14
دسمبر2023 ء بروز جمعرات جمادی ٰالاخریٰ
1445ھ کا چاند دیکھنے کے لئے
پاکستان کے مختلف علاقوں میں عاشقان رسول
نے چاند دیکھنے کا اہتمام کیا۔
اس سلسلے میں عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں
شعبۂ اوقات الصلوٰۃ کے تحت چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا ۔ نگران شعبہ مولانا
وسیم عطاری ا ور دیگر اراکین نے تخصص فی التوقیت کے طلبہ کے ساتھ چاند کی
رؤیت کا اہتمام کیا۔(کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری)
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ فیضانِ مدینہ مدنی مراکز
کے تحت ڈویژن ڈیرہ
اسماعیل خان خیبرپختونخوا میں مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں ناظم
الامور فیضان مدینہ، ائمہ فیضان مدینہ، جامعۃ المدینہ بوائز کے ناظمین سمیت دیگر متعلقہ مدنی عملے اور تحصیل نگران اسلامی بھائی نے شرکت کی ۔
مدنی
مشورے میں مولانا عبدالستار عطاری مدنی،
زمان عطاری مدنی، فرمان عطاری مدنی،قاری محمد زاھد نواز عطاری سمیت
دیگر ذمہ داران نے مدنی مراکز کی آبادی کاری ، 12دینی کام و دیگر
انتظامی معاملات، ہفتہ وار اجتماع
اور تعمیرات کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کی تربیت
کی ۔(رپورٹ:
قاری محمد زاھد نواز عطاری،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)
12 دسمبر 2023ءخانقاہ شریف فیضان مدینہ میں
نگران بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر حافظ عبدالرؤف عطاری اور ڈسٹرکٹ نگران حاجی اعجاز عطاری
نے ڈسٹرکٹ بہاولپور کے تحصیل نگران وذمہ داران کا مدنی مشورہ فرمایا جس میں سابقہ
کارکردگی کا جائز لیتے ہوئے 12 دینی کام بالخصوص ہفتہ وار اجتماع میں حاضری کو
مضبوط کرنے ، ماہنامہ فیضان مدینہ کی بکنگ
اور دسمبر 2023ءمدنی قافلوں کے حوالے سے
اہداف دیئے۔(رپورٹ: احمدرضا عطاری ڈویژن میڈیا ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ:شعیب
احمد عطاری)
13 دسمبر2023ء بہاولپور فیضان مدینہ میں نگران
بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر حافظ عبدالرؤف عطاری نے مجلس کنسٹرکشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ
داران کا مدنی مشورہ فرمایا جس میں بہاولپور ڈویژن کے تعمیراتی پروجیکٹ کے سے
متعلق مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے حل کے حوالے سے جائزہ لیا اور حاضرین کو اہداف دیئےاور12 دینی کام بالخصوص ہفتہ وار اجتماع میں
حاضری کو مضبوط کرنے ، ماہنامہ فیضان مدینہ کی بکنگ اور دسمبر2023ء مدنی قافلوں کے حوالے سے اہداف دیئے۔(رپورٹ: احمدرضا عطاری ڈویژن میڈیا ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)
میڈیا ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی کے تحت پنڈی گھیب شہر میں نیکی کی
دعوت کا سلسلہ
دعوت اسلامی کے شعبے میڈیا
ڈیپارٹمنٹ کے تحت پنڈی گھیب شہر میں نیکی کی دعوت کا سلسلہ ہواجس میں پرنٹ اور
الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی۔
ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے ایوب خان صدر الیکٹرانک میڈیاکوہ نور نیوز،مدثر عزیز نوائے وقت،حنیف
بھٹی ایکسپریس میڈیا گروپ ،ملک افتخار ڈیلی اساس،آصف صابری پی ٹی وی اورعامر سلطان
ڈیلی پنڈی ٹو دےسے ملاقات کی۔
میڈیا ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے صحافيوں کو
دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے دینی اور فلاحی کاموں سے آگاہ کرتے ہوئے مبلغ دعوت اسلامی نے صحافيوں کے درمیان
امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسائل تقسیم کیے۔(رپورٹ: ڈسٹرکٹ ذمہ دار محمد سلیم سلیمی عطاری، کانٹینٹ:شعیب
احمد عطاری)
کراچی جناح ٹاؤن دھوراجی فیضان مشتاق مسجد میں شعبہ
کفن دفن کی جانب سے سیکھنے سیکھانے کا سلسلہ
شعبہ کفن دفن دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 08-12-2023ءکو
کراچی جناح ٹاؤن دھوراجی فیضان مشتاق مسجد میں شعبہ کفن دفن کی جانب سے سیکھنے سیکھانے
کا سلسلہ ہوا جس میں فیضان مشتاق مسجد کے اسلامی بھائیوں سمیت
دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی ۔
کفن دفن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ
ذمہ دار عزیر عطاری نے شرکا کو غسلِ میت کا طریقہ بتایا اور کفن کاٹنے و پہنانے کے
حوالے سے اُن کی تربیت کی۔
آخر میں ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے شعبہ کفن دفن کا
تعارف کرواتے ہوئے پلے اسٹور پر موجود ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کروائی اور دعوتِ اسلامی
کے دینی و فلاحی کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)
کراچی فیضان مدینہ عالمی مدنی مرکز میں7دسمبر2023ء
شعبہ کفن دفن کی جانب سے سیکھنے سیکھانے کا سلسلہ
شعبہ کفن دفن دعوت اسلامی کے زیر
اہتمام07-12-2023ءکو کراچی فیضان مدینہ عالمی مدنی مرکز میں غسل میت کا عملی طریقہ اور فضیلت و اہمیت کے متعلق سیکھنے
سیکھانے کا سلسلہ ہوا جس میں مبلغ کورس تخصص فی الدعوہ کے اسلامی بھائیوں سمیت
دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی ۔
مبلغ دعوت اسلامی عزیر عطاری شعبہ کفن دفن ایسٹ
ڈسٹرکٹ نے غسل میت کا عملی طریقہ کفن
کاٹنے، کفن ، پہنانے کا طریقہ ،غسل میت کے
مسائل، نمازے جنازہ کا طریقہ، تدفین کا طریقہ اور مسائل کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے
مسلم فیونرل اپلیکیشن کا تعارف کروایا اورحاضرین کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دلائی
۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)
نوکر و ملازم
کے حقوق از بنت جاوید، جامعۃ المدینہ فیضان عبد الرزاق حیدر آباد
مالک ذوالجلال نے انسانوں میں بعض لوگوں کو بعض پر
ترجیح دی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ
بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاؕ- (پ
25، الزخرف: 32) ترجمہ: اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندی کیا،
تاکہ ان میں ایک دوسرے کو اپنا خادم بنائے۔ چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔
جہاں اس نے ماں باپ، پڑوسیوں، اساتذہ و طالبات کے حقوق بیان کیے ہیں، اسی طرح
ملازم کے حقوق بھی بیان کیے ہیں۔ نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے: اِنَّ اِخْوَانَکُمْ
خَوَلُکُمْ جَعَلَھُمُ اللہُ تَحْتَ اَیْدِیْکُمْ یعنی ملازمین
تمہارے بھائی ہے جنہیں اللہ نے تمہارا ماتحت کردیا ہے۔ (بخاری، 2/158، حدیث: 2545)
حقوقِ ملازم:
1۔ وسعت کے مطابق
کام لینا:کسی
بھی قسم کے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے مالک کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ملازم یا
نوکر سے اس کی اہلیت و طاقت کے مطابق کام لے۔
2۔ عزت و احترام سے
پیش آنا:ملازم
کا یہ حق ہے کہ مالک اسے عزت و احترام سے پکارے اس کو عزت دے اور ذرا ذرا سی
کوتاہیوں میں اکیلے یا سب ملازمین کے سامنے بےعزتی نہ کرے۔
3۔ ادائیگی تنخواہ
میں جلدی: نبی
پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: اُعْطُوا الْاَجِیرَ اَجْرَہٗ قَبْلَ اَنْ
یَجُفَّ عَرْقُہٗ یعنی مزدور و ملازم کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے
پہلے اس کی مزدوری دے دیا کرو۔ (ابنِ ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)
آج کے اس پُرفتن دور میں یہ روایت چل پڑی ہے کہ
مزدور یا ملازم کی اجرت بہت رلانے کی بعد دی جاتی ہے، آخرت میں اس کا انجام بہت
درد ناک ہوگا۔
4۔ حسن اخلاق سے پیش
آنا: ملازم
کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا مالک کا فرض ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ اپنے گھر میں
کام کرنے والے نوکر یا اپنے دفتر میں کام کرنے والے ملازمین سے عمدہ اخلاق سے پیش
آئے تاکہ اس سے دونوں کے درمیان ایک خوش گوار تعلق پیدا ہو۔ حدیث شریف میں ہے:
بداخلاقی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 3/380، حدیث: 1953)
5۔ مساوات کا خیال
رکھنا: مالک
کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ملازموں کے ساتھ مساوات و برابری کا سلوک رکھے کسی بھی
لحاظ سے کسی بھی ملازم کو برتری و کسی کو کمتری کا احساس نہ دلائے۔
6۔ وعدہ کی پاسداری:
مالک
کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین سے کیے گئے کسی بھی قسم کے جائز وعدے کی پاسداری کرے۔
نوکر و ملازم
کے حقوق از بنت رمضان عطاریہ، جامعۃ المدینہ رحمت کالونی رحیم یار خان
جان لیجئے کہ انسان یا تو اکیلا رہتا ہے یا کسی کے
ساتھ، چونکہ انسان کا ہم جنس لوگوں کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے لہذا اس پر مل جل
کر رہنے کے آداب سیکھنا ضروری ہے، ذیل میں نوکر و ملازم کے چند حقوق پیش خدمت ہیں
پڑھ کر عمل کی نیت فرمالیجئے۔
حقوق:
1۔ نوکروملازم سے ایسے کام نہ کروائے جائیں جن کی
وہ طاقت نہ رکھتے ہوں، حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ غلاموں کو رواج کے مطابق کھلاؤ
اور پہناؤ جس کام کے کرنے کی ان میں طاقت نہ ہو اس کی انہیں تکلیف نہ دو (بخاری، 2/158،
حدیث: 2545)
2۔ نوکر و ملازم کی غلطیوں سے درگزر کیا جائے، ان
کی غلطی و کوتاہی پر غصہ کرتے وقت اللہ پاک کے حق میں اپنی غلطی اور اس کی اطاعت میں
کوتاہی پر غور و فکر کرے اور یہ سوچے کہ جتنی ملازم پر مجھے قدرت حاصل ہے اس سے
کہیں زیادہ قدرت اللہ پاک کو مجھ پر ہے، اس سے ان شاءاللہ الکریم درگزر کا ذہن بنے
گا۔
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی
میں
3۔ ان کے ساتھ عاجزی سے پیش آئے اور تکبر نہ کرے،
کیونکہ رب تعالیٰ کسی متکبر اور اترانے والے کو پسند نہیں فرماتا، اگرچہ وہ ہمارے
ماتحت ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں خود سے کمتر اور حقیر جانا جائے۔
4۔ ملازمین کے عمدہ کام کرنے یا غیر معمولی کام
کرنے پر ان کو اپریشئیٹ کیا جائے تاکہ انکی حوصلہ افزائی ہو اور مزید کام کرنے کا
شوق پیدا ہو۔
5۔ ملازم کا ایک حق یہ بھی ہے کہ جب ملازم کی
تنخواہ کی ادائیگی کا مطلوبہ وقت پورا ہوجائے تو جتنا جلد ہوسکے تنخواہ کی ادائیگی
کرے۔
آج کے معاشرے میں ادائیگی میں جان بوجھ کر تاخیر
کرنا فیشن بنتا جارہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملازموں کو کچھ دبا کر
رکھنا چاہئے ورنہ یہ بہت تنگ کرتے ہیں، حالانکہ حدیث پاک میں ہے کہ مزدور اور
ملازم کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دے دیا کرو۔ (ابنِ ماجہ، 3/162،
حدیث: 2443)
6۔ دوران ڈیوٹی ملازمین کے کھانے اور نماز کے اوقات
