دعوتِ اسلامی کے تحت 30 دسمبر 2021ء بروز جمعرات
پتوکی میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا اہتمام کیا
گیا جس میں ذمہ داراسلامی بھائیوں سمیت کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
اس اجتماعِ پاک میں نگران ِڈسٹرکٹ قصور حاجی
محمد نعیم عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے 6 جنوری 2022ء کو اے سی آفس پارک(Assistant Commissioner Office Park) میں منعقد ہونے
والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔
اجتماع کے اختتام پر پتوکی کے ذمہ داران کی
میٹنگ کا سلسلہ رہا جس میں مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔نگرانِ ڈسٹرکٹ
نے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے شعبے جامعۃ المدینہ و مدرسۃ
المدینہ بوائز اور گرلز کی نئی شاخوں کو بنانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی
اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔
محمد طلحٰہ خان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان خلفائے راشدین
،راولپنڈی)
اللہ
پاک اپنی عظیم نعمت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ
قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ ترجمہ
کنزالایمان: ”اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے تو ان کے دل نہ ملا سکتے
لیکن اللہ نے ان کے دل ملا دیے“۔ ( پ10،
الانفال:63)
اللہ
پاک کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے جس نے اسلام جیسی نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا تو وہ
اس نعمت سے بھائی بھائی بن گئےاور ان کے سینوں سے بغض وکینہ نکل گیا جس سے وہ دنیا
میں ایک دوسرے کے دوست اور راز دار بن گئے اور آخرت میں ایک دوسرے کے رفیق اور
خلیل ہونگے۔
رضائے الہی کے لئے کسی
سے محبت کرنا اور دین کی خاطر بھائی چارہ اور اخوت قائم کرنا اعلٰی ترین نیکی اور
افضل عبادت ہے ۔اس کی اہمیت کا اندازہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے
اس فرمان سے لگایاجاسکتاہے، فرماتے ہیں کہ:”اللہ پاک
کی قسم! اگر میں دن میں روزہ رکھوں اور افطار نہ کروں رات بھر بغیر سوئے قیام کروں
اور وقفے وقفے سے اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرتا رہوں لیکن جس دن مروں اس دن
میرے دل میں اللہ پاک کے نیک بندوں کی محبت نہ ہو تو یہ تمام چیزیں مجھے کچھ نہ
دیں گے۔(احیا العلوم(مترجم) 2/579 )
بھائی چارگی دو شخصوں کے درمیان ایک رابطہ وتعلق
ہے جیسے مرد وعورت کے درمیان نکاح رابطہ و تعلق ہوتا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کا فرمان ہے کہ،” دو بھائیوں کی مثال دو ہاتھوں کی طرح ہے کہ ایک دوسرے کو دھوتا
ہے“
(
الترغیب فی فضائل الاعمال،1/493،حدیث:433)
حدیث
پاک میں دو بھائیوں کو دو ہاتھوں سے تشبیہ دی ہے کیوں کہ دونوں ہاتھ ایک ہی کام
اور مقصد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اسی طرح دو بھائیوں کے درمیان اخوت و
بھائی چارہ تب مکمل ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے تمام تر معاملات میں معاون و
مددگار ہوں گویا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اور اسی وجہ سے ہر خوشی و غمی میں ایک
دوسرے کا ساتھ ہونا معاشرے کو خوبصورت اور ماحول کو خوشگوار بناتا ہے اور
تمام ہی دینی و دنیاوی معاملات اعلی طرز
پر جاری رہتے ہیں اللہ پاک ہمارے معاشرے کو اخوت و بھائی چارگی جیسی نعمت سے
مالامال فرمائے۔آمین
شعبہ ائمہ مساجد کے تحت بذریعہ انٹر نیٹ فارایسٹ
ریجن کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ ائمہ مساجد کے
تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سے بذریعہ انٹر نیٹ مدنی مشورے کا انعقاد
ہوا جس میں فارایسٹ ریجن کے ائمہ کرام، شعبہ ائمہ مساجد کے ذمہ دار اور ناظمِ اعلی فیضان مدینہ (بیرون
ملک ) نے شرکت کی۔
اس مدنی مشورے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی
محمد عقیل عطاری مدنی نے امامت کے تقاضوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ذمہ دار اسلامی
بھائیوں کی دینی اور اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔اس موقع پر رکنِ شوریٰ کے ہمراہ آفس
ذمہ دار شعبان عطاری مدنی بھی موجود تھے۔(رپورٹ:محمدشعبان عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
ہمارا اسلام
ایک مکمل اور خوبصورت دین ہے جہاں ہمارا دین اسلام ہمیں میں نماز ،روزہ،حج ،زکوة
کا درس دیتا ہےوہی ہمیں اخوت (یعنی بھائی چارے) کا بھی درس دیتا ہے چنانچہ اللہ پاک قرآن الکریم میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ
اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)ترجمہ
کنزالعرفان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور
اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔(پ 26، الحجرٰت:10)
اس کے علاوہ ہمارے پیارے آخری نبی محمد
عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی موجود ہیں:
مسلمانوں کے
باہمی تعلق کے بارے میں اَحادیث :
یہاں آیت
کی مناسبت سے مسلمانوں کے باہمی تعلق کے بارے میں 4 اَحادیث
ملاحظہ ہوں :
(1) حضرت عبداللہ بن عمر رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی
ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں
مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی
مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے
قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔
( بخاری، کتاب المظالم والغصب،
باب لا یظلم المسلم... الخ، 2 / 126،
الحدیث: 2442)
(2) حضر ت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’سارے
مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ،جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی توسارے جسم میں تکلیف
ہوگی اور اگراس کے سرمیں درد ہوتو سارے جسم میں دردہوگا۔(مسلم، کتاب البرّ
والصّلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین... الخ، ص:1396، الحدیث: 67) 2586)
(3) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے،سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان
دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔
(مسلم،
کتاب البرّ والصّلۃ والآداب،ص:1396،
الحدیث: 65(2585)
(٤)نبی
پاک ،صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بیشک مؤمن
کے لئے مؤمن مثل
عمارت کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔
(صحیح بخاری ،کتاب الصلوة ،1/181، الحدیث :481)
پیارے
اسلامی بھائیوں ہمیں بھی مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے رہنا چاہئے اور اس کا سب
سے اچھا موقع دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ہے جس میں سب سے زیادہ مدنی قافلوں میں
سفر کرکے اسلامی بھائیوں کے ساتھ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے
ساتھ بھائی چارے کا موقع ملتا ہے ۔
محمد احمد رضا(درجہ اولی جامعۃ المدینہ خلفائے راشدین بحریہ ٹاون،
راولپنڈی)
فرمان
مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جو مجھ پر
دس بار درود پاک پڑھتا ہے اللہ پاک اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
اخوت و مساوات:اسلامی
معاشرے میں اخوت و مساوات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔مدینہ منورہ میں جب اسلامی حکومت
قائم ہوئی تو اس میں اخوت اور مساوات مثالی تھی۔آج بھی اسلامی معاشرہ اخوت و بھائی
چارے اور مساوات کا تقاضہ کرتا ہے "مواخات مدینہ" میں نظر آئی تھی۔اسلام
سے پہلے اس اصول کی شدید کمی تھی اور لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے لیکن مدینہ
کی ریاست کے وجود سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقوق العباد پر عمل
کرتے ہوئے یتیموں،بیواؤں اور ناداروں پر شفقت کرنے کی تلقین کی۔آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے لوگوں کو زندگی بسر کرنے کا ضابطہ دیا تاکہ لوگ آپس میں محبت سے رہ
سکے اور معاشرے میں بھائی چارے اور مساوات کی فضا قائم ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے زکوۃ اور خیرات کے نظام کو واضح کیا اور سود کو حرام قرار دیا کیونکہ اسلام میں
دوسروں کے استحصال کی کوئی گنجائش نہیں۔
اخوت
اس بات کا درس دیتی ہے کہ آپس میں برادرانہ تعلقات قائم ہونے چاہیے تاکہ کسی کے
حقوق سےچھینے نہ جا سکےاور نہ کوئی کمزور پر ظلم کرے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اس کے ساتھ دھوکا نہیں
کرتا اور اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور اس کی غیبت نہیں کرتا (سنن الترمذی،حدیث
نمبر :2747)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کینہ اور
حسد سے باز رہنے کا درس دیا۔لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اتفاق سے رہے اور ایک دوسرے
کی مدد کریں۔
ایک ہیں صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
محمد جان عطاری (درجہ دورہ حدیث ،مرکزی جامعہ المدینہ
فیضان مدینہ کراچی )
جس طرح اللہ پاک نے والدین سے ، بہن بھائیوں ، رشتہ داروں
سے اچھے سلوک سے ساتھ پیش آنے اور اخوت و بھائی چارہ کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح
اپنے مسلمان بھائی سے بھی اخوت و بھائی چارہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔
قرآن
کی روشنی میں :
اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :
فَاَلَّفَ بَیْنَ
قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ (پ 4 ،آل عمران : 103)
اللہ پاک کی نعمتوں کو یاد کرو جن میں سے ایک نعمت یہ بھی
ہے کہ اے مسلمانو! یاد کرو کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے اور تمہارے
درمیان طویل عرصے کی جنگیں جاری تھیں حتّٰی کہ اوس اور خَزْرَج میں ایک لڑائی ایک
سو بیس سال جاری رہی اور اس کے سبب رات دن قتل و غارت کی گرم بازاری رہتی تھی لیکن
اسلام کی بدولت عداوت و دشمنی دور ہو کر آپس میں دینی محبت پیدا ہوئی اور نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ پاک نے تمہاری دشمنیاں مٹادیں اور جنگ کی آگ ٹھنڈی کردی اور جنگجو قبیلوں
میں الفت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے،تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا
ورنہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے اور اگر
اسی حال پر مرجاتے تو دوزخ میں پہنچتے لیکن اللہ پاک نے انہیں حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے دولتِ ایمان عطا کرکے اس تباہی سے
بچالیا۔ (تفسیر صراط الجنان )
حدیث پا کی روشنی میں:
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :أَنَّ
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ
لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ کَانَ اللَّهُ
فِي حَاجَتِهِ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے
بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ :مسلمان مسلمان کا
بھائی ہے نہ تو اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (ظالم) کے حوالے کرے اور جو شخص اپنے
بھائی کی حاجت پوری کرنے میں (مشغول) رہتا ہے گویا کہ وہ اللہ کی حاجت پوری کرنے
میں (مشغول )ہوتا ہے ۔
(صحیح البخاری 1/457، حدیث : 2442)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی شخصوں کو بھائی چارہ کا
حکم دیا یہاتک کہ بعض کو آپ نے خود بھائی چارہ بنادیا تھا جیسا کہ ایک طویل حدیث
میں ایک حصہ ہے کہ ابراہیم بن سعد اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے
ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کردیا۔(صحیح
البخاری 1/388، حدیث : 2048)
اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ حضرت عون بن ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد
سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلمان
اور ابودراداء کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا تھا۔(صحیح البخاری 1/375،
حدیث : 1968)
تو اسی طرح بہت ساری احادیث ہیں جن میں بھائی چارہ کا حکم
دیا گیا ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ہم بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بھائی چارہ
کریں اچھا برتاؤ کریں اور ہاں اگر اللہ پاک آپ کو مال دیا ہے تو اپنے مسلمان
بھائیوں کی دکھے وقت میں مدد کیا کریں اس سے ان شاءاللہ بھائی چارہ کے ساتھ ساتھ
محبت بھی بڑے گی ۔
اللہ
پاک نے ہمارے پیارے آقا، نبیِّ آخرُ الزّماں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو
تمام انبیاء ومرسلین علیہمُ السّلام سے افضل کیا اور آپ کے پہلو میں آرام فرما رہے
آپ کے یارِ غار و یارِ مزار حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہُ عنہ کو انبیاء
ومرسلین کے بعد بشر میں سب سے افضل کیا، صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ کی وہ شان ہے کہ اللہ پاک نے
اپنے پاک کلام میں آپ کی فضیلت بیان فرمائی، اس کے علاوہ کثیر روایات و احادیث سے
آپ کی فضیلت و افضلیت ثابت، یہاں چند وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جو خود حضرت علی
رضى الله عنہ سے مروی ہیں :
تفسیر
طبری میں ہے:حضرت علی رضى الله عنہ اللہ پاک کے اس فرمان: وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْمُتَّقُوْنَ(۳۳)(ترجمۂ کنزُ الایمان: اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے
اور وہ جنھوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں) کے بارے میں فرماتے ہیں :وہ محمد
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، اور جنہوں نے ان کی تصدیق کی وہ ابو بکر رضی
اللہُ عنہ ہیں۔
(
تفسير طبری، 20/205،204)
پہلے
خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضى الله عنہ کی شان تو یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے آپ کو صدیق نام عطا کیا، چنانچہ ابو یحییٰ
کہتے ہیں: میں نے بارہا حضرت علی رضی اللہُ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے سنا کہ ”بے
شک اللہ پاک نے اپنے
حبیب
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے ابو بکر کا نام صدیق رکھا۔“
(تاريخ
الخلفاء، ص:103)
حضرت
علی رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا:اللہ پاک ابو بکر پر رحم فرمائے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کیا،
اور دار الہجرت (مدینۂ منوّرہ) تک پہنچایا، اور اپنے مال سے بلال کو آزاد کرایا۔(تاريخ
دمشق، 30/63)
ترمذی
شریف کی حدیث پاک میں ہے:حضرت علی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر تھا اچانک ابو بکر و عمر رضی اللہُ عنہما
آتے نظر آئے، تو سیدُ الانبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کے بارے میں
فرمایا: هَذَانِ
سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلَّا
النَّبِيِّينَ وَالمُرْسَلِينَ، يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا ترجمہ:
یہ دونوں انبیاء و مرسلین علیہمُ السّلام کے علاوہ تمام اولین و آخرین ادھیڑ عمر
جنتیوں کے سردار ہیں، اے علی ان دونوں کو اس کی خبر نہ کرنا۔(ترمذی، 6/46)
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
اے مُرتضیٰ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
اسی
طرح حضرت سیدنا اِصبغ بن نباتہ رضى الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے امیرُ
المؤمنین حضرت علیُّ المرتضی شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ سے استفسار کیا : اس اُمّت میں
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا : اس
اُمّت میں سب سے افضل حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں، ان کے بعد حضرت سیدنا عمر
فاروق، پھر حضرت سیدنا عثمان غنی، پھر میں۔(یعنی حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا
رضی اللہُ عنہ)(الرياض النضرة، 1/57)
اللہ
پاک ہمیں تمام صحابہ و اہلِ بیت علیہمُ الرّضوان کا ادب و احترام عطا فرمائے اور
ان کی سچی پکی محبت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
افضل البشر بعد الانبیا، سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام بنی نوع آدم میں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ
والسلام کے بعد سب سے اعلیٰ، سب سے افضل اور سب سے برتر ہیں ۔آپ ہی کی ذات کو یار
غار ہونے کا شرف حاصل ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جابجا آپ کے اوصاف
حمیدہ کے تذکرے ہیں ۔ حیدر کرار، سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زبانی
یار غار کی جو شان بیان ہوئے ہیں وہ تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں، ان میں سے چند
یہ ہیں:
سب سے پہلے اسلام لانے والے:ابن عساکر نے حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے روایت
کی ہے، انہوں نے فرمایا:” اول من اسلم من الرجال ابوبکر “۔یعنی سب سے
پہلے مردوں میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے ۔(تاریخ الخلفا،ص
23)
ایمانی غیرت کا اظہار:ابتدائے اسلام
میں جو شخص مسلمان ہوتا وہ اپنے اسلام کو جہاں تک ہو مخفی رکھتا، حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف سے بھی یہی حکم تھا، لیکن جب مسلمانوں کی تعداد تقریباً 38 ہو
گئی تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے
کر اسلام کا اعلان فرمایا: اسد الله الغالب، حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ
عنہ نے ارشاد فرماتے ہیں:” لوگ جب اپنے ایمان کو چھپاتے تھے،مگر حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے“۔(ایضاً ،ص: 25)
آپ کا لقب” صدیق“ ہے:حضرت سیدنا نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے تھے، وہ خوش طبعی
فرما رہے تھے، ہم نے ان سے عرض کی: اپنے دوستوں کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایئے،
فرمایا:” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ میرے دوست ہیں“۔ ہم نے عرض
کی کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایئے، فرمایا” ذاک امرء سماہ الله
صدیقا علی لسان جبریل و محمد صلی اللّٰه علیھ وسلم،یعنی ان کے
تو کیا کہنے! یہ تو وہ شخصیت ہیں جن کا نام الله پاک نے جبریل امین اور پیارے آقا
صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے” صدیق“ رکھا ہے“۔
(فیضان
صدیقِ اکبر،ص:26)
حضرت
سیدنا یحییٰ بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے امیر المومنین حضرت سیدنا
علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کو الله کی قسم اٹھا کر کہتے ہوے سنا
کہ” انزل
اسم ابی بکر من السماء الصدیق، یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ کا لقب صدیق آسمان سے اتارا گیا“۔(المعجم الکبیر، نسبۃابی بکر الصدیق واسمہ،1/55،
الحدیث :14)
ہجرت کی خوشخبری حضرت جبریل علیہ السلام کی زبان سے: حضرت
علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے
گا ؟ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے ساتھ ابوبکر ہجرت کریں گے
اور وہ صدیق ہیں۔(الریاض النصرۃ،1/104)
شجاعت و بہادری: فاتح خیبر،
شیر خدا، علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کی شجاعت کو خود بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے لوگو! تمام لوگوں میں سب سے زیادہ
بہادر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں"۔
(کنز
العمال،باب فضائل الصحابۃ، فضل الصدیق،6/235،الحدیث:3569)
آپ افضل البشر ہیں:حضرت موسیٰ بن شداد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
میں نے امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو یہ فرماتے
ہوئے سنا: کہ ہم سب صحابہ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سب سے افضل
ہیں۔(الریاض النضرۃ،1/338)
آپ خلیفۃ الرسول بلافصل ہیں: حضرت
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم خلافتِ صدیق اکبر کو بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرماتے ہیں: " غور سے سن لو ! ہم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله
عنہ کو ہی خلافت کا اہل سمجھا ہے "۔ (المستدرک
علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابہ، امر النبی لابی بکر بامامۃ الناس فی الصلاۃ، 4/27،الحدیث
: 4519)
یار غار سے محبت کا اظہار:
حضرت علی رضی الله عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ
کی تمام نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں۔
(تاریخ مدینہ دمشق، 30/383)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم
اللہ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایا: عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو
ہماری محبت کا دعویٰ کریں گے اور ہماری گروہ میں ہونا ظاہر کریں گے، وہ لوگ اللہ
کے شریر بندوں میں سے ہیں جو حضرت سیدنا ابوبکر و عمر کو برا کہتے ہیں۔
(تاریخ مدینہ دمشق، 26/343)
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور
ان کے صدقے ہمارے مغفرت ہو ۔
یوں تو تمام
صحابۂ کرام آسمان ہدایت کے تارے ہیں، مگر ان میں سب سے افضل و اعلی خیر البشر بعد
الانبیاء بالتحقیق کے اعزاز کے حامل اس امت کے سب سے پہلے خلیفہ حضرت سیدنا صدیق
اکبر رضی الله عنہ ہیں۔ اور اس بات کا اقرار حضرت علی رضی الله عنہ بھی فرماتے
تھے۔
چنانچہ بخاری
شریف میں ہے کہ محمد بن حنفیہ نے اپنے والد حضرت علی (کرم الله وجہہ الکریم) سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
بعد لوگوں میں سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوبکر صدیق رضی الله
عنہ (بخاری شریف 3671 )
اور ایک روایت
میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ جس کو بھی میں دیکھوں کہ وہ مجھے حضرت ابو بکر اور حضرت
عمر رضی الله عنھما پر فضیلت دے رہا ہے تو وہ مفتری (جھوٹ گڑھنے والا ) ہے اور میں
اسے مفتری کی حد لگاؤں گا۔ (ابن عساکر فی تاریخ دمشق ، 30 / 383 )
حضرت علی( کرم
الله وجہہ الکریم) حضرت ابوبکر صدیق کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مردوں میں سب سے پہلے حضرت صدیق
اکبر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
(تاریخ
الخلفاء مکتبہ دار ابن حزم ،ص 30 )
ایک روایت میں منقول ہے کہ حضرت علی نے لوگوں سے پوچھا بتاؤ کہ لوگوں
میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا کہ آپ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔
تو آپ نے فرمایا کہ میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں۔ یہ بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون
ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے آپ ہی ارشاد فرمائیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ
لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ اس بات کا ثبوت
یہ ہے کہ جنگ بدر میں ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سائبان (چھونپڑ) تیار کیا
تاکہ کوئی کافر آپ پر حملہ نہ کرسکے۔ الله کی قسم ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہ گیا ۔مگر حضرت ابو بکر صدیق
رضی الله عنہ اپنی تلوار لہرائے نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے پاس کھڑے
رہے۔ جو کوئی بھی حملے کے لئے آتا آپ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ اس لئے آپ تمام لوگوں میں سب
سے زیادہ بہادر ہیں ۔
پھر آگے ارشاد
فرماتے ہیں کہ لوگوں بتاؤ کہ آل فرعون کا مؤمن اچھا ہے یا ابوبکر صدیق ؟ لوگوں نے
اس پر سکوت کیا تو آپ نے فرمایا : لوگو! جواب کیوں نہیں دیتے؟ الله پاک کی قسم!
