خوف خدا کا مطلب:یاد رکھئے!مطلقاً خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے،  جو کسی ناپسندیدہ عمل کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر، جبکہ خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔(ماخوذ من احیاء العلوم، جلد 4) اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا ہی خوفِ خدا ہے، مثلاً موت کی سختیوں کا خوف، منکر نکیر کے سوالات کا خوف، عذابِ قبر کا خوف وغیرہ وغیرہ، اگر انسان کو ان کے انجام کا علم ہوجائے تو وہ خوف خدا میں کیسے نہ مبتلا ہوگا۔خوف خدا کی فضیلت کو جاننے کے دو طریقے ہیں:1۔غورو فکر:خوف ایسی آگ ہے، جو شہوتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے، اب یہ جتنی مقدار میں شہوتوں کو جلائے، گناہوں سے باز رکھے اور نیک اعمال کی طرف راغب کرے، اسی قدر اس کی فضیلت میں اضافہ ہوتا جائے گا، اپنے ہر عمل میں غور و فکر کرنا کہ آیا میرا یہ عمل اللہ پاک کو مجھ سے قریب کرے گا یا مجھ سے دور، اس سے بھی خوف خدا نصیب ہوتا ہے۔2۔آیات و احادیث :خوفِ خدا کی فضیلت کو جاننے کے لئے اللہ پاک نے اہلِ جنت کے چار مقامات یعنی ہدایت ، علم اور رضا کو درج ذیل آیاتِ مقدسہ میں خائفین کے لئے جمع فرما دیا ہے:1۔ترجمۂ کنزالایمان:ہدایت اور رحمت ہے ان کے لئے، جو اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں۔(پ 9، الاعراف:154)2۔ ترجمہ ٔکنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں، جو علم والے ہیں۔(پ22 ، فاطر:28)3۔ترجمۂ کنزالایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی،یہ اس کے لئے ہے،جو اپنے ربّ سے ڈرے۔(پ 25، البینۃ:8)یہ وہ آیات جو علم کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں،وہ خوف خدا کی فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہیں، کیونکہ خوفِ خدا علم کا پھل اور اسی کا نتیجہ ہے۔خوفِ خدا کی برکت:حضرت ابوبکر شبلی رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جب بھی میں کسی دن اللہ پاک سے خوف کرتا ہوں تو اس دن مجھ پر حکمت و عبرت کا ایسا دروازہ کھل جاتا ہے، جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوتا۔دو بھلائیاں:حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جو بھی مؤمن کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے دو بھلائیاں حاصل ہوتی ہیں،عذاب کا خوف اور معافی کی امید(اور وہ ان دونوں کے درمیان ایسے ہوتا ہے)، جیسے دو شہروں کے درمیان موجود لومڑی۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 472)فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:اللہ پاک کے خوف سے مؤمن کی آنکھ سے نکلنے والا قطرہ اس کے لئے دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے اور ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔(حلیۃالاولیاء، حدیث: 11748، جلد 8، صفحہ 167)خوفِ خدا شفا دیتا ہے:حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :خواہشاتِ نفس ہلاکت میں ڈالتی ہیں اور خوف خدا شفا دیتا ہے۔ یاد رکھو! تمہاری خواہشاتِ نفس اسی وقت ختم ہوں گی، جب تم اس سے ڈرو گے، جو تمہیں دیکھ رہا ہے۔(شعب الایمان، جلد 1، صفحہ 511، حدیث: 876) اسے امن میں رکھوں گا:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: سرور عالم، نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم!میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو امن جمع کروں گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے امن میں رکھوں گا۔(شعب الایمان، باب الخوف من اللہ تعالی، جلد 1، صفحہ 483 ، حدیث: 777)جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب مؤمن کا دل اللہ پاک کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں، جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔(شعب الایمان، باب الخوف من اللہ تعالی، جلد 1، صفحہ 491 ، حدیث: 803)سبز موتیوں کا محل:حضرت کعب الاحبار رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: اللہ پاک نے سبز موتی کا ایک محل پیدا فرمایا ہے، جس میں ستر ہزار کمرے ہیں،اس میں وہ شخص داخل ہوگا،جس کے سامنے حرام پیش کیا جائے اور وہ محض اللہ پاک کے خوف سے اسے چھوڑ دے۔(مکاشفۃالقلوب، صفحہ 10)اعمال کی قبولیت:خوفِ خدا اعمال کی قبولیت کا ایک سبب ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:ترجمۂ کنزالایمان:اللہ اسی سے قبول کرتا ہے، جسے ڈر ہے۔(پ 6، المائدہ: 27)


خوف خدا کسے کہتے ہیں:یاد رکھئے!مطلقاً خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے، جو کہ ناپسندیدہ اَمر کے پیش آنے کے سبب پیدا ہو،  مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر، جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے، ربّ کریم نے خود قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس صفت کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے، جسے درج ذیل آیات میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک تاکید فرما دی ہے ہم نے، ان سے جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ترجمۂ کنزالایمان: تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا، مگر مسلمان۔ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔ترجمۂ کنزالایمان: اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔ترجمۂ کنزالایمان:اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھرو گے۔پیارے آقا محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے ان کلمات کو بھی ملاحظہ فرمائیں، جن میں آپ نے صفتِ عظیمہ کو اپنانے کی تاکید فرمائی ہے:1۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے فرمایا:اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد خوف خدا زیادہ یاد رکھنا۔(احیاء العلوم،ج4، ص198)2۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:حکمت کی اصل اللہ پاک کا خوف ہے۔)شعب الایمان،ج1، ص470، حدیث:(743 3۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:دو نہایت اہم چیزوں کو نہ بھولنا، جنت اور دوزخ،یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم رونے لگے،حتی کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔پھر فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،اگر تم وہ جان لو، جو میں جانتا ہوں تو جنگلوں میں نکل جاؤ اور اپنے سروں پر خاک ڈالنے لگو۔(مکاشفۃ القلوب ص316)قرآن عظیم اور احادیث کریمہ کے ساتھ ساتھ اکابر ینِ اسلام کے اقوال میں بھی خوف خدا پاک کی نصیحتیں موجود ہیں چنانچہ1۔حضرت انس رضی اللہُ عنہ نے اپنے بیٹے کو فرمایا:اے میرے بیٹے! تم سفلہ بننے سے بچنا۔ اس نے عرض کی سفلہ کون ہے؟ فرمایا:وہ جو ربّ کریم سے نہیں ڈرتے۔(شعب الایمان، ج1، ص 480، حدیث: 771)2۔حضرت عبداللہ بن مسعود کا وقتِ وفات جب قریب آیا،تو کسی نے عرض کی:مجھے کچھ وصیت ارشاد فرمائیے: میں تمہیں اللہ پاک سے ڈرنے،اپنے گھر کو لازم پکڑنے،اپنی زبان کی حفاظت کرنے اور اپنی خطاؤں پر رونے کی وصیت کرتا ہوں۔)شعب الایمان، ج1،ص53،حدیث:(844۔ 3حضرت سلمان درانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:جس دل سے خوف دور ہوجاتا ہے،وہ ویران ہوجاتا ہے۔(احیاء العلوم،،ج4،ص (199 ۔4۔حضرت ابوسلیمان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:خوف خدا دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے۔(شعب الایمان،ج1،ص510،حدیث: 875)ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان لیجئے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر وقت دل پر خوف خدا کی کیفیت غالب رہے، کیونکہ دل کی کیفیات کسی نہ کسی وجہ سے تبدل ہوتی رہے، اس پر کبھی ایک کیفیت غالب ہوتی ہے، تو کبھی دوسری۔


پیاری اسلامی بہنو!خوف خدا میں رونے کے بے شمار فضائل ہیں:خوف خدا ہماری اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔خوف خدا اجر عظیم کا باعث ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لئے(اللہ)کی مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ )پ29، الملک:12)خوف الٰہی اعمال کی قبولیت کا ایک سبب ہے۔بے شک دنیا میں اپنے خالق و مالک کا خوف رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے۔ قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے:بے شک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں )پ25،الدخان:51) خوف خدا رکھنے والے خوش نصیب اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں۔جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔ )پ10، التوبہ:7)سورۂ رحمن میں خوف خدا رکھنے والوں کے لیے دو جنتوں کی بشارت سنائی گئی ہے:چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ،کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ )پ27، الرحمن:46)حضرت ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں:خواہشات نفس ہلاکت میں ڈالتی ہیں اور خوف خدا شفا دیتا ہے۔یاد رکھو! تمہاری خواہشاتِ نفس اسی وقت ختم ہونگی جب تم اس سے ڈرو گے جو تمہیں دیکھ رہا ہے۔)شعب الایمان،ج:1، ص:115حدیث:;876)خوف خدا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم بن شیبان فرماتے ہیں:جب دل میں خوف خدا پیدا ہو جائے تو اس کی شہوات کو توڑ دیتا ہے،دنیا سے بے رغبت کر دیتا ہے،اور زبان کو ذکر دنیا سے روک دیتا ہے۔)شعب الایمان، ج1،ص: 513حدیث:886)اس کے علاوہ بھی بے شمار فضائل کتابوں میں موجود ہیں۔اللہ پاک ہمارے دلوں میں اپنا خوف عطا فرمائے اور آخرت میں ہماری نجات فرمائے ۔آمین


اللہ پاک کی عطا کردہ بے شمار نعمتیں ہیں، جن کو احاطے میں لانا ناممکن ہے، انہیں نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت خوف خدا میں آنسو بہانا ہے۔خوف خدا کا مطلب:اےعاشقانِ رسول!یاد رکھئے مطلقاً خوفِ خدا سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے، جو کسی ناپسندیدہ اَمر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر۔جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(احیاء العلوم، ج4) قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوف خدا پاک کے فضائل: سورۂ رحمن میں خوف خدا رکھنے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ ۚ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27 ، رحمٰن: 46)آخرت میں کامیابی:اللہ پاک سے ڈرنے والوں کو آخرت میں کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۠ ۔ ترجمۂ کنزالایمان:اور آخرت تمہارے ربّ کے پاس پرہیزگاروں کے لئے ہے۔(پ25، زخرف:35)خوف خدا میں رونے والے درج ذیل فضائل سے مستفید ہوں گے:1۔دنیا میں اپنے خالق و مالک کا خوف رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے۔2۔اللہ پاک سے ڈرنے والوں کو تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے ۔3۔اللہ پاک ڈر والوں کا دوست ہے۔4۔خوف خدا رکھنے والے خوش نصیب اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں۔5۔خوفِ الٰہی اعمال کی قبولیت کا ایک سبب ہے۔6۔اور سب سے بڑھ کر ربّ کریم کا خوف ذریعہ نجات ہے۔سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مؤمن کا دل اللہ پاک کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں، جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔ حضرت کعب الاخبار رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: اللہ پاک نے سبز موتی کا ایک محل پیدا فرمایا ہے، جس میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار کمرے ہیں، اس میں وہ داخل ہوگا، جس کے سامنے حرام پیش کیا جائے اور وہ محض اللہ پاک کے خوف سے اسے چھوڑ دے۔(مکاشفۃ القلوب، صفحہ 196)ایک دن حضرت داؤد علیہ السلام لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوفِ خدا دلانے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے،جن پر آپ کے پُراثر بیان کی وجہ سے ایسی رقّت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوف خدا کی تاب نہ لاس کے اور انتقال کر گئے۔خشیتِ الٰہی، سجدے اور خوفِ خدا مل جانا، آنکھوں میں آنسوؤں کا نور نصیب ہو جانا بہت بڑا انعام ہے تو اللہ پاک یہ جس کو نصیب کر دے، یہ اُس کے لئے بہت بڑی نعمت ہے، اللہ پاک کا خوف اللہ پاک کی عطا ہے، اللہ پاک کی خشیت اللہ پاک کی طرف سے بندوں کو دیا گیا انعام ہے، اللہ کریم جس کی بہتری کا ارادہ فرماتا ہے اسے اپنی خشیت کا نور دے دیتا ہے، اسے اپنا خوف عطا کر دیتا ہے، اسے اپنے سے ڈرنا نصیب کر دیتا ہے، اُسے تقویٰ کی دولت سے نواز دیتا ہے۔

رونے والی آنکھیں مانگو، رونا سب کا کام نہیں ذکرِ محبت عام ہے لیکن، سوزِ محبت عام نہیں