کا خاص خیال رکھا جائے، مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر لازم ہے کہ اپنے ماتحتوں کیلئے
بھی ایسی آسائشیں مہیا کی جائیں جیسی ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ حقیقی
مسلمان وہی ہے جو اپنے لئے پسند کرے وہی اپنے مسلمان بھائی کیلئے پسند کرے۔
مالک کریم ہمیں اپنے ماتحتوں کے حقوق پورے کرنے کی
توفق عطا فرمائے۔ آمین
وقت بے وقت کسی کو ٹوکتے رہنا، ڈانٹ پلادینا
یاجھاڑنے کی عادت سے ممکن ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہماری مدد سے انکار کر دے جب ہم
شدید پریشانی میں مدد کے طلبگار ہوں۔ لہذا اپنے خدمت گزاروں سے اچھا سلوک کیجیے،
ان کی طاقت سے زیا دہ ان سے کام نہ لیجیئے۔
ملازمین اورخادمین کو تکلیف نہ دیجیئے: بعض
لوگ اپنے ملازمین اور گھریلو خادمین سے جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں، بات بات پر
ان کی بےعزتی کرتے ہیں، ان سے زیادہ کام لیتے ہیں، انکار پر نوکری سے فارغ کر دینے
کی دھمکی دیتے ہیں، ایسے افراد یاد رکھیں کہ ان ملازمین و خادمین کی بھی حق تلفی
کرنا اور ان کو بلا وجہ شرعی تکلیف پہچانا جائز نہیں۔ ہمارے اکابرین تو اپنے خدام
سے مثالی سلوک رکھا کرتے تھے۔(تکلیف نہ دیجیئے، ص157 )
غلام کو تکلیف نہ دی: منقول ہے کہ
ایک رات امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے ہاں کوئی مہمان آیا،
اس وقت آپ لکھ رہے تھے، چراغ بجھنے لگا تو مہمان نے عرض کی میں اٹھ کر ٹھیک کر
دیتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: یہ بات مہمان کی خاطر داری کے خلاف ہے کہ اس سے خدمت لی
جائے، اس نے کہا: غلام کو جگا دیتا ہوں وہ کام کر لے گا۔ فرمایا: وہ ابھی ابھی
سویا ہے یہ فرما کر خود اٹھے اور تیل کی کپی لے کر چراغ میں تیل بھرا۔ مہمان نے
کہا: اے امیرالمومنین! آپ یہ کام خودانجام دے رہے ہیں؟ فرمایا: میں جب اس کام کے
لیے گیا تب بھی عمر تھا اور جب واپس لوٹا تب بھی عمر ہی ہوں، میرے اس کام سے میرے
مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگوں میں سے بہترین وہ ہےجواللہ کے ہاں
عاجزی والا ہو۔ (احیاء العلوم، 3/435)
خادمہ کی تکلیف کا خیال: فی زمانہ شرعاً
کوئی غلام موجود نہیں لیکن اپنے پاس کام کرنے والے ملازمین اور خادمین کا خیال
رکھنا بھی شیوہ مسلمانی ہے، چنانچہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی
رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں جب مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا
مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بریلی شریف حاضر ہوا تو آپ نے دار الافتاء
کی خدمت میرے سپرد فرما دی۔ میں دن میں مسائل کا جواب لکھتا اور عشاء کے بعد آپ کو
سنایا کرتا اور جہاں مناسب معلوم ہوتا آپ اصلاح فرمایا کرتے تھے، یہ مجلس عموما دو
تین گھنٹے کی ہوتی جبکہ بسا اوقات چار گھنٹے کی بھی ہو جاتی تھی۔ انہی ایام میں
ایک دفعہ جبکہ سخت سردیوں کے د ن تھے، کمرے میں حضرت کےلیے انگیٹھی تھی جو کچھ دیر
کے بعد ٹھنڈی ہونے لگی اور حقے کی آگ بھی ختم ہونے پر آئی، اچانک آپ رحمۃ اللہ
علیہ نے فرمایا: اگر کوئلہ اور ہوتا تو انگیٹھی ہی گرم ہو جاتی اور تمباکو ابھی
پورا نہیں جلا وہ بھی کام آجاتا، میں نے عرض کی اندر خادمہ کو آواز دے کر کوئلہ
مانگ لوں؟ فرمایا: دن بھر کی تھکی ہاری بے چاری سو گئی ہوگی، جا نے دیجیئے۔ (جہانِ
مفتی اعظم ہند، ص328)
خادم سے کپڑے پر سیاہی گر گئی: منقول ہے کہ
ایک مرتبہ حضرت اسماعیل بن بلبل شیبانی کے خادم نے قلم سیاہی میں ڈبو کر آپ کو پیش
کیا تو بے خیالی میں سیاہی کے چند قطرے آپ رحمۃ اللہ علیہ کے قیمتی جبے پر گر گئے،
خادم خوف سے کانپنے لگا کہ نہ جانے اب کیا سزا ملے گی! لیکن آپ نے درگز کرتے ہوئے
فرمایا: گھبراؤ نہیں! پھر یہ اشعار پڑھے:
ترجمہ: جب کستوری قوم کی خوشبو کو عمدہ کرے مجھے
یہی سیاہی کی خوشبو کافی ہوگی ان کپڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں جن کے کناروں
پر کوئلہ کی سیاہی ہو۔ (سیر اعلام النبلاء، 10/ 566)
حدیث پاک میں ہے: جو آقا اپنے غلام کو نہ حق مارے
گا قیامت کے دن اس سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مصنف عبد
الرزاق، 9/ 317، حدیث:18275)
اللہ پاک ہمیں اپنے ملازمین کے حقوق ادا کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں
کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آقا اپنے غلام کو ناحق مارے گا قیامت کے دن اس
سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق، 9/ 317، حدیث:18275)
ملازم کے حقوق:
1۔ طاقت و اہلیت کے
مطابق کا م لینا: کمپنی مالک کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا
چاہیے کہ ملازم سے اس کی استطاعت، قابلیت اور لیاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے، کہیں
ایسا نہ ہو کہ ملازم پر ظلم کے زمرے میں آجائے۔
2۔ عزت و تکریم کا
معاملہ کرنا: کمپنی
اور ادارے کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ اپنے ملازم کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ
کریں، کسی بھی قسم کی بے عزتی اور ہتکِ عزت سے گریز کریں۔ عزت نفس کو مجروح نہ
کریں کیونکہ انسان ایک قابلِ احترام ذات ہے۔
3۔ کام کے دورانیے
کی وضاحت: ملازم
کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ کرتے وقت اوقات کار کی وضاحت کردینا بھی ملازم کا حق ہے۔
اس کے کئی فوائد ہیں، ا ن میں سے ایک یہ ہے کہ ملازم سوچ سمجھ کر معاہدہ کو قبول
کرے گا تو دلجمعی اور اطمینان سے کام کرے گا، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ متعلقہ وقت میں
کام کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن بعض مرتبہ اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
اوقات کی حد بندی میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے اور ملازمین کو دیر تک بیٹھنے
پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بات کرنے پر ملازمت سے چھٹی کروانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ
اچھا رویہ نہیں۔ ہاں اگر کبھی کبھار کچھ تاخیر ہوتی ہے تو ملازم کو بھی اس میں
تعاون کرنا چاہیے۔
4۔کام کے لیے مطلوب
ماحول فراہم کرنا: ملازم کو دوران ملازمت ایسا ماحول فراہم کیاجائے جو
اس کے کام کی نوعیت کے حساب سے بھی مناسب ہو اور صحت بھی متاثرنہ ہو، مثلاً: کمروں
کا ہوادار ہونا، روشنی کا معقول انتظام ہونا، تحقیق و ریسرچ کا کام ہوتو خاموشی کا
ماحول وغیرہ وغیرہ، اس سے کارکردگی کافی حدتک بڑھ جائے گی۔
5۔ تنخواہ کا معیار:
کمپنی
/ ادارہ چھوٹا ہو یا بڑا اس میں کام کرنے والے ملازمین کایہ حق ہے کہ اسٹاف ممبران
کی تنخواہیں قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر مقرر کی جائیں اور ہرسال اس میں اضافے
کی گنجائش بھی رکھنی چاہیے تاکہ ملازمین کی سالانہ حوصلہ افزائی ہو اور وہ لگن کے
ساتھ کام کرسکیں۔
6۔ عمدہ کام کرنے پر
تحسین: ملازمین
کے عمدہ کام کرنے یا غیر معمولی کام کرنے پر ان کی تحسین بھی کی جانی چاہیے تاکہ
اس کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور دیگر ملازمین کو بڑھ چڑھ کر کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو
جو یقینا ادارے کے لیے نفع مندعمل ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ معمولی کوتاہیوں کو
نظرانداز کرنے کا طرز اپنانا بھی Productivity بڑھانے کے لیے کافی حدتک مفید ثابت
ہوسکتاہے۔
شریعت مطاہرہ نے ہر کسی کے حقوق بیان کیے ہیں جن
میں کوتاہی کرنے سے انسان گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے، جیسےعورت کے مرد پر حقوق یا
مرد کے عورت پر حقوق کو بیان فرمایا ہے اسی طرح مالک پر غلام کے حقوق کو بھی بیان
فرمایا ہے کہ غلام مالک کے زیر نگرانی ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ اس کے حقوق کے
پاسداری کرے۔
ملازم کے چند حقوق درج ذیل ہیں:
1۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غلام کے لیے اس کا کھانا
کپڑا ہے اور اسے اس قدر کام کی تکلیف نہ دے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ یعنی آقا پر
لونڈی غلام کا بقدر ضرورت درمیانی کھانا کپڑا واجب ہے، اس کھانے کپڑے میں عرف کا
لحاظ ہے شریعت نے حد مقرر نہیں فرمائی۔یعنی ہمیشہ کےلیے مشکل کام کا حکم نہ دو
ضرورتاً ایک دو دن مشکل کام کرالیا جائے۔ (مراۃ المناجیح، 5/160)
2۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی کا خادم
اس کے لیے کھانا تیار کرےپھر وہ کھانا لائے اور اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرچکا
ہو تو اسے اپنے ساتھ بٹھا لے کہ وہ بھی کھائے لیکن اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس میں
سے خادم کے ہاتھ پر ایک دو لقمے رکھ دے۔ یہاں خادم میں لونڈی غلام سب شامل ہیں
یعنی اگر کھانا کافی ہے تو اس پکانے والے خادم کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر
کھلائے اسے ساتھ بٹھانے میں ذلت نہ سمجھے۔ اگر کھانا کم ہو تو غلام کے ہاتھ میں دو
لقمے رکھ دے کہ مالک کو کھانا اچھے سے ہضم ہو جائے۔(مراۃ المناجیح، 5/162)
3۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے غلام
کو وہ حد مارے جو جرم اس نے کیا نہیں یا طمانچہ مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے
آزاد کر دے۔ یعنی بے قصور مارے پیٹے، حد سے مراد حد شرعی نہیں بلکہ ہر سخت مار پیٹ
ہے، اس طمانچہ سے مراد ظلماً مارنا ہے ادب سکھانے پڑھانے پر طمانچہ مارنا درست ہے
یہی حکم شاگرد مرید بچے یا رعایا کو مارنے کا ہے۔(مراۃ المناجیح، 5/164)
4۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضور اپنے مرض میں
فرماتے تھے: نماز اور غلاموں کی نگرانی کرو۔یعنی نماز کی پابندی وحفاظت کرو مرتے
دم تک نہ چھوڑو۔معلوم ہواکہ نماز بڑا ہی اہم فریضہ ہےکہ حضور نے خصوصیت سے اس کی
وصیت فرمائی۔ غلاموں کی نگرانی سے مراد ان سے اچھا برتاؤ کرو ان کے حقوق ادا کرو۔ (مراۃ
المناجیح، 5/166)
5۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے
کوئی اپنے خادم کو مارے تو وہ اللہ کا ذکر کر دے تو اپنے ہاتھ اٹھا لو۔ یعنی اگر
تم اپنی نافرمانی یا تعلیم و تر بیت کے لیے اپنے غلام نوکرشاگرد بیٹے بیوی کو مارو
اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ کو ضامن کرتا ہوں اب یہ قصور نہ کروں گا اور اب خدا کے
لیے مجھے چھوڑ دو تو تم اللہ کے نام کا ادب کرتے ہوئے چھوڑ دو شرعی حدود اس حکم سے
خارج ہیں وہ تو مجرم کو پوری پوری دی جائے گی۔(مراۃ المناجیح، 5/167)
Dawateislami