حضرت ابوبکر کی زندگی کی ایک ساعت آل فرعون کے مومن کی ہزار ساعت سے بہتر ہے۔ اس لئے
کہ اس نے اپنے ایمان کو چھپایا اور اس (ابوبکر صدیق) نے اپنے ایمان کا برملا اظہار
کیا۔ (اخرجہ البزار فی مسنده)
ابو یحییٰ سے
روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر
سکتا تین دفعہ میں نے حضرت علی کو یہ کہتے سنا ہے کہ الله پاک
نے ابوبکر صدیق کا نام اپنے نبی کی زبان پر صدیق رکھا ہے۔
(تاریخ
الخلفاء عربی ،ص 28)
حضرت علی سے
روایت ہے فرماتے ہیں کہ قرآن کے حوالے سے سب سے زیادہ اجر پانے والے ابو بکر ہیں
کہ انہوں نے سب سے پہلے قرآن کو دو جلدوں میں جمع فرمایا۔
(
مصنف ابن ابی شیبہ1/148)
اسید بن صفوان سے روایت ہے
فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ نے اس آیت (وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْمُتَّقُوْنَ(۳۳) ترجمہ
کنز العرفان : اور وہ جو یہ سچ لے کر
تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق کی یہی پرہیز گار ہیں ۔) کی تفسیر میں فرمایا : کہ وَ الَّذِیْ جَآءَ
بِالصِّدْقِ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور
وَ
صَدَّقَ بِهٖۤ سے
مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ (تاریخ
الخلفاء عربی ص 42 )
ابن عساکر روایت کرتے ہیں کہ
حضرت علی نے حضرت ابو بکر صدیق کو کفنایا ہوا دیکھ کر فرمایا کہ مجھے کوئی شخص جو
اپنے نامہ اعمال لیکر الله پاک کو ملے اس
مکفون سے زیادہ محبوب نہیں۔
طبرانی اوسط میں روایت کرتے ہیں
کہ حضرت علی نے فرمایا اس خدائے پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ
میں نے جس نیکی میں سبقت لینی چاہی ہے اس میں حضرت ابو بکر صدیق ہی سبقت لے جانے
والے رہے ہیں ۔
اور
حضرت جحیفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ میری محبت اور حضرت ابوبکر و عمر
رضی الله عنھما کا بغض کسی دل میں جمع نہیں ہوسکتا۔ (ایضا ص 59 )
ابن عساکر حضرت علی سے روایت
کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو حکم دیا کہ لوگوں کو
نماز پڑھائیں اور میں حاضر تھا غائب نہ تھا، اور نہ میں مریض تھا ۔ تو جس شخص کو
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے دین کے لئیے پسند کیا ہم نے اسے اپنی
دنیا کے لئیے پسند کیا ۔ (المرجع السابق ص 53 )
حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضرت
ابوبکر صدیق بلا شبہ خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
غار کے ساتھی ہیں، اور آپ ثانی اثنین ہیں۔ اور ہم آپ کے شرف کو اور آپ کے خیر ہونے کو جانتے ہیں۔ بے شک آپ کو حضور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات طیبہ میں نماز کی
امامت کا حکم دیا تھا۔ (المستدرک للحاکم،3/70)
الله کریم ہم سب کے دلوں میں حضرت ابو بکر
صدیق اور تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کی محبت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد عالِم رضا عطاری مدنی (درجہ تخصص فی الفقہ
جامعۃ المدینہ فیضان عطار، نیپال)
انسان
کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پر سختی کرتا ہے اس
کے برعکس محبوب کے پیاروں سے محبت، نرمی اور ان کا ادب واحترام کرتا ہے۔صحابہ
ٔکرام رضی اللہ عنہم اللہ پاک اور اس کے حبیب صلّی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمنوں
یعنی کفار سے سخت نفرت کرتے اور ان پر انتہائی سختی فرمایا کرتے تھے ۔جب کہ آپس
میں نرم دل ،محبت و مہربانی کرنے والے ، ایک دوسرے کا نہایت ادب و احترام
کرنے والے تھے۔
پہلے
خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کے متعلق چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی الله عنہ
کے چند تأثرات رسالہ"مولی علی کے 72
ارشادات" کی روشنی میں ملاحظہ ہوں :
(1)حضرت
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ شکر کرنے والوں اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کے امین ہیں،
آپ ان سب سے زیادہ شکر کرنے والے اور سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں۔
(2)ہم
میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
(3)یادر
کھو ! وہ (یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) انسانوں میں سب سے زیادہ رحم دل،
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یار غار اور اپنے مال سے حضور کو سب سے زیادہ
نفع پہنچانے والے ہیں ۔
(4)ہم
سب صحابہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔
(5)
قسم کھا کر ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے ابو بکر کا نام” صدیق “آسمان سے نازل فرمایا
ہے ۔
(6)میں
تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تمام نیکیوں میں سے صرف ایک نیکی ہوں۔
(7)حضور
نبی کریم ، رؤوف رّحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخصیات حضرت
ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں، کسی مومن کے دل میں میری محبت اور حضرت ابو
بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) کا بغض جمع
نہیں ہو سکتے ، اور نہ ہی میری دشمنی اور حضرت ابو بکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کی
محبت جمع ہو سکتی ہے۔ (مولی علی کے 72 ارشادات، ص10، مکتبۃ المدینہ)
حضرت
علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس
نیک کام میں آگے بڑھنے کا ارادہ میں نے کیا ، ابو بکر اس کام میں مجھے سے سبقت لے
گئے ۔ نیز فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ابوبکر وعمر رضی اللہ
عنہما سب سے بہتر ہیں کسی کے دل میں میری محبت اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کا
بغض یکجا نہیں ہو سکتے ۔
(رسائل
قادریہ،ص59،مکتبہ اہل سنت فیصل آباد)
مفتی
احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت علی مرتضیٰ (رضی الله عنہ)
نے فرمایا کہ صدیق (رضی الله عنہ) کو رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) نے ہمارے دین
کا امام بنا دیا تو ہم نے انہیں اسی دنیا کا امام بنا لیا۔ (مراۃ المناجیح ، 2 /
203 مکتبہ ادبی دنیا)
الله
پاک ہمیں دنیا میں ان نفوس قدسیہ کا وفا دار رکھے ، اور آخرت میں ہمارا حشر ان کے ساتھ مقدر فرمائے ! آمین بجاہ النبی الامین
صلی الله علیہ وآلہ و صحبہ وسلم۔
یوں
تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آسمان ہدایت کے درخشاں ستارے ہیں لیکن ان میں سب
سے افضل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات ہے جن کی افضلیت پر صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم کا اور اہل سنت کا اجماع ہے۔ اسی طرح آپ کے فضائل و کمالات پر
قرآن حکیم اور احادیث کریمہ ناطق ہیں لیکن آج ہم خصوصیت کے ساتھ یار غار کے وہ
فضائل بیان کریں گے جو حيدر کرار سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم نے اپنی زبان
مبارک سے ارشاد فرمائے۔
صداقت یار غار
بزبانِ حیدر کرار :چنانچہ سورہ زمر آیت نمبر 33 میں اللہ پاک کا ارشاد
ہے:وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ
بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۳۳)
ترجمۂ کنز العرفان :اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق
کی یہی پرہیز گار ہیں۔
اس
آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: الذي جاء بالصدق محمد
والذی صدق به أبو بكر الصديق رضي الله عنه یعنی وہ جو یہ
سچ(اسلام) لے کر آئے وہ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم ہیں اور وہ جس
نے ان کی تصدیق کی وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
(فتح الباری بشرح صحیح البخاری کتاب التفسير
/الزمر ص 534)
گویا
کہ حیدر کرار نے دنیا والوں کو شان یار غار بتا دیا کہ جس وقت مصطفٰی کریم علیہ
السلام کو جھٹلایا جا رہا تھا اس وقت آپ کی تصدیق کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس
افضلیت یار غار
بزبان حیدر کرار :
عن محمد بن الحنفية
قال: قلت: لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلی اللہ
علیہ وسلم قال: أبو بكر قلت: ثم من؟ قال: عمر حضرت
محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد (علی کرم اللہ وجہ الکریم) سے عرض کی
کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟
آپ نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر میں نے عرض کی، پھر کون ؟ فرمایا حضرت عمر رضی ﷲ
عنہما ۔ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،2/522،حدیث :3671)
سیدنا
علی کرم اللہ وجہ الکریم خود شیخین کریمین کو سب سے افضل مانتے تھے لہذا جو علی کی
محبت کا دعویٰ کرے اور شیخین کو افضل نہ جانے وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔
محبت یار غار بزبان
حیدر کرار: حضرت ابو جحیفہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی
رضی ﷲ عنہ کے گھر میں داخل ہوا ۔ میں نے عرض کی اے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخص! تو آپ
رضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے ابو جحیفہ ! ٹھہر جا تجھ پر افسوس ہے کیا میں تجھے یہ نہ
بتاؤں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے
افضل کون ہے؟ وہ ابو بکر و عمر ہیں اے ابو جحیفہ ! تجھ پر افسوس ہے میری محبت اور
ابو بکر و عمر کی دشمنی کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی اور میرا بغض اور
ابوبکر و عمر کی محبت کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ (تاریخ مدینہ و دمشق ،44/201)
معلوم
ہوا کہ حیدر کرار کا سچا محب وہی ہے جو ابو بکر و عمر سے محبت کرتا ہے اور وہی سچا
مومن ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ نہ تو مومن کامل ہے نہ ہی محب مولائے کائنات
ہے بلکہ وہ بغض صحابہ کا مریض ہے۔
یوں
تو فضائل شان یار غاز بزبان حیدر کرار بے شمار ہیں لیکن یہاں پر ان میں سے چند ایک ذکر
کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔اللہ کریم ہمیں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت
اور ان کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔خصوصاً سیدنا صدیق اکبر اور مولا علی شیر
خدا رضی اللہ عنہما کے فیضان سے ہم کو مالا مال فرمائے اور ان کی محبت سے ہمارے دل
کو منور فرمائے۔
اٰمین
بجاہ النبی الامين صلی اللہ علیہ وسلم
عاشق
اکبر، سالار صحابہ،پیکر صدق و وفا،یار غار و یار مزار،اسلام کے پہلے خلیفہ،امیر
المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی شان بہت بلند و بالا ہے،الله پاک
نے آپ کی شان و عظمت کو قرآن کریم میں بیان فرمایا اور الله پاک کے آخری نبی صلی
الله علیہ وآلہ وسلم نے کئی احادیث مبارکہ میں
آپ کی شان اور آپ کے فضائل و مناقب کو بیان فرمایا ہے،اور دیگر صحابہ کرام
نے بھی آپ کے فضائل اور خصوصیات کا بیان کیا ہے۔
آج
ہمارا موضوع ہے ”شان یار غار بزبان حیدر کرار“ لہٰذا درج ذیل میں اسلام کے چوتھے
خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ کرم الله وجہہ الکریم کے وہ فرامین نقل کیے جا رہے ہیں جو
آپ نے عاشق اکبر،صدیق اکبر رضی الله عنہ کی شان میں بیان فرمائے۔چنانچہ
سب سے بہترین شخص: حضرت
محمد بن حنفیہ نے اپنے والد ماجد حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول
الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بعد (اس امت کے) لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون
ہے؟ارشاد فرمایا: حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ۔
(صحیح
بخاری،حدیث:3671)
سب سے پہلے مسلمان: حضرت
صدیق اکبر رضی الله عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا۔اسی اولیت کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علی رضی الله عنہ فرماتے ہیں"اول من أسلم من الرجال
أبو بكر
“یعنی مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق اسلام لائے۔(تاریخ الخلفاء،ص50)
نیک کام میں سبقت لے
جانے والے: حضرت
ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کی ہر نیک کام میں آگے بڑھنے کی خوبی بیان کرتے ہوئے
حضرت علی شیر خدا فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں
نے جس کام میں بھی سبقت کا ارادہ کیا اس میں حضرت ابو بکر سبقت لے گئے۔(ایضاً،ص87)
صدیق اکبر کی نیکیوں
میں سے ایک نیکی: حضرت علی شیر خدا اس قدر حضرت ابو بکر
صدیق کی تعریف کرتے تھے کہ سننے والے حیران رہ جاتے تھے۔ایک موقع پر فرمایا:"هل أنا إلا حسنة من
حسنات أبي بكر“
میں تو ابو بکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں۔
(تاریخ
دمشق،ص253)
سب سے پیارے صدیق اکبر:
حضرت علی رضی الله عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کو کفنایا ہوا دیکھ کر
ارشاد فرمایا :مجھے کوئی شخص جو اپنے نامۂ اعمال لے کر الله پاک سے ملا ہے،اس
مکفون سے زیادہ عزیز نہیں۔(تاریخ الخلفاء،ص87)
الله پاک نے صدیق نام
رکھا: حضرت
نزال بن سبرہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی سے عرض کی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی
الله عنہ کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں تو فرمایا:ابو بکر وہ شخصیت ہیں جن کا لقب
الله پاک نے حضرت جبریل اور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے صدیق
رکھا۔(مستدرک حاکم،رقم:4406)
نبی صلی الله علیہ
وآلہ وسلم نے نماز کا امام بنایا: حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا:بلا
شبہ حضرت ابو بکر خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں،آپ حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھی ہیں،آپ ثانی اثنین ہیں اور ہم آپ کے شرف کو اور آپ کے خیر ہونے کو جانتے
ہیں،بیشک آپ کو حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات طیبہ میں نماز کی
امامت کا حکم دیا تھا۔(ایضا،رقم:4422)
الله
پاک کی بارگاہ میں دعا ہے ہمیں ان کے فیوض و برکات سےدنیا و اخرت میں مالامال فرمائے۔
Dawateislami