اللہ پاک ہمیں حقیقی معنوں میں خشیتِ الٰہی نصیب فرمائے اور خوفِ خدا میں رونے والی آنکھیں عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


ایک نوجوان ایک عورت کی محبت میں مبتلا ہو گیا وہ عورت کسی قافلہ کے ساتھ باہر کے سفر پر روانہ ہو گئی ،جوان کو جب معلوم ہوا تو وہ بھی قافلہ کے ساتھ چل پڑا جب قافلہ جنگل میں پہنچا تو رات ہو گئی رات انہوں نے وہیں پڑاؤ کیا جب سب لوگ سو گئے تو وہ نو جوان چپکے سے اس عورت کے پاس پہنچا اور کہنے لگا:میں تجھ سے بے انتہا محبت کرتا  ہوں اور اسی لئے میں قافلہ کے ساتھ آ رہا ہوں۔عورت نےاس نو جوان کو کہا جاکر دیکھو اس تاریکی رات میں کوئی جاگ تو نہیں رہا ہے۔اس نو جوان نے پہلی فرست میں سارے قافلہ کا چکر لگایا اور واپس آ کر کہنے لگا سب لوگ غافل پڑے سو رہے ہیں۔پھر اس عورت نے اس نو جوان سے پوچھا اے نو جوان اللہ پاک کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔کیا وہ رب عزوجل بھی سو رہا ہے جوان بولا اللہ پاک تو نہ کبھی سوتا ہے اور نہ ہی اسے کبھی اونگھ آتی ہے۔تب وہ عورت بولی لوگ سو گئے تو کیا ہوا اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے اس اللہ پاک سے ہمیں ڈرنا فرض ہے۔جوان نے جونہی یہ بات سنی خوف خدا سے لرز گیا اور برے ارادے سے توبہ کر کے گھر واپس چلا گیا۔کہتے ہیں کہ جب وہ جوان مر گیا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا :مافعل اللہ بک..؟ اللہ پاک نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟ اس نو جوان نے کہا:میں نے اللہ پاک کے خوف سے ایک گناہ کو چھوڑا تھا اللہ پاک نے اسی سبب سے تمام گناہوں کو معاف فرماں دیا۔(مکاشفۃالقلوب،باب دوم،ص: 35)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں: دیکھا آپ نے خوف خدا کے سبب اس نو جوان نے اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دل سے تائب ہو کر گناہ ترک کر دیا اور جنت میں داخل ہو گیا ہمیں بھی چاہیے ہم بھی اللہ کے خوف سے گناہوں کو ترک کر دیں۔

اللہ پاک کے خوف سے رونے کے بے شمار فضائل ہیں جس میں سے چند درج ذیل فضائل ہیں:۔

اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے:وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۳۵)

ترجمہ کنزالایمان: اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔(پ:25،الزخرف:35)

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱)

ترجمہ کنزالایمان: بےشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں ۔(پ:25،الدخان:51)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ

ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو۔(پ:28،الحشر:18)

اسی طرح حدیث شریف میں اتا ہے:۔

1.اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے"میں اپنے کسی بندے پر دو خوف اور دو اَمن جمع نہیں کرتا۔ جو شخص دنیا میں میرے عذاب سے ڈرتا ہے میں اسے آخرت میں بے خوف کر دونگا ،لیکن جو دنیا میں میرے عذاب سے بے خوف رہتا ہے میں اسے آخرت میں خوفزدہ کروں گا۔(شعب الایمان، 482/1،الحدیث:777)

2.نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی ایسا بندہ مؤمن نہیں جس کی آنکھوں سے خوف خدا سے مکھی کے پَر کے برابر آنسو بہے اور اس کی گرمی اس کے چہرے پر پہنچے اور اسے کبھی جہنم کی آگ چھوے۔(ابن ماجہ، 467/4،الحدیث: 4197)

3.حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو اللہ کےخوف سے بے ہوش ہو جاتے۔ ایک دن ایک تنکا ہاتھ میں لے کر کہا کاش:میں ایک تنکا ہوتا'کوئی قابل ذکر چیز نہ ہوتا کاش مجھے میری ماں نے نہ جنا ہوتا اور خوف خدا سے آپ اتنا رویا کرتے تھے کہ آپ کے چہرے پر آنسووں کے بہنے کی وجہ سے دو سیاہ نشان پڑ گئے تھے۔(مکاشفۃالقلوب،ص3)

4.اللہ کے پیارے مکی مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لاَیَلِجُ النَّارَ مَنْ بَکٰیْ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ حَتّٰی یَعُوْدَاللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ،ترجمہ:جو شخص خوف خدا سے روتا ہے وہ جہنم میں ہر گز داخل نہیں ہوگا اسی طرح جیسے کہ دودھ دوبارا اپنے تھنوں میں نہیں جاتا۔(ترمذی،کتاب فضائل الجھاد،باب ماجاء فی فضل الغبار،336/3،الحدیث: 1639)

5.حضور صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کیا کرتے تھے:اے اللہ مجھے ایسی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے رونے والی ہوں۔(جامع الاحادیث،115/6،الحدیث:4823)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو: جو انسان اللہ کے عذاب سے بچنا چاہے اور ثواب و رحمت کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ دنیاوی مصائب پر صبر کرے اللہ پاک کی عبادت کرتا رہے اور گناہوں سے بچتا رہے۔


خوفِ خدا کی تعریف :‏

خوف سے مرادہ وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ200)

اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ 22، الاحزاب:70)

ترجمۂ کنزالایمان:’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔‘‘

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) (پ27، الرحمٰن: 46)

ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔‘‘

حکمت کی اصل خوفِ خدا ہے:

اللہ کہ آخری نبی مکی مدنی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حکمت کی اصل اللہ پاک کا خوف ہے۔‘‘

سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ سے فرمایا: ’’اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ پاک سے بہت ڈرتے رہنا۔‘‘

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ201)

خوفِ خدا کا حکم:

خوفِ خدا تمام نیکیوں اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے، خوفِ خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ پھر خوف کے تین درجات ہیں:

(۱) ضعیف: (یعنی کمزور) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانا اور پھرسے غفلت ومعصیت (گناہ)میں گرفتار ہوجانا۔

(۲) معتدل: (یعنی متوسط) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لیے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ربّ تَعَالٰی سے اُمید رحمت بھی رکھنا۔

(۳) قوی: (یعنی مضبوط) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو ناامیدی، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کردے، مثلاً اللہ تَعَالٰی کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اِن سب میں بہتر درجہ ’’معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے (کوڑے)کی مثل ہے جو کسی جانور کو تیز چلانے کے لیے مارا جاتا ہے، لہٰذا اگر اس تازیانے کی ضرب (چوٹ)اتنی ضعیف (کمزور) ہو کہ جانور کی رفتار میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر یہ اِتنی قوی ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی ہوجائے کہ اس کے لیے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں اور اگر یہ معتدل ہو کہ جانور کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے۔

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ201۔202)

خوفِ خدا پیدا کرنے کے (8) طریقے:

(1)ربّ تَعَالٰی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیجئے:جس طرح طویل دنیاوی سفر پر تنہا روانہ ہوتے وقت عموماًہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہی سامان ساتھ رکھیں جو مفید ہو۔ نقصان دہ اشیاء ساتھ نہیں رکھتےتاکہ ہمارا سفر قدرے آرام سے گزرے اور ہمیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے، بالکل اسی طرح سفرِ آخرت کو کامیابی سے طے کرنے کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ روانگی سے قبل گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کرے کہ کہیں یہ بوجھ اسے تھکا کر کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے محروم نہ کر دے۔ اس بوجھ سے چھٹکارے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَل کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے کبھی کیے ہی نہ تھے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسےاس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘

(2)خوفِ خدا کے لیے بارگاہ ربّ العزت میں دعا کیجئے:یوں دعا کیجئے: اے میرے مالک عَزَّ وَجَل! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتاہے۔ اے میرے ربّ عَزَّوَجَل! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لیے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں۔اے میرے پرورد گار عَزَّ وَجَل!مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لئے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطافرمادے اور اس کوشش کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔آمین

یارب ! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم

دیوانہ شہنشاہِ مدینہ کا بنا دے

(3)خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیے: فطری طور پر انسان ہر اس چیز کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نظر آئے۔ اس تقاضے کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ قرآن واحادیث میں بیان کردہ خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیں، چند فضائل یہ ہیں:خوفِ خدا رکھنے والوں کے لیے دو جنتوں کی بشارت دی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو آخرت میں کامیابی کی نوید (خوشخبری)سنائی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو جنت کے باغات اور چشمے عطا کیے جائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو مددوتائید الٰہی حاصل ہوتی ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ بندے ہیں۔ خوفِ خدا اَعمال میں قبولیت کا ایک سبب ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے بارگاہ الٰہی میں مکرم ہیں۔خوفِ خدا رکھنے والے دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہیں۔ خوفِ خدا جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہے۔ خوفِ خدا ذریعہ نجات ہے۔

(4) خوفِ خدا کی علامات پر غور کیجئے: جب کسی چیز کی علامات پائی جائیں گیں تو وہ شے بھی خود بخود پائی جائے گی۔ حضرت سیدنا فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے: (1) انسان کی زبان میں، اس طرح کہ ربّ تَعَالٰی کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اسے ذکرُاللہ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔(2)اس کے شکم میں، اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدرِ ضرورت کھائے گا۔(3)اس کی آنکھ میں، اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں بلکہ حصولِ عبرت کے لیے دیکھے گا۔(4)اس کے ہاتھ میں، اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا بلکہ ہمیشہ اِطاعت الٰہی میں استعمال کرے گا۔ (5) اس کے قدموں میں، اس طرح کہ وہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں نہیں اٹھائے گا بلکہ اس کے حکم کی اِطاعت کے لیے اٹھائے گا۔(6)اس کے دل میں، اس طرح کہ وہ اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کردے اور اس میں خیرخواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔ (7)اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں، اس طرح کہ وہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لیے عبادت کرے اور رِیاء ونفاق سے خائف رہے۔(8) اس کی سماعت میں، اس طرح کہ وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے۔

(5)جہنم کے عذابات پر غوروتفکر کیجئے:جہنم کے عذابات پر غور کرنے کے لیے پانچ فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں: ٭دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اسے آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔٭دوزخیوں میں بعض وہ لوگ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے زانوؤں تک آگ کے شعلے پہنچیں گے اور بعض وہ ہوں گے جن کی کمرتک ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گلے تک آگ کے شعلے ہوں گے۔ ٭ اگر اس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوخیوں کے زخموں سے جاری ہوگا، دنیا میں ڈال دیاجائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں۔٭دوزخ کی آگ ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، پس اب وہ نہایت سیاہ ہے۔٭دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں، یہ سانپ ایک بارکسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا اور دوزخ میں پالان باندھے ہوئے خچروں کی مثل بچھو ہیں تو اُن کے ایک بار کاٹنے کا درد چالیس سال تک رہے گا۔

(6)خوفِ خدا کے بارے میں بزرگانِ دِین کے اَحوال کا مطالعہ کیجئے: چند اَحوال پیش خدمت ہیں:٭حضرت سیدنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے اُن کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ ایک دن حضرت سیدنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوفِ خدا دِلانے کے لیے گھرسے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے، جن پر آپ کے پُراَثر بیان کی وجہ سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت سیدنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے۔ حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی اکثر بینائی رخصت ہوگئی۔

ایک بار حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اَقدس (مبارک آنکھوں)سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی، پھر فرمایا: اے بھائیو! اس قبر کے لیے تیاری کرو۔

حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک بار بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے، میری آنکھیں اس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں۔

(7)خود اِحتسابی کی عادت اپناتے ہوئے فکرمدینہ کیجئے:اپنی ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو کام اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو اُمور اُخروی اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں، اِن میں بہتری کے لیے اِقدامات کرے، مدنی اِنعامات پر عمل کرے۔

(8)خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اِختیار کیجئے: ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی بندے کے دل میں خوفِ خدا بیدار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ،تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں، اُن کی آنکھیں اللہ تَعَالٰی کے ڈر سے روئیں تو امید ہے کہ یہی کیفیات اس کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَل

(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ203تا209)

خوفِ خداعَزَّوَّجَلَّ میں رونے والوں کا بیان:

سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے خائفین کی آنکھوں کوخوفِ وعیدسے رُلایا تو ان کی آنکھوں سے چشموں کی مانند آنسوجاری ہوگئے اور اُن ہستیوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے بادل برسائے جن کے پہلُو بستروں سے جدارہتے ہیں، انہوں نے”تقویٰ” کو اپنا فخریہ لباس بنایا، خوف نے اُن کی نیند اور اُونگھ اُڑا دی، جب لوگ خوش ہوتے ہیں تو وہ غمگین ہوتے ہیں۔ آنسوؤں نے ان کی نیند اور سکون ختم کر دیا پس وہ غمگین اور دَرد بھرے دل سے روتے ہیں، انہوں نے آہ وبُکا کو اپنی عادت اور آنسوؤں کو پانی بنا لیا۔ ان کے دن غم میں کٹتے اور راتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے میں گزرتی ہیں، وہ آہ وزاری سے سَیر نہیں ہوتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے انسان کو ہنسایااور رُلایااورزندگی اور موت عطا فرمائی اورماضی و مستقبل کاعلم سکھایا۔ انہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے عہد کیا تو اس کو وفاکرنے والا پایا ۔اس سے معاملہ کیا تو ساری زندگی نفع دینے والا پایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ربّ ِ عظیم عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان :جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گرپڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔( پ16،مریم :58)

(یہ آیتِ سجدہ ہے اسے پڑھنے،سننے والے پرسجدہ کرناواجب ہے)

اُن میں سے ہر ایک اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو رنجیدگی سے خالی پاتے ہیں تو روتے اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور جب اپنے گناہوں کے متعلق سوچتے ہیں توخوب گِڑگِڑاتے ہیں اور آنسوؤں سے ان کی پلکیں زخمی ہوجاتی ہیں ۔ وہ سب بادشاہِ حقیقی کی بارگاہ میں پلکوں کے بادلوں سے آنسو بہاتے اور روتے روتے ٹھوڑی کے بل گر پڑتے ہیں اور اہل صدق ووفا کے متعلق سرکار علیہ الصلٰوۃوالسلام کا یہ فرمان کہ ”اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے والی صورت بنا لو۔ (سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد،باب الحزن والبکاء،الحدیث4196،ص2732)

سنتے ہیں تورونے سے نہیں اُکتاتے ۔ اوران میں سے ہرایک اپنی لغزش پرروتاہے ۔سبھی اس کی سطوت و اقتدار سے خوف زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان :اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔ (پ17، الانبیآء:28)

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کو ہر طرح کی آزمائشوں میں مبتلا فرمایایہاں تک کہ اپنے مقرب انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی آزمایا اور حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام کو جنت سے اُتارا گیا توابوالبشر ہونے کے با وجود چالیس سال تک روتے رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام حضرتِ سیِّدُنا یوسف علیہ السلام کے غم میں اس قدر روئے کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں سفید ہو گئیں اورجب دوسرے بیٹوں نے اُن کو آپ علیہ السلام سے دورکردیاتو آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا:

اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان : میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں ۔اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔(پ13،یوسف:86)

جب بھائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام صرف حضرت سیِّدُنا یوسف علیہ السلام سے ہی زیادہ محبت کرتے ہیں تو انہوں نے آپ علیہ السلام کو گہرے کنوئیں میں ڈال دیا، وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔” ( پ12،یوسف:16)

حضرتِ سیِّدُنایزیدرقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے تو ان سے عرض کی گئی:”آپ کیوں روتے ہیں؟” تو ارشادفرمایا: ”میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ اب مجھے راتوں کے قیام، دن کے روزوں اور ذکر کی مجالس میں حاضری کا موقع نہ ملے گا۔

حضرتِ سیِّدُنا عامربن قیس رحمۃ اللہ علیہ کا وقتِ وصال قریب آیا تو رونے لگے۔آپ رحمۃاللہ علیہ سے عرض کی گئی: ”کون سی چیز آپ کو رُلارہی ہے ؟ تو آپ رحمۃاللہ علیہ نے ارشادفرمایا:”میں سخت گرمیوں کے روزوں اور سردیوں میں قیام پر رو رہا ہوں۔ (کیونکہ اب دوبارہ یہ موقع ہاتھ نہ آئے گا)

حضرتِ سیِّدُنا ابوشَعْثَاء رحمۃاللہ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے دریافت کیا گیا: ”کون سی چیز آپ کو رُلا رہی ہے ؟تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا : ”مجھے راتوں کے قیام کا شوق تھا۔

حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم فر ماتے ہیں کہ ایک عبادت گزار شخص بیمارہوگیاتوہم اس کی عیادت کے لئے اس کے پاس گئے۔ وہ لمبی لمبی سانسیں لے کر افسوس کرنے لگا۔ میں نے اس کو کہا: ”کس بات پر افسوس کر رہے ہو؟”تو اس نے بتایا: ”اس رات پرجو میں نے سو کر گزاری اور اس دن پر جس دن میں نے روزہ نہ رکھا اور اس گھڑی پر جس میں مَیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل رہا۔

ایک عابد اپنی موت کے وقت رونے لگا۔اس سے وجہ دریافت کی گئی تو اس نے جواب دیا کہ ”میں اس بات پر روتا ہوں کہ روزے دار روزے رکھيں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ذاکرین ذکر کریں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ نمازی نمازیں پڑھیں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا ۔

اے غافل انسان! ان بزرگوں کودیکھ! مرنے پرکیسے افسُردہ اور نادِم ہو رہے ہیں کہ موت کے بعد عملِ صالح نہ کر سکیں گے۔ اپنی بقیہ عمرسے کچھ حاصل کرلے اور جان لے کہ جیسا کریگاویسا بھرے گا۔کیا تو ان لوگوں کی قبروں سے گزرتے ہوئے عبرت حاصل نہیں کرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ اپنی قبروں میں اطمینان سے ہیں لیکن پھر بھی تمہاری طرف لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں،وہ فوت شدہ اعمال کی تلافی چاہتے ہیں۔ کتنے واعظین نے وعظ کیا ،ڈرایا اور موت نے کتنی مِٹی کو آباد کر دیا؟ کیا تیرے پاس ایسے کان نہیں جو نصیحت کو سنیں؟کیا توایسی آنکھ نہیں رکھتا جو اپنے محبوب کے جدا ہونے پر آنسو بہائے؟ کیا تیرے پاس ایسا دل نہیں جوخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِڑگڑائے؟ کیاتجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی طمع نہیں ؟۔۔۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خوف خدا عزوجل میں روناسب کے بس کی بات نہیں ۔خوف خدا عزوجل میں ڈوب کر وہی لوگ روتے  ہیں جو ہر وقت اللہ پاک اور قبر وحشر کے عذابات سے ڈرتے رہتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں خوف خدا عزوجل میں رونے والوں کے فضائل بکثرت وارد ہوئے ہیں۔آئیے ان میں سے کچھ فضائل سنتے ہیں۔

حضرت محمد بن المُنذِر رحمۃ اللہ علیہ جب خوف خدا عزوجل سے روتےتو اپنی داڑھی اورچہرےپر آنسوملا کرتےاورکہتے،میں نےسناہےکہ وجود کےجس حصے پر آنسولگ جائیں گے اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جوشخص خوف خدا عزوجل سےروتا ہےوہ جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا اسی طرح جیسےکہ دودھ دوبارہ اپنے تھنوں میں نہیں جاتا۔(ترمذی،کتاب فضائل الجھاد الحدیث 1639)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف خدا سےبیہوش ہوجاتے،ایک دن ایک تنکاہاتھ میں لےکر کہاکاش! میں ایک تنکاہوتا! کوئی قابل ذکر چیز نہ ہوتا! کاش مجھے میری ماں نہ جنتی! اور خوف خدا سے اتنا روتے کہ آپ کے چہرے پر آنسوؤں کےبہنےکی وجہ سے دوسیاہ نشان پڑ گئے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعامانگا کرتے تھے: کہ اللہ عزوجل مجھے ایسی آنکھیں عطافرما جو تیرے خوف سے رونے والی ہوں۔(جامع لاحادیث،4823)

ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ عزوجل سے رونے والی آنکھیں مانگے اور عذاب الہیٰ سے ڈرتارہے اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے روکتا رہے۔ 


خوفِ خدا میں آنسو بہانا ، ربّ کریم اور اس کے بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہنے دیتا، ندامت کے ساتھ اللہ کریم کی بارگاہ میں آنسو بہانا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے ، یقیناً خوفِ خدا میں رونے کے بڑے فضائل ہیں ۔

خوفِ خدا میں رونے کی ترغیب پر قرآن کی آیت اور کچھ روایات اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگان دین رحمہم اللہ کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ ہمارے دلوں میں بھی خوفِ خدا میں رونے کی اہمیت میں اضافہ ہو ۔

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ،

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ(۵۹) وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ(۶۰)

ترجَمۂ کنزالایمان: تو کیا اس بات سے تم تَعجُّب کرتے ہو ، اور ہنستے ہو اور روتے نہیں۔

(پ 27،النجم:59،60)

تو اصحاب صفّہ رضی اللہ عنہ اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے ۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رونے لگے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر وہ اور بھی زیادہ رونے لگے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ تعالی کے ڈر سے رویا ہو۔

(خوفِ خدا ص :139، مکتبۃالمدينہ)

سنن ابنِ ماجہ کی حدیث شریف ہے: جس بندۂ مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ پاک اس بندے پر دوزخ کو حرام فرما دیتا ہے ۔(احیاءالعلوم ص542 مکتبۃ المدينہ)

حضرت سیدنا محمد بن مُنکَدر رحمۃُ اللہِ علیہ جب روتے تو اپنے آنسؤوں کو چہرے اور داڑھی پر مل لیتے اور فرماتے: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جہنم کی آگ ان اعضاء کو نہیں کھائےگی جن سے (خوفِ خدا سے بہنے والے) آنسو مس ہوئے ہوں ۔(احیاءالعلوم ص544 مکتبۃ المدينہ)

حضرت سیدنا سلیمان دارنی قدّس سرّہُ النُوْرَانِی فرماتے ہیں: جس شخص کی آنکھ خوفِ خدا میں آنسوں بہاتی ہے قیامت کے دن اس شخص کا چہرہ سیاہ ہوگا نہ اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا جب اس کی آنکھ سے آنسو بہتے ہیں تو اللہ پاک ان کے پہلے قطرے سے دوزخ کے شعلوں کو بجھا دیتا ہے اور اگر کسی امّت میں ایک بھی شخص خوفِ خدا سے روتا ہے تو اس کی برکت سے اس امّت پر عذاب نہیں کیا جاتا۔آپ رحمۃُ اللہِ علیہ مزید فرماتے ہیں: رونا خوف کے سبب ہوتا ہے جبکہ خوشی سے جھومنے اور شوق کی کیفیت امید سے پیدا ہوتی ہے ۔

(احیاءالعلوم ص544 مکتبۃ المدينہ)

پیارے مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: جس دن عرشِ الٰہی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اس دن الله پاک سات قسم کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائےگا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ پاک کو یاد کرے اور (خوفِ خدا سے) اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں ۔(احیاءالعلوم ص543 مکتبۃ المدينہ)

مصطفی جانِ رحمت (صلی الله علیہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

اَللّھُمّ ارْزُقْنِیْ عَيْنَيْنِ ھَطَّالَتَيْنِ تَشْفِيَانِ القَلْبَ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِ مَعَ خَشْيَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَصِيِرَ الدُّمُوْعُ دَماً وَ الْأَضْرَاسُ جَمْراً ،یعنی اے الله پاک ! مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما جو خوب بہنے والی ہوں اور تیرے خوف سے آنسو بہا بہا کر دل کو شفا بخشیں اس سے پہلے کہ آنسو خون میں اور داڑھیں انگاروں میں تبدیل ہو جائیں۔(احیاءالعلوم ص543 مکتبۃ المدينہ)

اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ خوفِ خدا میں رونے کی توفیق عطا فرمائے ۔


اللہ پاک کا مقرب  بندہ بننے  کے لئے لیے جہاں پر بہت  ذرائع ہیں وہیں  پر  خوف الہی بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے بندوں کو غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے ذکر کی طرف رغبت  کے لئے  کم ہنسنے اور زیادہ  رونے کے متعلق فرماتا  ہے:

