نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ اعظم بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نہ صرف وحی کی روشنی میں تھیں بلکہ  آپ نے لوگوں کو سکھانے کے لیے تشبیہات، مثالوں اور عام فہم انداز اختیار فرمایا تاکہ ہر فرد بات کو بہتر سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔ جدید تدریسی اصول بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مؤثر تعلیم کے لیے مثالوں اور تشبیہات کا استعمال نہایت کارآمد ہوتا ہے اور یہ اصول چودہ سو سال قبل رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں کامل طور پر موجود ہے :

حدیث نمبر (1) : روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے ! اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں (بخاری)

اس حدیث کی بنا پر امام شافعی و مالک و احمد فرماتے ہیں کہ ہبہ دی ہوئی چیز واپس لینا مطلقا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے قے کھانے سے تشبیہ دی ہے ، قے حرام چیز ہے۔ امام اعظم فرماتے ہیں کہ جب تک سات مانع چیزوں میں سے کوئی چیز نہ پائی جائے تب تک ہبہ کی واپسی درست ہے اگر چہ بے مروتی اور بد خلقی ہے ، امام صاحب کی دلیل وہ حدیث ہے " الواهب احق بهبته مالم يصب منه "یعنی ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کا حقدار ہے جب تک کہ اس کا عوض نہ لے لے اور یہ حدیث تو حرمت رجوع پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ قے کتے پر حرام نہیں، یہ تشبیہ صرف نفرت دلانے کے لیے ہے۔ بشیر نے اپنے بیٹے نعمان کو باغ ہبہ کیا حضور نے فرمایا واپس لے لو جیسا کہ آگے آرہا ہے ، حضرت عبداللہ ابن عمر نے کسی کو گھوڑا ہبہ دیا تھا پھر اس سے واپس خرید نا چاہا، حضور نے فرمایا مت خرید و، وہاں بھی یہی کتے والی مثال دی، حالانکہ اپنا ہبہ خرید ناسب کے ہاں جائز ہے، اگر یہ حدیث حرمت کی ہو تو ان احادیث کے مخالف ہو گی لہذا امام اعظم کا فرمان نہایت قوی ہے اور یہ حدیث نہ انکے خلاف ہے نہ دیگر آئمہ کی مؤید ہے اس جملہ کے دو معنی ہو سکتے ہیں: ایک تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔ اس صورت میں لنا سے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔ دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔ اس صورت میں لنا سے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور ﷺ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد: 4، حدیث نمبر: 3018)

حدیث نمبر (2) حضرت سید نا عبد الله بن عباس رَضی الله تَعَالَى عَنْهُما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“

ویران گھر سے موازنہ کرنا: حَكِيمُ الْأُمَّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے ، دل کی آبادی قرآن سے، باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگر چہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر ۔ شعر

آباد وہ ہی دل ہے کہ جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قرآن کا سینے میں جمع کرنا گویا اسے آباد کرنا اور قلت و کثرت کے لحاظ سے مزین کرنا ہے۔ جب دل قرآن کی ضروری تصدیق ، اسے حق سمجھنے ، اس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں غور و فکر کرنے اور اس کی محبت وصفات میں نظر کرنے سے خالی ہو گا تو وہ دل ویران گھر کی طرح ہو گا جو خوبصورتی اور سامان سے خالی ہوتا ہے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظاہر اس حد یث سے مراد یہ ہے جسے اتنا بھی قرآن یاد نہ ہو جس سے نماز درست ہو سکے اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔ بعض علما نے اس کو عام رکھا ہے اور کہا ہے کہ ناظرہ یا حفظ کسی طرح قرآن نہ پڑھتا ہو اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔

"حرم" کے 3 حروف کی نسبت سے حدیث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 3 مدنی پھول

(1) گھر کی آبادی انسان و سامان سے ، دل کی آبادی قرآن سے جبکہ روح کی آبادی ایمان سے ہے۔ (2) جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگر چہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان اور سامان سے خالی گھر ۔ (3) قرآن کو اپنے بطن میں جمع کرنا اسے آباد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو قرآن سے روشن کرے۔ آمین، اللہ تعالیٰ محمد پر رحمت نازل فرمائے درود و سلام ہو محبوب پر ( فیضان رياض الصالحین جلد: 7، حدیث نمبر: 1000)

آج کے دور میں ہمیں نبی ﷺ کی سنتِ تدریس سے سیکھ کر تعلیم، تربیت، اور دعوت کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ تشبیہات صرف بیان کی خوبصورتی نہیں بلکہ فہم، شعور، اور کردار سازی کا ذریعہ ہیں جیسا کہ معلمِ اعظم محمد ﷺ نے ہمیں سکھایا ۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے صدقے دین کا پکا سچا طالب بنائے۔ آمین