضان اسلامک اسکول

185

1سو 85

طلبہ وطالبات کی کل تعداد تقریباً

39811

39ہزار 8سو11

کل اسٹاف (مدرس،مدرسات ،ناظم وناظمات وغیرہ)

4215

4ہزار 2سو15

تعداد فیضان آن لائن اکیڈمی (بوائز،گرلز)

فیضان ان لائن اکیڈمی برانچز کی تعداد

47

شفٹ

232

2سو32

کلاسز

2325

2ہزار 3سو25

طلبہ وطالبات کی کل تعداد تقریبا

21462

21ہزار4سو62

کل اسٹاف (مدرس،مدرسات ،ناظم وناظمات وغیرہ)

2811

2ہزار8سو11

نوٹ: مدرسۃ المدینہ فار گرلز میں دعوت اسلامی کے شعبہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ کے تحت مدارس وطالبات کی تعدادبھی شامل کی گئی ہے 


11جنوری 2023ء  کو دعوتِ اسلامی کے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی سید لقمان عطاری نے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں شعبہ مدنی کورسز کے تحت جاری معلم اجتماع میں سنتوں بھرا بیان کیا ۔

دورانِ بیان رکنِ شوریٰ سید لقمان عطاری نے اسلامی بھائیوں کو 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیا جس پر اسلامی بھائیوں نے عمل کرنے کی اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا ۔آخر میں رکنِ شوریٰ نے نمایاں کارکردگی کے حامل اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان میں تحائف تقسیم کئے ۔(رپورٹ : مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


مالِ رِبا یعنی سود حرامِ قطعی ہے۔ اس کی حرمت (Unlawfulness)کا منکر کافر ہے اور حرام جانتے ہوئے اس کا مرتکِب فاسق اور مردود الشھادۃ ہے۔

تعریف: عقد معاوضہ (Compensation Agreement)جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس(زیادتی ) کے بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ "سود "ہے۔ (بہارِ شریعت، 2/ 769)

سود کی مذمت پر پانچ (5) احادیثِ مبارکہ(1) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ، رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سود لینے والے ، سود دینے والے، اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔ (صحیح مسلم، حدیث 1597،ص 862) (2) غسیل الملائکہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کا ایک درہم جس کو کوئی جان بوجھ کر کھائے وہ چھتیس مرتبہ زنا (Adultery)کرنے سے بھی بد تر ہے۔(مسند امام احمد، 8/223،حدیث:22016)

(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود (کا گناہ) ستر حصہ ہے ، ان میں سے سب سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زِنا کرے ۔ (سنن ابنِ ماجہ، 3/72، حدیث:2274)(4) حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: (سود سے بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو، مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔ (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن مسعود،2/50،حدیث: 3754)(5) خلیفہ ثانی امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ِ ہاشمی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کو چھوڑو اور جس میں سود کا شبہ ہو اس کو بھی چھوڑ دو۔ (سنن ابنِ ماجہ، 3/73 ، حدیث: 2276)

سود کی وجہ سے معاشرے میں ہونے والے فسادات: سود ایک ایسا ناسور ہے جو معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ عالمی معاشی بحران کی بڑی وجہ بھی معیشت میں سودی معاملات ہی ہیں۔ سود معاشرے کے امن کے لیے بھی زہرِ قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ سود کھانے والا اس بات کا آرزومند رہتا ہے کہ اس کا مقروض (کسی بھی نقصان وغیرہ کی صورت میں )قرض دینے میں مزید تاخیر کرے اور اسے زیادہ سود کی رقم حاصل ہو۔ اگر ہم نے تھوڑے سے دنیوی نفع کی خاطر سود جیسی لعنت کو نہ چھوڑا تو یقیناً ہم احادیث میں وارد وعیدات کے مستحق ٹھہریں گے۔

درس: پیارے اسلامی بھائیو ! سود سے بچنا ہم پر لازم ہے۔ کوئی بھی دانا شخص (Wise Person) قلیل دنیوی نفع کی خاطر اپنے اُخروی و ابَدی فائدے کو داؤ پر نہیں لگائے گا۔ لہذا سمجھداری اسی میں ہے کہ خدائے واحد و رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین پر مِن و عن عمل پیرا ہو کر سود جیسی لعنت سے اپنے کاروبار اور معاشرے کو پاک کیا جائے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔

سود و رشوت میں نُحُوست ہے بڑی

نیز دوزخ میں سزا ہوگی کڑی(وسائلِ بخشش)

اللہ پاک ہمیں اور ہمارے عزیز و اقارب کو سود سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے  دینی کاموں سے اپڈیٹ رہنے کے حوالے سے12 جنوری2023ء کو شعبہ مدنی کورسز کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ٹریننگ سیشن کا انعقاد ہوا جس میں شعبہ مدنی کورسز کے معلمین نے شرکت کی۔

رکنِ شعبہ محمد اویس رضا عطاری نے دعوتِ اسلامی کے تنظیم کاموں سے اپڈیٹ رہنے کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کی تربیت کی اور انہیں مدنی مرکز سے جاری ہونے والے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مدنی مشورے والے پمفلٹ کا مطالعہ کرنے کا ذہن دیا۔

ساتھ ساتھ شرکا کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی ترغیب بھی دلائی جس پر اسلامی بھائیوں نے اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ (رپورٹ : محمد احمد سیالوی عطاری مدنی ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


 (1) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ آج رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دوشخص آئے اور مجھے زمین مقدس (بیت المقدس) میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے، یہاں ایک شخص کنارہ پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شخص بیچ دریا میں ہے، یہ کنارہ کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شخص نے ایک پتھر ایسے زور سے اُس کے منہ میں مارا کہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارہ والا منہ میں پتھر مارکر وہیں لوٹا دیتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا، یہ کون شخص ہے؟ کہا، یہ شخص جو نہر میں ہے، سود خور ہے۔(بہار شریعت ،2/ 767)(2) حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہُ عنہما سے راوی، کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کا ایک درہم جس کو جان کر کوئی کھائے، وہ چھتیس مرتبہ زنا سے بھی سخت ہے۔(بہار شریعت، 2/ 768)

(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کا گناہ ستر حصہ ہے ان میں سب سے کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔ (بہار شریعت، 2/ 768) (4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح بڑے بڑے ہیں ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں میں نے پوچھا: اے جبریل یہ کون لوگ ہیں، انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں۔ (بہار شریعت، 2/ 768)(5) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:(سود سے بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو، مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔ (بہار شریعت ،2/ 768)


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام پچھلے دنوں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں معلمین کا سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہواجس میں رکنِ شعبہ قاری محمد ندیم عطاری نے فرض علوم کورس کروانے کے تعلق سے اسلامی بھائیوں کو اہم مدنی پھول دیئے۔ (رپورٹ : مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


9 جنوری 2023ء  کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں شعبہ مدنی کورسز کی جانب سے سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا جس میں کورسز کروانے والے ٹرینر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی ۔

اس موقع پر نگرانِ مدنی چینل مولانا اسد عطاری مدنی نے ’’حُسنِ گفتگو‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بھائیوں کو اچھی گفتگو کرنے کے متعلق نکات بتاتے نیز ان کو اپناتے ہوئے کورسز کروانے کا ذہن دیا جس پر شرکا نے ملنے والے نکات پر عمل کرنے کی اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ : ابوالحسان عمرفاروق عطاری مدنی ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


سود حرام قطعی ہے اسے حلال جاننے والا کافر ہے۔ قراٰن و حدیث میں اس کے متعلق وعیدیں بیان ہوئی ہے(1) ۔ حضرت جابر (رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے ،سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ (مسلم ،کتاب المساقات والمزارعہ باب لعن اکل الربا و موکلہ ،ص 862، حدیث :106 ) (2) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :سود کا گناہ 70 درجے ہے ۔اس میں سب چھوٹا یہ ہے کہ ادمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔ (مستدرک ،کتاب البیو ع ان اربی الرباالرجل المسلم، 2/338 ،حدیث :2306)

(3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے36 بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔(شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، 4 / 395، حدیث: 5523)(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح (بڑے بڑے) ہیں ، ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا، اے جبرئیل یہ کون لوگ ہیں ؟ اُنہوں نے کہا، یہ سود خور ہیں۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب التجارات،باب التغلیظ في الربا،3/72،حدیث: 2273)

الله پاک ہمیں سود کھانے اور سودی کاروں بار بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: سود کے بارے مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے مکتبہ المدینہ کا رسالہ (سود اور اس کا علاج ) کا مطالعہ فرمائیں ۔ 


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے عالمی   مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں شعبہ مدنی کورسز کے معلمین میں ٹریننگ سیشن ہوا جس میں رکنِ شوری ٰحاجی فضیل رضا عطاری نے’’ باطنی بیماریوں ‘‘کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔

دورانِ بیان رکنِ شوریٰ نے اسلامی بھائیوں کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے انہیں72 نیک اعمال رسالے سے روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ کرنے کی ترغیب دلائی نیز عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن بھی دیا جس پر اسلامی بھائیوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔(رپورٹ : حسان عمر عطاری مدنی ،کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)