اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور اسی طرح ہمارے نبی محمد عربی  ﷺ کو بھی لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا اور آپ کو تمام کائنات کے لیے معلم بنا کر بھیجا تاکہ آپ ﷺ ان کو دین کے تقاضے کے مطابق جو تربیت کے پہلو ضروری ہیں وہ سب پہلو لوگوں کو سکھا دیں اور تمام لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی مختلف طریقوں سے تربیت واصلاح فرمائی ان طریقوں میں سے ایک طریقہ تشبیہات کے ساتھ سمجھانا بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے جس کا استعمال بہت حکمت سے کیا۔ ان تشبیہات کے ذریعے صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں کو مفہوم بہتر انداز میں سمجھایا۔ ذیل میں چار ایسی احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جن میں تشبیہات کا ذکر ہے :

(1) مومن ایک مومن کے لیے آئینہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ (سنن ابی داود ، كتاب الأدب ، بَابٌ فِي النَّصِيحَةِ وَالْحِيَاطَةِ جلد ٤ ، ص٢٨، حدیث: 4918) ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے“۔

(2) دنیا سے بے رغبتی اور لا تعلقی: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ (صحيح البخاری ، کتاب الرقاق ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيل، جلد ٨ ص٨٩ حدیث نمبر 6416)

ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔

(3) مومن کو کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ: عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها، وهي مثل المؤمن، حدثوني ما هي قال عبد الله: فوقع الناس في شجر البوادي، ووقع في نفسي انها النخلة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هي النخلة، فاستحييت ان اقول، قال عبد الله: فحدثت عمر بالذي وقع في نفسي، فقال: لان تكون قلتها احب إلي من ان يكون لي كذا وكذا (مسند البزار ، مسند عبداللہ بن عباس، جلد٢، ص ٢٣٦، حدیث نمبر 5714)

ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟ عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھجور ہے“، مجھے شرم آ گئی کہ میں (چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے) بولوں (جب کہ لوگ خاموش ہیں) پھر میں نے (اپنے والد) عمر رضی الله عنہ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا (میرے بیٹے) اگر تم نے یہ بات بتا دی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں“۔

(4) مومن اور فاسق کی تلاوت قرآن پاک کے ذریعے تشبیہ: عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَالأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالَّذِي لاَ يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الفَاجِرِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَمَثَلِ الحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلاَ رِيحَ لَهَا (صحيح البخاري، ، كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ، بَابُ فَضْلِ القُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الكَلاَم، جلد ٦، ص١٩ حدیث نمبر 5020)

ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی (مومن کی) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار (منافق) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

ان تمام حدیثوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی علیہ السلام اپنی امت کو جس قدر ہو سکے اس قدر آسانی کے ساتھ دین اسلام کو سمجھانے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ ہدایت کے راستے کو مضبوطی سے تھام لیں اور آخرت میں جنت میں داخل ہو سکیں۔

دعا ہے اللہ تعالی سے کہ جو نبی علیہ السلام دین اسلام لے کر آئے اس کو صحیح معنی میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین