اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو اس دنیا میں رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا،
نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے معجزات
سے نوازا نبی ﷺ کی ہر ادا
ہی نرالی ہے۔اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بہت سی خصلتیں عطا فرمائی ۔ آپ کی زبان مبارک میں مٹھاس پیدا کی آپ انتہائی
نرمی سے گفتگو فرماتے جو کوئی بھی آپ کی
گفتگو سنتا تو وہ آپ کی طرف مائل ہو جاتا
اور فوراً اسلام قبول کر لیتا جہاں آپ ﷺ کی خصلتیں ہیں وہی پر آپ ﷺ کا تربیت فرمانے کا انداز بھی
نرالا ہے، آپ ﷺ نے بہت سے طریقوں سے صحابہ کریم علیہم الرضوان کی تربیت فرمائی ، کبھی آپ نے نقشوں کے ذریعے تربیت فرمائی تو کبھی آپ نے مثالیں دے کر تربیت فرمائی اسی طرح نبی
کریم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے صحابہ کرام اور امت مسلمہ کی تربیت فرمائی تاکہ
وہ آپ کی اطاعت کر کے اپنی زندگی کو بہتر
بنا سکیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر عمل کر سکیں۔ اسی ضمن میں میں آپ کے سامنے ان احادیث سے مبارکہ کو سامنے
رکھوں گا جن میں آپ ﷺ نے
تشبیہات کے ذریعے نصیحت فرمائی۔
(1) تحفہ دے کر واپس لینے والے کی تشبیہ:وَعَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا
مَثَلُ السَّوْءِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ ترجمہ۔روایت ہے حضرت ابن عباس
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے
کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:3018)
(2) سخی اور بخیل کی تشبیہ :وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ
رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا
إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ
بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ
قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔
ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں
نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور
کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ
جائے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)
(3) ویران
گھر کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ
رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ
فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان
کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ
ویران گھر کی طرح ہے۔"( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)
جو مذکورہ احادیث مبارکہ ہم نے سنی ہے اللہ تعالی
سے دعا ہے ان تمام احادیث مبارکہ پر ہمیں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami