انسان محسوسات اور مادی مثالوں
کے ذریعے غیر محسوس اور مجرد حقائق کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ قرآن مجید
میں بھی جابجا تمثیلات اور تشبیہات کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ معانی دلوں میں
راسخ ہوں۔اسی سنتِ الٰہی کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے بھی دعوت و تعلیم کے دوران تشبیہات
اور مثالوں کو نہایت حکیمانہ انداز میں اختیار کیا۔ آپ ﷺ کا انداز بیان ایسا تھا
کہ نہ صرف معانی ذہن نشین ہو جاتے بلکہ سننے والا اپنے آپ کو اس مثال کے اندر
موجود پاتا۔
تشبیہ دراصل کسی مجہول مفہوم کو
معلوم حقیقت سے قریب کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب کوئی پیچیدہ بات ایک روزمرہ کی مثال کے
ذریعے بیان کی جاتی ہے تو وہ عام فہم ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس اسلوب کو تعلیم و تربیت میں
استعمال فرمایا تاکہ اعلیٰ دینی حقائق عوام و خواص دونوں کے ذہنوں تک آسانی سے
پہنچ سکیں۔ آپ ﷺ کی تشبیہات نہ تو محض خطیبانہ جوش کا نتیجہ تھیں اور نہ ہی ذہنی
مبالغے کی پیداوار، بلکہ وہ حقیقت حال کو سب سے زیادہ قریب کرنے والی جامع مثالیں
ہوتی تھیں۔
چونکہ قرآن کریم نے تشبیہ کو بیان کا ایک مؤثر وسیلہ
بنایا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایمان،
نفاق، عمل صالح اور معاصی کی وضاحت کے لیے متعدد مثالیں دیں۔ آیئے اس کی چند
مثالیں پڑھیے:
(1) نماز کی مثال: آپ ﷺ نے پانچ وقت کی نماز
کو نہر کے کنارے بار بار غسل کرنے والے شخص سے تشبیہ دی۔ ارشاد فرمایا:تمہارا کیا
گمان ہے اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو
کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے کہا: ہرگز نہیں۔ فرمایا: یہی حال پانچ
نمازوں کا ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(المصنف لابن شیبہ،ج5،ص143،حدیث
نمبر:7821،دار کنوز،الریاض،1436ھ)
یہ مثال نہ صرف نماز کی تطہیری حقیقت کو واضح
کرتی ہے بلکہ اس کے تکرار اور دوام کی طرف بھی اشارہ ہے۔
(2) اپنی بعثت کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت
کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جس نے آگ جلائی، پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص
انہیں پکڑ پکڑ کر آگ سے بچاتا ہے مگر وہ خود ہی آگ میں کودنے پر مصر ہیں۔ فرمایا:میری
مثال اس شخص کی مانند ہے جو آگ جلائے، کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگیں اور وہ انہیں
بچاتا رہے لیکن وہ اس کی بات نہ مانیں۔ میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ (جہنم) سے
بچا رہا ہوں مگر تم مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر اس میں جا رہے ہو۔(صحیح البخاری ،محمد بن
اسماعیل ،ج8،ص284، حدیث:6491،دارلتاصیل،القاہرہ،1433ھ)
یہ مثال آپ ﷺ کی شفقت اور انسانوں کی غفلت کو
نہایت اچھے انداز میں بیان کرتی ہے۔
(3) امت اور بارش کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی مثال بارش کی سی
ہے، معلوم نہیں ابتدا بہتر ہے یا انتہا۔(مسند ابو داؤد الطیالسی ،سلیمان بن داؤد
بن الجارور،ج2،ص38،حدیث:682،دار ھجر ،مصر،1419ھ)
یہ تشبیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ امت کے
مختلف ادوار میں خیر اور برکت کے امکانات پائے جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی تشبیہات میں محض
بلاغت نہیں بلکہ حکمت اور تربیت کے اعلیٰ مقاصد پوشیدہ تھے۔ ایک طرف ان سے پیچیدہ
مسائل آسان ہو جاتے، دوسری طرف سامع کے ذہن میں ایک پائیدار نقش ثبت ہو جاتا۔ آپ ﷺ
کی مثالیں مختصر، جامع اور روزمرہ تجربات سے قریب ہوتیں، اس لیے ہر شخص اپنی عقل
کے مطابق فائدہ اٹھاتا۔ یہ اسلوب تربیتِ نبوی کی جامعیت اور ہمہ گیری کو ظاہر کرتا
ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا تشبیہات سے
سمجھانا نہ صرف ایک ادبی کمال تھا بلکہ ایک تربیتی حکمت بھی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے
دین کے بنیادی حقائق کو اس انداز میں واضح کیا کہ وہ ذہن و دل دونوں میں راسخ ہو
گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیوں کے بعد بھی جب ہم وہ تشبیہات پڑھتے ہیں تو یوں
محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہماری روزمرہ زندگی کے عین مطابق ہیں۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami