Performance of reading or listening to
Imam Abu Hanifa's treatise of the Islamic Sisters of the UK Region
In the weekly
civic discourse, Ameer Ahl-e-Sunnat Damat Barakatuhum Al-Aaliyah encourages the
reading of one of the civic magazines and also gives prayers to the readers and
listeners of the magazine. The performance of the lucky ones who study or
listen is also presented in the court of Amir Ahl-e-Sunnat Damat Barakatum
Al-Aaliyah.
Ameer
Ahl-e-Sunnat Damat Barakatum Al-Aaliyah had encouraged people to read or listen
to the treatise "Imam Abu Hanifa's good behavior". In this regard,
approximately sixteen thousand five hundred and ninety-one Islamic sisters in
the UK region had the privilege of reading / listening to the magazine “Imam
Abu Hanifa's Behavior”.
Performance of reading or listening to the Magazine "Millions of Virtues and Millions of Sins" by Islamic Sisters in UK Region
In the weekly
Madni discourse, Ameer Ahl-e-Sunnat Damat
Barakatum Al-Aaliyah encourages the reading of one of the civic
magazines and also gives prayers to the readers and listeners of the magazine.
The performance of the lucky ones who study or listen is also presented in the
court of Amir Ahl-e-Sunnat Damat Barakatuhum Al-Aaliyah.
Ameer
Ahl-e-Sunnat Damat Barakatuhum Al-Aaliyah had encouraged people to read or
listen to the magazine "Millions of virtues and millions of sins".
Madni counseling of responsible Islamic sisters’
shab-o-roz in the UK region
Organized by the
Dawat-e-Islami shab-o-roz department (Islamic Sisters) in the last few
days, there was a Madni consultation which the responsible Islamic sisters in
London, Birmingham, Bradford and Scotland attended.
Under the supervision
of Dawat-e-Islami, weekly gatherings of saints were held in the Glasgow and
Edinburgh regions of the UK, Scotland, with the participation of at least 76
Islamic sisters.
Preachers of
Dawat-e-Islami made saintly speeches on the topic of “Leaders of the Walis” and
briefed the Islamic sisters participating in the gatherings about the religious
activities of Dawat-e-Islami and encouraged them to remain attached to the
religious atmosphere of Dawat-e-Islami and participate in the weekly gathering.
The UK Scotland Region holds monthly
teaching and learning circles in Glasgow and Edinburgh cabinets.
Dawat-e-Islami
recently organized monthly teaching and learning circles in the Glasgow and
Edinburgh cabinets of the UK-Scotland region, attended by at least 15 Islamic
sisters.
There was a
series of holy speeches in the teaching and learning circles, while the Islamic
sisters participating in the circles were encouraged to take part in the weekly
religious activities.
درود شریف کی فضیلت:فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:قیامت کے روز اللہ پاک کے عرش کے
سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا، تین شخص عرشِ الٰہی
کے سائے میں ہوں گے۔عرض کی گئی، یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا:1۔وہ شخص جو میرے امتی کی پریشانی دور کرے،2۔میری
سنت کو زندہ کرنے والا،3۔مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھنے والا۔
(ص325)
نفل
روزوں کے دینی و دنیاوی فوائد
پیاری پیاری اسلامی بہنوں!فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفل روزوں کی بھی عادت
بنانی چاہئے کہ اس میں بے شمار دینی و دنیاوی فوائد ہیں اور ثواب تو اتنا ہے کہ مت
پوچھو بات!آدمی کا جی چاہے کہ بس روزے رکھتے ہی چلے جائیں، دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت،جہنم سے نجات اور
جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں تک دنیوی فوائد کا تعلق ہے تو دن کے اندر کھانے پینے
میں صَرف ہونے والے وقت اور اخراجات کی بچت، پیٹ کی اصلاح اور بہت سارے امراض سے حفاظت کا
سامان ہے اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ روزہ دار سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔(ص325)
روزہ
داروں کی بخشش کی بشارت
اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ:اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ
رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں،
ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار
کر رکھا ہے۔
وَالصَّائِمِیْنَ
وَالصّٰئِمٰتِ (ترجمہ:اور روزے والے اور روزے والیاں) کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو
البرکات عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ
علیہ لکھتے ہیں:اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے
داخل ہیں،منقول ہے:جس نے ہر مہینے ایّامِ بیض(یعنی چاند کی 13، 14، 15 تاریخ) کے تین روزے رکھے، وہ روزے رکھنے
والوں میں شمار کیا جاتا ہے، اللہ پاک پارہ
29 میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ:کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا، جو تم نے گزرے
دنوں میں آگے بھیجا۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ
علیہ اس آیتِ کریمہ کے اس حصے(گزرے ہوئے دنوں میں) کے تحت لکھتے ہیں:یعنی دنیا کے
دونوں میں سے گزشتہ دنوں میں یا ان دنوں میں جو کہ کھانے اور پینے سے خالی تھے اور
وہ رمضان المبارک کے روزوں کے دن ہیں اور
دوسرے مسنون روزوں کے ایام جیسے ایامِ بیض (یعنی چاند کی 13، 14، 15 تاریخ)عرفہ (یعنی 9 ذوالحجۃ الحرام) کا دن، روزِ عاشوراء،پیر کا دن،جمعرات کا دن اور شبِ
براءت کا دن وغیرہ۔حضرت امام مجاہد رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں:فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ۔ (گزرے ہوئے دنوں میں)سے مراد روزوں کے دن ہیں، اب مطلب یہ ہوا کہ تم کھاؤ اور پیو اس کے بدلے میں،
جو تم نے روزے کے دنوں میں اللہ پاک کی
رضا میں خود کو کھانے پینے سے روکا(لہٰذا جنت میں کھانا ،پینا،دنیا میں کھانے پینے سے روکنے کا بدل ہوجائے گا)۔
(ص326)
جنت
کا انوکھا درخت
جس نے ایک نفل روزہ رکھا، اس کے لئے
جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا، جس کا
پھل انار سے چھوٹااور سیب سے بڑا ہوگا۔وہ شہد جیسا میٹھا اور خوش ذائقہ
ہوگا۔اللہ پاک بروزِ قیامت روزہ دار کو اس درخت کا پھل کھلائے گا۔(ص327)
چالیس
سال کا فاصلہ دوزخ سے دوری
جس نے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اُسے دوزخ سے چالیس سال (کی مسافت کے برابر) دور فرما دے گا۔
دوزخ
سے پچاس سال کی مسافت کی دوری
جس نے رضائے الٰہی پاک کے لئے ایک دن کانفل روزہ رکھا تو اللہ پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک
تیز رفتار سوار کی پچاس سالہ مسافت(یعنی فاصلے)تک دور فرما دے گا۔(ص نمبر 327)
زمین
بھر سونے سے بھی زیادہ ثواب
اگر کسی نے ایک دن روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اسے دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا، اس کا ثواب تو قیامت کے دن ہی ملے گا۔(ص328)
جہنم
سے بہت زیادہ دُوری
جس نے اللہ پاک کی رضا میں ایک دن کا فرض روزہ رکھا ، اللہ پاک اسے جہنم سے
اتنا دور کر دے گا، جتنا ساتوں زمینوں اور
آسمانوں کے مابین (یعنی
درمیان) فاصلہ ہے اور جس نے ایک دن کا نفل
روزہ رکھا، اللہ پاک اسے جہنم سے اتنا دور
کر دے گا، جتنا زمین وآسمان کا درمیانی
فاصلہ ہے۔(ص328)
نفل
روزوں کا پسندیدہ مہینا
حضرت عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :انہوں نے اُم المؤمنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا: انبیاء کے سرتاج صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پسندیدہ مہینا شعبان المعظم
تھا کہ اس میں روزے رکھا کرتے تھے، پھر
اسے رمضان المبارک سے ملا دیتے۔(ص352)
ایک
جنتی نہر کا نام رجب ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جنت میں ایک نہر
ہے،جسے رجب کہا جاتا ہے،وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید اور شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے،
تو جو کوئی رجب کا ایک روزہ رکھے گا، اللہ
پاک اسے اس نہر سے پلائے گا۔(ص343)
اللہ
پاک کا مہینا
فرمانِ مصطفےصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:رَجَبٌ شَہْرُ
اللہِ تَعَالٰی وَ شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَ رَمَضَانُ شَہْرُ اُمَّتِیْ۔یعنی رجب اللہ پاک کا مہینا اور
شعبان میرا مہینا ہے اور رمضان میری امت کا مہینا ہے۔(ص339)
عیدین کی راتیں(یعنی
عیدالفطر کی چاند رات اور شبِ عیدالاضحیٰ یعنی نو اور دس ذوالحجہ کی درمیانی رات)کہ ان راتوں میں عبادت کرے اور دن
میں روزہ نہ رکھے، (عیدین میں روزہ رکھنا جائز نہیں)اور پانچ شبِ عاشورہ (یعنی محرم الحرام کی 10 ویں شب) کے اس رات میں عبادت کرے اور دن میں روزہ رکھے۔
روزہ
ٔنفل کے 13 مدنی پھول:
٭ماں
باپ اگر بیٹے کو نفل روزے سے اس لئے منع کریں کہ بیماری کا اندیشہ ہے تو والدین کی
اطاعت کرے۔
٭شوہر
کی اجازت کے بغیر بیوی نفل روزہ نہیں رکھ
سکتی۔
٭نفل
روزہ قصداً شروع کرنے سے پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے، اگر توڑے گا تو قضا واجب ہو گی۔ ٭نفل روزہ جان
بوجھ کر نہیں توڑا، بلکہ بلا اختیار ٹوٹ گیا،
مثلاً عورت کو روزے کے دوران حیض آگیا تو
روزہ ٹوٹ گیا، مگر قضا واجب ہے۔
٭نفل
روزہ بلا عذر توڑنا ناجائز ہے، مہمان کے ساتھ اگر میزبان نہ کھائے گا تو اسے یعنی
مہمان کو ناگوار گزرے گا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے تو میزبان کو اذیت ہوگی، تو روزہ توڑنے کے لئے یہ عذر ہے، بشرطیکہ یہ بھروسا ہو کہ اس کی قضا رکھ لے گا۔
٭والدین
کی ناراضی کے سبب عصر سے پہلے تک روزہ توڑ سکتا ہے، بعدِ عصر نہیں۔
٭اگر
اسلامی بھائی نے دعوت کی تو ضحویِ کبریٰ سے قبل نفل روزہ توڑ سکتا ہے، مگر قضا واجب ہے۔(ص382)
درود
شریف کی فضیلت
فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:قیامت کے روز اللہ پاک کے عرش کے سوا کوئی سایہ
نہیں ہوگا،تین شخص عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے۔عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا:1۔وہ
شخص جو میرے امتی کی پریشانی دور کرے، 2۔ میری سنت کو زندہ کرنے والا، 3۔مجھ پر
کثرت سے درود شریف پڑھنے والا۔
روزہ
داروں کے لئے بخشش کی بشارت
اللہ پاک پارہ22، سورۃ الاحزاب کی آیت
نمبر 35 میں ارشاد فرماتا ہے:وَالصّٰٓئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ
وَالْحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللہ کَثِیۡرًا وَّ
الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللہُ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾۔ترجمۂ کنزالایمان:اور روزے والے اور
روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو
بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر
رکھا ہے۔
نفلی
روزوں کے فضائل احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
40
سال دوزخ سے دوری کا فاصلہ:
جس نے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اسے دوزخ سے چالیس سال (کی مسافت کے برابر) دور فرما دے گا۔
زمین
بھر سونے سے بھی زیادہ ثواب
اگر کسی نے ایک دن روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اسے دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا، اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا۔
کوّا
بچپن تا بڑھاپا اُڑتا رہے یہاں تک کہ
جس نے ایک دن کا روزہ اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لئے رکھا ، اللہ پاک اسے جہنم سے اتنا دور کر دے گا،جتنا کہ
ایک کوّا بچپن سے اُڑنا شروع کرے، یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر مرجائے۔
روزہ
رکھو تندرست ہو جاؤ گے
صُوْمُوْا
تَصِحُّوْایعنی روزہ رکھو تندرست ہو جاؤ گے۔
قیامت
میں روزہ دار کھائیں گے
تابعی بزرگ حضرت عبداللہ بن رباح
انصاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے
ایک راہب سے سنا،قیامت کے دن دسترخوان بچھائے جائیں گے، سب سے پہلے روزہ داران پر سے کھائیں گے۔
دو جہاں کی نعمتیں ملتی ہیں روزہ دار کو جو
نہیں رکھتا ہے روزہ وہ بڑا نادان ہے
روزے
میں مرنے کی فضیلت
جو روزے کی حالت میں مرا، اللہ پاک
قیامت تک کیلئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا۔
(مذکورہ بالا تمام تر مدنی پھول امیر
ِاہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب فیضانِ رمضان سے لئے گئے ہیں۔)
الحمدللہ نفل روزوں میں بے شمار دینی و دنیاوی فوائد ہیں اور ثواب تو اتنا
ہے کہ مت پوچھو !دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت، جہنم سے نجات اور جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں
تک دنیوی فوائد کا تعلق ہے تو دن کے اندر کھانے پینے میں صَرف ہونے والے وقت اور
اخراجات کی بچت، پیٹ کی اصلاح اور بہت
سارے امراض سے حفاظت کا سامان ہے اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ روزہ دار سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔
آیتِ
مبارکہ:وَالصّٰٓئِمِیۡنَ
وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللہ
کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللہُ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا
عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾۔ترجمۂ کنزالایمان:اور روزے والے اور
روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو
بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر
رکھا ہے۔
وَالصّٰٓئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ (ترجمہ:اور روزے والے اور روزے والیاں) کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو
البرکات عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ
علیہ لکھتے ہیں:اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے
داخل ہیں، منقول ہے:جس نے ہر مہینے ایّامِ بیض(یعنی چاند کی 13، 14، 15 تاریخ) کے تین روزے رکھے، وہ روزے رکھنے
والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
احادیث
مبارکہ
فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :جس نے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اُسے دوزخ سے چالیس سال (کی مسافت کے برابر) دور فرما ئے گا۔
فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اسے دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا، اس کا ثواب تو قیامت کے دن ہی ملے گا۔(ابو یعلی)
حضرت اُمّ عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رحمتِ عالمیان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، میں نے کھانا پیش کیا تو ارشاد فرمایا:تم بھی کھاؤ، میں نے عرض کی:میں روزے سے ہوں!تو فرمایا: جب تک
روزے دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے، فرشتے اس روزہ دار کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے
ہیں۔(ترمذی)
فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :صُوْمُوْا تَصِحُّوْایعنی روزہ رکھو تندرست ہو جاؤ گے۔
فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم: عاشورا کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دیتا ہے۔
پورے
سال گھر میں برکت
مکتبۃ المدینہ کی کتاب اسلامی زندگی
صفحہ 131 پر ہے:حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے: ہیں محرم کی نویں اور دسویں کا روزہ
رکھے تو بہت ثواب پائے گا، بال بچوں کے لئے
دسویں محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے تو ان شاءاللہ سارا سال گھر میں برکت رہے
گی، بہتر ہے کہ کھچڑا پکا کر حضرت شہیدِ
کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ کی فاتحہ کرے، بہت مُجرب(یعنی فائدہ
مند) ہے۔
خلاصہ:معلوم
ہوا !فرض روزوں کے علاوہ ہمیں نفل روزوں کی بھی عادت ڈالنی چاہئے،اس کا فائدہ ہمیں
دنیا و آخرت دونوں میں حاصل ہوگا،نفل روزوں کی کوئی قید نہیں، ہمیشہ رکھ سکتے ہیں، سوائے ان پانچ دنوں کے جن میں روزہ رکھنا حرام
ہے، یعنی شوال کی یکم اور ذوالحجہ کی دسویں تا تیرہویں اور بعض بزرگوں نے فرمایا:ہر
مہینے میں مسلسل تین روزے رکھے۔اللہ پاک ہمیں فرضوں کے ساتھ نوافل کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمین
اللہ پاک پارہ 22، سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 35 میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ
کنزالایمان:اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور
نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر
رکھا ہے۔
حضرت علامہ مولانا سیّد مفتی محمد
نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ
علیہ اس کے تحت فرماتے ہیں:صوم یہ فرض اور نفل دونوں
کو شامل ہے۔(خزائن العرفان)
روزے
کی فضیلت سے متعلق تین احادیثِ قدسیہ
1۔بے
شک اللہ پاک اپنے فرشتوں پر نوجوان عبادت
گزار کے سبب فخر کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:اے اپنی خواہشات کو ترک کرنے والے
اور میری رضا کی خاطر اپنی جوانی صَرف کرنے والے نوجوان!تیرا میرے ہاں وہی مقام
مرتبہ ہے، جو بعض فرشتوں کا ہے۔
2۔اے
میرے فرشتو!میرے بندے کو دیکھو! اس نے محض میری خاطر کھانا پینا اور لذت و شہوت کو
ترک کر دیا ہے۔
3۔ابنِ
آدم کا روزے کے سوا ہر عمل اس کے لئے ہے، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔(قوت القلوب، جلد 1، صفحہ 358)
نفل
روزوں کے فضائل پر مشتمل احادیث مبارکہ
1۔اللہ
پاک کےپیارے نبی، مکی مدنی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عافیت نشان ہے:جس نے
رضائے الٰہی کے لئے ایک دن کا نفل روزہ رکھا تو اللہ پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان
ایک تیز رفتار سوار کی 50 سالہ مسافت کا فاصلہ فرما دے گا۔(کنز العمال، کتاب الصوم، الحدیث 24149، جلد 8، صفحہ 255)
2۔اُم
المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ منورہ،سلطانِ مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو روزے کی حالت
میں مرا،اللہ پاک قیامت تک کے لئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا۔
(الفردوس الاخبارللدیلمی، جلد 2، صفحہ 274، حدیث 5967)
3۔حضرت
قیس بن زید جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے محبوب، دانائے غیوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ جنت نشان ہے:جس نے ایک
نفلی روزہ رکھا، اللہ پاک اس کے لئے جنت میں
ایک درخت لگائے گا، جس کا پھل انار سے
چھوٹا اور سیب سے بڑا ہوگا، وہ(موم سے الگ نہ کئے ہوئے)شہد جیسا میٹھا اور(موم سے الگ کئے ہوئے خالص شہد کی
طرح) خوش ذائقہ ہو گا، اللہ پاک بروزِ قیامت روزہ دار کو اس درخت کا
پھل کھلائے گا۔(معجم کبیر للطبرانی، قیس بن زید الجہنی، صفحہ 649، حدیث 1975)
4۔ہر
مہینے میں تین دن کے روزے ایسے ہیں، جیسے
دہر یعنی( ہمیشہ) کے روزے ۔( بخاری، جلد 1، صفحہ 649، حدیث 1975)
5۔جنتی
صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی
کریم، رؤف رحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:جو اللہ کریم کی رضا کے لئے
ایک دن کا روزہ رکھتا ہے،اللہ کریم اسے جہنم سے اتنا دور کر دیتا ہے،جتنا فاصلہ ایک
کوا بچپن سے بوڑھا ہو کر مرنے تک مسلسل اُڑتے ہوئے طے کر سکتا ہے۔(مسند امام احمد بن حنبل، ج3،
ص419، حدیث10810)
6۔سرکارِ
مدینہ، قرار قلب و سینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:جو شخص ماہِ حرام میں تین دن یعنی
جمعرات، جمعہ، ہفتہ کے دن روزہ رکھتا ہے، اللہ کریم اس کے لئے ہر دن کے بدلے سات سو سال کی
عبادت کا ثواب لکھتا ہے۔(قوت القلوب، جلد 1، صفحہ 363)
فرض روزوں کے علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اس میں بے شمار دینی
و دنیوی فوائد ہیں اور ثواب تو اتنا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ بس روزے رکھتی ہی چلے
جائیں، مزید دینی فوائد میں ایمان کی
حفاظت، جہنم سے نجات اور جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں تک دنیوی فوائد کا تعلق ہے
تو دن کے اندر کھانے پینے میں صَرف ہونے والے وقت اور اخراجات کی بچت، پیٹ کی اصلاح اور بہت سارے امراض سے حفاظت کا
سامان ہے اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ اس سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔
یا اللہ کریم! ہمیں فرض روزوں کے علاوہ نفل روزے رکھنے کی بھی صحت و عافیت
کے ساتھ توفیق عطا فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:نیت المؤمن خیر من
عملہ
میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی !
پیاری اسلامی بہنو! فرض روزوں کے علاوہ
نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہیے کہ اس میں بےشمار دینی و دنیوی فوائد ہیں۔ ثواب
تو اتنا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ بس روزے ہی رکھتی ہی چلی جائیں۔مزید دینی فوائد میں
ایمان کی حفاظت،جہنم سے نجات اور جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں تک دنیوی فوائد کا
تعلق ہےتو روزے میں دن کے اندر کھانے پینے میں صرف ہونے والے وقت اور اخراجات کی
بچت، پیٹ کی اصلاح اور بہت سارے امراض سے حفاظت کا سامان ہے۔اور تمام فوائد کی اصل
یہ ہے کہ اس سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔اللہ پاک پارہ 22 سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر
35 میں ارشاد فرماتا ہے: ️ ترجمۂ کنزالایمان:اور روزے والے اور روزے والیاں اور
اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے
والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔پارہ
22سورۃالاحزاب آیت نمبر 35،اسی طرح پارہ 29 سورۃ الحاقہ آیت نمبر 24 میں ارشادِ
باری ہے: ️ ترجمۂ کنزالایمان :کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے
دنوں میں آگے بھیجا۔
اس آیت کے تحت حضرت وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرمائے ہیں: اس آیتِ کریمہ میں گزرے ہوئے دنوں
سے مراد روزوں کے دن ہیں کہ لوگ ان میں کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔(المتحر
الرابح فی ثواب العمل الصالح ص 335 دار حضر بیروت )
تاجدارِ رسالت صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے ثواب کی امید
رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا اللہ پاک اسے دوزخ سے چالیس سال(کا
فاصلہ)دور
فرما دے گا۔(کنز
العمال ج8 ص 255 حدیث نمبر 24148)
اسی طرح ایک اور جگہ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کسی نے ایک دن
نفل روزہ رکھا اور زمین بھر سونا اسے دیا جائے جب بھی اس کے ثواب پورانہ ہوگا اس
کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا۔ (ابو یعلیٰ ج5ص353حدیث 6104)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے:نبی کریم،رؤف رحیم،محبوبِ ربِّ کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:جو اللہ پاک کی
رضا کے لیے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ پاک اسے جہنم سے اتنا دور کر دیتا ہے
جتنا فاصلہ ایک کوا بچپن سے بوڑھا ہو کر مرنے تک مسلسل اڑتے ہوئے طے کرسکتا ہے۔(مسند
امام احمد بن حنبل ج3ص619حدیث 10810)
حضرت انس رضی اللہ عنہ
نے فرمایا:قیامت کے دن روزے دار قبروں سے نکلیں گے تو وہ روزے کی بو سے پہچانے جائیں
گے اور پانی کے کوزے جن پر مشک سے مہر ہوگی انہیں کہا جائے گا: کھاؤ !کل تم بھوکے
تھے۔پیو! کل تم پیاسے تھے۔آرام کرو! کل تم تھکے ہوئے تھے ۔پس وہ کھائیں گے اور
آرام کریں گے حالانکہ لوگ حساب کی مشقت اور پیاس میں مبتلا ہوں گے ۔(کنزالعمال ج
8 ص 313 حدیث 23639 والتدوین فی اخبار قزوین ج2ص326 )
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا
سے روایت ہے،سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو روزے کی حالت میں مرا ،اللہ پاک قیامت
تک کے لئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا۔ (الفردوس
بماثور الخطاب ج 3 ص 504 حدیث 5557 )
سبحان اللہ! خوش نصیب ہے وہ مسلمان جسے
روزے کی حالت میں موت آئے بلکہ کسی بھی نیک
کام کے دوران موت آنا نہایت ہی اچھی علامت
ہے مثلاً باوضو یا دورانِ نماز مرنا ،سفر ِمدینہ کے دوران بلکہ مدینۂ منورہ ️میں
روح قبض ہونا ،دورانِ حج مکۂ مکرمہ ،منٰی ، مزدلفہ یا عرفات شریف میں فوتگی،دعوتِ
اسلامی کے سنتوں کے تربیت کے قافلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنتوں بھرے سفر کے
دوران اس دنیا سے رخصت ہونا ،یہ سب ایسی عظیم سعادتیں ہیں جو صرف خوش نصیبوں کو ہی حاصل ہوتی ہیں ۔
دورِ حاضر کی عظیم علمی و روحانی شخصیت
کروڑوں دلوں کی دھڑکن میرے مرشدِ کریم ،امیر ِاہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کو بھی نفل
روزوں سے بے انتہا محبت ہے۔آپ نے ہماری تربیت کے لئے مرتب کردہ نیک اعمال کے رسالے
میں نفل روزوں سے متعلق باقاعدہ ایک سوال شامل کیا ہے : کیا آپ نے اس ہفتے پیر شریف
کا (یا رہ
جانے کی صورت میں کسی بھی دن )روزہ رکھا ؟
آئیے! ہم بھی ہاتھوں ہاتھ نیت کرتی ہیں
کہ ان شاء اللہ ہم بھی نفل روزے رکھیں گی
اور انبیا و اولیا کی سنت ادا کریں گی۔ان شاءاللہ
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک
ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ خوب نفل روزوں کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور
ہماری تمام کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں
قبولیت کا درجہ عطا فرما کر ہمیں بے حساب مغفرت و بخشش کی بھیک سے نوازے ۔آمین یا
رب العلمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم
نفل
روزوں کے دینی و دنیوی فوائد
پیاری پیاری ا سلامی بہنو!فرض روزوں کے علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی
چاہئے کہ اس میں بے شمار دینی و دنیاوی فوائد ہیں،دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت،جہنم
سے نجات اور جنت کا حصول شامل ہیں اور جہاں تک دنیوی فوائد کا تعلق ہے تو روزے میں
دن کے اندر کھانے پینے میں صَرف ہونے والے وقت اور اخراجات کی بچت،پیٹ کی اصلاح
اور بہت سارے امراض سے حفاظت کا سامان ہے
اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ اس سےاللہ پاک راضی ہوتا ہے۔
روزہ
داروں کے لئے بخشش کی بشارت
اللہ پاک پارہ 22، سورۂ احزاب کی آیت
نمبر 35 میں ارشاد فرماتا ہے:وَالصّٰٓئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ
وَالْحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللہ کَثِیۡرًا وَّ
الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللہُ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾۔ترجمۂ کنزالایمان:اور روزے والے اور
روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو
بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر
رکھا ہے۔
نفلی
روزوں کے 3 فضائل
1۔40
سال کا فاصلہ دوزخ سے دوری
تاجدارِ رسالت،شفیعِ روزِ قیامت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کافرمانِ ڈھارس نشان ہے:جس نے
ثواب کی امید رکھتے ہوئے ایک نفل روزہ رکھا، اللہ پاک اسے دوزخ سے چالیس سال (کا فاصلہ) دور فرما دے گا۔(کنزالعمال، جلد 8، صفحہ 255، حدیث،24149)
2۔قیامت
میں روزہ دار کھائیں گے
حضرت عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :(قیامت میں) دسترخوان بچھائے جائیں گے،سب سے
پہلے روزے دار ان پر سے کھائیں گے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، ج 2، صفحہ 424،
حدیث10)
3۔روزہ
رکھنے کی حالت میں مرنے کی فضیلت
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو روزے کی حالت میں مرا،اللہ پاک قیامت
تک کیلئے اس کے لئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا۔(الفر دوس بماثورالخطاب، جلد 3، صفحہ 504، حدیث 5557)
نفل
روزوں کے بارے میں چھ مدنی پھول:
1۔ماں
باپ اگر بیٹے کو نفل روزے سے اس لئے منع کریں کہ بیماری کا اندیشہ ہے تو والدین کی
اطاعت کرے۔(ردالمختار، جلد3، صفحہ 417)
2۔شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی نفل روزہ نہیں رکھ سکتی۔(در مختار مع رد المختار، جلد 3، صفحہ 415)
3۔نفل
روزہ قصداً شروع کرنے سے پورا کرنا واجب
ہو جاتا ہے، اگر توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔(در مختار، جلد 3، صفحہ 411)
4۔والدین کی ناراضی کے سبب عصر سے پہلے تک نفل روزہ توڑ سکتا ہے، بعدِ عصر نہیں۔(در مختار مع رد المختار، جلد 3، صفحہ 414)
5۔اس
طرح نیت کی کہ کہیں دعوت ہوئی تو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تو ہے، یہ نیت ٹھیک نہیں، بہرحال روزہ دار نہیں۔(عالمگیری، جلد 1، صفحہ 190)
6۔سارا
سال روزے رکھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔(در مختار، جلد 3، صفحہ 337)
یا ربِّ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !ہمیں زندگی،صحت اور فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے خوب
خوب نفل روزے رکھنے کی سعادت عطا فرما، انہیں قبول بھی کر اور ہماری اور ہمارے میٹھے
محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ساری امت کی مغفرت فرما۔آمین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ہمیں فرض روزوں کے علاوہ نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اس میں بے
شمار دینی اور دنیوی فوائد ہیں۔
اللہ پاک کے پیارے نبی، مکی مدنی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عافیت نشان ہے:جس نے
رضائے الٰہی کے لئے ایک دن کا نفل روزہ
رکھا تو اللہ پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک تیز رفتار سوار کی 50 سالہ مسافت
کا فاصلہ فرما دے گا۔(کنزالعمال،
جلد 8، صفحہ 255، حدیث،24149)
اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور
زمین بھر سونا اسے دیا جائے، جب بھی اس کا
ثواب پورا نہ ہوگا، اس کا ثواب تو قیامت ہی
کے دن ملے گا۔(المسند ابی یعلی، جلد 5، صفحہ 353، حدیث 6104)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو روزے کی حالت میں
مرا،اللہ پاک قیامت تک کے لئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا۔(الفر دوس بماثورالخطاب، جلد 3، صفحہ 504، حدیث 5557)
پھر فضیلت والے دنوں میں روزہ رکھنا
زیادہ افضل ہے، سال میں رمضان المبارک کے
بعد عرفہ یعنی (9 ذی الحجہ کا دن،دسویں محرم
کادن، ذوالحجہ کے پہلے دس دن، محرم الحرام کے پہلے دس دن اور حرمت والے مہینے
روزوں کے لئے عمدہ دن ہیں)۔
حدیثِ پاک میں ہے:رمضان المبارک کے بعد افضل روزے محرم کے ہیں۔(کتاب الصیام،باب فضل صوم المحرم،حدیث
2756، صفحہ 866)
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:بہترین روزے میرے
بھائی حضرت داؤد علیہ
السلام کے روزے ہیں۔(جامع ترمذی، ابواب الصوم، حدیث 770، صفحہ 1723)
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اس فرمان میں اس طرف اشارہ ہے کہ مجھ پر دنیا
اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں، لیکن میں نے انہیں لینے سے انکار کر دیا اور میں
نے کہا:میں ایک دن بھوکا رہوں گا اور ایک دن کھاؤں گا، جب میں کھاؤں گا تو تیری حمد بیان کروں گا اور
جب بھوکا ہوں گا، تیری بارگاہ میں التجا
کروں گا۔(جامع ترمذی، حدیث 2347، ص1887 تا 1888)اللہ پاک ہمیں بھی نفل روزے رکھنے کی سعادت نصیب
فرمائے۔آمین
Dawateislami