اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو معلمِ کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے دین کی ضروری تعلیمات کو نہ صرف الفاظ سے بلکہ تربیتی انداز سے بھی امت تک پہنچایا۔ تشبیہات کا انداز بھی انہی طریقوں میں سے ایک تھا۔حضور ﷺ کی تربیت کا یہ انداز آج کے معلمین، والدین اور رہنماؤں کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ وہ اپنی بات سمجھانے کے لیے تشبیہات کا استعمال کریں تاکہ بات دل میں اُتر جائے۔اکابرینِ امت نے حضورﷺ سے حاصل ہونے والی ان احادیث سے جن میں حضورﷺ نے بذریعہ تشبیہات اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کی تربیت فرمائی، اپنی کتبِ احادیث کو زینت بخشی۔ جن میں سے کچھ احادیث ملاحظہ ہوں:

حضورﷺ کا اپنی اہمیت کو واضح فرمانا: روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے، فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے:"میری اور جو کچھ مجھے اللہ نے دے کر بھیجا، اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے، میں کھلا ڈرانے والا ہوں، بچو بچو! کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے، اور ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا، وہ وہیں رہے، پھر سویرے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا، انہیں ہلاک کر کے تہس نہس کر دیا۔" (مراۃ المناجیح مع شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، باب الاعتصام، ص 137، حدیث 148 نعیمی کتب خانہ)

اس حدیث پاک میں پیارے آقاﷺ نے اپنی اہمیت کو بذریعہ تشبیہ ، امت پر واضح فرمایا۔ حضرت حکیم الامت مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس شخص سے مراد وہ امین اور سچا آدمی ہے جس کی بات پر لوگوں کو اعتماد ہو اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہردنیوی و اُخروی آنے والے عذابوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا، اور آپ کی بشارت یا ڈرانا مشاہدے پر مبنی ہے۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہمیت کو واضح فرمانا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔" (مشکاۃ المصابیح، الحدیث: 6018، جلد 2، ص 414)

اس حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کی فضیلت کو ستاروں کی تشبیہ دے کر واضح فرمایا۔

اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی اہمیت کو واضح فرمانا: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "آگاہ رہو! تم میں میرے اہل بیت کی مثال جنابِ نوح کی کشتی کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہو گیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔" (مراۃ المناجیح مع شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 8، باب اہل بیت کے فضائل، ص 446، حدیث 183 نعیمی کتب خانہ)

حضرت مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جیسے طوفانِ نوح کے وقت نجات کا واحد ذریعہ کشتی تھی، ویسے ہی قیامت تک نجات کا واحد ذریعہ اہلِ بیت کی محبت اور ان کی اطاعت ہے گویا دنیا سمندر ہے، اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں ضروری ہے۔ اہلِ سنت کا بیڑا پار ہے کیونکہ وہ اہل بیت اور صحابہ دونوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔"

اسی طرح کئی مقامات پر پیارے آقاﷺ نے اپنی امت کی تربیت تشبیہات کے ذریعے فرمائی، جن کا تذکرہ مختلف کتبِ احادیث میں موجود ہے۔