والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اہلِ خاندان مثلاً بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ والد صاحب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رتبہ ہے کہ بڑا بھائی والد کی جگہ ہوتا ہے۔ مصطفےٰ جان رحمت شمع بزمِ ہدایت، تاجدارِ رسالت، صاحب جودو سخاوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان رحمت نشان ہے: بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے والد کا حق اولاد پر۔

( شعب الایمان، 6 / 210 ،حدیث: 7929)

اخلاق مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھلکیاں:

میٹھے میٹھے آقا مکے مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقیناً تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ مکرم ، معظم اور محترم ہیں اور ہر حال میں آپ کا احترام کرنا ہم پر فرض اعظم ہے۔ اب آپ حضرات کی خدمت میں سیدالمرسلین، جناب رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ کی چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کروں گا جو بالخصوص احترام مسلم کے لئے ہماری رہنما ہیں۔

سلطان دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتے آنے والوں کو محبت دیتے، ایسی کوئی بات یا کام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہو قوم کے معزز فرد کا لحاظ فرماتے اور اس کو قوم کا سردار مقرر فرما دیتے، لوگوں کو اللہ پاک کے خوف کی تلقین فرماتے ،صحابہ کرام علیہم الرضوان کی خبر گیری فرماتے ، لوگوں کی اچھی باتوں کی اچھائی بیان کرتے اور اس کی تقویت فرماتے ، بری چیز کو بری بتاتے اور اس پر عمل سے روکتے، ہر معاملے میں اعتدال ( یعنی میانہ روی) سے کام لیتے ، لوگوں کی اصلاح سے کھبی بھی غفلت نہ فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے بیٹھتے ( یعنی ہر وقت ) ذکر آللہ کرتے رہتے، جب کہیں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی وہیں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین فرماتے، اپنے پاس بیٹھنے والے کے حقوق کا لحاظ رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے ہر فرد کو یہی محسوس ہوتا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر گفتگو کرنے والے کے ساتھ اس وقت تک تشریف فرما رہتے جب تک وہ خود نہ چلا جائے جب کسی سے مصافحہ فرماتے ( یعنی ہاتھ ملاتے ) تو اپنا ہاتھ کھینچنے میں پہل نہ فرماتے، سائل ( یعنی مانگنے والے) کو عطا فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت وخوشی خلقی ہر ایک کے لئے عام تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس علم ، بردباری،حیا، صبر اور امانت کی مجلسِ تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں شوروغل ہوتا نہ کسی کی تذلیل ( یعنی بے عزتی )، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اگر کسی سے کوئی بھول ہو جاتی تو اس کو شہرت نہ دی جاتی ، جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ فرماتے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کسی کے چہرے پر نظر یں نہ گاڑتے تھے۔(حوالہ احترام مسلم، ص 5 )

فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : جو مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرے اور کسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اللہ پاک دونوں کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف محبت بھری نظر سے دیکھے اور اس کے دل میں کینہ نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

( کنزالعمال ، 9 / 57، حدیث 25358 )


 اسلام میں اخوت و بھائی چارگی ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو متحد اور ان کی صفوں کو باہم پیوست اور ان سب کو ایک جسم کے مانند رکھتی ہے چاہے ان کے رنگ، زبانیں، حسب و نسب اور ان کے علیحدگی ممالک میں کتنی ہی عدم یکسانیت ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ اسی اسلامی بھائی چارگی نے عربی کو عجمی سے،عجمی کو عربی سے، فارسی کو عربی سے عربی کو فارسی سے ،ترکی کو افریقی سے ، اور افریقی کو ترکی سے فقیر کو مالدار سے اور کالے کو گورے سے اس طرح باہم جوڑ دیا کہ یہ سارے فرق و اختلاف بالکل ختم کر دیئے اور اس طرح یہ امت مسلمہ ، ایک بالکل ہی ممتاز قوم کے طور پر ساری دنیا پر چھاگئی۔

اِسلام ایک عالمی دِین ہے اور اُس کے ماننے وَالے عرب ہوں یا عجم، گورے ہوں یا کالے، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رَکھتے ہوں، مختلف زبانیں بولنے وَالے ہوں، سب بھائی بھائی ہیں اور اُن کی اس اخوت کی بنیاد ہی اِیمانی رِشتہ ہے۔

کیوں کہ آج بھی مشرق و مغرب اور دُنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے مسلمان جب موسم حج میں سرزمینِ مقدس حرمین شریفین میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دُوسرے سے اس گرم جوشی سے ملتے ہیں جیسے برسوں سے ایک دُوسرے کو جانتے ہوں حالاں کہ اُن کی زبانیں، اُن کے رَنگ اور اُن کی عادَات مختلف ہوتی ہیں، لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز اُن کے دِلوں کو مضبوطی سے جوڑے ہوئے ہے وہ اِیمان اور اِسلام کی مضبوط رَسی ہے۔

قر آن مجید میں اللہ پاک نے مؤمنوں کو بھائی بھا ئی کہا ہے چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ، ترجمہ کنز العرفان:"صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں۔"

( الحجرات : 10 )

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِؕ "پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نمازقائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دین میں بھائی ہیں۔"(پ 10، التوبۃ :11)

حدیث اور اخوت و بھائی جارہ:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوتِ اِسلامیہ اور اُس کے حقوق کے بارے میں اِرشاد فرمایا:ترجمہ: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَپنے قلب مبارک کی طرف اِشارَہ کرتے ہوئے تین بار یہ اَلفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اَپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔“(صحیح مسلم:2/317، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ)

گویا کہ اخوت و محبت کی بنیاد اِیمان اور اِسلام ہے۔ یعنی سب کا ایک رَب، ایک رسول، ایک کتاب، ایک قبلہ اور ایک دِین ہے، جو کہ دِینِ اِسلام ہے۔

اُمت میں اخوتِ اِسلامی پیدا کرنے کے لئے محبت، اِخلاص، وحدت اور خیر خواہی جیسی صفات لازمی ہیں، کیوں کہ اِیمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دِلی اور شفقت کی مثال ایک اِنسانی جسم جیسی ہے کہ اَگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورَا جسم متاثر ہوتا ہے، پورَا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اللہ پاک اُمت اِسلامیہ کو بھائی بھائی بننے اور اس اخوت کے حقوق اَدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !


دعوتِ اسلامی کے تحت 30 دسمبر 2021ء بروز جمعرات پتوکی میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس میں ذمہ داراسلامی بھائیوں سمیت کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں نگران ِڈسٹرکٹ قصور حاجی محمد نعیم عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے 6 جنوری 2022ء کو اے سی آفس پارک(Assistant Commissioner Office Park) میں منعقد ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔

اجتماع کے اختتام پر پتوکی کے ذمہ داران کی میٹنگ کا سلسلہ رہا جس میں مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔نگرانِ ڈسٹرکٹ نے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے شعبے جامعۃ المدینہ و مدرسۃ المدینہ بوائز اور گرلز کی نئی شاخوں کو بنانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

واضح رہے 6 جنوری 2022ء کو منعقد ہونے والے اجتماعِ پاک میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری سنتوں بھرا بیان کریں گے۔(رپورٹ: علی ریاض عطاری سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

اللہ پاک اپنی عظیم نعمت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ ترجمہ کنزالایمان: ”اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے تو ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملا دیے“۔ ( پ10، الانفال:63)

اللہ پاک کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے جس نے اسلام جیسی نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا تو وہ اس نعمت سے بھائی بھائی بن گئےاور ان کے سینوں سے بغض وکینہ نکل گیا جس سے وہ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست اور راز دار بن گئے اور آخرت میں ایک دوسرے کے رفیق اور خلیل ہونگے۔

رضائے الہی کے لئے کسی سے محبت کرنا اور دین کی خاطر بھائی چارہ اور اخوت قائم کرنا اعلٰی ترین نیکی اور افضل عبادت ہے ۔اس کی اہمیت کا اندازہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے لگایاجاسکتاہے، فرماتے ہیں کہ:”اللہ پاک کی قسم! اگر میں دن میں روزہ رکھوں اور افطار نہ کروں رات بھر بغیر سوئے قیام کروں اور وقفے وقفے سے اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرتا رہوں لیکن جس دن مروں اس دن میرے دل میں اللہ پاک کے نیک بندوں کی محبت نہ ہو تو یہ تمام چیزیں مجھے کچھ نہ دیں گے۔(احیا العلوم(مترجم) 2/579 )

بھائی چارگی دو شخصوں کے درمیان ایک رابطہ وتعلق ہے جیسے مرد وعورت کے درمیان نکاح رابطہ و تعلق ہوتا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ،” دو بھائیوں کی مثال دو ہاتھوں کی طرح ہے کہ ایک دوسرے کو دھوتا ہے“

( الترغیب فی فضائل الاعمال،1/493،حدیث:433)

حدیث پاک میں دو بھائیوں کو دو ہاتھوں سے تشبیہ دی ہے کیوں کہ دونوں ہاتھ ایک ہی کام اور مقصد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اسی طرح دو بھائیوں کے درمیان اخوت و بھائی چارہ تب مکمل ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے تمام تر معاملات میں معاون و مددگار ہوں گویا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اور اسی وجہ سے ہر خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ساتھ ہونا معاشرے کو خوبصورت اور ماحول کو خوشگوار بناتا ہے اور تمام ہی دینی و دنیاوی معاملات اعلی طرز پر جاری رہتے ہیں اللہ پاک ہمارے معاشرے کو اخوت و بھائی چارگی جیسی نعمت سے مالامال فرمائے۔آمین


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ ائمہ مساجد کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سے بذریعہ انٹر نیٹ مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں فارایسٹ ریجن کے ائمہ کرام، شعبہ ائمہ مساجد کے ذمہ دار اور ناظمِ اعلی فیضان مدینہ (بیرون ملک ) نے شرکت کی۔

اس مدنی مشورے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد عقیل عطاری مدنی نے امامت کے تقاضوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی دینی اور اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔اس موقع پر رکنِ شوریٰ کے ہمراہ آفس ذمہ دار شعبان عطاری مدنی بھی موجود تھے۔(رپورٹ:محمدشعبان عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ہمارا اسلام ایک مکمل اور خوبصورت دین ہے جہاں ہمارا دین اسلام ہمیں میں نماز ،روزہ،حج ،زکوة کا درس دیتا ہےوہی ہمیں اخوت (یعنی بھائی چارے) کا بھی درس دیتا ہے چنانچہ اللہ پاک قرآن الکریم میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)ترجمہ کنزالعرفان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔(پ 26، الحجرٰت:10)

اس کے علاوہ ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی موجود ہیں:

مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  اَحادیث :

یہاں  آیت کی مناسبت سے مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  4 اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔

( بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم... الخ، 2 / 126، الحدیث: 2442)

(2) حضر ت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ،جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی توسارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگراس کے سرمیں درد ہوتو سارے جسم میں دردہوگا۔(مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین... الخ، ص:1396، الحدیث: 67) 2586)

(3) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔

(مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب،ص:1396، الحدیث: 65(2585)

(٤)نبی پاک ،صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بیشک مؤمن کے لئے مؤمن مثل عمارت کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔

(صحیح بخاری ،کتاب الصلوة ،1/181، الحدیث :481)

پیارے اسلامی بھائیوں ہمیں بھی مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے رہنا چاہئے اور اس کا سب سے اچھا موقع دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ہے جس میں سب سے زیادہ مدنی قافلوں میں سفر کرکے اسلامی بھائیوں کے ساتھ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ بھائی چارے کا موقع ملتا ہے ۔


فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جو مجھ پر  دس بار درود پاک پڑھتا ہے اللہ پاک اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

اخوت و مساوات:اسلامی معاشرے میں اخوت و مساوات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔مدینہ منورہ میں جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اس میں اخوت اور مساوات مثالی تھی۔آج بھی اسلامی معاشرہ اخوت و بھائی چارے اور مساوات کا تقاضہ کرتا ہے "مواخات مدینہ" میں نظر آئی تھی۔اسلام سے پہلے اس اصول کی شدید کمی تھی اور لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے لیکن مدینہ کی ریاست کے وجود سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقوق العباد پر عمل کرتے ہوئے یتیموں،بیواؤں اور ناداروں پر شفقت کرنے کی تلقین کی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو زندگی بسر کرنے کا ضابطہ دیا تاکہ لوگ آپس میں محبت سے رہ سکے اور معاشرے میں بھائی چارے اور مساوات کی فضا قائم ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ اور خیرات کے نظام کو واضح کیا اور سود کو حرام قرار دیا کیونکہ اسلام میں دوسروں کے استحصال کی کوئی گنجائش نہیں۔

اخوت اس بات کا درس دیتی ہے کہ آپس میں برادرانہ تعلقات قائم ہونے چاہیے تاکہ کسی کے حقوق سےچھینے نہ جا سکےاور نہ کوئی کمزور پر ظلم کرے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اس کے ساتھ دھوکا نہیں کرتا اور اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور اس کی غیبت نہیں کرتا (سنن الترمذی،حدیث نمبر :2747)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کینہ اور حسد سے باز رہنے کا درس دیا۔لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اتفاق سے رہے اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔

ایک ہیں صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز


جس طرح اللہ پاک نے والدین سے ، بہن بھائیوں ، رشتہ داروں سے اچھے سلوک سے ساتھ پیش آنے اور اخوت و بھائی چارہ کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح اپنے مسلمان بھائی سے بھی اخوت و بھائی چارہ کرنے کا حکم دیا ہے  ۔

قرآن کی روشنی میں :

اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

فَاَلَّفَ  بَیْنَ  قُلُوْبِكُمْ  فَاَصْبَحْتُمْ  بِنِعْمَتِهٖۤ  اِخْوَانًاۚ (پ 4 ،آل عمران : 103)

اللہ پاک کی نعمتوں کو یاد کرو جن میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ اے مسلمانو! یاد کرو کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے اور تمہارے درمیان طویل عرصے کی جنگیں جاری تھیں حتّٰی کہ اوس اور خَزْرَج میں ایک لڑائی ایک سو بیس سال جاری رہی اور اس کے سبب رات دن قتل و غارت کی گرم بازاری رہتی تھی لیکن اسلام کی بدولت عداوت و دشمنی دور ہو کر آپس میں دینی محبت پیدا ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ پاک نے تمہاری دشمنیاں مٹادیں اور جنگ کی آگ ٹھنڈی کردی اور جنگجو قبیلوں میں الفت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے،تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا ورنہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے اور اگر اسی حال پر مرجاتے تو دوزخ میں پہنچتے لیکن اللہ پاک نے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے دولتِ ایمان عطا کرکے اس تباہی سے بچالیا۔ (تفسیر صراط الجنان )

حدیث پا کی روشنی میں:

مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ کَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ :مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (ظالم) کے حوالے کرے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں (مشغول) رہتا ہے گویا کہ وہ اللہ کی حاجت پوری کرنے میں (مشغول )ہوتا ہے ۔

(صحیح البخاری 1/457، حدیث : 2442)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی شخصوں کو بھائی چارہ کا حکم دیا یہاتک کہ بعض کو آپ نے خود بھائی چارہ بنادیا تھا جیسا کہ ایک طویل حدیث میں ایک حصہ ہے کہ ابراہیم بن سعد اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کردیا۔(صحیح البخاری 1/388، حدیث : 2048)

اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ حضرت عون بن ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلمان اور ابودراداء کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا تھا۔(صحیح البخاری 1/375، حدیث : 1968)

تو اسی طرح بہت ساری احادیث ہیں جن میں بھائی چارہ کا حکم دیا گیا ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ہم بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بھائی چارہ کریں اچھا برتاؤ کریں اور ہاں اگر اللہ پاک آپ کو مال دیا ہے تو اپنے مسلمان بھائیوں کی دکھے وقت میں مدد کیا کریں اس سے ان شاءاللہ بھائی چارہ کے ساتھ ساتھ محبت بھی بڑے گی ۔


اللہ پاک نے ہمارے پیارے آقا، نبیِّ آخرُ الزّماں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام انبیاء ومرسلین علیہمُ السّلام سے افضل کیا اور آپ کے پہلو میں آرام فرما رہے آپ کے یارِ غار و یارِ مزار حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہُ عنہ کو انبیاء ومرسلین کے بعد بشر میں سب سے افضل کیا، صدیقِ اکبر  رضی اللہُ عنہ کی وہ شان ہے کہ اللہ پاک نے اپنے پاک کلام میں آپ کی فضیلت بیان فرمائی، اس کے علاوہ کثیر روایات و احادیث سے آپ کی فضیلت و افضلیت ثابت، یہاں چند وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جو خود حضرت علی رضى الله عنہ سے مروی ہیں :

تفسیر طبری میں ہے:حضرت علی رضى الله عنہ اللہ پاک کے اس فرمان: وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۳۳)(ترجمۂ کنزُ الایمان: اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنھوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں) کے بارے میں فرماتے ہیں :وہ محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، اور جنہوں نے ان کی تصدیق کی وہ ابو بکر رضی اللہُ عنہ ہیں۔

( تفسير طبری، 20/205،204)

پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضى الله عنہ کی شان تو یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے آپ کو صدیق نام عطا کیا، چنانچہ ابو یحییٰ کہتے ہیں: میں نے بارہا حضرت علی رضی اللہُ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے سنا کہ ”بے شک اللہ پاک نے اپنے

حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے ابو بکر کا نام صدیق رکھا۔“

(تاريخ الخلفاء، ص:103)

حضرت علی رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہ پاک ابو بکر پر رحم فرمائے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کیا، اور دار الہجرت (مدینۂ منوّرہ) تک پہنچایا، اور اپنے مال سے بلال کو آزاد کرایا۔(تاريخ دمشق، 30/63)

ترمذی شریف کی حدیث پاک میں ہے:حضرت علی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر تھا اچانک ابو بکر و عمر رضی اللہُ عنہما آتے نظر آئے، تو سیدُ الانبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کے بارے میں فرمایا: هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالمُرْسَلِينَ، يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا ترجمہ: یہ دونوں انبیاء و مرسلین علیہمُ السّلام کے علاوہ تمام اولین و آخرین ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں، اے علی ان دونوں کو اس کی خبر نہ کرنا۔(ترمذی، 6/46)

فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں

اے مُرتضیٰ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو

اسی طرح حضرت سیدنا اِصبغ بن نباتہ رضى الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے امیرُ المؤمنین حضرت علیُّ المرتضی شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ سے استفسار کیا : اس اُمّت میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا : اس اُمّت میں سب سے افضل حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں، ان کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق، پھر حضرت سیدنا عثمان غنی، پھر میں۔(یعنی حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضی اللہُ عنہ)(الرياض النضرة، 1/57)

اللہ پاک ہمیں تمام صحابہ و اہلِ بیت علیہمُ الرّضوان کا ادب و احترام عطا فرمائے اور ان کی سچی پکی محبت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


افضل البشر بعد الانبیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام بنی نوع آدم میں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد سب سے اعلیٰ، سب سے افضل اور سب سے برتر ہیں ۔آپ ہی کی ذات کو یار غار ہونے کا شرف حاصل ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جابجا آپ کے اوصاف حمیدہ کے تذکرے ہیں ۔ حیدر کرار، سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زبانی یار غار کی جو شان بیان ہوئے ہیں وہ تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

سب سے پہلے اسلام لانے والے:ابن عساکر نے حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا:” اول من اسلم من الرجال ابوبکر “۔یعنی سب سے پہلے مردوں میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے ۔(تاریخ الخلفا،ص 23)

ایمانی غیرت کا اظہار:ابتدائے اسلام میں جو شخص مسلمان ہوتا وہ اپنے اسلام کو جہاں تک ہو مخفی رکھتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی یہی حکم تھا، لیکن جب مسلمانوں کی تعداد تقریباً 38 ہو گئی تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اسلام کا اعلان فرمایا: اسد الله الغالب، حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرماتے ہیں:” لوگ جب اپنے ایمان کو چھپاتے تھے،مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے“۔(ایضاً ،ص: 25)

آپ کا لقب” صدیق“ ہے:حضرت سیدنا نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے تھے، وہ خوش طبعی فرما رہے تھے، ہم نے ان سے عرض کی: اپنے دوستوں کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایئے، فرمایا:” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ میرے دوست ہیں“۔ ہم نے عرض کی کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایئے، فرمایا” ذاک امرء سماہ الله صدیقا علی لسان جبریل و محمد صلی اللّٰه علیھ وسلم،یعنی ان کے تو کیا کہنے! یہ تو وہ شخصیت ہیں جن کا نام الله پاک نے جبریل امین اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے” صدیق“ رکھا ہے“۔

(فیضان صدیقِ اکبر،ص:26)

حضرت سیدنا یحییٰ بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کو الله کی قسم اٹھا کر کہتے ہوے سنا کہ” انزل اسم ابی بکر من السماء الصدیق، یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق آسمان سے اتارا گیا“۔(المعجم الکبیر، نسبۃابی بکر الصدیق واسمہ،1/55، الحدیث :14)

ہجرت کی خوشخبری حضرت جبریل علیہ السلام کی زبان سے: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا ؟ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے ساتھ ابوبکر ہجرت کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔(الریاض النصرۃ،1/104)

شجاعت و بہادری: فاتح خیبر، شیر خدا، علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شجاعت کو خود بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے لوگو! تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں"۔

(کنز العمال،باب فضائل الصحابۃ، فضل الصدیق،6/235،الحدیث:3569)

آپ افضل البشر ہیں:حضرت موسیٰ بن شداد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کہ ہم سب صحابہ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سب سے افضل ہیں۔(الریاض النضرۃ،1/338)

آپ خلیفۃ الرسول بلافصل ہیں: حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم خلافتِ صدیق اکبر کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: " غور سے سن لو ! ہم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کو ہی خلافت کا اہل سمجھا ہے "۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابہ، امر النبی لابی بکر بامامۃ الناس فی الصلاۃ، 4/27،الحدیث : 4519)

یار غار سے محبت کا اظہار: حضرت علی رضی الله عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی تمام نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں۔

(تاریخ مدینہ دمشق، 30/383)

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایا: عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو ہماری محبت کا دعویٰ کریں گے اور ہماری گروہ میں ہونا ظاہر کریں گے، وہ لوگ اللہ کے شریر بندوں میں سے ہیں جو حضرت سیدنا ابوبکر و عمر کو برا کہتے ہیں۔

(تاریخ مدینہ دمشق، 26/343)

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہمارے مغفرت ہو ۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

یوں تو تمام صحابۂ کرام آسمان ہدایت کے تارے ہیں، مگر ان میں سب سے افضل و اعلی خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق کے اعزاز کے حامل اس امت کے سب سے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی الله عنہ ہیں۔ اور اس بات کا اقرار حضرت علی رضی الله عنہ بھی فرماتے تھے۔

چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ محمد بن حنفیہ نے اپنے والد حضرت علی (کرم الله وجہہ الکریم) سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ (بخاری شریف 3671 )

اور ایک روایت میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ جس کو بھی میں دیکھوں کہ وہ مجھے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی الله عنھما پر فضیلت دے رہا ہے تو وہ مفتری (جھوٹ گڑھنے والا ) ہے اور میں اسے مفتری کی حد لگاؤں گا۔ (ابن عساکر فی تاریخ دمشق ، 30 / 383 )

حضرت علی( کرم الله وجہہ الکریم) حضرت ابوبکر صدیق کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مردوں میں سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

(تاریخ الخلفاء مکتبہ دار ابن حزم ،ص 30 )

ایک روایت میں منقول ہے کہ حضرت علی نے لوگوں سے پوچھا بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا کہ آپ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں۔ یہ بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے آپ ہی ارشاد فرمائیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جنگ بدر میں ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سائبان (چھونپڑ) تیار کیا تاکہ کوئی کافر آپ پر حملہ نہ کرسکے۔ الله کی قسم ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہ گیا ۔مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ اپنی تلوار لہرائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے رہے۔ جو کوئی بھی حملے کے لئے آتا آپ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ اس لئے آپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر ہیں ۔

پھر آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگوں بتاؤ کہ آل فرعون کا مؤمن اچھا ہے یا ابوبکر صدیق ؟ لوگوں نے اس پر سکوت کیا تو آپ نے فرمایا : لوگو! جواب کیوں نہیں دیتے؟ الله پاک کی قسم! حضرت ابوبکر کی زندگی کی ایک ساعت آل فرعون کے مومن کی ہزار ساعت سے بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس نے اپنے ایمان کو چھپایا اور اس (ابوبکر صدیق) نے اپنے ایمان کا برملا اظہار کیا۔ (اخرجہ البزار فی مسنده)

ابو یحییٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا تین دفعہ میں نے حضرت علی کو یہ کہتے سنا ہے کہ الله پاک نے ابوبکر صدیق کا نام اپنے نبی کی زبان پر صدیق رکھا ہے۔

(تاریخ الخلفاء عربی ،ص 28)

حضرت علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ قرآن کے حوالے سے سب سے زیادہ اجر پانے والے ابو بکر ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے قرآن کو دو جلدوں میں جمع فرمایا۔

( مصنف ابن ابی شیبہ1/148)

اسید بن صفوان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ نے اس آیت (وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۳۳) ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق کی یہی پرہیز گار ہیں ۔) کی تفسیر میں فرمایا : کہ وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور وَ صَدَّقَ بِهٖۤ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ (تاریخ الخلفاء عربی ص 42 )

ابن عساکر روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی نے حضرت ابو بکر صدیق کو کفنایا ہوا دیکھ کر فرمایا کہ مجھے کوئی شخص جو اپنے نامہ اعمال لیکر الله پاک کو ملے اس مکفون سے زیادہ محبوب نہیں۔

طبرانی اوسط میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا اس خدائے پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں نے جس نیکی میں سبقت لینی چاہی ہے اس میں حضرت ابو بکر صدیق ہی سبقت لے جانے والے رہے ہیں ۔

اور حضرت جحیفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ میری محبت اور حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنھما کا بغض کسی دل میں جمع نہیں ہوسکتا۔ (ایضا ص 59 )

ابن عساکر حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور میں حاضر تھا غائب نہ تھا، اور نہ میں مریض تھا ۔ تو جس شخص کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے دین کے لئیے پسند کیا ہم نے اسے اپنی دنیا کے لئیے پسند کیا ۔ (المرجع السابق ص 53 )

حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق بلا شبہ خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غار کے ساتھی ہیں، اور آپ ثانی اثنین ہیں۔ اور ہم آپ کے شرف کو اور آپ کے خیر ہونے کو جانتے ہیں۔ بے شک آپ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات طیبہ میں نماز کی امامت کا حکم دیا تھا۔ (المستدرک للحاکم،3/70)

الله کریم ہم سب کے دلوں میں حضرت ابو بکر صدیق اور تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کی محبت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم


انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پر سختی کرتا ہے اس کے برعکس محبوب کے پیاروں سے محبت، نرمی اور ان کا ادب واحترام کرتا ہے۔صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم اللہ پاک اور اس کے حبیب صلّی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمنوں یعنی کفار سے سخت نفرت کرتے اور ان پر انتہائی سختی فرمایا کرتے تھے ۔جب کہ آپس میں نرم دل ،محبت و مہربانی کرنے والے ، ایک دوسرے کا نہایت ادب و احترام کرنے  والے تھے۔

پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کے متعلق چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی الله عنہ کے چند تأثرات رسالہ"مولی علی کے 72 ارشادات" کی روشنی میں ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ شکر کرنے والوں اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کے امین ہیں، آپ ان سب سے زیادہ شکر کرنے والے اور سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں۔

(2)ہم میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے۔

(3)یادر کھو ! وہ (یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) انسانوں میں سب سے زیادہ رحم دل، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یار غار اور اپنے مال سے حضور کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں ۔

(4)ہم سب صحابہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔

(5) قسم کھا کر ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے ابو بکر کا نام” صدیق “آسمان سے نازل فرمایا ہے ۔

(6)میں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تمام نیکیوں میں سے صرف ایک نیکی ہوں۔

(7)حضور نبی کریم ، رؤوف رّحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخصیات حضرت ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں، کسی مومن کے دل میں میری محبت اور حضرت ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) کا بغض جمع نہیں ہو سکتے ، اور نہ ہی میری دشمنی اور حضرت ابو بکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کی محبت جمع ہو سکتی ہے۔ (مولی علی کے 72 ارشادات، ص10، مکتبۃ المدینہ)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس نیک کام میں آگے بڑھنے کا ارادہ میں نے کیا ، ابو بکر اس کام میں مجھے سے سبقت لے گئے ۔ نیز فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سب سے بہتر ہیں کسی کے دل میں میری محبت اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کا بغض یکجا نہیں ہو سکتے ۔

(رسائل قادریہ،ص59،مکتبہ اہل سنت فیصل آباد)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت علی مرتضیٰ (رضی الله عنہ) نے فرمایا کہ صدیق (رضی الله عنہ) کو رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) نے ہمارے دین کا امام بنا دیا تو ہم نے انہیں اسی دنیا کا امام بنا لیا۔ (مراۃ المناجیح ، 2 / 203 مکتبہ ادبی دنیا)

الله پاک ہمیں دنیا میں ان نفوس قدسیہ کا وفا دار رکھے ، اور آخرت میں ہمارا حشر ان کے ساتھ مقدر فرمائے ! آمین بجاہ النبی الامین صلی الله علیہ وآلہ و صحبہ وسلم۔