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًاۚ ،

انہیں چاہیے کہ تھوڑا سا ہنس لیں اور بہت زیادہ روئیں ( التوبہ، آیت  82 )

قرآن کریم میں جس  طرح رونے کا حکم ہے  احادیث مبارکہ میں بھی خوف الہی میں  رونے والوں کے  کثیر فضائل وارد ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا ایک ذریعہ خوف خدا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تم میرے بعد خوف  زیادہ رکھنا۔ ( خوف خدا ،ص 16)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حکمت کی اصل اللہ تعالیٰ کا خوف ہے (ایضا )

نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس بندے  کی آنکھوں سے خوف خدا کے سبب انسونکل کر چہرے تک پہنچتے ہیں تو اللہ اس کو آگ پر حرام فرما دیتا ہے اگرچہ  وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں۔( حکایتیں اور نصیحتیں ، ص 135)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوآ نکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی ، ایک وہ آ نکھ جو آدھی رات میں اللہ کے خوف سے روئی اور دوسری وہ آ نکھ جس نے راہ خدا میں نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری۔

(مکاشفۃ القلوب ۔ ص 396)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر آ نکھ روئے گی مگر جو آنکھ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے رک گئی ، جو آنکھ راہ خدا میں بیدار رہی اور جس آ نکھ سے خوف الہی کی وجہ سے مکھی کے سر کے برابر آ نسو نکلا وہ رونے سے محفوظ رہے گی ۔(ایضا )

حضرت انس رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے، سرور ِعالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور بہت روتے ( تفسیر صراط الجنان، التوبہ، آیت  82)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کم ہنسنے ، اپنی آخرت کے بارے میں فکرمند ہونے اور گریہ و زاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔


مروی ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں لایا جائے گا اور اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا ۔پھر عرض کرے گا یا الٰہی میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں؟ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا  میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں۔ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مُڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا یا رب وہ گواہ کہاں ہیں تو اللہ پاک اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا ۔ کان کہیں گے ہاں ہم نے(حرام) سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں ۔ آنکھیں کہیں گی ہاں ہم نے ( حرام) دیکھا۔ زبان کہے گی ہاں ہم نے (حرام) بولا تھا ۔ اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گی ہاں ہم ( حرام کی طرف) بڑھے تھے ۔ شرم گاہ پکارے گی ہاں میں نے زنا کیا تھا۔

وہ بندہ یہ سب سن کر حیران رہ جائے گا ۔پھر جب اللہ پاک اس کے لئے جہنم میں جانے کا حکم فرما دے گا تو اس شخص کی سیدھی آنکھ کا ایک بال رب تعالیٰ سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرے گا اور اجازت ملنے پر عرض کرے گا یا اللہ پاک کیا تو نے نہیں فرمایا تھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں تر کرے گا میں اس کی بخشش فرمادوں گا؟ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا کیوں نہیں تو وہ بال عرض کرے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گناہ گار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا جس سے میں بھیگ گیا تھا۔یہ سن کر اللہ پاک اس بندے کو جنت میں جانے کا حکم فرمادے گا ۔ایک منادی پکار کر کہے گا سنو فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے نجات پاگیا۔)خوفِ خدا: ص 142، مکتبتہ المدینہ(

خوفِ خدا سے رونے کی فضیلت پر پانچ فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

(1) جس بندۂ مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ پاک اس بندے پر دوزخ کو حرام فرما دیتا ہے۔(سنن ابن ماجہ ،2/ 367، حدیث:2197)

(2)حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجات کیا ہے؟ ارشاد فرمایا اپنی زبان قابو میں رکھو تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو ۔

(سنن ابن ماجہ ،2/ 367، حدیث:2197)

(3) اللہ پاک کے نزدیک اس کے خوف سے بہنے والے آنسو کے قطرے اور اس کی راہ میں بہنے والے خون کے قطرے سے زیادہ کوئی قطرہ محبوب نہیں۔( الزهد لابن المبارك، باب ماجاء في الشح، ص 235، حدیث: 974)

(4) مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے ائے اللہ پاک مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما جو خوب بہنے والی ہوں اور تیرے خوف سے آنسو بہا بہا کر دل کو شفا بخشیں اس سے پہلے کہ آنسو خون میں اور داڑھیں انگاروں میں تبدیل ہو جائیں ۔(کتاب الدعاء للطبرانی، 1/ 329، حدیث:145 )

(5) پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس دن عرشِ الٰہی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اس دن اللہ پاک سات قسم کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ پاک کو یاد کرے اور (خوفِ خدا سے) اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں۔( بخاری، کتاب الاذان، 1/ 336، حدیث:260 )


خشیت الہی سے رونا یہ ایسی عظیم نعمت ہے جو بندہ کو اپنے خالق حقیقی سے قریب کر دیتی ہے خوف خدا کے سبب آنکھوں سے نکلنے والے چند اشک دل کی کثافتوں اور غلاظتوں کو مٹا دیتے ہیں اور گناہوں کی کثرت کے سبب دل میں جمی ہوئی سیاہی اشک چشم کے چند قطروں سے دھل جاتی ہے۔

رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں

ذِکرِ مَحَبَّت عام ہے لیکن سوزِ مَحَبَّت عام نہیں

یوں تو خوف خدا سے رونے کے بے شمار فضائل ہیں جن میں سے ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ کے خوف سے رونا عارفین کی صفت اور صالحین کا شعار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ(۱۰۷) وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا(۱۰۸) وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩(۱۰۹)(پ 15،بنی اسرائیل:107تا 109)

ترجمۂ کنز العرفان : جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ تھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہونے والا تھا اور وہ روتے ہوئے تھوڑی کے بل گرتے ہیں اور یہ قرآن ان کے دلوں کے جھکنے کو اور بڑھا دیتا ہے۔ (نوٹ:یہ آیت سجدہ ہے اسے زبان سے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے)

احادیث کریمہ میں بھی خوف خدا سے رونے کی بے شمار فضیلتیں وارد ہوئی ہیں چنانچہ:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : دو آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی : (ایک) وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی اور (دوسری) وہ آنکھ جس نے اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دے کر رات گزاری۔(سنن الترمذی، کتاب : فضائل الجہاد ، 4 / 92، الرقم : 1639)

ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان کی آنکھ سے مکھی کے سر کے برابر خوفِ خدا کی وجہ سے آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر آ گریں گے تو اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام فرما دے گا۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب:الحزن والبکائ، 2 / 1404، الرقم : 4197)

آثار و اقوال سلف:

ہمارے اسلاف رحمہم اللہ خدا کے خوف سے بہت زیادہ رویا کرتے تھے اور لوگوں کو اس کی تلقین بھی کرتے تھے چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رات بھر نماز ادا فرماتے بہت کم آرام کرتے اپنی ریش مبارک کو پکڑ لیتے اور بیمار شخص کی طرح لوٹ پوٹ ہوتے اور انتہائی غمگین آدمی کی طرح روتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ ( الطبقات الکبری : 34)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خوف خدا میں رونے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو! رویا کرو پس اگر تمہیں رونا نہ آئے تو کم از کم رونے جیسی صورت ہی بنا لو، کیونکہ اہل دوزخ آنسو روئیں گے یہاں تک کہ وہ آنسو ختم ہو جائیں گے پھر خون کے آنسو روئیں گے۔ یہاں تک اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تووہ چل پڑیں۔

(الزهد لامام احمد بن حنبل : 292)

لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کریں اور اپنے کریم رب کے حضور گریہ و زاری کرکے مذکورہ فضائل کو حاصل کرکے اپنی بخشش کا سامان کریں اللہ کریم ہمیں اپنے خوف میں رونے والی آنکھیں عطا فرمائے اور ہم سب کی بلا حساب مغفرت فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


انسان کی زندگی پر غور کرے تو پتا چلتا ہے کہ رونا گویا اس کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ پیدا ہوتے وقت بھی رو رہا ہوتا ہے، کبھی کوئی نعمت ملنے پر بہت خوش ہونے کی بنا پراسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، کبھی کسی مصیبت مثلا: کاروبار میں نقصان، گھر میں فوتگی وغیرہ سے دوچار ہو جائے تو بھی اسکی آنکھیں آنسو بہا دیتی ہیں۔الغرض رونا اسکی زندگی کا اہم جز ہے۔ مگر یہ رونا خوفِ خدا سے ہو عشقِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہو، یادِ مدینہ میں ہو تو اِس رونے  کی بات ہی الگ ہے۔

صاف پانی کا یہ وصف ہے کہ وہ میل کچیل ختم کر دیتا ہے۔اگر کسی جگہ گندگی ہو اور پانی بہائے تو وہ جگہ بھی صاف ہو جاتی ہے۔ خوفِ خدا میں بہنے والے آنسو نکلتے تو باہر کو ہیں لیکن انسان کے "اندر" کو صاف کر جاتے ہیں۔ آنسو بہتے تو ظاہر پر ہیں لیکن صفائی انسان کے باطن کی کرتے ہیں۔ خوفِ خدا میں بہنے والے آنسو دل کی سختی کو دور کرتے ہیں۔ خوفِ خدا میں بہنے والے آنسو گناہوں کے بوجھ اور جہنّم کے عذاب سے نجات کا باعث بنتے ہیں۔

چنانچہ مکتبۃ المدینہ کی کتاب "خوفِ خدا " کے صفحہ:142 پر ہے۔

قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ الہی میں لایا جائے گا اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا۔ پھر عرض کرے گا یا الہی ! میں نے تو یہ گناہ کیے ہی نہیں ؟ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا : میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں۔ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا۔ اور کہے گا : یا رب وہ گواہ کہاں ہے تو اللہ کریم اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔ کان کہیں گے: ہاں ! ہم نے (حرام )سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں۔ آنکھیں کہیں گی: ہاں ! ہم نے (حرام )دیکھا زبان کہے گی :ہاں ! میں نے ( حرام )بولا تھا۔ اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے: ہاں ! ہم (حرام کی طرف )بڑھے تھے۔ وغیرہ وغیرہ ۔

وہ بندہ یہ سب سن کر حیران رہ جائے گا۔پھر جب اللہ پاک اس کے لیے جہنم میں جانے کا حکم فرما دے گا تو اس شخص کی سیدھی آنکھ کا ایک بال ربِ کریم سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرے گا اور اجازت ملنے پر عرض کرے گا : الہی ! کیا تو نے نہیں فرمایا تھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں تر کرے گا، میں اس کی بخشش فرما دوں گا ؟ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا : کیوں نہیں ! تو وہ بال عرض کرے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گناہ گار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا۔جس سے میں بھیگ گیا تھا۔ یہ سن کر اللہ پاک اس بندے کو جنت میں جانے کا حکم فرما دے گا۔ ایک منادی پکار کر کہے گا سنو ! فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے جہنم سے نجات پا گیا۔

(درتہ الناصحین،المجلس الخامس والستون،ص:253)

؀ رحمتِ حق "بہا" نمی جوید

رحمتِ حق "بہانہ" می جوید

(یعنی اللہ پاک کی رحمت "بہا" یعنی( قیمت )طلب نہیں کرتی بلکہ اللہ پاک کی رحمت تو بہانہ تلاش کرتی ہے)

اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں خوف خدا سے رونے کے کثیر فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں سے چند احادیثِ مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں ۔

(1) اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا حتی کہ دودھ (جانور کے ) تھن میں واپس آجائے۔

(شعب الایمان :1/490،رقم الحدیث:800)

(2) حضرتِ انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔ (کنز العمال:ج:3/64،رقم الحدیث:5909)

(3) ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا آپ کی امت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا ؟ تو فرمایا، " ہاں ! وہ شخص جو اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے"۔

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء :4/200)

ان احادیث کے علاوہ بھی کثیر احادیث خوفِ خدا میں رونے کے فضائل پر مشتمل ہیں۔ بلکہ آج جدید سائنس بھی رونے کے طبی فوائد بیان کرتی ہیں۔ لیکن شرعا جو رونا پسندیدہ ہے وہ خوفِ خدا سے، عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں رونا ہے۔

؀رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں

ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو اپنے خوف سے رونے والی آنکھیں عطا فرمائے۔

؀ مِرے اشک بہتے رہیں کاش ہر دم

تِرے خوف سے یا خدا یا الہی

اٰمین بجاہِ خاتمِ النّبِیِّین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم